27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 27:81

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راہ پر لگا سکتے ہیں آپ تو صرف انہی لوگوں کو سناسکتے ہیں جو ہماری آیتوں کی تصدیق کرتے ہیں سو وہی فرماں بردار ہیں

(81) اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راہ پر لگا سکتے ہیں آپ تو صرف انہی لوگوں کو سناسکتے ہیں جو ہماری آیتوں کا یقین کرتے ہیں سو وہی مخلص و فرماں بردار ہیں یعنی ہماری آیتوں کا یقین کرتے اور پھر مانتے بھی ہیں ان لوگوں کو سنانا نافع ہے اور جن کی روحانی موت ہوچکی ہے اور جن کے کان حق کی آواز سے بےبہرہ ہیں اور جن کی آنکھیں راہ حق دیکھنے سے اندھی ہیں ان کو کوئی نفع نہیں ہوتا اب آگے قیامت کا ذکر فرمایا۔
Ayah 27:82

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ان پر بات پوری ہونے والی ہوگی یعنی قیامت قریب ہوگی تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا اس لئے کہ یہ لوگ ہماری نشانیوں کا یقین نہ کرتے تھے

(82) ار جب ان لوگوں پر بات پوری ہونے والی ہوگی اور جب وعدہ قیامت ان لوگوں پر پورا ہونے کو ہوگا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا اس لئے کہ یہ منکر ہماری آیات کا یقین نہیں کیا کرتے تھے یعنی اس جانور کا نکلنا علامات قیامت میں سے بڑی علامت ہوگا اور چونکہ یہ مغرب سے طلوع آفتاب کے وقت ہوگا اس لئے اس وقت ایمان لانا معتبر نہ ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قیامت سے پہلے صفا پہاڑ مکہ کا پھٹے گا اس میں سے ایک جانور نکلے گا لوگوں سے باتیں کرے گا کہ اب قیامت نزدیک ہے اور سچے ایمان والوں اور چھپے منکروں کو جدا کردے گا نشان دے کر کہتے ہیں اس جانور کا نام جساسہ ہوگا اور یہ بہت طویل القامت ہوگا روایات بہت مختلف ہیں جس قدر حضرت شاہ صاحب (رح) نے فرمایا وہی صحیح ہے اس کے خروج سے مخلص مسلمان اور منافق متمیز ہوجائیں گے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 27:83

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم ہر ایک امت میں سے ایک ایک گرو ہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے پھر وہ روکے جائیں گے یعنی اکٹھا کرنی کی غرض سے

83۔ اور وہ دن ان کو یاد دلایئے جس دن ہم ہر ایک امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلا یا اور تکذیب کیا کرتے تھے پھر وہ روکے جائیں گے ۔ یعنی امم سابقہ میں سے اور اس امت میں سے پھر ان کو حساب کے موقف میں لے جایا جائیگا چونکہ کثرت ہوگی اس لئے آگے والوں کو روکا جائے گا تا کہ پیچھے والے بھی آجائیں اور سب کو اکٹھا کر کے لیجایا جائیگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر گناہ والے ایک جتھا ہوں گے ۔ 12 یعنی مفسرین نے کہا ہے سرداروں اور مبتوعین کو آگے رکھا جائیگا اور باقی اتباع کرنے والے پیچھے ہوں گے۔
Ayah 27:84

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ سب حاضر ہوجائیں گے تو خدا تعالیٰ فرمائے گا کیا تم نے میری آیتوں کی تکذیب کی تھی حالانکہ تم نے میری آیتوں کی حقیقت کا پوری طرح احاطہ بھی نہ کیا تھا ورنہ بتائو اور کیا کرتے تھے

84۔ یہاں تک کہ جب وہ سب حاضر ہوجائیں گے اور حساب کے موقف میں آجائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم نے میری آیتوں کی تکذیب کی تھی حالانکہ تم نے میری بات کی حقیقت کا پوری طرح احاطہ بھی نہ کیا تھا ورنہ بتائو اور کیا کرتے رہے۔ یعنی نہ تو میری آیات کو سمجھا نہ ان کی حقیقت کا باعتبار علم احاطہ کیا بلکہ سنتے ہی تکذیب کرنے لگے ۔ بعض حضرات نے یوں ترجمہ کیا ہے بلکہ یاد تو کرو اور بھی کیا کام کرتے رہے۔ یہ ترجمہ اور منقطعہ کی تقدیر پر کیا گیا ہے۔
Ayah 27:85

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان کے ظلم وتعدی کی وجہ سے ان پر وعدہ عذاب پورا ہوکر رہے گا۔ اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ کوئی بات نہ کرسکیں گے

85۔ اور ان کے ظلم و عدو ان کی وجہ سے ان پر وعدۂ عذاب پورا ہو کر رہے گا ۔ اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ کوئی بات نہ کرسکیں گے۔ یعنی ان کے ظلم و زیادتی کی وجہ سے ان پر عذاب کی بات پوری ہوجائے گی اور وہ جرم ثابت ہوجانے کے بعد کچھ بول نہ سکیں گے یعنی ابتداء میں کچھ عذر و معذرت کرتے رہیں لیکن بعد میں کوئی بات نہیں کہہ سکیں گے۔
Ayah 27:86

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا ان کافروں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ ہم نے را ت بنائی تا کہ لوگ اس میں آرام کریں اور ہم نے دن کو روشن اور دکھانے والا بنایا یقینا اس رات دن کی ساخت میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ،

86۔ کیا ان منکرین دین حق نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ ہم نے رات بنائی تا کہ لوگ اس میں آرام کریں اور ہم نے دن کو روشن اور دکھانے والا بنایا یقینا اس دن رات کی بناوٹ اور ساخت میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل ہیں جو ایمان رکھتے ہیں یعنی روز رات کو سوتے ہیں نیند جو ہم شکل موت ہے اس سے ہم کنار ہوتے ہیں پھر صبح اٹھتے ہیں اور موت کے بعد زندہ ہوتے ہیں پھر بھی قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے پر شبہ کرتے رہے لیکن چونکہ یہ تدبیر نہیں کرتے اس لئے ان کو کوئی دلیل نہیں دکھائی دیتی ۔ اہل ایمان چونکہ تدبر و تفکر کرتے ہیں تو اس رات دن کی ساخت میں ان کے لئے بڑے دلائل ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ۔
Ayah 27:87

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن صور پھونھکا جائیگا تو جو کوئی بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب گھرا جائیں گے مگر ہاں جس کو خدا چاہے اور سب خدا کے روبرو عاجز بن کر حاضر ہوں گے

87۔ اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس دن صورپھونکا جائیگا تو جو کوئی بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب گھبرا جائیں گے مگر ہاں جس کو اللہ تعالیٰ چاہے اور سب اللہ تعالیٰ کے حضور میں عاجز بن کر حاضر ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک بار صور پھنکے گا جس سے سب خلق مرجائیں گے۔ دوسرا پھینکے گا تو جی اٹھیں گے اس کے بعد پھینکے گا تو گھبرائیں گے پھر پھنکے گا تو بےہوش ہوجائیں اور پھینکے گا تو ہوشیار ہوجائیں گے۔ صورپھونکنا بہت باری ہے ، اکث علماء کے نزدیک نفخہ صرف دو مرتبہ ہے ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ایک نفخہ کی کئی حالتیں ہوں ، پہلی حالت فزع کی ہو۔ دوسری بےہوشی کی ہو۔ تیسری فنا کی ہو۔ شاید اسی اعتبار سے شاہ صاحب (رح) نے کئی باری فرمایا ہو۔ ( واللہ اعلم) مگر ہاں جس کو خدا چاہے وہ گھبراہٹ اور موت سے محفوظ رہیں گے۔ حدیث شریف میں ہے اس سے مراد جبرئیل (علیہ السلام) ، میکائل (علیہ السلام) ، اسرافیل اور ملک الموت اوحاملان عرش ہیں اور بعض شہداء کو بھی شامل کیا ہے اور بعض نے انبیاء اور صالحین کو بھی شامل فرمایا ہے۔ بہر حال ! اگر نفخہ اولیٰ ہے تو یہ مطلب نہیں کہ فرشتوں کی موت نہیں آئے گی بلکہ بعد میں ان فرشتوں کی بھی وفات ہوجائے گی ۔
Ayah 27:88

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور اے مخاطب تو پہاڑوں کو دیکھ کر یہ خیال کرتا ہے کہ وہ جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ قیامت کے دن بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے یہ سب اس اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مستحکم بنایا ہے یہ یقینی بات ہے کہ تم لوگ جو کچھ کرتے ہو خدا اس سے با خبر ہے

88۔ اور اے مخاطب تو پہاڑوں کو دیکھ کر یہ خیال کرتا ہے کہ وہ جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ قیامت کے دن بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے یہ سب اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے جس نے ہرچیز کو مضبوط و مستحکم بنایا ہے ۔ یہ یقینی بات ہے کہ تم لوگ جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔ یعنی پہاڑ اس وقت جمے ہوئے ہیں لیکن اس دن بادلوں کی طرح اڑے اڑے پھریں گے یہ نفخہ اولیٰ کی آخری حالت میں ہوگا ۔ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی کاریگری اور اس کی بناوٹ ہے جس نے ہر شی کو مضبوط بنارکھا ہے جس نے مضبوط بنایا ہے وہی کمزورکر دے گا ۔ اور روئی کے گالوں کی طرح یہ پہاڑ ہوجائیں گے ، تمہاری تمام کارروائیوں سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے ، لہٰذا مجازات کیلئے تیار ہو اور مجازات کے دن ہی کو قیامت کہتے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ ہوگا قیامت میں جیسے سورة طہٰ میں فرمایا ۔ 12
Ayah 27:89

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر حاضرہو گا تو اس کو اس نیکی سے بہتر بدلا ملے گا اور وہ نیکیاں لیکر آنے والے اس دن ہر قسم کی گھبراہٹ سے امن میں رہیں گے

89۔ جو شخص نیکی لے کر حاضر ہوگا تو اس کو اس نیکی سے بہتر بدلا ملے گا اور وہ نیکی والے اس دن ہر قسم کی گھبراہٹ سے امن میں رہیں گے۔ شاید یہاں نیکی سے ایمان مراد ہے یعنی ایمان والے اس دن گھبراہٹ کے موقعوں سے مامون رہیں گے۔ سورة انبیاء میں گزر چکا ہے۔ ان الذین سبقت لھم منا الحسنی یا یہ مطلب ہے کہ ایک نیکی کے بدلہ دس نیکیوں کا اجرو ثواب یہ کم سے کم ہوگا ۔ اور جو شخص بدی اور برائی لے کر حاضرہو گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا تم کو انہی اعمال کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم کیا کرتے تھے ۔ یعنی کفر و شرک کی برائی مبتلاہو کر آنے والے اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے اور یہ کہا جائیگا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم و زیادتی نہیں جیسا کہ کیا تھا اسی کی سزا بھگت رہے ہو۔
Ayah 27:90

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو شخص بدی لے کر حاضر ہوگا تو ایسے لوگ اندھے منہ دوزخ کی آگ میں ڈال دیئے جائیں گے ، تم کو انہی اعمال کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم کیا کرتے تھے

90۔ بس مجھ کو تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر مکہ کے مالک حقیقی کی عبادت کروں جس نے اس شہر کو محترم بنایا ہے اور ہر ایک چیز اسی کی ہے اور نیز مجھ کو یہ حکم ملا ہے کہ میں فرماں برداروں میں ہوں۔
Ayah 27:91

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

پس مجھ کو تو یہی حکم ملا ہے اس شہر مکہ کے مالک حقیقی کی عباد ت کروں جس نے اس شہر کو محترم بنایا ہے اور ہر ایک چیز اسی کی ہے اور نیز مجھ کو یہ حکم ملا ہے کہ میں فرماں برداروں میں رہوں

91۔ اور نیز یہ کہ میں تم کو قرآن کریم پڑھ پڑھ کر سنائوں سو جو شخص صحیح راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے کو اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ رہا اور راہ حق سے بھٹکتا پھرا تو آپ فرما دیجئے کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں ۔ یعنی صاف صاف اعلان کردو کہ مجھ کو تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر مکہ کا جو مالک حقیقی ہے اس کی عبادت کروں اس نے اس کو حرم بنایا اور ہر شے اسی کی ہے اور یہ حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں یعنی عقائد اور اعمال صحیح ہوں اور تبلیغ کرتا رہوں قرآن کریم سن کر کوئی صحیح راستے پر آجائے تو اس کا نفع اسی کو پہنچے گا اور جو گمراہ رہتا ہے اور طریقہ حق پر نہیں آتا تو اس سے کہہ دوں کہ میں تو صرف ڈرانے والوں اور تبلیغ کرنے والوں میں سے ہوں میں اپنے عہد سے بری ہوگیا۔
Ayahs 27:92–93

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور نیز یہ کہ میں قرآن پڑھ پڑھ کر سنائوں سو جو شخص صحیح راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے کو اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ رہا تو آپ فرما دیجئے کہ میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والا ہوں

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور آپ کہہ دیجئے سب خوبیاں اللہ ہی کیلئے ثابت ہیں وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا سو اس وقت تم ان نشانیوں کو پہچان لو گے اور آپ کا رب ان کاموں سے بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو

92۔ اور آپ کہہ دیجئے سب خوبیاں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ثابت ہیں وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا سو اس وقت تم ان نشانیوں کو پہچان لو گے اور آپ کا پروردگار ان کاموں سے بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور کہو سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے سزا وار ہیں وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا جن کو تم پہچان لو گے۔ یعنی قرآن کریم کی صداقت اور اسلام کی حقانیت اور وقوع قیامت کے ایسے ایسے نشان دکھائے گا جن کو تم بھی جان لو گے اب ان نشانیات کو دیکھ کر ایمان لائو یا نہ لائو یہ تمہاری مرضی ہے یا ایسے وقت ایمان لانے پر آمادہ ہو جب ایمان لانا مفید نہ ہو اور آپ کا پروردگار ان کاموں سے بیخبر اور غافل نہیں ہے جو تم کررہے ہو لہٰذا اس کا موافق تم کو بدلا دیاجائے گا ۔ تم تفسیر سورة النمل