41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 41:41

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنہوں نے قرآن کے ماننے سے جبکہ وہ قرآن ان کے پاس آیا انکار کیا تو انہوں نے سخت کوتاہی کی حالانکہ وہ قرآن ایک بڑی باوقعت کتا ب ہے۔

(41) بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے قرآن کے ماننے سے انکار کیا جبکہ وہ قرآن ان کے پاس پہنچا اور قرآن ان کے پاس آیا تو ان لوگوں میں خود تدبر کی کمی اور کوتاہی ہے حالانکہ وہ قرآن ایک بڑی باوقعت اور گرامی قدر کتاب ہے ۔
Ayah 41:42

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

جس میں باطل کو مطلق رسائی نہیں کوئی غلط بات نہ اس کے آگے سے آسکتی ہے نہ پیچھے سے وہ اس کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو کمال حکمت کا مالک اور ہر قسم کی حمدوثنا کا مستحق ہے۔

(42) جس میں باطل کو مطلق رسائی نہیں کوئی غیر واقعی بات اور غلط اور بیہودہ بات اور باطل بات نہ اس کے آگے سے آسکتی ہے نہ پیچھے سے آسکتی ہے وہ کتاب اس کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور اتاری گئی ہے جو کمال حکمت کا نہ مانا تو ان لوگوں نے بڑی کوتاہی اور عدم تدبر کا ثبوت دیا اور اس کتاب کی عظمت کو نہ سمجھا حالانکہ یہ کتاب بڑی گرامی قدر اور باوقعت ہے اور ہر قسم کے ناجائز تصرف سے محفوظ ہے کیونکہ اس میں باطل اور لغویات کسی جانب سے بھی داخل نہیں ہوسکتی۔ مجاہد نے باطل کی تفسیر میں شیطان کہا ہے یعنی شیطان کو اس کتاب میں تصرف کا کوئی حق نہیں اور شیطان کا اثر کسی جانب سے بھی اس کتاب میں نفوذ نہیں ہوسکتا۔ اور یہ کتاب حکیم اور حمید کی جانب سے نازل کی گئی ہے اس لئے شیطان کی کیا مجال ہے کہ اس کتاب میں کوئی مداخلت کرسکے۔ حمید کے معنی ہیں سب خوبیاں سراہا۔ حضرت علی ؓ نے دریافت کیا یارسول اللہ ﷺ کیا آپ کی وفات کے بعد آپ کی امت فتنوں میں مبتلا ہوگی اور پھر فتنوں سے نکلنے کی تدبیر کیا ہوگی ! آپ ﷺ نے فرمایا اس امت کو فتنے سے اللہ تعالیٰ جو غالب ہے اس کی کتاب نکالے گی جس کی صفت یہ ہے ۔ لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید۔ آگے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہیں اور قرآن کی طرف سے منکروں کے اعتراض کا جواب ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayah 41:43

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ کی شان میں بھی وہی باتیں کہی جارہی ہیں جو ان سب رسولوں سے کہی جاچکی ہیں جو آپ سے پہلے تھے۔ بیشک آپ کا رب بڑی مغفرت کرنے والا اور بڑی درد ناک سزا دینے والا ہے۔

(43) اے پیغمبر آپ کی شان میں نہیں کہی جاتیں مگر وہی باتیں جو آپ سے پہلے سب رسولوں کے لئے کہی جاتی رہی ہیں بلا شبہ آپ کا پروردگار بڑا صاحب مغفرت اور بخشنے والا ہے اور دردناک سزا دینے والا ہے۔ یعنی جو تکلیف اور ایذارسانی آپ کے ساتھ یہ کفار کررہے ہیں یہ سب وہی باتیں ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ کی جاچکی ہیں۔ اگر دین حق کے منکر آپ کو ستانے سے باز آجائیں تو آپ کا پروردگار ان کی خطائیں معاف فرمادے گا کیونکہ وہ بڑی مغفرت والا ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو ان کو سخت سزا دی جائے گی کیونکہ وہ مغفرت کے ساتھ دردناک سزا بھی دینے والا ہے۔
Ayah 41:44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اس قرآن کو بجائے عربی زبان کے عجمی زبان میں کردیتے تو یہ کافر یوں کہتے کہ اس کی آیتیں ہماری ہی زبان میں مفصل کیوں نہیں بیان کی گئیں یہ کیا بات ہے کہ کتاب عجمی اور پیغمبر عربی آپ فرما دیجئے کہ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے یہ قرآن ہدایت اور شفا ہے اور جو لوگ ایمان نہیں رکھتے تو یہ قرآن ان کے کانوں کے حق میں ثقل اور ان کی آنکھوں کا حق میں نابینائی اور تاریکی ہے یہ لوگ ایسے جیسے یہ کسی بڑی دور جگہ سے پکارے جارہے ہیں۔

(44) اور اگر ہم اس قرآن کو بجائے عربی زبان کے کسی اوپری اور عجمی زبان میں کردیتے تو یہ قرآن کے منکر یوں کہتے کہ کتاب کی آیتیں ہماری ہی زبان میں صاف صاف اور مفصل کیوں نہ بیان کی گئیں کیا کتاب عجمی اور پیغمبر عربی آپ فرمادیجئے کہ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے یہ قرآن نیک باتوں میں رہنما ہے اور برے روگ اور بری بیماریوں سے شفا اور تندرستی ہے اور جو لوگ ایمان نہیں رکھتے تو یہ قرآن ان کے کانوں میں ثقل اور بوجھ ہے اور ان کی آنکھوں کے حق میں نابینائی اور تاریکی اور اندھا پن ہے یہ لوگ ایسے ہیں جیسے بڑی دور کی جگہ سے پکارے جارہے ہیں۔ کافروں کے اس اعتراض کا جواب ہے جو وہ بطور عناد قرآن پر کیا کرتے تھے اور وہ یہ کہ قرآن عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں کیوں نہ اتارا گیا اگر تمام قرآن عجمی ہیں نہ ہوتا تو بعض حصہ عجمی میں ہوتا بعض عربی میں ہوتا۔ اس کا جواب فرمایا کہ اگر ہم قرآن کا کل یا جز عجمی زبان میں کرتے تو پھر دوسرے طریقے سے اعتراض کرتے اور یوں کہنے لگتے کہ عربی میں اس کتاب کے آیتیں صاف صاف کیوں نہ بنائی گئیں رسول کا دعویٰ کرنے والا تو عربی اور کتاب عجمی آخر میں ارشاد ہوا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ یہ قرآن اپنے میں خاص اثر رکھتا ہے جو لوگ اہل ایمان ہیں ان کو یہ کتاب نیک باتوں کے لئے رہنمائی کرتی ہے اور روحانی امراض اور قلب کی بیماریوں کے لئے شفا دینے والی ہے اور جو لوگ ایمان سے محروم ہیں ان کے حق میں یہ کانوں کا بوجھ ہے۔ یعنی کان کے ثقل کی وجہ سے کتاب کانوں سے ہیں گزرتی اور آنکھوں کے حق میں اندھا پا بن جاتی ہے کہ وہ اس کی خوبیوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ یہ لوگ ایسے ہی جیسے کوئی بڑی دور جگہ سے پکارا جائے کان بہرے ہوں آنکھیں اندھی ہوں اور دور سے پکارا جائے تو کس طرح دیکھ سکتا ہے اور سن سکتا ہے منکروں کی حالت یہی ہے۔ عجمی وہ ہے جو فصیح کلام نہ کرسکتا ہو خواہ وہ عجم کا ہو یا عرب کا۔ خلاصہ : یہ کہ ان کو کس طرح اطمینان نہیں عربی ہے تو کہتے ہیں عجمی کیوں نہیں عجمی ہوتا تو کہتے عربی کیوں نہیں ہوا۔
Ayah 41:45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی پھر اس کتاب میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے رب کی ایک بات پہلے سے مقدر نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے مابین فیصلہ ہوچکا ہوتا اور یہ کفار مکہ بھی اس کی طرف سے ایک تردد انگیز شک میں مبتلا ہیں۔

(45) اور بلا شبہ ہمنے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کتاب عطا کی تھی پھر اس کتاب میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے پروردگار کی ایک بات پہلے سے مقدر نہیں ہوچکی ہوتی تو ان کے مابین اور ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور یہ کفار مکہ بھی اس قرآن کی طرف سے ایک تردد انگیز شک میں مبتلا ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ سنا کر کہ ان کو بھی ہم نے توریت عطا کی تھی پھر اس کو بھی کسی نے مانا کسی نے نہ مانا یہی آپ کے ساتھ ہورہا ہے اگر مہلت اور میعا کی بات آپ کے پروردگار کی طرف سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے مابین فیصلہ کردیا جاتا یعنی فیصلہ قیامت کے دن ہوتا اس لئے اس وقت فیصلہ نہیں ہوسکتا ان کو ایک وقت مقررہ تک کے لئے ڈھیل دے دی گئی ہے اور یہ منکر ایک ایسے شک میں مبتلا ہیں جوان کو چین نہیں دیتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بات وہی نکل چکی کہ فیصلہ ہے آخرت میں۔ اور فرماتے ہیں یہ ان پر اندھا پا یعنی ان پر پوشیدہ ہے۔ خلاصہ : یہ کہ عذاب موعود کی طرف سے یا قرآن کی صداقت اور اسلام کی حقانیت کی طرف سے شک میں مبتلا ہیں۔
Ayah 41:46

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جو شخص نیک عمل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لئے کرتا ہے اور جو برا کرتا ہے تو اس کی برائی کا وبال اسی پر پڑتا ہے اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

(46) جوشخص نیک عمل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لئے کرتا ہے اور جو برا کرتا ہے تو اس کی برائی کا وبال اسی پر پڑتا ہے اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ یعنی بھلے کام کرنے والوں کو بھلائی کا نفع پہنچے گا اور برائی کرنے والوں کو برائی کا نقصان اور ضرر پہنچے گا کیونکہ آپ کے پروردگار کے ہاں ظلم نہیں ہے جیسا کوئی کرے گا ویسا بھرے گا آگے قیامت کا ذکر فرمایا۔
Ayah 41:47

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

قیامت کے وقوع کا علم صرف خدا ہی کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ وہ مادہ کوئی بچہ جنتی ہے الا یہ کہ یہ سب کام اس کے علم سے ہوتے ہیں اور جس دن خدا تعالیٰ ان مشرکوں کو پکار کر کہے گا وہ میرے شریک کہاں ہیں یہ جواب دینگے ہم نے تو آپ سے عرض کردیا کہ ہم سے کوئی بھی اس عقیدے کا مدعی اور مقرر نہیں ہے۔

(47) قیامت کے وقوع کا علم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ وہ مادہ کوئی بچہ جنتی ہے الا یہ کہ یہ سب کام اسی کی اطلاع اور اس کے علم سے ہوتے ہیں اور جس دن اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو پکار کر فرمائے گا وہ میرے شریک کہاں ہیں وہ مشرک جواب دیں گے ہم نے آپ کو جتا دیا اور آپ سے عرض کردیا کہ ہم میں سے کوئی بھی اس عقیدے کا مدعی اور اقرار کرنے والا نہیں۔ یعنی جب کہ تم میرا شریک ٹھہراتے تھے وہ آج کہا ہیں تو وہ کہیں گے ہم تو آپ کو بتا چکے اور آپ کی خبر دے چکے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں جو اس بات کی گواہی دے کہ آپ کا کوئی شریک ہے ہم تو سب توحید کے قائل ہیں یا یہ کہ ہم میں سے کوئی بھی شرک کا مدعی اور مقرر نہیں یا یہ کہ ہم میں سے کوئی بھی ان کا مشاہدہ اور دیکھنے والا نہیں جو ان کو بلالائے۔
Ayah 41:48

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور جن معبودوں کو قیامت سے پہلے یہ لوگ پکارا کرتے تھے وہ سب غائب ہوجائیں گے اور یہ مشرک اس امر کا یقین کرلیں گے کہ اب ان کے لئے فرار کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

(48) اور جن معبودوں کو قیامت سے پہلے یہ لوگ پکارا کرتے تھے اور جن کی پوجا کیا کرتے تھے وہ سب ان کی نظروں سے غائب ہوجائیں گے اور یہ مشرک اس بات کو جان لیں گے کہ ان کے واسطے فرار کی اور بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے یعنی وہ سب شرکاء ان کی نظروں سے غائب اور اوجھل اور گم ہوجائیں گے اور مشرک اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں گے کہ اب کہیں خلاصی اور بھاگ نکلنے کی اور بچائو کی جگہ نہیں آگے منکروں کی اخلاقی کمزوری کا ذکر فرمایا۔
Ayah 41:49

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان بھلائی کی دعا مانگے سے کبھی تھکتا نہیں اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوکرآس توڑ بیٹھتا ہے۔

(49) انسان بھلائی مانگنے سے تھکتا نہیں اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوکر آس کو توڑ بیٹھتا ہے۔ یعنی دین حق کے منکر کی حالت یہ ہے کہ مال کی فراخی کے مانگنے سے اس کا پیٹ ہی نہیں بھرتا اور بھلائی مانگنے سے تھکتا ہی نہیں اور اگر اتفاقاً تنگدستی یا مرض وغیرہ کی کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہوجاتا ہے اور آس توڑ دیتا ہے۔
Ayah 41:50

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور اگر اس تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی تھ ہم اسے اپنی کسی مہربانی سے لذت اندوز کردیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا جو مجھے ملا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت کبھی قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو بھی میرے لئے اس کے ہاں بہتری ہے سو ہم ان کافروں کو ان کے ان تمام اعمال کی جو یہ کرتی رہے ہیں پوری حقیقت سے آگاہ کردیں گے اور ہم ان کو سخت ترین عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

(50) اور اگر ہم اس تکلیف اور دکھ کے بعد جو اس کو پہنچا تھا اپنی کسی مہربانی کے مزے سے اس کو لذت اندوز کردیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا جو مجھے ملنا ہی چاہیے تھا اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت اٹھنی ہے اور قیامت کبھی قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو بھی میرے لئے اس کے ہاں خوبی اور بہتری ہے سو ہم ان کافروں کو ان کے تمام اعمال کی جو یہ کرتے رہتے ہیں پوری حقیقت سے آگاہ کردیں گے اور ہم ان کو سخت ترین عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس قسم کا کفران نعمت دین حق کے منکروں کی عادت میں داخل ہے مال کی محبت کا یہ عالم کہ کبھی سیر نہ ہوں عدم اعتماد کی یہ حالت کہ کوئی نقصان ہوا تو مایوس اور ناامید غلط فہمی اور بےوفائی کی یہ حالت کہ دکھ اور مصیبت کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی کا مزہ چکھائے تو کہے یہ تو مجھے ملنا ہی تھا یعنی میرا حق تھا جو مجھ کو مل کر رہا۔ بداعتقادی اور اس پر سے خوش فہمی کی یہ کیفیت کہ قیامت کے قائم ہونے کا یقین نہیں اور اگر بالفرض مجھے اپنے رب کی طرف جانا بھی پڑا تو بھی میرے لئے وہاں مزے ہوں گے اور اچھی اور بہتر چیزیں مجھ کو وہاں ملتی رہیں گی۔ اس پر فرمایا کہ ہم ان کے اعمال کی پوری حقیقت ان پر آشکارا کردیں گے اور ان کے بعد تمام اعمال ان کے جتادیں گے اور ان کو سخت ترین سزا کا مزہ چکھائیں گے اسی مضمون کی مزید وضاحت اور تتمہ کے طور پر فرماتے ہیں۔
Ayah 41:51

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ ہمارا حق ماننے سے منہ موڑتا اور اپنا پہلو پھیر لیتا ہے اور جب اسی انسان کو کوئی سختی پہنچتی ہے تو ہاتھ پھیلا پھیلا کر لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔

(51) اور جب ہم انسان کو اپنے انعام سے نوازتے ہیں اور اپنی کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو مونہہ موڑتا اور اپنا پہلو پھیر لیتا ہے اور جب اسی انسان کو کوئی برائی اور سختی پہنچتی ہے تو ہاتھ پھیلا پھیلا کر لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ منکر اور کافر کے افعال کا ذکر فرمایا۔ مال پر حرص حب دنیا میں انہماک عیش میں خدا کو بھول جانا اترانا اینٹہنا مصیبت میں جزع اور فزع وغیرہ نہ سختی میں صبر نہ نعمت میں شکر یہ منکرین کی جبلت ہے اور مسلمان کی طبیعت اور عادت ان تمام باتوں سے بالا تر ہے۔
Ayah 41:52

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

آپ ان سے کہیے بھلا یہ تو بتائو اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے آیا ہو اور پھر تم اس کا انکار کرو تو اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایک ایسی مخالفت میں مبتلا ہو جو مخالفت طریقہ حق سے بہت دور ہے۔

(52) اے پیغمبر آپ ان سے کہئے بھلا یہ تو بتائو اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہو اور پھر تم اس کا انکار کرو تو اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایک ایسی مخالفت میں مبتلا ہو جو مخالفت طریقہ حق سے بہت دور ہو۔ کافروں کی طبعی کمزوریوں کے بعد تنبیہ فرمائی کہ اگر یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہو جیسا کہ واقع میں ہے بھی پھر تم اس کا انکار کرو جیسا کہ اس کی مخالفت کررہے اور نہیں مانتے تو تم ہی بتائو کہ کون تم سے زیادہ گمراہ ہوگا جو ایک صحیح چیز کی مخالفت میں طریقہ حق سے اس قدر دور ہوجائے اور ایسی مخالفت میں پھنس جائے ایسے موقعہ پر تو نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔
Ayah 41:53

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

ہم عنقریب ان کافروں کو اطراف عالم میں اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان کو یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ یہ قرآن واقعی حق ہے کیا اے پیغمبر آپ کے رب کی یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہمہ چیز پر شاہد ہے۔

(53) ہم عنقریب ان منکرین قرآن کی اطراف عالم میں اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں اور اپنی قدرت کے نمونے دکھائیں گے یہاں تک کہ یہ بات ان پر واضح اور آشکارا ہوجائے گی کہ یہ قرآن واقعی حق ہے کیا اے پیغمبر آپ کے پروردگار کی یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز پر شاہد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عنقریب کچھ ایسی نشانیوں اور پیشین گوئیوں کا ظہور ہوگا جس سے عرب کا کونہ کونہ متاثر ہوگا اور اطراف عالم پر اس کا اثر پڑے گا اور خود ان کے متعلق بھی بعض ایسی پیشین گوئیوں کا ظہور ہوگا جن سے یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ یہ دین اسلام یا یہ قرآن واقعی حق اور سچ ہے اور چونکہ ان پیشین گوئیوں کا ظہور رسول کریم ﷺ کی صداقت کا بھی نشان ہے۔ اس لئے فرمایا کیا آپ کے رب کی یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر واقعی اور حقیقی بات کا گواہ اور آپ کی رسالت کی گواہی دیتا ہے وکفی باللہ شھیدا۔ وہ نشان یہی کہ اطراف عالم میں اسلام کی اشاعت یا گزشتہ امتوں کے برباد شدہ مکانات سورج اور چاند تارے وغیرہ اور نباتات اور اشجار اور خود ان میں امراض وبلائیں یا فتح مکہ اور مکہ کے اطراف کا فتح ہوجانا۔ بہرحال بعض حضرات مفسرین نے نبی کریم ﷺ کی صداقت کے متعلق ضمیر کو راجع کیا ہے اور بعض حضرات نے قرآن کے متعلق کہا ہے اس لئے تفسیر میں تھوڑا سا فرق ہے ہم نے دونوں کو ملا دیا ہے کیونکہ پیغمبر کی صادقت اور قرآن کی حقانیت دو چیزیں نہیں ہیں اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ اور ہر چیز پر مطلع اور ہر چیز پر حاضر ہے۔ قرآن کی حقانیت اور پیغمبر کی صداقت پر اس کی گواہی کافی ہے۔
Ayah 41:54

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

آگاہ رہو کہ یہ لوگ اپنے رب کے روبرو حاضر ہونے سے شک میں پڑے ہوئے ہیں یادرکھو اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو گھیر رکھا ہے۔

(54) آگاہ رہو اور یادرکھو کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے اور اس سے ملنے اور اس کی ملاقات سے شک میں پڑے ہوئے ہیں آگاہ ہوا اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے یعنی ان کو تو اپنے پروردگار کے روز و حاضر ہونے کا یقین ہی نہیں ہے اور یہ شک میں مبتلا ہیں یہ یادرکھو کہ اس نے یعنی اس کے علم اور اس کی قدرت نے سب کو گھیرے میں لے رکھا ہے اس سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے اور وہ ان کو ان کے گناہوں پر سے سزا دے گا۔ تم سورة حٰم ٓ السجدۃ