Ayah 28:22۔ یہ سورت ایک واضح کتاب کی آیتیں ہیں ۔ یعنی قرآن شریف کی قرآن شریف کو واضح اور کھلی کتاب فرمایا ، چونکہ قرآن کریم کے احکام اور دلائل بہت ضاف اور واضح اور کھلے ہوئے ہیں اس لئے اس کو کتاب مبین فرمایا ۔
Ayah 28:33۔ اے پیغمبر ! ہم آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے بعض صحیح صحیح واقعات پڑھ کر ان لوگوں کے لئے سناتے ہیں جو لوگ ایمان رکھتے اور تصدیق کرتے ہیں ۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے احوال و واقعات تو بہت ہیں ان میں سے کچھ واقعات اس موقع پر نازل فرماتے ہیں اور آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں اور آپ پر تلاوت کرتے ہیں اور یہ سنانا انہی لوگوں کو مفید ہوسکتا ہے جو فی الحال ایمان رکھتے ہیں یا آئندہ ایمان لانے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ اقوام سابقین کے قصص اور واقعات سے وہی لوگ عبرت آموز سبق حاصل کرتے ہیں جو ایمان والے ہوں یا ایمان لانے کی غرض سے نیک نیتی کے ساتھ تحقیق کرنا چاہتے ہوں۔
Ayah 28:44۔ بلا شبہ فرعون سر زمین مصر میں بہت بڑھ چڑھ رہا تھا اور اونچا ہو رہا تھا اور بڑ ی سرکشی اختیار کر رکھی تھی اور وہاں کے باشندوں کو کئی فرقے کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقے اور جماعت کو اتنا کمزور کر رکھا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیا کرتا تھا۔ بیشک وہ فساد کرنے اور خرابی ڈالنے والوں میں سے تھا۔ مطلب یہ ہے کہ فرعون نے ملک مصر میں بڑی سر بلندی اور سرکشی اختیار کر رکھی تھی اور اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے کی غرض سے لوگوں میں فرقہ بندی کر رکھی تھی ایک فرقہ کو اس قدر کمزور کر رکھا تھا بنی اسرائیل کو اس قدر دبا رکھا تھا کہ ان کی نرینہ اولاد ہی کو ذبح کرا دیتا تھا کہ نہ لڑکے ہوں گے نہ بڑے ہو کر بغاوت کریں گے ۔ کہتے ہیں کہ اس نے خواب میں دیکھا تھا کہ کوئی لڑکا بنی اسرائیل میں سے ہوگا جو بڑے ہو کر ملک مصر کو فرعون کے قبضے سے آزادکرائے گا یا ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی پیشین گوئی بنی اسرائیل میں مشہور تھی جیسا کہ ابن کثیر نے ذکر کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں یہ بات مشہور تھی کہ ایک لڑکا بنی اسرائیل میں سے ہوگا جو بڑے ہو کر مصر کی حکومت کو قبطیوں کے ہاتھ سے آزاد کرائے گا ۔ اس بنا پر وہ لڑکوں کو قتل کرا دیا کرتا تھا اور عورتوں سے چونکہ اس قسم کا خطرہ نہ تھا اور وہ باندیاں بنا لی جاتی تھیں لہٰذا ان کو زندہ چھوڑ دیا کرتا تھا۔
غرض ! اسرائیلی فرقہ یعنی سبطیوں کو ہر اعتبار سے کمزور کرتا چلا جاتا تھا اور دبا رہا تھا اور ان کے مقابلے میں قبطیوں کی ہمت افزائی کرتا تھا اور ان کو بڑے بڑے عہدے دے رکھے تھے اور سبطیوں سے بیگار لیا کرتا تھا اور ان کو بہت تنگ کر رکھا تھا ایک طرف بنی اسرائیل کی پوری قوم کو ہمیشہ غلامی میں رکھنے اور ان کی خود داری کو پامال کرنے والی تجاویز زیر غور تھیں ۔ ادھر قدرت کا منشا کیا تھا اور حق سبحانہ و تعالیٰ کیا چاہتے تھے اس کا اظہار آگے آتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 28:55۔ اور ہم کو یہ منظور تھا اور ہم نے یہ ارادہ کیا کہ ہم ان لوگوں پر جن کو ملک مصر میں کمزور کردیا گیا تھا احسان کریں اور ہم انہی کمزوروں کو امام اور پیشوا بنائیں اور ہم انہی کمزوروں کو ملک کا مالک بنائیں۔ یعنی جن لوگوں پر ظلم کر کے ان کمزور اور ذلیل و خوار کر رکھا تھا اور جن کو غلامی کی پست زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ ہمارا منشاء یہ تھا کہ ہم ان پر احسان فرمائیں اور ہم ان بنی اسرائیل کو پیشوا بنائیں اور ان کو نبی اور مقتدا مقرر کریں اور ان کو ملک مصر کا مالک بنائیں ۔
Ayah 28:66۔ اور ہم انہی کو ملک میں صاحب تصرف اور ذی اقتدار بنائیں اور ملک میں ان کو جمادیں اور فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان بنی اسرائیل کی جانب سے اور ان کے ہاتھوں سے وہ واقعات دکھائیں اور وہ چیزیں دکھلائیں جن چیزوں سے وہ خوف کھاتے اور ڈرا کرتے تھے۔ یعنی ہم کو یہ بھی منظور تھا کہ ان کمزوروں کو حکومت عطا کریں اور فرعون و ہامان اور ان کے پیروں کو انہی کمزورلوگوں کے ہاتھوں وہ واقعات دکھلائیں جن کا ان کو خوف تھا وہ چونکہ زورال سلطنت سے ڈرتے تھے اور ان کو یہ اندیشہ تھا کہ بنی اسرائیل کو اگر ڈھیل دی گئی تو یہ ہم سے ملک چھین لیں گے اور خود ملک مصر کے مالک بن جائیں گے اور ان کو یہ خبر نہ تھی کہ قضاء و قدر کا یہی فیصلہ ہے اور قدرت کو یہی منظور ہے کہ کمزوروں اور ناتوانوں کو موقعہ دیا جائے اور جس بات کا فرعونیوں کو ڈر تھا وہ بات سامنے آ کررہے۔
Ayah 28:77۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو حکم بھیجا اور ان کو الہام کیا کہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کو دودھ پلاپھر جب تو اس کے متعلق کوئی خطرہ محسوس کرے تو اس کو دریا میں ڈال دیجیو اور تو کسی قسم کا اندیشہ اور خوف نہ کی جو اور نہ کسی قسم کا افسوس اور غم کیجیو ، با لیقین ہم موسیٰ (علیہ السلام) کو پھر تیری ہی طرف واپس لوٹا دیں گے اور ہم اس کو پیغمبروں میں سے کریں گے اور اس کو پیغمبر بنائیں گے۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو کسی ذریعہ سے اشارہ فرمایا کہ تو اس کو دودھ پلاتی رہ پھر جب فرعونی جاسوسوں اور اہل کاروں کا موسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت کوئی خطرہ محسوس کرے تو اس کو ایک صندوق میں رکھ کر اس صندوق کو دریا میں ڈال دے اور کسی قسم کا خوف نہ کر اور نہ کسی قسم کا غم اور حزن کر یعنی نہ غرق ہونے کا خوف اور جدائی کا غم ، کیونکہ چند دن میں ہم اس کو تیری ہی طرف لوٹا دیں گے اور وہ تیری ہی گود میں آجائے گا اور ہم تو اس کو منصب رسالت پر فائز کرنے والے اور اس کو پیغمبری دینے والے ہیں ۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ان کو دودھ پلاتی رہیں اور جب ان کے متعلق خطرہ محسوس ہو تو ان کو ایک صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دیا۔ وہ صندوق بہتا بہتا فرعون کی بارہ دری کی دیوار سے جا لگا اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہ (علیہ السلام) نے اس صندوق کو شاہی محل میں منگا لیا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 28:88۔ غرض ! موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون والوں نے اٹھا لیا تا کہ آخر کار یہ موسیٰ (علیہ السلام) ان فرعونیوں کا دشمن اور ان کا غم واندوہ اور حزن و ملال کا سبب ہو بلا شبہ فرعون اور ہامان اور ان کی پیروی کرنے والوں نے اس معاملے میں بڑی چوک کی اور بڑی غلطی کھائی ۔ یعنی فرعون والوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے صندوق کو اٹھا لیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کی جس کا انجام جو کچھ ہوا وہ آگے آتا ہے ، یعنی یہی موسیٰ (علیہ السلام) فرعون والوں کے لئے دشمن اور فرعون والوں کے لئے پریشانی اور غم اندوہ کا سبب بنے۔
اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون و ہامان اور ان کی اتباع کرنے والوں نے بڑی چوک کھائی کہ جس بچہ کی خاطر ہزاروں معصوم بچوں کو قتل کیا آخراسی بچہ کی پرورش کا سامان کیا اور اپنے گھر رکھ کر اس کو پالا اور پورا ۔
حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں لقوم یومنون پر بیٹے ذبح کرتا کہ یہ قوم بڑھ نہ جاوے کہ زور پکڑیں یعنی بنی اسرائیل ۔ 12 ۔ پھر فرماتے ہیں ہامان وزیر تھا فرعون کا ظلم میں اس کا شریک تھا۔ پھر فرماتے ہیں یہ ان کے دل میں پڑگیا یا خواب میں دیکھا ہرگزر کے پیادے ڈھونڈ ڈھونڈ لاتے اور مارتے جس کے ہاں بیٹا ہوتا ۔ 12 پھر فرماتے ہیں ایک لکڑی کے صندوق میں ڈال کر ان کو بہاد یا نہر میں وہ بہتا چلا گیا فرعون کے محل میں اس کی عورت نے اس کو اٹھا لیا ۔ 12
Ayah 28:99۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر فرعون کی بیوی بولی یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کروعجب نہیں کہ یہ ہم کو برا ہو کر کچھ فائدہ اور نفع پہنچائے یا ہم اس کو اپنابیٹا ہی بنالیں اور ان لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ حقیقت حال اور انجام سے بالکل ہی بیخبر تھے۔ یعنی فرعون کی عورت کو بچہ دیکھتے ہی اس پر پیار آگیا شاید اس کے ہاں کوئی نرینہ اولاد نہ ہوگی اس لئے اس نے کہا کہ بیٹے کی ذات ہے کوئی نفع ہی پہنچے گا یا اس کو مبتنی کرلیں گے اور بیٹا بنالیں گے اور ان کو کچھ خبر نہ تھی کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر کیا ہوگا اور یہی لڑکا سلطنت کی تباہی کا باعث ہوگا ۔ فرعون نے یہ بات مان لی ہوگی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو محل میں رکھ کر پرورش کا سامان کیا ہوگا جس کو آگے فرماتے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے کہا خبر نہیں کہ بڑا ہو کر کیا کرے گا لیکن جانا کہ بنی اسرائیل میں سے کسی نے خوف سے ڈالا ہے پر ایک لڑکا نہ مارا تو کیا ہوا ۔ 12
Ayah 28:1010۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا دل عقل و صبر سے خالی ہوگیا اور اس کی ماں کا قلب بےقرار ہوگیا قریب تھا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کا حال ظاہر کردیتی اگر ہم اس کی ماں کے دل کو سہارا نہ لگاتے اور مضبوط نہ کردیتے اور جمانہ دیتے یہ اس لئے کیا تا کہ وہ یقین کرنے والوں میں رہے اور حق تعالیٰ کے وعدے پر یقین کئے بیٹھی رہیں ۔ یعنی یہ اطلاع ان کو ملی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا صندوق فرعون کے گھر پہنچ گیا تو اس اطلاع سے وہ بےحد پریشان ہوئیں صبر وقرار رخصت ہوگئے اور قریب تھا کہ وہ سب سے کہہ دیتی کہ یہ بچہ میرا ہے اور میں نے ہی صندوق میں رکھ کر ڈالا ہے لیکن حضرت حق جل مجدہٗ نے ان کی ماں کے دل کو سہارا دیا اور ربط قلب سے ان کی مدد کی اور ان کے دل جمائے رکھا تا کہ وہ وعدہ جو حضرت حق نے اس سے کیا ہے وہ اس پر جمی بیٹھی رہے اور اس وعدے پر ایمان لانے والوں میں اور اس کی تصدق کرنے والوں میں سے ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا نام یارخا یا ایارخت ہے جیسا کہ سہیلی نے کہا ۔ بعض لوگوں نے کہا ان کا نام لوقا تھا ۔ بہر حال وہ حضرت لاوی ابن یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھیں ۔ ( واللہ اعلم)
Ayah 28:1111۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن سے کہا تو ذرا موسیٰ (علیہ السلام) کے پیچھے چلی جا اور ذرا موسیٰ (علیہ السلام) کا پتہ لگا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ دور سے اجنبی بنی ہوئی دیکھتی رہی اور فرعون والوں کو اس کا احساس بھی نہ ہوا ۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے بچہ کا حال معلوم کرنے کی غرض سے ان کی بہن مریم یا کلثوم کو ان کے پیچھے بھیجا ۔ تا کہ وہ دور سے یا اجنبی بنی ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) کا حال دیکھتی رہے چناچہ وہ لڑکی فرعون کے محل میں پہنچ گئی اور سب کچھ اجنبی بنی ہوئی دیکھتی رہی اور محل والوں کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی کہ یہ لڑکی کون ہے۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کا معاملہ طے ہوگیا اور حضرت آسیہ بنت زاحم جو فرعون کی بیوی تھیں ان کے سپرد کردیئے گئے تو مختلف دایہ بلائی گئیں اور حضر ت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی گود میں دیا گیا لیکن انہوں نے کسی دایہ کی چھاتی اور دودھ کو منہ میں نہیں لیا اس کو ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayah 28:1212۔ اور ہم نے پہلے ہی سے دودھ پلانے والیوں کے دودھ کی موسیٰ (علیہ السلام) پر بندش کردی تھی اور وہ کسی کا دودھ منہ میں نہ لیتے تھے تب وہ لڑکی بولی میں تم لوگوں کو ایسے گھر والوں کا پتہ بتائوں جو تمہارے لئے اس بچہ کی پرورش کردیں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔ یعنی لوگ پریشان تھے کہ بچہ کسی کے دودھ کو منہ نہیں لگاتا، اب اس کو کس طرح دودھ پلایاجائے۔
تب موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے کہا اگر تم کہو تو میں ایک خاندان والوں کو بتائوں اور ایسے گھرانے کا پتہ بتائو کہ وہ اس کی کفالت کرلیں اور اس کی پرورش تمہارے لئے کردیں اور وہ اس کے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے یا فرعون کے خیر خواہ اور وفادار ہوں ، چناچہ لڑکی نے پتہ بتایا اور حضر ت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو بلایا گیا اور بچہ ان کی پرورش میں دے دیا گیا ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں فرعون کی عورت تھی بنی اسرائیل میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے چچا کی بیٹی اس لفظ سے وہ پہچان گئیں کہ لڑکا ان کا ہے اور جب ان کو لے پالا تو دائیاں ڈھونڈیں کسی کا دودھ انہوں نے نہ پیا نا چار ہوگئے تب ان کی ماں کو بلایا اس کا دودھ پینے لگے اس کو حوالے کیا پالنے کو ایک دینار روز دیا۔ 12
Ayah 28:1313۔ غرض ! ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی والدہ کی طرف واپس کردیا اور اس کو اس کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جدائی سے آزر دہ خاطر اور غمگین نہہو اور اس بات کا اور زیادہ یقین کرے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کا یقین نہیں رکھتے ۔
خلاصہ۔ یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی گود اور ماں کے گھر میں پرورش پاتے رہے کبھی کبھی لے جا کر فرعون کو دکھا آیا کرتیں اس طرح انا رادوہ الیک کا وعدہ پورا ہوگیا ۔ اب آگے ان کے پیغمبر ہونے کا ذکر آئے گا موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو اللہ تعالیٰ کے وعدے کا یقین ہونا تو پہلے معلوم تھا اور اللہ تعالیٰ کی صداقت پر ایمان تھا لیکن عینی مشاہدے کے بعد اور یقین میں زیادتی اور پختگی ہوگئی ۔ آخر میں کفار کی بد یقینی پر تعریفیں فرمائی۔
سورۂ طہٰ میں عرض کیا جا چکا ہے والقیت علیک محبۃ منی کی تفسیر میں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں ایک خاص جاذبیت تھی جو دیکھتا تھا اس کو ان سے بےانتہا الفت ہوجاتی تھی ۔ وحرمنا علیہ المراضع کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو منع کردیا تھا کہ کسی دایہ کا سوائے اپنی ماں کے دودھ نہ پینا اور نہ تحریم کا مطلب حرام کرنا نہیں کیونکہ ایک غیر مکلف بچہ پر تحریم کے حقیقی معنی متحقق نہیں ہوتے ان کی بہن نے تعارف کے وقت ایسے مناسب الفاظ کہے۔
چنانچہ کہتے ہیں کہ ان پر ہامان نے اعتراض کیا کہ وہ گھر والے جن کو تو بتائے گی وہ اس بچہ کے خیر خواہ کس طرح ہوں گے ، لڑکی نے کہا وھملہ سے میری مراد بادشاہ ہے بچہ نہیں وہ لوگ سرکار کے وفادار ہیں ۔ غرض ! تقدیر الٰہی پوری ہوئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی والدہ ماجدہ کے سپرد کردیئے گئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے اجرت بھی قبول کرلی یہ اس لئے کہ شاید بچہ سے کسی باطنی تعلق کا ہونا ظاہر نہ ہونا جیسا کہ صاحب المعانی نے فرمایا کہ یہ دودھ پلانے کی اجرت نہ تھی بلکہ بطور صلہ اور انعام ملا کرتا تھا۔ ( واللہ اعلم)
Ayah 28:1414۔ اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہنچا اور شباب کے کمال کو پہنچ گیا تو ہم نے اس کو حکمت و دانش عطا فرمایا اور فہم صحیح اور علم عطا کیا اور ہم نیک روش اختیار کرنیوالوں کو ایساہی صلہ عطا کیا کرتے ہیں ۔ یعنی بھر پور جوانی لفظ اشد کو کہتے ہیں کہ سترہ سال کی عمر سے تیس سال تک ہے اور استوی تیس سے لیکر چالیس سال کی عمر تک کو کہتے ہیں ۔ بہر حال ! جب جوانی آئی اور جسمانی قوی درست اور مستحکم ہوئے تو حضر ت حق تعالیٰ کی طرف سے علم و حکمت عطا ہوئے اور آخر میں فرمایا ہمارا عام قاعدہ یہی ہے کہ نیکو کاروں کو اسی قسم کا صلہ اور بدلا دیا کرتے ہیں ۔
Ayah 28:1515۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کہیں باہر سے شہر میں ایسے وقت داخل ہوا کہ جس وقت وہاں کے باشندے بیخبر اور غفلت میں تھے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ شہر میں دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے ہاتھا پائی کر رہے ہیں ان دونوں میں سے ایک تو موسیٰ (علیہ السلام) کی جماعت میں سے تھا اور وہ دوسرا اس کا دشمن اور مخالف تھا پس اس شخص نے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی جماعت میں سے تھا اس شخص کے مقابلہ میں اور اس شخص کے خلاف جو موسیٰ (علیہ السلام) کا مخالف اور دشمن تھا موسیٰ (علیہ السلام) سے فریاد کی اور موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد چاہی اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مخالف کو ایک گھونسا مارا سو اس کا کام ہی تمام کردیا ۔
اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہ تو شیطانی کام ہوگیا۔ بیشک وہ شیطان دشمن اور صریح غلطی میں مبتلا کرنے والا اور کھلی گمراہی میں ڈالنے والا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہیں تشریف لے گئے ہوسکتا ہے کہ اپنی والدہ کے مکان پر گئے ہوں کیونکہ وہ شہر کی آبادی سے باہر رہتی تھیں ۔ بہر حال ! مصر میں داخل ہوئے تو وہ لوگوں کے سونے کا وقت تھا یا تو دوپہر ہوگئی یا رات کو آئے ہوں گے۔
بہر حال ! ایسے وقت تشریف لائے کہ شہر میں سناٹا تھا اور اتفاق سے دو شخص آپس میں گتھم گتھا ہو رہے تھے ایک اسرائیلی تھا جس کو من شیعۃ فرمایا اور دوسرا فرعونی جسکو من عدوہ فرمایا اسرائیلی نے اس فرعونی کے خلاف ان سے فریاد کی اور مدد چاہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بیچ بچائو کرنی کی غرض سے آگے بڑھے اس فرعونی کو سمجھایا حالانکہ قصوراسی کا تھا مگر وہ نہ مانا اور اپنی تعدی سے باز نہ آیا اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے تادیبا ً ایک مکار سید کیا مگر وہ مکا لگتے ہی مرگیا ۔
ظاہر ہے کہ حضر ت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو قصدا ً نہیں مارا اور عادتا ً مکہ اور گھونسے سے آدمی مرتا بھی نہیں اتفاقا ً یہ حادثہ پیش آیا بہر حال ایک سرکاری آدمی مارا گیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی شہرت پہلے سے خراب تھی فرعونی ان کے مخالف تھے اگرچہ یہ کام سہوا ً ہوا پھر بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نادم ہوئے اور فرمانے لگے یہ کام شیطان کے کاموں میں سے وہ شیطان دشمن اور کھلاگمراہ کرنے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے فرعون کی قوم سے بیزار تھے ان کے کفر سے اور ان کے ساتھ لگے رہتے بنی اسرائیل وہی دو شخص لڑتے دیکھے ظالم فرعونی اس کو مارا تھا ادب دینے کو اس کی اجل آگئی یہ پچتائے کہ بےقصد خون ہوگیا اور ان کا گھر تھا اس شہر سے باہر جہاں سب بنی اسرائیل رہتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کبھی وہاں جاتے کبھی فرعون کے گھر آتے اور فرعون کی قوم ان کی دشمن تھی کہ غیر قوم کا شخص ہے ایسا نہ ہو کہ زور پکڑے۔ 12
Ayah 28:1616۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا اے میرے پروردگار میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تو مجھ کو بخش دے اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا اور بخش دیا بلا شبہ وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ندامت کے ساتھ پچھتاتے ہوئے یہ الفاظ کہے اللہ تعالیٰ کی مغفرت نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دستگیری فرمائی اور واقعہ ہے کہ غلطی بھی سہوا ً ہوئی تھی موسیٰ (علیہ السلام) کی نیت قتل کی نہ تھی اور نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی کافر کے قتل کی اجازت تھی اور آپ فرعون کی پناہ اور امن میں تھے اس لئے کوئی وجہ قتل کی نہ تھی۔ بخشش کا حال شاید موسیٰ (علیہ السلام) کو الہام سے معلوم ہوا ہو ۔ ہم سورة نمل میں بھی آیت الا من ظلم ثم بدل حسنا ً کے تحت اشارہ کرچکے ہیں کہ قطعی اطلاع بخشش کی نبوت عطا ہونے کے وقت ہوئی تا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین ہوجائے کہ سابقہ لغزش پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔
Ayah 28:1717۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کیا کہ اے میرے پروردگار چونکہ تو نے مجھ پر بڑا فضل فرمایا ہے اور بڑے بڑے احسانات کئے ہیں آئندہ کبھی مجرموں کا مدد گار نہ بنوں گا ۔ مجرموں سے مراد وہ ہیں جو انسانوں کو گناہ پر ابھاریں خواہ وہ شیاطین الانس ہوں یا شیاطین الجن ہوں ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی غلطی پر توجہ بھی کی اور آئندہ کے لئے شیطانی اور طاغوتی قوتوں سے بچنے کا بھی عہد کیا ، توبہ کی تکمیل میں یہ دونوں باتیں ہوا کرتی ہیں ۔ کہتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انشاء اللہ نہ کہا اس لئے دوسرے دن پھر اسی قسم کے قضیے میں مبتلا ہوئے اور یہ بھی مشہور ہے کہ اس فرعونی مقتول کو رات ہی میں دبا دیا تھا تا کہ پتہ نہ چلے چناچہ قاتل کا سراغ نہیں ملتا تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید اس فریادی کی بھی تقصیر ہوگی اور بخشا انہوں نے جانا الہام سے پیغمبر لوگ نبوت سے پہلے ولی تو ہوتے ہیں ۔ 12
حضرت شاہ صاحب (رح) اسرائیلی کی تقصیر کی طرف اس لئے اشارہ فرمایا کہ کم ازکم اس نے فرعونی کے خلاموسیٰ (علیہ السلام) کو ابھارا اور کسی جرم پر ابھارنا بھی جرم ہے۔ اسی لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فلن اکون ظھیر للمجرمین کہا اور جمع کا صیغہ استعمال کیا تا کہ شیطان اور شیطانی کام پر ابھارنے والے سب شامل ہوجائیں۔
Ayah 28:1818۔ غرض موسیٰ (علیہ السلام) صبح ہی صبح ڈرتا حالات کی ٹوہ لگاتا شہر میں گیا تو اچانک کیا دیکھتا ہے وہی اسرائیلی جس نے کل گزشتہ موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد طلب کی تھی آج موسیٰ (علیہ السلام) کو پھر پکار رہا ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا تو یقینا صریح بےراہ ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رات پریشانی کی حالت میں گزاری صبح کو ڈرتا اور خوف کھاتا ہوا نکلا کیونکہ کل کا واقعہ سامنے تھا کہ فرعونی حکومت کی اطلاعات کیا ہیں میرا نام کسی کو معلوم ہوا یا نہیں پولیس آتی ہے تو کب ہے اس قسم کا انتظار تھا اسی کی ٹوہ اور کھوج لگانے کو نکلا کہ شہر میں کیا افواہ ہے۔ میری گرفتاری ہوتی ہے تو کب ہوتی ہے یہ اسی حالت میں تشریف لے جا رہے تھے کہ یکا یک کیا دیکھتے ہیں کہ وہی کل والا اسرائیلی پھر کسی فرعونی سے الجھ رہا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو پکاررہا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس واقعہ کو دیکھ کر کل گزشتہ کے واقعہ کو یاد کیا جو کل فرعون کے باورچی خانے کے منیجر کے ساتھ پیش آیا تھا لہٰذا اسرائیلی سے نا خوش ہوئے اور فرمایا تو صریح بد را ہ ہے کہ روز کسی نہ کسی فرعونی سے الجھتا ہے حالانکہ ابھی کسی الجھائو کی اجازت نہیں ہے بلکہ صبر و ضبط کا حکم ہے۔ لیکن جب انہوں نے فرعونی کی زیادتی دیکھی تو یہ چاہا کہ فرعونی کو پکڑ کر علیحدہ کریں ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر روز ظالموں سے الجھتا ہے اور مجھ کو لڑواتا ہے رہ دیکھتے یہ کہ خون والے فرعون پاس فریاد لے گئے دیکھئے بس میں ثابت ہو اور مجھ سے کیا سلوک کریں ۔ 12
Ayah 28:1919۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس فرعونی کو پکڑنے کا ارادہ کیا جو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس اسرائیلی دونوں کا مخالف اور دشمن تھا وہ اسرائیلی یہ سمجھ کر کہ مجھ کو پکڑنا چاہتے ہیں کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا آج مجھ کو قتل کرنا چاہتا ہے تم تو بس یہی چاہتے ہو کہ عواقب اور انجام کا خیال کئے بغیر ملک میں ماردھاڑ اور زبردستی کرتے پھرو اور تم باہمی صلح و صفائی اور میل ملاپ کرانے والے لوگوں میں سے نہیں ہونا چاہتے ۔ یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اس اسرائیلی نے پکارا تو اول موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو یہ کہہ کر ڈانٹا کہ انک لغوی مبین پھر اس کے بعد فرعونی کو پکڑنا چاہا یہ اسرائیلی سمجھا کہ مجھ کو پکڑناچاہتے ہیں کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) مجھ سے ناراض ہیں اور مجھ کو لغوی مبین فرماچکے ہیں اس لئے اس نے گھبرا کر بیسا ختہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کیا تو آج مجھ کو قتل کرنا چاہتا ہے جس طرح تو کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے تو مصر کی سر زمین پر انجام کو بغیر سوچے سمجھے زبردستی اور زور دکھانا چاہتا ہے اور مار ڈھاڑ کرنا چاہتا ہے تو میل ملاپ کرنے والوں میں سے ہونا نہیں چاہتا۔
یہ فقیرے اس اسرائیلی نے اس انداز سے کہے کہ جو بات کل سے کسی کو معلوم نہ تھی وہ ظاہر ہوگئی اور فرعونی کے قاتل کا سراغ مل گیا اور پولیس کو معلوم ہوگیا کہ باورچی خانہ کے منیجر کا قاتل یہی موسیٰ (علیہ السلام) ہے چناچہ اس راز کا افشا ہونا اور وہ بھی اپنی ہی جماعت کے ایک نادان دوست کی زبان سے افشا ہونا۔
غضب ہوگیا فرعونی نے فوراً ہل دربار کو طلب کیا اور باہمی مشورہ ہوا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی زیادتیوں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خدا پرستی میں بحثیں ہوئیں اور بالآخر موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی تجویز طے ہوئی انہیں دربار میں سے کوئی موسیٰ (علیہ السلام) کا ہمدرد جو اندرونی طور پر مسلمان تھا شاید اس کا نام حزقیل تھا یا حزبیل تھا وہ راستہ بدل کر وہاں سے بھاگا اور پولیس کے آنے سے پہلے وہ موسیٰ (علیہ السلام) تک پہنچ گیا ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے فرمایا ہاتھ ڈالنا چاہا اس ظالم پر بول اٹھا مظلوم جانا کہ زبان سے مجھ پر غصہ کیا تھا ہاتھ بھی چلا دیں گے وہ کل کا خون چھپا رہا تھا آج اسکی زبان سے مشہورہوا ۔ 12
Ayah 28:2020۔ ارشاد ہوا اور ایک شخص شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) بلا شبہ اہل دربار آپ کے متعلق مشورہ کر رہے ہیں کہ آپ کو قتل کر ڈالیں پس آپ یہاں سے نکل جائیے اور یقین کیجئے میں آپ کے خیر خواہ ہوں اور بہی خواہوں میں سے ہوں ۔ یعنی وہ شخص موسیٰ (علیہ السلام) تک پہنچ گیا اور اس نے آ کر ان سے کہا فرعون کے درباری آپ کے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں کیونکہ اس فرعون کے خانساماں اور منیجر کے قتل کا پتہ معلوم ہوگیا اور آپ کے مخالفوں کی قوت مضبوط ہوگئی اس لئے میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ آپ شہر سے فوری طور پر نکل جایئے میں آپ کا بھلا چاہنے والوں میں سے ہوں ۔ کہتے ہیں اس نے ہی یہ مشورہ دیا کہ آپ مدین چلے جایئے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے مشورے پر عمل کیا اور جس حال میں تھے بغیر کسی خاص انتظام کے نکل کھڑے ہوئے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 28:2121۔ غرض موسیٰ (علیہ السلام) ڈرتا سب طرف دیکھتا بھالتا اس شہر سے نکل گیا موسیٰ (علیہ السلام) نے نکلتے وقت دعا کی میرے پروردگار مجھے ان ظالموں لوگوں سے خلاصی دے اور بچا لے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کبھی سفر نہیں کیا تھا آرام کی زندگی چھوڑ کر سفر اختیار کیا برہنہ پانہ کوئی زاد سفر ہمراہ لیا ۔ مدین تقریبا ً آٹھ یوم کی مسافت پر تھا فرعون کی وہاں حکومت نہ تھی اور فرعون کے حیطہ اقتدار سے باہر تھا مدین کی جانب تین راستے جاتے تھے انہوں نے درمیانی پگڈنڈی کو اختیار کیا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ سنایا ہمارے رسول کو کہ یہ بھی وطن سے نکلے جان کے خوف سے کافرسب اکٹھے ہوئے کہ ان پر مل کر چوٹ کریں اسی رات نکلے ہجرت کر کر ۔ 12
Ayah 28:2222۔ اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کی سمت اور مدین کی جانب رخ کیا تو کہا امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھے راستہ پرچلائے گا اور مجھے سیدھی راہ پر لے جائیگا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تو کلا علی اللہ یہ سفر اختیار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی صحیح رہنمائی فرمائی اور ان کو سیدھے راستے لگا دیا اور وہ ایک ایسی پگڈنڈی پڑگئے جو سیدھی مدین کو جاتی تھی ، آٹھ روز تک برابر سفر کرتے رہے گھاس پات کھا کر گزر کرتے اور حضرت حق تعالیٰ سے لو لگائے ہوئے چلے جاتے تھے آٹھ روز کی پیہم سفر کے بعد وہ مدین کے پانی پر پہنچ گئے ادھر فرعون کی پولیس اپنی حدود کے اندر جگہ جگہ دیکھتی پھر ی اور اس کو کہیں پتہ نہ چلا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ واقف نہ تھے راہ سے اللہ نے اسی راہ پر ڈال دیا ۔ 12
Ayah 28:2323۔ اور جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے پانی یعنی کنویں پر پہنچا تو اس کنویں پر لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا جو کنویں سے پانی کھینچ کھینچ کر اپنے مویشوں کو پانی پلا رہے تھے ان عورتوں سے پوچھا تمہارا کیا حال ہے انہوں نے جواب دیا جب تک یہ چرواہے اپنے مویشوں کو پانی پلا کر واپس نہ لے جائیں اس وقت تک ہم پانی نہیں پلا سکتے۔ یعنی کوئی مرد نہیں جو پانی کھینچ کر ہمارے جانوروں کو پلائے ہم سے ڈول کھینچ نہیں سکتا ہمارا باپ ہے تو وہ بوڑھا بہت ہے اس لئے جب یہ لوگ چلے جاتے ہیں تو ان کا بچا کھچا پانی ہم اپنی بکریوں کو پلا لیتی ہے۔
کہتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے لڑکیوں کی سفارش کی کیوں بھائی تم ان بکریوں کو پانی کیوں نہیں پلاتے مگر انہوں نے سخت جواب دیا کہ آپ پلا سکتے ہیں تو پلا دیجئے ، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا چرس لیکر تنہا کھینچ لیا حالانکہ اس کو دس آدمی مل کر کھینچے تھے ، لڑکیوں کی بکریوں کو موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی پلا دیا اور لڑکیاں واپس چلی گئیں۔ بعض کہتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک دوسرے کنویں سے پانی پلایا جس پر ایک بہت بھاری پتھر رکھا ہوا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے تنہا اس کو ہٹایا اس میں سے پانی نکال کر لڑکیوں کے جانوروں کو پلا دیا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مصر سے دس کوس کی راہ ہے وہاں پہنچے بھوکے پیاسے ، لوگ پانی پلاتے تھے بکریوں کو۔ 12 پھر فرمایا دے حیا سے کھڑی تھیں بکریاں ایک طرف لیکر ان کی قوت نہ تھی کہ بھاری ڈول نکالیں اور ان سے بچا پانی پلاتیاں۔
Ayah 28:2424۔ یہ سن کر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لڑکیوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا پھر وہاں سے ہٹ کر سایے میں جا بیٹھا اور دعا کی اے میرے پروردگار جو نعمت بھی اور بھلائی تو مجھ کو بھیج دے میں اس کا محتاج اور حاجت مندہوں ۔ ینی متواتر سفر رہا کچھ کھانے کو میسر نہیں آیا بےسروسامانی کی حالت میں نکلے تھے پیٹ پیٹھ سے مل گیا ۔ پتے وغیرہ جو راستے میں کھاتے تھے پیٹ میں ان کی سبزی جھلکتی تھی ۔ بہر حال دعا قبول ہوئی اور اس کے اسباب پیدا ہونے شروع ہوئے لڑکیاں جب گھر پہنچیں تو باپ نے جلدی آجانے کی وجہ دریافت کی لڑکیوں نے تمام حال اس مسافر کا سنایا اور پانی پلانے اور چرس کھینچنے کا حال سنایا باپ نے اسی وقت ایک لڑکی کو بھیجا کہ اس مسافر کو بلایا ، چناچہ لڑکی خدمت میں حاضر ہوئی ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 28:2525۔ اتنے میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ان دو عورتوں میں سے ایک عورت شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی اور اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے قریب آ کر کہا میرا باپ اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ کو بلاتا اور یاد کرتا ہے تا کہ وہ تجھ کو اس پانی پلانے کا حق دیدے جو تو نے ہمارے مویشوں کو پانی پلایا تھا پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) اس کے باپ کے پاس پہنچا اور اپنے آنے کے تمام واقعات ان کو سنائے اور اپنا تمام حال بیان کیا تو انہوں نے کہا ڈر نہیں اور کچھ خوف نہ کر تو ظالم لوگوں سے بچ آیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں عورتوں نے پہچانا کہ چھانواں پکڑتا ہے مسافر ہے دور سے آیا تھکا بھوکا جا کر اپنے باپ سے کہا کہ ان کو درکار تھا کوئی مرد ہو نیک بخت کہ بکریاں تھامے اور بیٹی بھی بیاہ دیں 12 ۔ کہتے ہیں ان بزرگ کا نام شعیب تھا لڑکیوں کا نام صفورا اور شرنا تھا بتایا جاتا ہے جو لڑکی بلانے آئی وہ صفورا تھا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم میرے پیچھے چلو اور راستہ مجھ کو بتاتی رہو تا کہ اجنبی پر نگاہ نہ پڑے حیا کے ساتھ چلتی ہوئی جو شرفاء کے گھرانے کا طریقہ ہے۔
کہتے ہیں صفورا نے آنچل سے منہ ٹھانک رکھا تھا راستہ بتانے کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ جس گلی کی طرف مڑنا ہوتا صفورا اس طرف کنکر پھینک دیتی تھی آپ اس طرف مڑ جاتے تھے ۔ بہر حال جب یہ وہاں پہنچ گئے اور ان کو اطمینان حاصل ہوگیا تو ایک لڑکی نے ان دونوں میں سے کہا جسکو آگے فرماتے ہیں۔
Ayah 28:2626۔ ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا اے باپ آپ اس شخص کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ اچھا اور بہتر نوکر جس کو آپ نوکر رکھناچا ہیں وہ شخص ہے جو طاقت دار اور امانت دار ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں زور دیکھاڈول نکالنے سے اور امانت دار دیکھا بےطمع ہونے سے نہ کہتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کو صلہ دینا چاہا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے انکار کیا کہ میں ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جس میں بھلے کام پر کوئی اجرت نہیں لیا کرتے ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا میں بھی ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جس میں کسی معمولی سے معمولی خدمت کو بھی نظر انداز کرنا مناسب نہیں خیال کرتے۔
Ayah 28:2727۔ ا ن بزرگ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تیرے ساتھ اس شرط پر کر دوں کہ تو آٹھ سال تک میری ملازمت کرے اور اگر تو دس سال پورے کردے تو یہ تیری طرف سے ہے اور میں تجھ پر کوئی سختی یا مشقت ڈالنا نہیں چاہتا تو مجھ کو انشاء اللہ خوش معاملہ اور بھلے لوگوں میں سے پائے گا۔ نکاح کرنے کا ارادہ کیا اور آٹھ سال کی خدمت اس نکاح کا معاوضہ یعنی مہر مقرر فرمایا دس سال پورا کرنے کو ان کی مرضی پر چھوڑ دیا یعنی کوئی جبر نہیں ۔ سختی نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عام طور سے نوکروں اور ملززموں کے ساتھ سخت برتائو کیا جاتا ہے۔ وہ میرے ہاں نہیں ہوگا اور آپ مجھے شائستہ اور بھلے لوگوں میں سے پائیں گے۔
Ayah 28:2828۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ بس یہ بات میرے اور تیرے درمیان پختہ ہوچکی ان دونوں مدتوں میں سے جو مدت بھی میں پوری کر دوں تو پھر مجھ پر کوئی زیادتی اور جبر نہ ہوگا اور ہم جو کہہ رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر گواہ ہے۔ یعنی وقت کی پابندی اور سخت برتائو کا انہوں نے انکار کردیا تھا انہوں نے اس ملازمت کو قبول کرلیا اور دونوں مدتوں میں سے جو ن سی مدت بھی پوری ہوجائے اس پر حضرت شعیب (علیہ السلام) کو کوئی اعتراض نہ ہوگا ان امور کے طے ہوجانے کے بعد غالباً نکاح ہوا ہوگا اور جو باتیں ملت ابراہیمی میں ہوں گی ان کے موافق ہوا ہوگا۔ کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس سال پورے کئے ۔ ( واللہ اعلم)
؎ شبان وادی ایمن گہے رسد بمراد کہ چند ساں بجاں خدمت شعیب کند
حضرت شعیب نے صلاحیت دیکھ کر اندازہ لگایا ہوگا وہی مدت مقرر کی ۔ اب آگے مدت پوری ہونے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی رخصت ہونے کا ذک رہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہمارے حضرت ؐ بھی وطن سے نکلے سو آٹھ برس پیچھے آ کر مکہ فتح کیا اگر چاہتے تو اسی وقت شہر حال کرواتے کافروں سے لیکن اپنی خوشی سے دس برس پیچھے کافروں سے پاک کیا ان بزرگ کا نام نہیں فرمایا قرآن میں اور تورات میں نام کچھ اور ہے اور مشہور ہے کہ حضرت شعیب پیغمبر تھے۔ 12 آخر شعیب (علیہ السلام) کا اندازہ صحیح ہوا اور مدین کی واپسی پر ان کی والدہ کا الہام پورا ہوا ۔ وجاعلوہ من المرسلین ابھی راستے ہی میں تھے کہ خلوت نبوت سے آراستہ ہوگئے۔
Ayah 28:2929۔ الغرض ! جب موسیٰ (علیہ السلام) وہ مدت پوری کرچکا اور اپنے گھر والوں کو لیکر چلا تو اس نے کوہ طور کی جانب ایک آگ دیکھی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا تم ذرا ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں وہاں سے تمہارے لئے کوئی خبر لے آئوں یا آگ کا کوئی انگارا لے آئوں تا کہ تم اس سے گرمی حاصل کرو اور تاپو ! غرض موسیٰ (علیہ السلام) جب وہ مدت یعنی بقول مشہور دس سال پورے کردیئے تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے مصر یا شام کا سفر اختیار کیا چلتے وقت ان کی اہلیہ محترمہ نے کچھ بکریاں حضرت شعیب سے مانگ لیں باپ نے لڑکی کو اس سال کی پیدا شدہ تمام بکریاں دے دیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے روانہ ہوئے ایک دن رات کو راستے میں سخت سردی ہوئی اور ہوا چلی گھر والی کو در دزہ کی تکلیف ہوئی راستے کا پتہ نہ چلا بکریوں کا گلہ ہوا کہ تیزی میں تتر بتر ہوگیا کوئی آدمی نہیں جس سے راستہ دریافت کریں اسی حالت میں تھے کہ کوہ طور کے قریب ایک روشنی نظر آئی سمجھے کہ آگ ہے گھر والی سے کہا تم ذرا ٹھہر ئو مجھے آگ دکھائی دیتی ہے میں دیکھوں آگ کے پاس کوئی آدمی ہو تو اس سے کوئی راستہ کی خبر لائوں یا کوئی آگ کا شعلہ اور انگارہ وہی لے آئوں تا کہ تم آگ سے تاپ لو اور سردی کچھ کم ہوجائے ، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور کی جانب بڑھے۔
Ayah 28:3030۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس پہنچا تو اس کو ایک درخت میں سے جو میدان کی داہنی جانب زمین کے ایک مبارک قطعہ میں تھا یہ آواز دی گئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) بلا شبہ میں ہی اللہ تمام عالموں کا پروردگار ہوں ۔ چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بڑھتے ہوئے طور کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں ایک سبز درخت میں بےدھوئیں کی ایک روشنی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) متحیر ہوئے کہ سبز درخت میں یہ آگ کیسی ہے اور اس سے آگ کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے ابھی اسی حالت میں تھے کہ درخت میں سے آواز دی گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا گیا ۔ انی انا للہ رب العالمین موسیٰ (علیہ السلام) نے درخت کی جانب گہری نظر سے دیکھا اور وہ آواز تمام جسم میں سرایت کرگئی صرف کانوں ہی نے نہیں سنی بلکہ تمام جسم کان بن گئے وہ آگ اگرچہ درخت میں معلوم ہوتی تھی لیکن انی انا اللہ کی آواز کے ساتھ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قلب میں پیوست ہوگئی اور نہ تجھے والی آگ بن کر موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں سما گئی ، کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔
؎ ہست دامن آتش روسن نمید انم کہ چست ایں قدر دانم کہ ہم چوں شمع مے کا ہم دگر
اس خطاب کی کیفیت اور لذت اور اس کے اثرات کو موسیٰ (علیہ السلام) جانتے ہوں گے۔
Ayah 28:3131۔ اور نیز یہ آواز آئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنا عصاڈال دے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس لاٹھی کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا جیسے وہ ایک تیز رفتار سانپ ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) پیٹھ پھیرکر الٹے پھرے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا ارشاد ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) آگے آ اور ڈر نہیں یقینا تو امن یافتہ لوگوں میں سے ہے۔ عضا کو ڈالنے کا حکم ہوا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی ڈالی تو وہ ایک پتلے سانپ کی طرح دوڑنے لگی موسیٰ (علیہ السلام) کو بہ تقاضائے بشریت خوف معلوم ہوا اور وہ پیٹھ پھیر کر چلنے لگے تو ارشاد ہوا سامنے آئو اور ڈرو نہیں تم ہر طرح امن میں ہو ۔
یہاں جان فرمایا سورة طہٰ میں حیۃ فرمایا ہم اس کے متعلق سورة طہٰ میں عرض کرچکے ہیں کہ وہ ایک اژدھا بن گیا لیکن دوڑ میں اور بھاگنے میں سٹک اور پتلے سانپ کی طرح بھاگتا تھا یا ابتداء پتلی سٹک ہوتا تھا پھر اژدھا بن جاتا ہو ۔ غرض ! یہ ایک معجزہ تھا جس کا ظہور ان کے ہاتھ سے ہوا پھر ارشاد ہوا ۔
Ayah 28:3232۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنا ہاتھ اپنے گریباں کے اندر لے جاتو وہ بغیر کسی نقص و عیب کے خوب چمکتا ہوا نکلے گا اور خوف کو رفع کرنے اور دور کرنے کی غرض سے اپنا ہاتھ اپنی بغل اور گریبان سے ملا لیجو یہ دونوں چیزیں فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جانے کے لئے تیرے پروردگار کی طرف سے دو دلیلیں اور دو سندیں ہیں یقینا وہ لوگ بڑے نافرمان اور حد سے نکل جانے والے ہیں ۔ یعنی ہاتھ کو بغل کے نیچے لے جا اور گریبان میں ڈال تو وہ اس قدر چمکدار اور نورانی ہوکر نکلے گا جیسے سورج کی چمک بغیر کسی عیب اور نقص کے یہ روشنی ہوگی اور سفید چمک ہوگی یعنی کسی بیماری یا برص وغیرہ کی سفیدی نہ ہوگی اور جس طرح سانپ کو پکڑ لینا لاٹھی کو اپنی اصلی حالت پر لے آتا ہے اسی طرح اگر ہاتھ کی روشنی سے خوف معلوم ہو تو ہاتھ کو دوبارہ گریبان اور بغل سے ملا لینا کافی ہوگا ہاتھ اپنی اصلی حالت پر آجائے گا یہ دو دلیلیں منجملہ ان نو دلیلوں کے ہیں جیسا کہ سورة نمل اور بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے۔ یہ دو سندیں ہیں جو فرعون اور اسکے امراء کے سامنے پیش کر دیناکیون کہ یہ لوگ بڑے سرکش متکبر اور حد عبودیت سے نکل جانے والے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بازو مل اور سے یعنی سانپ کا ڈر جاتا رہے ۔ 12 ہوسکتا ہے کہ سانپ کے خوف کا یہ علاج ہو اور ہوسکتا ہے کہ ہاتھ کی چمک سے اگر کوئی خوف ہو تو اس کا علاج ہو اور ہوسکتا ہے کہ دونوں چیزوں کے ڈر کا علاج ہو کر ہاتھ کو اپنے گریبان اور بازو سے ملا لیا جائے تاکہ وہ خوف جو بہ تقاضائے بشریت ہوجاتا ہے وہ دورہو جائے نہ سانپ کو دیکھ کر کوئی دہشت ہو نہ ہاتھ کی چمک سے کوئی اندیشہ ہو ۔
Ayah 28:3333۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار میں نے ان میں سے ایک شخص کو قتل کردیا تھا میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھ کو قتل نہ کر ڈالیں۔ یعنی مجھے دیکھتے ہی ان کو وہ قتل کا واقعہ یاد آئے اور وہ سب سے پہلے مجھ کو قتل ہی کر ڈالیں۔
Ayah 28:3434۔ اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح اور رواں ہے آپ اس کو بھی میرے ہمراہ میرا مدد گار بنا کر بھیج دیں کہ وہ میرے دعوے اور میری باتوں کی تصدیق کرے اور میری نبوت کی تائید کرے کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ فرعون والے میری تکذیب کریں گے۔ یعنی چونکہ میری زبان میں لکنت ہے اور میں بولتے بولتے کبھی اٹک جاتا ہوں تو ہوسکتا ہے کہ وہ بد دین لوگ ہیں کہیں میری تضحیک کریں اور مجھ کو ہنسی میں اڑا دیں اس لئے میرے بھائی ہارون جو فصاحت لسانی کے اعتبار سے مجھ سے زیادہ فصیح ہیں اور اگر مناظرے کی نوبت آئی تو ان کی زبان کی روانی سے مدد ملے گی لہٰذا ان کو میرے ہمراہ مدد گار بنا کر بھیج دے کہ وہ میری تائید و تصدیق کریں کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر میں تنہا گیا تو وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے اور میر تکذیب کردیں گے۔
Ayah 28:3535۔ حضرت حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی کی وجہ سے ابھی مضبوط کردیں گے اور ہم تم دونوں کو ایک ایسی ہیبت اور غلبہ عطا کردیں گے اور تم کو ایسی شوکت دیں گے کہ وہ تم تک پہنچ ہی نہ سکیں گے ، ہماری نشانیاں لیکر جائو تم دونوں اور جو تم دونوں کے متبع اور پیرو ہوں وہ سب غالب رہنے والے ہو ۔ باتینا کا ترجمہ اپنے اکابر نے دو طرح کیا ہے ہم نے ایک طریقہ اختیار کرلیا ہے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم کو ایذا پہنچا نے کی غرض سے تم تک نہ پہنچ سکیں گے ہم نے صاحب روح کے قول کو اختیار کیا ہے اور فاذھباباتینا کی آیت کو ملحوظ رکھا ہے ، خلاصہ یہ کہ تمہاری دونوں درخواستیں منظور کرلی گئیں۔ ہارون (علیہ السلام) کی ہمراہی بھی منظور اور وہ تم کو ایذا نہ پہنچائیں گے ایذا رسانی کے اندیشے سے بھی بےخوف فرما دیا تم دونوں کو اور جو تم دونوں کی پیروی کرے گا ان کو بھی غلبہ حاصل رہے گا ۔
Ayah 28:3636۔ غرض جب موسیٰ (علیہ السلام) ہماری کھلی کھلی نشانیاں اور واضح دلائل اور معجزات لے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے کچھ نہیں یہ تو ایک جادو ہے جو محض افترا ہے اور خدا کی طرف منسوب کردیا گیا ہے اور ہم نے تو ایسی باتیں اپنے گزشتہ باپ دادوں کے زمانے میں ہوتی نہیں سنیں ۔ یعنی یہ تو محض ایک جادو ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کیا گیا ہے کہ یہ دلائل اس کی جانب سے ہیں حالانکہ جب وہ ہے ہی نہیں تو اس کے دلائل کیسے محض ایک ساحرانہ افترا ہے اور اگر ان باتوں کی اصل ہوتی تو اپنے بزرگوں سے تو ہم کبھی سنتے جب ہمارے بزرگوں میں بھی اس قسم کا کوئی چرچا نہیں اور نہ کبھی ان سے ہم نہ یہ باتیں سنیں تو سوائے اس کے کہ یہ ایک گھڑی ہوئی بات ہے اپنے جادو کو خدا کی دلیل بتانا اس کا محض افتراء ہے۔
Ayah 28:3737۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے صحیح دین اور ہدایت و رہنمائی لیکر آتا ہے اور وہی اس کو بھی جانتا ہے جس کے حق میں اس عالم کا انجام بہتر اور اچھا ہونے والا ہے اور جس کی عاقبت محمود ہونیوالی ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ ظالم اور ناانصاف کبھی فلاح نہیں پاتے اور مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ فرعونی ایک سیدھی سادھی اور معقول دلیل کو نہیں سمجھتے اور اس کو سحر و افترا اور ایک انوکھی نئی بات بتاتے ہیں تو انہوں نے فرمایا تم مانو یا نہ مانو جانو یا نہ جانو میرا پروردگار تو اس کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے دین کی روشنی اور ہدایت لے کر آیا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس دنیا کا انجام کس کے لیے اچھا ہونے والا ہے اور کس کا خاتمہ بخیر ہونیوالا ہے اور کس کی عاقبت محمود ہوگی اور پچھلا گھرکس کو ملنے والا ہے یعنی جو اسلام کا پابند ہوگا اسی کا انجام اچھا ہوگا اور پچھلا گھر اسی کو ملنے والا ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ظالم اور ستم گاروں اور بد دینوں کو فلاح اور کامیابی نصیب ہونے والی نہیں۔