33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 33:28

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبی آپ اپنی بیویوں سے فرما دیجئے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زندگی کی رونق اور سازو سامان چاہتی ہو تو آئو میں تم کو کچھ مال و متاع دیدوں اور تم کو خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دوں

28۔ اے نبی آپ اپنی ازواج یعنی بیویوں سے فرما دیجئے اگر تم دنیا کی زندگی کا عیش اور اس زندگی کی بہار اور ساز و سامان چاہتی ہو تو آئو میں تم کو کچھ مال و متاع دیدوں اور تم کو خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دوں ۔ مال و متاع شاید اس سے وہ جوڑا مراد ہو جو مطلقہ عورت کو دیا جاتا ہے ، خیبر کی فتح کے بعد جیسا کہ ہم نے کہا مسلمان کچھ آسودہ اور مرفہ الحال ہوگئے تھے ازواج مطہرات نے متفقہ طور پر نان و نفقہ کی زیادتی کا مطالبہ کردیا ۔ ازواج مطہرات کی تعداد اس وقت نو تھی ۔ عائشہ بنت ابوبکر ، حفصہ بنت عمر ، ام حبیبہ بنت ابو سفیان ، ام سلمہ بنت امیہ ، سودہ بن زمعہ ، زینب بنت حجش ، میمونہ بنت حارث ، صفیہ بنت حییی بن اخطب ، جو ریہ بن حارث۔ ان میں سے پہلی پانچ قریشی ہیں چھٹی اسدیہ ہیں ، ساتویں ہلالیہ ، آٹھویں خیبر کی ، نویں مصطلقیہ ہیں ۔ جب یہ مطالبہ ہوا تو نبی کریم ﷺ نا خوش ہوئے اور آپ نے ایک ماہ کیلئے سب سے علیحدگی اختیار کرلی اور قسم کھالی کہ ایک ماہ تک گھر میں نہ جائوں گا۔ لوگوں میں مختلف چرچے ہونے لگے کوئی کہتا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دیدی کوئی کہتا علیحدگی اختیارفرمائی ہے ان افواہوں سے حضرت صدیق ؓ اور حضرت فاروق ؓ بہت پریشان تھے گھر میں اپنی اپنی لڑکیوں کو دھمکاتے تھے کہ تم نے یہ کیا کیا ۔ نبی کریم ﷺ کسی گھر میں تشریف نہ لے جاتے تھے صرف مسجد کے برابر جو بالا خانہ تھا اس پر قیام فرماتے کسی کو اوپر جانے کی اجازت نہ تھی آخر صدیق اکبر اور عمر فاروق اعظم نے اجازت طلب کی ۔ حضور ﷺ نے ان دونوں کو اجازت دی جب یہ بالا خانے پر گئے تو حضرت عمر ؓ نے سرکار کی توجہ منتقل کرنے کی غرض سے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر میری بیوی خارجہ مجھ سے میری حیثیت سے زیادہ نفقہ طلب کرتی تو میں اس کو خوب مارتا ۔ اس پر حضور ﷺ مسکرائے اور فرمایا دیکھ لو یہ میرے گرد بیٹھی ہیں اور مجھ سے وہ چیز طلب کرتی ہیں جس کے دینے کی مجھ کو مقدرت نہیں ہے۔ اس پر حضرت صدیق اکبر ؓ ا عائشہ کو اور حضرت عمر فاروق ؓ نے حفصہ ؓ کو اٹھ کر مارنا شروع کیا اور ان سے کہا تم کیوں نبی کریم ﷺ سے وہ چیز طلب کرتی ہو جس کو ادا کرنے کی آپ مقدرت نہیں رکھتے۔ تب ازواج نے خدا کی قسم کھا کر کہا کہ ہم کبھی ایسی کوئی چیز حضور ﷺ سے طلب نہیں کریں گے جو آپ کے پاس نہ ہو۔ اسی واقعہ میں یہ آیت تخییر نازل ہوئی۔
Ayah 33:29

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کو اور اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیک کردار بیویوں کیلئے بہت بڑا ثواب مہیا کر رکھا ہے

29۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور دار آخرت اور پچھلے گھر کا ارادہ رکھتی ہو اور چاہتی ہو تویقینا اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیک کردار اور نیکوکاروں کے لئے بہت بڑا ثواب مہیا کر رکھا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کی ازواج نے دیکھا کہ لوگ آسودہ ہوئے چاہا ہم بھی آسودہ ہوں بعضوں نے بول چال کی حضرت نے قسم کھائی کہ ایک مہینے گھر میں نہ جاویں پھر مہینے کے بعد یہ آیت اتری حضرت گھر میں آئے اول حضرت عائشہ ؓ سے کہا انہوں نے اللہ اور رسول کی مرضی اختیار کی پھر اسی طرح سب ! حضرت کے ہاں ہمیشہ فقر و فاقہ تھا اپنے اختیار سے جو آتا تھا شتاب اٹھا ڈالتے تھے ، پھر قرض لینا پڑتا تھا یہ جو فرمایا کہ جو نیکی پر ہیں ان کو بڑا نیگ ہے ۔ حضرت کی ازواج سب نیک ہی رہیں الطیبات للطیبین مگر حق تعالیٰ صاف خوش خبری کسی کو نہیں دیتا تا کہ نڈر نہ ہوجاویں خاتمہ کا ڈر لگا رہے۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ جب یہ آیتیں نازل ہوئیں تو آپ نے حصرت عائشہ ؓ کو بلا کر سنائیں اور ان سے فرمایا کہ تم اپنے والدین سے مشورہ کر کے جواب دو ۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اس میں مشورے کی کیا ضرورت ہے میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں ۔ حضرت عائشہ ؓ چونکہ سب ازواج تفقہ اور سمجھ میں اپنے سے فائق خالق کرتی تھیں ۔ اور اسی دینی تفقہ کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کو ان سے محبت اور طبعی میلان زیادہ تھا ، تمام باقی بویوں نے بھی وہی کہا جو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا تھا اگرچہ حضرت عائشہ ؓ نے اپنے فیصلے کو مخفی رکھنے کی کوشش کی، بہ حال یہ قفیہ ختم ہوا آگے کی آیتوں میں ازواج مطہرات کو مزید ہدایت فرمائی۔
Ayah 33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے نبی کی عورتو تم میں سے جو عورت صریح ناپسندیدہ فعل کا ارتکاب کرے گی تو ایسی عورت کو دوہری سزا دی جائے گی اور یہ دوہری سزا دینا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے

30۔ اے نبی کی عورتو ! تم میں سے جو عورت صریح ناپسندیدہ فعل کا ارتکاب کرے گی تو ایسی عورت کو دنگی اور دوہری سزا دی جائے گی اور یہ دوہری سزا دینا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فاحشۃ مبینہ کی تفسیر میں نشوز اور سوء خلق فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ کسی ایسی حرکت کا ارتکاب جو نبی کریم ﷺ کی پریشانی اور تنگی کی موجب ہو اور آپ کو جس فعل سے پریشانی ہو دوہری سزا یعنی اس فعل کی سزا جتنی کسی اور کو ملتی اس سے دو چند تم کو دی جائیگی اور سزا کا دو چند کردینا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے ، تمہاری عظمت اور پیغمبر کی زوجہ ہونا اس کیلئے مانع ہیں ۔ ازواج مطہرات کی شرافت ، برتری اور بزرگی پر یہ آیت دلالت کرتی ہے جس طرح عالم کی سزا جاہل سے زیادہ اور آزاد کی سزا غلام سے زیادہ یہاں سزا کی زیادتی اسی طرح سمجھنی چاہئے ۔ یہ مرتبہ ازواج کا اس نسبت زوجیت کی بنا پر ہے جو ان کو نبی کریم ﷺ کی منکوحہ ہونے سے حاصل ہوا۔
Ayah 33:31

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو عورت تم میں سے اللہ کی اور اس کے رسو ل کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک اعمال کرتی رہے گی تو ہم اس کو اس کا اجر بھی دوہرا دیں گے اور ہم نے ایسی عورت کیلئے با عز ت روزی تیار کررکھی ہے

31۔ اور جو عورت تم میں سے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک اعمال کرتی رہے گی تو ہم اس کو اس کا بھی دو مرتبہ یعنی دوہرا اجر دیں گے اور مزید برآں ہم نے اس عورت کیلئے خاص اور با عزت روزی تیار کر رکھی ہے۔ یعنی تم کو جو نبی کی زوجیت کا شرف حاصل ہے اس کی بنا پر ورزر بھی اور اجر بھی دوہرا اور ظاہر ہے کہ ان کا نشوز جس طرح اذیت پیغمبر کا موجب ہے اسی طرح ان کی خدمت اور اطاعت آپ کی راحت کا سبب ہوگی۔ تو پیغمبر کے ستانے کا جس طرح عذاب زیادہ اسی طرح آپ کو راحت اور آرام پہنچانے کا ثواب زیادہ دوہرے کا مطلب وہی کو جتنا اس فعل کا ثواب کسی اور کو ملے اس سے دگنا ان کو ملے رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ بڑے درجے کو لازم ہے کہ نیکی کا ثواب دونا اور برائی کا عذاب دونا ، پیغمبر کو بھی فرمایا ۔ لا زقنک ضعف الحیوۃ۔ 12۔ یہ آیت سورة بنی اسرائیل میں گزر چکی ہے اور وہاں ہم نے ایک ہلکا سا اشارہ بھی کردیا ہے۔
Ayah 33:32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے نبی کی عورتو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو بشرطیکہ تم تقویٰ کی پابندرہو سو تم غیر مردوں سے لچک کے ساتھ بات نہ کیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص جس کے قلب میں خرابی ہے کوئی غلط خیال قائم کر بیٹھے اور معقول و جچی تلی بات کیا کرو

32۔ اے نبی کی عورتو تم عام اور معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو بشرطیکہ تم پرہیز گاری اور تقویٰ کی پابند رہو سو تم نا محرم مردوں سے نزاکت اور لچک کے ساتھ بات نہ کیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص جس کے قلب میں کوئی روگ اور خرابی ہے وہ کوئی غلط اور فاسد خیال قائم کرے اور معقول اور جچی تلی بات کہا کرو۔ اس آیت میں ازواج مطہرات کی امتیازی شان کا ذکر ہے کہ اگر تم تقویٰ اور پرہیز گاری پر قائم رہو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، پھر ادب تعلیم کیا کہ نا محرم مردوں سے بات کرتے وقت نرمی اور لوچ نہ برتا کرو کیونکہ نزاکت کے ساتھ بات کرنے میں بلا وجہ روگی اور مریض دلوں میں خیالات فاسدہ اور بری قسم کا لالچ پیدا ہوجاتا ہے اس لئے بات جو کرو وہ معقول اور جچی تلی ہو ، جیسے ماں بیٹے سے کرتی ہے گفتگو کا اندازہ سخت اور درشت ہو تو یہ اس کلام سے بہتر ہے جس میں لین اور لوچ ہو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ ایک ادب سکھایا کہ کسی مرد سے بات کہو تو اس طرح کہو جیسے ماں کہے بیٹوں کو۔ 12 ۔ جب ازواج مطہرات کو یہ حکم ہوا تو اس پر امت کی عام عورتوں کو کس قدر احتیاط کی ضرورت ہے یہ خود سوچنے کی بات ہے۔
Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور گزشتہ دور جاہلیت کی طرح بنائو سنگھار نہ دکھاتی پھرو اور تم نماز کی پابند رہو اور زکوٰۃ ادا کرتی رہو اور اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتی رہو ، اے پیغمبر کے گھر والو اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی آلودگی کو دوررکھے اور تم کو خوب پاک صاف رکھے

33۔ اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور اپنے گھروں میں قرار پکڑو اور قدیم زمانہ جاہلیت کی طرح مت پھرو اور گزشتہ دور جاہلت کی طرح اپنا بنائو سنگھائو نہ دکھاتی پھرو اور تم نما ز کی پابند رہو اور زکوٰۃ ادا کرتی رہو اور اللہ تعالیٰ کی اور اسکے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرتی رہو ۔ اے پیغمبر کے گھر والو اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی آلودگی اور گندگی باتیں دوررکھے اور تم کو خوب پاک صاف رکھے۔ یعنی ازواج مطہرات کو گھر میں رہنے کا حکم دیا کہ گھروں سے نہ نکلو اگر کوئی شرعی ضرورت ہو، مثلاً حج تو ایسی صورتیں مستثنیٰ ہوں گی۔ بعض روایات میں بھی آیا ہے کہ اذ ن لکم ان تخرجن لحا جتکن۔ یعنی تم کو اجازت دی جاتی ہے کہ تم اپنی ضرورتوں کے لئے گھروں سے باہر جاسکتی ہو ۔ جاہلیت اولیٰ کے دور میں جس طرح عورتیں بےپردہ پھرتی تھیں اس طرح نہ پھرو ۔ جاہلیت اولیٰ میں کئی قول ہیں شاید جاہلیت اولیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم ﷺ کے درمیانی دور کو فرمایا ، نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا ۔ بظاہر خطاب ازواج مطہرات کو ہے لیکن یہ حکم میں امت کی تمام عورتوں کو شامل ہے، آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو معصیت کی آلودگی سے پاک رکھے اور تم کو ظاہری اور باطنی عقیدے اور اعمال اور اخلاق کی خرابیوں سے خوب پاک صاف رکھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کفر کے وقت بےپردہ تھیں عورتیں ۔ 12 اور فرماتے ہیں یہ خطاب ازواج کو اور داخل ہیں حضرت کے سب گھر والے ۔ 2 1 یعنی اہل بیت کے لفظ میں ازواج مطہرات میں آپ کی عزت بھی شامل ہے یعنی حضرت حسنین ؓ حضرت خاتون محشر اور حضرت علی کرم اللہ وجہ آیت تطہیر سے بعض حضرات نے جو اہل بیت کی معصویت کا دعویٰ کیا ہے یہ صحیح نہیں ہے۔
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور جن آیات الٰہی اور حکمت کی باتوں کا تمہارے گھروں میں تذکرہ اور چرچا رہتا ہے ان کو یاد رکھو بیشک اللہ تعالیٰ بڑا راز داں بڑا با خبر ہے

34۔ اور جو آیات الٰہی تمہارے گھروں میں پڑھتی جاتی ہیں اور جن حکمت کی باتوں کا تذکرہ اور چرچا تمہارے گھروں میں ہوتا رہتا ہے انکو یاد رکھو بلا شبہ اللہ تعالیٰ واقف اسرار ہے خبردار ! یعنی جو اللہ تعالیٰ کے احکام اور نادائی کی باتیں تمہارے ہوتی ہیں ان کو خود بھی سیکھو اور دوسروں کو بھی سیکھائو یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے تم کو ایسے گھرانے میں رکھا جو آسمانی علم و حکمت کا خزانہ ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ بڑا رازوں اور جلہ اسرار سے وقف اور با خبر ہے اس لئے اس نے تم کو اسے گھرانے میں رکھا جو آسمانی علم و حکمت کا خزانہ ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ بڑا رازوں اور جملہ اسرار سے واقف اور با خبر ہے اس لئے اس نے محمد رسول اللہ ﷺ کو آخری شریعت کیلئے منتخب فرمایا اور دین متین کی اشاعت اور اس کے پھیلانے کیلئے تم کو اس کی ازواج میں داخل کیا تا کہ تمام امت کیلئے نمونہ ہو ۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بلا شبہ احکام اسلامی کی تعمیل کرنے والے مرد اور احکام اسلامی کو بجا نے والی عورتیں اور ایماندار مرد اور ایماندار عورتیں اور فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنیوالی عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنیوالی عورتیں اور عاجزی کرنیوالے مرد اور عاجزی کرنیوالی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنیوالی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنیوالی عورتیں اور بکثرت خدا کو یاد کرنیوالے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں ان سب کیلئے اللہ تعالیٰ نے بڑی مغفرت اور بڑا ثواب تیارکر رکھا ہے

35۔ بلا شبہ احکام اسلامی کی تعمیل کرنیوالے مرد اور احکام اسلامی کی تعمیل کرنیوالی عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور سہار کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنیوالے مرد اور عاجزی اور خشوع کرنیوالی عورتیں اور خیرات کرنیوالے مرد اور خیرات کرنیوالی عورتیں اور روزہ کھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنیوالے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرنیوالے مرد اور بکثرت یاد کرنیوالی عورتیں اللہ تعالیٰ نے ان سب کیلئے بخشش کا بڑا سامان بڑا اجر وثواب تیار کر رکھا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کی ایک بی بی نے کہا تھا کہ قرآن میں سب ذکر مردوں کا ہے عورتوں کا کہیں نہیں اس پر یہ آیت اتری نیکی عورتوں کی خاطر کو نہیں تو جو حکم مردوں پر کہا سو عورتوں پر بھی آیا ہر بار جداکہنے کی حاجت نہیں ۔ 12 ہو سکتا ہے کہ ازواج مطہرات کے ذکر پر دوسری عورتوں کو بھی یہ خیال ہوا ہو کہ ہمارا بھی ذکر قرآن کریم میں آئے حضرت حق تعالیٰ نے اس پر یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہاں مسلمان مرد اور مومن مرد کے ذکر سے مراد وہی ہے جو حدیث جبرئیل میں آیا ہے یعنی ایمان سے اعتقاد اور اسلام سے اعمال ، فرمانبرداری کرنیوالے سے مراد یہ ہے کہ ان کا اسلام اور ایمان محض انقیا د اور فرمانبرداری کی نیت سے ہو۔ راست باز یعنی اعمال اور اعتقاد اور نیت میں سچائی ہو اور ریا اور نفاق نہ جو صابرین میں ہر قسم کے صبر کرنیوالے خواہ اطاعت کی مشقت پر صبر ہو یا معاصی سے رکنے پر صبر ہو یا مصائب پر صبر ہو ۔ اور خاشعین سے مراد وہ لوگ ہیں جو تواضع کے خوگر ہیں اور بالخصوص عبادت الٰہی میں ان کے قلب اور اعضا پر خشوع و خضوع کا اثر مرتب ہوتا ہے۔ خیرات کرتے ہیں ہر قسم کی خیرات مراد ہے خواہ نفل ہو یا فرض ، ذکر الٰہی بکثرت کرنیوالوں میں خواہ ذکر لسانی ہو یا قلب کا ذکر ہو سب طرح کے لوگ شامل ہیں ان سب مرد اور عورتوں کے لئے بخشش بھی ہے اور اجر عظیم بھی یعنی خطائوں کو مغفرت اور ثواب کی بزرگی اور بڑائی۔
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی ایماندار مرد اور کسی ایماندار عورت کو یہ لائق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دیدے تو پھر ان مومن مردوں اور عورتوں کو اپنے کام کا کوئی اختیار باقی رہے اور جو شخص اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کا ارتکاب کرے تو یقینا وہ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوا

36۔ اور کسی ایماندار مرد اور کسی ایماندار عورت کو یہ بات لائق اور مناسب نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ کسی کام کا حکم دے دے تو پھر ان مومن مردوں یا عورتوں کو اس کام کا کوئی اختیار باقی رہے اور جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کا مرتکب ہوا تو یقینا وہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑا ۔ یعنی جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا حکم کر دے تو بھی مومن مرد یا مومن عورت کو اختیار شرعی باقی نہیں رہتا کہ چاہے اس کام کو کرے یا نہ کرے بلکہ اس حکم کی تعمیل واجب ہوتی ہے اور جو کوئی اس حکم کے بجا لانے میں سرتابی یا پس و پیش کرے گا تو ایسا کرنے والا صریح گمراہی میں مبتلا ہوگا یعنی حکم کی تعمیل میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ یہ شاید تمہید ہے حضرت زینب ؓ کی طلاق اور نکاح کی جیسا کہ شروع سورت میں بیان ہوا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت زینب ؓ رسول خدا کی پھوپھی کی بیٹی اور قوم میں اشراف ، حضرت نے چاہا کہ ان کو نکاح کردیں زید بن حارث سے یہ زید اصل عرب تھے ظالم پکڑے گئے لڑکن میں شہر مکہ میں بکے ۔ حضرت نے مول لیا دس برس کی عمر میں ان کے باپ بھائی خبر پا کر آئے مانگنے کو حضر ن دینے پر راضی ہوئے یہ گھر جانے پر راضی نہ ہوئے ۔ حضرت کی محبت سے پھر حضرت نے ان کو بیٹا کرلیا اسلام سے پہلے اس وقت کے رواج کے موافق حضرت زینب اور ان کے بھائی راضی نہ ہوئے اس بات پر یہ آیت اتری پھر نکاح کردیا۔ 12۔ حضرت زینب بنت حجش ؓ نبی کریم ﷺ کی پھوپھی امیمہ کے بطن سے ہیں ان کے بھائی کا نام عبد اللہ بن حجش ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضور ﷺ نے پہلی مرتبہ پیام دیا تو عبد اللہ راضی ہوگئے تھے پھر انکار کیا اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلی مرتبہ کے پیام کو یہ سمجھتے کہ شاید رسول اللہ ﷺ اپنے لئے چاہتے ہیں مگر جب ان کو معلوم ہوا کہ آپ زید بن حارث کیلئے طلب کرتے ہیں تو انہوں نے انکار کردیا کیونکہ اس زمانے کا رواج تھا کہ قریشی لڑکی کسی ایسے شخص کے نکا ح میں نہیں دی جاتی تھی جو غلام رہ چکا ہو اور ظاہر ہے کہ زید پہلے آنحضرت ﷺ کے زر خرید غلام تھے بعد میں آپ نے اس کو آزاد کر کے لیے پالک بیٹا بنا لیا تھا۔ اس حکم کے بعد عبد اللہ ؓ اور زینب ؓ زید کے ساتھ نکاح کرنے پر رضا مند ہوئے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم دینے کے بعد کوئی چارہ نہ رہا ۔ جب حضرت زینب ؓ سے زید ؓ کا نکاح ہوا تب نبی کریم ﷺ نے اپنے پاس سے دس دینار اور ساٹھ درہم ایک اوڑھنی ایک کرتا ، ایک تہبند ، ایک چادر ، پچاس مدغلہ اور تیس صاع کھجوریں حضرت زینب ؓ کو بھیجیں اور یہ نکاح ہوگیا لیکن مزاجوں میں موافقت نہ ہوئی وہ قریشی لڑکی زید کو خاطر میں نہ لاتی تھی زید ملول ہوتے تھے ۔ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیوی کے برے برتائو اور کج خلقی کی شکایت کرتے تھے غرض جو غیر کفو اور بےجوڑ رشتوں میں باتیں ہوا کرتی ہیں وہ ہوتی تھیں کبھی وہ یہ بھی کہتے تھے کہ میں طلاق دے دیتا ہوں۔ غرض ! ا ن پیچیدگیوں کی وجہ سے نبی کریم ﷺ سخت متامل تھے زید ؓ کو سمجھاتے تھے کہ طلاق نہ دے پھر یہ بھی سوچتے تھے کہ اگر اس نے طلاق دیدی تو زینب ؓ کے تالیف قلوب کی کیا صورت ہوگی غرض اس کا بیان آگے آتا ہے۔
Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور ایسے پیغمبر وہ واقعہ یاد کیجئے کہ جب آپ اس شخص سے کہ جس پر اللہ نے احسان کیا ہے اور آپ نے بھی اس پر احسان کیا ہے یوں فرما رہے تھے کہ اپنی بیوی یعنی زینب کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور خدا سے ڈر اور آپ اپنے جی میں وہ بات چھپا رہے تھے جس کو خدا ظاہر کرنیوالا تھا اور آپ لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ خدا اس کا زیادہ مستحق ہے آپ اس سے ہی ڈریں پھر جب زید کو اس زینب سے کوئی حاجت باقی نہ رہی یعنی اس کو طلاق دیدی تو ہم نے اس کو آپکے نکاح میں دیدیا تا کہ مسلمانوں کو اپنے لے پالکوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی باقی نہ رہے جبکہ وہ لے پالک ان بیویوں سے اپنی غرص ختم کرچکیں یعنی طلاق دے چکیں اور خدا کا یہ حکم تو ہو کر ہی رہنے والا تھا

37۔ اور اے پیغمبر وہ واقعہ یاد کیجئے کہ جب آپ اس شخص پر جس پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا اور آپ نے بھی اس پر احسان کیا ہے یوں فرما رہے تھے کہ اپنی بیوی زینب ؓ کو اپنی زوجیت میں روکے رکھ اور اللہ تعالیٰ سے ڈر اور آپ اپنے جی میں وہ باپ چھپا رہے تھے جس کو اللہ تعالیٰ خود ظاہر کرنیوالا تھا اور آپ لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس سے ہی ڈریں پھر جب زید کو اس زینب ؓ سے کوئی حاجت باقی نہ رہی اور زید اس سے اپنی غرض پوری کرچکا یعنی طلاق دے چکا اور عدت پوری ہوگئی تو ہم نے اس زینب ؓ کو آپ کے نکاح میں دیدیا تاکہ مسلمانوں کو متنبی اور لے پالکوں اور منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں کوئی تنگی نہ رہے جب کہ وہ لے پالک ان بیویوں سے اپنی حاجت اور اپنی غرض پوری کر چکیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہو کر ہی رہنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان یہ کہ زید کو اسلام کی توفیق عطا فرمائی اور آپ ؐ کی خدمت اور تربیت میں رکھا رسول کا احسان یہ کہ زید کو آزاد کیا اور اس کو متنبی بنایا ۔ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ اس کو روکے رہو اور زینب ؓ کو طلاق دینے میں تعجیل نہ کرو یہ امر معروف تھا کوئی شرعی حکم نہ تھا ۔ بہر حال زید اور زینب ؓ میں ان بنی بڑھتی رہی ادھر حضور اکرم ﷺ کی تشویش میں اضافہ ہوتا رہا اگر اس نے طلاق دیدی تو زینب ؓ کیلئے تالیف قلب کی کیا صورت اختیار کی جائے گی تا آنکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتادیا کہ زینب ؓ سے آپکا نکاح کیا جائے گا ۔ حضور اکرم ﷺ نے حیا کی وجہ سے زید کے روبرو یہ بات نہیں کھولی اگرچہ دل میں یہ خیال ہوگا کہ زید اس کو طلاق دے دیگا تو میں سے نکاح کرلوں گا تا کہ حتی الامکان اس کی دل جوئی ہو سکے۔ حضرت امام زین العابدین ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو یہ بتاچکا تھا کہ زید زینب ؓ کو طلاق دے گا اور زینب ؓ آپ کے نکاح میں آئے گی ۔ اسی لئے فرمایا کہ آپ اپنے دل کی بات پوشیدہ رکھ رہے تھے۔ یعنی زینب کے نکاح کو اللہ تعالیٰ آخر میں اس کو ظاہر کرنے والا تھا آپ لوگوں سے ڈرتے تھے ڈر کی وجہ یہ کہ لوگ طعن کریں گے کہ متنبی کی بیوی سے نکاح کرلیا حالانکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہی آپ کے لئے زیادہ سزا وار ہے یعنی کفار کے طعن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو میں زیادہ مستحق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے۔ بہر حا ل ! جب زید اپنی حاجت پوری کرچکا اور اس نے اپنی غرض پوری کرلی اور عدت پوری ہوگئی تو ہم نے زینب ؓ کا نکاح آپ سے کردیا تا کہ جاہلانہ اور کافرانہ رسم کا سد باب ہو اور آئندہ مسلمانوں کو اپنے لے پالک بیٹوں کی بیویوں سے شادی کرنے میں کوئی دشواری و تنگی پیش نہ آئے ، جب کہ وہ خاوند ان سے اپنی حاجت اور غرض پوری کر چکیں یعنی طلاق دے چکیں اوعدت پوری ہوجائے تو ان سے یعنی لے پالک بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرسکیں اور تمام لوگوں کو حسبی اور نسبی اولاد اور بنائی ہوئی اولاد کا فطری فرق معلوم ہو سکے اور اللہ تعالیٰ کا یہ حکم تو ہونیوالا ہی تھا کیونکہ حکمت الٰہی اس امر کی مقتضی تھی کہ دنیا سے کافرانہ اور غیر فطری رسوم کا خاتمہ کیا جائے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ایک طرف زینب ؓ کو زید کے نکاح میں دیکر اونچ نیچ کے فرق کو جو حمیت جاہلیتہ تھی اس کو توڑ پھر زید کی طلاق کے بعد زینب ؓ سے خود حضور ﷺ کا نکاح کرنا اس سے لے پالک اور صلبی بیٹے کا فرق معلوم ہوگیا کہ لے پالک اور متنبی کی بہو خواہ منکوحہ ہو یا موطوہ ہو خسر پر حرام نہیں لیکن صلبی بیٹے کو منکوحہ خسر پر حرام ہے۔ ( وللہ الحمد) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت زینب ؓ زید ؓ کے نکاح میں آئیں تو وہ ان کی آنکھوں میں حقیر لگتامزاج کی موافقت نہ ہوئی جب لڑائی ہوتی تو زید حضرت ؐ سے آ کرش کا یت کرتے اور کہتے میں سے چھوڑتا ہوں حضرت منع فرماتے کہ میری خاطر سے اس نے تجھ کو قبول کیا اب چھوڑ دینا دوسری ذلت ہے جب بار بار قضیہ ہوا حضرت کے دل میں آیا کہ اگر نا چار زید چھوڑ دے گا تو زینب ؓ کی دل جوئی بغیر اس کے نہیں کہ میں نکاح کروں لیکن منافقوں کی بد گوئی سے اندیشہ کیا کہ کہیں گے اپنے بیٹے کی جورو گھر میں رکھ لی حالانکہ لے پالک کا حکم بیٹے کا نہیں کسی بات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب ؓ کی خاطررکھی بعد طلاق کے حضرت کے نکاح میں دیدیا اللہ کے فرمانے ہی سے نکاح بندھ گیا ۔ ظاہر میں نکاح کی حاجت نہہوئی جیسے آپ کوئی مالک اپنی لونڈی غلام کا نکاح باندھ دے ، غرض تمام کرلی یعنی چھوڑی دی ۔ 12 اور یہ جو فرمایا ہم نے آپ کے نکاح میں زینب ؓ کو دے دیا اسی وجہ سے زینب ؓ کا نکاح دنیا کی زمین پر نہیں ہوا ، چناچہ نبی کریم ﷺ بلا اذن حاصل کئے زینب ؓ کے مکان میں تشریف لے گئے حضرت زینب ؓ نے عرض کیا بلاخطبے اور گواہ آپ نے فرمایا۔ اللہ المزوج و جبرئیل الشاھد یعنی اللہ تعالیٰ نکاح کرنے والا اور حضرت جبرئیل گواہ اسی وجہ سے حضرت زینب ؓ سب بیبیوں پر فخر کیا کرتی تھیں کہ میرا نکاح کرنیوالا اللہ تعالیٰ ہے اور تمہارا نکاح کرنے والے تمہارے رشتہ دار ہیں ۔ تخفی فی نفسک کی تفسیر میں بعض حضرات نے بہت سی ان ہوئی اور غیر ثابت شدہ باتیں لکھی ہیں جو نہ روایتا ًصحیح ہیں نہ درایتا ً اس لئے ہم نے ان سب کو نظرانداز کردیا ہے۔ اجبناان نضرب عنھا صفحا الحدم صحتھا فلا نوردھا۔
Ayah 33:38

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

اللہ نے جو بات نبی کے لئے مقرر کردی تھی اس بات میں نبی پر کوئی الزام نہیں خدا کا یہی دستور ان پیغمبروں میں بھی رہا ہے جو پہلے ہو گزرے ہیں اور اللہ کا حکم تو پہلے سے تجوید شدہ ہوا کرتا ہے

38۔ اللہ تعالیٰ نے جو بات نبی کے لئے مقرر کردی اس بات کے کرنے میں نبی پر کوئی الزام اور کچھ مضائقہ نہیں اللہ تعالیٰ کا یہی معمول اور یہی دستور ان لوگوں میں بھی رہا ہے جو پہلے ہو گزرے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم تو پہلے سیت جو یز شدہ ہوا کرتا ہے۔
Ayah 33:39

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

وہ اگلے پیغمبر ایسے تھے کہ خدا کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ سے ڈرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ حسا ب لینے کیلئے کافی ہے

39۔ وہ اگلے پیغمبر ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ اعمال کا حساب لینے کے لئے کافی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو بات پیغمبر کے لئے مقرر کردے یہ تقریر خواہ تکوینی ہو یا تشریعی ، اس کے کرنے میں کوئی الزام اور مواخذہ نبی پر نہیں ۔ غرض ! جو چیز اس کے لئے مباح کردی گئی وہ مباح ہے یہی طریقہ انبیائے سابقین میں بھی رہا ہے کہ جس بات کو ان کو اجازت دیدی گئی اس پر کوئی مواخذہ یا تنگی نہیں اور اللہ تعالیٰ کا کام اور اس کا حکم تو ایک طے شدہ اور پہلے سے تجویز کردہ ہوتا ہے۔ آگے ان پیغمبروں کے اوصاف بتائے کہ انبیائے سابقین اللہ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ فرمایا کرتے تھے اور اسی سے ڈرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور چونکہ ہر چیز کا حساب اللہ تعالیٰ ہی لینے والا ہے اور وہ حساب لینے کو کافی ہے پھر کسی اور سے ڈرنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ آگے فرمایا کہ زید بن حارثہ کو آپ نے متنبی کرلیا تھا وہ آپ کے حقیقی بیٹے نہیں بن گئے تھے اور زید کا بیٹا بنناکیسا آپ تو مردوں میں سے کسی کے بھی باپ نہیں ، نرینہ اولاد فوت ہوچکی آپ کی اولاد میں کوئی مرد نہیں صرف لڑکیاں ہیں ۔ وہی روحانی ابوت جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں وہ دوسری بات ہے اور روحانی جس پر ظاہری احکام متفرع نہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پیغمبر کو ایک کام کرنا ہو شرع میں روا ہوگیا مضائقہ رکھتا ہے ۔ ہمیشہ پیغمبروں کو اسکے سوا کسی کا ڈر نہیں رہا یا یہ کہ بعض حکم ہمیشہ پیغمبروں کو خاص ہی رہی جیسے عورتوں کی گنتی حضرت دائود کو سو عورتیں تھیں اور کوئی اپنی حد سے زیادہ کرے تو گناہ ہے اور جن کو روا ہو ان کو مضائقہ نہیں اور ان کو خاص بعض حکم اس سے ہیں کہ خدا کے خلاف حکم نہیں کرتے۔ 12
Ayah 33:40

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں یعنی نسب کے اعتبار سے مگر ہاں وہ اللہ کے رسول اور آخر النبین ﷺ ہیں اور اللہ ہر شے کی مصلحت کو خوب جانتا ہے

40۔ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے نسبی اعتبار سے باپ نہیں ہیں مگر ہاں وہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور آخر النبین اور سب نبیوں پر مہر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر شے کی مصلحت کو خوب جاننے والا ہے ۔ یعنی آپ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں چھوٹے بیچے وفات پاچکے کوئی حد بلوغت کو نہیں پہنچارہا ۔ زید بن حارث تو وہ بھی حقیقی اور نسبی بیٹا نہیں محض لے پالک اور متنبی تھا تبنیت کی شریعت میں کوئی حقیقت نہیں اس لئے کہ یہ قضیہ بالکل صحیح ہے کہ ما کان محمد ابا احد من رجالکم نسبی ابوت کی نفی کے بعد آپ کی رسالت اور آخر النبین اور سلسلہ نبوت پر مہر لگا کر اس دروازے کو ہمیشہ کے لئے بند کردینے والے کا اثبات ہے۔ آخر میں اس مرتبہ رفیع پر اپنی حکمت اور مصلحت کا اعلان ہے کہ ہم خوب جانتے ہیں کو ن رسالت کے لائق ہے اور کون آخر الرسل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ابوت نسبی مردوں میں کسی کو حاصل نہیں البتہ ابوت معنوی اور روحانی تو اس کی کیفیت یہ ہے کہ سارے پیغمبر اپنے اپنے زمانے میں روح محمد ﷺ کی نبوت اور آپ کی روحانیت سے مستفید ہوئے ہیں ۔ ان سب کی تکمیل آپ کی بعثت اور آپ کی تشریف آوری پر موقوف تھی ۔ نبوت کا ہر خط اسی نقطہ کا پرور دہ اور اسی نقطہ کا مرہون منت تھا جس نقطہ کو حقیقت محمدیہ کہا جاتا ہے۔ اللھم صل علی محمد وبارک وسلم علیہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کی اولاد یا لڑکے گزر گئے یا بیٹیاں رہیں کوئی مرد ہوا نہیں یعنی کسی کو اس کا بیٹا نہ جانو مگر رسول اللہ کا ہے اس حساب سے سب اس کے بیٹے ہیں اور پیغمبروں پر مہ رہے اس کے بعد کوئی پیغمبر نہیں یہ بڑائی اس کو سب پر ہے۔ 12
Ayah 33:41

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کیا کرو

41۔ اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کیا کرو۔
Ayah 33:42

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کیا کرو

42۔ اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کیا کرو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت رکھو ۔ عبد اللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر فرض کی ایک حد مقرر کی ہے لیکن ذکر کے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی یعنی بیٹھتے اٹھتے لیٹتے چلتے پھرتے دن میں رات میں صحرا میں دریا میں غرض اس کا ذکر کرنا اور اس کو یاد کرنا ہر وقت مطلوب ہے اس کے ترک کیلئے کوئی عذر بھی نہیں سوائے اس کے کہ جنوں ہوجائے اور ذکرکرنیوالا پاگل ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ کے جس قدر مسلمانوں پر احسانات ہیں ان پر غور کرو اور ذکر الٰہی کی کثرت رکھو خواہ ذکر لسانی ہو یا ذکر قلبی ہو اور صبح و شام اس کی تسبیح اور تقدیس کرتے رہو۔ اس جملے میں تمام طاعات داخل ہیں۔ بکرہ دن کے اول حصے کو کہتے ہیں اور اصیل شام کے حصے کو کہتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام بجا لائو ۔ اسی وجہ سے بعض مفسرین نے بکرہ سے نماز فجر اور اصیل سے مراد ظہر ، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد لی ہیں ۔ حضرت قتادہ نے فرمایا سبحان اللہ والحمد للہ ولا لہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ تسبیح سے مراد یہ کلمے ہیں ، بہر حال قول راجح یہی ہے کہ تمام طاعات مراد لی جائیں۔
Ayah 33:43

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو تم پر رحمت بھیجا رہتا ہے اور اس کے فرشتے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکاح لائے اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں پر نہایت مہربان ہے

43۔ وہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو تم پر رحمت بھیجتارہتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لئے استغفار کیا کرتے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ تم کو گناہوں کی تاریکیوں سے طاعت و فرمانبرداری کی روشنی کی جانب نکال لائے۔ اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں پر نہایت مہربان ہے۔ فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں مسلمانوں کیلئے یا استغفار کرتے ہیں اور ظلمات سے مراد معاصی کی تاریکیاں ہیں یا شک کی اسی مناسبت سے نور سے مراد طاعت کی روشنی ہے بالیقین کی روشنی ۔ خلاصہ۔ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مختلف تاریکیوں سے خواہ معاصی کی اندھیریاں ہوں یا شکوک و شبہات کی ہوں ان تاریکیوں سے نکاح کر طاعت اور یقین کی روشنی اور نور کی جانب لاتا ہے اور مسلمانوں پر بہت قربان ہے کہ دنیا میں ان کو ایمان کی نعمت اور اسلام کی دولت سے سرفراز فرمایا اور آخرت میں بھی ان کو رحمت اور مہربانی کا مورد وقرار دیا ۔
Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس دن مسلمان خدا سے ملیں گے تو خدا کی طرف سے جو ان کو دعا اور تحفہ عطا ہوگا وہ السلام علیکم ہوگا اور اللہ نے مسلمانوں کیلئے با عزت صلہ تیار کر رکھا ہے ،

44۔ جس دن مسلمان اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے تو اس کی طرف سے السلام علیکم کا تحفہ اور دعا عطا کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے با عزت صلہ اور اجر تیار کر رکھا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ ان پر سلام بھیجے گا اور آپس میں بھی یہی دعا ہے اور ہوگی ۔ 12 یعنی قیامت میں جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے یا مرتے وقت جب ملک الموت کے ہمراہ فرشتے سلام کرتے ہیں یا قبر سے اٹھتے وقت فرشتے سلامتی کا پیام اور بشارت دیں گے یا آپس میں دخول جنت کے بعد السلام علیکم کہتے ہوں گے۔ مفسرین کے کئی قول ہیں راجح وہی ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے مؤمنین کیلئے سلام کا تحفہ عطا ہوگا ۔ ابن عطا نے فرمایا یہ تحفہ بلا واسطہ ہوگا ۔ ؎ سلامت من دل خستہ در سلام تو باشد رہے سعادت اگر دولت سلام تو یا بم
Ayah 33:45

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی یقینا ہم نے آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ آپ گواہی دینے والے ہیں اور آپ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں

45۔ اے نبی یقینا ہم نے آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ آپ گواہی دینے والے ہیں اور آپ بشارت اور خوشخبری بنانے والے ہیں اور ڈرانے والے ہیں۔
Ayah 33:46

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور خدا کے حکم سے خدا کی طرف بلانے ووالے ہیں اور آپ ایک روشن چراغ ہیں

46۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے اور داعی ہیں اور آپ ایک روشن اور چمکتے ہوئے چراغ ہیں ۔ گواہ ہوں گے یعنی اپنی امت پر گواہی دیں گے یا انبیاء کی تبلیغ رسالت پر شہادت دیں گے مستحقین بشارت یعنی مؤمنین کو خوشخبری دینے والے اور منکرین دین حق کو عذاب الٰہی سے ڈرانے والے ، سراج منیر سے مراد یا تو قرآن کریم ہے یعنی تالیا ً سراجا ً منیرا ۔ آپ قرآن کریم کی تلاوت کرینوالے یا آپ کی ذات تمام طالبین انوار کیلئے موجب ہدایت و رہنمائی ہے ۔ چراغ شاید اس لئے فرمایا کہ آپ کی تعلیم اور آپ کے دین کی روشنی ہر کچے اور پکے مکان بلکہ ہر آبادی میں پہنچنے والی ہے اس لئے آپ کو چراغ فرمایا ۔ اس آیت میں آپ ﷺ کی جس شان اور احترام کا ذکر فرمایا ہے تقریباً یہی الفاظ آپ کے متعلق توریت میں بھی مذکور ہیں توریت میں آپ کا نام متوکل رکھاجیسا کہ ابن کثیر نے ابن عمرو بن عاص ؓ سے نقل کیا ہے۔
Ayah 33:47

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور آپ ایمان والوں کو اس بات کی خوشخبری سنادیجئے کہ ان کیلئے اللہ کی جانب سے بڑا فضل ہے

47۔ اور اے پیغمبر آپ ایمان والوں کو اس امر کی بشارت دیدیجئے کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہونے والا ہے اور بڑی بزرگی ملنے والی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب امتوں سے برتر یہی امت ہے۔
Ayah 33:48

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور آپ کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانیے اور ان کی طرف سے جو تکلیف پہنچے اس کا خیال نہ کیجئے اور خدا ہی پر بھروسہ رکھئے اور اللہ کار ساز ہونے کے اعتبار سے کافی ہے

48۔ اور اے پیغمبر آپ کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانئے اور ان کی ایذا رسانی کو چھوڑ دیجئے اور نظر انداز کر دیجئے اور ان کی ایذا رسانی کا خیال نہ کیجئے اور آپ اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور بھروسہ رکھیے اور اللہ تعالیٰ بااعتبار وکالت اور کار ساز ہونے کے کافی اور بس ہے۔ یعنی تبلیغ رسالت کے سلسلے میں جو تکالیف اور جو اذیتیں آپ کو یہ کافر اور منافق پہنچاتے ہیں ان کو نظر انداز کر دیجئے اور ان تکالیف کا خیال نہ فرمایئے خواہ وہ تکالیف قولی ہوں یا فعلی ہوں کیونکہ یہ تو ہر ایک حق کی تبلیغ کرنیوالوں کو پہنچتی ہیں آپ ان کی ایذا رسانی کی پروا نہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیئے وہی اپنے بندوں کا کار ساز اور وکیل ہے اور کار ساز بھی ایسا جو پوری طری کفایت کرنیوالا اور کار ساز ہونے کیلئے بالکل کافی اور بس ہے اور اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کام بنانے والے کی ضرورت نہیں ۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو اور پھر ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو تمہاری ان پر کوئی عدت نہیں کہ جس کی گنتی ان سے پوری کر ائو ہاں ان کو متاع دیدو اور انکو بھلی طرح رخصت کردو

49۔ اے ایمان والوں ! جب تم مسلمانوں عورتوں سے نکاح کرو اور پھر ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دیدو یعنی وطی اور خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق دیدو تو ان پر تمہاری کوئی عدت نہیں کہ جس کی گنتی ان پر پوری کر ائو ہاں ان کو کچھ متاع اور کچھ فائدہ دیدو اور ان کو بھلی طرح رخصت کردو ، یعنی مومن مردوں کو خطاب فرمایا ۔ اوپر ازواج مطہرات کا ذکر تھا اسی سلسلے میں یہ بات بیان کی کہ تا کہ معلوم ہو کہ یہ حکم سب کے لئے عام ہے ، پیغمبر ﷺ کے لئے خاص نہیں ہے۔ منکوحہ عورت کے ساتھ ہم بستری نہ کی جائے اور خلوت صحیحہ کی بھی نوبت نہ آئے یعنی وطی حقیقی ہو نہ حکمی ہو اور اس عورت کو طلاق دیدی جائے تو اس پر کوئی عدت نہیں طلاق کے بعد ہی وہ اگر چاہے تو نکاح کرسکتی ہے اور اس غیر مدخول بہا کے نکاح کے وقت اگر کچھ مہر مقررہوا تھا تو اس کے مہر کا نصف اس عورت کو دیا جائے اور مہر مقرر نہ ہوا ہو تو ایک جوڑا اس کو دیا جائے اچھی طرح رخصت کرنے کیا مطلب یہ کہ بلاوجہ نہ روکا جائے اور نرم کلام کیا جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کردیا جائے۔ اب آگے بعض احکام ایسے بیان فرمائے جو نبی کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں اور آپ کے مراتب اور آپکی علو شان کی وجہ سے آپ کی خصوصیت کا اظہار ہے۔ سورة بقرہ ٔ پارہ سیقول میں ہم تفصیل عرض کرچکے ہیں غیر مدخول بہا کے بارے میں تسہیل القرآن ملاحظہ کی جائے اگرچہ کتابیات کا بھی یہ حکم ہے کہ نصف مہر اور مہر مقرر نہ ہوا ہو تو جوڑا کپڑوں کا لیکن شاید مومنات کا ذکر اس لئے فرمایا کہ مومن مردوں کے لئے مومن عورتوں سے نکاح کتابیات کے مقابلے میں بہتر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بغیر صحبت ہوئے جو مرد چھوڑ دیوے عورت کو اگر اس کا مہر بندھا تھا تو آدھا دے اگر نہ بندھا تھا تو کچھ فائدہ دے یعنی ایک جوڑا پوشاک اور اسی وقت وہ چاہے تو اور نکاح کرلے عدت نہیں اور اگر خلوت ہوئی گو صحبت نہ ہوئی تو مہر بھی پورا دینا اور عدت بھی بٹھانا یہ مسئلہ یہاں فرمایا حضرت ؐ کی ازواج مطہرہ کا ذکر میں شاید اس واسطے کہ حضرت نے ایک عورت نکاح کی تھی جب اس کے نزدیک گئے کہنے لگی اللہ تجھ سے پناہ دے۔ حضرت نے اس کو جواب دیا کہ تونے بڑے کی پناہ پکڑی اس پر یہ حکم فرمایا ہو اور خطاب فرمایا ایمان والوں کو تا معلوم ہو کہ پیغمبر کا خاص حکم نہیں سب مسلمانوں پر یہی حکم ہے۔ 12
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے نبی ہم نے آپ کی یہ تمام بیویاں جن کے مہر آپ ادا کرچکے ہیں آپ کے لئے حلال کی ہیں اور وہ عورتیں جو اللہ نے آپکو غنیمت میں سے دلوائی ہیں جو آپ کی مملوکہ ہیں وہ بھی ہم نے آپ کے لئے حلال کی ہیں اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپیوں کی بیٹیاں اور آپکے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کے خالائوں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو وہ بھی آپ کیلئے ہم نے حلال کی ہیں اور اس مسلمان عورت کو بھی ہم نے حلال کیا ہے جو بلا کسی عوض کے اپنے آپ کو نبی کیلئے ہبہ کردے بشرطیکہ نبی بھی اس کو اپنے نکاح میں لانا چاہے، یہ حکم یعنی بدون وجوب مہر کے نکاح صرف آپ کیلئے خاص ہے دوسرے مسلمانوں کیلئے نہیں بلا شبہ ہم نے عام مسلمانوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے حقوق کے بارے میں جو احکام مقرر کئے ہیں یعنی وغیرہ کے وہ ہم کو معلوم ہیں اے پیغمبر آپ کے ساتھ بعض احکام کی خصوصیت اس لئے ہے تا کہ آپ پر کسی قسم کی تنگی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے

50۔ اے نبی آپ کی یہ تمام بیویاں جن کے مہر آپ نے ادا کئے ہیں ہم نے آپکے لئے حلال رکھی ہیں اور وہ باندیاں جو اللہ تعالیٰ نے آپکو غنیمت کے مال میں سے دلوائی ہیں اور آپ کے ہاتھ ان کے مالک ہوئے یعنی جو آپ کی مملوکہ ہیں وہ بھی آپ کے لئے ہم نے حلال رکھی ہیں اور آپکے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیاں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالائوں کی بیٹیاں یہ سب بھی آپ کیلئے حلال ہیں بشرطیکہ انہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو یعنی ان سے نکاح کرنا جائز اور حلال ہے اور وہ مسلمان عورت بھی ہم نے آپ کیلئے حلال کی جو بلا کسی عوض کے اپنے آپ کو نبی کیلئے ہبہ کر دے بشرطیکہ نبی بھی اس کو اپنے نکاح میں لاناچا ہے یہ حکم یعنی بدون مہر کے کسی مسلمان عورت کو جس نے اپنا نفس ہبہ کیا ہو نکاح میں لے آنا اور نکاح میں قبول کرلینا صرف آپ کیلئے خاص ہے دوسرے مسلمانوں کیلئے نہیں بلا شبہ ہم نے عام مسلمانوں پر انکی بیویوں اور باندیوں کے حقوق کے بارے میں جو احکام مقرر کئے ہیں وہ ہم کو معلوم ہیں اے پیغمبر آپ کے ساتھ بعض احکام کی خصوصیت اس لئے ہے تا کہ آپ پر کسی قسم کی تنگی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے مطلب یہ ہے کہ آپکے نکاح میں جس قدر عورتیں ہیں وہ سب آپ کیلئے حلامل ہیں اور یہ تعداد آپ کیلئے خصوصی احکا م میں ایک خاص حکم ہے جو دوسرں کیلئے نہیں یعنی مسلمان ایک وقت میں چار عورتوں سے زائد نہیں رکھ سکتا لیکن چار بیویوں کی پابندی سے مستثنیٰ ہیں اتیت اجودھن کی قید واقعی ہے اشتراطی نہیں اور اس سے مراد ازواج مطہرات ہیں مراد یہ ہے کہ جس قدر عورتیں آپکے نکاح میں ہیں وہ سب آپ کیلئے حلال ہیں ۔ دوسری بات باندیوں کے متعلق ہے کہ مال غنیمت میں سے جس قدر باندیاں آپکے پاس ہیں وہ بھی آپ کے لئے حلال ہیں بظاہر اس میں کوئی خصوصیت معلوم نہیں ہوتی یہ سب مسلمانوں کے لئے ہے ۔ بعض مفسرین نے اس کو بھی نبی کریم ﷺ کے لئے خصوصی حکم قرار دیا ہے ، بعض نے تو فرمایا کہ وہ خصوص ہم کو معلوم نہیں ہوسکا ، بعض نے فرمایا شاید اس سے وہ باندیاں مراد ہیں جو نبی کریم ﷺ کو حق تھا کہ مسال غنیمت میں تقسیم سیپہلے کوئی چیز لے لیں یا کوئی ہدیہ اہل حرب کی جانب سے آئے تو وہ آپ کا ہوتا تھا پہلی شکل کو صفی کہا جاتا ہے یہ بات دوسرے امام کو جائز نہیں اس لئے فرمایا کہ بطور صفی اگر آپ نے کوئی باندی لے لی ہو تو وہ بھی آپ کو حلال ہے جیسے غزوۂ خیبر کی غنیمت میں سے آپ نے صفیہ کو لے لیا تھا اسی طرح ہدیے کے طور پر کوئی لونڈی اہل حرب سے آئی ہو تو و ہ بھی آپ کیلئے حلال ہے جیسے مقوقس نے ماریہ کو آپ کیلئے بھیجا تھا۔ بہرحال ! سیاق وسباق کو ملاحظہ کرنے کے لئے بعد معلوم ہوا کہ خصوصیت کی یہ توجیہ شاید صحیح ہو اور مطلب یہ ہو کہ جو مملوکہ بطور صفی یا بطور ہدیہ آپ کو ملی ہو وہ لونڈی آپ کے لیء حلال ہے لیکن دوسرے مسلمانوں کو صفی یا اہل حرب کا ہدیہ جائز نہیں ۔ چچا کی بیٹیاں ، پھوپھی کی بیٹیاں ، ماموں کی بیٹیاں اور خالہ کی بیٹیاں مراد اس سے ننھال اور ودھیال کی لڑکیاں ہیں یعنی باپ کے خاندان سے ہوں یا ماں کے خاندان میں سے ہوں اگر ان میں سے کوئی ہجرت کرچکی ہو تو وہ بھی اور ان سے بھی نکاح کرنا جائز ہے یہ ہجرت کی قید احترازی ہے جس نے ہجرت نہ کی اس نے نکاح کرنا آپ کو جائز نہیں ۔ ھاجرن معک کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے ہجرت میں آپ کے ساتھ ساتھ ہجرت کی ہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ مہاجرات ہوں آگے پیچھے ہجرت کرچکی ہوں ۔ معیت زمانی شرط نہیں ، ہجرت کی یہ شرط صرف نبی کریم ﷺ کے لئے تھی کہ آپ غیر مہاجرات سے نکاح نہیں کرسکتے تھے ، بعض اہل علم فرماتے ہیں یہ شرط ابتدائی دور میں تھی پھر منسوخ ہوگئی۔ عورت مومنہ جو اپنے کو بلامعاوضہ ہبہ کر دے اس میں شرط تو مومنہ کی ہے اور مطلب یہ ہے کہ کوئی عورت مومنہ اپنے کو پیش کرے اور آپ کے نکاح میں بلا معاوضہ آنا چاہے اور آپ اس کو نکاح میں لینا چاہیں تو بلا مہر کے نکاح ہوسکتا ہے یہ دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں صرف آپ کیلئے یہ حکم مخصوص ہے۔ مگر علماء کہتے ہیں کہ ایسی کوئی عورت آپکے نکاح میں نہیں آئی اور کوئی بیوی موہوبہ نہ تھی بعض نے کہا آیتیں خولہ بنت حکیم ان عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنا نفس ہبہ کیا اور آپ نے بغیر مہر مقرر کئے ان سے نکاح کیا ۔ ( واللہ اعلم) بہر حال مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہیں ان کو ہر حال میں مہر ادا کرنا لازم ہے خواہ نکاح کے وقت مہر کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے یہ احکا م خصوصی اس لئے ہیں تا کہ آپ پر کوئی تنگی اور دشواری نہ ہو اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ بیچ میں جملہ معترضہ کے طور پر فرمایا اور ہم کو مہر اور نان نفقہ وغیرہ کے وہ تمام احکام معلوم ہیں جو ہم نے عام مسلمانوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں مقرر فرمائے ہیں ۔ جیسا کہ احادیث اور کتب فقہ میں مذکور ہیں۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

آپ اپنی بیویوں میں سے جسکو چاہیں مؤخر کردیں اور جس کو چاہیں اپنے آپ رکھیں اور جن کو آپ نے ایک خاص وقت کیلئے اپنے سے الگ کر رکھا تھا ان میں سے آپ کسی کو طلب کرنا چاہیں تو بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں اس رعایت میں اس بات کی توقع ہے کہ ان بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ آزروہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی آپ ان کو دے دیں گے ان سب پر خوش رہیں گی اور اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی سب باتوں کو خوب جانتا ہے اور اللہ سب جاننے والا تحمل والا ہے

51۔ اے پیغمبر آپ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہیں دور رکھیں اور مؤخر کردیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جن کو آپ نے ایک خاص وقت تک کے لئے اپنے سے الگ کررکھا تھا اور مؤخر کردیا تھا ان میں سے ایک آپ کسی کو پھر طلب کرنا چاہیں تو بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں اس رعایت میں اس باپ کی زیادہ توقع ہے کہ ان بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ غعمگین او آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی آپ ان کو دے دیں گے اس پر سب راضی اور خوشی رہیں گی اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ تعالیٰ ان سب باتوں کو خوب جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا برد بار اور تحمل والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ باری وغیرہ کی جو تقسیم عامہ مؤمنین پر واجب ہے کہ چند بیویواں ہوں تو ان کی باری وغیرہ میں تقسیم مساوی ہو لیکن آپ پر یہ واجب نہیں کہ آپ پر باری کی کوئی پابندی نہیں جس کو چاہیں مؤخر کردیں جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں ۔ اگر کسی کو مؤخر کر رکھا ہے اسکو بلانا چاہو تو بلا ایسا ہی اختیار مال کی تقسیم میں دیدیا گیا ہے اس اختیار سے کسی کو تکلیف نہ ہوگی اور سب مطمئن رہیں گی کیونکہ تکلیف اور آزردہ خاطر تو حق کی کمی پر ہوا کرتی ہے اور جب یہ معلوم ہوجائے کہ استحقاق نہیں ہے محض تبرع ہے تو کمی بیشی پر رنج نہ ہوگا ۔ آگے تنبیہ فرمائی کہ دلوں میں اور کسی قسم کے خیالات نہ جمائو کیونکہ اللہ تعالیٰ کو سب کے دلوں کی باتیں معلوم ہیں وہ گرفت کرلے گا وہ بڑا علیم اور بڑا حلیم ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) دونوں آیتوں پر فرماتے ہیں یعنی جو عورتیں تیری ہیں جن کا مہر دیا یعنی اب نکاح میں ہیں خواہ قریش سے ہوں اور مہاجر ہوں یا نہ ہوں یہ سب حلال ہیں اور ماموں چچا کی بیٹیاں یعنی قریش میں کی بیٹیاں بشرط ہجرت کے اگر ہجرت نہ کی تو حلال نہیں اور جو عورت بخشے نبی کو اپنی جان یعنی بن مہر اپنی جان نیاز کرے یہ خاص پیغمبر کو ہے اور مسلمانوں کو وہی حکم ہے۔ ان تبتغوابا موالکم۔ بن مہر نکاح نہیں خواہ ذکر میں آیا خواہ پیچھے ٹھہرا لیا خواہ نہ ٹھہرایا تو جو قوم کا مہر ہے سو لازم آیا۔ حضرت کی بیٹیاں دس مشہور ہیں ۔ حضرت خدیجہ اول تھیں ان کے بعد سب نکاح میں آئیں نو بیبیاں رہیں ۔ وفات کے بعد حضرت عائشہ ؓ ، حضرت حفصہ ؓ ، حضرت سودہ ؓ ، حضرت ام سلمہ ؓ ، حضرت ام حبیبہ ؓ ، حضرت زینب ؓ ، حضرت جویرہ ؓ ، حضرت صفیہ ؓ ، حضرت میمونہ ؓ پچھلی تین قریشی تھیں ۔ 12 پھر فرماتے ہیں کسی مرد کی کئی عورتیں ہوں اس پر واجب ہے باری سے سب کے پاس رہنا برابر حضرت پر یہ واجب نہ رکھا اس واسطے کہ عورتیں اپنا حق نہ سمجھیں جو دیں راضی ہو کر قبول کریں پھر حضرت نے فرق نہیں رکھا سب کی باری برابر رکھی حضرت سودہ ؓ نے اپنی باری بخش دی تھی حضرت عائشہ ؓ کو ۔ 12
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

اے پیغمبر مذکورہ بالا اقسا م کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ زبردست ہے کہ آپ موجودہ بیویوں کو چھوڑ کر ان کی جگہ اور عورتوں سے نکاح کرلیں خواہ ان کا حسن آپ کو کتنا ہی بھلا معلوم ہو مگر ہاں جو آپ کی مملوکہ ہوں یعنی لونڈیوں میں رخصت ہے ، اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر نگہبان ہے

52۔ اے پیغمبر مذکورہ بالا اقسام کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ خیال ہے کہ آپ موجوہ بیویوں کے بدلے اور عورتوں سے نکاح کریں اور ان کو چھوڑ کر ان کی جگہ اور عورتوں سے نکاح کرلیں خواہ ان کا حسن آپ کو کتنا ہی بھلا معلوم ہو مگر ہاں جو آپ کی مملوکہ ہوں یعنی لونڈیوں میں رخصت ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر نگہبان و نگران ہے۔ یعنی نہ تو اس تعداد میں اضافہ کرسکتے ہیں اور نہ ان کو بدل سکتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو طلاق دیدیں اور اس کی جگہ کسی اور کو کرلیں ۔ بعض محققین نے فرمایا کہ جس طرح عام امت کے مسلمانوں کو چار تک کی اجازت ہے اسی طرح حضرت خدیجہ الکبری ؓ کی وفات کے بعد نو بیویوں سے زیادہ کی اجازت نہ تھی اور چونکہ ان سب عورتوں نے تخییر کے موقعہ پر اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا اس لئے ان پر احسان فرمایا کہ نو عورتوں کو نہ تو بدلو اور نہ ان پر کوئی اور کرو البتہ باندیوں کے سلسلہ میں رخصت فرما دی ، اگرچہ یہ تحریم کا حکم بقول حضرت عائشہ ؓ عالیٰ عنہا آخر تک نہ رہا لیکن یہ واقعہ ہے کہ آپ نے اس حکم کے نازل ہونے کے بعد نہ کوئی اور نکاح کیا اور نہ ان میں سے کسی عورت کو بدلا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جتنی قسمیں کہہ دیں اس سے زیادہ حلال نہیں اور جو میں ان کو بدلنا نہیں حلال یہ ضرور ہیں اور ہاتھ کا مال حضرت کے دو حرم مشہور ہیں یا تین ایک ماریہ جن کے شکم سے فرزند ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) ایک ریحانہ یا شمونہ یا دونوں حضرت عائشہ نے فرمایا یہ منع آخر کو موقوف ہوا ۔ سب عورتیں حلال ہوگئیں ۔ 12 اگرچہ بعض حضرات نے آیت کی تفسیر اور طرح بھی کی ہے لیکن ہم نے شاہ صاحب (رح) کی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے اسی پر اکتفا کیا مزید اقوال ملاحظہ کرنے ہوں تو در منثورکا مطالعہ کیا جائے۔