28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

قارون نے جواب دیا مجھ کو تو یہ سب کچھ میرے اس علم اور ہنر کی وجہ سے ملا ہے جو مجھ کو حاصل ہے کیا اس کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ خدائے تعالیٰ اس سے پہلے گزشتہ قوموں میں سے ایسے شخصوں کو تباہ کرچکا ہے جو باعتبارقوت کے اس سے کہیں زیادہ اور مال جمع کرنے کے اعتبار سے اس سے کہیں بڑھے ہوئے تھے اور گناہ گاروں سے ان کے گناہوں کے متعلق پوچھا نہیں جاتا

78۔ قارون نے جواب دیا مجھ کو تو یہ سب کچھ بس ہیرے علم و ہنر کی وجہ سے ملا ہے جو مجھ کو حاصل اور میرے پاس ہے حضرت حق نے فرمایا کیا یہ اس کو معلوم نہیں اور اس کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے گزشتہ قوموں میں سے ایسے ایسے شخصوں کو ہلاک کرچکا ہے جو با اعتبار قوت و طاقت کے اس سے کہیں زیادہ اور با اعتبار مال جمع کرنے کے اس سے کہیں بڑھے ہوئے تھے ان گناہ گاروں سے ان کے گناہوں کے متعلق تحقیق کرنے کی غرض سے پوچھا نہیں جاتا ۔ اللہ تعالیٰ کے احسان و انعام کو نظر انداز کردیا اور کہنے لگا یہ تو میں نے صرف اپنے علم و ہنر کی وجہ سے کمایا ہے یعنی میں معاش کی تدابیر اور کمانے کی ترکیبوں سے خوب واقف ہوں یا تجارت اور صناعی کا علم ہو۔ بعض کہتے ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خزانوں کا علم ہوگیا تھا وہ خزانے نکال لئے تھے کسی نے کہا کیمیا بنانی جانتا تھا ، بہرحال نہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور نہ میرے مال میں کسی اور کا استحقاق ہے اسی بناء پر میرا تفاخر بھی صحیح ہے اور زکوٰۃ سے انکار بھی صحیح ہے ۔ حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا اس کو یہ نہیں معلوم کہ ہم اس سے پہلے کتنی قوموں میں سے ایسے لوگوں کو ہلاک و تباہ کرچکے ہیں جو قوت کے اعتبار سے اور مال کی کثرت اور مال جمع کرنے کے اعتبار سے بھی اس سے بہت زیادہ تھے اور جب ہم اس سے زیادہ قوت والے سرمایہ داروں کو بھی ہلاک کرچکے ہیں تو اس کی کیا حیثیت ہے علم کا دعویٰ کرتا ہے اور تاریخ کی اتنی سی بات نہیں جانتا ہے اور یہاں جو مجرمین سے سوال کی نفی فرمائی اسکا مطلب یہ ہے کہ سوال سے کوئی تحقیق مقصود نہ ہوگی بلکہ توبیخ کی غرض سے سوال ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا لنساھم اجمعین سوال کرنا اس غرض سے نہ ہوگا کہ گناہ کیا یا نہیں کیونکہ گناہ کرنا تو حق تعالیٰ کو معلوم ہے ہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیوں کیا ۔ بعض حضرات نے اکثرجمعا کے معنی یہ کئے ہیں کہ جماعت کے اعتبار سے انہیں اکثریت حاصل تھی یعنی رضا کار اور حمایتی اور حاشیہ نشین بہت تھے اور لائو لشکر بہت تھا مفسرین سے دونوں ہی باتیں منقول ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک ہنر سے مجھ کو ملا ہے یعنی دنیا کمانے کے واسطے اور پوچھے نہ جائیں گے یعنی گناہ گار کی سمجھ درست ہو تو گناہ کیوں کرے جب سمجھ الٹی پڑی الزام دینے کا کیا فائدہ ۔
Ayah 28:79

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر قارون اپنی پوری زینت و زیبائش کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا تو وہ لوگ جو دنیوی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کیا خوب ہوتا کہ ہم کو بھی وہ سازو سامان ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے واقعی قارون بڑے نص بےوالا ہے اور جن لوگوں کو صحیح علم و فہم عطا کیا گیا تھا

79۔ پھر قارون اپنی خوب زینت و زیبائش کے ساتھ اپنی قوم پر نکلا تو وہ لوگ جو دنیوی زندگی کو چاہتے تھے اس کی شان و شوکت دیکھ کر کہنے لگے کیا خوب ہوتا کہ ہم کو بھی وہ ساز و سامان ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے واقعی وہ بڑے نصیبے والا ہے۔ قارون اپنا خاص لباس پہن کر ایک سفید خچر پر بیٹھ کر نکلا اور ہزاروں پیدل اور سوار اسکے جلوس میں تھے یہ ٹھاٹھ اور کرد فردیکھ کر بعض طالبین دنیا نے یہ تمنا کی کہ کاش ہم کو یہ سب سامان عیش ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے وہ واقعی بڑا نصیبے والا ہے بنی اسرائیل کے بعض دنیا داروں نے یہ تمنا کی ۔
Ayah 28:80

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اے دنیا کے طالبو تم پر افسوس ہے اللہ تعالیٰ کا وہ ثواب بدر جہا بہتر ہے جو اسکی بارگاہ سے ایسے شخص کو ملتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتا رہے اور یہ مرتبہ سوائے ثابت قدم رہنے والوں کے کسی اور کو میسر نہیں ہوا کرتا

80۔ اور جن لوگوں کو صحیح علم و فہم عطا کیا گیا تھا انہوں نے فرمایا اے دنیا کے طالبو ! تم پر افسوس ہے ، اللہ تعالیٰ کا وہ ثواب بدرجہا بہتر ہے جو اس کی بارگاہ سے ایسے شخص کو ملتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتا رہے اور یہ مرتبہ سوائے صبر کرنیوالوں اور ثابت قدم رہنے والوں کے اور کسی کو میسر نہیں ہوا کرتا ۔ حضرت شمعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دوسرے ہمراہی جو اہل علم و فہم تھے ان کو سمجھانے لگے کہ ایسی فانی چیز کی تمنا کیوں کرتے ہو ۔ اس قارون کی زینت و زیبائش سے اللہ تعالیٰ کا ثواب جو ایمان لانے والوں اور اعمال نیک کرنیوالوں کو ملتا ہے وہ ہزارہا درجے اس سے بہتر اور اچھا ہے۔ یہ کرامت اور بزرگی اور کامل ثواب ان لوگوں کو ملتا ہے جو صبر کرنے والے ہیں نیک اعمال پر اور دنیوی تنگ دستی پر حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا سے آخرت کو بہتر وہی جانتے ہیں جن سے محنت سہی جاتی ہے اور بےصبر لوگ حرص کے مارے دنیا کی آرزو پر گرتے ہیں نا دان آدمی دنیا دار کی آسودگی کو جانتا ہے کہ اس یک بڑی قسمت ہے اس کی فکر کو اور آخرت کی ذلت کو اور رسوائی و خوشامد کرنے کو نہیں دیکھتا اور یہ نہیں دیکھتا کہ دنیا میں آرام ہے تو دس بیس برس اور مرنے کے بعد کانٹے ہیں ہزاروں برس ۔ 12
Ayah 28:81

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پھر ہم نے قارون کو اور اسکے مکان کو زمین میں دھنسا دیا پھر اس کی مدد کو کوئی ایسی جماعت نہیں ہوئی جو خدا سے اس کو بچالیتی اور نہ وہ اپنے آپ کو خود ہی بچا سکا

81۔ آخر کار ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا پھر اس کی مدد کو کوئی ایسی جماعت کھڑی نہیں ہوئی جو اللہ کے عذاب سے اس کو بچا لیتی اور نہ وہ اپنے آپ کو خو ہی بچا سکا ۔ قارون کی شرارت بڑھتی رہی اور زکوٰۃ ادا کرنے کو آمادہ نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کرتا رہا یہاں تک کہ اس نے چاہا موسیٰ (علیہ السلام) علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجمع عام میں توہین کرائے اس کے لئے اس نے ایک عورت کو کثیر رشوت دیکر آمادہ کیا اور جب موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام زنا کی حد بیان کررہے تھے تو قارون نے کھڑے ہو کر دریافت کیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) اگر آپ بھی اس فعل شنیع کے مرتکب ہوں تو کیا اسی سزا کے مستحق ہوں گے آپ نے فرمایا بیشک قارون نے عورت کی طرف اشارہ کیا وہ کھڑی ہوئی اور وہ اپنے ساتھ بدکاری کی نسبت بیان کرنے لگی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا خدا کے غضب سے ڈر کر بیان دے اور جو کہناچاہتی ہے وہ کہہ اس پر یہ عورت ڈر گئی اور اس نے رشوت کا تمام واقعہ سنا دیا اور وہ تھیلیاں بھی پیش کیں جن پر قارون کی مہر لگی ہوئی تھی ۔ اس پر مجمع میں قارون پر ملامت ہونے لگی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مسجد سے گر کر دعا مانگنے لگے اس پر ارشاد ہوا موسیٰ (علیہ السلام) تم زمین کو حکم دو وہ تمہاری اطاعت کریگی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے زمین سے فرمایا اے زمین اس کو پکڑ لے۔ چنانچہ قارون زمین میں دھنسنا شروع ہوا اس خسف سے پہلے آپ نے اعلان کردیا کہ تمام بنی اسرائیل یہاں سے چلے جائیں اور صرف قارون اور اس کے ساتھی یہاں ٹھہرے رہیں چناچہ صرف دو آدمی قارون کے ساتھ بیٹھے رہے اور وہ قارون کے ساتھ زمین میں دھنسنے لگے ان لوگوں نے چلانا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معافی مانگنی شروع کی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) برابر زمین سے کہتے رہے کہ زمین اس کو پکڑ یہاں تک زمین قارون کو نگتی چلی گئی ۔ بعض مفسرین نے صرف قارون کے دھنسنے کا ذکر کیا ہے ۔ دھنستے دھنستے بھی قارون آنکھوں کے اشاروں سے معافی مانگتا رہا لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر رحم نہیں کیا ۔ بہر حال ! یہ زمین میں دھنس گیا اور اس کے تمام خزانے اور اس کا مال و متاع بھی زمین میں دھنسا دیا گیا ۔ چونکہ بنی اسرائیل کے بعض لوگوں نے شبہ کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے مال پر قبضہ کرنے کی وجہ سے ایسا کیا ہے اس لئے اس کا سامان بھی اسی جگہ دھنسا دیا گیا اور وہ اپنے گھر سمیت زمین میں دھنس گیا نہ کوئی اس کا حمایتی آیا نہ کوئی اس کے رضا کاروں اور حاشیہ نشینوں میں سے آیا اور نہ ہو اپنی مدد خود کرنے کے قابل تھا جب قارون کا یہ انجام ہوا تب ان دنیا کی خواہش کرنیوالوں کی آنکھیں کھیلیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 28:82

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور کل گزشتہ جو لوگ اس جیسا ہونے کی تمنا کر رہے تھے وہ کہنے لگے ا ے افسوس بات تو یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزیکو بڑھاتا اور گھٹاتا ہے اگر اللہ تعالیٰ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہم کو بھی دھنسا دیتا افسوس واقعی بات تو یہ ہے کہ نا سپاسوں کو فلاح نصیب ہوتی

82۔ اور کل گزشتہ جو لوگ اس جیسا ہونے کی تمنا کررہے تھے اور اس کا درجہ حاصل کرنے کی خواہش کر رہے تھے وہ کہنے لگے ارے خرابی کی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا روزی کو فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے اس کو نپی تلی روزی دیتا اور روزی کی تنگی اور کمی کردیتا ہے اگر اللہ تعالیٰ ہم پر احسان اور مہربانی نہ فرماتا تو ہم کو بھی دھنسا دیتا افسوس واقعی بات تو یہ ہے کہ نا سپاسوں اور منکروں کو فلاح نصیب نہیں ہوا کرتی ۔ یعنی جو لوگ اپنی نادانی سے کل تک یلیت لنا مثل ما اوتی قارون کہہ رہے تھے آج قارون کا حشردیکھ کر صبح صبح تعجب سے کہنے لگے بس جی معلوم ہوگیا روزی کی فراخی اور بندوں میں کسی پر تنگی یہ نصیب اور بدنصیب کی علامت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اسکی تکوینی مصلحت پر موقوف ہے ہمارا خیال غلط تھا کہ قارون بڑا نصیبے والا ہے غرق ہوجانے کے بعد معلوم ہوا بڑا بدنصیب تھا اور بس جی یہ معلوم ہوا کہ نافرمان اور نا سپاسوں کو فلاح نصیب نہیں ہوتی ہماری غربت اور تنگدستی نے ہم کو بچایا نہ معلوم ہم مالدار بن جاتے تو کیسے ثابت ہوتے اگر ہم کفران نعمت کے مرتکب ہوتے تو شاید ہمارا حشر بھی قارون جیسا ہوتا اور ہم کو بھی اللہ تعالیٰ زمین میں دھنسا دیتا آگے نیک بندوں کے انجام کا ذکر ہے۔
Ayah 28:83

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

یہ آخرت کا گھر یعنی جنت ہم انہی لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد پھیلانا اور آخر میں انہی کا بھلا ہوتا ہے جو پرہیز گار ہیں

83۔ یہ آخرت کا گھر اور عالم ہم ان ہی لوگوں کے لئے خاص کیا کرتے ہیں جو دنیا میں نہ بڑا بننے کی خواہش کرتے ہیں اور نہ فساد کرنا اور فساد پھیلانا اور انجام کار انہی لوگوں کا بھلا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں ۔ اوپر کی آیتوں میں ایک متکبر اور نجیل دولت مند کا ذکر فرمایا تھا اس کی مناسبت سے اب اچھے لوگوں کا ذکر فرمایا کہ پچھلا گھر اور عالم آخرت کی آسودگی اور دائمی بہشت ان لوگوں کے لئے ہم نے خاص طور پر مقرر کی ہے جو زمین میں اور دنیا میں نہ تو اونچا ہونے کا قصد اور عزم کرتے ہیں اور نہ فساد پھیلانا یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنا اور تکبر چونکہ دیگر منہیات اور مفاسد کے لئے بطور بنیاد ہے اس لئے اس کو مقدم فرمایا اور فساد سے عام گناہ مراد ہوں خواہ ان کا کرنا گناہ ہو یا ان کا ترک گناہ ہو۔ جیسے ، چوری ، غیبت ، قتل ناحق یا ترک صلوٰۃ اور ترک صوم اور ترک حج و زکوٰۃ وغیرہ ان تمام باتوں کا ارادہ بھی نہیں کرتے آخر میں پرہیز گاروں کو بشارت دی کہ انجام کار بھلا متقیوں کا ہوگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قارون کی دولت کو نا دانوں نے کہا اس کی بڑی قسمت ہے بڑی قسمت یہ نہیں آخرت کا ملنا بڑی قسمت ہے سو وہ ان کو ہے جو دنیا کا عروج نہیں چاہتے ۔ 12
Ayah 28:84

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر حاضر ہوگا تو اس کو اس نیکی سے بہتر بدلہ ملے گا اور جو شخص بدی لے کر حاضر ہوگا تو ایسے بد اعمالوں کو ان کے صرف انہی اعمال کی سزا دی جائے گی جو وہ کیا کرتے تھے

84۔ جو شخص نیکی لیکرحاضر ہوگا تو اس کو اس نیکی سے بہتر بدلا ملے گا اور جو شخص بدی اور برائی لیکر حاضر ہوگا تو ایسے بد اعمالوں کو صرف انہی اعمال کی سزا دی جائے گی جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی نیکی لیکر قیامت میں حاضر ہونیوالا اس نیکی سے زیادہ بدلا پائے گا جس کا کم سے کم درجہ اس گنا ہوگا یعنی ایک نیکی کا مقتضایہ ہے کہ اس نیکی کی مثل بدلا مل جاتا لیکن نیکی والے کو دس گناہ بدلہ ملے گا اور یہ کم سے کم بدلا ہوگا یہاں تک کہ کسی کو سات سو تک بھی دیا جائیگا لیکن بدی کا بدلا اس بدی اور برائی کے مقتضا سے زیادہ نہیں ہوگا بلکہ صرف مقتضا کے مطابق دیا جائیگا۔ حدیث میں آتا ہے کہ اس شخص پر افسوس ہے جس کی اکائیاں دہائیوں کو کھا جائیں یعنی جو ایک کی ایک لکھی جائے وہ زیادہ ہوں اور جو ایک کی دس لکھی جائیں وہ کم ہوجائیں تو گویا اکائیاں دہائیوں سے زیادہ ہوجائیں ۔ مطلب یہ ہے کہ برائیاں بھلائیوں سے بڑھ جائیں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نیکی پر وعدہ دیا نیکی کا وہ ملتا ہے مقرر اور برائی پر برائی وعدہ نہیں فرمایا کہ شاید معاف ہو مگر یہ فرمایا اپنے کئے سے زیادہ سزا نہیں ملتی ۔ 12
Ayah 28:85

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

بیشک جس خدا نے آپ پر قرآن کے احکام کو فرض کیا ہے وہ آپکو ضرور آپکے اصلی وطن میں پہنچا نے والا ہے آپ فرما دیجئے میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون دین حق لے کر آیا ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے

85۔ بلا شبہ جس نے آپ پر قربانی احکام کی تعمیل اور تبلیغ کو فرض کیا ہے اور جس نے آپ پر قرآن کریم کا حکم بھیجا ہے وہی آپ کو آپ کے اصل وطن میں پھیرنے والا اور واپس لانے والا ہے آپ فرما دیجئے میرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت اور دین حق لے کر آیا ہے اور کون صریح اور کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پھر لادیگا پہلی جگہ یہ ایٓت اتری ہجرت کے وقت یہ تسلی فرمائی کہ پھر سکے میں آئو گے سو خوب طرح آئے پورے غالب ہوکر۔ 12 معاد سے مراد عام طور پر مکہ معظمہ کی جانب فاتحانہ طور پر واپسی بیان کی گئی ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ اس سے نبی کریم ﷺ کی موت اور اجل کی طرف اشارہ ہو جیسا کہ بعض نے کہا ہے اور چونکہ مکہ کی واپسی کے بعد اجل کا زمانہ بھی قریب آگیا اس لئے موت کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے اور عاشقوں کے لئے موت سے اچھا کیا وعدہ ہوسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معاد سے مراد عالم آخرت کی واپسی ہو وہ تو حقیقی معاد ہے ہی اور اجل کے بعد پھر عالم آخرت ہی آتا ہے اس لئے معاد کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ بعض نے کہا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد شام کی زمین ہے چونکہ وہ حشر کی زمین ہے اور اجل کے بعد ہی حشر برپا ہونے کا زمانہ ہے اس لئے ارض شام کا قول بھی صحیح ہے لیکن مشہور بات وہی ہے جو شاہ صاحب (رح) نے فرمائی باقی معنی سب ملتے جلتے ہیں ۔ ( واللہ اعلم بالصواب)
Ayah 28:86

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ کو تو یہ توقع بھی نہ تھی کہ آپ پر یہ کتاب نازل کی جائے گی مگر محض آپ کے رب کی مہربانی سے نازل کی گئی لہٰذا آپ ہرگز ان کافروں کے مدد گار نہ ہوں

86۔ اور اے پیغمبر آپ کو تو یہ امید نہ تھی کہ آپ پر یہ کتاب نازل کی جائیگی مگر محض آپ کے پروردگار کی رحمت اور مہربانی سے نازل کی گئی لہٰذا آپ ہرگز ان دین حق کے منکروں کے مدد گار نہ ہوں اور انکے پشت پناہ نہ بنیں اور ان کی تائید نہ کریں یعنی نبی بننے سے پہلے آپکو یہ امید نہ تھی کہ آپ نبی ہوں گے اور آپ پر قرآن کریم جیسی جامع کتاب نازل ہوگئی لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور آپ کے پروردگار کی مہربانی سے ہوا کہ آپ نبی مقرر ہوئے اور آپ پر قرآن کریم وحی کے ذریعہ سے القا کیا گیا اب آپ کافروں سے بالکل الگ تھلگ رہیں جس طرح آپ رہتے ہیں ان کی تائید نہ فرمایئے اور دینی معاملات میں ان سے کوئی واسطہ نہ رکھئے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنی قوم کو اپنا نہ سمجھ جنہوں نے سمجھ سے یہ بدی کی اب جو تیرا ساتھ دے وہی اپنا۔ 12
Ayah 28:87

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور جب اللہ کے احکام آپ پر نازل ہوچکے تو اس کے بعد ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ ان احکام کی تعمیل سے آپ کو روک دیں اور آپ اپنے رب کی طرف بلاتے رہے اور آپ ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں

87۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے احکام آپ پر نازل ہوچکے تو اس کے بعد ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ آپ کو ان احکام کی تعمیل سے روک دیں اور آپ ان کو اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہئے اور ان کو دین حق کی دعوت دیئے رہئے اور آپ ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔ یعنی عطائے رسالت اور نزول قرآن کریم کے بعد آپ کو دعوت الی الحق اور تبلیغ احکام میں یہ کوئی رکاوٹ پیدا نہ کریں اور آپ کو روک نہ دیں آپ حسب دستور ان کو بلاتے رہئے اور آپ اپنے کو ان میں شمار نہ کیجئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنی قوم کی خاطر نہ کر دین کے کام میں اور آپکو ان میں نہ گن گو کہ اپنے قرابتی ہوں ۔ 12
Ayah 28:88

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور نہ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اس کی ذات کے سوا سب چیزیں فنا ہونیوالی ہیں اسی کی فرماں روائی ہے اور تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے

88۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکاریئے اس کے سوا کوئی اور معبود ۔ حقیقی نہیں ہے اس کی ذات کے سوا سب چیزیں فنا ہونے والی ہیں ۔ اسی کی حکومت اسی کی فرماں روائی ہے اور تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور تم سب اسکی طرف لوٹائے جائو گے وجہ سے مراد حق تعالیٰ کی ذات اقدس ہے وہی باقی رہے گا اور سب فنا ہوجانے والے ہیں نہ اس کے سوا کوئی معبود حقیقی ہے نہ اس کے سوا کسی اور کو پکارنے کی اجازت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ ہرچیز فنا ہوتی ہے کبھی ہو مگر اس کا مونہ یعنی وہ آپ ۔ 12 تم تفسیر سورة القصص۔