Ayah 28:3838۔ اور فرعون نے اپنے مشیروں اور سرداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا اے اہل دربار میں تو سوائے اپنے تمہارے لئے کسی اور معبود کو جانتا نہیں پھر اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا اے ہامان ! تو میرے لئے مٹی کی کچی انیٹوں کو آگ میں پکوا کر ان پکی اور پختہ اینٹوں سے میرے لئے ایک محل اور بلند عمارت بنوا تا کہ میں ذرا موسیٰ (علیہ السلام) کے معبود کی ٹوہ لگائوں اور دیکھ بھال کروں اور میں موسیٰ (علیہ السلام) کے رب کو جھانک کر دیکھ لوں اور میں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں اور میری اٹل میں تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) جھوٹا ہے۔
یعنی فرعون کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ اہل دربار موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل سے متاثر ہوکر موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت کے قائل نہ ہوجائیں اس لئے ان کی توجہ کو مٹانے اور ہٹانے کے لئے اہل دربار کو مخاطب کیا اور کہنے لگا اے اہل دربارمجھ کو تو سوائے اپنے تمہارا کوئی اور معبود معلوم نہیں ہوتا ۔ اے ہامان تو ایسا کر گارے کی کچی اینٹوں کو تو آگ جلا کر پکا لے اور جب پکی اینٹیں تیار ہوجائیں تو ان اینٹوں سے ایک بلند عمارت تیار کر ا تا کہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ (علیہ السلام) کے معبود اور اس کے رب کا پتہ لگائوں ۔
یہ بےخوف سمجھا کہ وہ آسمان میں بیٹھا ہوگا اور باوجود اس کوشش کے اس نے یہ بھی کہا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھتا ہوں ۔ غرض ! وہ محل پچاس ہزار راج مزدوروں کی محنت سے تیار ہوا سمجھا یہ تھا کہ آسمان کچھ قریب ہوجائیگا اس کی چھت پرچڑھ کر دیکھا تو آسمان اتنا ہی اونچا نظر آیا جتنا نیچے سے نظر آتا تھا۔ ذلیل و شرمندہ ہو کر نیچے آگیا اور بجائے دین حق کو قبول کرنے کے اس کی سرکشی اور تکبر اور بڑھ گیا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں گارے کو آگ دے یعنی پکی اینٹ بنا کہتے ہیں پکی اینٹ اول اسی نے نکالی عمارت اونچی بنادے تو پتھر کے بوجھ سے گر نہ پڑے۔ 12
Ayah 28:3939۔ اور فرعون اور اس کے ماننے والوں نے ناحق ملک میں سر اٹھا رکھا تھا اور بڑائی کرتے رہے اور وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ ہماری طرواپس نہ آئیں گے اور ان کو ہماری طرف لوٹنا نہیں ۔ یعنی فرعون اور اس کا لشکر اپنی بڑائی اور تکبر و غرور میں مبتلا رہے اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہم خدا کی طرلوٹ کر جانے والے نہیں جب ان کی یہ سرکشی حد سے بڑھی ۔
Ayah 28:4040۔ تو ہم نے فرعون کی اور اس کے تابعین اور ماننے والوں کی گرفت کی پھر ان سب کو دریا میں لیجا پھینکا سو اے پیغمبر آپ دیکھئے ستم گاروں اور نا انصافوں کا انجام کیسا ہوا ۔ یعنی جب ظلم حد سے تجاوز کر گیا اور ان کے غرور وتکبر میں کمی نہیں ہوئی اور قائل ہو نیکی بجائے سرکشی میں اضافہ ہوتا رہا تو انجام کار فرعون اور اس کے متبعین کو سب کو دریا میں پھینک دیا اور بحر قلزم میں لے جا پھینکا آگے خطاب ہے نبی کریم ﷺ کو کہ آپ دیکھیں کہ ناانصافی کرنیوالوں کا انجام کیسا ہوا ۔
Ayah 28:4141۔ اور ہم نے ان کو ایسا قائد اور سردار بنایا کہ وہ لوگوں کو دوزخ اور جہنم کی طرف بلاتے رہے اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی اور ان کا کوئی ساتھ نہیں دیگا ، جب کوئی ساتھی نہ ہوگا تو ہر قسم کی مدد سے محروم رہیں گے ، یعنی قوم کے بڑے بنے تھے اور ہم نے ان کو سردار کیا تھا لیکن انہوں نے بجائے صحیح رہنمائی اور ایمان و اسلام کی دعوت دینے کے ان کو دوزخ کی طرف جانے کی دعوت دی اب قیامت میں ان سرداران قوم کا یہ حشر ہوگا کہ بےیارو مدد گار پڑے رہیں گے۔
Ayah 28:4242۔ اور ہم نے دنیا میں بھی انکے پیچھے لعنت اور پھٹکار لگا دی اور قیامت کے دن بھی وہ بد حال اور دور پھینکے ہوئے لوگوں میں سے ہوں گے ۔ دنیا کی لعنت تو یہ کہ جب ظالموں پر لعنت کی جائے گی تو یہ بھی اس میں شریک ہوں گے اور قیامت میں تو ان کا مطردو اور مردود ہونا اور ان کا بد انجامی اور ان کے لئے برائی کا ہونا ظاہری ہے۔
Ayah 28:4343۔ اور بلا شبہ ہم نے پہلی قوموں اور سابقہ امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی تھی جو لوگوں کے لئے بصیرت افروز دلائل کا سبب اور موجب ہدایت اور موجب رحمت تھی تا کہ وہ لوگ اس کتاب سے نصیحت قبول کریں اور یاد رکھیں ۔ یعنی عاد اور ثمود وغیرہ قوموں کو ہلاک کرنے اور پیغمبروں کی نافرمانی کے سبب ان کو تباہ و برباد کرنے کے بعد پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت عطا فرمائی جو بنی اسرائیل کے لئے قلوب کی روشنی کا سبب تھی اس کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ بصیرت افروز دلائل کا مجموعہ تھی اور اللہ تعالیٰ کا راستہ دکھانے والی اور اس پر عمل کرنیوالوں کے لئے موجب رحمت و شفقت تھی یعنی ابتداء میں اس سے سوجھ اور بصیرت اور قلب میں روشنی حاصل ہو پھر اس کے اوامرو نواہی قبول کرنے سے ہدایت ملے اور پھر اللہ تعالیٰ کا قرب میسر ہو جس کو رحمت فرمایا تا کہ لوگ نصیحت قبول کریں اور اس کے احکام کو یاد رکھیں۔
Ayah 28:4444۔ آگے نبی کریم ﷺ کی نبوت کے دلائل کا ذکر ہے اور اے پیغمبر آپ طور کی مغربی جانب میں اس وقت موجود نہیں تھے جس وقت ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دیئے تھے اور نہ آپ ان لوگوں میں سے تھے جو وہاں موجود تھے۔ یعنی نہ تو آپ اس وقت موجود تھے جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تھی ، شاید میقات کی طرف اشارہ ہوگا جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حسب وعدہ بلا کر توریت عطافرمائی تھی ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت نبی کریم ﷺ وہاں موجود نہ تھے اور جو لوگ موجود اور شاہدین تھے ان میں بھی آپ شریک نہ تھے اور باوجود عدم موجودگی کے پھر تمام حالات تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ کی وحی کے بغیر بیان نہیں کئے جاسکتے اور یہی تمہاری نبوت کی علامت ہے اور یہ جو فرمایا کہ تم شاہدین میں سے بھی نہ تھے اس سے مراد شاید وہ ستر حضرات ہوں گے جن کو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ہماہ طور پر لے گئے تھے یا یہ کہ آپ بنی اسرائیل میں شامل نہ تھے جن کو واقعات کا کم و بیش علم حاصل ہوتا رہتا ایک آدمی کا جس کے لئے ان باتوں کے معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو پھر سب کچھ بتانا اور صحیح بتانا سوائے اللہ تعالیٰ کی وحی کے اور کیا ذریعہ ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وحی بھیجنا آپ کیلئے کافی دلیل ہے۔
Ayah 28:4545۔ لیکن اس واقعہ کے بعد ہم نے اور بہت سی قومیں پیدا کیں پھر ان پر زمانہ داز گزر گیا اور نہ آپ مدین میں رہتے تھے کہ وہاں کے لوگوں کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہوں لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہم ہی رسول بنانے والے ہیں اور ہم ہی رسول بھیجتے رہے ہیں ۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کو ایک مدت ہوچکی اور کتنا ہی زمانہ گزر چکا اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات عقلی تو ہیں نہیں جو دلائل سے بحث کی جائے یہ واقعات ہیں نقلی ان کے لئے مشاہدے کی ضرورت ہے یا اہل علم سے سماع کی تو یہ بھی متحقق نہیں بلکہ اس کی نفی ہے اور جب قرون گزر چکے ہوں اور تاریخیں مسخ ہوچکی ہوں پھر نہ مشاہدہ ہو نہ اہل علم کی صحبت میں جانے اور علم حاصل کرنے کا اتفاق ہوا ہو نہ تو اتر اخبار کا کوئی نظام ہو پھر بجزوحی الٰہی کے یقینی خبر کا اور کیا ذیعہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی نظر انتخاب ہی چونکہ رسول بناتی اور رسول منتخب کرتی ہے ۔ اس لئے فرمایا ولکنا کنا مرسلین یعنی ہم نے ہی آپ کو رسول بنایا ہے اور آپ پر گزشتہ واقعات اور اخبار کو بذریعہ وحی بھیجا ہے۔
Ayah 28:4646۔ اور نہ آپ اس وقت طور کے کنارے اور کسی جانب میں تھے جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا تھا لیکن آپ اپنے پروردگار کی رحمت اور اس کی مہر سے نبی بنائے گئے تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والام نہیں آیا کیا عجب ہے کہ یہ لوگ نصیحت قبول کرلیں ۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر پکارا تھا اور فرمایا تھا انی انا اللہ رب العالمین اس وقت بھی آپ طور کی کسی جانب موجود نہ تھے اور طور کے آس پاس نہیں تھے لیکن آپ کے پروردگار کی یہ رحمت ہے کہ آپ نبی بنائے گئے اور آپ کو اپنے رب کی مہر سے نبوت عطا ہوئی تا کہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس اب تک کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ان لوگوں سے مراد آپ کے آباء اقربین اور آپکے ہم زمانہ لوگ مراد ہیں ۔ یا یہ مطلب ہے کہ بحیثیت رسول کے کوئی نہیں آیا، البتہ رسول کے رسول اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وصی آتے رہے ہوں گے اور توحید ان کے ذریعہ پہنچتی رہی ہوگی جیسا کہ ہم سورة رعد میں ولکل قوم ھاد کے تحت عرض کرچکے ہیں اس لئے ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا سے کوئی تعارض نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تورات کے بعد غازت کے عذاب کم آئے کہ عام میں ایک لوگ شریعت کے حکم پر قائم رہے۔ 12 اور فرماتے ہیں غرب کی جانب طور کے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات ملی ۔ 12 حضرت شاہ صاحب (رح) کا فرمانا یہ ہے کہ اگر کسی امت کے کچھ لوگ شریعت کی پابندی کرتے رہیں اور احکام الٰہی کے پابند رہیں تو ان کی برکت سے عام عذاب رکا رہتا ہے اور وہ امت محفوظ رہتی ہے۔
Ayah 28:4747۔ اور اگر ہم رسول نہ بھیجتے تو پھر جب کبھی ان کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت اور عذاب نازل ہوتا تو یوں کہتے اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کسی کو رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا کہ ہم تیرے احکام کی اتباع اور پیروی کرتے اور ہم تیرے احکام اور تیرے رسولوں پر ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔
یعنی فرض کرو اگر رسولوں کا بھیجنا بند ہوتا اور لوگوں کو ان کی رائے اور ان کی عقل کے حوالے کردیا جاتا کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کی شرائع جن باتوں کو منع کرتی ہیں اور حرام قرار دیتی ہیں ان کی قباحت اور ان کی برائی عقل صحیح کے نزدیک مسلم ہے تو ان کو اگر ان کی عقل پر چھوڑ دیا جاتا اور یہ عقل سے کام نہ لیتے اور منہیات کا ارتکاب کرتے اور ہمارا عذاب ان پر نازل ہوتا تو ان کی حسرت ہوتی کہ کوئی رہنما کوئی کیوں نہیں آیا جو برے کاموں کی برائی ہمیں سمجھاتا اور ہم اس کی پیروی کر کے عذاب سے بچ جاتے۔
مطلب یہ ہوا کہ رسولوں کو بھیجنا تمہارے لئے مفید اور نافع ہے ہمارا اس میں کوئی فائدہ نہیں ۔ انبیاء (علیہم السلام) کی تشریف آوری کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ جہاں تمہاری عقل بےبس ہو کر رک جاتی ہے وہاں وہ تم کو سمجھا کر تمہاری عقل کو رہنمائی بخشتا ہے یہ ایسی ہی بات ہے جیسی سورة طہٰ کے آخر میں مذکور ہوئی۔
ولوانا اھلکنا ھم بعذاب من قبلہ ۔ ( الایۃ)
یہاں بھی یہی فرمایا کہ اگر رسول نہ آتے تو تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے باعث عذاب آجاتا کیونکہ بری باتوں کا لازمی نتیجہ عذاب ہی ہے پھر اس وقت حسرت سے یوں کہتے کہ کوئی رسول کیوں نہیں آیا جو ہم کو سمجھاتا اور ہم اس کی پیروی کرکے عذاب سے محفوظ رہتے اور ہم ایمان لے آتے۔
Ayah 28:4848۔ پھر اب جب ان کے پاس ہماری طرف سے دین حق پہنچ گیا اور رسول برحق آگیا تو یوں کہنے لگے کہ جیسی کتاب موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی ویسی ہی کتاب اس پیغمبر کو کیوں نہیں دی گئی کیا جو کتاب موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی اس قرآن کریم سے پہلے یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے یہ لوگ تو یوں کہتے ہیں کہ یہ دونوں کتابیں قرآن کریم اور تورات جادو ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کے موافق اور معاون ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم تو دونوں میں سے کسی کو بھی نہیں مانتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مکہ کے کافرحضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے سن کر کہنے لگے کہ ویسا معجزہ اس کے پاس ہوتا تو ہم مانتے جب یہود سے پوچھا اور تورات کے حکم سنے اس کے موافق اپنی مرضی کے خلاف بت پرستی کفر ہے اور آخرت کا جینا برحق ہے اور اللہ کے نام پر ذبح نہ ہو سو مروا رہے اور بہتیری باتیں تب دونوں کو لگے جواب دینے۔ 12
مطلب یہ ہے کہ رسول نہ آتا اور کتاب نہ آتی تو یوں کہتے کہ ہم کو ہماری عقل پر چھوڑ دیا گیا عقل کی رہنمائی اور عقل کو روشنی بخشنے نہ کتاب آئی اور نہ رسول آیا اوہم نے اب رسول بھیجا اور کتاب بھیجی تو یہ شبہ کرنے لگے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دفعتہ واحدۃ ً کتاب ملی تھی اسی طرح ان کو ایک ہی وقت میں کیوں کتاب نہیں دی گئی یا موسیٰ (علیہ السلام) کو جو معجزات ملے تھے وہ ان کو کیوں نہیں دیئے گئے۔
حضرت حق تعالیٰ نے جواب فرمایا کہ تم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کو کب نبی مانا تھا کیا اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کا انکار نہیں کرچکے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تم لوگوں نے نبی نہیں مانا کیونکہ تم تو انسانی نبوت کو جانتے ہی نہیں اور کسی آسمانی مذہب کے قائل ہی نہیں ۔ یہ لوگ تو قرآن کریم اور تورات دونوں کے متعلق یوں کہتے ہیں کہ یہ دونوں جادو ہیں ایک دوسرے کے موافق و معاون ہم تو ان میں سے کسی کے بھی قائل نہیں ہم تو ان سب کے منکر ہیں اور یہ شاید یہود سے معلوم کیا ہوگا کہ قیامت کے متعلق اور توحید کے متعلق تمہاری کتاب میں کیا ہے اور چونکہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اصول میں ایک ہی ملت ہیں ۔ اس لئے یہود نے بتایا ہوگا کہ توحید ہمارے ہاں بھی ہے اور بت پرستی کی مذمت اور غیر اللہ کے نام پر ذبیحہ کی حرمت ہماری کتاب میں بھی ہے اور ہمارے ہاں بھی قیامت میں جی اٹھنا ہے یہ سنکر انہوں نے تورات اور قرآن کریم دونوں کے متعلق یہ کہہ دیا کہ انا بکل کفرون حق تعالیٰ نے ان کی اس بات پر فرمایا کہ قرآن کریم کو تورات کی مماثلت کا مطالبہ محض لغو اور شرارت آمیز مطالبہ ہے جب تم توریت کے بھی منکر ہو تو اگر قرآن کریم کا نزول اس کی مثل بھی ہوتا تو تم کب ماننے والے تھے تم کو تو ان عقائد سے ضد ہے جن عقائد میں یہ دونوں کتابیں متفق ہیں ۔
Ayah 28:4949۔ اے پیغمبر آپ ان سے فرمایئے اچھا اگر تم سچے ہو تو قرآن کریم اور توریت کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے کوئی اور کتاب لے آئو جو ہدایت اور ہنمائی کرنے میں ان دونوں سے بہتر ہو تو میں اس کی پیروی کرنے لگوں گا اور اس کی اتباع کروں گا ۔ یعنی اگر قرآن کریم سے مطمئن نہیں ہو اور توریت پر بھی ایمان نہیں ہے تو اب صحیح طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے کوئی اور کتاب لے آئو جو قرآن کریم اور توریت دونوں سے بہتر اور زیادہ روشنی دینے والی ہو اور ہدایت کا نوران دونوں سے اس میں زیادہ ہو تو اس کو مان لوں گا اور اس کا پیرو ہو جائوں گا اگر تم ان دونوں کا انکار کرنے میں سچے ہو تو ایسا کرلو ۔
Ayah 28:5050۔ پھر اگر یہ آپ کا کہا نہ کرسکیں اور آپ کے فرمانے کے مطابق کوئی کتاب حق دکھانے والی ایسی نہ لاسکیں جو توریت و قرآن کریم سے زیادہ راہ حق دکھانے والی ہو تو آپ یقین جانئے کہ یہ کفار مکہ صرف اپنی نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں اور اس سے بڑھ کر کون گم کردہ راہ گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے بغیر کسی رہنمائی اور بدون کسی دلیل کے محض اپنی نفسانی خواہش اور دل کی چائو پر چلے بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسے نا انصافوں اور ظالم لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا ۔ یعنی دلائل اور براہین سے حق واضح ہوجانے کے بعد بھی حق کو قبول نہ کریں اور نفس کے ابھارنے سے انکار ہی کرتے چلے جائیں اور حق کے مقابلے میں ڈٹ جائیں اور واقعی اس شخص سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہوسکتا ہے جس کے پاس کوئی آسمانی ہدایت نہ ہو اور وہ صرف اپنے نفس کی خواہش پر چلے تو ایسے ظالموں کی ہدایت اور رہنمائی کی اللہ تعالیٰ پر کوئی ذمہ دار نہیں ۔
Ayah 28:5151۔ اور ہم نے ان کے لئے بات کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کلام کو پے در پے تھوڑا تھوڑا بھیجا تا کہ یہ نصیحت مانیں اور یاد کھیں ۔ یہ کافروں کے سابقہ اعتراض کا شاید جواب ہے کہ یہ قرآن کریم توریت کی طرح دفعتہ کیوں نہیں دیا گیا ۔ لو لا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ ، جو اب کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا نازل کیا اور کلام کا سلسلہ جاری رکھا تا کہ یہ نصیحت قبول کریں اور اس طرح قرآن کریم کے یاد رکھنے میں آسانی ہو اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ تمام کتب سماوی کے سلسلے کا اظہار ہو کر ہم پے در پے صحائف اور کتابیں نازل فرماتے ہیں ۔ جن میں زبور ، توریت ، انجیل اور قرآن مجید مشہور ہیں ۔ یہ سلسلہ نزول صحائف اور کتب کا اس لئے جاری رکھا اور ایک صحیفہ کے بعد دوسرا صحیفہ اور ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب کا نزول فرمایا تا کہ ان منکروں کو بار بار سننے سے نصیحت ہو چونکہ تذکرے کے معنی یاد کرنا اور نصیحت قبول کرنا یہ دونوں ہیں اس لئے ہم نے دونوں کی رعایت رکھی ہے۔ بہرحال ! یا تو کتب سماویہ کے یکے بعد دیگر نازل فرمانے کی طرف اشارہ ہے اور یا قرآن کریم کے تھوڑا تھوڑا اور پے در پے نازل فرمانے کے متعلق اشارہ ہے ہم نے دونوں مطلب بیان کردیئے ہیں ۔
Ayah 28:5252۔ جن لوگوں کو ہم نے اس قرآن کریم سے پہلے کتب سماویہ عطا کی ہیں وہ اس قرآن کریم پر ایمان لانے ہیں ، یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ مصنف مزاج ہیں وہ نبی آخر الزماں ﷺ کی جو بشارت ان کتابوں میں مذکور ہیں ان کو دیکھ کر اور پڑھ کر قرآن کا یقین کرتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں آگے مومنین اہل کتاب کے اور صاف بیان فرمائے۔
Ayah 28:5353۔ اور جب یہ قرآن کریم ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے اور ان پر اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہ حق ہے ہمارے پروردگار کی جانب سے نازل ہوا ہے ہم تودر حقیقت اس کے آنے سے پہلے ہی اس کو مانتے تھے۔ یعنی اس قرآن کریم کے متعلق جو پیشین گوئیاں ہماری کتابوں میں مذکور ہیں ہم ان پر ایمان رکھتے تھے تو ہمارا ایمان تو اس قرآن کریم پر پہلے ہی سے ہے بیشک یہ حق ہے ہمارے پروردگار نے اس کو نازل فرمایا ہے اسی کی جانب سے یہ اترا ہے اور ظاہر ہے کہ جب ہم اپنی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں تو اس کی پیشین گوئیوں پر بھی ہمارا ایمان ہے اور یہ قرآن کریم انہی بشارتوں کا مصداق ہے تو ہم تو دراصل اس پر اس کے نازل ہونے سے پہلے ہی ایمان رکھتے ہیں ۔ گویا ایک ایمان بواسطہ بشارت اور پیشین گوئی کے اور دوسرا ایمان اس کے نازل ہوجانے اور بحیثیت مصدق کے آجانے کے بعد ۔
Ayah 28:5454۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو ان کی پختگی اور ثابت قدمی کی وجہ سے دوہرا اجر وثواب دیا جائیگا اور وہ لوگ بھلائی اور نیکی کے ساتھ برائی اور لوگوں کی ایذا رسانی کو دفع کرتے ہیں اور جو ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں یعنی چونکہ یہ لوگ دو مرتبہ ایمان لائے ہیں ان کا ثواب بھی دوہرا ہوگا ایک اپنی کتاب اور اس کی پیشین گوئیوں پر ایمان لانا پھر جب اس کا مصداق آیا تو اس پر ایمان لانا اس پر دوہرا ثواب بھی عطا ہوگا ۔ یہی ثابت قدمی اور پختگی ہے کفار مکہ بھی ان لوگوں کو برا کہتے تھے اور اہل کتاب بھی ان کی ہجو کرتے تھے اور طعن وتشنیع سے پیش آتے تھے مگر یہ لوگ صبر کرتے تھے اور ایمان پر مضبوطی سے قائم رہتے تھے اور ایذا رسانی کرنیوالوں کو نرمی سے جواب دیا کرتے تھے مثلاً خدا تعالیٰ تم کو ہدایت دے اور تم کو ایمان لانے کی توفیق دے وغیرہ وغیرہ ۔ نیز ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے خیرات کرتے ہیں یہاں تک ان کے عقائد و اعمال کا ذکر فرمایا آگے ان کے اخلاق کا اور ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 28:5555۔ اور وہ لوگ جب اپنی نسبت کوئی لغو اور بیہودہ بات مخالفین سے سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور بےتوجہی برتتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں ہمارا تو سلام ہے تم پر ہم بےسمجھ لوگوں سے الجھنا اور ان کے منہ لگنا نہیں چاہتے اور ہم کو ناسمجھ نہیں چاہئیں ۔ یعنی جب کوئی ان کو برا کہتا ہے اور بیہودہ گوئی سے پیش آتا ہے تو یہ ان لوگوں سے کہتے ہیں کہ بھائی ہمارے اعمال ہمارے واسطے ہیں اور انکا بدلہ ہم کو ہی ملنے والا ہے اور تمہارے اعمال کی جزا تم کو ملنے والی ہے اور ایسے لوگوں کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دیتے اور صاحب سلامت کر کے الگ ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم کو ناسمجھ لوگوں کی ضرورت نہیں اور ہم جاہلوں کے منہ لگنا نہیں چاہتے اور ہم بےسمجھ لوگوں کی صحبت نہیں چاہتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ حبشہ کے نصاریٰ تھے نجاشی کے رفیق اس قرآن کریم کو سن کر یقین لائے اور جس جاہل سے توقع نہ ہو کہ سمجھائے نہ سمجھے گا اس سے کنارہ ہی بہتر ہے۔ 12
Ayah 28:5656۔ آگے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد ہے ۔ اے پیغمبر آپ جس کو چاہیں اور جس کو پسند کریں اس کو ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ جس کو چاہے ہدات عطا کرتا ہے اور وہی راہ پر آنے والوں کو جانتا ہے۔ جو لوگ ایمان نہیں لاتے تھے اور کفر پر مرتے تھے ان کے قرابت داروں اور رشتہ دار مسلمانوں کو رنج ہوتا تھا اسی طرح نبی کریم ﷺ کو بھی بعض قرابت داروں کے مرنے پر سخت افسوس ہوا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہدایت و ضلالت کے مسئلے کو صاف کردیا کہ آپ کا کام صرف رہنمائی ہے ۔ آپ ان کو صحیح راستہ دکھاتے اور بتاتے ہیں لیکن منزل مقصود تک پہنچا دینا اور مطلوب تک پہنچانا یہ آپ کا کام نہیں ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے۔ اس کو مطلوب اور مقصود تک پہنچادیتا ہے اور ایک شخص کو مقصود تک پہنچانا تو کیا آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ کون راہ پر آنے والا ہے اور کون راہ پر آنے والا نہیں ہے یہ بات بھی ہم ہی جانتے ہیں کہ ہدایت کو قبول کرنے والا کون ہے اور منزل مقصود تک کون پہنچنے والا ہے اس تقریر سے وہ شبہ صاف ہوگیا ہوگا جو بعض معاصرین کو انک لا تھدی اور انک لتھدی سے الی صراط مستقیم سے ہوا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ؐ نے اپنے چچا کے واسطے سعی کی کہ مرتے وقت کلمہ ہی کہے اس نے یہ قبول نہ کیا اس پر یہ آیت اتری ۔ 12
Ayah 28:5757۔ آگے اور شبہات کے جواب میں اور کفار مکہ یوں کہتے ہیں اگر ہم تیرے ساتھ ہو کر اس دین حق کی ہدایت پر چلنے لگیں اور اس ہدایت کے پیرو ہوجائیں تو ہم اس ملک سے اچک لئے جائیں اور یہاں سے مار نکال دیئے جائیں کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھینچے چلے آتے ہیں جو ہماری طرف سے بطور رزق کے دیئے جاتے ہیں لیکن ان میں کے اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھتے۔ یعنی اسلام قبول کرنے پر یہ شبہ اور یہ عذر کرتے ہیں کہ اگر ہم ہدایت قبول کرلیں اور دین حق کی پیروی اختیار کر کے آپ کے ساتھ ہوجائیں تو جناب ہم کو لوگ یہاں سے مارکر نکال دیں اور ہم کو جلا وطنی اختیار کرنی پڑے اومعاش سے ہاتھ دھو کر بیروز ہوجائیں۔
حضرت حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ اتنی بات پر غور نہں کرتے کہ ہم نے اس سر زمین کو حرم بنایا اور امن دینے والا بنا یا ۔ اس سر زمین کا اور یہاں کے باشندوں کا سب لوگ احترام کرتے ہیں اور اس کو امن کی جگہ سمجھتے ہیں ، تو کیا تمہارے ایمان قبول کرلینے سے تم کو لوگ یہاں سے نکال دیں گے اور حرم کا احترام ترک کردیں گے اور جب جلا وطن نہ ہو گے تو معاش کی الجھن کیوں ہوگی یہیں رہو گے اور یہاں رزق کی فروانی کا یہ عالم ہے کہ ہر طرف سے پھیل کھینچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس سے کھانے کو ملتے ہیں اور بحیثیت رزق کے ہماری طرف سے تم کو دیئے جاتے ہیں اس لئے نہ جلا وطن ہونے اندیشہ ہے اور نہ بیروزگاری کا خطرہ ہے ایمان نہ لانے کا یہ عذر محض عذر بارو اور ناقابل توجہ ہے لیکن ان کے اکثر لوگ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اور خوب فرماتے ہیں یہ مکہ کے لوگ کہنے گے ہم مسلمان ہوں تو یہ سارے عرب ہم سے دشمنی کریں اللہ نے فرمایا ان کی دشمنی سے کس کی پناہ میں بیٹھے ہو یہی حرم کا ادب ہے ، وہی اللہ سب کو پناہ دینے والا ہے۔ 12
Ayah 28:5858۔ آگے ایمان نہ لانے کے ایک اور سبب کا جواب ہے اور ہم نے کتنی ہی ایسی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جن کے باشندے اپنے سامان پر نازاں اور اترانے والے تھے۔ اب یہ ان کے مکانات پڑے ہوئے ہیں جن کو ان ہلاک ہونے والوں کے بعد اب تک بسنا ہی نصیب نہیں ہو امگر بہت تھوڑا اور آخر کار ہم ہی ان کے وارث اور مالک ہوئے۔ یعنی یہ لوگ اپنی خوش عیشی اور آرام پسندی اور دولت و ثروت پر نازاں اور فخر کرنے والے ہیں اس لئے ایمان پر اور دین حق کو قبول کرنے پر توجہ نہیں کرتے اور اس سبب سے ایمان نہیں لاتے تو ہم اس قسم کی بہت بستیوں کو تباہ و برباد کرچکے ہیں جو بستیاں اپنی عیش پسندی پر نازاں اور فخرکناں تھیں وہ بستیاں اور ان کے اجڑے ہوئے مکانات یہ تمہارے قریب ہی ہیں ان بستیوں کو ہلاک ہونے کے بعد آج تک بسنا میسر نہیں ہوا یوں تھوڑی دیر کوئی کوئی راہ چلتا آ ٹھہرا اور دو چار دن کو بس گیا تو اس کا کیا شمار اور آخر کار ان کے مال و اسباب اور اراضی وغیرہ کے ہم ہی مالک ہوئے۔
Ayah 28:5959۔ آگے ایک اور شبہ کا جواب ہے ، اور اے پیغمبر آپ کا پروردگار اس وقت تک بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک ان بستیوں کے مرکزی مقام میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج دے کہ وہ وہاں کے لوگوں کو ہمارے احکام پڑھ کر سنادے اور اس تبلیغ احکام کے بعد اور پیغمبر کے بھیجنے کے بعد بھی فورا ًہی بستیوں کو ہلاک نہیں کردیتے مگر ہاں اس وقت تک ہلاک کرتے ہیں اور اس حالت میں تباہ کرتے ہیں جب وہاں کے لوگ بہت ہی شرارت اور ظلم کرنے لگیں ۔ یعنی اگر ان بستیوں کو جن کا اوپر ذکر ہوا ان کے کفر کی وجہ سے ہلاک کیا گیا تو ہم بھی کفر کررہے ہیں پھر ہم کو کیوں تباہ نہیں کیا گیا تو اس کا جواب فرمایا اور پیغمبر کو مخاطب بنا کر ارشاد ہوا کہ آپ کے پروردگار کی یہ شان نہیں کہ بستیوں کو ابتداء ہی میں ہلاک کردے بلکہ اتمام حجت کی غرض سے بستیوں کے مرکزی اور صدر مقام میں کسی رسول اور پیغمبر کو بھیجتے ہیں اس مرکزی مقام میں وہ تبلیغ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام بیان کرتا ہے اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور اس مرکزی مقام سے آس پاس کی بستیوں میں اطلاع پہنچتی ہے پھر بھی لوگوں کے ایمان لانے اور دین حق کو قبول کرنے کا انتظار کیا جا ات ہے جب لوگ ایمان نہیں لاتے اور عناد و سرکشی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں اور ان کا ظلم حد سے تج اور ہوجاتا ہے تب کہیں جا کر ان کی ہلاکت و تباہی کا حکم ہوتا ہے اور وہ بستیاں تباہ کردی جاتی ہیں ۔
Ayah 28:6060۔ اور جو کچھ بھی تم کو سامان عیش دیا گیا ہے وہ محض دنیوی زندگی کے برتنے کے لئے ، اور اسی زندگی کی رونق اور زینت ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس سے بدرجہا بہتر اور اور باقی رہنے والا ہے کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ یعنی تم کو جو کچھ سامان عیش سے حصہ ملا ہے وہ محض چندروزہ دنیا کی زندگی کا سرمایہ ہے اور اسی دنیا میں برتنے اور استعمال کرنے کا سازو سامان ہے اور جو اجر وثواب اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ کما اور کیفا دونوں اعتبار سے بد رجہا بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے اور یہاں کا سرمایہ عیش یہیں کی زیب وزینت ہے تو کیا اتنی موٹی بات بھی تم نہیں سمجھتے اور عارضی اور دائمی میں جو فرق ہے وہ تمہاری سمجھ سے باہر ہے جو عارضی کے حصول پر گرے پڑتے ہو او آخر کو فراموش کئے بیٹھے ہو۔ رکوع کے پہلے حصے میں مومنین اہل کتاب کی خوبیاں بیان فرمائیں ، پھر کفارم کہ کے بعض اعتراضات کا جواب فرمایا ۔ چچا کے انتقال پر جو صدمہ ہوا اس پر نبی کریم ﷺ کی تسلی فرمائی پھر حارث بن عثمان بن نوفل کے شبہ کا جواب دیا پھر اہل مکہ کو ان بستیوں کی جانب توجہ دلائی جو شام کے ملک کی طرف جاتے وقت راستے میں پڑتی تھیں اور اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاک ہوگئی تھیں اور راستے سے اجڑ ہوئی اور ویران نظر آتی تھیں اسی مناسبت سے نافرمانوں کی ہلاکت کا فلسفہ بیان کیا گیا اور اتمام حجت کیلئے مرکزی مقام میں پیغمبر کے بھیجنے کا اظہار فرمایا اور کفار مکہ کو ان کے انجام سے خوف دلایا گیا جیسا کہ بدر میں ہوا اور آخر میں دنیا کی بےثباتی اور آخرت کے دام و بقا کا ذکر کرتے ہوئے ان کی عقل سے اپیل کی ۔ واللہ الحمد علی احسانہ
Ayah 28:6161۔ آگے قیامت کی مختصر تفصیل ہے بھلا ایک وہ شخص جس سے ہم نے ایک اچھا اور پسندیدہ وعدہ کررکھا ہے پھر وہ شخص اس وعدے کی چیز سے ملنے والا اور اس وعدے کو پانے والا بھی ہے کیا ایسا شخص اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا کچھ سامان برتنے کو دے رکھا ہے پھر وہ قیامت کے دن ان لوگوں میں سے ہونے والا ہے جو مجرمانہ حیثیت سے پیش کئے جانے والے ہیں ۔ شاید حضرت علی اور حضرت حمزہ ؓ اور ابو جہل کے مابین سخت گفتگو ہوئی تھی ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی یا شاید عمار بن یاسر ؓ ، اور ولید بن مغیرہ کی باہمی تکرار کے سلسلے میں نازل ہوئی۔
بہر حال ! ایک مومن کامل اور دنیادار کافر کے مابین جو فرق ہے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ایک شخص وہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے جنت اور اس کی نعمتوں کا وعدہ کیا ہے اور وہ چیزیں حسب وعدہ اس کو ملنے والی بھی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے تو یہ شخص یعنی مومن اس کافر جیسا کیسے ہوسکتا ہے جس کو کچھ سامان عیش دنیوی زندگی میں برتنے کو دے رکھا ہے اور وہ قیامت کے دن پکڑا ہواحاضر کیا جائیگا ۔ اور ان مجرموں سے ہوگا جن کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے یعنی ایک مومن کامل اور دین حق کا منکر دونوں برابر نہیں ہوسکتے ۔ کہاں ایک بد کردارمجرم اور کہاں ایک شاہی مہمان دونوں میں مساوات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا ، آگے مومن اور مجرم کے حالات کا ذکر ہے۔
Ayah 28:6262۔ اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ ان منکروں کو پکار کر فرمائے گا وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کو تم میرا شریک سمجھا کرتے تھے۔ یعنی جن لوگوں کو میرا شریک ٹھہراتے تھے اور دعویٰ کیا کرتے تھے کہ وہ میرے شرکاء ہیں آج وہ شریک کہاں ہیں۔
Ayah 28:6363۔ وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا فرمان ثابت ہوچکا ہے کہیں گے اے ہمارے پروردگار یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے ویسا ہی گمراہ کیا ہے جیسے ہم خود گمراہ ہوئے تھے ہم آپ کے روبرو اور آپ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری اور بےتعلقی کا اظہار کرتے ہیں اور ان سے دست بردار ہوتے ہیں یہ لوگ ہماری پرستش نہیں کیا کرتے اور ہم کو نہیں پوجتے تھے۔ یعنی یہ سوال مشرکین سے ہوگا کہ جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے وہ کہاں ہیں وہ شرکاء سمجھیں گے کہ مشرکین ہمارا نام لیں گے تو وہ پہلے ہی اپنی صفائی کے طور پر کہیں گے یہ شرکاء خواہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ہوں ۔ بہرحال ! یہ مفروضہ شرکاء وہ ہوں گے جن پر عتاب کا حکم پہلے ہی سے ہوچکا ہوگا اور علم الٰہی میں وہ پہلے ہی سے مستحق عذاب ٹھہر چکے ہوں گے۔
جیسا کہ فرمایا وتمت کلمۃ ربک لا ملان جھنم من الجن والناس اجمعین ۔ شر کاء اپنی صفائی میں کہیں گے اے ہمارے پروردگار یہی وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکایا اور گمراہ کیا اور ان کو ویسا ہی گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے یعنی ان کے بہکانے میں کوئی جبر و کراہ اور زبردستی نہیں کی گئی بلکہ جس طرح ہم گمراہ ہوئے تھے کہ ہم پر کسی نے جبر نہیں کیا بلکہ ہم اپنی خوشی سے گمراہ ہوئے ٹھیک اسی طرح یہ بھی اپنی خوشی اور اپنی رضا سے بہکے۔
مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ہم بہکانے کے قصوروار ہیں لیکن ہم کو ان پر کوئی جابرانہ تسلط حاصل نہیں تھا اس لئے یہ بھی مجرم ہیں کہ کیوں ہمارے بہکانے میں آئے ، بہرحال ! ہم آپ کے روبرو ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور ان سے بری ہوتے ہیں یہ ہماری پرستش نہیں کیا کرتے تھے بلکہ یہ تو اپنی نفسانی خواہشات کے پجاری تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ شیطان بولیں گے بہکایا تو ہے انہوں نے پر نام لیکر نیکوں کا اسی سے کہا ہم کو نہ پوجتے تھے۔ 12
Ayah 28:6464۔ اور کہا جائیگا تم لوگ اپنے شرکاء کو پکارو چناچہ یہ مشرک ان کو پکاریں گے سو وہ ان پکارنے والوں کو جواب ہی نہ دیں گے۔ اور مشرک اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھیں گے کاش وہ لوگ دنیا میں صحیح راستے پر ہوتے اور ان مشرکوں سے کہا جائیگا یہ کہنا یا تو حق تعالیٰ کی طرف سے ہوگا یا فرشتے کہیں گے کہ اپنے ان شرکاء کو اپنی مدد کیلئے پکارو چناچہ یہ اپنی امداد وغایت کے لئے ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کو جواب ہی نہ دیں گے اور عذاب ان کے سامنے آجائے گا اور یہ اس عذاب کو دیکھ رہے ہوں گے کاش وہ لوگ راہ یافتہ ہوتے اور دنیا میں صحیح راستہ اختیار کرلیتے ، یعنی وہ معبود ان باطلہ جب ان کی کوئی مدد نہ کرسکیں گے تو انکو حسرتو ندامت ہوگی اور یہ مشرک تمنا کریں گے کہ وہ بھی معبودان باطلہ کو چھوڑ کر راہ راست قبول کرلیتے تو آج اس بلا میں مبتلا نہ ہوتے یعنی مسلمان ہوجاتے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس وقت یہ آرزو کریں گے جن نیکوں کو پوجتے تھے دے جواب نہ دیں گے کہ دے راضی نہ تھے یا خبر نہیں رکھتے تھے 12
Ayah 28:6565۔ اور اس دن اللہ تعالیٰ کافروں کو پکار کر فرمائے گا اور دریافت کرے گا تم نے پیغامبروں کو کیا جواب دیا تھا یعنی پیغامبروں کی تشریف آوری تو یقینی ہے مگر یہ بتائو کہ جب ان کی دعوت تم کو پہنچی تو تم نے ان کو کیا جواب دیا ۔
Ayah 28:6666۔ سو اس دن ان سے تمام خبریں اور تمام مضامین گم ہوجائیں گے لہٰذا وہ آپس میں ایک دوسرے سے کچھ دریافت بھی نہ کرسکیں گے یعنی اس سوال کا جواب ہی نہ دے سکیں گے اور نہ آپس میں ایک دوسرے سے کچھ پوچھ گچھ کرسکیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جواب نہ آوے گا کسی کو 12 یہاں تک کہ شرک کی مذمت اور مشرکین کا انجام مذکور تھا آگے توحید کے دلائل اور موحدین کا انجام مذکور ہے۔
Ayah 28:6767۔ البتہ جو شخص دنیا میں شرک سے تائب ہوجائے اور دین حق پر ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتا رہے تو ایسے لوگ امید ہے کہ آخرت میں فلاح پانے والوں اور کامیاب ہونے والوں میں سے ہوں گے۔ یعنی مشرکوں کے لئے جن آفات اور مصائب کا ذکر ہوا ان سے یہ لوگ محفوظ رہیں گے۔
Ayah 28:6868۔ اور اے پیغمبر آپ کا پروردگار جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے پسند فرماتا ہے ان لوگوں کو پسندیدگی کا کوئی اختیار نہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بلند وبالا تر ہے ۔ جو چاہے پیدا کرے یعنی تکوینی اختیارات اسی کے قبضے میں ہیں اور جن احکام کو چاہے پسند کرے اور انبیاء (علیہم السلام) کی معرفت نازل فرمائے۔ یعنی تشریعی اختیارات بھی سب اسی کے ہاتھ میں ہیں ۔ منکروں اور بےدینوں کو نہ تو حلال و حرام کا اختیار ہے اور نہ پیدائش و اموات ان کے قبضے میں ہے ، جب تکوینی اور تشریعی خالق ہونے میں وہ یکتا ہے تو الوہیت میں بھی وہی منفرد اور یکتا ہے اور وہ ان مشرکوں کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے۔
یہ آیت کفا رکے اس اعتراض کا جواب بھی ہوسکتا ہے جو مکہ کے کافروں کو نبی کریم ﷺ کی رسالت پر تھا کہ ان کو نبوت کیوں دی گئی اور یہ قرآن کریم مکہ اور طائف کے رئیسوں پر کیوں نہ نازل ہوا ، یہ اس کا جواب ہے کہ پیدا بھی ہم ہی کرتے ہیں اور برگزیدگی اور انتخاب کا بھی ہمیں کو حق ہے چونکہ وہ اس معاملہ میں منفرد ہے حق پیدائش اور حق انتخاب اسی کو حاصل ہے لہٰذا وہ پاک وہ بالا تر ہے ان سے جن کو یہ مشرک شریک بتاتے ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ پیدا ہم کریں اور کسی نبی کا حق انتخاب ان کے قبضے میں دے دیا جائے۔
Ayah 28:6969۔ اور آپ کے پروردگار کو وہ سب باتیں معلوم ہیں جو ان کے سینوں نے چھپا رکھی ہیں اور وہ بھی معلوم ہیں جو یہ لوگ علانیہ کرتے ہیں۔ یعنی علم بھی ایسا کامل ہے کہ کسی دوسرے کو ایسا علم نہیں جو ہر شخص کے سینے کی باتوں سے اور اس کی علانیہ باتوں سے واقف ہو تو وہ علم میں بھی منفرد ہے۔
Ayah 28:7070۔ اور اللہ ہی کامل الصفات ذات ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں تمام تعریفیں اور ہر قسم کی حمد وثناء کے لائق دنیا اور آخرت میں وہی ہے اسی کی فرمانبرداری اور حکومت ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔ یعنی جو خالقیت میں منفرد ، اختیارات میں منفرد، علم میں منفردوہی تو ذات اللہ جل جلالہ ٗ ہے جب وہ ہر صفت کمالیہ میں منفرد ہے تو اس کے سوا کوئی معبود بھی نہیں دنیا اور آخرت دونوں عالموں میں اس کا تصرف ہے اس لئے وہی دونوں عالموں میں ہر قسم کی حمد وثناء کے لائق ہے فرماں روائی کا یہ عالم کہ آخرت میں تو اس کے سوا کسی کی حکومت ہی نہیں دنیا میں اگر مجازا ً کسی کی حکومت نظر آتی ہے تو وہ بھی محض عارضی ۔ اس لئے حقیقی حکمراں وہی ہے اور اس کی سلطنت کی قوت اور وسعت ایسی ہے کہ تم سب اسی کی طرف واپس ہو گے اس کی قوت و وسعت سلطنت سے کہیں بچ کر نہ بھاگ سکتے ہو نہ جاسکتے ہو۔
ولہ الحکم النافذ فی الدنیا والاخرۃ و مصیر الخلق کلھم فی عواقب امورھم الی حکمہ فی الاخرۃ آگے اس کی بےپناہ قدرت کا ذکر ہے۔
Ayah 28:7171۔ اے پیغمبر آپ ان سے دریافت کیجئے بھلا یہ تو بتائو اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لئے قیامت تک رات ہی رہنے دے تو اللہ تعالیٰکے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہارے لئے روشنی لے آئے تو کیا تم سنتے نہیں ۔ یعنی آفتاب کی گردش اس طور پر ہو کہ زمین پر اس کی روشنی نہ پڑ سکے تو پھر زمین کو روشن کرنے اور تم کو روشنی دکھانے والا اور کونسا معبود ہے جو تم کو روشنی سے مستفیض کر دے تو تم ان دلائل قدرت کو توجہ کے ساتھ سن کر سمجھتے نہیں چونکہ ہمیشہ کی رات سے استدلال فرمایا تھا تاریکی مناسبت سے اذلات سمعون فرمایا کیونکہ تاریکی میں دکھائی نہیں دیتا البتہ سن سکتا ہے اس لئے اس وسعت قدرت کا حال سنتے نہیں آگے اس کا عکس فرمایا ۔
Ayah 28:7272۔ آپ ان سے یہ بھی دریافت کیجئے بھلا یہ تو بتائو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کیلئے قیامت کے دن تک دن ہی رہنے دے تو اللہ تعالیٰ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہارے لئے رات لے آئے کہ تم اس میں راحت و آرام پائو تو کیا تم دیکھتے نہیں ۔ یعنی بجائے رات کے ہمیشہ کے لئے قیامت تک دن ہی رکھے اور آفتاب کو وسط آسمان پر یافوق الارض کے مدار پر گردش دے تو ایسی حالت میں وہ کون سا معبود ہے جو تم پر آرام و سکون حاصل کرنے کے لئے رات لے آئے تو کیا تم دیکھتے نہیں یہاں دن کی روشنی کی مناسبت سے تبصرون فرمایا۔
بہرحال ! وسعت قدرت کا یہ عالم ہے کہ ان کے دن کو کوئی رات نہیں کرسکتا اور انکی رات کو کوئی دن نہیں بنا سکتا اور جب وہ اپنی قدرت میں منفرد ہی تو یہ انفرادان کی الوہیت کے منفرد ہونے کو مستلزم ہے لیکن تم اور معبودوں کو باوجود دلائل سا طعہ کے چھوڑتے نہیں اور یہ تمہاری انتہائی ہٹ دھرمی اور توحید دشمنی ہے آگے رات اور دن کے ہیر پھیر میں جو اس کی رحمت و مہربانی ہے اسکا اظہار فرماتا ہے۔
Ayah 28:7373۔ اور اس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن کو بنایا تاکہ رات میں راحت و آرام حاصل کرو اور دن میں اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اور تا کہ تم اس کا شکر بجا لائو ۔ یعنی تمہارے لئے رات اور دن کا مقرر کرنا یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے تا کہ دن میں روزی تلاش کرو اور کمائو اور کما کر معاش حاصل کرو اور رات میں آرام حاصل کرو اور ان دونوں سے حسب ضرورت فائدہ حاصل کرکے خالق لیل و نہار کا شکر بجا لائو ، یہ اس کا اپنی رحمت میں منفرد ہونا ، غرض خالق ہونا مختار ہونا ، کمال علم کا مالک ہونا ، کمال قوت اور کمال سلطنت کا مالک ہونا وسیع القدرت اور اس کی رحمت کا عام ہونا ، یہ سب اس کی الوہیت اور اس کی یکتائی پر براہین قاطعہ ہیں۔
Ayah 28:7474۔ اور وہ دن قابل ذک رہے جس دن اللہ تعالیٰ ان کافروں کو پکارے گا اور پکارکر ارشاد فرمائے گا جن لوگوں کو تم میرا شریک سمجھا کرتے تھے اور جن کے شریک ہونے کا دعویٰ کیا کرتے تھے وہ میرے شریک کہاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا بطور تو بیخ ہوگا اور انکے خلاف شہادت لیتے وقت فرمائے گا ۔ چناچہ ارشاد ہے۔
Ayah 28:7575۔ اور ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ اور احوال بتانے والا نکال لائیں گے ، پھر ہم ان مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اپنے شرک کے جواز پر دلیل پیش کرو اور اپنی دلیل لائو تب ان کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ سچی بات اللہ تعالیٰ ہی کی تھی اور جو افترا پر دازیاں وہ کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہوجائیں گی اور سب کھوئی جائیں گی ۔ یعنی گواہ ہر امت میں سے میدان حشر میں ایک ایک گواہ لا کھڑا کریں گے پھر مشرکوں سے مطالبہ کیا جائے گا کہ کفر کے دعوے کی صحت پر کوئی دلیل بیان کرو ، اس وقت وہ جان سکیں گے اور ان کو عین الیقین ہوجائے گا کہ بات وہی سچی تھی جو اللہ کی طرف سے تھی اور وہی دین حق تھا جو پیغمبر لے کر آئے تھے اور جو باتیں وہ دنیا میں بناتے تھے اور جو افترا پردازیاں وہ یہاں کیا کرتے تھے ، اس دن سب بھول جائیں گے اور کوئی بات بن نہ پڑیگی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں احوال بتانے والا پیغمبر یا ان کے نائب جو نیک بخت تھے۔ 12
Ayah 28:7676۔ اوپر کی آیتوں میں قرآن کریم کی حقانیت اور رسول کی صداقت اور منکرین و ظالمین پر نزول عذاب کا ذکر تھا پھر قیامت کا ذکر فرمایا اور قیامت میں منکرین و متکبرین کا انجام فرمایا اسی سلسلے میں ایک اور متکبر و سرکش یعنی قارون کا ذکر کیا اور اس کی ہلاکت اور تباہی کا بیان فرمایا تاکہ تکبر کرنے والوں اور سرکشوں کو عبرت ہو چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
بلا شبہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم اور برادری میں سے تھا پھر وہ لوگوں پر زیادتی اور ان کے مقابلے میں تکبر کرنے لگا اور ہم نے جو خزانے اس کو دیئے تھے وہ اتنے تھے کہ اس خزانے کے صندوقوں کی کنجیاں ایک طاقتور اور زورآور آدمیوں کی جماعت کو گراں بار کردیا کرتی تھیں جب اس قارون کی قوم نے اس سے کہا کہ تو نازاں نہ ہو اور اترا نہیں بلا شبہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لادی یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں ہیں لادی کی اولاد میں قارون بھی تھا اس لئے اس کا خاندانی تعلق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا۔ قارون بہت خوبصورت تھا اس لئے اس کو منور بھی کہتے تھے وہ بہت مالدار تھا اور مالداری کی وجہ سے متکبر بھی تھا۔ اس کے خزانوں کی کنجیاں بہت وزنی تھیں پہلے لوہے کی کنجیاں تھیں پھر لکڑی کی بنوائی گئیں کہتے ہیں وہ بھی بھاری ہوئیں تو پھر چمڑے کی بنوائی گئیں وہ بھی اس قدر بھاری تھیں کہ ایک زور آور جماعت کے آدمی اٹھانے سے تھک جاتے تھے اور اٹھاتے تو لڑکھڑاتے تھے ، مال کی اس قدر بہتات کے باعث نافرمانی کرنے لگا اور دین حق کا باغی بن گیا حالان کہ توریت کا بہت بڑا عالم تھا اور توریت بہت پڑھا کرتا تھا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جد کی اولاد میں تھا ، فرعون کی سرکار میں پیش ہوگیا تھا بنی اسرائیل پر کار بیگار ہی پہنچاتا تھا اور مزدوری اسی کے ہاتھ سے ملتی ، اس کام میں مال بہت کمایا جب بنی اسرائیل حکم میں آئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اور فرعون غرق ہوا اس کی روزی موقوف ہوئی اور سرداری نہ رہی دل میں ضد کھتا موسیٰ (علیہ السلام) سے منافق ہورہا ، پیچھے عیب دیتا اور تہمتیں لگاتا ایک روز روبرو ایک عورت کو سکھا کر لایا تہمت کی بات اس عورت نے خدا سے ڈر کر سچ کہا کہ اس نے مجھے سکھایا تب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا سے زمین میں غرق ہوا اور اس کا گھر اور خزانہ بھی غرق ہوا ۔ 12
Ayah 28:7777۔ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو دے رکھا ہے اس سے آخرت کے گھر کی تلاش اور جستجو کر اور دنیا میں سے اپنے حصے کو فراموش نہ کر اور اس کو بھول نہ جا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان کیا ہے تو اس کی مخلوق پر احسان کر اور ملک میں فساد پھیلانے کا خواہش مند نہ ہو اور فساد پھیلانے کی راہیں تلاش نہ کر بلاشبہ اللہ تعالیٰ فساد کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ بھی قوم کا ہی قول ہے جو قوم نے اس کو سمجھانے کی غرض سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تجھ کو عطا فرمایا ہے اس سے اپنی آخرت کو سنوارا اور دار آخرت کے لئے اعمال خیر کر اور دنیا میں اپنا حصہ فراموش نہ کر یعنی کھالے پہن لے باقی خدا کی مخلوق پر صرف کر یا یہ کہ دنیا میں سے جو لے کر جانا ہے اس کو ملحوظ رکھ اور وہ سوائے کفن کے اور کیا ہے قوم کے لوگوں نے مزید توضیح کی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے جو دو کرم سے تجھ کو نوازا ہے تو اس کی مخلوق اور اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کر اور اپنی ضرورت کے لائق رکھ لے باقی خیرات کر دے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کی نافرمانی کرنے کی راہیں تلاش نہ کر اور فساد پھیلانے کی جستجو نہ کر کیونکہ گناہوں سے ملک میں بلکہ ہر خشکی و تری میں فساد پھیلتا اور رونما ہوتا ہے اور اس امر کا یقین کر کہ اللہ تعالیٰ فساد کرنیوالوں کو دوست نہیں رکھتا اور پسند نہیں کرتا ، قوم کی اس نصیحت پر اس نے جواب دیا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں خرابی نہ ڈال یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ضد نہ کر اور اپنا حصہ نہ بھول دنیا سے یعنی حصے موافق کھا پہن اور زیادہ مال سے آخرت کہا ۔ 12