Ayah 52:41(41) کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جس کو یہ لکھ لیتے ہیں۔ یعنی یہ جو آپ کے مقابلے میں بےسروپا بکواس بکتے رہتے ہیں کہ ہم کو قیامت میں بھی مزے ہوں گے اور مسلمان یہاں بھی تکلیف میں ہیں وہاں بھی دکھ بھریں گے تو کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ یہ اس کو محفوظ رکھنے کی غرض سے لکھ لیا کرتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جو انہوں نے لوح محفوظ سے لکھ لیا ہے یعنی جب کوئی بات بھی نہیں تو پھر عالم آخرت کے متعلق کیوں بےکار یا وہ گوئی کرتے ہیں۔
Ayah 52:42(42) کیا یہ لوگ کو چال یا دائوں کرنا چاہتے ہیں سو جو لوگ منکر اور کافر ہیں وہ خود ہی چال میں گرفتار ہوں گے۔ یعنی اگر ان کا مقصد ان باتوں سے کوئی چال چلنی اور دائو کرنا ہے تو فکر نہ کرو اور جو لوگ بداندیش ہیں وہ اپنے دائوں میں خود ہی پھنس جایا کرتے ہیں۔
Ayah 52:43(43) کیا اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی اور معبود ہے اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے پاک ہے۔ یعنی کوئی ان کا معبود خدا کے سوا اور ہے جو ان کو رزق دیتا ہے یا ان کو رزق دیتا ہے یا ان کو عذاب سے بچائے گا آگے ان کو بدبختی اور شقاوت پر ایک اور مضمون فرمایا کہ یہ معجزات کو بھی مذاق اور دل لگی کے لئے طلب کرتے ہیں اور اسی طرح عذاب مانگنے میں بھی ان کا مقصد اشتہزا ہے چناچہ فرماتے ہیں۔
Ayah 52:44(44) اور اگر یہ آسمان سے کوئی ٹکڑا بھی گرتا ہوا دیکھیں تو یوں کہنے لگیں کہ یہ ایک ابر ہے دل دار تہ بہ تہہ اور یہ بدلی ہے گاڑھی۔ یعنی آی سے ڈھیٹ ہیں کہ اگر آسمان سے کوئی ٹکڑا ان کو گرتا ہوا نظر آئے تو کہیں گے یہ تو کوئی غلیظ بادل ہے جو ہماری طرف آرہا ہے اور اگر معجزے کے طور پر بھی ان کو کوئی آسمان کا ٹکڑا گرتا ہوا دکھائی دے تب بھی یہی کہیں گے سحاب مرکوم دونوں ہی باتیں کہی گئی ہیں اس لئے ہم نے دونوں باتوں کا ذکر کردیا ہے ورنہ بظاہر یہ مذاق اور انکار عذاب کے ساتھ معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 52:45(45) پس اے پیغمبر آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑئیے یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے ملاقات کریں اور مشاہدہ کرلیں جس دن میں ان کے ہوش گم کردیئے جائیں گے۔
Ayah 52:46(46) اس دن ان کو ان کا مکرو فریب اور چالیں چلنی ان کو کچھ بھی فائدہ نہ پہنچا سکیں گی اور ان کے ذرا بھی کام نہآئیں گی اور نہ کہیں سے ان کو مدد پہنچے گی۔ یعنی جب ان کی سرکشی کی یہ حالت ہے تو ان سے کوئی توقع نہ رکھیئے اور ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے آگے قیامت کا ذکر فرمایا کہ اس دن ہوش و حواس صحیح نہ رہیں گے یا قبروں سے اٹھتے وقت اس دن کی ہولناکی کو دیکھ کر بےہوش ہوجائیں گے جیسا کہ سورة زمر کے آخر میں گزرچکا ہے اس دن ان کی چالیں بھی بیکار ہوجائیں گی اور مدد کی بھی کوئی شکل نہ ہوگی۔
Ayah 52:47(47) اور بلا شبہ جو لوگ ظلم کا ارتکاب کررہے ہیں اور جو ظالم ہیں ان ظالموں کو اس مذکورہ قیامت کے عذاب سے قبل بھی اور اس سے درے بھی عذاب ہونے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر کو اور بہت سوں کو معلوم نہیں۔ یعنی قیامت کے دن تو جو کچھ ہونا ہے وہی ہوگا یہی لیککن اس سے پہلے بھی عذاب میں یہ ظالم مبتلا ہوں گے۔
ظالم اس لئے فرمایا کہ مشرک ہیں وہ عذاب مشرکین کا قتل ، قحط، جنگ بدر وغیرہ ہیں اکثر اس لئے فرمایا کہ اس عذاب دنیوی سے پہلے کچھ لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں گے اور دین حق کو قبول کرلیں گے۔
Ayah 52:48(48) اور اے پیغمبر آپ اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر سے کام لیجئے بیشک آپ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری حفاظت ونگران میں ہیں اور جس وقت آپ اٹھا کریں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کیا کیجئے۔
Ayah 52:49(49) اور بعض اوقات شب میں بھی اور ستاروں کے غائب ہوئے پیچھے بھی اس کی تسبیح کیا کیجئے۔ حضرت حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو صبر کی تلقین فرمائی یعنی آپ انتقام میں جلدی نہ کیجئے اگرچہ آپ کی یہ جلدی اپنے نفس کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اسلام کی برتری اور دین حق کی بلندی کے لئے ہوتی ہے کہ جس قدر جلد کفر کی شوکت پارہ پارہ ہوگی اس قدر جلدی اسلام بلند ہوگا پھر بھی اپنے رب کے حکم کا انتظار کرتے رہیے اور صبر کریں اور اپنے رب کے حکم کے منتظر رہیں اور اس کا فکر ن کریں کہ مہلت کے زمانے میں کفار آپ کو اذیت پہنچا سکیں گے کیونکہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔
واصنع الفلک باعیننا حضرت نوح (علیہ السلام) کو فرمایا تھا لیکن فانک باعیننا میں اور واصنع الفلک باعیننا میں بڑا فرق ہے۔
بہرحال آپ تسبیح اور تحمید کرتے رہیں یعنی حمدوثنا کے ساتھ پاکی بیان کیا کریں جب آپ اٹھیں یعنی صبح کے وقت یا تہجد کے وقت نیند سے اٹھیں یا مجلس سے یہ نماز کو اٹھیں اور رات کے اوقات میں بھی اس سے عشاء کی اور مغرب کی نماز شاید مراد ہیں یا تہجد کی نماز مراد اور ستاروں کے غائب ہوئے پیچھے یعنی صبح صادق ہوجانے کے بعد یہی تاروں کے غائب ہونے کا وقت ہے اس وقت علی الترتیب تارے غائب ہونے شروع ہوجاتے ہیں یعنی صبح کی نماز پڑھا کیجئے یا فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مراد ہیں۔
مفسرین کے تسبیح کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں۔
سبحان اللہ وبحمدہ اور سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک۔ یہ الفاظ مجلس سے اٹھتے وقت پڑھنا مسنون ہیں۔ بہرحال جو آسان ہو وہ اختیار کی جائے اور اوقات مذکورہ میں خاص اہتمام کیا جائے۔
تم تفسیر سورة الطور