27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ بلقیس کے لئے اس کے تخت میں کچھ تبدیلی کردو تاکہ ہم دیکھیں کہ اس کو اس کا پتہ لگتا ہے یا اس کا ان ہی لوگوں میں شمار ہے جن کو راہ نہیں ملتی

(41) سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ بلقین کے لئے اس کے تخت میں کچھ تغیر و تبدیلی کردو تاکہ ہم دیکھیں کہ اس کو اس کا پتہ لگتا ہے یا اس کا شمار ان ہی لوگوں میں ہے جن کو پتہ نہیں لگتا اور راہ نہیں ملتی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں روپ بدلنا کہ وہ جڑا ئو تھا اس کا جڑائو اکھیڑ کر اور قرینے سے جڑا اور بلقیس کی عقل آزمائی منظور تھی اور اپنا معجزہ دکھانا 12 یعنی چیز وہی تھی اس کی صورت اور اس کے روپ میں کچھ تبدیلی کرادی۔
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پھر جب بلقیس حاضر ہوئی تو کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے اس نے جواب دیا گویا ہوبہو وہی ہے اور ہم لوگوں کو تو اس واقعہ سے پیشتر ہی تحقیق ہوچکا ہے یعنی آپ کا حال اور ہم حکم بردار ہوچکے ہیں

(42) پھر جب بلقیس حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے اس نے جواب دیا گویا ہوبہو وہی ہے کہنے لگی ہاں ہے تو ایسا ہی اور ہم لوگوں کو تو اس واقعہ سے پہلے معلوم اور تحقیق ہوچکا ہے اور ہم حکم بردار ہوچکے ہیں یعنی آپ کا حال پہلے ہی معلوم ہوچکا ہے کہ آپ صرف بادشاہ ہی نہیں ہیں بلکہ آپ کے پاس حکومت و نبوت دونوں چیزیں ہیں اس معجزے کی چنداں ضرورت نہ تھی ہم تو آپ کے کمالات کے پہلے ہی معترف اور آپ کے مطیع و منقاد ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) یعنی اس معجزے کی حاجت نہ تھی 12
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور اس کو اب تک ایمان لانے سے اس چیز نے روک رکھا تھا جس کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کیا کرتی تھی کیونکہ وہ کافروں کی قوم میں سے تھی

(43) اور اس کو اب تک ایمان لانے سے اس چیز نے روک رکھا جس کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت اور پوجا کیا کرتی تھی کیونکہ وہ کافروں کی قوم میں سے تھی یعنی ایمان لانے سے اس کو اس کی شمس پرستی نے روک رکھا تھا چونکہ وہ کافر قوم کی ایک فرد تھی اس لئے بچپنے سے شمس پرستی کی عادی تھی لیکن جب اس پر تنبیہ ہوئی تو عقل عادت پر غالب آئی اور شرک سے باز آگئی یہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو شمس پرستی سے روک دیا جس میں وہ اپنی قوم کے ساتھ مبتلا تھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو منع فرما دیا اور جس کو عادتاً کرتی تھی اس کو ترک کردیا۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

بلقیس سے کہا گیا کہ اس محل میں داخل ہو پھر جب اس نے اس محل کے صحن کو دیکھا تو اس کو لہریں پڑتا ہوا پانی سمجھا اور اس نے پانی دونوں پنڈلیاں کھول دیں سلیمان (علیہ السلام) نے کہا یہ ایک محل ہے جس میں شیشے جڑے ہوئے ہیں اس پر بلقیس کہنے لگی اے میرے پروردگار میں اپنی جان پر ظلم کرتی رہی اور میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ ہوکر اللہ رب العالمین پر ایمان لائی

(44) بلقیس سے کہا گیا کہ محل میں چلئے جب اس نے محل کے صحن کو دیکھا تو اس کو لہریں پڑتا ہوا گہرا پانی سمجھا اور اس نے پانی کو عبور کرنے کے لئے اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا یہ ایک محل ہے جس کے فرش میں شیشے لگے ہوئے اور جڑے ہوئے ہیں اس پر بلقیس کہنے لگی اے میرے پروردگار میں اپنی جان پر ظلم کرتی رہی اور میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ ہوکر اس اللہ تعالیٰ پر ایمان لائی جو تمام جہانوں کا پالن ہار اور پرورش کرنے والا ہے یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کے ٹھہرنے کو ایک محل بنوایا جس میں شیشے لگائے گئے یہاں تک کہ صح ن میں بھی شیشے جڑوائے اور صحن میں جو بڑا حوض تھا جس کو عبور کرکے دیوان خانے میں داخل ہوتے تھے اسے بھی شیشے سے پاٹ دیا حوض کا شیشہ اس کو نظر نہ آیا شیشے میں سے پانی کی لہریں نظر آئیں اس نے پایاب سمجھ کر پانی میں سے گزر ناچاہا اپنی دونوں پنڈلیاں کھولیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دیوان خانے میں سے فرمایا یہ ایک محل ہے جو شیشوں سے بنایا گیا ہے اور حوض پر بلکہ تمام صحن میں شیشے لگے ہوئے ہیں تب اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے کہا اے میرے پروردگار میں اپنی جان پر زیادتی اور ظلم کرتی رہی اور میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ ہوکر اور ان کے طریقہ کو اختیار کرتے ہوئے رب العالمین پر ایمان لائی اور اسلام قبول کرلیا۔ بلقیس چونکہ آفتاب کو پوجا کرتی تھی اس لئے اس کو حوض پر شیشہ پاٹ کر دکھایا کہ آفتاب میں جو نور نظر آتا ہے اس نور کی وجہ سے افٓتاب خدا نہیں ہوسکتا جس طرح شیشے میں سے پانی کا نظر آنا حقیقی پانی نہیں ہے جو لوگ عام طور سے مظاہر پرستی کے قائل ہیں ان سب کے لئے اس سورت میں تنبیہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دیوان خانے میں بیٹھے تھے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس میں پتھروں کی بجائے شیشے کا فرش تھا دور سے لگتا پانی گہرا اس نے پنڈلیاں کھولیں پانی میں بیٹھے کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پکارا یہ شیشوں کا فرش ہے پانی نہیں اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان کی عقل کا کمال معلوم ہوا کہ دین یہی ہے جو یہ سمجھتے ہیں وہی صحیح ہے 12 بعض مفسرین نے اس موقع پر بعض ایسی باتیں بیان کی جن کا مبنیٰ محض اسرائیلی روایات ہیں اور وہ قابل اعتنا نہیں ہیں۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو یہ پیغام دیکر بھیجا کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو یہ پیغام سنتے ہی وہ لوگ دو فریق ہوکر آپس میں جھگڑنے لگے

(45) اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو یہ پیام دیکر بھیجا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو یہ پیغام بنتے ہی وہ لوگ دو فریق ہوکر آپس میں جھگڑنے لگے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک ایمان والے اور ایک منکر جیسے مکہ کے لوگ پیغمبر کے آنے سے جھگڑنے لگے 12 خلاصہ یہ کہ دونوں فریق ہوگئے ایک سرداروں اور سرمایہ داروں کا دوسرا غرباء اور ضعفاء کا جیسا کہ سورة اعراف میں گزرچکا ہے اور یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جب کوئی صحیح خبر پیش کی جائے تو کچھ مانتے ہیں اور کچھ نہیں مانتے یہی جھگڑے کی صورت ہوتی ہے۔
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اے برادران قوم تم لوگ بھلائی سے پہلے برائی کو کیوں جلدی طلب کرتے ہو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے

(46) حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا اے برادران قوم ! تم لوگ بھلائی سے پہلے برائی کی کیوں جلدی کرتے ہو اور برائی کو کیوں جلدطلب کرتے ہو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے یعنی توبہ کرتے اور ایمان لاتے عذاب کی بات سن کر ڈرتے یہ تو نہ کیا بلکہ عذاب مانگنے لگے یہ شاید فاتنا بما تعدنا ان کنت من المرسلین کے جواب میں کہا ہوگا کہ عذاب طلب کرنے سے پہلے اچھی باتوں پر آمادہ کیوں نہیں ہوتے تاکہ رحم کے مستحق قرار پائو
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہم نے تجھ کو اور تیرے ساتھیوں کو منحوس قدم پایا صالح (علیہ السلام) نے کہا تمہاری نحوست کا سبب تو اللہ ہی کے علم میں ہے اصل واقعہ یہ ہے کہ تم وہ لوگ ہو جو آزمائش میں مبتلا کئے گئے ہو

(47) وہ کہنے لگے ہم نے تو تجھ کو اور تیرے ساتھیوں کو منحوس قدم پایا صالح (علیہ السلام) نے کہا تمہاری نحوست کا آزمائش میں ڈالے گئے ہو اور جانچے گئے ہو یعنی الزام دیا حضرت صالح (علیہ السلام) کو نااتفاقی پھیلانے کا یعنی تو نے یہ نئی بات چلا کر ہم میں تفریق پیدا کردی یا قحط ہوا تھا اس کو کہا کہ تیری اور تیرے ساتھیوں کی یہ نحوست ہے حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس تمہاری نحوست کا سبب تو اللہ کے علم میں ہے اور وہ تمہارے اعمال میں جن کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ تم کو جانچا جاتا ہے اور تم لوگ جانچے جاتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کفر کی شامت سے تم پر سختی پڑی ہے کہ دیکھیں سمجھتے ہو یا نہیں 12
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور اس بستی میں تو آدمی تھے جو ملک میں فساد برپا کرتے پھرتے تھے اور اصلاح نہ کرتے تھے

(48) اور اس بستی میں نو 9 آدمی تھے جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور سنوارو اصلاح نہ کرتے تھے یعنی نو آدمی بہت ہی شریر تھے ان کا کام سوائے فساد کے اور کچھ تھا ہی نہیں حجر جو بستی کا نام تھا اس میں بھی فساد برپا کرتے رہتے تھے اور بستی سے باہر بھی فساد کیا کرتے تھے اصلاح اور سنوارو سے ان کو کوئی تعلق نہ تھا۔
Ayah 27:49

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

ان فسادیوں نے آپس میں کہا تم سب اللہ کی قسم کھائو کہ ہم صالح (علیہ السلام) اور اس کے متعلقین پر شبخون ماریں گے پھر ہم اس کی طرف سے دعویٰ کرنے والے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم تو ان لوگوں کے مارے جانے کے وقت موجود ہی نہ تھے اور یقینا ہم بالکل راست گو ہیں

(49) ان فسادیوں نے آپس میں کہا کہ سب اس پر اللہ کی قسم کھائو کہ ہم صالح (علیہ السلام) اور اس کے متعلقین پر شب خون ماریں گے پھر ہم اس کی طرف سے دعویٰ کرنیوالے ولی اور وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم تو ان لوگوں کے مارنے جانے کے وقت موجود ہی نہ تھے اور یقینا ہم بالکل ہی سچے اور راست گو ہیں۔ یعنی اس بات پر قسم کھا کر متفق ہو کہ ایک رات کو شب خون مار کر ان سب مسلمانوں اور صالح (علیہ السلام) کا صفایا کردو پھر اگر تحقیق کا معاملہ آئے اور ان لوگوں کا کوئی ولی کھڑا ہو اور پنچایت میں مقدمہ آئے تو خون کا دعویٰ کرنے والے وارث سے ہم کہہ دیں کہ مارنا تو کیسا ہم تو وہاں موجود بھی نہ تھے اور تاکیداً کہیں گے کہ ہم بالکل راست گو ہیں گویا قتل کا فیصلہ بھی کرلیا اور بیان بھی مرتب کرلئے اور یہ سمجھے کہ رات کا واقعہ ہوگا گواہ کوئی ملے گا نہیں ہم بری ہوجائیں گے۔
Ayah 27:50

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور انہوں نے ایک خفیہ سازش کی اور ہم نے بھی ان کے خلاف ایک خفیہ تدبیر کی اور ان کو اس تدبیر کی خبر بھی نہ ہوئی

(50) اور انہوں نے ایک خفیہ سازش کی اور ہم نے بھی ان کی سازش کے توڑ کے لئے ایک خفیہ تدبیر کی اور ان کو اس تدبیر کی خبر بھی نہیں ہوئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کے ہلاک ہونے کے اسباب پورے ہوگئے تھے جب تک شرارت حد کو نہیں پہونچتی عذاب نہیں آتا 12 یعنی ان شرارت پسندوں نے سازش کی کہ حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو قتل کر ڈالیں حضرت صالح (علیہ السلام) کے مکان پر اس ارادے سے پہونچے یا حضرت صالح (علیہ السلام) جس مسجد میں نماز پڑھتے تھے وہاں گئے غرض ! اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی مسلمانوں کو بچا لیا گیا اور قوم کو ایک ہولناک چیخ سے ہلاک کردیا گیا اسی کو آگے بیان فرمایا ان بد معاشوں کے منصوبے خاک میں مل گئے اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کامیاب ہوئی حضرت صالح (علیہ السلام) نے قریب کے ایک پہاڑ میں مسجد بنا رکھی تھی اس میں رات کو عبادت کیا کرتے تھے۔
Ayah 27:51

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

سو اے پیغمبر دیکھئے کہ ان کی سازش کا انجام کیسا ہوا کہ ہم نے ان نو فسادیوں کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر ڈلا

(51) پس اے پیغمبر دیکھئے ان کی خفیہ سازش کا انجام کیسا ہوا اور ہم نے ان نو فسادی اشخاص کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کرڈالا اور کھیڑ مارا یعنی آسمانی عذاب سے پوری قوم تباہ کردی گئی۔
Ayah 27:52

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

سو اب یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے کفر کی وجہ سے ویران پڑے ہوئے ہیں بلاشبہ اس ثمود کے واقعہ میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے جو دانش مند ہیں

(52) سو اب یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے کفر کی وجہ سے ویران اور ڈھیے ہوئے پڑے ہیں بلاشبہ اس ثمود کے واقعہ میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے جو دانش مند ہے۔
Ayah 27:53

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو ایمان اور تقویٰ کی روش اختیار کرچکے تھے

(53) اور ہم نے ان لوگوں کو اس عذا ب سے بچالیا جو ایمان اور پرہیز گاری کا طریقہ اختیار کرچکے تھے یعنی اہل مکہ شام جاتے ہوئے ثمود کی ویران بستیوں کو دیکھتے ہیں اس لئے فرمایا کہ یہ ان کے ڈھئے ہوئے گھر پڑے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہی حال ہے ان کافروں کا 12 خلاصہ ! یہ کہ کافروں کا یہ حشر ہوا اور اہل یقین اور اہل تقویٰ بچالئے گئے۔
Ayah 27:54

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم دیدہ و دانستہ اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو

(54) اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو پیغمبر نا کر بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم دیدہ و دانستہ اور جانتے بوجھتے بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دیکھتے ہو کیسا برا کام ہے 12
Ayah 27:55

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم شہوت کی خاطر عورتوں کو چھوڑ کر مردوں پر مائل ہوتے ہو اصل واقعہ یہ ہے کہ تم لوگ بڑے ہی جاہل ہو

(55) آگے اس کا بیان ہے کیا تم شہوت رانی کی خاطر عورتوں کو چھوڑ کر مردوں پر دوڑتے اور مائل ہوتے ہو بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ بےسمجھ اور بڑے ہی جاہل ہو یعنی اس طرح مادہ منویہ کو ضائع کرنا بڑی جہالت اور ناسمجھی کی بات ہے۔
Ayah 27:56

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

اس پر اس کی قوم کے پاس سوائے اس کے کوئی جواب نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے لوط (علیہ السلام) کے لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو کیونکہ یہ بہت پاکباز بننا چاہتے ہیں

(56) اس پر اس کی قوم کیپ اس سوائے اس کے اور کوئی جواب نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے کہ لوط (علیہ السلام) اور اس کے متعلقین کو اپنی بستی سے نکال دو کیونکہ یہ لوگ بہت ستھرے اور پاکیزہ بننا چاہتے ہیں یعنی ان کو پاک باز بننے کا بہت شوق ہے۔
Ayah 27:57

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

آخر کار ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے متعلقین کو سوائے اسکی بیوی کے بچالیا کیونکہ ہم نے اسکی بیوی کے لئے انہی لوگوں میں رہ جانا مقدر کر رکھا تھا جو رہ جانیوالے تھے

(57) پھر ہم نے اس لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے متعلقین کو سوائے اس کی بیوی کے بچالیا اس کی بیوی کے لئے ہم نے انہی لوگوں میں رہ جانا مقدر کر رکھا تھا جو رہ جانے والے تھے یعنی ہم نے حضر ت لوط (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین کو بچالیا مگر اس کی بیوی کو ایمان نہ لانے کی وجہ سے عذاب میں رہ جانے والوں میں رہ جانا تجویز کردیا اور اس کے لئے یہی مقدر کردیا کہ وہ رہ جانے والوں کے ہمراہ رہے۔
Ayah 27:58

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک عجیب قسم کا مینہ برسایا یعنی پتھروں کا سو جو مینہ اب لوگوں پر برسا جنکو ڈرایا جاچکا تھا وہ کیا برا مینہ تھا

(58) اور ہم نے ان پر ایک عجیب قسم کا اور نئی طرح کا مینہ برسایا جو مینہ ان پر برسا جو ڈرائے جاچکے تھے وہ کیا برا مینہ تھا یعنی ان پر پتھرائو ہوا اور کھنگروں کا مینہ برسا ان لوگوں کو پہلے سے ڈرایا جاچکا تھا لیکن باز نہ آئے بالآخر بستیاں الٹ دی گئیں اور کھنگر برسائے گئے جیسا کہ سورة حجر میں گذرچکا ہے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصے میں ہم لادیں گے لشکر جن سامنا نہ کرسکیں گے وہی بات ہوئی رسول میں اور مکہ والوں میں اور حضر ت صالح (علیہ السلام) پر نو شخص متفق ہوئے کہ رات کو پڑیں اللہ نے ان کو بچایا اور ان کو کھپایا ۔ مکہ کے لوگ بھی یہی چاہ چکے تھے لیکن نہ بنا جس رات حضرت ﷺ نے ہجرت کی کئی کافر حضرت کے گھر کو گھیرے بیٹھے تھے کہ صبح کو اندھیرے میں نکلیں تو سب مل کر مارلیں حضرت ﷺ نکل گئے ان کو نہ سوجھا اور قوم لوط (علیہ السلام) نے چاہا کہ شہر سے نکال دیں یہ بھی چاہ چکے تھے اللہ نے آپ سے نکلنا بنادیا اور اسی میں کام بنا 12
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

آپ کہئے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے سزا وار ہیں اور خدا کے ان بندوں پر سلامتی نازل ہوتی رہے جنکو اس نے برگزیدہ کیا بھلا کیا اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وہ چیزیں جنکو یہ مشرک اس کا شریک ٹھہراتے ہیں

(59) اب تک رسالت پر گفتگو تھی اب توحید باری کے دلائل مذکور ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر یوں کہئے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سزوار اور اللہ تعالیٰ ہی کو لائق ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ان بندوں پر سلامتی نازل ہوتی رہے جس کو اس نے منتخب فرمایا اور برگزیدہ کیا بھلا کیا اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وہ چیزیں جن کو یہ مشرک اس کا شریک ٹھہراتے ہیں سلامتی نازل ہو برگزیدہ بندوں پر یعنی انبیاء اولیاء صلحاء اور اتقیاء پر حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ کی تعریف اور پیغمبر پر سلام بھیج کر اگلی بات شروع کرنی لوگوں کو سکھادی 12 مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر کو خطبہ تعلیم کیا کہ ہماری طرف سے توحید کا ذکر شروع کرو گے تو اس سے پہلے خطبہ کے الفاظ ادا کرلو بعض لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے کمالات اور احسانات جو اوپر پیغمبروں پر مذکور ہوئے ہیں اس پر شکر بجا لانے کا حکم ہوا بہر حال یہ بھی ہوسکتا ہے اب آگے توحید الٰہی کا وعظ ہے اور یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا جن کو یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں یعنی بت وغیرہ چونکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بہتر ہونے کا قول کرتے تھے لیکن باوجود اسکے کمزور مخلوق کو اسکی عبادت میں شریک کرتے تھے ۔
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے آسمانوں کو اور زمین کو بنایا اور کس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی نازل کیا پھر اس پانی کے ذریعہ سے ہم نے خوش منظر باغ اگائے ورنہ یہ کام تمہارے بس کا نہ تھا کہ تم ان باغوں کے درخت اگا سکو کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے کوئی نہیں بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو کج روی اختیار کرتے ہیں

(60) بھلا کس نے آسمانوں کو اور زمین کو بنایا اور کس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر اس پانی سے ہم نے خوش منظر اور پر رونق باغ اگائے یہ کام تمہارے بس کا نہ تھا کہ تم ان باغوں کے درخت اگا سکو کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے کوئی نہیں بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ کج روی اختیار کرتے ہیں اور دوسروں کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتے ہیں یعنی زمین و آسمان کا بنانا پھر آسمان سے پانی نازل کرنا پر رونق اور پھول پھل سے لدے ہوئے باغ اگانا حالانکہ تم میں تو اتنی بھی طاقت اور سکت نہیں کہ ایک درخت بھی اگا سکو چہ جائے کہ پھول یا پھل کی رونق اور بہار پر کوئی تمہارا بس اور قابو ہو تو بتائو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے جو صنعت و خالقیت کا مالک ہو جب کوئی اور معبود ہی نہیں تو سوائے اس کے کیا ہے کہ یہ لوگ صحیح راہ سے مڑتے اور کج روی اختیار کر رہے ہیں اور دوسروں کو عبادت میں شریک کرکے اللہ تعالیٰ کے ساتھ برابری کا درجہ دے رہے ہیں۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس زمین کے درمیان ندیاں بنائیں اور اس زمین کے لئے بھاری بھاری پہاڑ بنائے اور دو دریائوں کے مابین روک بنائی کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ہرگز نہیں بلکہ ان میں سے اکثر تو اس بات کو جانتے بھی نہیں

(61) بھلا کس نے زمین کو بسنے والوں کے لئے قرار گاہ بنایا اور زمین کو ٹھہرنے کے لائق بنایا اور زمین کے درمیان ندیاں بنائیں اور اس زمین کے ٹھہرانے کے لئے بھاری بھاری پہاڑ بنائے اور دو دریائوں کے مابین ایک آڑ بنائی کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ہرگز نہیں بلکہ ان میں کے بہت سے تو اتنی موٹی بات سمجھتے بھی نہیں یعنی زمین کو ایسا بنایا کہ اس میں انسان اور حیوانات آباد ہوسکیں پھر اس زمین کے درمیان ندیاں بنائیں جس کے پانی کو پیا جاسکے اور کھیتی کے کام میں بھی آسکے اور زمین کے ٹھیرائو اور جمائو کے لئے جگہ جگہ زمین میں بھاری پہاڑ بنائے اور دودریائوں کے درمیان روک اور حاجب بنایا کہ دو دریا آپس میں مل نہ جائیں اور ایک دریا دوسرے دریا کو متاثر ن ہ کردے تو بتائو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے جو اس کا ہاتھ بٹاتا ہو کوئی نہیں بلکہ واقعہ ہے کہ اکثر لوگ ان میں کے ان موٹی موٹی باتوں کو سمجھتے تک نہیں۔
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون ہے جو بیقرار کی پکار کو پہنچتا ہے اور تکلیف و مصیبت کو دور کردیتا ہے جب وہ بیقرار اس کو پکارتا ہے اور کون ہے جو تم کو زمین میں تصرف کا حقدار بناتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے تم لوگ بہت ہی کم غور کرتے ہو

(62) بھلا کون ہے جو بیقرار کی پکار کو پہنچتا ہے اور تکلیف و مصیبت کو دور کردیتا ہے جب بیقرار اس کو پکارتا ہے اور کون ہے جو تم کو زمین میں اگلوں کو نائب بناتا ہے اور تم کو زمین میں صاحب تصرف اور تصرف کا حقدار بناتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے تم لوگ بہت ہی کم غور کرتے اور یاد رکھتے ہو یعنی پہلوں کو لے جاتا ہے اور پیچھے آنیوالوں کو ان کے حقوق منتقل ہوجاتے ہیں اور پہلوں کے جانے کے بعد پچھلے تمام تصرفات کے حقدار ہوجاتے ہیں اسی طر ح مضطر و بیقرار جب اس کو پکارتا ہے تو اس کی پکار کو کون پہنچتا ہے اور کون اس کی مصیبت پریشانی اور تکلیف کو کھولتا اور دور کرتا ہے کیا کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی معبود ہے تم لوگ بہت ہی کم سوچتے اور نصیحت قبول کرتے ہو ظاہر ہے کہ جب کوئی اور معبود نہیں ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی عبادت میں کیوں شریک کرتے ہو۔
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون ہے جو جنگل اور دریا کی تاریکیوں میں تمہاری رہنمائی اور راہبری کرتا ہے اور کون ہے جو اپنی رحمت یعنی بارش سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے بلندو بالاتر ہے

(63) بھلا کون ہے جو جنگل اور دریا کی تاریکیوں میں تمہاری رہنمائی اور رہبری کرتا ہے اور کون ہے جو اپنی رحمت اور بارش سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجتا اور چلاتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے بلندو بالاتر ہے یعنی جنگل کی اندھیریوں اور سمندر کی تاریکیوں میں کون سیدھا راستہ بتاتا ہے اور تاروں کے ذریعے کون تمہاری رہنمائی کرتا ہے اور اپنی رحمت یعنی بارش جو سراسر رحمت ہے اس بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں کون چلاتا ہے جس سے باران رحمت کی امید بلکہ یقین ہوجاتا ہے کیا ان باتوں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور بھی قابل عبادت ہے جو اس کی مدد کرتا اور ہاتھ بٹاتا ہے اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے بہت بلندو بالاتر ہے یعنی جو اپنی خدائی میں کسی کا محتاج نہیں یہ بدنصیب اس معبود برحق کی عبادت میں دوسروں کو شریک کر رہے ہیں۔
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے آپ ان سے کہئے اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو

(64) بھلا کون ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا اور کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے آپ ان سے فرمائیے ا چھا اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو کوئی برہان اور دلیل پیش کرو یعنی پہلی بار اس کا پیدا کرنا تو سب کو تسلیم ہے اور دوبارہ پیدا کرنے پر براہین اور دلائل قطعیہ پر قائم ہیں آسمان سے پانی برسا کر زمین سے ہر قسم کے رزق کا سامان پیدا کرتا ہے اللہ کے ساتھی اور مددگار بھی نہیں بناتے پھر ان اصنام کو استحقاق عبادت پر تمہارے پاس جو دلیل ہو وہ پیش کرو اگر تم اپنے دعوے میں صادق اور سچے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ یہ بھی عبادت اور پوجا کے مستحق ہیں وہ متقضیات عبادت پیش کرو اور دلائل سے ثابت کرو جن سے غیر اللہ کا حق عبادت ثابت ہوتا ہے لفظ امن جو بار بار آیا ہے یہ اصل میں ام من ہے پہلا میم دوسرے میم میں مدغم ہوگیا ہے ام استفہامیہ کی دو قسمیں ہیں ایک ام متصلہ دوسری ام منقطعہ بعض حضرات نے ام متصلہ معادلۃ للہمزہ کے موافق ترجمہ کیا ہے اور بعض نے ام منقطعہ کی بنا پر ترجمہ کیا ہے۔ صاحب روح المعانی سے اقتباس کرنے والوں نے ام متصلہ کی بنا پر ترجمہ کیا ہے لیکن ہم نے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رح) کے خاندان کا ترجمہ پیش نظررکھا ہے اور ہم نے ترجمہ میں انہی کا اتباع کیا ہے مطلب یکساں ہے۔
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے جس قدر مخلوقات آسمانوں میں اور زمین میں موجود ہے کوئی بھی سوائے خدا تعالیٰ کے غیب کی بات نہیں جانتا اور ان کو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے

(65) آپ کہہ دیجئے جس قدر مخلوقات آسمانوں میں اور زمین میں موجود ہے کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے غیب کی بات نہیں جانتا اور ان کو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے پہلی آیتوں میں توحید و رسالت کی بحث تھی اب قیامت کا ذکر فرمایا جو عقائد میں اہم عقیدہ ہے مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جو قیامت کا وقت معین نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو قیامت کے وقت کا علم نہیں دیا گیا تو قیامتہی پر کیا موقوف ہے آسمان و زمین میں جس قدر مغیبات ہیں ان کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں اور مخلوقات کو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ مرنے کے بعد کب اٹھائے جائیں گے یا اس آیت کا تعلق بھی توحید کے ساتھ ہے اور مطلب یہ ہے کہ معبود وہی ہوسکتا ہے جو قدرت کاملہ کے ساتھ علم بھی کامل اور محیط رکھتا ہو اور یہ وہ صفت ہے جو زمین و آسمان کی مخلوق میں نہیں پائی جاتی اور کسی کو یہ صفت حاصل نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ہی عبادت اور معبودیت کا مستحق ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا لائق پرستش نہیں۔
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

اصل بات یہ ہے کہ قیامت کے بارے میں ان منکروں کا علم تھک کر رہ گیا بلکہ وہ آخرت کے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ وہ آخرت سے اندھے بنے ہوئے ہیں

(66) کوئی نہیں اصل بات یہ ہے کہ قیامت کے بارے میں ان کا علم و فکر تھک کرہ یا بلکہ وہ آخرت کے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ وہ آخرت سے اندھے بنے ہوئے ہیں یعنی قیامت کے وقت کے تعین کا تو ایک بہانہ ہے حالانکہ عدم علم عدم وقوع کو مستلزم نہیں اگر نبی کریم ﷺ کو اس وقت کا نہیں بتایا گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت کا وقوع بھی نہیں ہوگا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان کا علم اور ان کا فکر اس بارے میں ہار گیا اور نیست و نابود ہوگیا اور ان کو اس کے وقوع کا یقین ہی نہیں بلکہ یہ آخرت کے بارے میں کوئی رائے نہیں قائم کرسکتے اور شک میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ وہ اس آخرت سے اندھے بنے ہوئے ہیں جس طرح وہ اندھا جو بتانے والے کا یقین نہ کرے اس کو صحیح راستہ نہیں مل سکتا اسی طرح یہ بھی آخرت کے دلائل پر غور نہیں کرتے اور نہ تامل سے کام لیتے ہیں آخرت کو بتانے والوں کا یقین نہیں کرتے اسی لئے آخرت کی طرف سے اور اس کے یقین سے اندھے بنے ہوئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نقل دوڑا کر تھک گئے آخرت کی حقیقت نہ پائی کبھی شک کرتے ہیں کبھی منکر ہوتے ہیں 12
Ayah 27:67

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر اختیارکررکھا ہے وہ یوں کہتے ہیں کہ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا خاک ہوگئے تو کیا ہم پھر نکالے جائیں گے

(67) آگے منکرین دین حق کے ان شبہات کا ذکر ہے جو وہ قیامت کے وقوع پر کیا کرتے ہیں اور یہ دین حق کے کیا منکر یوں کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مرنے کے بعد خاک ہوگئے تو کیا ہم پھر زندہ کرکے قبروں سے نکالے جائیں گے۔ یعنی جب ہم مرگئے اور ہمارے باپ داد مر کر خاک میں مل گئے اور ہم سب مٹی ہوگئے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کرکے پھر نکالے جائیں گے۔
Ayah 27:68

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یہ دوبارہ زندہ ہونے کا وعدہ تو پہلے ہی سے ہمارے اور ہمارے باپ دادوں کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے مگر یہ کچھ نہیں محض اگلے لوگوں کی بےسرو پا کہانیاں ہیں

(68) یہ دوبارہ زندہ ہونے کا وعدہ تو پہلے ہی سے ہمارے اور ہمارے باپ دادوں سے ہوتا رہا ہے مگر یہ کچھ نہیں محض اگلے لوگوں کے بےسروپا اور بےسند باتیں ہیں جو نقل ہوتی چلی آئی ہیں یعنی ہمارے بڑوں سے نبی کریم ﷺ سے پہلے اور انبیاء کے بھی ایسے ہی وعدے ہوتے چلے آئے ہیں اور اب یہ پیغمبر ﷺ بھی ہم سے وعدے کر رہا ہے یہ باتیں محض بےسند ہیں جو اوپر سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں ان میں واقعیت بالکل نہیں ہیں۔
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم ذرا زمین چلو پھرو پھر دیکھ لو کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوا

(69) چونکہ جس طرح یہ منکر وقوع قیامت کی ہر معقول دلیل کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے بھی پیغمبروں کی تکذیب کرتے رہے پھر جو انجام ان کا ہوا وہی ان کا بھی ہونے والا ہے اس لئے ان سے کہہ دیجئے کہ تم ذرا زمین میں چلو پھرو پھر دیکھ لو کہ گناہ گاروں کا انجام کیا ہوا اور کیسا ہوا یعنی جو ان مجرموں کے ساتھ سلوک ہوا وہی تمہارے ساتھ بھی ہونے والا ہے۔
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور آپ ان کافروں پر غم نہ کھائیں اور جو خفیہ سازشیں یہ کیا کرتے ہیں ان سے آپ تنگ نہ ہوا کریں

(70) اور آپ ان کافروں پر غم نہ کھائیں اور جو خفیہ سازشیں یہ کرتے رہتے ہیں اور جو شرارتیں یہ کیا کرتے ہیں آپ ان سے تنگ دل نہ ہوا کریں یعنی غم کھانے اور تنگ ہونے کی بات نہیں کیونکہ انبیائے سابقین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا رہا ہے۔
Ayah 27:71

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور یہ کافر کہتے ہیں کہ مسلمانو اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا

(71) اور یہ منکر مسلمانوں سے کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا یعنی وعدہ عذاب و قبر کب پورا ہوگا اور قیامت کا وقوع کب ہوگا اور جس عذاب موعود کی دھمکیاں دیتے ہو اس کا وقت متعین کرو۔
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ جس عذاب کی تم جلدی کر رہے ہو کیا عجب ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہاری پیٹھ ہی کے پیچھے آلگا ہو

(72) آپ کہہ دیجئے کہ جس عذاب کی تم جلدی کر رہے ہو کیا عجب ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے آلگا ہو یعنی جس عذاب کو جلدی مانگ رہے ہو اس کا کچھ حصہ شاید تمہاری پیٹھ کے پیچھے آلگا ہو اور عنقریب پہنچ جائیگا آگے تاخیر کی وجہ بیا ن کی جاتی ہے۔
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور یقینا آپ کا رب لوگوں پر بڑا فضل رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ فضل خداوندی کی قدر نہیں کرتے

(73) اور بلاشبہ آپ کا پروردگار لوگوں پر بڑا فضل رکھتا ہے لیکن لوگوں میں کیا کثر اللہ تعالیٰ کے فضل کی قدر نہیں کرتے یعنی بجائے اس کے کہ تاخیر عذاب پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں اور ایمان لا کر شکرکا مظاہرہ کریں بکلہ تاخیر عذاب کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اور عذاب کا انکار کرتے ہیں اور عذاب الٰہی کا مذاق اڑاتے ہیں۔
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور بیشک آپ کے رب کو وہ سب باتیں معلوم ہیں جو ان کے سینوں نے چھپا رکھی ہیں اور جو یہ لوگ علانیہ کرتے ہیں

(74) اور بیشک آپ کے پروردگار کو وہ سب باتیں معلوم ہیں جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں اور جسکو وہ علانیہ کرتے ہیں یعنی تاخیر عذاب جو کسی مصلحت کے ماتحت ہوتی ہے اور جلدی نہیں کی جاتی تو اس کو یہ نہ سمجھو کو اللہ تعالیٰ کو تمہارے پوشیدہ اور علانیہ افعال کی خبر نہیں ہے اور ان افعال کی کبھی سزا نہیں ملے گی بلکہ اس کو سب معلوم ہے اور تمہارے ہی افعال پر کیا منحصر ہے بلکہ وہاں تو ہر چیز لوح محفوظ میں مکتوب ہے۔
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان و زمین میں کوئی ایسی پوشیدہ چیز نہیں ہے جو کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں نہ ہو

(75) اور آسمان و زمین میں کوئی ایسی پوشیدہ چیز نہیں جو کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں موجود نہ ہو یعنی آسمان و زمین کی پوشیدہ سے پوشیدہ چیز بھی لوح محفوظ میں لکھی ہوتی ہے۔
Ayah 27:76

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر وہ باتیں جن میں وہ باہم اختلاف کیا کرتے ہیں بیان کردیتا ہے

(76) بلاشبہ ! یہ قرآن کریم بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں کی حقیقت کو ظاہر کردیتا ہے اور بیان کردیتا ہے جن میں وہ باہم اختلاف کیا کرتے ہیں۔
Ayah 27:77

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور یقینا وہ قرآن ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے

(77) اور یقینا وہ قرآن کریم ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے یعنی بنی اسرائیل میں اکثر مسئلے جو باہم مختلف فیہا ہیں ان میں سے اکثر باتوں کو یہ قرآن کریم صاف کردیتا ہے اور اس بات کی حقیقت کو واضح کردیتا ہے اور یہ قرآن کریم یوں تو تمام مخلوقات کے لئے ہدایت و رحمت ہے لیکن خاص طورپر مسلمان کے لئے ہے چونکہ وہ اس سے استفادہ کرتے ہیں اور اعتقاداً اور عملاً اس پر عمل کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قصے کی ان کے وہاں کئی طرح پر روایت تھی اس میں اسی طرح فرمایا جو صحیح تھا اکثر عقیدے اکثر مسئلے اس میں اسی طرف اشارہ کردیا ان پر معلوم ہوا کہ صحیح وہی تھا مطلب یہ ہے کہ اہل علم کے اختلاف میں وہی صحیح بات کہہ سکتا ہے جو سب سے زیادہ اعلم ہو۔ حصول علم کے دو طریقے ہیں یا تو وہ علم مخلوق سے حاصل کیا گیا ہو یا خالق سے اور یہ قرآن کریم چونکہ خالق کی جانب سے نازل ہوا ہے اس لئے اہل علم کے اختلاف میں اسی کی بات محقق اور قابل تحقیق ہوسکتی ہے اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور قرآن کریم کی صداقت دونوں کی دلیل ہے۔
Ayah 27:78

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

بالیقین آپ کا رب ان بنی اسرائیل کے مابین اپنے حکم سے فیصلہ کردیگا یعنی قیامت کے دن اور وہی زبردست ہے سبکو جاننے والا ہے

(78) بالیقین آپ کا پروردگار ان بنی اسرائیل کے درمیان اپنے حکم یعنی اپنے عدل سے فیصلہ فرما دے گا اور وہی زبردست ہے سب کو جاننے والا ہے یعنی قیامت کے دن اپنے حکم اور عدل سے فیصلہ کردے گا اور یہ بتادے گا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے اور کونسا فریق ٹھیک بات کا قائل تھا اور کون غلط بات کہتا تھا وہ زبردست بھی ہے فیصلے کے نفاذ کی طاقت رکھتا ہے اور اس کا علم بھی سب کو محیط ہے۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

سو اے پیغمبر آپ اللہ ہی پر بھروسہ رکھئے کچھ شک نہیں کہ آپ صریح حق پر ہیں

79) لہٰذا اے پیغمبر ! آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھئے بیشک آپ صریح حق پر ہیں یعنی آپ اس طریقہ پر ہیں جو حق ہے۔
Ayah 27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

بیشک آپ مردوں کو نہیں سناسکتے اور نہ آپ بہروں کو اپنی آواز سناسکتے ہیں خصوصاً جبکہ وہ بہرے پیٹھ پھیر کر پھرجائیں

(80) آگے نبی کریم ﷺ کی اور تسلی کے لئے فرمایا ور اے پیغمبر نہ تو آپ مردوں کو سناسکتے ہیں اور نہ آپ بہروں کو اپنی آواز سناسکتے ہیں جبکہ وہ بہرے پیٹھ پھیر کر پھرجائیں یعنی یہ دین حق کے منکر ایسے ہیں جیسے مردے اور بہرے اور بہرے ایسے ہیں جو پیٹھ پھیر کر جارہے ہیں یعنی سامنے ہوں تو شاید کچھ اشارے سے سمجھیں لیکن جب پیٹھ دیکر جارہے ہوں تو کیا سنیں اور جنہوں نے کفر کی موت اختیار کر رکھی ہے اور کفر کی مردنی ان پر چھائی ہوئی ہو ان کو بھی سنانا ممکن نہیں۔