33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے ایمان والونبی کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر ہاں جب تم کو کھانے کے واسطے آنی کی اجازت دی جائے جانے کی حالت بھی یوں ہو کہ تم کو اس کھانی کی تیاری کا انتظارنہ کرنا پڑے یعنی نہ قبل از وقت نہ دعوت کے بغیر بلکہ بج تم کو بلایا جائے اس وقت جائو پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھے رہا کرو کیونکہ تمہاری یہ بات نبی کو تکلیف دیتی ہے سو نبی تم سے لحاظ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ صاف بات کہنے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا اور پیغمبر کی بیویوں سے جب تم کوئی سامان منگے جائو تو ان سے وہ سامان پردے کے باہر سے مانگا کرویہ طریقہ تمہارے دلوں کے اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا بہترین ذریعہ ہے اور تم کو یہ بات کسی طرح جائز ہی نہیں کہ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچائو اور نہ تم کو یہ جائز ہے کہ تم پیغمبر کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو یہ پیغمبر کو تکلیف دینا اور ان کی بیویوں سے نکاح کرنا اللہ کے نزدیک بہت بھاری بات ہے

53۔ اے دین حق کو قبول کرنے والو تم نبی کے گھروں میں بےبلائے نہ جایا کرو مگر ہاں جب تم کو کھانے کے واسطے آنے کی اجازت دی جائے جانی کی حالت بھی اس طور پر ہو کہ تم کو اس کھانے کی ی تیاری کا انتظار نہ کرنا م پڑے یعنی پہلے سے نہ جا بیٹھو اور نہ کھانی کی نیت سے دعوت کے بغیرجائو بلکہ جب تم کو کھانا کھانے کیلئے بلایا جائے اس وقت جائو پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جائو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھے رہاکرو کیونکہ تمہاری یہ بات نبی کریم ﷺ کو تکلیف پہنچاتی ہے سو نبی تم سے لحاظ کرتا اور شرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ صاف اور ٹھیک بات کہنے میں کسی سے شرم اور کسی کا لحاظ نہیں کرتا اور پیغمبر کی بیویوں سے جب تم کوئی سامان اور کوئی کام کی چیز مانگو تو وہ پردے کے باہر سے مانگا کرو یہ طریقہ یعنی پردے کے باہر سے کسی چیز کا طلب کرنا تمہارے دلوں کے اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا بہترین ذریعہ ہے اور تمہارے دل کی اور ان کے دل کی اس میں خوب ستھرائی اور پاکیزگی ہے اور تم کو کسی طرح یہ نہیں پہنچتا اور تم کو کسی طرح یہ امر جائز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے رسول کو اذیت اور تکلیف پہنچائو اور نہ تم کو یہ جائز ہے کہ تم پیغمبر کے بعد یعنی ان کی وفات کے بعد کبھی بھی ان کی بیویوں سے نکاح کرو یہ پیغمبرکو تکلیف دینا یا ان کی وفات کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بھاری بات ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جب زینب ؓ حجش سے نکاح کیا تو ان کے ولیمہ میں لوگوں کو بلایا لوگ آتے رہے اور کھانا کھا کر جاتے رہے بعض لوگ کھانا کھانے کے بعد رہے ۔ نبی کریم ﷺ ان کے اٹھنے کا انتظار کرتے رہے آخر خود حضور ﷺ مجلس سے اٹھے اور باہر تکلیف لے گئے ۔ اس پر کچھ لوگ تو اٹھ گئے لیکن دو تین آدمی بیٹھے باتیں کرتے رہے آپ ؐ مکان میں تشریف لائے اور ان کو بیٹھا دیکھ کر پھر تشریف لے گئے۔ حضرت زینب ؓ دیوار کی طرف منہ کئے بیٹھی رہیں آپ کے دوبارہ واپس ہونے پر وہ لوگ بھی چلے گئے حضور ﷺ کو بھی پریشانی ہوئی حضرت زینب ؓ کو بھی تکلیف ہوئی ۔ حضور ﷺ شرم و حیا کے باعث یہ نہ فرما سکے کہ تم اٹھ جائو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آیت ان چند آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کا طریقہ یہ تھا کہ حضور ﷺ کے کھانا کھانے کے وقت آجاتے اور کھانا پکنے کے منتظر رہتے جب کھانا پک چکتا تو کھاناکھاتے اور کھانا کھا کر بیٹھے رہتے اور جلدی نہ نکلنے اور حضور ﷺ کو تکلیف ہوتی اور آپ شرم سے ان لوگوں کو منع نہ کرتے چونکہ اپنی ذات کا معاملہ تھا اس لئے خود تکلیف برداشت کرتے اور شرم سے کچھ نہ فرماتے۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ اظہار حق سے شرماتے تھے یا آپ ؐ نے کبھی شرم سے اظہار حق میں کوتاہی کی ہو ۔ ہماری اس گزارش اور شان نزول کی تقریر کے بعد آیت کے اس حصے کا مطلب صاف ہوگیا کہ پیغمبر کے گھر میں اگر کھانے کیلئے بلائے جائو تو کھانے کے وقت سے پہلے نہ جابیٹھو کہ کھانے کے تیار ہونے کا انتظار کرتے رہو اور اسی طرح کھانا کھانے سے فارغ ہوجانے کے بعد بیٹھے نہ رہو بلکہ چلے جائو کبھی باتیں کرتے رہو اور بیٹھے رہو اور اس سے پیغمبر کو بلکہ ہر صاحب خانہ کو تکلیف ہوتی ہے اس لئے آداب طعام میں سے یہ ادب ہے کہ کھانا کھا کر اٹھ کھڑے ہو اور چلے جائو ، اگرچہ شان نزول خاص ہے لیکن یہ ادب عام ہے اور ہر دعوت میں اس کی رعایت مستحب ہے اس کے بعد پردے کا حکم بیان فرمایا کہ پیغمبر کی بیویاں تم سے پردہ کیا کریں گی اور جب تم ان سے کوئی ضرورت کی چیز طلب کرو تو پردے کے باہر سے طلب کرو یعنی بلا ضرورت نہ ان کو دیکھ نہ ان سے کلام کرو اگر کوئی ضرورت پیش آئے تو کلام کرسکتے ہو مگر پردے کے باہر سے یہ طریقہ جس کا حکم تم کو اب دیا ہے یہ تمہارے دلوں کے اور ان کے دلوں کی پاکی اورس تھرائی کا عمدہ اور بہتر ذریعہ ہے اور تم کو یہ کسی طرح لائق اور زیبا نہیں کہ تم رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچائو خواہ وہ کھانے کے بعد بیٹھے رہنے سے ہو یا کوئی اور بات آپ کی ایذاء اور تکلیف کا سبب ہو مطلقا ً پیغمبر کی ایذا رسانی حرام ہے اور نہ یہ بات تم کو جائز ہے کہ تم پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو کیونکہ آپ کی ایذا رسانی اور آپ کی بیویوں سے آپکے بعد نکاح کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بھاری بات ہے حضرت عمر ؓ بار بار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کیا کرتے تھے ۔ یا رسول اللہ ﷺ آپ کے ہاں ہر قسم کے لوگ آتے ہیں آپ ازواج مطہرات کیلئے پردے کا حکم دیجئے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں یہ آیت میری مرضی اور خواہش کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ بہر حال ! زندگی میں حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کو دیکھنا ممنوع قرار دیا گیا اگر ازواج مطہرات پردے میں ہوں یعنی چادر یا برقع اوڑھے ہوئے ہوں تب بھی ان کی طرف نظر نہ کی جائے یہ حکم ان کے حق میں دیا گیا اور حضور ﷺ کی وفات کے بعد کوئی مسلمان ان سے نکاح نہ کرے کیونکہ وہ امت کی مائیں ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ نے ادب سکھائے مسلمانوں کو کبھی کھانے کو حضرت ؐ کے گھر میں جمع ہوتے تو پیچھے باتیں کرنے لگے جاتے حضرت کا مکان آرام کا وہی تھا شرم سے نہ ماتے کہ اٹھ جائو ان کے واسطے اللہ نے فرمایا ۔ اس آیت میں حکم ہوا پردے کا کہ مرد حضرت کی ازواج کے سامنے نہ جاویں سب مسلمانوں کی عورتوں پر یہ حکم واجب نہیں اگر عورت سامنے ہو کسی مرد کے سب بدن پردے میں ڈھکا ہو تو گناہ نہیں اور اگر نہ سامنے ہو تو بہتر ہے۔ 12 خلاصہ۔ یہ ہے کہ وہ چادر میں بھی ہوں تو بھی ان کو دیکھنا منع ہے۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

تم کسی چیز کو اگر ظاہر کرو گے یا اس کو پوشیدہ رکھو گے تو اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے

54۔ تم اگر کسی چیز کو ظاہر کرو گے یعنی زبان سے کہو گے یا اس کو چھپائو گے اور دل میں پوشیدہ رکھو گے تو اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ یعنی ازواج مطہرات کے ساتھ نکاح کرنے اور آپ ﷺ کی ایذا دہی کی بات کو خواہ وہ زبان سے ظاہر کرو، جیسا کہ ایک شخص کا قول مشہور ہے کہ اگر حضور ﷺ کی وفات ہوگئی تو میں حضرت عائشہ ؓ سے نکاح کروں گا ۔ غرض ! ایسی بات کا زبان سے نکالنا یا دل میں ایسا ارادہ دونوں کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور وہ ایسا کرنے والوں کو سزا دے گا ازواج مطہرات کے پردے کے بارے میں جو عام حکم تھا اس سے بعض افراد و اشخاص کو آگے مستثنیٰ فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

نبی کی عورتوں پر اپنے باپوں کے اور اپنے بیٹوں کے اور اپنے بھائیوں کے اور اپنے بھتیجوں اور اپنے بھانجوں کے اور اپنی عورتوں یعنی مسلمان عورتوں کے اور اپنی لونڈیوں کے سامنے ہونے میں کوئی گناہ نہیں اور اے پیغمبر کی عورتو خدا سے ڈرتی رہو بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر موجود یعنی خاطرناطر ہے

55۔ نبی کی عورتوں پر اپنے باپوں کے اور اپنے بیٹیوں کے اور اپنے بھائیوں کے اور اپنے بھتیجوں کے اور اپنے بھانجوں کے اور اپنی عورتوں یعنی مسلمان عورتوں کے اور اپنی لونڈیوں کے سامنے ہونے میں کوئی گناہ نہیں اور اے پیغمبر کی عورتوں ! اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو بیشک اللہ تعالیٰ ہر شے پر حاضرو ناظر ہے۔ باپ بیٹے ، بھائی ، بھتیجے ، بھانجے ، مسلمان عورتیں اور ما ملکت سے مراد باندیاں ہیں ۔ مشہور قول کے موافق اور یہ مستثنیٰ کا حکم ان لوگوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ محارم نسبی اور محرمات رضاعی سب اس میں داخل ہیں جس طرح چچا اور ماموں کا ذکر نہیں مگر وہ محرمات میں ہیں یہاں تک آپ کی ازواج مطہرات کی بحث تھی اب آگے نبی کریم ﷺ کے شرف اور حضور کے مراتب علیا اور آپ پر درود سلام بھیجنے کی تاکید ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اپنی عورتوں کا اور ہاتھ کے مال کا ذکر ہوچکا سورة نور میں ہے۔ 12
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو

56۔ بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں اے مسلمانو ! تم بھی ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ حکم ادا ہوتا ہے نماز میں السلام علیک ایھا النبی اللھم صلی علی محمد اللہ سے رحمت مانگنی اے پیغمبر اور ان کے ساتھ ان کے گھرانے پر بڑی قبولیت رکھتی ہے ان پر ان کے لائق رحمت اترتی ہے اور دس رحمتیں اترتی ہیں ، مانگنے والے پر جتناچا ہے اتناحاصل کرے۔ 12 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت خاصہ سے اپنے پیغمبر کو نوازتا ہے اور اس کے فرشتے اس رحمت خاصہ کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرتے ہیں لہٰذا مسلمانو ! تم بھی ہمارے پیغمبر کیلئے اس رحمت خاصہ کی دعا کیا کرو اور آپ پر بکثرت سلام بھیجا کرو یعنی اللھم صل علی سیدنا محمد وسلم علی سیدنا محمد کہہ کر آپ ﷺ پر درود سلام بھیجا کرو۔ فقیر نے اس سلسلہ میں ایک خاص رسالہ صلوٰۃ وسلام کے نام سے لکھا ہے جس کا مطالعہ ضروری اور نافع ہے۔ حدیث شریف میں آیا جو شخص ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے پر دس مرتبہ درود یعنی اپنی رحمت نازل فرماتا ہے ۔ احادیث میں درود کے مختلف الفاظ منقول ہیں عراقی نے ان سب الفاظ کو اس طرح جمع کیا ہے۔ اللھم صل علی محمد عبدک ورسولک النبی الامی و علی ال محمد وازواجہ امھات المومنین وزریتہ و اھل بیتہ کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراہیم انک حمید مجید اللھم بارک علی محمد النبی الامی وعلی ال محمد وازواجہ وذریۃ واھل بیتہ کما بارکت علی ابراہیم فی العلمین انک حمید مجید o یہ الفاظ ان سب حدیث صحیحہ کے جامع ہیں جو نماز میں درود پڑھنے کے متعلق وارد ہیں۔ دوسرا جامع درود وہ ہے جو ابن حجر نے بالدر المنضور میں لکھا ہے اس میں احادیث کے تمام صیغے جمع ہوجاتے ہیں ۔ درود شریف کے الفاظ ہیں ۔ اللھم صل علی محمد عبدک ورسولک النبی الامی و علی ال محمد وازوجہ امھات المومنین وزریتہ واھل بیتہ کما صلیت علی ابراہیم و علی ال ابراہیم فی العالمین انک حمید مجیدو بارک علی محمد النبی الامی وعلی ال محمد وازواجہ امھات المومنین وزریتہ واھل بیتہ کما بارکت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم فی العالمین انک حمید مجید وما یلیق بعظیم شرفہ و کمالہ ورضاک عنہ وما تحب وترضی لہ دائما ابدا عدد معلوما تک ومداد کما تک ورضا نفسک وزنتہ عرشک افضل صلوٰۃ واکملھا واتمھا کل ذکرک وذکرہ الذاکرون و غفل عن ذکرک وذکرہٗ الغفلون وسلم تسلیما ً کثیرا ً وعلینا معھم انتھی عن الدراد المنضود منقول عن اولہ المسائل (56) اوپر نبی کریم ﷺ کی ایذا رسانی کی مذمت فرمائی تھی خواہ وہ ایذا رسانی بلا ارادہ واقع ہو ۔ آگے جو لوگ معاذ اللہ اس فعل کا قصدا ً ارتکاب کرتے ہیں ان کے لئے سخت وعیدفرماتے ہیں۔
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

بیشک جو لوگ خدا کو اور اس کے رسول کو ستاتے ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور خدا نے ان کے لئے ذلیل و رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے

57۔ بلا شبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول ﷺ کو ستانے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذلیل اور رسوا کرنے والا عذاب تیار کررکھا ہے۔ یہاں بھی اوپر کی طرح عموم مجاز ہے اللہ تعالیٰ کی ایذا رسانی سے مراد ان افعال کا ارتکاب ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور نا رضا مندی کا موجب ہوں ۔ قصدا ً کا لفظ تمہید میں میں نے عرض کیا کیونکہ اوپر جو باتیں گزری ہیں مثلاً ازواج مطہرات کا نان و نفقہ طلب کرنا یا کھانے کے بعد پیغمبر کے گھر میں باتیں کرنا وہاں مقصد ایذا نہ تھا اور اس آیت میں اس ایذا رسانی پر وعید ہے جو کفار اور اہل نفا ق کا شیوہ تھا، آگے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایذا اور تکلیف دینے پر وعید ہے اشارد ہوتا ہے۔
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مسلمان مردوں کو اور مسلمان عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو ایذا پہنچاتے ہیں تو یقینا وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں

58۔ اور جو لوگ ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو ایذا اور تکلیف پہنچاتے ہیں تو یقینا وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے اور اپنے اوپر بارلیتے ہیں ۔ اگر اذیت قولی ہو تو بہتان ہے اور اگر فعلی ہو تو صریح گناہ کی بات ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آیت کے نزول کا تعلق حضرت علی ؓ کو برا کہنے والوں کے حق میں ہو یا حضرت عائشہ ؓ پر بہتان باندھنے والوں کے حق میں ہو یا کسی اور واقعہ کے متعلق ہو بہر حال بغیر کسی ایسے فعل کے جو قابل سزا ہو کسی مومن مرد اور مومن عورت کی ایذا رسانی ہو جب بہتان اور صریح گناہ ہے ، مسلمان تو کیا بلکہ کسی انسان کو بھی ایذا نہیں دینی چاہئے۔ حضرت فضیل ؓ کا قول ہے یہ بات حلال نہیں کہ کسی کتے اور سور کو بھی ناحق تکلیف پہنچائی جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ منافق تھے کہ پیٹھ پیچھے بد گوئی کرتے رسول کی یا ان کی زوجہ پر طوفان لگایا، سورة نور میں ان کے کلام ذکرہو چکے ۔ خلاصہ۔ یہ ہے کہ ہاتھ سے یا زبان سے کسی انسان کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور بالخصوص مسلمان کو۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبی آپ اپنی بیوویں اور بیٹیوں اور دوسرے مسلمانوں کی بیویوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی چادریں اوپر سے اوڑھ کر تھوڑی سی منہ کے آگے لٹکا لیا کریں اس علامت سے ان کا ممتیز ہوجانا قریب ترہو گا اور وہ ستائی نہ جائیں گی اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے

59۔ اے نبی آپ اپنی بیویوں اور بیٹیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی بیویوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی چادریں اوپر سے اوڑھ کر تھوڑی سی منہ کے آگے لٹکا لیا کریں یعنی سر اور چہرہ چھپالیا کریں یہ طریقہ کار اختیار کرنے سے اور اس علامت سے ان کا متمیز ہوجانا اور ان کا پہچانا کانا قریب تر ہوجائے گا اور وہ ستائی نہ جائیں گی اور ان کی اخلاقی تکلیف نہ پہنچائی جاسکے گی اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ مدینہ کے اوباپ لوگ جب عورتیں باہر نکلتی تھیں تو ان کو چھیڑتے تھے اور ان کا مذاق بناتے تھے لونڈیوں کو تو بےباک ہو کر چھیڑتے مگر آزادعورتوں کو چھیڑتے ہوئے ذرا ڈرتے تھے کہ اس کو اگر چھیڑیں گے تو اس کے خاندان کے لوگ جھگڑا کریں گے لونڈیوں کے مقابلے میں آزاد عورتوں کا احترام زیادہ ہوتا تھا۔ اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آزاد عورتوں کے لئے پردے کے احکام بیان کر دیجئے تا کہ آزاد عورتوں کو پردے کے احکام معلوم ہوجائیں کہ ان کو غیر محرموں سے بدن کا کون کونسا حصہ چھپانا چاہئے اور دوسرا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اوباش قسم کے لوگ ان کو چھیڑتے ہوئے ڈریں گے اور وہ انکی چادرجو اوڑھنی کے اوپر سے انہوں نے اوڑھی ہوگی اس کو دیکھ کر اور ان کے گھونگٹ کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ یہ آزاد اور حرہ عورت ہے اس لئے اس کے چھیڑنے میں جھگڑا بڑھ جائے گا تو وہ بازار رہیں گے اور بد معاشی سے رک جائیں گے۔ البتہ لونڈیاں جن کو پردے میں شریعت نے رخصت دی ہے اور وہ کام کاج کی وجہ سے انکو سر اور منہ کھولنے کی اجازت ہے ان کو یہ بد معاش لوگ چھیڑتے رہیں گے تو ان کے لئے آگے کی آیت میں وعید فرمائی اور ان کو ڈرایا کہ اگر یہ لوگ اپنی شرارت سے باز نہ آئیں گے تو ان کو مدینہ سے نکال دیا جائے گا اور یہ سخت سزائوں کے مرتکب ہوں گے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہچانی پڑیں کہ لونڈی نہیں بی بی ہے صاحب ناموس یا بد ذات نہیں نیک بخت ہے تو بدنیت لوگ اس سے نہ الجھیں گے گھونگٹ اس کا نشان رکھا یہ حکم بہتری کا ہے۔ 12 حرائر کو اما اور باندیوں سے اس حکم نے متمیز کردیا ، آج تک شرفا کے گھر انوں میں یہ دستور ہے کہ ان کی عورتیں بغیر چادر اور گھونگٹ کے نہیں نکلتیں چادر کے نیچے اوڑھنی ہوتی ہے جو معمولی طور پر گھر میں استعمال کرتی ہیں لیکن جب گھر سے نکلتی ہیں تو چادر اوڑھ کر نکلتی ہیں ۔ حرائر اور اماء کی مفصل بحث سورة نور میں گزر چکی ہے یہ جو آخر میں غفور اور رحیم فرمایا یہ شاید اس لئے ہو کہ حکم کی تعمیل میں کچھ کوتاہی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربانی کرنیوالا ہے۔
Ayah 33:60

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بدی بھری ہوئی ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں پریشان کن افواہیں پھیلایا کرتے ہیں اپنی ان حرکات سے باز نہ آئے تو ہم یقینا آپ کو ان پر مسلط کردیں گے پھر ان لوگوں کو مدینہ میں آپ کی ہمسائیگی نصیب نہ ہوگی مگر بہت کم یعنی چند روز

60۔ اگر یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بدی کا روگ ہے اور بدکاری کے مرض میں مبتلا ہیں اور وہ جو مدینہ میں پریشان کن افواہیں اڑایا کرتے ہیں یہ سب لوگ اپنی ناشائسہت اور سوقیانہ حرکات سے با ز نہ آجائیں گے تو ہم یقینا آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے اور ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے پھر ان لوگوں کو مدینے میں آپ کی ہمسائیگی نصیب نہ ہوگی اور تیرے ساتھ یہ لوگ مدینے میں نہ رہ سکیں گے مگر بہت کم اور بہت تھوڑے دنوں ۔
Ayah 33:61

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

ان کی حالت یہ ہوگی کہ ہر طرف سے پھٹکارے ہوئے جہاں پائے جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور شدت کے ساتھ قتل کئے جائیں گے

61۔ اور وہ تھوڑے دنوں بھی اس حالت سے کہ ہر طرف سے پھٹکارے ہوئے جہاں پائے جائیں گرفتار کئے جائیں اور شدت کے ساتھ قتل کئے جائیں۔ یعنی منافق لوگ اپنی مفسد انہ شرارتوں سے بازنہ آئے اور شہوت پرست منافق عورتوں کی چھیڑ چھاڑ سے باز نہ آئے اور افواہیں اڑانے والے جو جنگ کے زمانہ میں مسلمانوں کی شکست اور کفار کی فتح کا پروپیگنڈہ کیا کرتے ہیں جن کا ذکر سورة نساء میں گزر چکا ہے ، یہ لوگ اپنی افواہوں سے با ز نہ آئے تو ہم آپ کو حکم دیں گے کہ ان کو جلا وطنی پر مجبور کردیں اور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے کہ آپ ان کو جلا وطنی کی سزا دیں اور اس حکم کی وجہ سے یہ مدینے میں آپ کے ساتھ نہ رہ سکیں گے آپ کے ساتھ کا یہ مطلب کہ وطن کی معیت باقی نہیں رہے گی مگر تھوڑے دن یعنی جب تک اپنا سامان اور اسباب تیار کریں لیکن حالت یہ ہوگی کہ پھٹکارے ہوئے ہوں گے اور ان پر ہر طرف سے لعنت برستی ہوگی اور ان کو قتل اور گرفتار کی سزا بھی دی جائیگی یعنی اگر شرارت بڑھے گی تو سزا میں اضافہ کیا جائے گا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو لوگ بدنیت تھے مدینے میں عورتوں کو چھیڑتے ٹوکتے اور جھوٹی خبریں اڑاتے مخالفوں کے زور کی اور مسلمانوں کی شکست کی ان کو یہ فرمایا اور تورات میں تقید ہے کہ مفسدوں کو اپنے بیچ سے باہرکر ۔ 12 خلاصہ۔ یہ کہ ان شرارت پسندوں کو نفاق کے پردے میں پناہ ملی ہوئی ہے اور جب ان کی جارحانہ کارروائیوں سے وہ پردہ چاک ہوگیا تو جو اہل حرب اور کھلے دشمنوں کے ساتھ سلوک ہوتا ہے وہ ان کے ساتھ بھی ہوگا اور یہ کوئی نیا قانون اور دستور نہیں ہے بلکہ انبیائے سابقین کے عہد میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کا یہی دستور ان لوگوں میں بھی جاری رہا جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں اور آپ خدا کے دستور میں کسی قسم کا ردو بدل نہ پائیں گے

62۔ اللہ تعالیٰ کا یہی دستور ان لوگوں میں بھی جاری رہا ہے جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں اور آپ اللہ تعالیٰ کے دستور میں کسی کی طرف سے کوئی رد و بدل نہ پائیں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی روش یہی ہے وہ وہ ابنیاء (علیہم السلام) کی مدد کرتا ہے اور جن کا ظلم و طغیان حد سے تجاوز ہوجاتا ہے ان کو دنیا ہی میں سزا دینے کا حکم دیتا ہے اور یہ واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی روش اور اس کے طریقہ کو کوئی بدلنے والا نہیں مل سکتا جب وہ کسی دستور کو جاری کرنا چاہے تب بھی کوئی اس کی مشیت کو تبدیل نہیں کرسکتا اور نہ حکم جاری کردینے کے بعد کوئی اس کو روک سکتا ہے۔ بہر حال ! اس وعید سے باندیوں کی عصمت کا تحفظ بھی ہوگیا اور حرائر کو تشبیہ بالا ماء کی بھی ممانعت ہوگئی۔
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

اے پیغمبر یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ قیامت کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے اور آپ کو اس کی کیا خبر شاہد وہ گھڑی قریب ہی آ لگی ہو

63۔ اے پیغمبر یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں یعنی یہ کہ وہ کب واقع ہوگی آپ فرما دیجئے کہ قیامت کا علم تو بس اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور آپ کو اس کی کیا خبر کہ وہ کب ہے شایدوہ قیامت قریب ہی آ لگی ہو ۔ یہ سوال آنحضرت ﷺ سے بطور استہزا اور بطور مذاق اکثر کیا گیا ہے یہاں بھی شاید ان منافقوں نے جن کا ذکراوپر ہوا ہے انہوں نے کیا ہو۔ بہرحال ! سوال کا مطلب صاف ہے کہ بتائو تم قیامت کا خوف بہت دلایا کرتے ہو آخر وہ کب آئے گی اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اسکے واقع ہونے کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے آپ کو اس کی کیا خبر کہ وہ کب واقع ہوگی اور جب آپ کو اس کے وقت کا علم نہیں اور اس کا آنا یقینی ہے تو اجمالا ً اتنا سمجھ لینا چاہئے کہ عجیب نہیں وہ قیامت قریب ہی آجائے۔ کیونکہ جب کسی کے آنے کی تاریخ مقرر نہ ہو تو اس امرکا اندیشہ ہے کہ کل ہی آجائے یا قریب ۔ اس لئے فرمایا کہ تمہارا دور بھی اللہ کے نزدیک قریب ہی ہے۔ انھم یرونہ بحیداً ونراہ قریبا ً معارج یعنی یہ اس کو دورخیال کرتے ہیں اور ہم اس کو قریب دیکھ رہے ہیں ۔ بہر حال ! منکروں کا یہ سوال معاندانہ ہوتا تھا ورنہ تحقیق حال کیلئے مخلصانہ سوال بعض مسلمانوں کا بھی ثابت ہے جیسا کہ احادیث میں آتا ہے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کسی مسلمان نے دریافت کیا یا رسول اللہ قیامت کب ہے آپ نے فرمایا تو نے قیامت کیلئے کیا سامان تیار کیا ہے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ کچھ سامان سوائے اس کے مہیا نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو جسکو دوست رکھتا ہے اس کے ساتھ ہوگا اس بشارت آمیز جواب سے مسلمان بہت خوش ہوئے کیونکہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیک لوگوں سے محبت کرنے والے قیامت میں انہی کے زمرے میں ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید یہ بھی منافقوں نے ہتھ کھنڈا پکڑا ہوگا جس چیز کا جواب نہیں وہی سوال کریں بار بار اس پر یہاں ذکر کردیا۔ 12
Ayah 33:64

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک اللہ نے کافروں کو رحمت سے دورکررکھا ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

64۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے منکروں کو رحمت سے دور کر رکھا ہے اور ان کیلئے آتش سوزاں اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے۔
Ayah 33:65

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہ کافر نہ اپنا کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مدد گار

65۔ اس آگ میں یہ منکر لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہ منکر نہ اپنا کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مدد گار۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے کافروں پر ان کی معاندانہ حرکات کی وجہ سے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لئے سعیر یعنی دہکتی ہوئی آگ اور بھڑکتی ہوئی جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے جس آگ میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں یہ ڈھونڈھے سے بھی نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مدد گار۔
Ayah 33:66

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے اور کافر یوں کہتے ہوں گے اے کاش ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور رسول کی اطاعت کی ہوتی

66۔ وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ان منکروں کے منہ اور ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے اور یہ منکر آرزو کرتے ہوں گے کاش ہم نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ہوتی اور رسول کا کہا مانا ہوتا ۔ الٹ لپٹ کا مطلب یا تو یہ ہے کہ جب ان کو گھسیٹ گھسیٹ کر جہنم میں لے جائیں گے تو ان کے چہرے الٹ لپٹ ہوتے ہوں گے۔ جیساکہ عام قاعدہ ہے کہ جب کسی کو اضطرار اً گھسیٹ کرلے جائو تو اس کا منہ کبھی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب ہوجاتا ہے کبھی سیدھا اور کبھی اوندھا ہوجاتا ہے۔ صاحب معالم نے یہی مطلب بیان کیا ہے اور سورة قمر کی آیت یوم یسبحبون فی النار کے مناسب ہے یا یہ مطلب ہے کہ جہنم میں الٹ پلٹ ہونگے آپ کے جوش اور آگ کے فوران کے باعث اس میں ابلتے ہوں گے اور جلنے کی حالت میں ان کے چہرے الٹ پلٹ ہو رہے ہوں گے ، جیسا کہ صاحب مدارک نے فرمایا ہے۔ بہر حال اس دن اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنی کی تمنا کرتے ہونگے۔
Ayah 33:67

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور یہ بھی کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں کا اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تھا سو انہوں نے ہم کو سیدھی راہ پر گمراہ کردیا

67۔ اور یہ بھی کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں کا اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تھا سو انہوں نے ہم کو راہ راست سے بھٹکا دیا اور گمراہ کردیا۔ بڑوں سے مراد شاید رئوسا ، قریش اور مکھیا لوگ ہوں گے جن کو متبوع اور قابل اتباع سمجھا جاتا ہے ہوسکتا ہے کہ بڑی عمر کے لوگ مراد ہوں جیسا کہ بڑے بوڑھیوں کی بات مانی جاتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علمئا سوء مراد ہوں ۔ ( واللہ اعلم)
Ayah 33:68

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو دوہری سزا دے اور ان پر ایسی لعنت کر جو بہت بڑی لعنت ہو

68۔ اے ہمارے پروردگار ان کو دوہری سزا دے یعنی سرداروں کو اور ہمارے بڑوں کو اور ان پر ایسی لعنت کر جو بہت بڑی لعنت ہو ۔ بعض قرأت میں کثیر ا ً ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان پر بکثرت لعنت بھیج ، بہر حال اپنے گمراہ کرنیوالوں کے حق میں بددعا کرتے ہوں گے اسی قسم کی ایک بحث آٹھویں پارے سورة اعراف میں گزرچکی ہے وہاں دیکھ لیا جائے ، آگے پھر مسلمانوں کو پیغمبر ﷺ کی ایذا رسانی سے ممانعت ہے۔
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے ایمان والوں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت پہنچائی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس تہمت سے جو انہوں نے لگائی تھی بری کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نزدیک بڑا ذی مرتبہ تھا

69۔ اے ایمانی دعوت کے قبول کرنے والے مسلمانو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت اور تکلیف پہنچائی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس تہمت سے جو انہوں نے لگائی تھی بری ثابت کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا معزز اور ذی مرتبہ تھا۔ یعنی بنی اسرائیل کی روش اختیار نہ کرنا اور جس طرح انہوں نے موسیٰ کی بد گوئی کر کے نقصان اٹھایا اسی طرح تم کو بھی ضرر پہنچ جائے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عیب لگا کر ستایا پھر اللہ تعالیٰ نے اس عیب اور تہمت سے ان کو بری کردیا ۔ کہتے ہیں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام عام طورپر بڑے حیا دار اور شرمیلے ہوتے ہیں اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی بڑے پردے اور ستر کے ساتھ غسل وغیرہ کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے بعض فساق نے ان پر برص کی تہمت لگا دی کہ ان کے بدن پر کوڑھ کے دھبے ہیں اس لئے یہ اپنے بدن کو چھپاتے ہیں ، بعض لوگوں نے اور ۃ کا عیب لگایا ، اورۃ کہتے ہیں انتفاح خفیہ کو یعنی ان کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں اس لئے یہ غسل میں پردے کا غیر ضروری اہتمام کرتے ہیں ، چناچہ ایک دن یہ دریا میں نہا رہے تھے اور کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیئے تھے جب یہ نہا کر نکلے اور کپڑے اٹھانے لگے تو وہ پتھر کپڑے لے کر چلنے لگا موسیٰ (علیہ السلام) پیچھے پیچھے اور پتھر آگے آگے یہ فرماتے تھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے۔ پتھر کپڑے لے کر ایسی جگہ آگیا جہاں لوگوں نے آپ کو دیکھ لیا اور یہ بات صاف ہوگئی کہ آپ کے جسم پر نہ کوڑھ ہے اور نہ اورۃ ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ قارون نے ایک عورت کو آمادہ کیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تہمت لگائے کسی نے کہا حضرت ہارون (علیہ السلام) کا انتقال ایک پہاڑ پر ہوگیا تھا ان کے مرنے کا الزام موسیٰ (علیہ السلام) پر لگا دیا کہ انہوں نے بھائی کو قتل کردیا ۔ غرض ! اس قسم کی چیزیں مفسرین نے لکھی ہیں مسلمانوں کو بنی اسرائیل کی ان ناشائستہ حرکات روکا گیا کہ تم اپنے پیغمبر کے ساتھ اس قسم کا برتائو نہ کرو اور ان کو ایذا نہ پہنچائو خواہ وہ ایذا اخلاقی ہو یا بدنی ہو یا روحانی ہو یا سب سے اجتناب کرو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ذی وجاہت اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک آبرو دار تھے یعنی پیغمبر تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعض مفسد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تہمت لگانیل گے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جنگل میں لے جا کر مار آئے تا کہ شریک ریاست نہ رہیں پھر ان کا جنازہ آسمان سے نظر آیا اور ان کی آواز آئی کہ میں اپنی موت مراہوں اور کتوں نے کہا یہ جو چھپ کر نہاتے ہیں ان کے بدن میں کچھ عیب ہے بدن کی سفیدی یا خصیہ پھولا۔ ایک روز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اکیلے نہانے لگے کپڑے رکھے ایک پتھر پر وہ پتھر کپڑے لے کر بھاگاحضرت موسیٰ (علیہ السلام) عصا لے کر اس کے پیچھے دوڑے جہاں سب لوگ دیکھتے تھے پتھرکھڑاہو گیا سب نے ننگے دیکھ لیا بےعیب پھر اس پتھر کو کئی عصا مارے اس میں نقش پڑگیا۔ 12
Ayah 33:70

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور سیدھی اور پختہ بات کہا کرو

(70) اے ایمان والوں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور سیدھی اور سچی بات کہا کرو۔
Ayah 33:71

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہارے نیک اعمال کو قبول کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کے کہنے پر چلا تو وہ بہت بڑی کامیابی کو پہنچا

(71) اللہ تعالیٰ تمہارے نیک اعمال کو قبول کرے گا اور تمہارے کام درست کر دے گا اور سنوار دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہنا مانا تو یقینا وہ بہت بڑی کامیابی کو پہنچا۔ اوپر کی آیت میں پیغمبر کو ایذا پہنچانے سے منع فرمایا تھا اور اس معاملہ میں بنی اسرائیل کی مسابہت نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ پھر عام طور پر تقوے کا حکم فرمایا کیونکہ تقویٰ تمام بھلائیوں کی جڑ اور بنیاد ہے۔ قول سدید کے مفسرین نے بہت سے معنی کئے ہیں ہم نے سیدھی اور پختہ ترجمہ کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عدل اور اعتدال سے متجاوز نہ ہو۔ ابن عباس ؓ نے ترجمہ صواب کیا ہے قتادہ نے عدل کیا ہے حضرت حسن نے صدق کیا ہے۔ حضرت مکرمہ نے لاالہ الا اللہ کیا ہے، اصلاح اعمال سے مراد عمل کی سنوار اور درستی ہے اور یہی مقبولیت کی علامت ہے پھر اطاعت کرنیوالوں کو بخشش گناہ کی بشارت بھی ہے۔ آخر میں اللہ اور رسول کی اطاعت پر کامیابی کا اعلان فرمایا جو فرمانبرداروں کے لئے موجب اطمینان اور موجب مسرت ہے۔
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے اپنی امانت یعنی احکام کی ذمہ داری آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں کے روبرو پیش کی سو انہوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کردیا اور اس ذمہ داری سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اپنے ذمہ لے لیا بیشک انسان بڑا ظالم اور بڑا نا عاقبت اندیش تھا

(72) ہم نے اپنی امانت یعنی احکام کی ذمہ داری آسمانوں کے اور زمین کے اور پہاڑوں کے روبرو پیش کی سو انہوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کردیا اور اس امانت سے ڈر گئے اور انسان نے اس امانت کو اٹھا لیا اور اپنے ذمہ لے لیا انسان بڑا ظالم اور بڑا ناعاقبت اندیش ہے۔
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

اس ذمہ داری کا انجام یہ ہونا ہے کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو سزا دے گا اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں پر شفقت آمیز توجہ فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے

(73) اس ذمہ داری کو اٹھانے کا نتیجہ اور انجام یہ ہونا ہے کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب کرے گا اور سزا دے گا اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں پر شفقت آمیز توجہ فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنی جان پر ترس نہ کھایا اور امانت کیا ہے پرائی چیز رکھنی اپنی خواہش کو روک کر آسمان و زمین میں اپنی خواہش کچھ نہیں یا ہے تو وہی جس پر قائم ہیں آسمان کی خواہش پھرنا زمین کی خواہش ٹھہرنا انسان میں خواہش اور ہے اور حکم خلاف اس کے اس پرائی چیز کو برخلاف اپنے جی کے تھامنا بڑا زور چاہتا ہے اس کا انجام یہ کہ منکروں کو قصور پر پکڑنا اور ماننے والوں کا قصور معاف کرنا اب بھی یہی حکم ہے کسی کی امانت کوئی جان کر ضائع کرے تو بدلا ہے اور بےاختیار ضائع ہو تو بدلا نہیں۔ (12) امانت سے مراد احکام شرعیہ اور احکام مکلفہ مراد ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے وہ طاعتیں مراد ہیں جو فرض ہیں یعنی فرائض الٰہی جو بندوں پر مقرر کئے گئے ہیں۔ مجاہد نے فرمایا فرائض اور ین کے حدود امانت ہیں۔ ابو العالمیہ نے فرمایا امانتیں وہ چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جن کے کرنے کا حکم دیا ہے اور جن کے کرنے سے منع فرمایا۔ یعنی اوامرونواہی، مختلف حضرات کے بہت سے اقوال ہیں اور بات یہ ہے کہ شرعی اوامرونواہی کو سب کو ہی امانت کا لفظ شامل ہے۔ عرض یعنی پیش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امانت کو ظاہر کیا اور آسمان و زمین اور پہاڑوں کو ان کے فطری شعور کے مطابق امانت پوری ادا کرنیوالے اور خیانت کرنیوالوں کا انجام دکھایا وہ ڈر گئے اور ان کی ہمت نہیں پڑی اور اس شعوری اختیار کی بناء پر جو ان کو دیا گیا تھا انکار کردیا اور ان کو ایسا کرنے کا حق تھا اور ان کو اس پر کوئی ملامت نہیں کی گئی لیکن ان احکام کو انسان نے منظور کرلیا اور بار امانت اٹھا لیا۔ آسمان بار امانت نہ تو انست کشید قرعۂ فال بنام من دیوانہ زدند خلاصہ : یہ کہ مخلوق میں سے ہر ایک کو اس کی استعداد اور صلاحیت کے مطابق ذمہ داری سونپی گئی۔ چونکہ احکام شرعیہ یعنی امانت کی ذمہ داری قبول کرنے کو خود انسان آگے بڑھا۔ اس لئے فرمایا اور مبالغہ کے ساتھ فرمایا کہ وہ ظالم اور انجام کو نہ سوچنے والا ہے یعنی یا تو وہ بالفعل ظالم اور جاہل ہے اس میں صلاحیت ضرور ہے یا یہ مطلب ہے کہ امانت کی ذمہ داری لینے کو تو لے لی لیکن اب انسان اپنے اوپر بڑا ظلم کرنیوالا اور انجام سے بہت غافل ہے چناچہ اس امانت میں خیانت کا انجام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو اور مشرکوں کو عذاب کرے گا اور یہ لوگ امانت میں خیانت کرنیوالے اور احکام الٰہیہ کو پش پشت ڈالنے والے ہیں۔ منافق خیانت کو چھپاتے ہیں اور مشرک علانیہ خیانت کرتے ہیں اور اسی حمل امانت کا انجام یہ بھی ہے کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر خاص توجہ مبذول فرماتا ہے اور اہل ایمان کی کوتاہیوں اور تقصیرات کو اپنی مہربانی سے درگزر فرما دیتا ہے۔ وہ غفور الرحیم ہے۔ حضرات صوفیہ رحمتہ اللہ علیہم اجمعین نے امانت کے تین درجے بتائے۔ اول احکام شرعیہ اور اوامرونواہی۔ دوم محبت و عشق اور انجذاب الٰہی، جیسا عارف شیرازی نے فرمایا : شب تاریک بیم موج گرداب جنیں ہائل کُجاد انند حال ماسبکسار ان ساحل ہا اس سے بڑھ کر کون سبکسار ساحل ہوسکتا ہے جس کو عنایت الٰہی نے خود ہی کھینچ لیا سوم فیض الٰہی بلاواسطہ یہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب حجابات وجودیہ نکل جائے انہی حجابات وجودیہ کا نام ظلوم و جہول ہے۔ امانت کا پہلا مرتبہ عوام کیلئے دوسرا خواص کیلئے اور تیسرا خص الخواص کیلئے۔ ازدم صبح ازل تا آخر شام ابد دوستیٔ و مہر بہ یک عہدویک میثاق بود الحمدللہ تم تفسیر سورة الاحزاب