36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 36:41

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ان کیلئے ہماری ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو اس بھری کشتی میں سوار کردیا

(41) اور ان کے لئے قدرت خداوندی کی ایک قدرت اور نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کردیا۔
Ayah 36:42

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ہم نے کشتی کی طرح کی اور چیزیں بھی ان کیلئے پیدا کیں جن پر یہ لوگ سوار ہوتے ہیں

(42) اور ہم نے کشتی ہی کی طرح کی اور چیزیں بھی ان کے لئے پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔ یعنی ان کو بحری اور بری سفر کی آسانیاں دیں کہ ان کی اولاد کشتی میں جو مسافروں سے بھری ہوتی ہے سفر کرتی پھرتی ہے اور تجارت کرتی ہے۔ بری سفر کے لئے ان کو گھوڑے اور اونٹ دیئے جن پر سوار ہو کر یہ جنگل کا سفر کرتے ہیں اور زندگی کے منافع حاصل کرتے ہیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ کشتی سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی مراد ہے جس میں اہل عرب کے آبائو اجداد سوار ہو کر بچے تھے۔ ذریۃ کا لفظ اضداد میں سے جس طرح اولاد پر یہ لفظ بولا جاتا ہے اسی طرح آبائو اجداد پر بولا جاتا ہے۔ (واللہ اعلم) بہرحال ! ان کے بزرگوں پر احسان ہوا یا ان کی اولاد پر ہوتا ہے دونوں حالتوں میں قدرت خداوندی کی کشتی ایک نشانی ہے کہ اتنے بڑے وزن کو پانی کی سطح پر لے کر چلتی ہے اور آج کل جہاز رانی میں جو ترقی ہوئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اس کی وجہ سے تجارت کو جو فروغ ہوا ہے وہ ظاہر ہے۔
Ayah 36:43

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو اور نہ یہ غرق سے بچائے جاسکیں۔

(43) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو جو غرق سے بچا سکے اور نہ یہ موت سے خلاصی حاصل کرسکیں۔
Ayah 36:44

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر یہ ہماری مہربانی ہے اور ایک وقت معین تک ان کو فائدہ پہنچانا ہے

(44) مگر یہ ہماری مہربانی ہے اور ایک وقت معین تک ان کو فائدہ پہنچانا ہے۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو کشتی کو ان کی غرق کردیں پھر ان کے مزعومہ اور خودساختہ شرکاء میں نہ ان کی کوئی فریاد رسی کرنیوالا ہو اور نہ یہ قوت سے چھڑائے جاسکیں مگر ہماری مہربانی سے کشتی غرق سے محفوظ رہتی ہے۔ نیز ان کو موت کے معین وقت تک فائدہ پہنچانا ہے۔
Ayah 36:45

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے سامنے ہے اور وہ جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے تو وہ کچھ پروا نہیں کرتے

(45) اور جب ان منکروں سے کہا جاتا ہے کہ اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے آگے ہے اور تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم رحم کئے جائو تو وہ بالکل پروا نہیں کرتے جو تمہارے سامنے ہے یعنی غرق اور خسف اور قتل وغیرہ یہ دنیوی عذاب اور جو پیچھے ہے وہ آخرت کا عذاب ہے جو یقینا آنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سامنے آتا ہے جزا کا دن اور پیچھے چھوڑے اعمال۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے مابین ایدیکم سے مراد ہے آخرت اس کے لئے عمل کرو اور ماخلفکم سے مراد دنیا ہے تو دنیا سے بچو۔
Ayah 36:46

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان کے پاس نہیں آتی مگر یہ کہ وہ اس کے ساتھ روگردانی کا برتائو کرتے ہیں

(46) اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی اور ان کے پروردگار کے احکام میں سے کوئی حکم ان کے پاس نہیں آتا مگر یہ کہ وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں اور منہ پھیر لیتے ہیں۔ یعنی ان کے عناد اور سرکشی کا یہ عالم ہے کہ جو حکم بھی ان کو دیا جاتا ہے اس سے ہی اعراض اور روگردانی کرتے ہیں۔
Ayah 36:47

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ خدا نے تم کو دیا ہے اس میں سے کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرو تو یہ کفار مسلمانوں سے یوں کہتے ہیں کیا ہم ایسے لوگوں کو کھانا کھلائیں۔ جن کو اگر خدا چاہتا تو کھانے کو دیتا تم لوگ محض کھلی گمراہی میں مبتلا ہو

(47) اور جب ان دین حق کے منکروں سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ تم کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس میں سے کچھ خیرات بھی کرو اور خدا کی راہ میں خرچ کرو تو یہ منکر اہل حق سے یوں کہتے ہیں کیا ہم ایسے لوگوں کو کھانا کھلائیں جن کو اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کھانا کھلا دے تم لوگ محض گمراہی میں مبتلا ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو روزی تم کو اپنے کرم اور اپنی عنایت سے دی ہے اس میں سے کچھ مساکین کو بھی دیا کرو تو یہ جواب دیتے ہیں کہ جن کو خدا نے نہیں دیا ان کو ہم کیا دے سکتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو بہت کچھ کھانے کو دے سکتا تھا لیکن جب خدا ہی نے ان کو نہیں دیا تو ہم کیوں دیں۔ ظاہر ہے کہ یہ جواب انتہائی بخل اور ناسپاسی پر مبنی ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا ہے بعض منکر مدینے میں ایسے تھے کہ جب ان کو خیرات کا حکم ہوا تو کہنے لگے خدا کی قسم جن کو اللہ تعالیٰ نے محتاج کیا ہم ان کو کبھی کچھ نہ دیں گے۔ ان انتم الا فی ضلل مبین کا جملہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے منکروں کے حق میں یا مسلمانوں کے قول کی حکایت ہے یا منکروں کا قول ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو کہا ہو کہ یہ تمہاری گمراہی ہے جن کو خدا نے محتاج کیا ہے ان کی سفارش کر رہے ہو۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہی گمراہی ہے نیک کام میں تقدیر کا حوالہ اور اپنے مزے میں لالچ پر دوڑنا۔
Ayah 36:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور یہ کفار کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔

(48) اور یہ منکرین قیامت کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ یعنی آخر یہ قیامت کب واقع ہوگی اور ہمارے عذاب کا وعدہ کب ظہور پذیر ہوگا۔
Ayah 36:49

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

بس یہ لوگ صرف ایک ایسی ہولناک آواز کا انتظار کر رہے ہیں جو ان کو ایسی حالت میں آپکڑے گی جبکہ یہ باہم لڑ جھگڑ رہے ہوں گے۔

(49) یہ لوگ صرف ایک ہولناک آواز اور چیخ کا انتظار کر رہے ہیں جو ان کو آپکڑے گی اور یہ سب اپنے معمول کے موافق کاروبار کے سلسلے میں جھگڑ رہے ہوں گے۔ یعنی کفار پر قیامت اچانک آجائے گی جبکہ یہ لوگ حسب معمول کاروبار اور لین دین کرتے ہوں گے اور باہم کاروبار کے وقت جو بہادر وغیرہ میں جھگڑے ہوا کرتے ہیں وہ جھگڑے بھی ہو رہے ہوں گے ہولناک آواز یعنی صور کے پھنکنے کی آواز۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قیامت ناگہاں آوے گی اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ جن کفار پر قیامت کا ظہور ہوگا تو اچانک ہی ہوگا اور جو وقوع قیامت سے قبل مریں گے تو ان کیلئے ان کی موت ہی قیامت ہوگی کیونکہ عالم آخرت بہرحال ان کے سامنے آجائے گا۔ آگے قیامت کے ناگہاں آنے کی تفصیل ہے۔
Ayah 36:50

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر اس وقت نہ تو وصیت ہی کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں ہی کی طرف لوٹ کر جاسکیں گے۔

(50) قیامت کے اچانک آنے کی یہ حالت ہوگی کہ نہ تو کچھ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے اہل خانہ کی طرف واپس ہی لوٹ سکیں گے۔ یعنی نہ اتنی مہلت ہوگی کہ کوئی وصیت کرسکیں اور کچھ کہہ مریں اور نہ اتنی فرصت ہوگی کہ گھر تک پہنچ سکیں بلکہ جہاں ہوں گے وہیں رہ جائیں گے۔
Ayah 36:51

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا یعنی دوبارہ سو وہ سب دفعتًہ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف جلدی جلدی چلنے لگیں گے۔

(51) اور صور میں پھونکا جائے گا سو وہ سب دفعتًہ قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کی طرف چل پڑیں گے۔ یعنی پہلی مرتبہ صور وقوع قیامت کے لئے پھونکا جائے گا اور اس کے چالیس برس کے بعد یہ دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ زندہ ہو کر اپنی اپنی قبروں سے نکل کر جلدی جلدی اپنے پروردگار کی طرف چلیں گے جو شخص جہاں ہوگا اور جس کے ذرات جہاں ہوں گے وہی اس کی قبر ہے۔
Ayah 36:52

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے ہائے خرابی ہماری ہم کو ہماری خوابگاہوں سے کس نے اٹھا دیا۔ جواب دیا جائے گا یہ وہی ہے جس کا رحمان نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ فرمایا تھا۔

(52) کہتے ہوں گے ہائے خرابی ہماری ہم کو ہماری سونے کی جگہ سے کس نے جگا دیا جواب دیا جائے گا یہ وہی ہے جس کا رحمان نے وعدہ فرمایا تھا اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔ یا تو من بعثنا قول ہے مسلمانوں کا کیونکہ ان سے قبر میں کہا جاتا ہے۔ نم کنومۃ العروس اور اگر کفار کا قول ہے تو مطلب یہ ہے کہ قبور کے عذاب کو قیامت کے عذاب کے مقابلے میں نیند سمجھیں گے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ قیامت کے نفحہ سے لے کر دوسرے نفحہ کے چالیس سال تک کفار سو جائیں گے۔ ھذا ما وعدالرحمن یا تو فرشتے کہیں گے یا یہ جواب مسلمانوں کی طرف سے ہوگا۔ رحمان نے جو وعدہ کیا تھا حشر و نشر کا سزا و جزا کا یہ وہی وعدے کا دن ہے اور پیغمبر جو اس دن کی خبر دیا کرتے تھے وہ بھی سچے تھے اور سچ کہا کرتے تھے۔
Ayah 36:53

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

بس وہ ایک زور کی آواز ہوگی جس سے وہ سب کے سب دفعتًہ ہمارے حضور میں حاضر کردیئے جائیں گے۔

(53) وہ صور کا نفحۂ ثانیہ ایک تند اور زور کی آواز ہوگی جس سے وہ سب کے سب دفعتًہ ہمارے حضور میں حاضر کردیئے جائیں گے۔ یعنی اس نفحہ سے لوگ نکلنے شروع ہوجائیں گے اور نفحہ کے ختم ہونے تک سب لاحاضر کئے جائیں گے یعنی فرشتے گھیر کرلے آئیں گے۔
Ayah 36:54

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

پھر اس دن کسی شخص پر ذرا سا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو صرف انہی اعمال کا بدلا دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

(54) پھر اس دن کسی جی پر اور کسی شخص پر ذرا سا بھی ظلم اور زیادتی نہ ہوگی اور تم کو صرف انہی اعمال کا بدلا دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے یعنی زیادتی کچھ نہ ہوگی بلکہ وہی بدلا پائو گے جو تم کیا کرتے تھے۔
Ayah 36:55

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

بیشک اہل جنت اس دن اپنے مشاغل میں لذت اندوز ہو رہے ہوں گے۔

(55) بلاشبہ اہل جنت اس دن ایک خاص شغل میں خوش اور لذت اندوز ہیں۔ یعنی اپنی بیویوں سے یا آپس میں ایک دوسرے سے ملاقات یا جنت کے نغمات اور گانے سننے میں لگے ہوئے ہوں گے۔ بہرحال جو شغل اور جو دھندا بھی ہوگا وہ بلا مشقت اور محض خوش طبعی کا شغل ہوگا۔
Ayah 36:56

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں مسہریوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔

(56) وہ اہل جنت اور ان کی بیویاں سایوں میں مسہریوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے یعنی آرام سے تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے اور سایوں میں ہوں گے۔
Ayah 36:57

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

ان کے لئے اس جنت میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور وہ جو طلب کریں گے ان کو ملے گا۔

(57) اہل جنت کیلئے اس جنت میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور وہ جو کھ مانگیں گے اور جس چیز کی وہ تمنا کریں گے وہ ان کو وہاں ملے گا اور میسر ہوگا۔ یعنی ہر چیز حسب طلب میسر ہوگی۔
Ayah 36:58

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

ان کو وہاں رب رحیم کی جانب سے سلام کہا جائے گا

(58) ان کو وہاں پروردگار بڑی مہربانی کرنیوالے کی جانب سے سلام ہوگا۔ حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے بواسطۂ ملائکہ یا بلاواسطہ سلام یعنی السلام علیکم یا اھل الجنۃ کہا جائے گا اور سلام کا تحفہ اہل جنت کو دیا جائے گا۔
Ayah 36:59

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور اے مجرمو تم آج مومنوں سے الگ ہو جائو۔

(59) اور اے مجرمو ! تم آج کے دن جدا ہو جائو۔ یعنی میدان محشر میں جب مومنین کو جنت میں داخل کرنے کا حکم ہوگا تو گناہگاروں کو حکم دیا جائے گا کہ تم الگ ہو جائو آج کے دن اے مجرمو ! یعنی مومنین سے الگ ہو جائو کیونکہ ان کو جنت میں بھیجنا ہے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے۔
Ayah 36:60

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے اولاد آدم کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کردی تھی کہ تم شیطان کی پرستش نہ کرنا۔ کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

(60) اور اے اولاد آدم کیا میں نے تم کو تقیدوتاکید نہیں کی تھی کہ تم شیطان کی عبادت اور پرستش نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
Ayah 36:61

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ تم میری ہی عبادت کرنا یہ میری عبادت کرنا ہی سیدھا راستہ ہے۔

(61) اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھی راہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر پیغمبر کی معرفت شیطان کی آشکارا اور کھلی عداوت سے آگاہ کیا گیا تھا اور اس کی اطاعت سے روکا گیا تھا اور اپنی عبادت کو عام دعوت دی گئی تھی اور اسی کو سیدھا راستہ بنایا گیا تھا۔ اعہد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی عہد نامہ مرتب کیا گیا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ جو حکم دیتا ہے اور انبیاء جو بات فرماتے ہیں وہ ہر فرد انسانی کے لئے واجب التعمیل ہوتی ہے اور یہی وہ عہد ہے۔
Ayah 36:62

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور یقینا وہ شیطان تم میں سے ایک کثیر مخلوق کو گمراہ بھی کرچکا تھا تو کیا تم سمجھتے نہ تھے۔

(62) اور وہ شیطان تم میں سے یعنی تمہاری بنی نوع میں سے ایک کثیر مخلوق کو گمراہ کرچکا ہے تو پس کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے تھے جیسا کہ انبیائے سابقین کے جھٹلانے والوں کے واقعات سے تم کو معلوم ہوچکا تھا کہ شیطان نے کتنے ہی انسانوں کو گمراہ کر کے برباد کیا ہے یہ سب تم کو بتادیا گیا تھا تو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے تھے کہ ایسے گمراہ دشمن کا کہنا نہ مانتے۔
Ayah 36:63

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

تو اب یہ جہنم ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

(63) یہ وہ دوزخ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
Ayah 36:64

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

آج اس کفر کے سبب جس کے تم مرتکب ہوئے تھے اس دوزخ میں داخل ہو۔

(64) آج تم اس کفر کے سبب جس کا تم ارتکاب کیا کرتے تھے اس دوزخ میں داخل ہو جائو۔ یعنی یہ وہی دوزخ تو ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کہ اگر تم کفر ہی کرتے کرتے مرگئے تو دوزخ میں جائو گے تو بس آج اس کفر کے سبب جس کے تم خوگر ہوچکے تھے اور مرتے دم تک اس سے باز نہ آئے جائو اس جہنم میں داخل ہو جائو۔
Ayah 36:65

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے منہوں پر مہرکر دیں گے اور جو کچھ یہ لوگ کرتے رہے تھے اس کو ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پائوں اس کی گواہی دے دینگے۔

(65) آج ہم ان کے منہوں پر مہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پائوں اس چیز کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے اور کمایا کرتے تھے۔ یعنی منہوں پر مہر لگا دی جائے گی تاکہ بےموقع اور جھوٹے عذر نہ کریں اور غیر مؤثر دلا یعنی باتیں نہ بنائیں بلکہ ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں ان کے کمائے ہوئے کاموں کی خبر دیں گے یعنی ہاتھ کلام کریں گے اور پائوں گواہی دیں گے۔ یہ غالباً اس موقع پر ہوگا جب انسان سب کی تکذیب کرے گا حتیٰ کہ فرشتوں کو بھی جھٹلائے گا۔ تب شاید اس کے اعضاء بولیں گے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے مزید بحث انشاء اللہ سورة فصلت میں آجائے گی۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے تمام اعضاء اور ان کی کھال تک بھی کافر کے خلاف بیان دے گی اور اس طرح دین حق کے منکروں پر حجت قائم کی جائے گی۔
Ayah 36:66

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو بالکل زائل کردیں پھر یہ راستے کی طرف دوڑیں مگر اس راستے کو کہاں دیکھ سکیں

(66) اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو نابود اور بالکل زائل کردیں پھر وہ راستہ کی طرف چلنے کیلئے دوڑتے پھریں پس اس راستے کو کہاں دیکھ سکیں۔ یعنی آخرت میں جو عذاب ہوگا وہ تو ہوگا اگر ہم چاہیں تو ان کی بینائی کو دنیا ہی میں بالکل نابود کردیں یا ان کی آنکھوں کو بالکل ہی مٹا دیں یعنی آنکھ کا عضو ہی باقی نہ ہے پھر یہ راستے کی طرف دوڑیں مگر راستے کو کہاں دیکھ سکیں طمس کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔
Ayah 36:67

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے مقام میں اس طور پر مسخ اور اپاہج کردیں کہ یہ لوگ نہ آگے چل سکیں اور نہ پیچھے ہی لوٹ سکیں۔

(67) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کی جگہ پر مسخ کردیں اور اپاہج بنادیں کہ یہ لوگ نہ آگے چل سکیں اور نہ الٹے ہی پھریں۔ یعنی کوئی جانور بنادیں یا پتھر بنادیں کہ نہ آگے جاسکیں نہ پیچھے لوٹ سکیں۔ جانور کی شکل مسخ بھی کردیں اور اپاہج بھی بنادیں۔ غرض ایسا کردیں کہ مسخ ہونے کے بعد اپنی جگہ پڑے رہیں۔ لایرجعون کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے اصلی شکل پر نہ لوٹ سکیں اور واپس انسان نہ بن سکیں اور انسانی شکل نہ اختیار کرسکیں۔ اسی سلسلے میں آگے بڑھاپے کا ذکر فرمایا تاکہ انسان کی تبدیلی پر کوئی شبہ نہ کیا جائے۔
Ayah 36:68

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کی عمر ہم زیادہ کردیتے ہیں تو ہم اس کو طبعی حالت میں الٹا کردیتے ہیں کیا یہ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے

(68) اور جس کو ہم عمر دراز دیتے ہیں ہم اس کو طبعی حالت اور پیدائش میں الٹا اور نگونسار کردیتے ہیں۔ پھر کیا یہ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ یعنی جی کسی کو زیادہ بوڑھا کردیتے ہیں تو اس کی خلقت کو الٹا کردیتے ہیں۔ خلقت سے مراد ہے اس کے قوائے مدرک سمع بصر کی طاقت۔ معدے کے ہضم کی حالت اس کا حسن و جمال اس کے چہرے کی بناوٹ وغیرہ سب کو الٹ دیتے ہیں یعنی سب سے تغیر اور انقلاب کردیتے ہیں بوڑھا بالکل بچہ بن جاتا ہے جس اس قسم کا تغیر اور انقلاب فی الاعضا مشاہد ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ آدمی سب کچھ جاننے کے بعد انجان بنادیا جاتا ہے تو اسی طرح اگر چاہیں تو انسانی اعضاء میں تغیر اور انقلاب کردیں اور اس کو جانور یا پتھر وغیرہ بنادیں اور کہیں آنے جانے کے قابل نہ رکھیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جیسا لڑکا سست تھا بوڑھا پھر ویسا ہی ہوا یہ بھی نشان ہے پھر پیدا ہونے کا۔ حدیث میں آتا ہے کہ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت جانو۔ یعنی جو عبادت و ریاضت جوانی میں ہوسکتی ہے وہ بڑھاپے میں نہیں ہوسکتی آگے پھر رسالت اور قرآن کا ذکر فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 36:69

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے اس پیغمبر کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور شاعری اس کی شان کے لائق بھی نہیں پس جو قرآن ہم نے ان کو تعلیم کیا ہے وہ تو صرف ایک نصیحت اور کتاب ہے جو احکام کو ظاہر کرنے والی ہے۔

(69) اور ہم نے اس پیغمبر کو شعرگوئی اور شعر کہنا نہیں سکھایا اور یہ خیالی مضامین کا مرتب کرنا اس کی شان کے لائق بھی نہیں جو قرآن ہم نے اس کو تعلیم کیا ہے وہ تو بس ایک نصیحت اور آسمانی کتاب ہے جو احکام کو آشکار اور ظاہر کرنے والی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو کفار مکہ شاعر اور کاہن وغیرہ کہتے تھے اور مطلب ان کا یہ ہوتا تھا کہ قرآن کو آپ کی شعرگوئی کا نتیجہ بتائیں۔ حضرت حق نے آپ کے متعلق شاعری کی نفی فرما دی۔ شعرگوئی یا تو کسی ماہر فن سے حاصل کی جاتی یعنی اکتسابی ہوتی اور یا حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے دہبی ہوتی۔ ظاہر ہے کہ اس فن میں آپ کا کوئی استاد نہیں اور وہبی کی نفی حضرت حق تعالیٰ نے خود ہی فرما دی۔ بس معلوم ہوا کہ آپ فن شاعری کو نہیں جانتے تھے۔ اسی لئے اگر کسی شاعر کا شعر پڑھتے تھے تو بسا اوقات غلط پڑھ دیا کرتے تھے جیسا کہ حضرت حسن بصری ؓ نے ایک واقعہ بیان فرمایا کہ حضرت ﷺ نے ایک دفعہ یہ بیت پڑھی۔ کفی بالاسلام والشیب للم ناھیا یعنی اسلام اور بڑھاپا یہ دونوں چیزیں آدمی کو بری باتوں سے روکنے کیلئے کافی ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ شاعر نے یوں کہا ہے۔ کفی الشیب والاسلام للم ناھیًا لیکن حضور ﷺ نے یہ سن کر جب دوبارہ اس بیت کو پڑھا تب بھی اس طرح وزن شعری کیخلاف پڑھا۔ تب صدیق اکبر ؓ نے عرض کیا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا۔ وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ بہرحال فن شاعری سے حضور ﷺ واقف نہ تھے اور اگر بلاقصد کبھی کوئی مصرعہ یا شعر زبان سے نکل گیا ہو تو اس کو شاعری نہیں کہتے۔ باقی نفس شعرگوئی کی بحث سورة شعراء کے آخر میں گزر چکی ہے۔ یہ جو کتاب سناتے ہیں وہ آسمانی کتاب ہے جو احکام کو واضح طور پر بیان کرتی ہے۔
Ayah 36:70

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

اس کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ وہ قرآن اس شخص کو ڈرا دے جو صحیح زندگی رکھتا ہو تاکہ کافروں پر حجت ثابت ہوجائے۔

(70) اس قرآن کریم کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ یہ قرآن اس شخص کو ڈرا دے جو زندہ ہو اور صحیح زندگی رکھتا ہو اور تاکہ منکروں پر الزام اور حجت ثابت ہوجائے۔ یعنی قرآن یا پیغمبر کا کام یہ ہے کہ جو شخص زندہ ہو یعنی قلبی زندگی رکھتا ہو اور اس میں حق بات کو قبول کرنے کی صلاحیت ہو اس کو یہ رسول یا یہ قرآن ڈرا دے اس میں تامل کرنے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہو تو اسی کو ڈرانا نافع ہوسکتا ہے ورنہ غافل تو ایسا ہے جیسے مردہ اور میت۔ کافروں پر حجت ثابت ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ قرآن سن کر نہیں مانتے اور اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے تو ان پر یہ قرآن حجت اور الزام ہے کہ ہدایت ان تک پہنچی مگر انہوں نے قبول نہیں کی۔ لہٰذا ان پر کلمہ عذاب ثابت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس میں جان ہو یعنی نیک اثر پکڑتا ہو اس کے فائدے کو اور منکروں پر الزام اتارنے کو۔ آگے توحید کے سلسلے میں حضرت حق تعالیٰ کے بعض احسانات کا ذکر ہے۔
Ayah 36:71

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لئے مواشی پیدا کئے ہیں پھر یہ لوگ ان کے مالک بنے ہوئے ہیں

(71) کیا ان لوگوں نے یعنی منکرین توحید نے اس بات پر غور نہیں کیا اور اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کیلئے مواشی پیدا کئے ہیں پھر یہ لوگ ان مواشی کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ یعنی ہم نے اپنی بنائی ہوئی اور اپنی ساختہ چیزوں میں سے ان کے نفع کیلئے مواشی مثلاً گائے، بھینس، اونٹ وغیرہ بھی بنائے ہیں پھر ان چوپایوں کا ان کو مالک بنادیا ہے جن سے یہ مختلف فوائد اور منافع حاصل کرتے ہیں انہی فوائد کا آگے بیان فرمایا۔
Ayah 36:72

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان مواشی کو ان کا مطیع کردیا پھر ان مواشی میں سے بعض ان کی سواریاں ہیں اور بعض کو ان میں سے وہ کھاتے ہیں

(72) اور ہم نے ان مواشی کو ان کا مطیع اور تابع کردیا اور ان مواشی کو ان کے لئے عاجز اور ان کے سامنے پست کردیا پھر ان مواشی میں سے بعض ان کی سواریاں ہیں اور ان میں سے بعض کو وہ کھاتے ہیں۔ یعنی ان مواشی کو ان کا فرمانبردار بنادیا ان سے جو کام چاہتے ہیں وہ لیتے ہیں سوار ہونا چاہیں تو سواری کا کام بھی دیتے ہیں اور اگر ضرورت کے موقع پر ان کو ذبح کرکے کھانا چاہیں تو ان کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔
Ayah 36:73

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان مواشی میں ان لوگوں کیلئے اور بھی فائدے ہیں اور پینے کی چیزیں بھی ہیں سو یہ لوگ کیوں شکر نہیں بجا لاتے

(73) اور ان مواشی میں ان لوگوں کے لئے اور بھی بہت سے فوائد اور منافع ہیں اور ان میں ان کے لئے پینے کی چیزیں بھی ہیں سو یہ لوگ شکر کیوں نہیں بجا لاتے۔ نفعوں سے مراد ان چوپایوں کی کھال ہڈی اور ان کے سینگ اور اون وغیرہ سے فائدہ حاصل کرنا ہوسکتا ہے۔ ان کا دودھ پیا جاتا ہے۔ یہ تمام احسانات اور انعامات اس امر کے مقتضی ہیں کہ حضرت حق تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے اللہ تعالیٰ نے تمام حیوانات کو مسخر کردیا ہے انسان جس طرح چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے مواشی کو استعمال کرتا ہے اور پھر اس خالق حقیقی اور منعم حقیقی کا شکر نہیں بجا لاتا۔
Ayah 36:74

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود قراردے رکھے ہیں کہ شاید ان کو ان معبودوں سے مدد پہنچ سکے۔

(74) اور دین حق کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور معبود قراردے رکھے اور بنا رکھے ہیں کہ شاید ان کو ان معبودان باطلہ سے کچھ مدد پہنچ سکے اور وہ معبود ان کی کسی وقت مدد کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں اس توقع اور امید پر کہ کسی آڑے وقت میں ان سے مدد پہنچ جائے۔
Ayah 36:75

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

یہ مفروضہ معبود ان مشرکوں کی کچھ مدد نہیں گ کرسکتے اور یہ مشرک ان معبودان باطلہ کی ایک فوج بن کر حاضر کئے جائیں گے۔

(75) یہ مفروضہ معبود ان کی کچھ مدد نہیں کرسکتے اور یہ مشرک ان معبودان باطلہ کی ایک فوج بن کر حاضر کئے جائیں گے۔ آیت کا مطلب کئی طرح بیان کیا گیا ہے۔ قیامت میں یہ مشرک ان معبودوں کے ہمراہ گرفتار کر کے لائے جائیں گے یا یہ کہ وہ بت ان مشرکوں کا لشکر ہوں گے جو قیامت کے دن گرفتار کر کے حاضر کئے جائیں گے یا یہ کہ قیامت میں وہ معبودان باطلہ ان مشرکوں کے حریف اور مقابل ہوں گے جو بجائے مدد کرنے کے ان کی مخالفت کرتے ہوں گے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا کی حالت بتائی گئی ہو کہ مشرک ان بتوں کے لشکر ہیں یعنی ان کے مددگار اور خادم ہیں جوان کی مکھیاں اڑاتے رہتے ہیں اور ان کو جھاڑتے اور صاف کرتے رہتے ہیں اور اس خدمت کے لئے ان کے پاس حاضر ہوتے رہتے ہیں اور جو معبود خود ہی مدد کے محتاج ہیں وہ ان کی کیا مدد کرسکتے ہیں۔ (واللہ اعلم) اور اگر قیامت کی حاضری ہے تب تو مذکورہ بالا اقوال سے بات سمجھ میں آگئی ہوگی۔ آگے نبی کریم ﷺ کو بطور تسلی فرماتے ہیں۔
Ayah 36:76

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

سو اے پیغمبر ان کافروں کی باتیں آپ کے لئے موجب آزردگی نہ ہوں کیوں کہ یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں وہ ہم سب جانتے ہیں

(76) پس اے پیغمبر آپ کو ان کی باتیں اور ان کے ناشائستہ اقوال موجب دل آزادی نہ ہوں اور آپ کو غمگین نہ کریں کیونکہ یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں وہ ہم سب جانتے ہیں۔ یعنی آپ کے آزردہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہم ان کی کھلی اور چھپی دشمنی کو خوب جانتے ہیں اور ہم ان کو ان کے اعمال بد کی سزا دینے کو کافی ہیں اور ان کو ان کی حرکات کی سزا ملنے والی ہے لہٰذا آپ کو کسی غم اور فکر کی ضرورت نہیں۔
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان یہ نہیں جانتا کہ ہم نے اس کو ایک حقیر نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ پھر ناگہاں وہ علانیہ ایک جھگڑا کرنے والا بن گیا

(77) کیا انسان یہ نہیں جانتا کہ ہم نے اس کو ایک حقیر نطفے اور بوند سے پیدا کیا۔ پھر ناگہاں وہ ایک علانیہ جھگڑا کرنے والا بن گیا۔ یعنی قیامت کا منکر انسان اس بات پر غور نہیں کرتا ک وہ ایک حقیر بوند سے پیدا کیا گیا ہے اور باوجود حقارت اور دنائت کے حضرت ٭ کرتا ہے اور اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر اعتراض کرتا ہے اور علانیہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مقابلہ کرتا اور بعثت کی تکذیب کرتا ہے۔
Ayah 36:78

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہماری شان میں اس نے ایک عجیب مثال بیان کی اور اپنی اصل پیدائش کو بھول گیا کہتا ہے کہ ان ہڈیوں کو جو بالکل بوسیدہ اور پرانی ہوچکی ہوں کون زندہ کرے گا۔

(78) اور اس منکر نے ہماری شان میں ایک عجیب مضمون اور ایک عجیب مثال بیان کی اور اپنی پیدائش اور اپنی اصل کو بھول گیا کہتا ہے کہ ان ہڈیوں کو جو بالکل بوسیدہ اور پرانی ہوچکی ہوں کون زندہ کرے گا۔ کہتے ہیں ابی بن خلف جو دین حق کے منکروں میں اشد اور سخت تھا ایک دن ایک پرانی ہڈی جو ریزہ ریزہ ہوجاتی تھی ہاتھ میں لے کر آیا اور مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر اعتراض کرنے لگا کہ بھلا ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا اور اپنی اصل کو بھول گیا کہ خود ایک بےجان چیز سے یعنی نطفہ سے پیدا ہوا ہے اپنی اصل کو بھول گیا اور دوبارہ خلق ہونے پر ایک گلی ہوئی ہڈی کو ہاتھ میں مل کر اعتراض کرنے لگا آگے جواب فرمایا۔
Ayah 36:79

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے ان ہڈیوں کو وہی زندہ کر دے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا ہے اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔

(79) اے پیغمبر آپ فرما دیجئے ان ہڈیوں کو وہی زندہ کر دے گا جس نے ان ہڈیوں کو پہلی بار پیدا کیا ہے اور وہ ہر قسم کا بنانا اور پیدا کرنا جانتا ہے۔
Ayah 36:80

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

وہ ایسا ہے جو تمہارے لئے ہرے درخت سے آگ پیدا کرتا ہے پھر تم اس درخت کی آگ سے اور آگ سلگا لیا کرتے ہو

(80) وہ پہلی بار پیدا کرنے والا ایسا ہے جو تمہارے لئے ہرے اور سبز درخت سے آگ پیدا کرتا ہے۔ پھر تب ہی تم اس سبز درخت سے اور آگ سلگاتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اول پتھر سے نکالتے ہیں یا درخت سبز سے ٹہنیاں اس کی آپس میں رگڑتی ہیں تو آگ نکلتی ہے جیسے بانس ہے۔ بانس کے درخت سے آگ کا نکلنا تو مشہور ہے جب ہوا سے بانس آپس میں رگڑتے ہیں تو ان میں آگ پیدا ہوجاتی ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ پانی سے جو لکڑی پیدا ہوتی ہے وہی آگ کا کام دیتی ہے۔ یہ تغیر اور تبدل اس امر کی دلیل ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے یا اہل عرب چونکہ عام طور سے مرخ اور عفار کو رگڑ کر آگ نکالتے تھے اس کو ظاہر فرمایا کہ ہری لکڑی میں سے آگ نکال دیتا ہے جس میں رطوبت موجود ہوتی ہے۔ مرخ نر ہے اور عفار مادہ ہے جب دونوں کی ٹہنیوں کو آپس میں رگڑتے ہیں تو آگ پیدا ہوجاتی ہے۔ بہرحال ! جب یہ تغیرات آگ اور پانی کے اس عالم امکان میں موجود ہیں اور یہ تغیر و تبدل روزمرہ دیکھنے میں آتے ہیں تو مردوں کو زندہ کردینا کون سا مستبعد ہے۔