Ayahs 55:1–21۔ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ : اس سورت کا آغاز اللہ کے مبارک نام ”الرحمن“ کے ساتھ ہوا ہے اور پوری سورت اس کی بےحد و بےحساب رحمت کی تفصیل ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر ہر نعمت کا ذکر کر کے بار بار اپنا احسان یاد دلایا ہے۔ ان نعمتوں میں وہ نعمتیں بھی ہیں جو دنیا میں تمام لوگوں پر کی گئی ہیں اور وہ بھی جو صرف ایمان والوں پر ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی نعمت دین کا ذکر سب سے پہلے فرمایا ہے، کیونکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی اسی پر موقوف ہے اور دین کا مدار قرآن مجید پر ہے ، اس لیے فرمایا (اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ)”اس بےحد رحم والے نے یہ قرآن سکھایا۔“
2۔”اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ“ میں نعمت کے بیان کے ساتھ کفار کے اس بہتان کا رد بھی ہے کہ (انما یعلمہ بر) (النحل : 103) یعنی آپ ﷺ کو کوئی بشر ہی سکھاتا ہے۔ فرمایا ، آپ کو سکھانے والا کوئی بشر یا کوئی اور ہستی نہیں ، بلکہ دورحمن ہی ہے جس نے آپ کو قرآن سکھایا۔ ابن عاشور نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ مسند کو فعل کی صورت میں مسند الیہ کے بعد تخصیص کا فائدہ دینے کے لیے لایا گیا ہے۔ کیونکہ کفار کا کہنا تھا کہ قرآن کسی اور نے آپ کو سکھایا ہے ، گویا وہ یہ مان گئے کہ یہ آپ نے خود نہیں بنایا بلکہ کسی اور نے آپ کو سکھایا ہے ، مگر وہ یہ نہیں مانتے تھے کہ آپ کو قرآن سکھانے والا اللہ تعالیٰ ہے ، اس لیے فرمایا :”اس رحمان ہی نے (آپ کو) یہ قرآن سکھایا ہے۔“”علم القرآن“”الرحمن“ مبتداء کی پہلی خبر ہے ، اس کے بعد مسلسل تین خبریں ہیں جو حرف عطف کے بغیر لائی گئی ہیں۔ ان نعمتوں کے اس اندازے میں ذکر کرنے سے جہاں ان نعمتوں کا اظہار ہو رہا ہے وہاں یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ یہ نعمتیں رحمان ہی نے عطاء کی ہیں ، انہیں عطاء کرنے میں کسی اور کا نہ کوئی دخل ہے نہ کسی قسم کی شرکت ہے۔ مشرکین یہاں تک تو مانتے تھے ، مگر اس سے لازم آنے والی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ جب یہ سب نعمتیں رحمان ہی کی ہیں تو عبادت بھی اسی کی ہے۔ گویا نعمتوں کے شمار کرنے میں مشرکین کو ان کی غلطی پر تنبیہ اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔
3۔”عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ“ میں ’ ’ علم“ کا ایک مفعول ”القرآن“ ذکر فرمایا ہے کہ اس رحمن نے یہ قرآن سکھایا ، دوسرا مفعول ذکر نہیں فرمایا کہ کسے سکھایا ؟ یہ حذف فرما دیا ہے ، تا کہ عام رہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا، اس محذوف سے مراد نبی کریم ﷺ ہی ہیں ، مگر بہتر ہے کہ اسے عام رکھا جائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کو قرآن کی تعلیم دی ، مگر ظاہر ہے کہ آپ کے واسطے سے اور بعد میں قرآن کے معلمین کے واسطے سے تمام لوگوں کو قرآن کی تعلیم دینے والی اصل ذات گرامی اللہ تعالیٰ کی ہے ، وہ تعلیم نہ دے تو نہ نبی ﷺ تعلیم دے سکتے ہیں ، نہ صحابہ اور نہ ہی بعد کا کوئی معلم۔ اس لیے تعلیم قرآن کو خاص اللہ تعالیٰ کی نعمت کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔
4۔ اکثر مفسرین نے چونکہ یہاں ”القرآن ‘ ‘ سے مراد رسول کریم ﷺ پر نازل شدہ قرآن کریم لیا ہے ، اس لیے اوپر تفسیر اس کے مطابق کی گئی ہے۔ آیت کے الفاظ میں ایک اور تفسیر کی بھی گنجائش ہے ، وہ یہ کہ ”القرآن“ کا لفظی معنی ”قراۃ“ (پڑھنا) ہے ، جیسا کہ سورة ٔ قیامہ میں فرمایا (فَاِذَا قَرَاْنٰـہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ)”تو جب ہم اسے پڑھیں تو تو اس کے پڑھنے کی پیروی کر“۔ اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ انسان کو پڑھنے کی تعلیم کی نعمت یاددلا رہے ہیں ، یعنی ”اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ“ کا معنی ہے :”اس رحمن ہی نے پڑھنا سکھایا“۔ یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی سب سے پہلی وحی میں لکھنے کی تعلیم کی نعمت کا ذکر خاص طور پر فرمایا تھا، فرمایا :(اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ) (العلق : 3، 4) ”پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔ وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا“۔ تو سورة ٔ رحمن میں پڑھنے کی تعلیم کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ اس تفسیر کے مطابق یہ نعمت مزید عام ہوجاتی ہے ، جس میں قرآن کا پڑھنا بھی شامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لکھنا ، پڑھنا اور بیان تینوں انسان پر اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں میں سے ہیں جو اسے جانوروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ انہی کے ذریعے سے وہ دور و نزدیک دوسرے انسانوں سے رابطہ کرتا ہے، وحی الٰہی سے حاصل ہونے والے علوم کو اور انسانی عقل اور تجربے سے حاصل ہونے والے علوم و فنون کو سیکھتا سکھاتا ہے ، لکھ کر محفوظ کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کو پہنچاتا ہے۔
Ayah 55:3خَلَقَ الْاِنْسَانَ : یہ بھی ”الرحمن“ کی خبر ہے اور اسے فعل کی صورت میں لانے سے تخصیص کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے ، چناچہ اس آیت میں بھی دو باتیں بیان ہوئی ہیں ، ایک یہ کہ رحمان ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے ، سو عبادت بھی اس اکیلے کی ہے۔ دوسری انسان کو پیدا ہے۔ زمین و آسمان میں موجود دوسری تمام نعمتوں کا ذکر اس کے بعد فرمایا ہے ، کیونکہ وہ سب انسان کی پیدائش کے بعد ہیں ، اگر وہ موجود ہی نہ ہو تو کسی نعمت کا اسے کیا فائدہ۔ البتہ تعلیم قرآن کی نعمت کا ذکر اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلانے کے لیے اس سے پہلے فرما دیا۔ ”رحمن ہی نے انسان کو پیدا فرمایا“ یہ ایسی بات نہیں جسے مشرکین نہ مانتے ہوں ، مگر اسے صریح لفظوں میں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین فی الحقیقت یہ بات نہیں مانتے ، کیونکہ اگر مانتے ہوتے تو کسی غیر کی پرستش کیوں کرتے ؟۔
Ayah 55:4عَلَّمَہُ الْبَیَانَ : سکھانے میں بہت سی چیزیں شامل ہیں ، یعنی اس میں بیان کی صلاحیت رکھتی ، اسے اپنے مطلب کے اظہار کے لیے مختلف زبانوں کے الفاظ وضع کرنے اور ان کے استعمال کا سلیقہ بخشا ، جس سے ہزاروں زبانیں وجود میں آئیں اور اسے قدرت دی کہ اپنا ما فی الضمیر نہایت وضاحت اور حسن و خوبی کے ساتھ ادا کرسکے اور دوسروں کی بات سمجھ سکے۔ اپنی اس صفت کی بدولت وہ خیر و شر ، ہدایت و ضلالت ، ایمان و کفر اور دنیا و آخرت کی باتیں سمجھتا اور سمجھاتا اور اس کو کام میں لا کر فائدع اٹھاتا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ بقرہ کی آیت (31) (وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا) اور سورة ٔ روم کی آیت (22) (وَاخْتِـلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ ط) کی تفسیر۔ یہ جملہ بھی لفظ ”الرحمن“ کی خبر ہے اور فعل کی صورت میں آنے سے اس میں بھی پچھلے جملوں کی طرح تخصیص پیدا ہو رہی ہے۔
Ayah 55:5اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ :”حسبان“ ”حسب یحسب“ کا مصدر ہے ، جس میں ”الف نون“ زیادہ کردیا گیا ہے ، جس سے معنی میں اضافہ ہوگیا ہے ، جیسے ”طغیان“ ”رجحان“ اور ”کفران“ وغیرہ میں ہے۔ یعنی سورج اور چاند نہایت محکم اور باریک حساب کے ساتھ چل رہے ہیں ، آسمان کے نیچے ثوابت و سیار ستاروں کا کوئی شمار نہیں ، جن میں سے بعض سورج اور چاند سے بھی ہزاروں گنا بڑے ہیں۔ ان کی پیدائش اور گردش میں اللہ تعالیٰ کی بےحساب حکمتوں کا بھی کچھ شمار نہیں ، مگر خاص طور پر سورج اور چاند کا ذکر اس لیے فرمایا کہ نمایاں نظر آنے کی وجہ سے زمین کے رہنے والوں کے معاملات کا ان دونوں کے ساتھ زیادہ تعلق ہے۔ مفسر کیلانی لکھتے ہیں :’ ’ سورج اور چاند کا ایک مقرر رفتار کے مطابق چلنا ، پھر اس میں ایک لحظہ کی بھی تاخیر نہ ہونا انسان کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ سورج سے دن رات ادل بدل کر آتے رہتے ہیں اور موسموں میں بتدریج تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ نمازوں کے اوقات کا تعلق بھی سورج سے ہے، فیصلوں کے پکنے کا انحصار بھی سورج سے ہے۔ چاند سے ہمیں رات کو روشنی حاصل ہوتی ہے، ہم مہینوں اور سالوں کا حساب رکھ سکتے ہیں اور یہی حقیقی اور فطری تقویم (کیلنڈر) ہے۔ اسی لیے رمضان کے روزے ، حج ، عیدین اور دوسری قابل شمار مدتوں ، مثلاً مدت ِ حمل ، مدت ِ رضاعت و عدت وغیرہ کا تعلق چاند سے ہوتا ہے۔ پھر سورج اور زمین کے درمیان ایسا مناسب فاصلہ رکھا گیا ہے کہ اس میں کمی بیشی سے اس زمین پر انسان اور دوسرے سب جانداروں کی زندگی ہی ناممکن ہے اور سب فائدے اسی صورت میں حاصل ہو رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان عظیم الجثہ کروں کو ایسے طبعی قوانین میں جکڑ رکھا ہے جس سے وہ ادھر ادھر ہو ہی نہیں سکتے اور اپنے مقرر مداروں پر مقررہ رفتار سے ہمہ وقت محو گردش رہتے ہیں“۔ (تیسیر القرآن) مزید دیکھئے سورة ٔ انعام (96) سورة ٔ بنی اسرائیل (12)
Ayah 55:6وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ :”النجم“ کا معنی ستارا بھی ہے اور وہ پودے بھی جو تنے کے بغیر ہوتے ہیں ، جیسے گندم ، جو ، چنے ، جڑی بوٹیاں ، بیلیں ، سبزیاں وغیرہ۔ یہاں دوسرا معنی زیادہ مناسب رکھتا ہے ، کیونکہ یہ ”الشجر“ کے مقابلے میں آیا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے یہی معنی نقل فرمایا اور اسے ترجیح دی ہے۔ ان کے سجدہ کرنے کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حج (81)
Ayah 55:71۔ وَالسَّمَآئَ رَفَعَھَا : یہاں بھی ”رفع السمائ“ کے بجائے ”والسماء رفعھا“ میں آسمان کو پہلے لا کر اس کی اہمیت کی طرف اور اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اسے بلند کرنا اس اکیلے کا کام ہے ، کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں ، پھر کسی اور کی پرستش کیوں ہو ؟ آسمان کو اونچا اٹھانے میں اس کے پیدا کرنے کا ذکر خود بخود آگیا۔ اونچا اٹھانے کا ذکر خاص طورپر اس لیے فرمایا کہ اتنے بڑے آسمان کو اس طرح ستونوں کے بغیر پیدا کرنا اور اسے اتنا بلند بنایا بےحد تعجب انگیز ہے کہ اس کے نیچے سورج، چاند اور ان سے ہزاروں گنا بڑے ستیاروں پر مشتمل کہکشائیں محو گردش ہیں ، نہ انہیں راستے میں کسی ستون کی رکاوٹ پیش آتی ہے ، نہ ہزاروں نوری سالوں کے فاصلے سے ان کی روشنی زمین پر آنے کے درمیان کوئی چیز حائل ہوتی ہے۔
2۔ وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ :”المیزان“ ”وزن“ سے ”مفعال“ کے وزن پر ہے جو اصل میں ”موزان“ ہے ، وزن کا آلہ۔”وزن“ چیزوں کے ایک دوسرے کے مقابلے میں برابر کم و بیش ہونے کے اندازے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے انسان کی ہر چیز کی مقدار معلوم کرنے کے لیے میزان کا طریقہ سکھایا۔ اس میزان میں ہر قسم کے پیمانے آجاتے ہیں ، وزن ، کیل ، مساحت ، حرارت ، برودت ، دباؤ ، نمی ، غرض ہزارہا قسم کے پیمانے بنانے کا سلیقہ عطاء فرمایا ، جن سے وہ اپنے معاملات درست اور بہتر سے بہتر طریقے کے ساتھ چلاتا ہے۔ اس کے بغیر کوئی کام بھی درست انجام نہیں پاسکتا، پھر انہی پیمانوں کے ساتھ وہ ایک دوسرے سے لین دین کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتے تو دلی اطمینان کے ساتھ باہمی لین دین ممکن نہیں تھا۔
Ayah 55:8اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِِ : اس سے پہلے ”لام“ جارہ محذوف ہے :”ای لئلا تطغوا“ یعنی اس نے میزان اس لیے بنایا ہے کہ تم ہر معاملے میں وزن کرتے ہوئے صحیح وزن کرو ، کمی بیشی مت کرو، کیونکہ یہ حد سے تجاوز ہے۔
Ayah 55:91۔ یوَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ۔۔۔۔۔۔:”القسط“ عدل ، انصاف۔ ان آیات میں ”المیزان“ کا لفظ تین دفعہ آیا ہے ، پہلا آلہ (ترازو) کے معنی میں ہے ، دوسرا مصدر (وزن) کے معنی میں اور تیسرا اسم مفعول (موزون) کے معنی میں۔ (ابن عادل ، اللباب) اس سے ماپ تول اور دوسرے پیمانوں میں انصاف کی تاکید مقصود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شعیب ؑ کی قوم پر عذاب کا ایک بہت بڑا باعث ماپ تول میں کمی بیشی کو قرار دیا ہے اور قرآن مجید کی ایک سورت کا نام ”مطففین“ ہے، جس میں کمی بیشی کرنے والوں کے لیے ”ویل“ کی وعید سنائی ہے۔
2۔ بہت سے مفسرین نے فرمایا کہ ”ووضع المیزان“ میں ”واقیمو الوزن“ سے مراد عدل ہے ، جس کی ایک شاخ ماپ تول میں عدل ہے۔ اس لیے ”وضع المیزان“ میں عام عدل کا ذکر ہے اور ماپ تول کی اہمیت کے پیش نظر ”اقیمو الوزن“ (تول سیدھا رکھو) میں عدل کی صورتوں میں وزن کا خاص طور پر الگ ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 55:10وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا لِلْاَ نَامِ :”الانام“ کا معنی ہر جان دار مخلوق ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس طرح بنایا اور بچھایا ہے کہ مخلوق کی تمام ضروریات اس سے پوری ہوتی ہے ، ان کا پیدا ہونا ، کھانا پینا ، پہننا ، رہنا سہنا ، چلنا پھرنا ، زندہ رہنا اور دفن ہونا غرض ہر ضرورت اور ہر سہولت اسی سے وابستہ ہے۔ ”الانام“ کے لفظ میں اگرچہ تمام مخلوق شامل ہے ، مگر یہاں اس سے مراد جن و انس ہیں ، کیونکہ محاسبہ انہی دو کا ہونا ہے اور آگے انہی پر احسانات کا ذکر ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے زمین کی ہر چیز انسانوں کی خاطر بنائی ہے ، فرمایا :(ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا) (البقرہ : 29) ”وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمہارے لیے پیدا کیا۔“ اور فرمایا (وَ سَخَّرَلَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا) (الجاثیہ : 13)”اور اس نے تمہاری خاطر ان تمام چیزوں کو مسخر کردیا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں“۔ زمین کو انسان کے لیے بنانے اور بچھانے کے متعلق دیکھئے سورة ٔ رعد (3) ، نمل (60، 61) یٰسین (33 تا 35) حم السجدہ (9، 10) زخرف (9، 10) جاثیہ (3، 4) ق (7، 8) ملک (15) مرسلات (25، 26) ، نبائ (6) اور سورة ٔ نازعات (30 تا 3)۔
Ayah 55:11فِیْہَا فَاکِہَۃٌ وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ :”فاکھۃ“ ان پھلوں اور چیزوں کا نام ہے جو بطور خوراک نہیں بلکہ لذت اور خوشی کے لیے کھائی جاتی ہیں۔ یہ ”فکہ یف کہ“ (فرح یفرح) سے مشتق ہے ، جس کا معنی باتوں اور ہنسی وغیرہ کے ساتھ خوش وقت ہوتا ہے۔ ’ ’ فاکھۃ“ پر تنوین تکثیر و تعظیم کے اظہار کے لیے ہے۔ ”النحل“ کھجور کے درخت ، یہ اسم جنس ہے ، ایک درخت کہنا ہو تو ”نخلۃ“ کہتے ہیں۔ ”الاکمام“ ”کم“ (کاف پر کسرہ) کی جمع ہے، کھجور کے خوشے کے اوپر والا غلاف۔ یہ غفال کھایا نہیں جاتا ، اس لیے مراد خوشوں کے حسن کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے درختوں کے اوپر اور درختوں سے اترنے کے بعد بھی پھلوں کی جس طرح پیکنگ کی ہے ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ اللہ تعالیٰ کی عظیم صناعی کا نمونہ ہے۔
Ayah 55:12وَالْحَبُّ ذُوالْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ :”الحب“ دانے ، جیسے گندم ، چنے ، چاول وغیرہ یعنی غلہ جو انسان کی خوراک بنتا ہے۔”العصف“ دانوں کے اوپر کا چھلکا ، بھوسا ، جو جانوروں کی خوراک بنتا ہے، سورة ٔ فیل میں ہے :(کعصف ما کول) (الفیل : 5)”کھائے ہوئے بھوسے کی طرح“۔”الریحان“ خوشبو دار پودے اور پھول جو آدمی کے دماغ کو معطر کرتے ہیں۔ ”فاکھۃ“ سے وہ پھل مراد ہیں جو صرف لذت کے لیے کھائے جاتے ہیں اور ”النحل“ سے وہ پھل مراد ہے جو لذت اور خوراک دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ”الحب“ سے مراد غلے وغیرہ ہیں جو خوراک کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ”الریحان“ سے مراد جو خوشبو کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
Ayah 55:13فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ :”الائ“”الی“ کی جمع ہے جو اصل میں ”الی“ ہے ، جیسے ”معی“ (انتڑی) کی جمع ”امعائ“ ہے۔ اس کا ایک معنی نعمت ہے۔ طبریٰ نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کی تفسیر نقل فرمائی ہے :”فبای نعمۃ اللہ تکذبان“ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟“ اور ایک معنی قدرت ہے ، چناچہ طبریٰ ہی نے ابن زید کی تفسیر نقل فرمائی ہے ، انہوں نے فرمایا :”الا لا القدرۃ ، فبای قدرۃ اللہ تکذبان“ یعنی ”تم دونوں اللہ کی کس کس قدرت کو جھٹلاؤ گے“۔
2۔ مفسر سلیمان الجمل نے فرمایا، نعمتوں کے بیان اور ان کی یاد دہانی کے لیے یہ آیت یہاں اکتیس (31) مرتبہ دہرائی گئی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی آدمی نے کسی پر احسان کیے ہوں اور وہ ان احسانوں کو نہ مانتا ہو تو اسے کہتا ہے ، کیا تو فقیر نہیں تھا ؟ میں نے تجھے مال دیا ، کیا تو اس کا انکار کرتا ہے ؟ کیا تو ننگا نہیں تھا ؟ میں نے تمہیں لباس پہنچایا ، کیا تو اس کا انکار کرتا ہے۔۔۔۔ ؟ اللہ تعالیٰ نے آٹھ مرتبہ یہ آیت ان آیات کے بعد دہرائی جن میں اس کی مخلوق کے عجائب اور ان کی ابتداء و انتہاء کا ذکر ہے ، پھر جہنم کے دروازوں کی تعداد کے مطابق سات مرتبہ ان آیات کے بعد دہرائی ہے جن میں آگ اور اس کی ہولناکیوں کا بیان ہے۔ پھر جنت کے دروازوں کی تعداد کے مطابق آٹھ مرتبہ دو جنتوں کے وصف میں اسے دہرایا ہے۔ پھر ان دو جنتوں کے علاوہ دوسری دو جنتوں کے وصف میں آٹھ مرتبہ دہرایا ہے۔ تو جو شخص پہلی آٹھ چیزوں کا عقیدہ یقین رکھے گا اور ان کے تقاضے پر عمل کرے گا وہ اللہ کی طرف سے ان آٹھ نعمتوں کا مستحق ہوگا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے ساتھ اسے پہلی ساتوں سے محفوظ رکھیں گے۔ (ملخصا ً)
3۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سورت کی کئی آیات میں جہنم اور عذاب کا بھی ذکر ہے ، تو ان کے بعد ”فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ“ کہنے میں کون سی نعمت یاد دلائی جا رہی ہے ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ ”الائ“ کا معنی قدرت بھی ہے ، جیسا کہ اوپر گزرا۔ تو اللہ تعالیٰ کی صفات اور جہنم و عذاب کے بیان کے بعد کہا جا رہا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی قدرت کو جھٹلاؤ گے ؟ اور ایک جواب یہ ہے کہ عذاب آنے سے پہلے اس کے متعلق خبردار کردینا بہت بڑی نعمت ہے ، کیونکہ اس سے بندہ اس سے بچنے کی جدوجہد کرسکتا ہے ، اس لیے فرمایا کہ تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟
Ayah 55:14خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ :”صلصلۃ“ وہ آواز جو کسی چیز کو بجانے یا کھڑکانے سے پیدا ہوتی ہے ، جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث (2) میں ”صلصلۃ الجرس“ کا ذکر ہے۔”صلصال“ بجنے والی ، کھنکھنانے والی (مٹی) بعض کہتے ہیں۔ یہ ”صل اللحم“ سے مشتق ہے ، جس کا معنی گوشت کا بد بودار ہونا ہے۔ مراد بد بودار مٹی ہے۔ آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حجر (26)۔
Ayah 55:15وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ : طبری نے فرمایا : ”مارج من نار“ ایک دوسرے سے ملی جلی سرخ ، زرد اور سبز رنگ کی آگ۔ مراد آگ کا شعلہ اور اس کی نوک ہے۔ یہ ”مرج امر القوم“ سے ہے ، جس کا معنی ہے ”قوم کا معاملہ مل جل گیا“۔ اسی طرح یہ نبی ﷺ کے اس فرمان سے ہے جو آپ ﷺ نے عبد اللہ بن عمرو ؓ کو فرمایا :(یا عبد اللہ ابن عمرو ! کیف بک اذا بقیت فی حثالۃ من الناس و فی ابی داؤد : قد مرجت عھودھم واما ناتھم) (بخاری، الصلاۃ ، باب تشیک الاصبع۔۔۔۔۔ 480 ، ابو داؤد : 4342)”اے عبد اللہ بن عمرو ! تمہارا کیا حال ہوگا جب تم چھان بورے جیسے لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے۔“ ابوداؤد میں ہے :”جن کے عہد اور امانتیں مل جل گئے ہوں گے“۔ اور طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ”مارج من نار“ کا معنی ”خالص النار ‘ نقل فرمایا ہے۔
Ayah 55:16فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : جن و انس کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ کی قدرت بھی ہے اور ان دونوں پر نعمت بھی۔
Ayah 55:17رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ : سورج ہمیشہ مشرقی سمت کے درمیان سے طلوع نہیں ہوتا ، بلکہ گرمیوں میں اس کا مشرق شمال کی طرف سر کیا جاتا ہے اور سردیوں میں جنوب کی طرف اور ہر روز سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ایک ہوتی ہے۔ ایک لحاظ سے سال بھر میں سورج کے 365 مشرق ہوتے ہیں ، یہی حال اسکے مغربوں کا ہے۔ اس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے سورة ٔ صافات (5) میں اپنی صفت ”رب المشارق“ اور سورة ٔ معارج (40) میں ”برب المشرق والمغرب“ بیان فرمائی ہے۔ یہاں سردی اور گرمی کے آخری دو مقامات کے اعتبار سے ”رب المشرقین و رب المغربین ‘ ‘ فرمایا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ صفافات (5)
Ayah 55:18فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : سورج کے طلوع و غروب ، اس کی گردش اور اس کے متعدد مطالع و مغارب میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار قدرتیں ہیں اور اس سے موسموں کے بدلنے ، بارشیں برستے ، برف گرنے ، بےشمارقسم کی فصلیں اگنے اور انسان کی راحت و آرام کے بےحساب سامان مہیا کرنے کی بیشمار نعمتیں ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ یاد دلا رہے ہیں۔
Ayahs 55:19–21مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰـنِ۔۔۔۔۔: ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ فرقان (53) کی تفسیر۔
Ayah 55:22یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ : مفسر کیلانی لکھتے ہیں :”مرجان دراصل جمادات اور نباتات کے درمیان برزخی پیدائش ہے، جس طرح سب موتی پتھروں ہی کی قسم ہوتے۔ ہیں ، مرجان بھی پتھر ہی کی قسم ہے ، لیکن یہ نباتات کی طرح بڑھتا ہے ، جمادات کی طرح جامد نہیں۔ مرجان کا ایک چھوٹا سا پودا ہوتا ہے جس کی شاخیں بھی ہوتی ہیں۔ موتی اور مرجان عموماً کھاری پانی کی پیداوار ہیں مگر اسی کھاری پانی کے نیچے اللہ کی قدرت سے میٹھے پانی کے چشمے بھی ابل رہے ہوتے ہیں ، یا ساتھ ساتھ رواں دواں ہوتے ہیں ، اس لیے ”منھما“ کا لفظ ارشاد فرمایا، یعنی یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے حیرت انگیز تخلیقی کارناموں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہا ہے“۔ (تیسیر القرآن) مزید دیکھئے سورة ٔ نحل (14)
Ayah 55:23فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا بیان بھی ہے اور نعمتوں کا بھی
Ayahs 55:24–25وَلَہُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلَامِ۔۔۔:”المنشئٰت“”انشاء ینشی“ (افعال) (بنانا) سے اسم مفعول ہے ، پہاڑوں جیسے لمبے چوڑے اور کئی منزلہ اونچے بحری جہاز ”جو بنائے گئے ہیں“۔ اس میں بحری جہاز بنانے کا طریقہ سکھانے کی نعمت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سکھانے سے انسان چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوڑتے ہوئے کتنا بڑا بحری جہاز بنا لیتا ہے۔ طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے ”المنشئت“ کا ایک اور معنی بھی نقل فرمایا ہے :”ما رفع فلعہ من المفن فھی منشئات واذا لم یرفع قلعھا فلیست بمنشئات“ ”وہ جہاز جن کے بادبان اٹھائے ہوئے ہوں وہ ”منشئات“ ہیں اور جب ان کے بادبان اٹھائے ہوئے نہ ہوں تو وہ ”منشئات ‘ نہیں ہیں“۔
واضح رہے کہ انجن کی ایجاد سے پہلے بحری جہازوں کا سفر موافق ہواؤں کے ذریعے سے ہوتا تھا۔ چناچہ اونچے اونچے ستونوں کے ساتھ کپڑے باندھ دیے جاتے ، ہوا انہیں دھکیلتی ہوئی منزل مقصود پر پہنچا دیتی ، انہیں بادبان کہا جاتا تھا۔”باد“ ہوا کو کہتے ہیں۔ اگر کہیں رکنا مقصود ہوتا تو وہ کپڑے اکٹھے کردیئے جاتے ، اسے بادبان گرانا کہا جاتا تھا۔ اس معنی کے لحاظ سے بحری جہازوں پر اللہ تعالیٰ کی ایک اور نعمت کا ذکر ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ‘ شوریٰ (33) کی تفسیر۔ ”ولہ الجوار“ میں ”لہ“ کو پہلے لانے سے تخصیص پیدا ہوگئی کہ یہ جہاز ، ان کے بنانے کا طریقہ سکھانا ، ہزاروں ٹن وزنی ہونے کے باوجود انہیں سمندر کے سینے پر قائم رکھنا اور ڈوبنے نہ دینا اور لوگوں کو اور ان کے سامان کو درودراز ملکوں تک پہنچانا وغیرہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔
Ayah 55:26کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ :”فان“ ”فنی یقنی فنا“ (س) سے اسم فاعل ہے۔ اس سے پہلے آیت (10) میں زمین کا تذکرہ فرمایا ہے ، اس کے بعد زمین پر موجود چیزوں کا ذکر فرمایا ، جس میں جن و انس بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نعمت کے رنگا رنگ نمونے بھی۔ اس کے بعد بتایا کہ ان میں سے کسی کو بھی بقاو دوام حاصل نہیں ، سب فنا ہونے والے ہیں۔ بقاو دوام صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے لیے ہے۔ (دیکھئے آل عمران : 185۔ فرقان : 58) آیت کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ قصص (88) کی تفسیر۔
Ayah 55:27وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ :”الجلیل“ کا معنی عظمت و کبیریائی ہے اور ”الاکرام“”اکرم یکرم“ (افعال) کا مصدر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ”ذوالاکرام“ ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ عزت دینے والا وہی ہے ، کوئی اور نہیں ، جیسے فرمایا (وَمَنْ یُّہِنِ اللہ ُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ ط) (الحج : 18)”اور جسے اللہ ذلیل کر دے پھر اسے کوئی عزت دینے والا نہیں“۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس کا حق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے ، اس کے بندے اس کی توحید و تسبیح و عبادت کے ساتھ اس کا اکرام کرتے ہیں۔
Ayah 55:28فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : زمین پر موجود ہر شخص کے فناء میں اللہ تعالیٰ کی قدرت تو ظاہر ہی ہے ، اس میں اس کی نعمت بھی ہے ، کیونکہ مرنے کے بغیر کوئی شخص اس کی جنت کا وارث نہیں بن سکتا اور نہ اس کا دیدار حاصل کرسکتا ہے۔ ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎
بے فنائے خود میسر نیست دیدار شما مے فروشد خویش را اول خریدار شما
”اپنے فنا کے بغیر تمہارا دیدار میسر نہیں ہوتا ، تمہیں خریدنے والے کو پہلے اپنا آپ بیچناپڑتا ہے“۔
Ayahs 55:29–301۔ یَسْئَلُـہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط : یہ ہر چیز کے فانی ہونے اور اللہ تعالیٰ کے باقی ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ باقی ہے، کیونکہ وہ غنی ہے ، اپنے وجود یا بقایا کسی بھی چیز میں کسی دوسرے کا محتاج نہیں ، مگر اس کے سوا جو بھی ہے خواہ آسمان ہوں یا زمین یا جو ان دونوں میں ہے ، سب اپنے وجود ، اپنی بقاء اور اپنی ہر ضرورت کے لیے ہر لمحے اس کے محتاج ہیں۔ اپنی ہر ضرورت اسی سے مانگ رہے ہیں ، کوئی زبان ِ قال سے مانگ رہا ہے ، کوئی زبان حال سے اور کوئی دونوں سے۔ جس کی زندگی کا ہر لمحہ مانگنے پر موقوف ہے وہ کیا خاک باقی رہے گا۔
2۔ کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ :”کل یوم“ سے مراد ہر وقت ہے۔”شان“ میں تنوین تنکیر کے لیے ہے ، یعنی وہ ہر لمحے ایک نئی سے نئی شان میں ہے ، کسی کو پیدا ک رہا ہے اور کسی کو مار رہا ہے ، کسی کو اٹھا رہا ہے اور کسی کو گرا رہا ہے ، کسی کو بیمار کر رہا ہے اور کسی کو شفاء بخش رہا ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ید اللہ ملاٰی لا تغیضھا نفقۃ سحاء اللیل والنھار وقال ارایتم ما انفق منذ خلق السماء والارض فانہ لم یغض ما فی یدہ و کان عرشہ علی الماء وبیدہ المیزان یخفض و یرفع) (بخاری ، التفسیر ، سورة ھود، باب قولہ :(وکان عرشہ علی المائ): 4684)”اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے ، کسی قسم کا خرچ کرنا اس میں کمی نہیں لاتا ، رات دن بےحساب برسنے والا ہے۔ تم نے دیکھا اس نے جب سے آسمان و زمین پیدا کیے ، کیا کچھ خرچ کیا ، تو اس (خرچ کرنے) نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں ترازو ہے۔ نیچے کرتا ہے اور اونچا کرتا ہے۔“ اور ابو الدرداء ؓ نے نبی کریم ﷺ سے ”کلی یوم ھو فی شان“ کی تفسیر کے بیان میں روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا :(من شانہ ان یغفر ذنباو یفرج کر با ویرفع قوما و یخفض آخرین) (ابن ماجہ ، المقدمۃ ، باب فیما انکرت الجھمیۃ : 202، وقال الالبانی حسن) ”اس کی شان سے ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی گناہ بخش رہا ہے ، کوئی نہ کوئی مصیبت دور کر رہا ہے اور کسی اقوام کو اونچا کر رہا ہے اور کسی کو نیچا کر رہا ہے“۔
3۔ اس میں یہود کا بھی رد ہے جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان پیدا فرمائے اور ہفتہ کے دن آرام کیا۔ فرمایا وہ ہر دن ہی نئی شان میں سے ہے ، اسے نہ تھکاوٹ ہوتی ہے نہ آرام کی ضرورت ہے۔
4۔ یونان کے فلسفی آسمانی ہدایت سے محروم تھے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کا وجود ماننے کے باوجود اپنے دیوتاؤں کی گاجائش نکالنے کے لیے ایک قاعدہ وضع کیا ، جو یہ تھا کہ ”ہر محل حوارث حادث ہوتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ قدیم ہے ، ہمیشہ سے ہے ، اس لیے اس پر حوادث نہیں آسکتے۔“ افسوس ! بعض مسلمان متکلمین نے بھی ان کا یہ قاعدہ تسلیم کرلیا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کردیا۔ بعض نے تاویل کی اور ایسی تاویل کی جو درحقیقت بدترین تحریف ہے۔ مثلاً اللہ کی صفت کلام ہے۔ جیسا کہ فرمایا :”وَکَلَّمَ اللہ ُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا“ (النسائ : 164)”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا ، خود کلام کرنا“۔ اور فرمایا :(وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللہ ِ) (التوبۃ : 6) ”اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے“۔ اور فرمایا :(اِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ) (یٰسین : 82)”اس کا حکم تو ، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے ، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہوجا“ تو وہ ہوجاتی ہے۔“ یہ ساری کائنات اس کہ کلمہ کن سے وجود میں آئی ہے۔ ظاہر ہے کلام کا ہر لفظ حادث ہے ، پہلے موجود نہیں ہوتا ، پھر وجود میں آتا ہے، اس لیے متکلمین نے اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے ، سنتا ہے ، اترتا ہے ، بلند ہوتا ہے ، خوش ہوتا ہے ، ناراض ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ صفات اور اس جیسی دوسری صفات اللہ تعالیٰ میں ہمیشہ سے ہیں ، ان کی انواع قدیم ہیں مگر افراد حادث ہیں ، ان کا اظہار مختلف اوقات میں ہوتا رہتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ جب چاہے کلام کرتا ہے ، نیچے اترتا ہے ، بلند ہوتا ہے ، پیدا کرتا ہے ، مارتا ہے ، ہر ایک کو ہر لمحے روزی بخشتا ہے ، ہر لمحے ہر ایک کو دیکھتا ہے، اس کی سنتا ہے ، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے ، مگر یونانی فلسفیوں کی تقلید میں متکلمین نے اللہ تعالیٰ کو سننے ، یکھنے ، بولنے خوش ہونے ، ناراض ہونے ، غرض اس طرح کی تمام صفات سے عاری قرار دیا۔ اس مقام بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کے سوال کو سنتا ہے اور ہر لمحے نئی سے نئی شان میں ہے ؟ اب ہم یونان کے کافر فلاسفر اور ان کے مقلد بعض متکلمین کی بات مانیں کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی نئی شان وارد نہیں ہوسکتی یا اللہ تعالیٰ کی بات پر ایمان رکھیں کہ وہ ہر لمحے ایک نئی سے نئی شان میں ہے ؟ ظاہر ہے جس کے دل میں ایمان ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کی بات مانے گا ، خواہ کوئی فلسفی اسے مانے یا نہ مانے۔
Ayah 55:31سَنَفْرُغُ لَکُمْ اَیُّہَا الثَّقَـلٰـنِ :”الثقلین“ ”ثقل“ کی جمع ہے ، بھاری اور وزنی چیز ، مراد زمین پر آباد جاندار مخلوق میں سے دو بھاری اور کثیر التعداد جماعتیں جن و انس ہیں۔ مخلوقات میں سے شرعی احکام کی تکالیف ان دونوں ہی کو دی گئی ہے ، اس لیے انہی کو مخاطب فرمایا۔ طبری نے کہا علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ”سھفرع لکم ایۃ الثقلین“ کے بارے میں ابن عباس ؓ کی تفسیر نقل کی ہے :”وعید من اللہ للعباد ولیس باللہ شغل وھو فارغ ‘ ‘ یعنی ”یہ الفظا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے وعید ہیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ کو دوسرے کسی کام سے روکنے والی کوئی مشغولیت نہیں اور وہ فارغ ہے“۔ امام بخاری نے فرمایا :”سنفرع لکم سنحاسبکم لا یشغلۃ شی عن شی وھو معروف فی کلام العرب یقال لا تفرعن لک وما بہ شغل یقول لا خذنک علی غرتک“ (بخاری ، التفسیر ، سورة الرحمن ، قبل الحدیث : 4878) یعنی ”سنقرع لکم“ (ہم جلد ہی تمہارے لیے فارغ ہوں گے) کا مطلب یہ ہے کہ ہم جلد ہی تمہارا حساب لیں گے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز دوسری چیز سے رکاوٹ نہیں بنتی اور یہ کلام عرب میں معروف ہے۔ کہا جاتا ہے، میں تمہارے لیے فارغ ہوں گا ، حالانکہ اسے کوئی مشغولیت نہیں ہوتی۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں تمہاری غفلت میں تمہیں پکڑوں گا“۔”سنفرغ لکم“ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اے جنو اور انسانو ! ہم نے تمہارے لیے ایک نظام الاوقات طے کردیا ہے ، دنیا میں تمہارے پاس عمل کی مہلت ہے ، یہاں ہم ہر لمحے تمہاری ضرورتیں پوری کررہے ہیں ، جو مانگتے ہودے رہے ہیں، بہت جلد ہم اس مرحلے سے فارغ ہوں گے ، پھر قیامت قائم ہوگی اور تمہارے محاسبے کا مرحلہ شروع ہوجائے گا۔
Ayah 55:32فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : اس نظام عالم کو درہم برہم کر کے قیامت برپا کرنا ، ان دونوں جماعتوں سے حساب لینا ، پھر اس کے مطابق جزاء و سزا دینا اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی عظیم قدرت کا اظہار بھی ہے اور اہل ایمان کے لیے بہت بڑی نعمت بھی ، جس کے متعلق فرمایا :(فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ)”کہ تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟“
Ayah 55:33یٰـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ۔۔۔۔۔:”معشر“”عشر“ سے ’ ’ مفعل“ کے وزن پر ہے ، کثیر التعداد جماعت کو کہتے ہیں ، کیونکہ اس میں بہت سے عشرات پائے جاتے ہیں ، جن کا شمار یکے بعد دیگرے دہائیوں میں ہوتا ہے۔ ’ ’ افطار“ ”فطر“ کی جمع ہے، کنارا۔ ”سلطان“ قدرت اور غلبہ۔ یعنی اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! دنیا میں اگر تم موت سے بچنے کے لیے آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاؤ ، مگر تم اللہ تعالیٰ پر غالب آکر ہی نکل سکو گے : جس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، جیسا کہ فرمایا (اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ط) النسائ : 78)”تم جہاں کہیں بھی ہوگے موت تمہیں پالے گی ، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔“ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے محاسبے اور اس کی گرفت سے بچنے کے لیے اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاؤ۔۔۔۔۔ اس سے ملتا جلتا مفہوم اس آیت کا ہے ، فرمایا :(فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَ خَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ کَلَّا لَا وَزَرَ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِنِ الْمُسْتَقَرُّ) (القیامہ : 7 تا 12) ”پھر جب آنکھ پتھرا جائے گی۔ اور چاند گہنا جائے گا ، اور سورج چاند اکٹھے کردیئے جائیں گے۔ انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ ہرگز نہیں ، پناہ کی جگہ کوئی نہیں۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔“ آج کل راکٹ یا خلائی گاڑی کے ذریعے سے چاند پر یا کسی اور کرے پر جانے کے تجربات ہو رہے ہیں ، بعض لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ ”لا تنفذو ن الا بسلطن“ (تم غلبے کے بغیر نہیں نکل سکو گے) سے مراد یہ ہے کہ ان مشینوں کے ذریعے سے ”افطار السموات والارض“ سے نکلنا ممکن ہے ، حالانکہ ان کوششوں کی آیت کے مفہوم کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ یہ بےچارے تو زمین و آسمان کے درمیان خلاء میں پھر رہے ہیں ، آسمان و زمین کے کناروں تک رسائی تو بہت دور ہے ، پھر وہ ذرۂ بےمقدار ، جس کا ایک سانس بھی اس کے اپنے اختیار میں نہیں ، وہ اپنی قوت کے ساتھ ”اقطار السموات والارض“ سے نکلنے کی بات کرے تو یہی کہا جاسکتا ہے ؎
بت کریں آرزو خدائی کی شان ہے تیری کبریائی کی
Ayah 55:34فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : یہاں ”الاء“ کا معنی ”قدرتیں“ واضح ہے اور وعید گناہوں سے باز آنے کا باعث ہونے کی وجہ سے عظیم نعمت بھی ہے۔
Ayahs 55:35–36یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ۔۔۔:”شواظ“ آگ کا شعلہ جس میں دھواں نہ ہو اور ”نحاس“ دھواں۔ ”نحاس“ کا معنی تانبا بھی ہے ، مراد پگھلا ہوا تانبا ہے۔ ’ انتصر ینتصر انتصاراً“ اپنا بچاؤ کرنا ، انتقام لینا ، یعنی تم ہمارے قبضے سے کسی صورت بھی نکل کر بھاگ نہیں سکتے ، اگر تم یہ ارادہ کرو گے تو تم پر خالص آگ کے شعلے برسائے جائیں گے ، جو تمہیں جلا کر بھسم کردیں گے اور دھواں جو تمہارے سانس تک بند کر دے گا ، پھر نہ تم اپنا بچاؤ کرسکو گے اور نہ کسی طرح انتقام لے سکو گے۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ تم پر آگ کے شعلوں کے ساتھ پگھلا ہوا تانبا پھینکا جائے گا ، جو دونوں تمہیں جلا کر۔۔
Ayahs 55:37–38فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ۔۔۔۔۔۔”وردۃ“ گلاب کے پھول کی طرح گلابی۔۔۔۔ ”الدھان“ میں علماء کے دو قول ہیں ، ایک سرخ چمڑا اور دوسرا ”تیل“ جو ملا جاتا ہے۔ اس معنی میں بعض کہتے ہیں : ”الدھان“ ”’ ھن“ کی جمع ہے اور بعض کہتے ہیں مفرد ہے۔ تیل کو ”دھن“ بھی کہتے ہیں اور ”دھان“ بھی۔ ”فاذا انشقت السمائ“ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حاقہ (16) ، فرقان (25) اور سورة ٔ انشقاق (1، 2)
اگر ”الدھان“ کا معنی سرخ چمڑا کریں تو اس وقت آیت میں آسمان کے ایک وصف کا بیان ہے کہ آسمان جو آج نیلگوں ہے اس وقت سرخ چمڑے کی طرح لال گلابی ہوجائے گا اور اگر ”الدھان“ کا معنی تیل کیا جائے تو آیت میں آسمان کے پھٹنے کے وقت اس کے دو صفوں کا بیان ہوگا ، ایک یہ کہ وہ حرارت کی شدت سے سرخ ہوگا اور دوسرا یہ کہ پگھل کر تیل کی طرح ہوجائے گا ، جیسا کہ فرمایا :(یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَآئُ کَالْمُھْلِ) (المعارج : 8) ”جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے (یا تلچھٹ) کی طرح ہوجائے گا“۔ (شنقیطی)
Ayahs 55:39–40فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسَئَلُ عَنْ ذَنْبِہٖٓ اِنِسٌ وَّلَا جَآنٌّ : یعنی اس دن یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کون مجرم ہے اور اس نے کیا گناہ کیا ہے ، کسی انسان یا جن سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی ، کیونکہ تمام مجرم اپنی علامت ہی سے پہچانے جائیں گے ، جیسا کہ اگلی آیت میں آرہا ہے :(یعرف المجرمون بسمھم) ”مجرم اپنی علامت سے پہچانے جائیں گے“۔ اور جیسا کہ سورة ٔ قصص میں فرمایا :(وَلَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِھِمُ الْمُجْرِمُوْنَ) (القصص : 78)”اور مجرموں سے انکے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔“ ہاں ڈانٹنے ، ذلیل کرنے اور ملامت کرنے کے لیے ضرورپوچھا جائے گا : جیسا کہ فرمایا :(فَوَ رَبِّکَ لَنَسْئَلَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ) الحجر : 92، 93)”سو تیرے رب کی قسم ہے ! یقینا ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے۔ اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے“۔ اور فرمایا :(وَقِفُوْہُمْ اِنَّہُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ) (الصافات : 24)”اور انہیں ٹھہراؤ ، بیشک یہ سوال کیے جانے والے ہیں“۔