Ayah 54:11۔ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ :”اقتربت“ ”قرب یقرب“ (ک ، ع) میں سے باب افتعال کا ماضی معلوم ہے۔ حروف میں اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوتا ہے ، جیسے ”قدر“ اور ”اقتدر“ ہے ، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”قیامت بہت قریب آگئی ہے“۔ ویسے تو ہر آنے والی چیز قریب ہی ہے ، مگر قیامت کو بہت قریب اس لیے فرمایا کہ دنیا پر گزرے ہوئے وقت کے مقابلے میں باقی رہنے والا وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ اب اس کے فنا اور قیامت کے قیام کا وقت بہت ہی قریب ہے۔ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں ، آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ، بلکہ قیامت ہی آئے گی۔ سہل بن سعد ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :(بعثت انا والساعۃ کھاتین) (مسلم ، الفتن ، باب قرب الساعۃ : 2950۔ بخاری : 6503)”مجھے اور قیامت کو ان دو (انگلیوں) کی طرح بھیجا گیا ہے“۔
2۔ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ : یعنی چاند کا پھٹنا اس بات کی علامت ہے کہ قیامت ، جس کی تمہیں خبر دی جاتی رہی ہے ، بہت قریب آگئی ہے ، کیونکہ جب چاند جیسا عظیم کرہ پھٹ سکتا ہے تو زمین و آسمان ، سورج اور ستارے بھی پھٹ کر دوسری صورت اختیارکر سکتے ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا ِﷲِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ) (ابراہیم : 48)”جس دن یہ زمین اور زمین سے بدل دی جائے گی اور سب آسمان بھی اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے ، جو اکیلا ہے ، بڑا زبردست ہے“۔
3۔ قرآن مجید میں ماضی کے صغیے مستقبل کے معنی بھی آتے ہیں۔ مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ ان کا واقع ہونا یقینی ہے ، جیسا کہ فرمایا :(وَقَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللہ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ ط) (ابراہیم : 22)”اور شیطان کہے گا ، جب سارے کام کا فیصلہ کردیا جائے گا کہ بیشک اللہ نے تم سے وعدہ کیا ، سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی“۔ اس مقام پر بھی بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند پھٹ جائے گا ، مگر حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث دونوں سے ثابت ہے کہ یہاں ماضی کا معنی ہی مراد ہے اور آیت کا مطلب یہی ہے کہ چاند پھٹ گیا۔ ایک ہی آیت میں ایک فعل ماضی کا ترجمہ ماضی اور دوسرے فعل ماضی کا ترجمہ مستقبل کرنا ویسے ہی بےجوڑ لگتا ہے کہا جائے ”قیامت بہت قریب آگئی اور چاند پھٹ جائے گا“۔ پھر اگر مراد مستقبل میں چاند کا پھٹنا ہوتا تو الفاظ یہ ہونے چاہئیں تھے :”اتی الساعۃ وانشق القمر ‘ ‘ قیامت آگئی اور چاند پھٹ گیا“۔ پھر دونوں جگہ ماضی کا معنی مستقبل کرنا درست ہوتا۔ اس آیت سے بعد والی آیات سے بھی ظاہر ہے کہ یہ واقعہ ہوچکا ہے ، تفصیل آگے آئے گی۔
صحیح احادیث سے بھی چاند کا پھٹنا ثابت ہے اور یہ واقعہ اتنی کثیر سندوں کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ اکثر محدثین و مفسرین اسے متواتر قرار دیتے ہیں۔ ابن کثیر ؒ تعالیٰ نے فرمایا :”چاند پھٹنے کے واقعہ پر علماء کا اتفاق ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہوچکا ہے اور یہ آپ ﷺ کے حیران کن معجزات میں سے ایک تھا۔“ ابن کثیر نے اس مقام پر بہت سی احادیث نقل فرمائی ہیں ، یہاں چند احادیث نقل کی جاتی ہیں : 1۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں :(انشق القمر علی عھد رسول اللہ ﷺ فرقتین فرقۃ فوق الجبل و فرقۃ دونہٗ فقال رسول اللہ ﷺ اشھدوا) (بخاری ، التفسیر ، باب : وانشق القمر۔۔۔۔۔: 4864)”رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا ، ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا اور ایک ٹکڑا اس کی دوسری جانب۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :”گویا ہوجاؤ“۔ 2 ؎۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا :(انشق القمر فی زمان النبی ﷺ) (بخاری ، التفسیر ، باب : وانشق القمر۔۔۔۔ 4866) ”رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند پھٹ گیا“۔ 3 ؎۔ انس ؓ فرماتے ہیں :(سال اھل مکۃ ان یریھم آیۃ فاراھم انشقاق القمر) (بخاری ، التفسیر ، باب : (وانشق القمر۔۔۔: 4867)”اہل مکہ نے آپ ﷺ سے کوئی معجزہ دکھانے کا سوال کیا تو آپ ﷺ نے انہیں چاند کا پھٹنا دکھایا“۔ 4۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں :(انشق القمر بملکۃ حتی صار فرقین ، فقال کفار قریش اھل مکۃ ھذا سحر ، یسحرکم بہ ان ابی کبشۃ ، انظروا السفار ، فان کانوا راواما وایتم فقد صدق وان کانوا لم یروا مثل ما رایتم فھو سحر سحر کم بہ۔ قال فسئل السفار قال و قدموا من کل وجہ فقالوا رایناہ) (دلائل النبوۃ للبیھقی : 2، 266، 267، وسندہ صحیح)”مکہ میں چاند پھٹ گیا ، یہاں تک کہ دو ٹکڑے ہوگیا تو مکہ والے کفار قریش کہنے لگے :”یہ جادو ہے جو ابن ابی کبشہ نے تم پر کردیا ہے ، جو لوگ سفر میں گئے ہوئے ہیں ان کا انتظارکرو ، اگر انہوں نے وہ دیکھا ہے جو تم نے دیکھا ہے تو اس نے واقعی سچ کہا ہے اور اگر انہوں نے وہ نہیں دیکھا جو تم نے دیکھا ہے تو یہ جادو ہے جو اس نے تم پر کردیا ہے“۔ فرمایا : ”تو سفر سے آنے والوں سے پوچھا گیا جو ہر جانب سے آرہے تھے تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے اسے دیکھا ہے“۔ تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے اس پر لکھا ہے کہ ابن کثیر نے فرمایا :”اسے ابن جریر نے بھی روایت کیا ہے اور یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں :(فانزل اللہ عزوجل) (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ)”یعنی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں“۔
4۔ بعض واعظ حضرات بیان کرتے ہیں کہ چاند رسول اللہ ﷺ کی انگلی کے اشارے سے دو ٹکڑے ہوا ، انگلی کے اشارے کا کوئی ثبوت نہیں۔ اسی طرح بعض کا کہنا ہے کہ چاند کا ایک ٹکڑا آپ کے گریبان سے ہو کر نکل گیا ، بالکل ہی لغوبات ہے۔
5۔ انشقاق قمر پر کیے جانے والے شبہات اور اعتراضات کے متعلق مفسر عبد الرحمن کیلانی کا کلام بہت عمدہ ہے وہ یہاں نقل کیا جاتا ہے :”آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت اور انشقاق قمر کا باہمی تعلق یہ ہے کہ انشقاق قمر قرب قیامت کا ایک نشانی ہے جو واقع ہوچکی ہے ، لہنذا اسے بس اب قریب ہی سمجھو۔ جب کفار نے اپنی آنکھوں سے یہ معجزہ دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ یا تو چاند پر جادو کردیا گیا ہے یا ہماری نظروں پر جو ہمیں ایسا نظر آنے لگا ہے۔ اس حیرانی میں ایک شخص نے کہا کہ اگر ہماری نظر بند کردی گئی ہے تو آس پاس کے لوگوں سے پوچھ لو۔ چناچہ آس پاس کے لوگوں نے اس کی تصدیق کردی ، مگر یہ کافر اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے۔ اس آیت پر منکرین معجزات کئی طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔ پہلا اعتراض معنی کی تاویل سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں صیغہ ٔ ماضی کا معنی استقبال میں لیا جائے گا اور معنی یہ ہوگا کہ ”جب قیامت قریب آجائے گی اور چاند پھٹ جائے گا“۔ جیسا کہ ”اذا الشمس کورت“ اور اس جیسی دوسری آیات کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ تاویل اور دلیل اس لیے غلط ہے کہ جہاں قیامت کے حوادث کا ذکر آیا ہے ، مثلاً آسمان پھٹ جائے گا ، ستارے بےنور ہوجائیں گے اور جھڑنے لگیں گے ، زمین پر سخت زلزلے آئیں گے ، پہاڑ اڑتے پھیریں گے وغیرہ ، وہاں ان باتوں کو کفار کے سحر کہنے کا کوئی تعلق نہیں اور نہ قرآن میں ایسی آیات کے ساتھ سحر کا ذکر آیا ہے۔ کافروں کا چاند کے پھٹنے کو جادو کہنا اور اس پر کفار کی تکرار ہی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ ایک حسی معجزہ تھا جو وقوع پذیر ہوچکا ہے۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ فی الواقع ظہور میں آچکا ہے تو لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو اس علم ہونا چاہیے تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ رات کا ہے ، دن کا نہیں ، جب اکثر لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ پھر اس وقت آدھی دنیا میں تو ویسے ہی سورج نکلا ہوا تھا جہاں یہ واقعہ نظر نہیں آسکتا تھا اور باقی آدھی دنیا میں بھی صرف ان مقامات پر نظر آسکتا تھا جو منیٰ کے مشرق میں واقع تھے۔ پھر اس واقعہ کا کوئی اعلان بھی نہیں ہوا تھا ، جیسے آج کل جنتریوں اور اخباروں سے معلوم ہوجاتا ہے ، یا ر صدگاہوں کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے ، لہٰذا لوگ کوئی اس بات کے منتظر بھی نہیں بیٹھے تھے کہ چاند پھٹے تو ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ چاند گرہن کئی گھنٹوں تک لگا رہتا ہے، لوگوں کو پہلے خبر بھی دی جا چکی ہوتی ہے لیکن لوگوں کی اکثریت چاند گرہن لگنے سے غافل ہوتی ہے اور یہ انشقاق قمر تو صرف ایک لمحہ کے لیے واقع ہوا تھا ، اسے کون دیکھتا ؟ اور آس پاس کے لوگوں نے شہادت دے ہی دی تھی۔
تیسرا اعتراض یہ ہے کہ ایسے اہم واقعہ کا تاریخ میں بھی ذکر ہونا چاہیے تھا۔ اس اعتراض کے کئی جواب ہیں ، پہلا یہ کہ سب سے زیادہ مستند تاریخ حدیث کی کتابوں سے ہی دستیاب ہوسکتی ہے اور ان میں یہ واقعہ موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ اس دور میں جیسی اور جتنی توجہ تاریخ نویسی پر دی جاتی تھی وہ سب کو معلوم ہے۔ تیسرا یہ کہ جب دنیا کے لوگوں کی اکثریت اور ایسے ہی تاریخ نویسوں نے اسے دیکھا ہی نہ ہو تو لکھیں کیا ؟ اور چوتھا یہ کہ تاریخ بھی اس واقعہ کے اندراج سے یکسر خالی نہیں۔ تاریخ فرشتہ میں مذکور ہے مالی بدر کے مہاراجہ نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور بالآخر یہ واقعہ اس کے اسلام لانے کا سبب بنا تھا۔
چوتھا اعتراض یہ ہے کہ ہیئت دانوں اور منجمین نے بھی اس واقعہ کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر چاند پھٹنے سے اس کی رفتار میں فرق آتا یا وہ اپنا مدار بدل لیتا یا مدار سے ہٹ کر چلنے لگتا تو یہ باتیں اس قابل تھیں کہ ہیئت دان اس کا ذکر کرتے ، لیکن جب ان میں سے کوئی چیز بھی واقع نہ ہوئی تو وہ کیا ذکر کریں ؟
اور پانچواں اعتراض یہ ہے کہ یہ واقعہ خرق عادت ہے اور ان کا دراصل سب سے اہم یہ اعتراض ہے جو انہیں تسلیم کرنے سے روکتا ہے اور وہ ادھر ادھر ہاتھ مارتے اور مختلف قسم کے اعتراض اور شکوک پیدا کرتے ہیں اور حقیقتاً ان کا یہ انکار اللہ کی قدرت کا ملہ کا انکار ہے۔ بہ حال یہ بات بھی آج بعید از عقل نہیں رہی۔ ہر سیارے کے پیٹ میں آتشیں مادے یا پگھلتی اور کھولتی ہوئی دھاتیں موجود ہیں جن کا درجہ حرارت ہزارہا درجہ سنٹی گریڈ ہوتا ہے۔ یہ مہیب لاوے ان عظیم الجثہ کروں کو کسی وقت بھی دولخت کرسکتے ہیں۔ پھر ان کی مرکزی مقناطیسی قوت ، جیسے آج کی زبان میں قوت ِ ثقل کہتے ہیں وہ ان جدا شدہ ٹکڑوں کو ملا کر جوڑ بھی دیتی ہے اور ایسا عمل فضائے بسیط میں ہوتا رہتا ہے۔ یہ کہکشائیں اسی طرح وجود میں آئی ہیں اور آج بھی یہ عمل بند نہیں ہوا بلکہ بدستور جاری ہے۔ علاوہ ازیں شہاب ِ ثاقب کسی سیارے کے اس طرح جدا شدہ ٹکڑے کا نام ہے جو کبھی علیحدہ ہو کر پھر جڑ جاتا ہے ، کبھی فضاء میں ہی گرکر گم ہوجاتا ہے اور کبھی کبھار زمین پر بھی آگرتا ہے۔ فضائے بسیط میں جو کچھ ہو رہا ہے اگر انسان کو اس کا صحیح طور پر علم ہوجائے تو وہ انشقاق قمر کے واقعہ پر کبھی تعجب نہ کرے۔ انسان کو کیا معلوم کہ اللہ کی قدرتوں کا دائرہ کتنا وسیع ہے اور وہ کس قدر حکمت بالغہ سے اس نظام ِ کائنات کو چلا رہا ہے۔“ (تیسیر القرآن)
6۔ ایک اہم سوال یہاں یہ ہے کہ کفارِ مکہ جب اپنے سوال کے جواب میں اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر ایمان نہیں لائے تو ان پر پہلی قوموں کی طرح عذاب آجانا چاہیے تھا جو نبیوں کے معجزے دیکھ کر ایمان نہیں لائی تھیں۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ پہلی امتوں کو دکھائے جانے والے معجزات ان کے ایمان لانے کی شرط کے ساتھ مشروط مطالبے پر دکھائے گئے تھے ، جبکہ ہماری امت میں ایمان لانے کی شرط کے ساتھ بطور ِ عناد جس معجزے کا بھی مطالبہ کیا گیا ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا گیا ، بلکہ یہی کہنے کا حکم ہوا :(قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ہَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) (بنی اسرائیل : 93) ”تو کہہ میرا رب پاک ہے ، میں تو ایک بشر کے سوا کچھ نہیں جو رسول ہے“۔ مزید دیکھئے سورة ٔ بنی اسرائیل (90 تا 93) کی تفسیر۔ اس مقصد کے لیے آپ کو ایک ہی معجزہ پیش کرنے کا حکم تھا اور وہ ہے قرآن مجید کی ہمت ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا کرلے آؤ۔ اور یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس معجزے پر یا کسی بھی معجزے پر ایمان نہ لانے والوں پر عذاب استیصال یعنی ایسا عذاب نہیں آیا اور نہ آئے گا جو ان کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ عنکبوت (50، 51) کی تفسیر۔ البتہ اس شرط کے بغیر لوگوں کی درخواست پر بہت سے معجزے صادر ہوئے ہیں ، مثلا ً سورة ٔ بنی اسرائیل (90 تا 93) میں جن معجزوں کا کفار نے بطور شرط مطالبہ کیا اور ان کا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا ، ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ جاری کردیں ، لیکن ایسی شرط کے بغیر یہ معجزہ متعدد بار واقع ہوا ہے ، جن میں سے آپ ﷺ کی انگلیوں سے پانی جاری ہونے اور حدیبیہ کے موق پر کنویں میں تیر ڈالنے سے پانی جاری ہونے کے واقعات جو سب جانتے ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا :(انکم تعدون الایات عذابا وانا کنا نعدھا علی عھد رسول اللہ ﷺ برکۃ لقد کنا تا کل الطعام مع النبی ﷺ ونحن نسمع تسبیح الطعام قال واتی النبی ﷺ یاناء فوضع یدہ فیہ فجعل الماء ینبع من بین اصابعہ فقال النبی ﷺ حتی علی الوصوہ المبارک والبرکۃ من السماء حتی توضانا کلنا) (ترمذی ، المناقب ، باب فی قول علی فی استقبال کلی حبل و شعر النبی ﷺ بالتسلیم : 3633، وقال حسن صحیح ، وقال الالبانی صحیح)”تم نشانیوں کو عذاب شمار کرتے ہو جبکہ ہم انہیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں برکت شما ر کرتے تھے ، چناچہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کی تسبیح سن رہے ہوتے تھے۔“ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا :’ ’ اور نبی ﷺ کے پاس ایک برتن لایا گیا ، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس میں رکھا تو پانی آپ ﷺ کی انگلیوں سے پھوٹنے لگا ، تو نبی ﷺ نے فرمایا :”اس با برکت وضو کے پانی پر آجاؤ اور برکت آسمان سے ہے۔“ یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کرلیا۔“ انشقاق قمر کا معجزہ بیشک اہل مکہ کے اس سوال کے جواب میں صادر ہوا کہ میں کوئی نشانی دکھائیں ، مگر یہ ان کے اس مطالبے کے جواب میں نہیں ہوا کہ آپ ہمیں چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھائیں (جن روایتوں میں یہ بات ذکر ہوئی ہے وہ سب ضعیف ہیں) بلکہ انہیں ایک نشانی کے طور پر دکھا گیا جیسے انہوں نے جادو کہہ کر ماننے سے انکار کردیا ، فرمایا (وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ) (القمر : 2) ”اور اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (یہ) ایک جادو ہے جو گزر جانے والا ہے“۔
دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ اس امت میں بھی معجزات دیکھ کر ایمان نہ لانے والوں پر عذاب آیا ، مگر اس کا طریقہ تبدیل کردیا گیا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اب ایسے لوگوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب دینے کا فیصلہ فرمایا اور فی الواقع ایسے تمام منکروں کو بدر اور دوسرے مقامات پر ذلت آمیز عذاب سے دو چار ہونا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(قَاتِلُوْہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللہ ُ بِاَیْدِیْکُمْ وَیُخْزِہِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْہِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَیُذْہِبْ غَیْظَ قُلُوْبِھِمْط وَیَتُوْبُ اللہ ُ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُط وَ اللہ ُ عَلِیْمٌ حَکَیْمٌ) التوبۃ : 14۔ 15)”ان سے لڑو ، اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انہیں رسوال کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔ اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا ، کمال حکمت والا ہے“۔
Ayah 54:2وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا۔۔۔”مر“ اور ”استمر“ گزرنا۔ ”مستمر“ گزر جانے والا۔ یعنی کفار کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ایمان لانے کے بجائے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک جادو ہے ، جس طرح اور جادوگر گزر گئے ہیں یہ بھی گزر جانے والا ہے ، یہ چاند بھی ہمیشہ پھٹا ہوا نہیں رہے گا ، چناچہ انہوں نے چاند پھٹنے کے عظیم الشان واقعہ کو بھی رسول اللہ ﷺ کا جادو قرا ر دے کر ایمان لانے سے اعراض اختیار کیا۔
Ayah 54:3وَکَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْٓا اَھْوَآئَ ھُمْ :”اھوائ“”ھویٰ“ کی جمع ہے، خواہشات۔ یعنی کفار کے رسول اللہ ﷺ کو اور آپ کے معجزات کو جھٹلانے کا باعث کوئی معقول بات نہ تھی ، بلکہ صرف اپنی خواہشا ت کی پیروی تھی۔ لفظ ”ھوی“ (خواہش) اسم جنس ہے جو واحد پر صادق آتا ہے اور جمع پر بھی ، مگر یہاں ”اھوا“ (جمع) اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ کفار کے رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے کا باعث ان کی ایک خواہش نہ تھی بلکہ بہت سی خواہشیں تھیں جو انہیں آپ کے تابع فرمان ہونے سے روکتی تھیں ، مثلاً سرداری کی خواہش ، حسد ، آباء کی پیروی کی خواہش ، اپنے داتاؤں پر جمے رہنے کی خواہش ، شتر بےمہار رہنے اور کسی کے تابع فرمان نہ ہونے کی خواہش وغیرہ۔
2۔ وَکُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ :”قریقر“ (ض) قرار پکڑنا۔ ”استقر“ میں مبالغہ ہے ، یعنی جس طرح ہر چلنے والا آخر کار کہیں نہ کہیں جا کر ٹھہر جاتا ہے اور ہر کام کا ، خواہ وہ اچھا ہو یا برا ، کوئی نہ کوئی انجام ہوتا ہے ، اسی طرح یہ مت سمجھو کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حق کی طرف بلاتے رہیں گے اور تم انہیں جھٹلاتے رہو گے اور آپ کا حق پر ہونا اور تمہارا باطل پر ہونا کبھی ثابت نہیں ہوگا ، بلکہ ایک وقت آئے گا جب ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی اور ثابت ہوجائے گا کہ آپ ﷺ اللہ کے سچے رسول تھے اور آپ ﷺ کو جھٹلانا اور جادوگر قرار دینا غلط تھا۔ مزید دیکھئے سورة ٔ انعام کی آیت (67) (لکل نبا مستقر و سوف تعلمون) کی تفسیر۔
Ayah 54:4وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ مِّنَ اْلاَ نْبَآئِ۔۔۔:”نبائ“ کسی اہم خبر کو کہتے ہیں ، ”الانبائ“ اس کی جمع ہے۔ ”مزدجر“”زجر یز جز زجرا“ (ن) روکنا ، منع کرنا ، ڈانٹنا) سے بات افتعال کا مصدر میمی ہے ، جس کا معنی ”باز آنا“ ہے۔ کہا جاتا ہے :”زجرتہ فازدجر“ میں نے اسے منع کیا تو وہ باز آگیا۔“ یہ اصل میں ”مزتجر“ (بروزن مفتعل) تھا ، ”زائ“ کی وجہ سے باب افتعال کی ”تائ“ کو دال سے بدل دیا تو ’ ’ مزدجر“ ہوگیا۔ تنوین اس میں تعظیم کے لیے ہے۔ یعنی قرآن کی صورت میں ان کے پاس رسولوں کو جھٹلانے والی اقوام کی خبروں میں سے ایسی اہم خبریں یقینا پہنچی ہیں جن میں آدمی کے لیے ہوائے نفس کی پیرو ی اور رسولوں کی تکذیب سے باز آنے کا مکمل سامان موجود ہے۔ اگلی آیات میں ان میں سے چند خبروں کا ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 54:5حِکْمَۃٌ بَالِغَۃٌ فَمَاتُغْنِ النُّذُرُ۔”بالغۃ“ کا لفظی معنی پہنچنے والی ہے ، مراد انتہاء اور کمال کو پہنچی ہوئی حکمت ہے۔”النذر“ ”نذیر“ کی جمع ہے ، ڈرانے والی چیزیں۔ ”نذیر“ مصدر بھی ہوسکتا ہے ، جس طرح ”نکیر“ ہے یعنی تنبیہات ، ڈراوے۔”حکمۃ“ پچھلی آیت میں مذکور ”مافیہ مزدجر“ سے بدل ہے۔ یعنی پچھلی امتوں کے واقعات میں سے وہ واقعات جن میں کفر و تکذیب سے باز آنے کا سامان موجود ہے ، کامل حکمت اور دانائی کی باتیں ہیں ، مگر یہ ڈرانے اور خبردار کرنے والی چیزیں نہ ماننے والوں کو کچھ فائدہ نہیں دیتیں۔ دیکھیئے۔ سورة ٔ یونس (101)
Ayah 54:6فَتَوَلَّ عَنْہُمْ : یعنی جب ان لوگوں کو کسی تنبیہ یا ڈرانے کا کچھ فائدہ ہی نہیں ہوتا تو آپ بھی ان سے منہ پھیر لیں اور انہیں ان کے حال پر رہنے دیں۔ آپ کے ذمے پہنچانا تھا ، وہ آپ نے پہنچا دیا۔
2۔ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْئٍ نُّکُرٍ :”یوم“ منصوب بنزع الخافض ہے ، یعنی اس سے پہلے حرف جار ”الی“ ہے جسے حذف کرنے کی وجہ سے یہ منصوب ہے (بغوی) آلوسی نے کہا : ”ھذاقول الحسن“ کہ یہ حسن کا قول ہے یعنی ”فتول عنھم الی یوم یدع الداع فی الا شی نکر“ ”سو ان سے منہ پھیر لے ، اس دن تک جس میں پکارنے ولا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا“۔ یا ”یوم“ فعل محذوف ”انظر“ کے ساتھ منصوب ہے ، یعنی ”ان سے منہ پھیر لے اور اس دن کا انتظار کر جب۔۔۔۔“ پکارنے والے سے مراد اسرافیل ؑ ہیں ، جن کے نفحہ سے تمام لوگ قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ ”یدع“ اصل میں ”یدعو“ ہے ، واؤ چونکہ یہاں پڑھنے میں نہیں آتی اس لیے مصحف عثمان میں لکھی نہیں گئی :”الداع“ اصل میں ”الداعی“ ہے ، ”یائ“ تخفیف کے لیے حذف کی گئی ہے اور ”شیء نکر ‘ ‘ سے مراد حساب کتاب ہے۔”نکر“ بمعنی ”منکر“ ہے ، ناگوار ، اجنبی ، اونکھی چیز جو کبھی دیکھی نہ ہوگی۔
Ayah 54:7خُشَّعًا اَبْصَارُہُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ۔۔۔”خشعا“ ”خاشع“ کی جمع ہے ، جیسے ”راکع“ کی جمع ”رکع“ ہے۔ یعنی ذلت کی وجہ سے ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔ (دیکھئے شوریٰ : 45)”الاجداث“ جدث ، (دال کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے۔ قبرر ”جراد“ اسلم جمع ہے، اس کا واحد ”جرادۃ“ ہے ، ٹڈیاں جو بیشمار تعداد میں زمین سے نکلتی ہیں اور ہر طرف پھیل جاتی ہیں۔ ”منتشر“ پھیلی ہوئی۔ قبروں سے نکلنے والوں کی حالت کو یہاں پھیلی ہوئی ٹڈیوں کے ساتھ اور سورة ٔ قارعہ میں ”گا لفراش المبثوت ‘ ‘ بکھرے ہوئے پروانوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ دونوں ہی جب نکلتے ہیں تو بیشمار تعداد میں ایک دو سے کے گرد اڑتے ، گھومتے اور آپس میں ٹکراتے ہوئے تیزی سے بڑھتے چلے جاتے ہیں ، پروانے آگ کی طرف اور ٹڈیاں اس طرح جدھر ان کا رخ ہوجائے۔ اس طرح قبروں سے نکلنے والے تیزی کے ساتھ صور کی آواز کی طرف بیشمار پھیلی ہوئی ٹڈیوں کی طرح گرتے پڑتے ، چکر کھاتے ، ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے بےاختیار دوڑتے چلے جا رہے ہوں گے۔
Ayah 54:8مُّہْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ ط۔۔۔۔”اھطع یھطع“ (افعال) کسی چیز کی طرف ٹکٹکی باندھے یا گردن اٹھائے ہوئے تیزی سے دوڑنا (دیکھئے ابراہیم : 43) ”عسر“ ”عسر“ سے صفر مشبہ ہے ، بہت مشکل۔
2۔ مفسر ابن عاشور نے فرمایا :”یوم یدع الداع“ سے ”یوم عسر“ تک اس دن کی ہولناکی سات طرح سے ظاہر ہو رہی ہے 1۔ یدع الداع اسرافیل ؑ کا بلانا ہی اتنا ہولناک ہے جو بیان میں نہیں آسکتا۔ 2۔ ”الی شئی“ میں ”شئی“ پر تنوین تنکیر سے پیدا ہونے والی تعظیم اور ابہام اس ہول میں اضافہ کر رہے ہیں۔ 3۔ ”نکر“ 4”خشعاً ابصارھم“۔ 5۔ ”جراد منتشر“ کے ساتھ تشبیہ۔ 6۔ ”مھطعین الی الداع“۔ 7۔ اور ان کا کہنا ”ھذا یوم عسر“ کہ یہ بڑا مشکل دن ہے“۔
Ayah 54:91۔ کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ۔۔۔: اس سے پہلے جو فرمایا تھا (ولقد جاء ھم من الانباء ما فیہ مزدجر) تو یہاں سے ان واقعات کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ ان واقعات میں جھٹلانے والوں کے لیے عبرتیں ہیں جنہیں دیکھ کر اور سن کر وہ تکذیب سے باز آسکتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے لیے تسلی اور حوصلے کا سامان ہے۔ یعنی ان اہل مکہ سے پہلے نوح ؑ کی قوم نے انہیں جھٹلایا۔
2۔ وقالوا مجنون :”مجنون“ جسے جنون ہو ، پاگل ، دیوانہ۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ مومنون (25) کی تفسیر۔
3۔ واذد جر : یہ ”زجر“ (جھڑکنا) سے باب افتعال کا ماضی مجہول ہے ، اصل میں ”ازتجر“ تھا ، جس میں تائے افتعال مبالغہ کے لیے ہے ، یعنی اسے سخت جھڑکا گیا۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ نوح ؑ کو سخت جھڑکا گیا ، سب و شتم کی بوچھاڑ کی گئی ، ان کا مذاق اڑایا گیا اور انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ (دیکھیئے اعراف : 66۔ ہود : 38۔ شعرائ : 116) دوسرا مطلب یہ ہے کہ نوح ؑ کی قوم نے کہا کہ یہ مجنون ہے اور اسے ہمارے معبودوں کی جھڑک پڑی ہوئی ہے ، جس سے اس کی عقل ٹھکانے نہیں رہی ، جیسا کہ ہود ؑ کی قوم نے کہا تھا :(ان نقول الا اعترک بعض الھتنابسو) (ھود : 54)”ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے“۔
Ayah 54:10فَدَعَا رَبَّـہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ : نوح ؑ نے یہ دعا اس وقت کی جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اطلاع دی کہ اب تیری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ مزید دیکھئے سورة ٔ نوح (26، 27) کی تفسیر۔”انتصر ینتصر“ انتام لینا۔
Ayah 54:11فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَآئِ بِمَآئٍ مُّنْھَمِرٍ :”منھمر“ ”انھمر ینھمر“ (انفعال) سے اسم فاعل ہے ، شدت اور کثرت کے ساتھ گرنے والا پانی۔
Ayah 54:121۔ وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا : یعنی ہم نے زمین کو پانی کے ساتھ اس طرح پھاڑا کہ وہ ساری کی ساری چشمے بن گئی۔
2۔ فَالْتَقَی الْمَآئُ عَلٰٓی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ : یعنی زمین اور آسمان کا پانی مل کر ایک ہوگیا ، اس کام کے لیے جو طے کردیا گیا تھا۔ مراد قوم نوح کی ہلاکت ہے۔
Ayah 54:13وَ حَمَلْنٰـہُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ :”الواح“ ”لوح“ کی جمع ہے ، لکڑ ی وغیرہ کے تختے۔ ’ دسر“ ”’ سار“ کی جمع ہے ، جیسے ”کتاب“ کی جمع ”کتب“ ہے۔ کیل یا میخیں خواہ لکڑی کی ہوں یا لوہے وغیرہ کی ، جن کے ساتھ تختے جوڑے جاتے ہیں۔ مراد کشتی ہے جو نوح ؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق طوفان آنے سے پہلے تیار کرلی تھی۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ہود (37 تا 41) کی تفسیر۔
Ayah 54:141۔ تجری باعینا : جب آسمان کے دروازے پانی کے ساتھ کھلنے اور زمین کے چشموں کے ساتھ پھٹ جانے سے زمین و آسمان کا پانی ایک ہوگیا تو اس پانی کی بلندی کا اندازہ کون کرسکتا ہے۔ اس کشتی میں بیٹھے ہوئے نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو کچھ معلوم نہیں کہ کدھر جانا ہے اور اسے موجوں سے کس طرح بچانا ہے ، نہ کشتی پر یا پانی پر ان کا کوئی اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس وقت وہ کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی ، اس کے نگران و محافظ ہم تھے ، پھر اسے کوئی گزند کیسے پہنچ سکتا تھا۔
2۔ جَزَآئً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ : اس کے دو مطلب ہیں ، ایک یہ کہ سب کچھ اس شخص کا بدلہ لینے کی خاطر کیا گیا جس کا انکار کیا گیا اور اسے نبی تسلیم کیا گیا : ”کفر“ کا دوسرا معنی ناشکری اور نا قدر شناسی ہے ، یعنی نوح ؑ اس قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت تھے اور انہوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ یعنی اس شخص کا انتقام لینے کی خاطر جو ایک عظیم نعمت تھا مگر اس کی قدر نہیں پہنچانی گئی۔
Ayah 54:15وَلَقَدْ تَّرَکْنٰـھَآ اٰیَۃً : اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ ہود (44) اور سورة ٔ عنکبوت (15) کی تفسیر۔
2۔ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ :”مذکر“ ”ذکر یذکر“ میں سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے ، جو اصل میں ”مذتکر“ ہے، تائے افتعال کو دال سے بدل دیا گیا ، اسی طرح ذال کو بھی دال سے بدل کر اس میں ادغام کردیا گیا ، جیسا کہ سورة ٔ یوسف میں گزار ہے (وَقَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْہُمَا وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ) (یوسف : 45)”اور ان دونوں میں سے جو رہا ہوا تھا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا ، اس نے کہا“۔
Ayah 54:16۔ فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ :”نذر“ فراء نے فرمایا :”انداز“ اور ”نذر“ مصدر ہیں۔ (فتح القدیر) یہاں ”نذر“ اصل میں ”نذری“ (میرا ڈرانا) تھا ، آیات کے فواصل کی مطابقت کے لیے ”یائ“ خذف ہوگئی ، اس کی دلیل کے طور پر ”رائ“ پر کسرہ باقی رہا۔
Ayah 54:17وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ۔۔۔۔۔ یعنی ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے ، اس کے الفاظ آسان ہیں ، معنی بھی آسان ہے ، نہ پڑھنے میں دقت ہے نہ سمجھنے میں ، تو کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے اور نافرمانی سے باز آجائے ؟ اس میں قرآن مجید پڑھنے ، پڑھانے ، سمجھنے ، سمجھانے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے کی ترغیب ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں میں بہت سے لوگ وہ ہیں جن کا کہنا ہے کہ قرآن و حدیث کو سمجھنا ہر شخص کا کام نہیں ، یہ بڑے بڑے عالم و فاضل لوگوں کا کام ہے ، جو چودہ یا اکیس علوم پڑھے ہوئے ہوں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ساری عمر متعدد مشکل سے مشکل علوم و فنون پڑھتے رہتے ہیں ، مگر قرآن کے قریب نہیں جاتے ، اپنے چودہ یا اکیس علوم پورے کرتے کرتے ہی دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ کئی تو ایسے ظالم ہیں ، جو کہتے ہیں کہ عالم آدمی کے لیے قرآن کا ترجمہ پڑھنا ممنوع ہے، کیونکہ اس سے گمراہی کا خطرہ ہے۔ حالانکہ قرآن مجید عربی مبین میں اترا اور لوگوں کی ہدایت کے لیے اترا ، ہر عام و خاص اور عالم و جاہل عرب نے اسے سنا ، سمجھا، اس پر عمل کیا اور آگے پہنچایا۔ ہماری زبان اردو میں قرآن مجید کے تقریباًستر (70) فیصد الفاظ موجود ہیں ، تھوڑی سی توجہ کے ساتھ ہر آدمی قرآن کا ترجمہ سمجھ سکتا ہے۔ مگر جن لوگوں نے قرآن و حدیث کے مقابلے میں نیا دین بنا لیا اور توحید کے مقابلے میں شرک اور سنت کے مقابلے میں بدعت کو اختیار کرلیا ہے ، ان کی پوری کوشش ہے کہ لوگ اس قرآن مجید اور حدی سے آگاہ نہ ہوجائیں ، ورنہ وہ ان کے نیچے سے نکل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور مسلمانوں کو قرآن و سنت کی طرف پلٹنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
2۔ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسان کیے جانے کا ایک کرشمہ اور معجزہ یہ ہے کہ یہ سہولت کے ساتھ حفظ ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کوئی کتاب نہیں جس کے ہزاروں لاکھوں حافظ ہر زمانے میں پائے گئے ہوں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا غیبی تصرف ہے کہ اس نے اپنی کتاب کی حاظت کے لیے مسلمانوں کے دلوں میں اس کے حفظ کا شوق رکھ دیا ہے ، گناہ گار سے گناہ گار مسلمانوں کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ قرآن کا حافظ ہے۔ کمیونسٹوں نے اپنے زیر تسلط ملکوں میں قرآن کو مٹانے کی کوشش جتنی کرسکتے تھے کی ، مگر مسلمانوں نے اپنے گھروں کی تہہ خانوں میں کمیونسٹ جاسوسوں سے چھپ کر حفظ قرآن کا سلسلہ جاری رکھا ، جس کی برکت یہ ہوئی کہ کمیونسٹ قرآن کو مٹانے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ اس وقت بھی دنیا میں قرآن کے حافظ لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ (والحمد للہ) مزید دیکھئے سورة ٔ عنکبوت (49) کی تفسیر۔
Ayahs 54:18–19۔ کَذَّبَتْ عَادٌ فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔۔۔: ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ‘ حم السجدہ (15، 16) کی تفسیر۔
Ayahs 54:20–21تَنْزِعُ النَّاسَ کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ :”نزع یتنزع نزعا“ (ع) ”الشی من مکانہ“ کی چیز کو اس کی جگہ سے اکھاڑ پھینکنا۔”منقعر“ ”قعر“ (گہرائی) سے ہے ، اکھڑا ہوا۔ مزید دیکھئے سورة ٔ طاقہ (7) کی تفسیر۔
Ayahs 54:22–231۔ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ۔۔۔: صاح ؑ کی قوم ثمود نے اپنے رسول کو نہ ماننے کی تین وجہیں بیان کیں ، ایک یہ کہ یہ بشر ہے (دیکھئے بنی اسرائیل : 94) دوسری یہ کہ بشر بھی ہم جیسا عام بشر ، کوئی سردار یا سرمایہ دار نہیں (دیکھئے ص 8) اور تیسری یہ ہے کہ یہ اکیلا آدمی ہے ، اس کے ساتھ کوئی جتھا یا پارٹی نہیں ہے۔
2۔ انا اذا الفی ضلل و سحر : ”سعر“ جنون ، دیوانگی۔”ضلل“ اور ”سحر“ پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی گمراہی اور بڑی دیوانگی“ کیا گیا ہے۔
Ayahs 54:24–26۔ ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْم بَیْنِنَا۔۔۔: اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ ص (8) کی تفسیر۔
2۔ بَلْ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ :”اشر“ اشر یاشر ”اشرا“ (ض) سے اسم فاعل ہے ، متکبر، اکڑنے والا۔
Ayah 54:27اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَۃِ فِتْنَۃً لَّھُمْ۔۔۔۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ ہود (64) اور سورة ٔ شعراء (155) کی تفسیر۔ ”فازتقبھم“”رقب یرقب“ (ن) سے باب افتعال ہے۔ ”واصطبر“ ”صبر یصبر صبرا“ (ض) سے بال افتعال ہے ، ”تائ“ کو ”طائ“ سے بدل دیا۔ حروف کے اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ہے ، ان کا حوصلے سے انتظار کرو اور اچھی طرح صبر کر۔ یعنی اس آزمائش میں یہ لوگ کیا طرز عمل اختیار کرتے ہیں حوصلے کے ساتھ اس کا انتاظر کر اور بہت اچھے طریقے سے صبر کر۔ آزمائش اس لیے تھی کہ ان کا امتحان مقصود تھا کہ اس نشانی کو دیکھ کر وہ پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں یا اسے نقصان پہنچا کر عذاب کے مستحق بنتے ہیں۔
Ayah 54:28وَ نَـبِّـئْھُمْ اَنَّ الْمَآئَ قِسْمَۃٌم بَیْنَہُمْ۔۔۔۔ اس کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ شعرائ (155) کی تفسیر۔
Ayahs 54:29–30”فتاطعی“ ”عطا یطعو عطوا“ (ن) ”الشی“ کسی چیز کو پکڑنا۔ ”تعاطی الشی“ کسی چیز کو پکڑنا اور ”تغاطی الامر“ کسی کام کا ذمہ اٹھانا۔ ایک مدت تک یہ ایک دن کی باری کا سلسلہ جاری رہا۔ صالح ؑ نے انہیں تنبیہ کی تھی کہ اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچانا ، ورنہ تم پر عذاب آجائے گا۔ ایمان نہ لانے کے باوجود دل سے وہ انہیں سچا جانتے تھے ، اس لیے وہ اونٹنی کو نقصان پہنچانے سے خالف تھے ، لیکن آخر کار صبر نہ کرسکے اور انہوں نے اس کا قصہ تمام کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے ایک سردار کو ابھارا جسے اللہ تعالیٰ نے اس قوم کا سب سے شقی آدمی قرار دیا ہے ، فرمایا (اِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰـہَا) (الشمس : 21)”جب اس کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا“۔ چناچہ سب نے مل کر اسے مدد کے لیے پکارا تو بڑا بہادر اور جری ہے۔ اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ مزید دیکھئے سورة ٔ شمس (11، 12) کی تفسیر۔ ”فتعاطی“ کا مفعول محذوف ہے : ”ای تعاطی السیف“ (اس نے تلوار پکڑی) ”او تعاطی الامر“ (یا اس نے اس کام کا ذمہ اٹھایا)۔
Ayahs 54:31–33اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً : اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ اعراف (78) کی تفسیر۔
2۔ فَـکَانُوْا کَہَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ : ”ھشم یھشم ھشما“ (ض)”الشئی“ کسی چیز کو توڑ کر اور کچل کر ریزہ ریزہ کردینا۔ ”ھشیم“ روندی ، کچلی ہوئی۔”حظیرہ“ باڑ کو کہتے ہیں جو جانوروں کے ارد گرد ٹہنیوں وغیرہ کے ساتھ بنائی جاتی ہے۔ اور ”المحتظر“ باڑ بنانے والا۔ باڑ کے پتے اور ٹہنیاں جو خشک ہو کر ٹوٹتی اور نیچے گرتی ہیں اور جانوروں کے پاؤں کے نیچے آکر کچلی اور روندی جاتی ہیں اور ورا بن جاتی ہیں انہیں ”ھشیم“ کہا جاتا ہے۔ قوم ثمود کا عذاب کے ساتھ جو حال ہوا اسے ان پتوں اور ٹہنیوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو باڑ سے گر کر جانوروں کے پاؤں میں آکر چو را بن جاتے ہیں۔
Ayah 54:34اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا : قوم لوط کی بستیاں الٹانے کے بعد ان پر پتھروں کی جو بارش ہوئی وہ مراد ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ہود (83)۔
2۔ ئاِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ ط۔ لوط ؑ پر ان کی قوم میں سے ایک آدمی بھی ایمان نہیں لایا ، حتیٰ کہ ان کی بیوی بھی کافر ہی رہی۔ (دیکھئے ذاریات : 36۔ ہود : 81) اس لیے یہاں ”آل لوط“ سے مراد صرف ان کی اولاد ہے ، جن کے ساتھ وہ خود بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کافر کو پیغمبر کی آل اور اہل تسلیم نہیں کیا خواہ بیوی ہو ، جیسے لوط ؑ کی بیوی ، یا بیٹا ہو ، جیسے نوح ؑ کا بیٹا ، اس کے بارے میں فرمایا :(اِنَّـہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِک َج) (ھود : 46)”بیشک وہ تیرے گھر والوں سے نہیں“۔
3۔ نَجَّیْنٰـہُمْ بِسَحَرٍ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ ہود (81) کی تفسیر۔
Ayah 54:35نِّعْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا ط۔۔۔۔: اس میں اپنی نعمت کی عظمت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ لوط ؑ اور ان کے گھر والوں کو اس عذاب سے بچانا ہماری خاص نعمت تھی۔ اس سے اگلے جملے ”کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ شَکَرَ“ سے ان کی اس نعمت کا اہل بننے کی وجہ بھی معلوم ہو رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے : اس لیے ہم نے انہیں اس عظیم نعمت سے نوازا ، جیسا کہ فرمایا (لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ) (ابراہیم : 7)”بیشک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمہیں زیادہ دوں گا“۔ اور صرف انہی کو نہیں بلکہ جو بھی ہماری نعمتوں کی قدر کرے ہم اسے ایسے ہی جزا دیتے ہیں۔
Ayah 54:36وَلَقَدْ اَنْذَرَہُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ :”تمہاری یتماری تماریا“ (تفاعل) شک کرنا ، جھگڑنا ، ”لام ‘ اور ”قد“ کے ساتھ تاکید قسم کے مفہوم کی قوت رکھتی ہے ، یعنی قسم ہے کہ لوط ؑ نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تھا، مگر انہوں نے اس ڈرانے پر یقین نہیں کیا ، بلکہ شک میں پڑے رہے اور اس کے متعلق بحث اور جھگڑا ہی کرتے رہے۔
Ayah 54:37وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِـہٖ۔۔۔۔”راودوہ“ باب مفاعلہ سے ہے۔ ”مراودۃ“ نرمی اور ملائمت سے بار بار مطالبہ کرنا ، پھسلانا ، بہکانا ، فریب سے غلط کام پر آمادہ کرنا۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں مبالغہ کے لیے ہے۔ ”صیفہ“ سے مراد فرماتے ہیں جو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں مہمان بن کر آئے تھے۔ قوم کو ان کے آنے کا علم ہوا تو انہوں نے لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ انہیں ان کے حوالے کردی۔ ”راودہ“ کے لفظ سے ظاہر ہے کہ انہوں نے لوط ؑ پر دھوکے ، فریب ، بہکانے ، پھسلانے ، دھونس اور دھاندلی کا ہر طریقہ آزمایا کہ کسی طرح ہی وہ دھوکے میں آکر انہیں ان کے حوالے کردیں۔ وہ لوگ جو اس مقصد کے لیے آئے تھے جب حد سے بڑھ گئے اور ان لڑکوں کو زبردستی چھیننے کے لئے گھر میں داخل ہونے لگے اور لوط ؑ سخت گھبرا گئے تو فرشتوں نے بتایا کہ ہم آپ کے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں ، یہ لوگ آپ تک کسی صورت نہیں پہنچ سکیں گے۔ (دیکھئے ہود : 80، 81) اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھیں مٹا دیں ، انہیں اندھا کردیا کہ بڑا عذاب آنے سے پہلے میرے اس عذاب اور میری تنبیہ کا مزا چکھو۔
Ayah 54:38وَلَقَدْ صَبَّحَھُمْ بُکْرَۃً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ ہود (82، 83) کی تفسیر۔
Ayahs 54:39–40فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔۔۔۔۔: یہاں قوم نوح ، عاد ، ثمود اور قوم لوط چاروں کے تذکرے میں یہ دونوں باتیں بار بار دہرائی ہیں ، تا کہ متعدد مرتبہ ذکر کے دوران کسی بار ہی ان کی طرف توجہ ہوجائے۔ سورة ٔ رحمن میں ”فبای الا ربکما تکذبن“ اور سورة ٔ مرسلات میں ”ویل یومئذ للمکذبین“ کو بار بار دہرانے میں بھی یہی حکمت ملحوظ ہے۔