37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 37:121

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

ہم نیک روش پر قائم رہنے والوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں۔

(121) ہم نیک روش پر قائم رہنے والوں کو ایسا ہی بدلا اور صلہ عطا کیا کرتے ہیں۔
Ayah 37:122

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ دونوں ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔

(122) بلا شبہ وہ دونوں ہمارے ایمان دار بندوں میں سے ہیں۔
Ayah 37:123

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور بیشک الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھا۔

(123) اور بیشک الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھا۔ حضرت الیاس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت ہارون کی چوتھی یا پانچویں پشت میں تھے حضرت یوشع بن نون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد جب نواحی شام کو فتح کیا تو انہوں نے تمام علاقے کو اسباط بنی اسرائیل میں تقسیم کردیا ایک خاندان کو بعلبک کا علاقہ بنی اسرائیل میں بت پرستی رواج پذیر ہوئی تو حضرت الیاس کو ان کی ہدایت کے لئے مقرر کیا۔ حضرت الیاس کے زمانے میں اس علاقہ کا حکمراں ایک اجب نامی حاکم تھا یہ لوگ بعل نامی بت کی پوجا کرتے تھے یہ ایک بیس گز لمبا بت تھا اور اس کے چار منہ تھے اس حاکم کی بیوی کا نام ازبیل تھا وہ حاکم پر بہت قابو یافتہ تھی غرض حضرت الیاس (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا لیکن یہ لوگ ان کے درپے آزار ہوئے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہاڑوں میں تشریف لے گئے۔ پھر جب ان لوگوں پر مصیبت آئی وہ ظاہر ہوئے دعا کی ان کی دعا سے مصیبت ٹل گئی لیکن ان لوگوں نے پھر ان کی مخالفت کی چند اور لوگ تھے جو توریت پر ایمان رکھتے تھے اور دین موسوی پر قائم تھے لیکن وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے۔ بہرحال وہ بنی اسرائیل میں نبی تھے انہوں نے قوم کو سمجھایا ان کا نام الیاسین الیاس۔ آل الیاسین تھا ان کا قصہ بعض تفسیروں میں بڑی تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔
Ayah 37:124

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

الیاس کا وہ واقعہ قابل ذک رہے جبکہ اس نے قوم سے کہا تم خدا سے ڈرتے نہیں۔

(124) الیاس کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں۔ یعنی بنی اسرائیل جو بت پرستی میں مبتلا ہوگئے تھے ان کو حضرت الیاس نے اللہ تعالیٰ کا خوف دلایا اور فرمایا کیا تم کو ڈر نہیں۔
Ayah 37:125

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل نامی بت کو پوجتے ہو اور اس کو چھوڑ بیٹھے ہو۔ جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔

(125) کیا تم بعل نامی بت کو پوجتے ہو اور اس معبود حقیقی کو چھوڑ بیٹھے ہو جو سب سے بہتر بنانے والا اور پیدا کرنے والا ہے۔ یعنی کچھ بنانے والے ایسے ہیں جو بعض اشیاء کی تحلیل و ترکیب کرلیتے ہیں یعنی قدرت کی پیدا کردہ چیزوں کو ملا کر کوئی کھلونے بنا لیتا ہے کوئی گاڑی یا انجن بنا لیتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو اشیاء کا موجد اور خالق ہے انسان اصل اشیاء کا ایجاد کرنے والا نہیں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ حقیقی بنانے والا ہے اور سب سے بہتر بنانے والا ہے۔
Ayah 37:126

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

وہ معبود برحق تمہارا بھی رب ہے۔ اور وہی تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی پروردگار ہے۔

(126) وہ معبود حقیقی تمہارا بھی پروردگار ہے اور وہی تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی پروردگار ہے۔ یعنی احسن الخالقین اللہ تعالیٰ ہے جو تمہارا اور تمہارے بڑوں کو پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا ہے۔
Ayah 37:127

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

پس ان لوگوں نے الیاس کی تکذیب کی سو یقینا وہ گرفتار کرکے حاضر کئے جائیں گے۔

(127) پھر ان لوگوں نے حضرت الیاس کی تکذیب کی اور حضرت الیاس کو جھوٹا بتایا سو یقینا وہ لوگ گرفتار کرکے حاضر کئے جائیں گے۔
Ayah 37:128

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

مگر ہاں جو اللہ کے چیدہ و برگزیدہ بندے تھے۔

(128) مگر ہاں جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور مخلص بندے ہیں۔ یعنی جو اجب نامی حکمراں اور اس کی ملکہ ازبیل کی پیروی کرتے رہے اور حضرت الیاس کو قتل کرنے کے درپے ہوئے اور تکذیب کا شیوہ اختیار کیا وہ مجرمانہ حیثیت سے عذاب میں حاضر کیے جائیں گے البتہ جو لوگ مومن رہے اور موسوی دین پر قائم رہے وہ عذاب سے محفوظ رہیں گے۔
Ayah 37:129

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور ہم نے پیچھے آنے والے لوگوں میں الیاس کے لئے یہ بات رہنے دی۔

(129) اور ہم نے پیچھے آنے والے لوگوں کے لئے یہ بات رہنے دی۔
Ayah 37:130

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

کہ الیاسین پر سلام ہو۔

(130) کہ الیاسین پر سلام ہو۔ مطلب اوپر گزر چکا ہے۔
Ayah 37:131

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

بیشک ہم نکوکاروں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

(131) بلا شبہ ہم نیک روش پر قائم رہنے والوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔
Ayah 37:132

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

اس میں کچھ شک نہیں کہ الیاس ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا

(132) بلا شبہ وہ الیاسین ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا۔ یعنی کامل مومنوں میں سے تھا۔
Ayah 37:133

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور بیشک لوط بھی پیغمبروں میں سے تھا۔

(133) اور بیشک لوط (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھا۔
Ayah 37:134

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

لوط کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جبکہ ہم نے اسکو اور اس کے تمام متعلقین کو عذاب سے بچا لیا۔

(134) لوط (علیہ السلام) کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جبکہ ہم نے اس کو اور اس کے تمام متعلقین کو عذاب سے بچالیا۔
Ayah 37:135

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

مگر ہاں ایک بڑھیا یعنی اس کی بیوی کہ وہ رہ گئی رہ جانے والوں میں۔

(135) مگر ہاں ایک بڑھیا جو رہ گئی رہ جانے والوں میں۔ یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی جو کفار سے ملی ہوئی تھی وہ انہی کے ساتھ رہ گئی۔
Ayah 37:136

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر ہم نے اور سب کو ہلاک ڈالا۔

(136) پھر ہم نے اور سب کو ہلاک کردیا۔ یعنی حضرت لوط اور ان کے ساتھی مومنین کے سوا سب کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔
Ayah 37:137

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور مکہ والو ! تم تو لوط کے لوگوں پر سے کبھی صبح ہوتے۔

(137) اور اے مکہ والو ! تو لوط ! تم تو لوط والوں کے مکانات پر سے گزرا بھی کرتے ہو کبھی صبح ہوتے۔
Ayah 37:138

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور کبھی رات میں گزرا بھی کرتے ہو تو کیا تم پھر بھی سمجھ سے کام نہیں لیتے۔

(138) اور کبھی رات میں پھر بھی نہیں سمجھتے اور سمجھ سے کام نہیں لیتے۔ یعنی تمہارے تجارتی قافلے تو ان بستیوں پر صبح کو اور کبھی رات میں گزرا کرتے ہیں یعنی جب ملک شام جاتے ہو تو ان الٹی ہوئی بستیوں سے گزرتے ہو کیا پھر بھی نہیں سمجھتے کہ ان پر عذاب کیوں ہوا اور پیغمبر کی نافرمانی کی سزا ان کو کس طرح ملی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قوم لوط کی بستیاں الٹی ہوئی نظر آتی ہیں شام کی راہ میں۔
Ayah 37:139

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھا۔

(139) بلا شبہ یونس (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھا۔ یعنی یونس (علیہ السلام) کو موصل سے نینوا بھیجا اللہ تعالیٰ نے تاکہ وہاں کے لوگوں کو رسالت کا پیغام پہنچائیں جب وہاں کے لوگ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کو عذاب سے ڈرایا اور عذاب کے آنے کا ایک دن مقرر کردیا اور خود وہاں سے نکل کر دوسری جگہ چلے گئے اور وہاں سے نینوا کی خبریں حاصل کرتے رہے یہاں یوم موعود پر عذاب کے آثار نمودار ہوئے لوگ گھروں سے نکل کر جنگل میں گئے وہاں جاکر توبہ کی ایمان لائے اور گڑ گڑائے اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب واپس ہوگیا۔ جب حضرت یونس کو یہ معلوم ہوا تو شرمندگی کے باعث نینوا میں واپس نہ آئے بلکہ ایک کشتی پر سوار ہوکر اس علاقے سے نکل جانا چاہتے تھے بچوں کو اور بیوی کو لے کر نکلے یہ واقعہ سورة یونس اور سورة انبیاء میں قدرے تفصیل سے گزر چکا ہے۔
Ayah 37:140

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

یونس کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے۔ جبکہ وہ اپنی قوم سے بھاگ کر ایک ایسی کشتی پر پہنچا جو مسافروں وغیرہ سے پر تھی۔

(140) اور یونس کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جبکہ وہ اپنی قوم سے بھاگ کر ایک ایسی کشتی پر پہنچا جو مسافروں وغیرہ سے پر تھی۔ یعنی جب یہ معلوم ہوا کہ قوم پر سے عذاب ٹل گیا تو انہوں نے یہ سمجھا کہ اگر واپس جائوں گا تو قوم مجھے جھٹلائے گی اس لئے کہیں نکل جائوں چونکہ یہ تجویز بھاگ نکلنے کی بغیر اللہ تعالیٰ کی منظوری کے اختیار کی اس لئے وہ واقعات پیش آئے جو آگے مذکور ہیں۔ کہتے ہیں ندی پار کررہے تھے کہ ایک لڑکا اور بیوی بہہ گئی اور ایک لڑکے کو کنارے پر چھوڑ گئے تھے اسے بھیڑیا لے گیا۔ بہرحال جوں توں کرکے کشتی پکڑی کشتی میں سوار ہوگئے۔ کشتی روانہہوئی تو دھارے پر جاکر رک گئی اور چکر کھانے لگی ۔ کشتی والوں نے کہا ان مسافروں میں کوئی غلام اپنے آقا سے بھاگا ہوا سوار ہوگیا ہے اور ہم قاعدے اور دستور کے موافق بھاگے ہوئے غلام کو دریا میں پھینک دیا کرتے ہیں تاکہ ہماری کشتی غرق سے محفوظ رہے، حضرت یونس سمجھ گئے کہ ہو نہ ہو وہ غلام میں ہی ہوں جو مولا سے بھاگ کر آیا ہوں چناچہ انہوں نے اپنے کو پیش کردیا لیکن ان کی صورت کو دیکھ کرنا خدا کو یقین نہ آیا کہ یہ بھاگے ہوئے غلام ہیں چناچہ قرعہ ڈالا گیا اور کئی بار قرعہ میں ان کا ہی نام نکلا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 37:141

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

پھر یونس قرعہ اندازی میں کشتی والوں کے ساتھ شریک ہوا اور ہر دفعہ یونس ہی مغلوب وملزم ٹھہرا۔

(141) پھر یونس قرعہ اندازی میں کشتی والوں کے ساتھ شریک ہوا اور اہل کشتی کے ساتھ قرعہ ڈلوایا پھر وہ یونس مغلوب اور الزام خوردہ قرار پایا۔ یعنی انہی کا نام نکلا اور ان کو سمندر میں پھینکنے کا فیصلہ ہوا کشتی کے سرے پر جب حضرت یونس کو پھینکنے لائے تو دیکھا کہ ایک مچھلی منہ کھولے ہوئے بیٹھی ہے یہ ناخدا ان کو کشتی کے دوسرے سرے پر لے گیا تو وہاں پھر وہ مچھلی موجود پائی بالآخر مجبور ہوکر کشتی کو بچانے کی غرض سے یونس دریا میں کود گئے اور اپنی کمبلی سر پر رکھی اور مچھلی کے منہ میں جاپڑے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کشتی دریا میں چکر کھانے لگی لوگوں نے کہا اس میں کوئی غلام ہے اپنے مالک سے بھاگا ہوا ہر ایک نے نام پر قرعہ ڈالا ان کا نام نکلا۔
Ayah 37:142

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

پھر اس کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے پر ملامت کررہا تھا۔

(142) پھر اس کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ الزام خوردہ اور پشیمان تھا۔ یعنی الزام وہی کہ بلا اجازت شہر سے کیوں نکل گئے اور عذاب کی تاریخ بلااجازت کیوں معین فرمائی۔ بہرحال ! مچھلی نے نگل لیا اور مچھلی کو یہ حکم ہوا کہ یہ تیری غذا نہیں ہے تیرا پیٹ فقط اس کے لئے قربی خانہ ہے جو تیرے پیٹ میں اس طرح محفوظ رہے جس طرح بچہ ماں کے پیٹ میں محفوظ رہتا ہے چناچہ مچھلی دریا میں اپنا منہ باہر نکال کر چلتی تھی تاکہ یونس کا دم نہ گھٹے حضرت یونس ان اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے تھے جیسا کہ سورہانبیاء میں گزر چکا ہے۔
Ayah 37:143

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

پھر اگر یہ بات نہ ہوتی کہ وہ یاد کرتا تھا پاک ذات کو۔

(143) پھر اگر یہ بات نہ ہوتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے والوں میں سے تھا۔
Ayah 37:144

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو اس مچھلی کے پیٹ میں اس دن تک پڑا رہتا جس دن مردے زندہ کیے جائیں گے۔

(144) تو وہ یونس اس مچھلی کے پیٹ میں اس دن تک ٹھہرا رہتا جس دن کے مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے یعنی قیامت تک۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت یونس اگر مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی نہ بیان کرتے اور لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین۔ نہ کہتے تو قیامت تک مچھلی کے پیش میں رہتے بلکہ اس کی غذا بنا دیئے جاتے اور قیامت میں عا م مردوں کی طرح اٹھائے جاتے یہ مطلب نہیں کہ قیامت تک مچھلی بھی زندہ رہتی اور ان کو پیٹ میں لئے پھرتی۔ کلمہ لا الہ الا انت توحید اور حضرت حق کی پاکی اور استغفار سب کو شامل ہے۔ من المسبحین ایک مطلب یہ ہے کہ چونکہ یونس ہمیشہ سے شکر کرنے والوں عبادت کرنے والوں نماز پڑھنے والوں پاکی بیان کرنے والوں میں سے تھا اس لئے اس ابتلا کے موقع پر اس کی دعا بہت جلد قبول کرلی گئی جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کو رخا اور آسانی میں یاد رکھنا ہے تو اللہ تعالیٰ مصیبت کے وقت اس کی دعا جلد قبول کرلیتا ہے اور جو بندہ عیش میں اس غافل رہتا ہے تو مصیبت میں اللہ تعالیٰ بھی اس کی دعا قبول کرنے میں تاخیر سے کام لیتا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا مچھلی کے پیٹ میں کتنے دن رہنا ہوا اس میں مختلف اقوال ہیں تین دن یا سات دن یا چالیس دن۔ حضرت شعبی کا قول ہے کہ دن کے ابتدائی میں حصے میں مچھلی نے نگلا اور دن کے آخری حصے میں اگل دیا یعنی صبح کو پیٹ میں رکھا اور شام کو اگل دیا۔ (واللہ اعلم)
Ayah 37:145

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

آخر کار ہم نے اس کو ایک کھلے میدان میں ڈال دیا اور وہ اس وقت بیماروناتواں تھا۔

(145) آخر کار ہم نے اس کو ایک چٹیل اور پٹ پڑ میدان میں ڈال دیا اور اس کی حالت یہ تھی کہ وہ مضمحل اور ناتواں تھا۔
Ayah 37:146

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک بیلدار درخت اگادیا۔

(146) اور ہم نے اس پر ایک بیل دار درخت اگادیا۔ یعنی مچھلی نے ایک بن گھاس کے میدان میں ان کو اگل دیا اور چونکہ وہ بیمار مضمحل اور ناتواں تھے مچھلی کے پیٹ کی حدت نے اس کو اس قدر گھلا دیا تھا کہ ایک گوشت کا لوتھڑا معلوم ہوتے تھے وہاں ہم نے ان پر کدو کی بیل اگا دی اور وہ اس طرح ان پر چھا گئی کہ مکھی اور مچھر کے ضرر سے محفوظ رہے اور دھوپ سے ان کی حفاظت ہوئی پہاڑی بکری کو حکم دیا گیا جو صبح اور شام ان کو دودھ پلاجایا کرتی تھی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں وہ کدو کی بیل تھی۔ غرض چند روز میں ان کے جسم میں کھال اور بال وغیرہ جم آئے اور وہ تندرست و توانا ہوگئے فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ جب کسی پر سختی اور لا نازل ہو تو اس کے دور کرنے کے لئے میں تم کو بتائوں کہ کیا چیز نافع ہوسکتی ہے صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ﷺ بتائیے تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعا ہے جس کے پڑھنے سے بلا دور ہوجاتی ہے بزرگوں سے اس دعا کو پڑھنے کے بہت سے طریقے منقول ہیں۔
Ayah 37:147

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ایک لاکھ یا لاکھ سے زیادہ آدمیوں پر پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔

(147) اور ہم نے اس کو ایک لاکھ یا لاکھ سے زیادہ آدمیوں پر پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر عاقل بالغ گئے تو لاکھ تھے اور اگر سب کو شامل گنئے تو زیادہ تھے اللہ کو شک نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آئو بمعنی بل ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کسر کا اعتبار نہ کرو تو ایک لاکھ کہو اور کسر کا اعتبار کرو تو لاکھ سے زیادہ کہو بہرحال وہ لوگ حضرت یونس کی تلاش میں تھے، اجمالی ایمان تو پہلے ہی لے آئے تھے تفصیل ایمان حضرت یونس کی دوبارہ تشریف آوری پر لائے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 37:148

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

پھر اس واقعہ کے بعد وہ سب لوگ ایمان لے آئے اور ہم نے ان کو ایک وقت خاص تک سود مند کیا۔

(148) پھر اس واقعہ کے بعد وہ سب لوگ ایمان لائے یعنی تفصیل ایمان اور ہم نے ان کو ایک خاص وقت تک سود مند کیا اور ایک مدت تک بہرہ مند کیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہی قوم جن سے بھاگے تھے ان پر ایمان لارہے تھے ڈھونڈتے تھے یہ جا پہنچے ان کو بڑی خوشی ہوئی۔ خلاصہ : یہ کہ نینوا کے لوگ آ کرلے گئے یا یہ خود تشریف لے گئے دونوں لڑکے اور بیوی صحیح سلامت ان کو مل گئے بڑے لڑکے اور بیوی کو قریب کے گائوں والوں نے نکال لیا اور چھوٹے بچہ کو بھیڑیے کے منہ سے چھڑا لیا۔ وقت مقرر سے ان لوگوں کی مدت عمر مراد ہے کہ اسلام لانے کے بعد حضرت یونس کے ہمراہ مدت العمر آرام اور عیش میں رہے چندانبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرنے اور یہ نبوت کی بحث کرنے کے بعد اب شرک کا بطلان اور شرک کی برائی مذکور ہے۔
Ayah 37:149

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

اے پیغمبر اب آپ ان کفار سے دریافت کیجئے کہ آپ کے رب کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے۔

(149) اے پیغمبر آپ ان کفار سے دریافت کیجئے کہ کیا آپ کے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے۔ کچھ معاند اور سرکش لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے معاذ اللہ ان کا رد فرمایا شاید یہود اور نصاریٰ کی بات سن کر کفار عرب نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوگا وہ مسیح اور عزیز کو ابن اللہ کہتے تھے انہوں نے استہزاء ملائکہ کو بنات اللہ کہنا شروع کردیا اور وجہ یہ بیان کی کہ چونکہ ملائکہ ظاہر نہیں ہوتے اور وہ پردے میں رہتے ہیں اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ان کو اس نے پردہ میں رکھ چھوڑا ہے۔
Ayah 37:150

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

یا کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے اور وہ دیکھ رہے تھے۔

(150) یاہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے اور وہ منکر ان کو بناتے وقت دیکھ رہے تھے - یعنی ملائکہ کی انوثت پر ان کے پاس کوئی دلیل عقلی اور نقلی نہیں ہے اور نہ یہ ان کے پیدا کرتے وقت موجود تھے، جو آنکھوں کا دیکھا حال بیان کریں۔
Ayah 37:151

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

خوب سن لووہ محض اپنی بہتان طرازی سے کہتے ہیں۔

(151) خوب سن لو وہ محض اپنی بہتان طرازی سے کہتے ہیں۔
Ayah 37:152

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ اللہ صاحب اولاد ہے اور کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ سراسر جھوٹے ہیں۔

(152) کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہے اور اس نے جنا ہے اور اس کے ہاں اولاد ہوتی ہے اور یقین جانو کہ یہ لوگ سراسر جھوٹے ہیں۔ یہ باتیں جو کررہے ہیں ان کا مبنی دروغ گوئی اور بہتان طرازی ہے یہ کہنا کہ اللہ نے اولاد جنی اور اس کے ہاں اولاد ہوئی سراسر جھوٹ اور کذب ہے۔
Ayah 37:153

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا خدا تعالیٰ نے بیٹوں کے مقابلہ میں بیٹوں کو پسند کیا ہے۔

(153) کیا اللہ تعالیٰ نے بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کو پسند کیا ہے۔
Ayah 37:154

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا تم کیسا حکم لگاتے ہو۔

(154) تمہیں کیا ہوگیا تم کیسا حکم لگاتے ہو۔ یعنی نہایت لغو اور بےہودہ حکم کرتے ہو۔
Ayah 37:155

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

کیا تم غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔

(155) کیا تم غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ یعنی کچھ سوچتے سمجھتے اور عقل ودھیان سے کام نہیں لیتے۔
Ayah 37:156

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی واضح دلیل ہے۔

(156) کیا تمہارے پاس کوئی واضح اور صریح دلیل ہے۔
Ayah 37:157

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

اگر سچے ہو تو وہ اپنی کتاب لاکر پیش کرو۔

(157) سو اگر تم سچے ہو تو وہ اپنی کتاب لائو۔ یعنی تم بیٹیوں کو اپنے لئے تو عیب اور ذلت و رسوائی کا سبب اس بات کی کوئی نقلی دلیل ہے اور تم سچے ہو تو اس کتاب کو لاکر پیش کرو کیونکہ عقلی دلیل تو تمہارے پاس نہیں عقل تو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ہی سے انکار کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو اولاد سے پاک بتاتی ہے۔
Ayah 37:158

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خدا کے اور جنات کے مابین رشتہ قرار دے رکھا ہے حالانکہ جنات کو اس امر کا پورایقین ہے کہ ان میں کے بدکردار جن گرفتا کرکے حاضر کیے جائیں گے۔

(158) اور ان معاندین و منکرین نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان ناتا قرار دے رکھا ہے حالانکہ جنات کو اس بات کا پورا یقین ہے کہ ان میں جو بدکردار اور کافر ہیں وہ گرفتار کرکے حاضر کئے جائیں گے۔
Ayah 37:159

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں۔

(159) اللہ تعالیٰ نے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں۔
Ayah 37:160

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

مگر ہاں خدا کے وہ بندے جو چیدہ ہیں وہ ان باتوں سے مستثنیٰ ہیں۔

(160) مگر ہاں جو اللہ تعالیٰ کے مخلص اور چیدہ بندے ہیں وہ ان باتوں سے مستثنیٰ ہیں۔ یعنی یہ کفار یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی جناتنی سے شادی کی اس سے فرشتے پیدا ہوئے اس لئے جنات سے اللہ تعالیٰ کا رشتہ ناطہ قرار دیتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ بیوی سے پاک ہے جب بیوی نہیں تو سسرال کی رشتہ داری کہاں جب زوجہ محال ہے تو صہریت وغیرہ کا نسب بھی محال اور جن جنات کو یہ خدا کا شریک اور رشتہ دار ٹھہراتے ہیں وہ جنات بھی خوب جانتے ہیں کہ وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے اور جب وہ مستحق عذاب ہیں تو رشتہ ناطہ کیسا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے جو باتیں یہ حضرت حق کی طرف منسوب کرتے ہیں مگر ہاں جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے ہیں وہ عذاب سے نجات پائیں گے یا یہ کہ منکر ایسی باتیں اس کے متعلق بیان کرتے ہیں لیکن مومن اور خاص بندے ان باتوں کی نسبت سے بیزار اور مستثنا ہیں۔ خلاصہ : یہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے مابین داماد اور سسرال کے رشتے کا جو ڑلگا رکھا ہے حالانکہ جنات سے تو پوچھو وہ جانتے ہیں کہ جنات میں جو نافرمان اور منکر ہیں وہ سب عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ معاذ اللہ جنات کا داماد ہوتا تو جنات عذاب میں کیوں جاتے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ان عیوب سے منزہ اور پاک ہے جو یہ اس پر لگاتے ہیں مگر وہ بندے خواہ وہ انسان ہوں یا جنات جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور مومن ہیں وہ اس قسم کے عیوب لگانے سے مستثنا اور بری ہیں متقدمین میں سے بعض حضرات نے اس طرح معنی بیان کئے ہیں کہ منکر جنات کو اللہ تعالیٰ کا حریف اور مقابل قراردیتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو وہ جنات اور شیاطین جہنم میں کیوں عذاب کئے جاتے اگر مقابل ہوتے تو مزاحمت کرتے آگے پھر اس تفریع فرمائی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔