Ayah 50:41(41) اور اے مخاطب اس دن کی بات پوری توجہ کے ساتھ سن جس دن ایک پکارنے والا پاس ہی سے پکارے گا۔
Ayah 50:42(42) اس دن سب لوگ یقینی طور پر اس چیخ کو سن لیں گے یہ دن قبروں سے نکلنے کا ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں صور پھونکا جاوے گا بیت المقدس کے پتھر پر یا اس کی آواز پر جگہ نزدیک لگے گی۔
خلاصہ : یہ ہے کہ اس دن کی بات توجہ سے سنو ! جس دن ایک پکارنے والا صور میں پکارے گا یہ آواز ہر شخص کو قریب کی آواز معلوم ہوگی اس دن یقینی طور پر اس کی آواز کو سب سن لیں گے یہی دن نکلنے کا ہوگا یعنی صور کے بعد سب لوگ زندہ ہوجائیں گے اور حساب وکتاب کے لئے دوڑتے پھریں گے۔
کہتے ہیں اس صور میں یہ آوازہوگی۔ ایتھا العظام، البالیۃ والا وصال المتقطعۃ واللحوم الممزقہ والشعور المتفرقہ ان اللہ یا مرکن ان یجتمعن لفصل القضآئ۔ اے پرانی ہڈیوں، اے ٹوٹے ہوئے جوڑوں اور پھٹے ہوئے اور پارہ پارہ گوشت کے ٹکڑوں اور پراگندہ بالوں اللہ تعالیٰ تم کو حکم کرتا ہے کہ فیصلوں کے لئے جمع ہوجائو چناچہ اس کے بعد لوگ جمع ہونے شروع ہوجائیں گے۔
Ayah 50:43(43) بیشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور زندگی عطا کرتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور سب کی باز گشت اور سب کو ہماری طرف لوٹنا ہے۔
Ayah 50:44(44) اس دن زمین مردوں پر سے کھل جائے گی اور وہ اس سے نکل کر دوڑتے ہوں گے یہ زندہ کرکے جمع کرلینا ہم پر بہت آسان ہے۔ یعنی دنیا میں بھی ہم ہی زندگی دینے والے ہیں اور ہم ہی موت دینے والے ہیں اور سب کی بازگشت بھی ہماری ہی طرف ہے۔ وہ دن ایسا ہوگا کہ اس دن زمین پھٹ جائے گی اور کھل جائے گی اور زمین سے مردے نکل کر دوڑنے لگیں گے یہی حشر ہے جو ہم پر بہت آسان ہے یعنی یہ سب کو زمین سے نکال کر جمع کرلینا ہم پر کچھ مشکل نہیں۔
کہتے ہیں زمین پر کوئی خاص قسم کا مینہ برسے گا جس کا اثر یہ ہوگا کہ مردے جگہ جگہ سے نکلنے شروع ہوجائینگے اور زندہ ہو کردوڑنے لگیں گے یہ ہر برسات میں مشاہدہ ہوتا ہے کہ پہلی بارش میں زمین سے نباتات کا اگنا شروع ہوجاتا ہے اور لاکھوں جاندار پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں تمام حشرات الارض اساڑھ اور ساون کی بارش میں اسی زمین سے نکل آتے ہیں جو ہر سال ہوتا ہے۔
یہی حال اس بارش سے انسانوں کو پیدا ہونے کا ہوگا بہرحال صورت کچھ بھی ہو اللہ تعالیٰ پر تمام مخلوق کا دوبارہ زندہ کرلینا بہت ہی آسان ہے آگے پھر نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے تبلیغ کا حکم کرتے ہیں۔
Ayah 50:45(45) یہ دن حق کے منکرجو کچھ قیامت اور بعث بعدالموت کے متعلق کہتے ہیں وہ سب ہم جانتے ہیں اور آپ ان پر زور اور جبر کرنے والے نہیں ہیں پس آپ اس قرآن کے ذریعہ سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب اور میری سزا کے وعدے سے ڈرتا ہے اور جو میرے ڈر سے ڈرتا ہے - قرآن میں کئی جگہ یہ بات فرمائی ہے کہ آپ ان پر داروغہ یا وکیل بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ یہ منکر عقائد اسلامیہ کے متعلق جو کچھ کہتے ہیں اس سب کا ہم کو علم ہے ۔ آپ کا کام تو یہ ہے کہ آپ قرآن کے ذریعہ تبلیغ وعظ وپند کرتے رہیے آپ ان کو زور زبردستی سے مسلمان نہیں بناسکتے نہ زور زبردستی سے مسلمان بنانا کوئی مفید اور سود مند ہوسکتا ہے بلکہ قرآن کے ذریعے نصیحت کرتے رہیے اور ان کو سناتے رہیے جو میری وعید سے ڈرتے ہیں یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی سزا اور اس کی گرفت سے ڈرنے والے ہیں ان پر نصیحت اور قرآنی موعظت کا ثر ضرور ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ جمعہ کے خطبے میں عام طور سے سورة ق ٓ پڑھا کرتے تھے اور عیدین میں بھی ق ٓ اور سورة قمر اکثر پڑھا کرتے تھے۔
تم تفسیر سورة ق ٓ