Ayah 37:161(161) سو اے منکروں تم اور جن کو تم پوجتے ہو سب مل کر بھی۔
Ayah 37:162(162) کسی شخص کو بھی اللہ تعالیٰ کے خلاف گمراہ نہیں کرسکتے اور بہکا نہیں سکتے اور اس کے ہاتھ سے بہکا کر نہیں لے سکتے۔
Ayah 37:163(163) مگر ہاں اسی کو جہنم میں داخل ہونے والا ہے۔ یعنی تم نیکی اور بدی کی تقسیم کرکے یہ سمجھتے ہو کہ فرشتے جس کو چاہیں نیک بنادیں اور تم اور تمہارے معبود جنات اور شیاطین جس کو چاہیں منکر بنادیں تو یاد رکھو تم اور تمہارے تمام معبود مل کر بھی کسی کو بہکا اور گمراہ نہیں کرسکتے اور بدون حضرت حق کی مشیت کے کسی کو بہکا کر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے نہیں سکتے مگر ہاں جس کو اللہ تعالیٰ ہی نے اس کی سوء استعداد اور طبعی فساد کی وجہ سے دوزخی لکھ دیا ہو وہ گمراہ اور بےراہ ہوسکتا ہے تمہارے اور تمہارے معبودوں کے اختیار میں نہیں ہے کہ تم جس کو چاہو گمراہ کرسکو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم انسان اور تمہارے شیطان بےمرضی اللہ کے گمراہ نہیں کرسکتے گمراہ وہی ہوگاجس کو اس نے دوزخی لکھ دیا۔
Ayah 37:164(164) اور فرشتوں کا قول ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک درجہ اور ٹھکانا معین ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں سے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی زبان سے فرمایا جیسے دعائیں فرمائیں آدمیوں کی زبان سے ٹھکانا مقرر یعنی اپنی حد سے اسے آگے بڑھنا نہیں یہ اس پر فرمایا کہ کافر کہتے تھے فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں جنہوں کی عورتوں سے پیدا ہوتیاں سوجنوں کو اپنا حال معلوم ہے اور فرشتے یوں کہتے ہیں۔
خلاصہ : یہ کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک درجہ معین ہے اس کی بجاآوری میں لگے رہتے ہیں اور اپنی رائے سے کچھ نہیں کرسکتے۔
Ayah 37:165(165) اور ہم تو صف بستہ اور قطار باندھ کر کھڑے ہونے والے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنی اپنی حد پر ہر کوئی کھڑا رہتا ہے۔ حدیث میں ملائکہ کی صفوں کا ذکر آتا ہے جیسا کہ ہم شروع سورت میں ذکر کر آئے ہیں۔
Ayah 37:166(166) اور ہم اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے والے ہیں۔ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا آسمانوں میں ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہیں جہاں فرشتہ نماز پڑھتا اور تسبیح نہ کرتا ہو۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ایک دفعہ نبی کریم ﷺ سے عرض کی ہم میں سے یعنی گروہ ملائکہ میں سے کوئی ایسا نہیں جس کی آسمانوں میں کوئی جگہ مقرر نہ ہو جہاں وہ عبادت کرتا اور نماز پڑھتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں تک ہوچکا فرشتوں کا کلام۔
Ayah 37:167(167) اور یہ واقعہ ہے کہ نزول قرآن اور نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل یہ منکران عرب کہا کرتے تھے ۔
Ayah 37:168(168) اگر ہمارے پاس بھی گزشتہ امتوں کی سی کوئی نصیحت آمیز کتاب ہوتی۔
Ayah 37:169(169) تو یقینا ہم بھی اللہ تعالیٰ کے خاص اور چیدہ بندے ہوتے۔
Ayah 37:170(170) پھراب یہ لوگ اس کتاب اور اس نبی کا انکار کرنے لگے اور اس سے منکر ہوگئے سو تھوڑے دنوں میں اپنا انجام جان لیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں عرب کے لوگ انبیاء کا نام سنتے تھے ان کے علم سے خبردار نہ تھے تو یہ کہتے تھے اب جو اپنے اندر نبی پیدا ہوا تو پھرگئے۔
یعنی حضور کی بعثت سے پہلے جب انبیائے سابقین کا حال اور ان کی قوموں کی مخالفت کے تذکرے سنتے تو یہ خواہش کرتے کہ اگر ہمارے پاس کوئی ایسی کتاب لاتا جیسی پہلوں کے پاس آئی تھی تو ہم ہرگز اس کی مخالفت نہ کرتے بلکہ ہم تو اھدے من احدی الامم ہوتے لیکن جب کتاب آئی اور رسول لے کر آیا تو اب اس سے منکر ہوگئے اور مخالفت شروع کردی لہٰذا تھوڑے دنوں میں ان کا اپنا انجام معلوم ہوجائے گا یہود و نصاریٰ کے احوال سنتے ہوں گے یا اور دوسرے رسولوں کے تذکرے سنتے ہوں گے بہرحال ! خواہش یہ کرتے تھے مگر کتاب اور رسول کے آتے ہی وہی کرنے لگے جو پہلی امتیں اپنے رسولوں کے ساتھ کیا کرتی تھیں۔
Ayah 37:171(171) اور بلا شبہ ہمارے وہ بندے جو رسول ہیں ان کے حق میں ہماری یہ بات اور یہ کلمہ پہلے سے طے شدہ ہے ۔
Ayah 37:172(172) کہ یقینا وہی پیغمبر منصور اور مدد کئے گئے ہیں۔
Ayah 37:173(173) اور بلا شبہ ہمارا ہی لشکر غالب رہنے والا ہے۔ یعنی یہ پہلے ہی سے پیغمبروں کے بارے میں طے شدہ امر ہے کہ رسولوں کا بول بالا ہوگا۔ ان کی مدد کی جائے گی اور ان کو مغلوب نہ ہونے دیا جائے گا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اگر کسی مصلحت سے دنیا میں ایسانہ ہوا تو عقبی میں ان کی مدد ضرور ہوگی۔ بہرحال ! اعتبار اکثریت کا ہے عام طور سے انبیاء علیہم الصلوٰۃ غالب رہتے ہیں اور ان کا تفوق حاصل ہوتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی پیغمبر کو دنیا میں نمایاں غلبہ حاصل نہ ہو تو آخرت میں یہ غلبہ یقینی ہے۔
سبقت کلمتنا کا مطلب یہ ہے کہ لوح محفوظ میں لکھا گیا کہ انبیائے (علیہم السلام) مدد کئے گئے ہیں حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ لڑائی اور جنگ میں کوئی نبی مغلوب نہیں ہوا حضرت حق نے سورة مجادلہ میں فرمایا لاغلبن انا ورسلی۔ یقینا میں اور میرے رسول غلبہ پائیں گے یہی مطلب ہے انھم لیھم المنصور ون کا اور عام طور سے یہ بات ہے کہ ہمارا لشکر ہی غالب ہوا کرتا ہے۔
Ayah 37:174(174) سواے پیغمبر آپ تھوڑی مدت تک ان منکروں کو منہ نہ لگائیے اور ان سے منہ پھیر لیجئے یعنی تھوڑے زمانے تک صبر کیجئے۔
Ayah 37:175(175) اور آپ ان کو دیکھتے رہیے سو یہ عنقریب خود بھی اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ یعنی جو مہلت ان کو دی گئی ہے اس تک ان کی حالت اور ان کے انجام کا انتظار کیجئے تھوڑے ہی دنوں میں ان کو خود بھی اپنا انجام معلوم ہوا جاتا ہے۔ شاید اس پر اس وعید کی کفار کی جانب سے تعجیل کی گئی ہوگی کہ جو کچھ معلوم ہونا ہے وہ ہوجائے اس میں تاخیر کیوں ہورہی رہے ہم اپنا انجام دیکھنے کو تیار ہیں آگے اس کا جواب ہے۔
Ayah 37:176(176) کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کو جلدی چاہتے ہیں یعنی ہمارے عذاب کا تقاضا کررہے ہیں اور عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں۔
Ayah 37:177(177) پھر جب وہ عذاب ان لوگوں کے میدان میں اترآئے گا تو جن کو ڈرایا گیا ہے ان کے لئے وہ وقت بہت برا وقت ہوگا۔ یعنی جب عذاب ان کے سامنے اور ان کے روبرو آنازل ہوگا تو وہ صبح یا وہ دن ان لوگوں کیلئے بہت برا ہوگا جو ڈرائے جاچکے ہیں یعنی منکروں کے لئے چونکہ عام طور سے صبح کے وقت مسلمان حملہ کرتے تھے اس لئے وہی اصطلاح عذاب کے لئے استعمال فرمائی۔
عرب کے لوگ ساحت بول کر قوم مراد لیتے ہیں۔ یعنی عذاب سامنے آموجود ہو نبی کریم ﷺ جب خیبرپر حملہ آور ہوئے تورات ہی کو پہنچ گئے مگر صبح تک انتظار کرتے رہے جب صبح ہوگئی اور لوگ گھروں سے نکلے تو انہوں نے کا قسم خدا کی یہ محمد اور ان کا لشکر ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔
اللہ اکبر خربت خیبرانا اذا انزلنا بساحۃ فساء صباح المنذرین۔ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بڑا ہے خیبر برباد ہوا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں تو جو لوگ ڈرائے گئے ہیں ان کے لئے وہ وقت بہت برا ہوتا ہے یعنی نازل شدہ عذاب ٹلتا نہیں۔
Ayah 37:178(178) اور اے پیغمبر آپ ان منکرین کو تھوڑی مدت تک منہ نہ لگائیے اور ان سے منہ پھر لیجئے۔ یعنی کوئی تعارض نہ کیجئے اور ان کی ایذا رسانی اور ان کی مخالفت کا خیال نہ کیجئے۔
Ayah 37:179(179) اور دیکھتے رہئے یعنی انتظار کرتے رہیے سو یہ عنقریب خود ہی اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ حضرت شاہ صاحب صباح المندرین پر فرماتے ہیں یہ ہوافتح مکہ کے دن ۔ یعنی ایک مدت تک کا جو انتظار تھا اور ان کو اپنا انجام دیکھنا تھا وہ عذاب یا تو بدر میں آیاجیسا کہ بعض نے کہا یہ فتح مکہ کے دن ہوا جیسا کہ شاہ صاحب نے فرمایا والبصر فسوف یبصرون پر حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید پہلا وعدہ دنیا کے عذاب کا اور پچھلا آخرت کا۔
Ayah 37:180(180) اے پیغمبر آپ کا پروردگار جو کمال عزت وقوت کا مالک ہے ان تمام باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ اس کی نسبت گھڑا کرتے ہیں۔
Ayah 37:181(181) اور سلام ہو پیغمبروں پر یعنی اللہ تعالیٰ کے تمام فرستادوں پر۔
Ayah 37:182(182) اور تمام تعریفیں اور خوبیاں اس اللہ تعالیٰ کو لائق ہیں جو تمام عالموں کا مالک اور پروردگار ہے۔ سورت کے آخر میں توحید و رسالت کو اجمالاً ایک نئے انداز سے فرمایا حضرت حق تعالیٰ کی جملہ عیوب سے تزیہہ فرمائی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کو ان تمام عیوب سے منزہ سمجھو جو منکر اس کی طرف منسوب کرتے ہیں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو واجب الاتباع اور واجب الاطاعت جانو کیونکہ وہ ایسے بلند مرتبہ ہیں کہ ہم ان پر سلام بھیج رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو موصوف بکمالات جلیلہ سمجھو سب خوبیوں سے متصف جانو کیونکہ وہ مستجمع بصفات الکمال ہے اور تمام جہانوں کا مالک اور پرورش کرنے والا ہے۔
سورت میں جن امور کی تفصیل تھی خاتمہ میں اس کا اجمال ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا جو چاہتا ہے کہ ثواب کا پورا پیمانہ بھر کر ثواب حاصل کرے تو وہ جب اپنی مجلس سے اٹھے تو وہ والصافات کی آیتیں پڑھ کر کھڑا ہوا کرے۔
حضرت انس کی روایت میں ہے کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے جب سلام بھیجو مجھ پر تو سلام بھیجو اور رسولوں پر اس لئے کہ نہیں ہوں میں مگر رسولوں میں۔
حضرت قتادہ جب ان آیتوں کو سناتے تو یہ حدیث بیان کرتے ابن ابی حاتم نے شعبی سے نقل کیا ہے جو پورا پیمانہ بھرکر ثواب حاصل کرنا چاہے۔ قیامت کے دن تو وہ مجلس سے اٹھتے وقت ان آیتوں کو پڑھ لیا کرے۔ ابن عباس ابوسعید اور زید بن ارقم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا نماز سے فارغ ہونا انہی آیتوں کے پڑھنے سے معلوم ہوتا تھا یعنی ہر نماز سے فارغ ہوتے ہی یہ آیتیں پڑھا کرتے تھے۔
نماز سے اس قدر متصل ان آیتوں کا پڑھنا ہوتا تھا کہ بعض صحابہ ؓ کو یہ شبہ ہوتا تھا کہ شاید اسلام پھیرنے سے پہلے آپ نے ان کو پڑھا ورنہ سلام کے بعد تو یقینی تھا کہ آپ سلام پھیرتے ہی ان آیات کو پڑھتے تھے۔ تم سورة والصافات