27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 27:1

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طس۔ یہ سورت قرآن کی اور واضح کتاب کی آیتیں ہیں

(1) طس وقف یہ سورت قرآن کریم کی اور واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ یعنی وہ کتاب جس کے احکام واضح ہیں۔
Ayah 27:2

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ایمان والوں کیلئے موجب ہدایت و بشارت ہیں

(2) ایمان والوں کے لئے یہ آیتیں موجب ہدایت اور خو ش خبری و بشارت دینے والی ہیں یعنی جو ہدایت پر عمل کریں ان کے لئے موجب بشارت ہیں۔ یعنی جو ہدایت پر عمل کریں ان کے لئے موجب بشارت دیں۔
Ayah 27:3

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

وہ ایمان والے ایسے ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوۃ دیا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں

(3) وہ ایمان والے ایسے ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوۃ دیا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں یعنی پچھلے دن پر جس کو قیامت کہتے ہیں ان کا یقین اور ایمان ہے۔
Ayah 27:4

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال کی نظر میں خوشنما کردئیے ہیں سو وہ بھٹکتے پھرتے ہیں

(4) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کی نظر میں خوش منظر اور مستحسن کر رکھے ہیں سو وہ اپنی اس خوش فہمی میں بھٹکتے پھر رہے ہیں یعنی ان کے اعمال ان کی نگاہ میں بھلے معلوم ہوتے ہیں اس لئے انہی میں ڈانوا ڈول پھرا کرتے ہیں تزیین کی نسبت حضرت حق تعالیٰ کی خالق ہونے کے اعتبار سے کی گئی ہے۔
Ayah 27:5

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے دنیا میں بھی بدترین سزا ہے اور یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں

(5) یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے دنیا میں بھی بد ترین سزا ہے اور یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں دنیا کا بدترین عذاب مغلوب ہونے کے وقت قید اور قتل وغیرہ یا موت کے وقت فرشتوں کی تعذیب اور آخرت کا نقصان ظاہر ہے برے کام کو برا سمجھ کر کرنے والے جب نقصان میں ہوں گے تو جو برے کاموں کو اچھا سمجھ کر کریں ان کے نقصان کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 27:6

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور آپ کو یقینا یہ قرآن ایک بڑی حکمت والے بڑے علم والے کی جانب سے تلقین کیا جاتا ہے

(6) اور اے پیغمبر آپ کو یقینا یہ قرآن کریم ایک بڑی حکمت والے بڑے علم والے کی جانب سے ملتا اور دیا جاتا اور تلقین کیا جاتا ہے یعنی یہ قرآن کریم اس کی جانب آپ کو دیاجاتا ہے جو کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔
Ayah 27:7

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

اے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ واقعہ بیان کیجئے جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے میں وہاں سے کوئی خبر تمہارے پاس لے کر آتا ہو یا آگ سے کوئی چیز جلا کر ایک شعلہ لے آتا ہوں تاکہ تم اس آگ سے گرمی حاصل کرو

(7) اے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے میں وہاں سے کوئی راستے کی خبر لاتا ہوں یا آگ سے کوئی چیز جلا کر ایک شعلہ لے آتا ہوں تاکہ تم اس سے تاپو اور گرمی حاصل کرو یعنی قرآن کریم کے ذکر کی مناسبت سے موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ واقعہ بتایا جب وہ مدین سے مصر واپس ہوئے تو طور کی وادی میں مصر کا راستہ بھول گئے اور سردی کڑا کے کی پڑ رہی تھی حیران تھے کہ کس طرف جائیں یکایک طور پر ایک روشنی نظرآئی سمجھے کہ آگ ہے اس لئے گھر والوں سے فرمایا چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی پیغمبر ہوئے کتاب ملی اور فرعونیوں میں تبلیغ کے لئے تقرر ہوا۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ پیغمبر ہیں ان کو بھی واضح کتاب عطا ہوئی اور قریش کے فراغنہ کی ہدایت کا کام سپرد ہوا تاکہ مکہ کی یہ روشنی تمام عالم میں جلوہ گر ہو۔
Ayah 27:8

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

سو جب موسیٰ اس آگ کے پاس پہنچا تو آواز دی گئی کہ مبارک ہے جو اس آگ کے اندر ہے اور وہ جو اس آگ کے آس پاس ہے اور اللہ رب العالمین تمام عیوب سے پاک ہے

(8) پس جب موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہونچا توآوازدی گئی کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ کے اندر ہے اور وہ جو اس آگ کے آس پاس ہے اور اللہ رب العالمین تمام عیوب سے پاک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آگ کے اندر اور اس پاس فرشتے مقرب تھے آگ نہ تھی ان کا نور تھا اور آواز دی غیب سے اللہ تعالیٰ نے 12 یا آگ کے اندر فرشتے ہوں اور آگ کے گرد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یہ جملہ بطور برکت کی دعا کی ہے پاکی کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حدود اور جہات سے پاک ہے اس نور کو خدا نہ سمجھ لیاجائے۔
Ayah 27:9

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ (علیہ السلام) بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں زبردست حکمت والا

(9) اے موسیٰ (علیہ السلام) بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں کمال قوت کا مالک بڑی ہمت والا یعنی جو بلا کیف کلام کر رہا ہوں میں ہی اللہ ہوں کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہوں۔
Ayah 27:10

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور تو اپنا عصا ڈالدے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا گویا وہ ایک تیز رفتار سانپ ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا ارشاد ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) ڈر نہیں میری حضور میں پہونچ کر پیغمبر ڈرا نہیں کرتے

(10) اور تو اپنی لاٹھی کو ڈال دے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا کہ وہ ایک پتلا تیزرفتار سانپ ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے پلٹ کر بھی نہ دیکھا ارشاد ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ڈر نہیں میری حضور میں پہونچکر پیغمبر ڈرا نہیں کرتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کی تفصیل پہلے گذرچ کی ہے۔ جان کہتے ہیں پتلے سانپ کو سورة طہ میں حیۃ فرمایا اژدہا یا موٹا سانپ تو دوڑ میں چونکہ پتلے سانپ کی طرح دوڑتا تھا اس لئے جان فرمایا ورنہ اژدہا تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اول سٹک سی بن گئی تھی پتلی جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہوگئی بڑھ کر 12 بہرحال ! یہ خوف طبعی تھا جو نبوت کے منافی نہیں تفصیل سورة طہ میں گذر چکی ہے۔
Ayah 27:11

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

مگر ہاں جس سے کوئی کوتاہی ہوجائے پھر وہ برائی کے بعد بھلائی سے اس کی تلافی کردے تو میں بڑی مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہوں

(11) مگر ہاں جس سے کوئی کوتاہی ہوجائے پھر وہ برائی کے بعد بھلائی سے اس کی تلافی کردے تو میں بڑی مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہوں برائی کے بعد بھلائی یعنی توبہ کرلے یہ اس لئے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت ملنے پر قبطی کے قتل کا واقعہ یاد آجانے سے وحشت نہ ہو اس لئے اطمینان دلایا کہ وہ مغفرت کی درخواست کرنے پر معاف کردیا گیا اس کو یاد کرکے پریشان نہ ہونا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) سے چوک کر ایک کافر کا خون ہوگیا تھا اس کا ڈر تھا ان کے دل میں ان کو معاف کردیا 12
Ayah 27:12

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان کے اندر لے جا تو وہ بغیر کسی عیب کے خوب سفید چمکتا ہوا نکلے گا یہ دونوں معجزے ان نو معجزوں میں سے ہیں جو تجھ کو دیکر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے کیونکہ وہ بڑے حد سے نکل جانے والے لوگ ہیں

(12) اور تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان کے اندر داخل کردے تو وہ بغیر کسی عیب کے خوب سفید چمکتا ہوا نکل آئے گا یہ دونوں معجزے ان نو معجزوں میں سے ہیں جو تجھ کو دے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے کیونکہ وہ بڑے حد سے نکل جانے والے لوگ ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سورة اعراف میں سات نشانیاں ہوچکیں 12 فائدہٖ وہ نشانیاں یہ ہیں 1 قحط اور 2 میووں کا نقصان اور 3 طوفان اور ٹڈی اور 4 چچڑی اور 5 مینڈک اور 7 لہو اور 8 ہاتھ سفید چٹا اور 9 عصا یہ دونوں یہاں موجود ہیں اور سات سورة اعراف کے چودھویں رکوع میں ہیں 12
Ayah 27:13

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

غرض ! جب ان کے پاس ہمارے نہایت روشن و واضح معجزے پہونچے تو کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے

(13) غرض ! جب ان کے پاس ہمارے نہایت روشن اور واضح الدلالۃ معجزے اور نشانیاں پہونچیں تو یہ کہنے لگے یہ تو کھلا ہوا جادو ہے یعنی دونوں یہ نشان پہلی ملاقات میں پیش کئے پھر دقتاً فوقتاً بعض نشانیاں دکھاتے رہے لیکن وہ سب معجزات کو کھلا ہوا جادو کہنے لگے اور سحر بتاتے رہے۔
Ayah 27:14

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے ازروئے ظلم اور تکبر و سرکشی ان معجزات کا انکار کردیا حالانکہ ان کے دل ان کا یقین کرچکے تھے سو اے پیغمبر دیکھئے ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا

(14) اور فرعون کی قوم والوں نے ازروئے ظلم اور اقتدار کے غرور وتکبر سے ان تمام نشانات اور معجزات کا انکار کردیا حالانکہ ان کے جی اور ان کے دل ان نشانات کا یقین کرچکے تھے لہٰذا اے پیغمبر دیکھئے ان مفسدوں اور شریروں کا انجام کیسا ہوا یعنی پے درپے نشانات کو دیکھ کر دل تو قائل ہوگئے تھے لیکن اقتدار کا گھمنڈ غرور تکبر اور ناانصافی اور ظلم کی عادت ان خرابیوں کے باعث ضمیر کے خلاف انکار کرتے رہے لہٰذا دیکھ لیجئے کہ فساد برپا کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا کہ دنیا میں غرق کئے گئے اور قیامت میں جہنم کے گھاٹ اتارے گئے۔
Ayah 27:15

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو علم عطا فرمایا اور اس پر ان دونوں نے کہا سب تعریفیں اس خا کو لائق ہیں جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت عطا فرمائی

(15) اب آگے حضرت دائود و سلیمان (علیہا السلام) کے ذکر میں ایک ایسی عورت کا ذکر جو نشاناتِ الٰہی کو دیکھ کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ پر مشرف بہ سلام ہوئی اور شرک سے توبہ کرنے کا اعلان کیا یعنی مکہ سبا کے اسلام کا ذکر چناچہ ارشاد ہوتا ہے ار بلاشبہ ہم نے دائود ار سلیمان (علیہ السلام) کو علم عطا فرمایا اس پر ان دونوں باپ بیٹوں نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کو لائق اور سزا وار ہیں جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر بزرگی اور فضیلت عطا فرمائی یعنی ان کو علم شریعت اور حکم رانی کا طریقہ سکھایا اس پر انہوں نے ہمارا شکر ادا کرتے ہوئے کہا الحمد للہ اذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المومنین کثیر کی قید شاید اس لئے لگائی کہ بندگان خدا کی اکثریت پر برتری ظاہر ہو نہ کہ جملہ انسانوں پر کیونکہ تمام مخلوقات پر برتری اور بزرگی حصہ ہے جناب سید المرسلین ﷺ کا
Ayah 27:16

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان (علیہ السلام) دائود (علیہ السلام) کا جانشین ہوا اور اس نے کہا اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی سمجھنے کی تعلیم دی گئی ہے اور ہم کو ہر قسم کی ضروری چیزیں دی گئی ہیں واقعی یہ حکومت وعلم کا عطا کرنا ایک کھلاہوا فضل ہے

(16) اور سلیمان (علیہ السلام) اور دائود (علیہ السلام) کا جانشین اور وارث ہوا اور اس نے کہا کہ اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی سمجھنے کی تعلیم دی گئی ہے اور ہم کو ہر قسم کی ضروری چیزیں عطا کی گئی ہیں واقعی یہ حکومت اور علم کا عطا کرنا اللہ تعالیٰ کا ایک کھلا ہوا فضل ہے یعنی حضرت دائود (علیہ السلام) کی وفات کے بعد حضرت دائود (علیہ السلام) کی وفات کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان کے قائم مقام ہوئے اور ان کے جانشین وارث مقرر ہوئے اور ان کو جانوروں کی بولیاں سمجھنے کا علم دیا گیا تو انہوں نے لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کیا کہ ہم کو پرندوں کی بولی کو سمجھنے کا علم دیا گیا ہے اور حکومت کے چلانے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے مثلا لشکر، اسلحہ و دیگر ضروری سامان بھی عطا ہوا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا اور کھلا ہوا فضل ہے جو اس نے عطا فرمایا ہے دوسرے سلاطین کو یہ بات کہاں میسر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وارث ہوا یعنی نبی ہوا اور بادشاہ ہوا با پ کی جگہ اور بیٹھے تھے وے اس مقام پر نہ ہوئے اور ہرچیز میں سے دیا یعنی جو چیزیں دنیا میں درکار ہیں 12
Ayah 27:17

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے اس کے لشکر جنات میں سے اور انسانوں میں سے اور پرندوں میں سے جمع کئے گئے اور وہ روکے جاتے تھے یعنی منظم و مرتب کرنے کی غرض سے

(17) آگے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر اور اس کی ترتیب کا بیان ہے اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے اس کا لشکر جنات میں سے اور انسانوں میں سے اور پر وندوں میں سے جمع کیا گیا اور ان کو روکاجاتا تھا یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب سفر کرتے تو ان کے لشکر میں جنات بھی ہوتے اور انسان بھی ہوتے اور پرندے بھی شامل ہوتے اور ان کی روانگی سے قبل اس تمام لشکر کو ترتیب و تنظیم کی غرض سے روکاجاتا تھا پھر روانگی میں بھی اس ترتیب کو مدنظر رکھاجاتا تھا کہ پہلی صف والے آگے نہ نکل جائیں یا آگے والے پیچھے نہ رہ جائیں اسی طرح میمنہ اور میسرہ میں فرق نہ آئے دائیں والے بائیں طرف نہ ہوجائیں اور بائیں والے دائیں طرف نہ آجائیں جیسا کہ آج کل منظم حکومتوں کی فوج بھی منظم ہوا کرتی ہے اور اس کا چلنا اور ٹھہرنا اور دائیں بائیں مڑنا ایک قاعدے اور ضابطے کے ماتحت ہوتا ہے آج کل صرف انسانوں کی فوج ہوتی ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں انسانوں کے ساتھ جنات اور طیور بھی ہوتے تھے۔
Ayah 27:18

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب سلیمان (علیہ السلام) اور اس کے لشکرچیونٹیوں کے ایک میدان پر پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو ! اپنے اپنے سوراخوں میں گھس جائو کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان (علیہ السلام) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو

(18) یہاں تک کہ جب سلیمان (علیہ السلام) اور اس کا لشکر چیونٹیوں کے ایک میدان پر پہونچے تو ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا اے چیونٹیو ! تم اپنے سوراخوں اور مکانوں میں گھس جائو کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان (علیہ السلام) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور پیس ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو یعنی راستے میں کوئی چیونٹیوں کی بستی اور وادی پڑتی ہوگی تو سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کو آتا دیکھ کر چیونٹیوں کے سردار نے یہ کہا ہوگا چونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ مخلوق باوجود اپنی کثرت کے نہایت منظم ہے اور اس مخلوق میں ڈسپلن اور نظم بہت ہے باقاعدہ ان کی فوج ہوتی ہے جاسوس ہوتے ہیں خطرے کے وقت سراغ رساں سپاہی باہر نکلتا ہے اور حالات سے اندر والوں کو مطع کردیتا ہے اس موقع پر اطلاع دہندہ نے بڑی احتیاط سے کام لیا وھم لا یشعرون کہہ کر اس امر کو ظاہر کردیا کہ سلیمان (علیہ السلام) اور ان کا لشکر ظالم نہیں ہے کہ جان بوجھ کر کسی کو تکلیف پہونچائیں البتہ بیخبر ی میں ایسا ہوسکتا ہے کہ تم لشکر کی روندن میں آکر پس جائو اور گزرنے والوں کو خبر بھی نہ ہو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ بات سن لی اور چیونٹی کی فراست اور کلام میں احتیاط پر ان کو ہنسی آگئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چیونٹی کی آواز کوئی نہیں سنتا ان کو معلوم ہوگئی 12
Ayah 27:19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

چیونٹی کی اس بات پر سلیمان (علیہ السلام) مسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور کہنے لگا اے میرے رب مجھے اس بات پر قائم رکھ کہ میں تیرے ان احسانات کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں اور نیز یہ کہ میں ایسے نیک کام کرتا رہوں جن کو تو پسند کرتا ہو اور مجھ کو اپنی رحمت سے تو اپنے نیک بندوں میں شامل رکھیو

(19) چیونٹی کی اس بات پر سلیمان (علیہ السلام) مسکرایا اور مسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور اس نے کہا اے میرے پروردگار ! مجھ کو توفیق دے اور اس بات پر مجھ کو مداومت نصیب کر کہ میں تیرے ان احسانات شکرکرتارہوں جو تونے مجھ پر اور میرے والدین پر کئے ہیں اور نیز یہ کہ میں ایسے نیک کام کرتا رہوں جن کو تو پسند کرتا ہو اور جن سے تو خوش ہو اور تو مجھ کو اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھیو یعنی اللہ تعالیٰ اس نعمت سے متاثر ہوکر اللہ تعالیٰ سے دوامعلی الشکر کی توفیق طلب کی اور حضرت حق کے پسندیدہ کاموں کے بجا لانے کی دعا کی اور نیک بندے یعنی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل رہنے کی دعا کی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان کے باپ پر تو ہزاروں احسان تھے اور ماں پر بھی کچھ ہوں گے ایک تو مشہور ہے کہ بڑی پارسا تھی کہتے ہیں وہی تھی جس کا ذکر سورة ص میں ہے اس چیونٹی کی بات سمجھ کر ان کو شکرآیا 12 اللھم وفقنی لما تحب وترضی
Ayah 27:20

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور سلیمان (علیہ السلام) نے پرندو کا جائز لیا تو کہنے لگا مجھے کیا ہوگیا کہ میں ہُد ہُد کو نہیں دیکھتا کیا وہ کہیں غائب ہوگیا ہے

(20) اور سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کی خبر لی، جائز ہ لیا اور حاضری لی تو کہنے لگا مجھے کیا ہوگیا کہ میں ہدُ ہُد کو نہیں دیکھتا کیا وہ کہیں غائب ہوگیا یعنی پرندوں کی حاضری لی تو ہُد ہُد کو نہ پایا تو فرمایا کہ مجھ کو کیا ہوا کہ میں ہُد ہُد کو نہیں دیکھتا وہ پرندوں کی بھیڑ میں مجھے دکھائی نہیں دیتا وہ کہیں غائب ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پرندوں سے مختلف کام لیتے تھے شاید ہُد ہُد کو بھی کوئی خدمت سپرد ہو اور اس خدمت کے لئے اس کی ضرورت ہو کہتے ہیں ہُد ہُد کو یہ حس عطا کی گئی ہے کہ وہ زمین پر سے زمین کے اندر کے پانی کا پتہ معلوم کرلیتا ہے کہ پانی کتنے فاصلہ پر ہے اسی قسم کی ممکن ہے کوئی ضرورت پیش آئی ہو بہرحال ! جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ہُد ہُد کو نہ پایا تو تادیباً فرمایا۔
Ayah 27:21

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

یقینا میں اس کو سخت سزا دوں گا یا اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے روبرو کوئی معقول دلیل پیش کردے

(21) یقینا میں اس کو سخت سزا دوں گا اس کو ذبح کرڈالوں گا یا وہ میرے روبرو اپنی غیرحاضری پر کوئی معقول دلیل پیش کردے یعنی ضرورت کے وقت اس کا غیرحاضر ہوجانا موجب سزا ہے تادیباً جو تعزیر مناسب سمجھوں گا وہ دوں گا خواہ وہ کوئی سخت سزا ہو یا ذبح ہو یا کوئی معقول دلیل لائے اپنی غیرحاضری پر
Ayah 27:22

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

پھر ہُد ہُد نے تھوڑی ہی دیر بعد حاضر ہوکر کہا میں ایک ایسی بات معلوم کرکے آیا ہوں کہ آپ کو اس بات کی خبر نہیں اور میں قبیلہ سبا سے ایک تحقیقی خبر لیکر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں

(22) پھر زیادہ دیر نہ گذری اور ہد ہُد نے تھوڑی دیر کے بعد حاضر ہوکر عرض کیا میں ایک ایسی بات معلوم کرکے آیا ہوں کہ آپ کو اس بات کی خبر نہیں اور میں شہر سبا سے ایک تحقیقی خبر لے کر آیا ہوں ۔ یعنی ایک ایسے ملک کی تفصیلی خبر لایا ہوں کہ آپ کو اس کی تفصیل کا علم نہیں میں شہر سبا کی پوری تحقیق کرکے اس کی صحیح اور پختہ خبر لایا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس ملک کا حال مفصل نہ پہنچا تھا سبا ایک قوم کا نام ہے ان کا وطن عرب میں تھا یمن کی طرف 12
Ayah 27:23

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ وہاں کے لوگوں پر حکومت کر رہی ہے اور اس کو ہر قسم کا ضروری سامان دیا گیا ہے اور اس کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے

(23) میں نے وہاں ایک عورت کو پایا کہ وہ وہاں کے لوگوں پر راج کر رہی ہے اور اس کو ہر قسم کا ضروری سامان دیا گیا ہے اور اس کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے یعنی لوازمات سلطنت میں سے ہر قسم کا سامان اس کو میسر ہے اور ایک مضبوط حکومت کی مالک ہے اور اس کا تخت بھی بہت بڑا ہے یعنی گھیر گھار کا بھی بڑا ہے یا قیمت کا بیش بہا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب چیزیں مال و اسباب اور حسن و جمال بھی آگیا اور اس کے بیٹھنے کا تخت ایسا تکلف کا تھا کہ اس وقت کسی بادشاہ کے پاس نہ تھا 12
Ayah 27:24

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

اور میں نے اس عورت کو اور اسکی رعایا کو دیکھا کہ وہ خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لئے خوش منظر بنایا ہے اور ان کو صحیح راہ سے روکدیا ہے لہٰذا وہ راہ حق نہیں پاتے

(24) اور میں نے اس عورت کو اور اس کی قوم کو پایا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو خوش نما خوش منظر اور مزین کردیا ہے اور ان کو صحیح راہ سے روک دیا ہے لہٰذا وہ راہ حق نہیں پاتے یعنی وہ لوگ آفتاب پرست ہیں شیطان نے ان کو تباہ کر رکھا ہے اور ان کی مشرکانہ رسوم کو ان کی نظروں میں آراستہ کردیا ہے لہٰذا وہ سیدھی راہ کا تجسس بھی نہیں کرتے اور جب ان کو راہ حق کی تلاش ہی نہیں تو راہ حق کو پائیں کیسے شاید ان کے خلاف جہاد کی ترغیب کو یہ الفاظ ہُد ہُد نے کہے ہوں۔
Ayah 27:25

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

حتیٰ کہ وہ اس خدا کو سجدہ نہیں کرتے کہ جو آسمان و زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو باہر نکالتا ہے اور تم لوگ جو کچھ چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو وہ اس سب کو جانتا ہے

(25) وہ کیوں اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمان و زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو باہر نکالتا ہے اور جو کچھ تم دلوں میں چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ اس سب کو جانتا ہے آخر یہ لوگ اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کیوں نہیں بجا لاتے اور اس کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں کی اور زمین کی چھپی ہوئی اور پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے جیسے بارش اور نباتات وغیرہ اور زمین کی بیشمار معدنیات وغیرہ اور عالم ایسا کہ جو بات سینوں میں چھپی ہے وہ بھی جانتا ہے اور جو زبان سے اور دیگر جوارح سے کرتے ہیں اس کو بھی جانتا ہے اس کو چھوڑ کر ایک کرے کی جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے پوجا میں لگے ہوئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہُد ہُد کی روزی ریت میں سے کیڑے نکال نکال کھاتا ہے نہ دانہ کھاوے نہ میوہ اس کو اللہ کی اسی قدرت سے کام ہے 12 برسات کے موسم میں گیلی زمین کو کھود کھود کر کینچوے بھی نکال کر کھاتا ہے اور ایک ایک دو دو فٹ زمین میں کھود ڈالتا ہے زمین کے اوپر سے دیکھ لیتا ہے کینچو وں کو شاید یخرج الخبء اسی قدرت خداوندی کی جانب اشارہ ہو (واللہ اعلم)
Ayah 27:26

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ایسی ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

(26) اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ایسی ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی عرش عظیم یعنی بڑے تخت کا مالک ہے چونکہ اوپر بلقیس کے تخت کا ذکر کیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کے عرش عظیم کا ذکر کیا اور یہ واقعہ ہے کہ بلقیس کے تخت کو عرش الٰہی سے کوئی نسبت نہیں۔
Ayah 27:27

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اچھا ہم ابھی دیکھے لیتے کہ تو سچ کہتا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے

(27) ہُد ہُد کی باتیں سن کر سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اچھا ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تو سچ کہتا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے یعنی تیرے جھوٹ سچ کا ہم امتحان کریں گے۔
Ayah 27:28

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

جا میرا یہ خط لے جا اور اس خط کو ان کے پاس ڈال دے پھر ان کے پاس سے ہٹ جا اور دیکھتا رہ کہ وہ آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں

(28) جا میرا یہ خط لے جا اور اس خط کو ان کے پاس ڈال دے خط ڈالنے کے بعد ان کے پاس سے ہٹ جا اور دیکھتا رہ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آپ کو معلوم نکروا لیکن لیکن وہاں کا ماجرا دیکھ آ ہُد ہُد لے گیا بلقین جہاں اکیلی سوتی تھی روزن سے جاکر اس کی چھاتی پر رکھ دیا 12
Ayah 27:29

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

بلقیس نے کہا اے اہل دربار مجھے ایک مکتوب گرامی موصول ہوا ہے

(29) بلقین نے خط کو پڑھ کر اپنے سرداروں اور درباریوں سے کہا اے اہل دربار ! مجھے ایک مکتوب گرامی موصول ہوا ہے اور میرے پاس ایک عزت کا خط ڈالا گیا ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شہرت اور ان کی خداداد سلطنت سے واقف ہوگی اس لئے کتاب کے ساتھ عزت و شرافت کا لفظ بڑھایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں ستھرے کاغذ پر لکھا تھا 12 بہرحال ! ہوسکتا ہے کہ شاہانہ کاغذ پر لکھا ہو۔
Ayah 27:30

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ خط سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے شروع اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے

(30) وہ خط سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے شروع اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے۔
Ayah 27:31

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

تم لوگ میرے مقابلہ میں تکبر نہ کرو اور حکم بردار ہوکر میرے پاس چلے آئو۔

(31) تم لوگ میرے مقابلے میں زور اور تکبر نہ کرو اور میرے سامنے حکم بردار ہوکر چلے آئو یعنی زور دکھانے اور تکبر کرنے کی ضرورت نہیں میرے سامنے مطیع ہوکرچلے آئو اتنا مختصر خط اور اتنا جامع اور پرشوکت ایک پیغمبر ہی کا ہوسکتا ہے جو نبوت اور ملک و سلطنت دونوں رکھتا ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان کو دین حق سکھانا منظور تھا 12
Ayah 27:32

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

بلقین نے کہا اے اہل دربار تم مجھ کو میرے اس معاملہ میں مشورہ دو اس وقت تک کسی بات کا قطعی فیصلہ نہیں کیا کرتی جب تک تم لوگ میرے پاس موجود نہ ہو

(32) خط سنانے کے بعد بلقین نے اپنے امرا اور اہل دربار سے مزید مشورہ طلب کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے ۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے بلقین نے اہل دربار سے کہا اے اہل دربار تم مجھ کو میرے اس معاملہ میں رائے اور مشورہ دو میں اس وقت تک کسی بات کا قطعی فیصلہ نہیں کیا کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو ۔ یعنی چونکہ تم میرے معتمد ہو اس لئے میں تم سے ہر ایک کام کا مشورہ کرتی ہوں اور کوئی بات تم سے سوپیدہ نہیں کرتی بلکہ جو فیصلہ کرتی ہوں تم سے رائے حاصل کرنے کے بعد تمہارے روبرو کرتی ہوں۔
Ayah 27:33

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

اہل دربار نے کہا ہم پورے طاقتور اور سخت جنگ کرنے والے ہیں اور حکم کا اختیار آپ کو حاصل ہے سو اب آپ دیکھ لیں جو حکم ہم کو دینا ہو

(33) اہل دربار نے کہا ہم پورے طاقتور اور صاحب قوت ہیں اور بڑے جنگ جو اور لڑنے والے ہیں اور حکم دینے کا اختیار آپ کو حاصل ہے لہٰذا اب آپ غور کرلیں جو حکم ہم کو دیناچا ہیں یعنی جہاں تک لڑائی کات علق ہے اور دشمن سے مقابلہ کا معاملہ ہے اس کے لئے ہم بالکل آمادہ اور تیار ہیں اور سازو سامان سے بالکل لیس ہیں لیکن جہاں تک جنگ کا حکم دینا اور میدان جنگ میں نکلنے کا معاملہ ہے وہ آپ کے اختیار میں ہے لہٰذا آپ اپنی مصلحت دیکھ لیں کہ آپ کیا حکم کرتی ہیں۔
Ayah 27:34

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

بلقیس کہنے لگی بادشاہ جب کسی بستی میں فاتحانہ داخل ہوا کرتے ہیں تو اس کو برباد کر ڈالتے ہیں اور وہاں کے عزت دار باشندوں کو ذلیل کردیا کرتے ہیں اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے

(34) بلقیس کہنے لگی بادشاہ جب کسی بستی میں فاتحانہ داخل ہوا کرتے ہیں تو اس کو برباد اور تہ وبالا کر ڈالتے ہیں اور وہاں کے عزت دار لوگوں کو ذلیل اور حقیر کردیا کرتے ہیں اور یہ بھی اسی طرح کری گے۔ یعنی اس وقت لڑنا اور اعلان جنگ کرنا تو مناسب نہیں کیونکہ اگر فریق مخالف کو فتح اور غلبہ حاصل ہوگیا تو فتح کرنے والوں کی عام حالت یہ ہے کہ جس بستی میں وہ غلبہ کے بعد گھستے ہیں تو اس بستی کو برباد کر ڈالتے ہیں اور وہاں کے بڑے بڑے عزت دار لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں اور ان سے حقارت آمیز سلوک اور برتائو کرتے ہیں اور یہ لوگ ایسا ہی کریں گے کہ ہمارے شہر کو تہ وبالا کردیں گے اور یہاں کے اہل مناسب کے ساتھ جس قدر تحقیر آمیز برتائوں کریں گے اس لئے فی الحال جنگ کا اعلان مناسب نہیں بلکہ میں ایک اور تدبیر کرتی ہوں اور اس کا انجام دیکھتی ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ بادشاہ بھی ایسا ہی کریں گے 12
Ayah 27:35

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں سردست ان لوگوں کے پاس کچھ ہدیہ یعنی تحفہ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ وہ میرے فرستادے کیا جواب لیکر پلٹتے ہیں

(35) اور میں سردست ان لوگوں کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور ا ن لوگوں کے پاس اپنے آدمیوں کے ہاتھ ہدیہ ارسال کرتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ وہ میرے فرستادے کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چاہا کہ ان بادشاہ کا شوق معلوم کرے جس طرح پر ہے 12 یعنی ان کا ذوق معلوم ہوجائے کہ وہک یا چیز پسند کرتے ہیں اگر کچھ دے کر پیچھا چھوٹ جائے تو اچھا ہے چناچہ ہر قسم کے تحائف روانہ کئے اور جب وہ فرستادہ بیش قیمت جواہرات، گھوڑے، خوبصورت باندیاں وغیرہ لیکر حضرت سلیمان سلیمان (علیہ السلام) کے دربار میں حاضر ہوا۔
Ayah 27:36

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

پھر وہ ہدیہ لیکر جانے والا گروہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہونچا تو سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کیا تم لوگ مال و دولت سے میری امداد کرنا چاہتے ہو سو اللہ نے جو کچھ مجھ کو دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تم کو دیا ہے اصل واقعہ یہ ہے کہ تم ہی اس تحفہ سے جو تم کو پیش کیا جائے خوش ہوا کرتے ہو

(36) پھر جب وہ فرستادہ ہدیہ لیکر سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا تو سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کیا تم لوگ مال و دولت سے میری امداد کرنا چاہتے ہو سو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھ کو دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو اس نے تم کو دیا ہے اصل واقعہ یہ ہے کہ تم ہی اس تحفہ سے جو تم کو پیش کیا جائے خوش ہوا کرتے ہو اوپر کی آیت میں جمع فرمایا تھا اور بلقین نے مرسلون کہا تھا یہاں مفرد فرمایا شاید تحفہ کے انچارج کو مفرد فرمایا یا فلما جا سے مراد گروہ ہو بہرحال ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں رعایت رکھی ہے یعنی تمہارا مال دولت کیا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دین اور دنیا دونوں کی دولت عطا کر رکھی ہے تو مجھ کو اس کی ضرورت نہیں تم ہی اپنے اس ہدیہ اور تحفہ پر اتراتے ہو گے یا یہ مطلب ہے کہ تم ہی اس قسم کا تحفہ لے کر خوش ہوتے ہوگے۔ بھدتیکم تفرحون کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں کما قال صاحب الروح۔
Ayah 27:37

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

اے ایلچی تو انہی اہل سبا کی طرف واپس جا اب ہم ان پر ایک ایسا لشکر لیکر پہونچتے ہیں کہ جس کا ان سے مقابلہ نہ ہوسکے گا اور ہم ان کو نہر سبا سے بےعزت کرکے نکال دیں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ ذلیل و محکوم ہوجائیں گے

(37) اے ایلچی تو انہی اہل سبا کی طرف واپس ہوجا اور لوٹ جا اب ہم ان پر ایک ایسا لشکر لیکر پہنچتے ہیں کہ ان لوگوں سے اس لشکر کا مقابلہ اور سامنا نہ ہوسکے گا اور ہم ان کو شہر سبا سے ذلیل کرکے نکال دیں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ ذلیل اور محکوم ہوجائیں گے یعنی ہم نے تو اس لئے پیغام بھیجا تھا کہ وہ مشرکانہ افعال کو چھوڑ کر اسلام قبول کرلیتے لیکن اگر وہ مال کا لالچ دے کر دین حق سے بچناچاہتے ہیں تو تو واپس جا اور ان کو اطلاع دے دے کہ اب جو بات ہوگی میدان جنگ میں ہی ہوگی اور وہ ہمارے لشکرکا مقابلہ نہ کرسکیں گے اور ہمیشہ کے لئے محکوم اور ذلیل ہوجائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اور کسی پیغمبر نے اس طرح بات نہیں فرمائی ان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زور تھا جو یہ فرمایا 12
Ayah 27:38

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اے اہل دربار کوئی تم میں ایسا بھی ہے کہ قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہوکر میرے پاس آئیں بلقیس کا تخت میرے پاس لے آئے

(38) غرض ! بلقیس نے ایلچی کا پیام سن کر یہ فیصلہ کیا کہ ہم کو چلناچاہئے اور مقابلہ نہیں کرنا چاہئے ورنہ مبادا محکومی اور ذلت کا سامنا ہو چناچہ وہ وہاں سے روانہ ہوئی اور یہاں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے درباریوں سے فرمایا اے اہل دربار کوئی تم میں ایسا بھی ہے کہ قبل اس کے کہ وہ لوگ میرے پاس مطیع ہوکر آئیں بلقیس کا تخت میرے پاس لے آئے یعنی وہ لوگ چونکہ اسلام کی اطاعت کے لئے آرہے تھے اس لئے مسلمین کی قید واقعی ہے غالباً یہ بھی مقصود ہوگا کہ معجزے کا اظہار بھی ان پر ہوجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہی کافر جو اپنی امان میں نہیں اس کا مال زبردستی سے حلال ہے جب وہ مسلمان ہوا پھر حلال نہیں 12 وفیہ اشارۃ ان مال الحربی قبل الانقیاد والا سلام مباح
Ayah 27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے عرض کیا میں اس سے پیشتر کہ آپ اپنے اجلاس سے اٹھیں اس تخت کو آپ کے پاس لے آئوں گا اور میں آپکو یقین دلاتا ہوں کہ میں اس تخت کے لانے کی طاقت رکھتا ہوں اور قابل اعتماد ہوں

(39) اس پر جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے عرض کیا میں اس سے پیشتر کہ آپ اپنے اجلاس سے اٹھیں اور کھڑے ہوں اس تخت کو آپ کے پاس لے آئوں گا اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اس تخت کے لانے پر طاقت رکھتا ہوں اور قابل اعتماد اور امانت دار ہوں یعنی میں اس کو آپ کا اجلاس ختم ہونے سے پہلے لا حاضر کروں گا اگرچہ وہ بہت وزنی ہے مگر میں اس پر طاقت رکھتا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس لئے میں جواہرات لگے تھے بیش قیمت 12
Ayah 27:40

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا علم تھا عرض کیا کہ میں اس تخت کو آپ کی خدمت میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے یعنی جسم زدن میں حاضر کئے دیتا ہوں پھر جب سلیمان (علیہ السلام) نے اس تخت کو اپنے روبرو رکھا ہوا دیکھا تو کہا یہ بھی میرے پروردگار کا ایک فضل ہے تاکہ وہ مجھ کو آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں اور جو شخص شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو شخص ناسپاس کی روش اختیار کرتا ہے تو میرا رب بےپروا اور کرم کرنے والا ہے

(40) ایک شخص جس کے پاس کتاب الٰہی کا علم تھا کہا کہ میں اس تخت کو آپ کی خدمت میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے یعنی چشم زون میں حاضر کئے دیتا ہوں پھر جب سلیمان (علیہ السلام) نے اس تخت کو اپنے روبرو رکھا ہوا دیکھا تو کہا یہ بھی میرے پروردگار کا ایک فضل ہے تاکہ وہ مجھ کو آزمائے اور میں اس کا شکر بجا لاتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں اور جو شخص شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدہ کو اور بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو شخص ناسپاسی اور کفران نعمت کی روش اختیار کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا اور کریم ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تخت اپنے روبرو رکھا ہوا دیکھ کر فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آیا ہے خواہ اس کا آنا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی روحانیت کا معجزہ ہو یا آصف کی کرامت اور اسم اعظم کی برکت اس کا سبب ہو بہرحال اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ آناً فاناً میں اتنا بڑا تخت صدہا میل کی مسافت طے کر کے آگیا پھر اس فضل الٰہی اور انعام خداوندی کا فلسفہ اور اس کی علت بتائی کہ یہ انعام اس لئے ہوا کہ جس طرح مصائب و آلام میں آزمائش و امتحان پوشیدہ ہوتا ہے اسی طرح فضل و احسان کے دامنوں میں بھی حضرت حق کی جانب سے ابتلاء اور آزمائش پنہاں ہوتی ہے پھر یہ بھی فرمایا کہ حضرت حق جل مجدہ کسی کے شکر اور اعتراف احسان کا محتاج نہیں اور نہ اس کو کسی کی ناسپاسی کی پروا ہے شکر بجا لانے والا اپنے ہی فائدے اور نفع کو شکر بجالاتا ہے اور شکر کی بجا آوری کا نفع ازدیا و نعمت کی شکل میں اسی کو ملتا ہے۔ لئن شکرتم لازیدنکم اگر کوئی اس کے فضل کا استقبال ناشکری اور کفران نعمت کے ساتھ کرتا ہے تو میرے پروردگار کا کچھ نقصان نہیں ہوتا وہ تو غنی ہے اور صفات عالیہ کا مالک ہے۔ شاہ صاحب (رح) نے کریم کا ترجمہ نیک ذات کیا ہے علم کتاب سے مراد یا تو اسم اعظم ہے یا توریت کا علم مراد ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ ظاہر کے اسباب سے نہیں آیا اللہ کا فضل ہے کہ میرے رفیق اس درجے کو پہونچے جن سے کرامت ہونے لگی نہ پھر اوے آنکھ یعنی کسی طرف دیکھنے سے پھر اپنی طرف دیکھے اور اس کے پاس ایک علم تھا کتاب کا یعنی اللہ کے اسماء اور کلام کی تاثیر کا وہ شخص آصف تھا ان کا وزیر 12 یعنی آصف نے اسم اعظم جو جو اس کو یاد تھا اس کو پڑھ کر دعا کی شاید اسم اعظم یا حی و یا قیوم ہوگا۔ عبرانی میں آہیاً شراہیاً کہا گیا ہے ہوسکتا ہے یا ذوالجلال والاکرام ہو اسم اعظم کی بحث فقیر نے اپنی کتاب مشکل کشا کی ابتداء میں کی ہے وہاں ملاحظہ کرلی جائے۔