54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 54:1

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا

رسو الرم کی بعثت اور نزول دخان کی وجہ سے قیامت نزدیک آپہنچی ہے اور چاند پھٹ گیا کہ اس کے دو ٹکڑے ہوگئے یہ بھی علامت قیامت میں سے ہے۔ شان نزول : اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ (الخ) امام بخاری و مسلم اور حاکم نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے مکہ مکرمہ سے رسول اکرم کی ہجرت سے پہلے چاند کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھے اس پر کفار کہنے لگے کہ آپ نے چاند پر جادو کردیا ہے تب یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 54:2

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور اگر (کافر) کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے

مگر یہ لوگ جب انشقاق قمر وغیرہ کا کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو اس کو جھٹلانے لگتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک قسم کا جادو ہے جو ابھی ختم ہوجاتا ہے۔ شان نزول : وَاِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا (الخ) اور امام ترمذی نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ مکہ والوں نے رسول اکرم سے معجزہ دکھانے کی درخواست کی تو دو مرتبہ مکہ مکرمہ میں چاند شق ہوا اسی کے بارے میں سحر مستمر تک یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 54:3

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام کا وقت مقرر ہے

اور خود ان لوگوں نے معجزوں اور قیامت کے قائم ہونے کو جھٹلایا اور معجزوں اور قیامت کی تکذیب اور بتوں کی پوجا میں اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی اور ہر ایک بات جو کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہو حقیقت ہے اور وہ واقع ہوجاتی ہے۔ خواہ جنت و رحمت یا دوزخ و عذاب کے بیان میں ہو جو ان باتوں میں سے دنیا میں ہونے والی ہیں ظاہر ہوجاتی ہیں اور جو اخروی ہیں وہ واضح ہوجاتی ہیں۔ یا یہ کہ بندوں سے جو بھی کوئی قول و فعل صادر ہوتا ہے اس کی ایک حقیقت ہے اور وہ حقیقت ان کے دل میں ہوتی ہے۔
Ayahs 54:4–5

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور ان کو ایسے حالات (سابقین) پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

اور کامل دانائی (کی کتاب بھی) لیکن ڈرانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا

(4۔ 5) اور ان کہ والوں کے پاس قرآن کریم کے ذریعے گزشتہ قوموں کی خبریں پہنچ چکی ہیں کہ جھٹلانے پر وہ کس طرح ہلاک ہوئے جن میں کافی تنبیہ اور ممانعت ہے اور قرآن کریم اللہ کی طرف سے حکمت سے بھروپور ہے جس سے کافی دانش مندی حاصل ہوسکتی ہے۔
Ayahs 54:6–8

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

تو تم بھی ان کی پروا نہ کرو جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

تو آنکھیں نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے ؟ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے

(6۔ 8) سو جو قوم علم خداوندی پر اور اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے گی اسے رسولوں کا ڈرانا کچھ فائدہ نہیں پہنچاتا۔ اے محمد سو آپ ان کی طرف سے کچھ خیال نہ کیجیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا ہے۔ جس روز یعنی قیامت کے دن ایک بلانے والا فرشتہ ایک سخت ترین ناگوار چیز کی طرف بلائے گا اہل جنت کو جنت کی طرف اور دوزخیوں کو دوزخ کی طرف ان کی آنکھییں ذلت سے جھکی ہوں گی قبروں سے اس طرح نکل رہے ہوں گے جیسے ٹڈی پھیل جاتی ہے اور پھر نکل کر بلانے والے کی طرف دوڑے چلے جارہے ہوں گے کہ کس چیز کا ان کو حکم ہوتا ہے کافر قیامت کے دن کہتے ہوں گے کہ یہ دن ان کے حق میں بڑا سخت ہے۔
Ayah 54:9

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندوں کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی

محمد آپ کی قوم سے پہلے قوم نوح نے تکذیب کی یعنی ہمارے بندہ خاص نوح کو جھٹلایا اور ان کے بارے میں کہا یہ دیوانے ہیں اور ان کو دھمکی بھی دی اور ڈرایا بھی۔
Ayah 54:10

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بار الہا) میں (انکے مقابلے میں) کمزور ہوں تو (ان سے) بدلا لے

تو نوح نے دعا کی کہ میں درماندہ ہوں آپ ان پر عذاب نازل کر کے ان سے انتقام لے لیجیے۔
Ayahs 54:11–12

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دئیے

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین میں چشمے جاری کر دئیے تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا

(11۔ 12) سو ہم نے آسمان سے زمین پر کثرت سے برسنے والے پانی کے چالیس روز تک آسمان کے دروازے کھول دیے اور چالیس روز تک زمین سے چشمے جاری کردیے، سو آسمان اور زمین کا پانی اس مقدار پر جو ہم نے آسمان اور زمین کے پانی کی متعین کی تھی مل گیا یا یہ کہ اس کام کے پورا ہونے کے لیے جو تجویز ہوچکا تھا یعنی قوم نوح کی ہلاکت کے لیے مل گیا۔
Ayahs 54:13–16

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کرلیا

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی (یہ سب کچھ) اس شخص کے انتقام کے لئے (کیا گیا) جس کو کافر مانتے نہ تھے

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟

(13۔ 16) اور ہم نے نوح کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے۔ تختوں اور میخوں والی کشتی پر جو کہ ہماری نگرانی میں چل رہی تھی سوار کیا اور ہم نے یہ سب نوح کا بدلہ لینے کے لیے کیا جن کی انہوں نے قدر نہ کی اور ہم نے نوح کے بعد ان کی کشتی کو لوگوں کی عبرت کے لیے رہنے دیا کہ اس کشتی کے واقعہ سے نصیحت حاصل کریں سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے جو قوم نوح کے واقعہ سے نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے۔ سو آپ غور تو فرمایے کہ میرا عذاب ان لوگوں پر اور میرا ان کو ڈرانا یعنی جبکہ نوح نے ان کو ڈرایا پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے کیسا ہواْ
Ayah 54:17

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

اور ہم نے قرآن کریم کو حفظ و قرات اور کتابت کے لیے یا یہ کہ قرات کے لیے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی علم قرآنی کا طالب ہے کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔
Ayahs 54:18–21

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد نے بھی تکذیب کی تھی سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ لوگوں کو (اس طرح) اکھیڑے ڈالتی تھی گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا

(18۔ 21) اور قوم عاد نے بھی ہود کو جھٹلایا سو محمد سنیے کہ ان پر میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا۔ جس وقت ان کو ہود نے ڈرایا اور پھر بھی ایمان نہیں لائے۔ تو ہم نے ان پر ایک تند ٹھنڈی ہوا یعنی دبور بھیجی ایسے دن میں جو ان کے حق میں خواہ بڑا ہوا یا چھوٹا ہمیشہ کے لیے منحوس رہا وہ ہوا قوم ہود کو ان کی جگہ اس طرح اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجور کے تنے ہیں کہ ان کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ہے۔ سو دیکھیے کہ ان پر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہولناک ہوا۔ جس وقت ان کو ہود نے ڈرایا مگر وہ پھر بھی ایمان نہیں لائے۔
Ayahs 54:22–24

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے بھی ہدایت کرنے والوں کو جھٹلایا

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

اور کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اس کی پیروی کریں ؟ یوں ہو تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے

(22۔ 24) اور ہم نے قرآن کریم کو حفظ و قرات کے لیے آسان کردیا سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے کہ قوم ہود کے واقعہ سے نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے قوم ثمود نے بھی حضرت صالح اور دیگر پیغمبروں کی تکذیب کی اور کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کے دین اور اس کے حکم کی پیروی کریں گے جو ہمارے جیسا ہی آدمی ہو سو ایسی صورت میں تو ہم بڑی غلطی اور سختی و پریشانی میں پڑجائیں گے۔
Ayahs 54:25–26

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ جھوٹا خود پسند ہے

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

ان کو کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا خودپسند ہے

(25۔ 26) کیا ہم سب میں سے اسی شخص کو نبوت کے لیے منتخب کیا گیا ہے حالانکہ ہم اس سے زیادہ شریف اور بزرگ ہیں بلکہ یہ یعنی صالح معاز اللہ بڑا جھوٹا اور شیخی باز ہے یہ سن کر صالح نے فرمایا کہ قیامت کے دن تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون ہے۔
Ayah 54:27

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

(اے صالح !) ہم ان کی آزمائش کیلئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو تم ان کو دیکھتے رہو اور صبر کرو

چناچہ اللہ تعالیٰ نے صالح سے فرمایا کہ ہم پتھر میں سے اونٹنی کو نکالنے والے ہیں آپ اپنی قوم کی آزمائش کے لیے اونٹنی کے نکلنے کا انتظار کیجیے اور ان کی تکالیف پہنچانے اور اونٹنی کے قتل کرنے پر صبر سے بیٹھے رہنا۔
Ayahs 54:28–30

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور ان کو آگاہ کردو کہ ان میں پانی کی باری مقرر کردی گئی ہے ہر (باری والے کو اپنی) باری پر آنا چاہیے

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے اپنے رفیق کو بلا یا تو اس نے اونٹنی کو پکڑ کر اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

(دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہے

(28۔ 29) اور ان کو یہ بتا دینا کہ کنوئیں کا پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم کردیا گیا ہے کہ ایک دن تمہارے مویشی کا ہے اور ایک دن اونٹنی کا ہر کوئی اپنی باری پر حاضر ہوا کرے، چناچہ صالح نے ان کو اس چیز کی اطلاع کردی اور وہ اس پر راضی ہوگئے۔ کچھ عرصہ تک اس پر کار بند رہے پھر ان پر بدبختی کا غلبہ ہوا اور انہوں نے اس کے قتل کا ارادہ کیا اور مصدق بن دہر نے اونٹنی کے تیر مار دیا مصدع نے قدار بن سالف کو پکارا سو قدار نے اونٹنی کے دوہرا تیر مارا اور اس کو قتل کردیا اور اس کا گوشت آپس میں تقسیم کرلیا۔
Ayah 54:31

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر (عذاب کے لئے) ایک چیخ بھیجی تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ

سو محمد دیکھو کہ ان لوگوں پر میرا عذاب اور صالح کے ذریعے ان کو میرا ڈرانا کیسا ہوا مگر وہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائے۔ اونٹنی کے قتل کے تین دن بعد ہم نے ان پر جبریل امین کا ایک ہی نعرہ عذاب مسلط کیا تو وہ ایسے ہوگئے جیسا کہ بکری کسی چیز کو چبا کر اور روند کر چورا کردیتی ہے۔
Ayah 54:32

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے جو سوچے سمجھے ؟

اور ہم نے قرآن کریم کو نصیحت حاصل کرنے اور حفظ و قرات کے لیے آسان کیا سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے کہ قوم صالح کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس سے عبرت حاصل کر کے نافرمانیوں کو چھوڑ دے یا یہ مطلب ہے سو کیا کوئی طالب علم دین ہے کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔
Ayahs 54:33–35

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط کی قوم نے بھی ڈر سنانے والوں کو جھٹلایا تھا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر کنکر بھری ہوا چلائی مگر لوط کے گھر والے کہ ہم نے انکو پچھلی رات ہی سے بچا لیا

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

اپنے فضل سے شکر کرنے والے کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

(33۔ 35) قوم لوط نے بھی لوط اور پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان پر پتھر برسائے سوائے لوط کی دونوں صاحبزادیوں زاعورا اور زنتا اور مومنین کے اور ہم نے ان کو رات کے پچھلے پہر میں اپنی جانب سے فضل کر کے بچا لیا جو توحید خداوندی کا قائل ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرتا ہے ہم ظالموں سے نجات دے کر اس کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔
Ayah 54:36

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور لوط نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا بھی تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا

اور لوط نے ان کو ہمارے عذاب سے ڈرایا تھا سو انہوں نے رسولوں کا انکار کیا یعنی لوط جس چیز سے ان کو ڈرا رہے تھے اس کی انہوں نے تکذیب کی۔
Ayahs 54:37–39

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور ان سے ان کے مہمانوں کو لینا چاہا تو ہم نے انکی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل ہوا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

تو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو

(37۔ 39) اور ان لوگوں نے لوط کے مہمانوں کو یعنی جبریل امین اور جو دیگر ان کے ساتھ فرشتے تھے لوط سے ناپاک ارادے سے لینا چاہا۔ سو ہم نے ان کی آنکھوں کو چوپٹ کردیا یعنی جبریل امین نے اپنے پر سے ان کی آنکھیں اندھی کردیں اور ان سے کہا گیا کہ میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو اور پھر صبح سویرے ان پر ہمیشہ رہنے والا عذاب آپہنچا جو عذاب آخرت کے ساتھ متصل ہے۔ اور ان سے ارشاد ہوا کہ میرے عذاب اور میرے ڈرانے کا مزہ چکھو۔ کہ لوط نے ان کو ڈرایا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لائے۔
Ayah 54:40

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

اور ہم نے قرآن کریم کو حفظ کرنے اور قرات و کتابت کے لیے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے کہ قوم لوط کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس سے نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے۔