Ayah 54:41وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ : آل فرعون کو ڈرانے اور خبر دار کرنے والوں سے مراد ان کے پاس آنے والے پیغمبر موسیٰ اور ہارون ؑ بھی ہیں اور ان کو دیئے جانے والے نو (9) معجزات بھی ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ”تسع ایت بینت“ قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورة ٔ بنی اسرائیل (101) کی تفسیر۔
Ayah 54:42کَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کُلِّہَا فَاَخَذْنٰـہُمْ۔۔۔۔:”عزیز“ سب پر غالب ، جو کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ ”مقتدر“ ”قدر یقدر“ (ض) سے باب افتعال ہے ، حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ”مقتدر“ میں ”قادر“ اور ”قدیر“ کی بہ نسبت قدرت کا معنی زیادہ ہے ، یعنی جو کرنا چاہے اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ، کسی طرح عاجز نہیں۔ آل فرعون پر آنے والی گرفت کی شدت اور ہولناکی کا بیان مقصود ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ہود (102)
Ayah 54:431۔ اَکُفَّارُکُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِکُمْ : یہ خطاب قریش کے لوگوں سے ہے کہ ان اقوام پر کفر و تکذیب کے نتیجے میں یہ عذاب آئے ، اگر تم کفر اختیار کرو گے تو کیا تم میں سے کفر کرنے والے کسی بھی لحاظ سے ان سے بہتر ہیں کہ ان پر عذاب نہیں آئے گا ؟ استفہام انکاری ہے ، یعنی ایسا نہیں ہے۔ قریش کے علاوہ قیامت تک کے تمام لوگ بھی اس کے مخاطب ہیں ، کیونکہ وہ سب رسول اللہ ﷺ کی امت ِ دعوت ہیں۔
2۔ اَمْ لَکُمْ بَرَآئَ ۃٌ فِی الزُّبُرِ : یا پہلی آسمانی کتابوں میں تمہارے متعلق لکھا ہوا ہے کہ تم جو چاہو کرو ، تم پر پہلی قوموں کی طرح عذاب نہیں آئیں گے ؟ ظاہر ہے ایسا بھی نہیں۔
Ayah 54:44اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ : یہاں ”جمیع“ ’ ’ کل“ (تمام) کے معنی میں نہیں بلکہ ”یائ“ کے اضافے کے ساتھ ”جمع“ کے معنی ہے ، مضبوط جماعت ہے۔ ”انتصر ینتصر انتصار“ ظالم سے بچاؤ کرنا ، دشمن سے انتقام لینا ، مد مقابل پر غالب آنا۔ یا پھر ان کا کہنا یہ ہے کہ نہ ہم پہلوں سے بہتر ہیں اور نہ کسی کتاب میں ہمارے عذاب سے محفوظ رہنے کی کوئی بات موجود ہے ، مگر ہم ایک مضبوط جماعت ہے جو اپنا بچاؤ کرسکتے ہیں ، بدلا بھی لے سکتے ہیں اور مد مقابل پر غالب بھی آسکتے ہیں ، اس لیے ہمیں کوئی خوف نہیں۔ آیت میں التفاتت ہے ، یعنی پچھلی آیت ”اکفار کم خیر“ میں خطاب کا صیغہ ہے اور یہاں غائب کے صیغے کے ساتھ ان کا ذکر ہے ، مراد ان کی تحقیر ہے کہ ایسی ڈینگیں مارنے والے خطاب کے قابل نہیں۔
Ayah 54:45سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ :”الجمع“ پر الف لام عہد خارجی کا ہے ، یعنی و ہ جماعت جس کا پچھلی آیت کے لفظ ”جمیع“ میں ذکر ہے۔ اس لیے ترجمہ ”یہ جماعت“ کیا گیا ہے۔ یعنی اگر ان کا یہ کہنا ہے تو یاد رکھیں کہ یہ جماعت اپنے خیال میں جتنی بھی زبردست ہو بہت جلد شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔”الدبر“ کا لفظ واحد ہے ، مراد جنس ہے : ”ای یولی کل واحد منھم دبرہ“ یعنی ان میں سے ہر ایک پیٹھ پھیرکر بھاگے گا۔“ یہ آیات کے آخری حروف کی موافقت کے لیے ہے۔ یہ آیات مکہ میں نازل ہوئیں ، جب مسلمان مظلوم و مقہور تھے، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ قریش مکہ جیسے قوت و شوکت والے لوگ بھی کسی وقت ان کمزور اور بےبس مسلمانوں سے شکست کھائیں گے اور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ جن مسلمانوں میں سے کچھ جان بچا کر حبش میں پناہ لے چکے تھے ، کچھ شعب ابی طالب میں محصو تھے اور قریش کے مقاطع اور محاصرے کی وجہ سے بھوکوں مر رہے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق وہ وقت آیا اور فی الواقع تھوڑے ہی عرصے میں بدر و احزاب اور دوسری جنگوں کے موقع پر یہ پیش گوئی پوری ہوئی۔ بدر کے موقع پر معرکہ برپا ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ، تب صحابہ کو معلوم ہوا کہ یہ وہ ہزیمت تھی جس کی وعید اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو سنائی تھی۔ عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ اپنے خیمے میں تھے ، اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا (اللھم انی انشدک عھدک ووعدک ، اللھم ان تشاء لا تعبد بعد الیوم) ”اے اللہ ! میں تجھے تیرے عہد اور تیرے وعدے کا واسطہ دیتا ہوں۔ اے اللہ ! اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے (تو اس تھوڑی سی جمعیت کو مٹ جانے کے لیے بےیارو مدد گار چھوڑ دے ، ورنہ اس کی ضرور مدد فرما)”تو ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے :”اے اللہ کے رسول ! بس کیجیے ، آپ نے اپنے رب سے نہایت اصرار کے ساتھ دعا کی ہے۔“ تو آپ ﷺ زرہ پہنے ہوئے اچھلتے ہوئے نکلے اور آیت یہ آیت پڑھ رہے تھے (سیھزم الجمع ویولون الدبر) ”عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے“۔ (بخاری ، التفسیر ، باب قولہ :(سیھزم الجمع) : 4875)
Ayah 54:46بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ۔۔۔۔:”اھیۃ“ بڑی مصیبت کو کہتے ہیں اور ”ادھی“ زیادہ بڑی مصیبت۔ ”مر ‘(میم کے ضمہ کے ساتھ) تلخ ، کڑوا۔ ”مر یمر مرارۃ“ (ن) کڑوا ہونا۔ ”امر“ اس سے اسم تفصیل ہے ، زیادہ تلخ ، یعنی دنیا میں ہونے والی شکست بھی اگرچہ بڑی مصیبت اور بہت تلخ ہے کہ اس میں ق تل ، گرفتاری ، غلامی ، ذلت و رسوائی اور کئی طرح کی سزائیں ہیں ، مگر اصل سزا کا وعدہ تو قیامت کے دن ہے اور قیامت دنیا کی مصیبتوں سے کہیں زیادہ بڑی مصیبت اور بہت زیادہ تلخ ہے ، کیونکہ دنیا کی مصیبت اور تلخی آخر کار ختم ہونے والی ہے ، مگر آخرت کی سزا کبھی ختم ہونے والی نہیں ، پھر وہاں کی آگ دنیا کی آگ سے ستر (70) گنا زیادہ سخت ہے۔
Ayah 54:47اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ : مجرمین سے مراد مشرکین ہیں ، جیسا کہ فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَکُوْنَ) (المطففین : 29) ”بیشک وہ لوگ جنہوں نے جرم کیے ، ان لوگوں پر جو ایمان لائے ، ہنسا کرتے تھے : اور فرمایا (ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیْ یُکَذِّبُ بِہَا الْمُجْرِمُوْنَ) (الرحمن : 43)”یہی ہے وہ جہنم جسے مجرم لوگ جھٹلاتے تھے“۔ یعنی مشرکین اپنی دانست میں بڑے دانا اور صحیح راستے پر چلنے والے ہیں ، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بہت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں۔
Ayah 54:48یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ۔۔۔۔۔:”سقر“ جہنم کا علم (نام) ہے اور مؤنث سماعی ہے ، اس لیے غیر منصرف ہے اور اس پر تنوین نہیں آتی۔ اشتقاق اس کا ”ستقرتہ النار“ (آگ نے اسے جھلس دیا) سے ہے ، یعنی ان پر ان کی ضلالت اور دیوانگی اس دن واضح ہوگی جب انہیں ان کے چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ جہنم کے چھونے کا مزہ چکھو۔ مزید دیکھئے سورة ٔ فرقان (34)
Ayah 54:491۔ اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍ :”بقدر“ پر تنوین تعظیم کی ہے۔ یعنی اگر انہیں شبہ ہے کہ قیامت ابھی واقع کیوں نہیں ہوتی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ہر چیز کو اپنے عظیم مستحکم اندازے کے ساتھ پیدا کیا جو کبھی غلط نہیں ہوسکتا ، کیونکہ ہمیں گزشتہ کی طرح آئندہ کا بھی پورا علم ہے کہ کوئی بھی چیز کس طرح ہوگی ، کتنی ہوگی اور کب ہوگی ؟ غرض ہم نے اس کی شکل و صورت ، زمان و مکان ، قوت و ضعف وغیرہ ہر چیز کا اندازہ طے کردیا ہے ، مثلاً جس کے قدر کا اندازہ چھ فٹ طے کیا ہے وہ چھ فٹ ہی ہوگا ، جسے سعید طے کردیا ہے وہ سعید ہوگا اور جسے شقی طے کردیا ہے وہ شقی ہوگا ، جس کا جتنا وقت مقرر کیا ہے اس سے ایک لمحہ آگے پیچھے نہیں ہوگا۔ چناچہ ہم نے قیامت کا بھی ایک وقت مقرر کر رکھا ہے ، نہ وہ اس سے پہلے آسکتی ہے نہ اس سے ایک لمحہ کی تاخیر ہوگی۔ تمہارے مطالبے کے مطابق اگر وہ ابھی واقع نہیں ہوتی تو یہ مت سمجھو کہ وہ واقع ہوگی ہی نہیں۔ اس آیت سے ملتی جلتی یہ آیت ہے :(وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہٗ بِمِقْدَارٍ) (الرعد : 8)”اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازے سے ہے“ اور سورة ٔ مرسلات کی یہ آیت (فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقٰـدِرُوْنَ) (المرسلات : 23) ”ہم نے اندازہ کیا تو ہم اچھے اندازہ کرنے والے ہیں“۔
2۔”قدر“ سے مراد تقدیر ہے جو ان چھ چیزوں میں شامل ہے جن پر ایمان کا دارومدار ہے۔ حدیث جبریل میں ہے کہ جبریل ؑ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ مجھے ایمان کے متعلق بتایئے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :(ان تومن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر وتومن بالقدر خیرہ وشرہ) (مسلم ، الایمان ، باب بیان الایمان والاسلام والاحسان۔۔۔۔ 8) ”یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر اور اسکے فرشتوں اور اس کتابوں اور اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور تقدیر اچھی یا بری ، اس پر ایمان لائے۔“ یعنی اچھی تقدیر کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور بری کا بھی ، مجوس کی طرح نہیں جو دو خالق مانتے ہیں۔ ایک خالق خیر اور ایک خالق شر۔ عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ فرماتے تھے (کتب اللہ مقادیر الخلائق قبل ان یخلق السماوات والارض بخمسین الف سنۃ قال وعرشہ علی المائ) (مسلم ، القدر ، باب حجاج آدم و موسیٰ صلی اللہ علیھما : 2653)”اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی تقدیریں آسمان و زمین پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیں“۔ فرمایا :”اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا“۔ عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(کل شی بقدر حتی العجز والکیس) (مسلم ، القدر ، باب کل شی بقدر : 2655) ”ہر چیز تقدیر سے ہے ، حتیٰ کہ عاجزی اور ہوشیاری بھی“۔ یعنی بعض لوگ جو بےکار اور نکھٹو ہوتے ہیں اور بعض عقل مند اور ہوشیار ، تو یہ بھی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے۔
Ayah 54:501۔ وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَۃٌ کَلَمْحٍم بِالْبَصَرِ : یعنی بیشک قیامت بہت بڑی چیز ہے ، جس کی ہیبت سے آسمان و زمین لرزتے ہیں ، جیسا کہ فرمایا (ثَـقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط) (الاعراف : 187)”وہ آسمانوں اور زمین میں بھاری واقع ہوئی ہے“۔ مگر یہ مت سمجھو کہ ہمارے لیے اس کا قائم کرنا کچھ دشوار ہے ، یا ہم لانا چاہیں تو اس کے آنے میں دیر ہوجائے گی ، ہماا تو صرف ایک حکم ہوتا ہے اور آنکھ جھپکنے میں کام ہوجاتا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(اِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ) (یٰسین : 82)”اس کا حکم تو ، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے ، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہوجا“ تو وہ ہوجاتی ہے“۔ مزید دیکھئے سورة ٔ نحل (77)
2۔ یہاں ایک سوال ہے کہ ”وما امرنا“ کے بعد ”الا واحد“ کیوں فرمایا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس سے مراد ”کلمۃ واحدۃ“ ہے ، یعنی ہمارا حکم ظرف ایک کلمہ ”کن“ ہوتا ہے۔
Ayah 54:51وَلَقَدْ اَہْلَکْنَـآ اَشْیَاعَکُمْ۔۔۔۔۔: قیامت پر قادر ہونے کا ایک نمونہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ قسم ہے کہ ہم نے تمہارے جیسی کئی جماعتوں مثلاً عاد وثمود وغیرہ کو ہلاک کر ڈالا۔ وہ بھی یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ان پر عذاب آسکتا ہے ، مگر جب عذاب آیا تو اچانک آیا۔ ایسے ہی قیامت بھی اچانک آئے گی ، تو کیا ہے کوئی جو اپنے جیسے ان گروہوں سے عبرت حاصل کرے اور قیامت کی ت تیاری کرے ؟ یہاں پھر التفاف ہے ، یعنی مشرکین کو مخاطب فرما لیا ہے ، کیونکہ مقصود ڈانٹنا ہے۔ ”اشیاع“ ”شیعۃ“ کی جمع ہے ، ایک جیسا عقیدہ رکھنے والی جماعت کے لوگ جو ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوں۔ یہاں ”اشیاعکم“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ بھی کفر و شرک میں تمہارے جیسے تھے۔
Ayahs 54:52–53وَکُلُّ شَیْئٍ فَعَلُوْہُ فِی الزُّبُرِ۔۔۔۔”مستطر“ ”مسطور“ کے معنی میں ہے۔ افتعال کی تاء کی وجہ سے معنی میں مبالغہ مقصود ہے کہ ہر چھوٹی بڑی بات بہت اچھی طرح لکھی ہوئی ہے ، مراد اعمال نامے ہیں۔ یعنی ان مجرموں نے جو کچھ کیا ہے سب دفتروں میں درج ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ کہف (49) اور سورة ٔ انفطار (10 تا 12)
Ayah 54:54اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَہَرٍ : کفار کے بعد متقی لوگوں کا انجام ذکر فرمایا کہ وہ باغوں اور نہروں میں ہوں گے۔ (دیکھئے طور : 17) آیات کے آخری حروف کی موافقت کے لیے ”نھر“ کا لفظ مفرد لایا گیا ، مراد جنس ہے ، جس میں ہر قسم کی نہریں شامل ہیں۔ جنت کی نہروں کے لیے دیکھئے سورة ٔ محمد کی آیت (15) کی تفسیر۔
Ayah 54:551۔ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ : یہاں ”مقتدر“ بمعنی ”صادق“ برائے مبالغہ ہے ، جیسے ”عدل“ بمعنی ”عادل“ برائے مبالغہ ہے اور ”مقعد“ موصوف اپنی صفت ”صدق“ (بمعنی صادق) کی طرف مضاف ہے ، جیسے کہا جاتا ہے :”مسجد الجامع“”صدق“ کا اصل معنی خبر کا واقع کے مطابق ہونا ہے۔ ”فلاں شخص صادق ہے“۔ کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو بات کہتا ہے وہ واقع میں اسی طرح ہوتی ہے جیسے اس نے کہا۔ پھر یہ لفظ کسی بھی چیز کی تعریف کے لیے اور اس کے اپنے اوصاف میں کامل ہونے کے لیے بولا جانے لگا۔”فلان رجل صدق“ یعنی وہ رجولیت میں کامل ہے۔ اردو میں کہا جاتا ہے ”فلاں سچ مچ مرد ہے“۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ) (یونس : 93)”اور ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانہ دیا جو ٹھکانہ ہونے میں کامل تھا ، سچ مچ کا باعزت ٹھکانہ تھا“۔ اور فرمایا :(وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ) (الشعرا : 84) ”اور پیچھے آنے والوں میں میرے لیے سچی ناموری رکھ۔“ اور فرمایا (وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ) (بنی اسرائیل : 80) ’ ’ اور کہہ اے میرے رب ! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا“۔”فی مقعد صدق“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی مجلس میں ہوں گے جو مجلس ہونے کے لحاظ سے ہر طرح کامل ہوگی، مجلس کے تمام لوازمات و مناسبات سے آراستہ ہوگی ، سچ مچ کی مجلس ہوگی۔
2۔ یاد رہے کہ یہاں ”مقعد ‘ ‘ کا ترجمہ جو ”مجلس“ کیا گیا ہے وہ اس کا پورا مفہوم ادا نہیں کرتا ، کیونکہ ”قعد“ اور ”جلس“ دونوں کا معنی اگرچہ ”بیٹھنا“ ہے ، مگر ”مقعد“ میں ٹھہرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے جو ”مجلس“ میں نہیں پایا جاتا ، مثلاً سورة ٔ توبہ کی آیت (81) (فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِھِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللہ ِ) میں ”بقعدھم“ کا معنی صرف بیٹھنا نہیں بلکہ ”بیٹھ رہنے والے مومن“ ہے۔ اسی طرح سورة ٔ نور کی آیت (60) (والقواعد من النسائ) میں ’ ’ القواعد“ کا معنی ”بیٹھ رہنے والیاں“ ہے۔ یہاں ”القواعد“ کے بجائے ”الجوالس“ کا لفظ استعمال نہیں ہوسکتا۔ سورة ٔ ق کی آیت (17) (: ”عن الیمین و عن الشمال قعید) میں فرشتوں کے مسلسل ساتھ بیٹھے ہونے کا جو مفہوم ادا ہو رہا ہے وہ ”جلیس“ میں نہیں۔ اب اس کے مقابلے میں سورة ٔ مجادلہ کی آیت (11) دیکھئے ، فرمایا :(اِذَا قِیْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوْا فِیْ الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللہ ُ لَکُمْج وَاِذَا قِیْلَ انْشُزُو)”جب تمہیں کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل جاؤ تو کھل جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے فراخی کردے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوجاؤ“۔ یہاں ”تفسحوا“ (کھل جاؤ) سے مجلس میں حرکت کا ثبوت ملتا ہے اور ”انشزوا“ (اٹھ کھڑے ہو) سے ظاہر ہے کہ مجلس میں جلوس ترک بھی ہوسکتا ہے ، لیکن ”قعود“ کا معاملہ یہ نہیں۔ اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ متقی لوگ ”مقعد ِ صدق“ میں ہوں گے جو پائیدار ہوگی۔ ”مجلس صدق“ کے لفظ سے یہ مفہوم ادا نہیں ہوتا۔ مفسر رازی نے یہ بات بہت مفصل اور مدلل لکھی ہے۔
3۔ عند ملیک مقتدر :”ملیک ‘ ”ملک“ میں سے فعیل“ کا وزن ہے ، ملک والا۔ اس میں ”ملک“ سے زیادہ مبالغہ ہے ، اس لیے ترجمہ ”عظیم بادشاہ“ کیا گیا ہے۔”مقتدر“ میں ”قادر“ یا ”قدیر“ سے زیادہ مبالغہ ہے ، جیسا کہ پیچھے ”اخذ عزیز مقتدر“ کے تحت گزارا ہے ، اس لیے ترجمہ ”بےحد قدرت والا“ کیا گیا ہے۔ کسی بھی گھر یا مکان کے مرتبے کا تعین اس جگہ سے ہوتا ہے جہاں وہ واقع ہو ، فرعون کی بیوی آسیہ (علیہا السلام) نے دنیا کی تمام سہولتیں چھپن جانے پر اللہ تعالیٰ سے اپنے پاس گھر بنا کردینے کی دعا کی تھی (رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ) (التحریم : 11) ”اے میرے رب ! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے“۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات میں سے ”ملیک مقتدر“ کا ذکر فرمایا ہے ، کیونکہ لوگ بادشاہوں کی مجلس میں اور ان کے پڑوس میں رہنے کے خواہش ہوتے ہیں اور جتنا زیادہ اقتدار والا بادشاہ ہو اتنی ہی اس کے قرب کی خواہش زیادہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کو بشارت سنائی کہ ان کی رہائش بادشاہوں کے بادشاہ کے پاس ہوگی جو سارے اقتدار کا مالک ہے۔ پھر ان کی عزت و شوکت کا کون انداز کرسکتا ہے۔ (اللھم اجعلنا منھم)
اس سورت کی فضیلت میں ایک حدیث مشہور ہے (الکل شی عروس و عروس القرآن الرحمن)”ہر چیز کا ایک دولہا ہوتا ہے اور قرآن کا دولہا سورة ٔ رحمن ہے“ (عروس کا معنی دولہا بھی ہے اور دلہن بھی) سیوطی نے اسے ”الجامع الصغیر“ میں ”شعب الایمان للبیقہی“ کے حوالے سے علی ؓ سے روایت کیا ہے۔ علامہ البانی ؒ تعالیٰ نے اسے ضعیف لکھا ہے۔ دیکھئے ضعیف الجامع (4729)