Ayahs 55:41–421۔ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰہُمْ۔۔۔ (56) یعنی ان کے چہرے سیاہ ہوں گے ، جیسا کہ فرمایا (یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ ج) (آل عمران : 106) ”جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے“۔ آنکھیں نیلی ہوں گی ، جیسا کہ فرمایا :(وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًا) طہٰ : 102) ”اور ہم مجرموں کو ان دن اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے“۔ اور اعمال نامے پیٹھ کے پیچھے بائیں ہاتھ میں پکڑ رکھے ہوں گے۔ دیکھئے سورة ٔ انشقاق (10) اور سورة ٔ حاقہ (25)۔
2۔ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَالْاَقْدَامِ : یعنی ہر مجرم کو پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑ کر جہنم میں پھنک دیا جائے گا۔
Ayah 55:43ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیْ یُکَذِّبُ بِہَا الْمُجْرِمُوْنَ : یہ بات مجرموں سے کہی جائے گی (دیکھئے طور : 14) اور یہ بھی ہے کہ میں سمجھانے کے لیے یہ بات بتائی جا رہی ہے۔
Ayahs 55:44–45یَطُوْفُوْنَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ :”ان“ ”انی یانی انی“ (ض) سے اسم فاعل ہے ، جیسا کہ ”قاض“ ہے ، انتہائی گرم ، کھولنے والا۔ سورة ٔ غاشیہ میں ہے :(تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ) (الغاشیہ : 5)”و ہ ایک کھولتے ہوئے چشمے سے پلائے جائیں گے۔“ (”انی“ کھانے کا پک کر تیا ر ہونا ، جیسے فرمایا :(غیر نظرین انہٗ) الاحزاب : 53)”اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہوں“۔”یطوفون“ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (66 تا 68)
Ayahs 55:46–471۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّـتٰنِ :”مقام“”قام یقوم قیاماً“ (ن) سے ظرف بھی ہوسکتا ہے ،”کھڑا ہونے کی جگہ یا وقت“ اور مصدر میمی بھی ہوسکتا ہے۔ ”کھڑا ہونا“۔ جہنم اور اہل جہنم کے تذکرے کے بعد اہل جنت کا ذکر فرمایا۔ ”مقام ربہ“ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں قرآن مجید کی آیات میں ملتے ہیں ، ایک یہ کہ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو باغ ہیں۔ اس صورت میں ”مقام ربہ“ سے مراد بندے کا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے ، فرمایا :(یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ) (المطففین : 6)”جس دن لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے“۔ دوسرا یہ کہ جو شخص اپنے رب کے (اپنے اوپر ہر وقت) قائم (نگران) ہونے سے ڈر گیا۔ اس معنی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے ، فرمایا :(اَفَمَنْ ہُوَ قَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ ج) (الرعد : 33)”تو کیا وہ جو ہر جان پر اس کا نگران ہے جو اس نے کمایا (کوئی دوسرا اس کے برابر ہوسکتا ہے) ؟“ آیت سے دونوں معنی بیک وقت مراد ہوسکتے ہیں اور یہ بھی قرآن مجید کا ایک کمال ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ متعدد معانی کا حامل ہے۔ یعنی جو شخص اس بات سے ڈر گیا کہ اس نے قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اس بات سے بھی ڈرتا رہا کہ اس کا رب اس کی ہر چھوٹی بڑی حرکت کو دیکھ رہا ہے ، تو اس کے لیے دو باغ ہیں۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ جنت کی وارثت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے ، کیونکہ یہی وہ جوہر ہے جو انسان کو صراط مستقیم پر قائم رکھتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچاتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو موقع میسر ہونے پر انسان کو کوئی بھی چیز کسی بھی جرم کے ارتکاب سے نہیں روک سکتی اور جب یہ موجود ہو تو آدمی کے قدم مشکل سے مشکل مقام پر نہیں ڈگمگاتے۔ صحیح بخاری (660) میں قیامت کے دن جن سات آدمیوں کو عرش کا سایہ ملنے کی بشارت دی گئی ہے ان سب کے اعمال میں اصل اللہ تعالیٰ کا ڈر ہی ہے اور اس کفن چور کی مغفرت کا باعث بھی اللہ کا ڈر تھا جس نے وصیت کی تھی کہ مجھے جلا کر میری کچھ راکھ کو ہوا میں اڑا دیا جائے اور کچھ کو پانی میں بہا دیا جائے۔ (دیکھئے بخاری : 3452)”مقام ربہ“ کے لفظ میں خوف کے ساتھ محبت کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ وہ کسی اجنبی یا ظالم سے نہیں ڈر رہا ، بلکہ اپنے مالک سے ڈر رہا ہے جس نے اسے پیدا کیا ، پھر ہر لمحے اس کی پرورش کر رہا ہے اور اس کی ہر ضرورت پوری کر رہا ہے۔
2۔ جنتن :”جنۃ“ کا اصل معنی باغ ہے۔ قرآن مجید میں کہیں یہ لفظ مفرد آیا ہے اور تمام اہل ایمان کے ایک ہی جنت میں داخلے کا ذکر ہے ، جیسا کہ فرمایا :(مَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَـلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَہَاج وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰـٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُوْنَ فِیْہَا بِغَیْرِ حِسَابٍ) (المومن : 40)”اور جس نے کوئی نیک عمل کیا ، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، اس میں بےحساب رزق دیئے جائیں گے“۔ اور کہیں جمع آیا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰـرُ ط) (البقرہ : 25)”اور ان لوگوں کو خوش خبری دے دے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے کہ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے تلے نہریں بہتی ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اس بڑے باغ میں بیشمار باغات ہیں ، جن میں سے ہر مومن کو دو دو باغ عطاء کیے جائیں گے ، جن کا وہ مالک ہوگا (لام تملیک کے لیے ہے) اور جن میں وہ سب کچھ ہوگا جس کا آگے ذکر ہو رہا ہے۔
3۔ ان آیات میں ہر اس شخص کو دو دو باغ ملنے کا ذکر ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا۔ چند آیات کے بعد اور دو باغوں کا ذکر ہے ، فرمایا :(ومن دونھما جنتن) جس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان دونوں کے علاوہ بھی دو باغ ہیں اور یہ بھی کہ ان دونوں سے کم درجے والے بھی دو باغ ہیں۔ دونوں آیات کو ملائیں تو مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کے علاوہ دو اور باغ ہیں جو پہلے باغوں سے کم درجے کے ہیں۔ تحقیق یہی ہے کہ پہلے دو باغ اعلیٰ ہیں جو مقربین کے لیے ہیں اور دوسرے دو باغ ان سے کم درجے والے ہیں جو اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔ سورة ٔ واقعہ میں بھی سابقین کو مقربین قرار دے کر انہیں ملنے والی نعمتوں کا پہلے الگ ذکر فرمایا ہے ، اس کے بعد اصحاب الیمین کا ذکر کر کے انہیں ملنے والی نعمتوں کا الگ ذکر فرمایا ، یہاں بھی ایسے ہی ہے ، تقریباً ہر نعمت میں دونوں کا فرق نمایاں ہے ، تفسیر میں اس فرق کی طرف اشارہ آرہا ہے۔ امام بخاری ؒ تعالیٰ نے صحیح بخاری میں یہ حدیث ذکر فرمائی ہے کہ عبد اللہ بن قیس (ابو موسیٰ اشعری ؓ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(جنتان من فضۃ ، انیتھما وما فیھما ، وجنتان من ذھب انیتھما وما فیھما وما بین القوم و بین ان ینظروا الی ربھم الا رداء الکبر علی وجھہ فی جنۃ عدن) (بخاری التفسیر ، باب قولہ، (ومن دونھما جنتان): 4878) ”دو باغ ایسے ہیں جن کے برتن اور جو کچھ ان دونوں میں ہے چاندی کا ہے اور دو باغ ایسے ہیں جن کے برتن اور جو کچھ ان میں سے ہے سونے کا ہے۔ اور جنت عدن میں جنتیوں کے درمیان اور ان کے اپنے رب کو دیکھنے کے درمیان کبریائی کی چادر کے سوا کوئی رکاوٹ نہیں جو اس کے چہرے پر ہے“۔ صحیح بخاری میں اس کی سند اس طرح ہے :”حدثنا عبد اللہ بن ابی الاسود ، حدثنا عبد العزیز بن عبد الصمد العمی ، حدثنا ابو عمران الحونی عن ابی بکر بن عبد اللہ بن قیس عن ابیہ ان رسول اللہ ﷺ قال۔۔۔۔“ فتح الباری (8/624) میں ہے کہ اسی حدیث کو ابن مردویہ نے (عبد العزیز کے بجائے) ”حماد عن ابی عمران“ بیان کیا ہے ، اس میں یہ لفظ ہیں (من ذھب للسابقین و من فضۃ للنابعین) یعنی سابقین کے لیے سونے والے اور تابعین کے لیے چاندی والے باغ ہوں گے۔ اور ابوبکر سے ثابت کی روایت میں یہ الفاظ ہیں :(من ذھب للمقربین ومن فتۃ لاصحاب الیمین) یعنی سونے والے باغ مقربین کے لیے اور چاندی والے اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔ اس حدیث کے طرق سے واضح ہے کہ پہلے دو باغ مقربین کے لیے ہیں اور دوسرے دو باغ اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔
Ayahs 55:48–49ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ”افنان“ ”فنن“ کی جمع ہے ، سیدھی لمبی شاخ اور ”فن“ کی جمع بھی ہے جس کا معنی نوع ہے۔ بہت شاخوں والے سے مراد شاخوں ، پتوں اور پھلوں کی کثرت ہے ، ورنہ باغوں کی ٹہنیاں تو ہوتی ہی ہیں اور اگر ”افنک“ ’ فن“ کی جمع ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں باغ بہت سی قسموں کے پودوں اور درختوں والے ہیں۔
Ayahs 55:50–51فِیْہِمَا عَیْنٰـنِ تَجْرِیٰـنِ : چشمے دو قسم کے ہوتے ہیں ، ایک وہ جن سے اتنا پانی نکلتا ہے جو آگے بہنے لگتا ہے اور ندی نالے کی صورت اختیار کرلیتا ہے وہ ایک وہ جن سے پانی نکلتا ہے مگر اتنا ہی جتنا ان میں سے نکالا جاتا ہے ، جیسا کہ زمزم کا چشمہ پھوٹ کر نکلا اور ہاجرہ (علیہا السلام) نے اس کے گرد ریت وغیرہ کی منڈیر بنادی تو وہ وہیں رک گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”اللہ ام اسماعیل پر رحم فرمائے، اگر وہ اس کے گرد منڈیر نہ بناتی تو وہ ندی کی صورت میں جاری ہوجاتا“۔ (دیکھئے ، بخاری : 2368) مطلب یہ ہے کہ ان دونوں چشموں کا پانی ایک جگہ ٹھہرا ہوا نہیں بلکہ بہہ رہا ہے۔
Ayahs 55:52–53فِیْہِمَا مِنْ کُلِّ فَاکِہَۃٍ زَوْجٰـنِ : ہر پھل کی دو قسموں سے مراد یا تو ایک وہ ہے جو دنیا میں تھی اور دوسری وہ جو نہ کسی نے سنی ، نہ دیکھی اور نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزارا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ ایک ہی پھل میں متعدد ذائقے ہوں گے ، جیسا کہ دنیا میں آدم ہی کو لے لیجئے ، ہر آدم کا ذائقہ جدا ہے۔ دنیا کے پھلوں کی جنت کے پھلوں سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ”زوجن“ تثنیہ کا لفظ جمع اور کثرت کے معنی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ کلام عرب میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔”التحریر والتنویر“ میں اس کے کئی شواہد ذکر کیے گئے ہیں۔
Ayahs 55:54–551۔ مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی فُرُشٍ م۔۔۔۔۔”مُتَّکِئِیْنَ“”و کی“ سے ”اتکا یت کی اتکا“ (افتعال) ہے اسم فاعل ”من کی“ کی جمع ہے ، پہلو پر کہنی کے سہارے لیٹے ہوئے یا ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے شخص کو کہتے ہیں۔”فرش“ ”فراش“ کی جمع ہے ، جیسے ”کتاب“ کی جمع ”کتب“ ہے۔ ”بطائن“ ”بطانۃ“ کی جمع ہے ، گدے کے بیرونی حصے کو ”ظھارۃ“ اور اندرونی حصے کو ”بطانۃ“ کہتے ہیں۔ اردو میں ”بطانۃ“ کو استر اور ”ظھارۃ“ کو ابرا کہتے ہیں۔ ”استبرق“ موٹا ریشم جس میں سونے کی تاریں ہوں۔ یعنی اپنے رب سے ڈرنے والے یہ جنتی بےفکری کے ساتھ ایسے بستروں پر ٹیک لگا کر بیٹھے یا لیٹے ہوں گے جن کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے۔ جب استر ایسے ہوں گے تو ابرے کس شان کے ہوں گے۔
2۔ وَجَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍ ”جنی یجنی“ (ض (پھل چننا) سے مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، پھل۔”’ ان“ ”دنا ، یدنو دنوا“ (ن) سے اسم فاعل ہے ، قریب۔ یعنی دونوں باغوں کا پھل قریب ہوگا ، کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے جب چاہیں گے چن سکیں گے۔
Ayahs 55:56–571۔ فِیْہِنَّ قٰـصِرٰتُ الطَّرْفِ :”فیھن“ کی ضمیر ”فرش“ کی طرف جا رہی ہے۔”قصرت“ قصر قیصرقصرا“ (روکنا) سے اسم فاعل ہے ، آنکھوں کو خاوند پر روک کر رکھنے والیاں۔ جنت کے محلوں ، چشموں اور باغوں میں بچھے ہوئے بستروں میں جنتیوں کے دل لگانے والی عورتوں کے ظاہری و باطنی اوصاف اور ان کے کمال و جمال کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کا معنوی حسن بیان فرمایا کہ ان کی آنکھیں خاوندوں کے سوا کسی اور کی طرف نہیں اٹھیں گے اور نہ ہی ان کی نگاہ میں ان کی خاوندوں سے بڑھ کر کوئی ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک وصف ہی ہزاروں اوصاف پر بھاری ہے ، کوئی عورت کتنی ہی حسین و جمیل ہو، اس وصف سے عاری ہو تو مرد غیور کی نگاہ میں اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں رہتی۔ عرب کا ایک شاعر کہتا ہے ؎
واترک حبھا من غیر بغض وذاک لکثۃ الشرکاء فیہ
اذا وفع الذباب علی طعام رفعت یدی و نفسی تشتھیہ
وتجتنب الاسود ورود ما اذا کان الکلاب ولغن فیہ
”میں اس کی محبت کسی بغض کے بغیر ترک کر رہا ہوں ، کیونکہ اس محبت میں اور بھی کئی شریک ہیں۔ جب مکھی کھانے پر آگرے تو میں اپنا ہاتھ اٹھا لیتا ہوں ، حالانکہ میرا دل اسے چاہ رہا ہوتا ہے۔ اور شیر پانی پر آنے سے اجتناب کرتے ہیں ، جب کتوں نے اس میں منہ ڈال دیا ہو“۔
2۔ لَمْ یَطْمِثْہُنَّ اِنْسٌ قَبْلَہُمْ وَلَا جَآنٌّ :”طمث یطمث طمثاً“ (ض) چھونا۔ یعنی وہ عورتیں کنواری ہوں گی ، اگر دنیا میں خاوندوں کے پاس رہی ہوں گی تب بھی جنت میں آکر نئے سرے سے کنواری ہوجائیں گی اور جنت میں ملنے والے خاوندوں سے پہلے کسی نے انہیں چھوا تک نہ ہوگا۔ اصحاب الیمین کو ملنے والی عورتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـہُنَّ اِنْشَآئً فَجَعَلْنٰـہُنَّ اَبْکَارًا عُرُبًا اَتْرَابًا لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ) (الواقعہ : 35 تا 38)”بلا شبہ ہم نے ان (بستروں والی عورتوں) کو پیدا کیا ، نئے سرے سے پیدا کرنا۔ پس ہم نے انہیں کنواریاں بنادیا۔ جو خاوندوں کی محبوب ، ان کی ہم عمر ہیں۔ دائیں ہاتھ والوں کے لیے۔“ پھر مقربین کو ملنے والی بیویوں کا معاملہ تو ان سے کہیں بڑھ کر ہوگا۔
3۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسانوں کی طرح جن بھی جنت میں جائیں گے ، وہاں انسانوں کو ان کی جنس سے بیویاں ملیں گی اور جنوں کو ان کی جنس سے ، کیونکہ دوسری جنس سے نہ موافقت ہوتی ہے نہ انس ، پھر ”اتراباً“ (مٹی میں کھیلنے والے ہم جولی) ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Ayahs 55:58–59کَاَنَّہُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَا :”الیاقوت“ سرخ رنگ کا پتھر جو اتنا صاف شفاف ہوتا ہے کہ اس کے درمیان سوراخ میں دھاگہ ڈالا جائے تو باہر سے نظر آتا ہے۔”المرجان“ مونگے (چھوٹے موتی) کو کہتے ہیں۔ جتنی عورتوں کی سرخ و سفید رنگت ، دلکشی ، صفائی اور شفاعت میں انہیں یاقوت اور مرجان سے تشبیہ دی ہے۔ محمد (ابن سیرین) کہتے ہیں :(امام تفاخروا واما تذاکروا الرجال فی الجنۃ اکثرام النسائ ؟ فقال ابوہریرہ او لم یقل ابو القاسم ﷺ ان اول زمرۃ تدخل الجنۃ علی صورۃ القمر لیلۃ البلدر والتی تلیھا علی اضوا کوکب ذری فی السماء لکل امرء منھم زوجتاک اثنتان یری مخ سوقھما من وراء اللحم وما فی الجنۃ عزب) (مسلم الجنۃ وصفۃ نعیمھا ، باب اول زمرۃ تدخل الجنۃ، 2834) ”یا تو اس بات پر کہ لوگوں نے عورتوں اور مردوں کے مابین فخر کا ذکر کیا ، یا ویسے ہی گفتگو ہوئی کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں ؟ تو ابوہریرہ ؓ نے کہا : ”کیا ابو لقاسم ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہوگی چودھویں کے چاند کی طرح ہوگی اور اس کے بعد والی جماعت آسمان کے سب سے زیادہ روشن چمکدار ستارے کی طرح ہوگی ، ان میں سے ہر مرد کی دو بیویاں ہوں گی ، جن کی پنڈلیوں کا مغزگوشت کے پار سے نظر آرہا ہوگا اور جنت میں کوئی شخص بیوی کے بغیر نہیں ہوگا“۔ انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لروحۃ فی سبیل اللہ او غدوۃ خیر من الدنیا وما فیھا ، ولقاب قوس احد کم من الجنۃ او موضع فید یعنی سوطہ خیر من الدنیا وما فیھا ولو ان امراۃ من اھل الجنۃ اطلعت الی اھل الالرض لا ضاعت ما ینھما ولملاتہ ریحا ، والنصیفھا علی راسھا خیر من الدنیا وما فیھا) (بخاری ، الجھاد والسیر ، باب حور لعین وصفتھن : 2796) ”اللہ کے راستے میں ایک شام یا ایک صبح دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں تمہارے کسی ایک کی ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور اگر اہل جنت کی کوئی عورت زمین والوں کی طرف جھانک لے تو زمین و آسمان کے درمیان کا سارا حصہ روشن ہوجائے اور یہ سارا خلاء خوشبو سے بھر جائے اور اس کے سرکا دوپٹا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔“
Ayahs 55:60–61ہَلْ جَزَآئُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ : پہلے احسان کا معنی نیکی اور دوسرے احسان کا معنی اس نیکی کا نیک صلہ یعنی جنت ہے۔ حدیث جبریل میں رسول اللہ ﷺ نے احسان کا مطلب یہ بیان فرمایا (ان تعبد اللہ کانک تراہٗ ، فانک ان لا تراہ فانہ یراک) (مسلم ، الایمان ، باب الایمان ، ماھو ؟۔۔۔۔۔: 9)”تو اللہ کی عبادت اس طرح کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے ، پھر اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ یقینا تجھے دیکھ رہا ہے“۔ ظاہر ہے جس شخص نے اپنی زندگی اپنے پروردگار کو ہر وقت اپنے اوپر نگران ہونے کے یقین اور احتیاط کے ساتھ گزاری اس کا بدلا بھی ایسا ہی اچھا اور خوبصورت ہونا چاہیے ، جس کا بیان ان آیات میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں حصر کے ساتھ جو فرمایا کہ ”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے ؟“ تو اس سے عدل و انصاف کے تقاضے کے مطابق بدلا مراد ہے ، ورنہ مشرک اور ظالم تو نیکی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں ، گویا یہ ایک طرح ان پر طنز بھی ہے۔ کفار کے طرز عمل کے مثالوں کے لیے دیکھئے سورة ٔ عنکبوت (65، 66) اعراف (190) اور سورة ٔ واقعہ (82)۔۔
Ayahs 55:62–63وَمِنْ دُوْنِہِمَا جَنَّـتٰنِ : جیسا کہ ”ولمن خاف مقام ربہ جنتن“ کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ پہلی دو جنتیں جن کا ذکر اوپر گزرا ، اللہ سے ہمیشہ ڈرنے والے مقربین کے لیے ہیں اور یہاں سے عام اہل ایمان یعنی اصحاب الیمین کو ملنے والی جنتوں کا ذکر ہوتا ہے ، جو کئی باتوں میں پہلی دونوں جنتوں کے ساتھ مشرک اور کئی باتوں میں ان سے کم تر ہیں۔
Ayahs 55:64–65مُدْہَآ مَّـتٰنِ :”ادھم یدھم ادھماماً“ (افعلال) سیاہ ہونا اور ”ادھام یدھام ادھماماً“ (افعیلال) بہت سیاہ ہونا۔ یعنی وہ دونوں باغ گہرے سبز ہوں گے جیسے بہت سیاہ ہوں۔ پہلے دو باغوں میں شاخوں اور پتوں کی کثرت کا ذکر ہے جن کے ضمن میں ان کا گہرا سبز ہونا خود بخود آجاتا ہے اور یہاں صرف ان کے گہرے سبز رنگ کا ذکر ہے۔
Ayahs 55:66–67فِیْہِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ :”نضخ ینضخ نضخا“ (ف)”المائ“ پانی کا جوش سے نکلنا۔ یعنی ان دونوں جنتوں میں دو جوش مارنے والے چشمے ہوں گے۔”عینن تجرین“ اور ”عینن نضاختن“ کے تاقبل کے لیے دیکھتے اسی سورت کی آیت (50) کی تفسیر۔
Ayahs 55:68–69فِیْہِمَا فَاکِہَۃٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ :”فاکھۃ“ اسم جنس ہے ، اس میں ہر پھل آجاتا ہے۔ کھجور اور انار بھی ”فاکھۃ“ میں شامل ہیں ، مگر عرب میں ان کی کثرت اور ان کے پسندیدہ پھل ہونے کی وجہ سے انکا الگ ذکر فرمایا ہے۔ مقربین کیلئے ”من کل فاکھۃ زوجن“ اور اصحاب الیمین کے لیے ”فاکھۃ ونخل ورمان“ فرمایا۔ دونوں کا فرق واضح ہے۔
Ayahs 55:70–711۔ فِیْہِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ :”خَیْرٰتٌ“ ”خیرۃ“ کی جمع ہے جو اصل میں ”یائ“ کی تشدید کے ساتھ ”خیرۃ“ ہے۔ مذکر اس کا ”خیر“ (روزوں فتر) ہے ، جس میں ”یائ“ کو تخفیف کے لیے حدف کردیا ہے ، جیسے ”ھین، لین“ اور ”میت“ کو ”ھین ، لین“ اور ”میت“ کردیتے ہیں۔ یہ تفصیل والا ”خیر“ نہیں جو ”شر“ کے مقابلے میں آتا ہے، کیونکہ اس کا اصل ”اخیر“ (افعل) ہے۔ ”حسان“ حسنائ“ کی جمع ہے۔”خیرت“ نیک ، یعنی خوب سیرت اور ”حسان“ خوبصورت عورتیں۔
2۔ یہاں یہ بات زیر نظر رہنا ضروری ہے کہ اس جگہ یہ نہیں فرمایا کہ ”فیھما خیرات حسان“ (ان دونوں باغوں میں خوب سیرت و خوبصورت عورتیں ہیں) بلکہ فرمایا :(فیھن خیرت حسان) یعنی ان سب جنتوں میں جن کا ذکر گزرا ہے خوب سیرت اور خوبصورت عورتیں ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہاں جو اوصاف مذکور ہوئے وہ چاروں جنتوں میں سابقون اور اصحاب الیمین کو ملنے والی عورتوں میں مشترک ہیں۔
Ayahs 55:72–751۔”حور“ ”حورا“ کی جمع ہے، مادہ اس کا ”حور“ ہے ، ”گورے رنگ کی عورتیں“ جنہیں دیکھ کر آنکھ حیران رہ جائے اور جن کی آنکھ کی سفیدی بہت سفید اور سیاہی بہت سیاہ ہو (دیکھئے بخاری : الجھاد والسیر ، باب الحور لعین و صفتھن ، قبل ح : 2175)
2۔ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ : لفظ ”حور“ میں ان کی صورت کا حسن بیان ہوا ہے اور ”مقصورت فی الخیام“ میں ان کی سیرت کا حسن بیان ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ عورت کی خوبی گھر رکے رہنے میں ہے۔ ان الفاظ میں ان عورتوں کے لیے ہر طرح کی خوش حالی اور نعمت میسر ہونے کا اشارہ بھی ہے ، کیونکہ دنیا میں سردار عورتوں کو کسی کی نوکری یا خدمت یا کھیتوں وغیرہ میں کام کرنے کے لیے گھر سے باہر نہیں جانا پڑتا ، حتیٰ کہ میل ملاقات کے لیے بھی دوسری عورتیں ہی ان کے پاس آتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ نہایت معزز اور مخدوم ہیں ، جیسا کہ ابو قیس بن الاسلت نے کہا ہے ؎
ویکرمھا جارا تھا فیزرنھا وتعتل عن اتیانھن فتعذر
”اس کی پڑوسنیں اس کا اکرام کرتی ہیں ، اس لیے اس سے ملنے کے لیے خود آتی ہیں اور یہ انکے پاس آنے سے کوئی نہ کوئی بہانہ کردیتی ہے تو اسے قبول کرلیا جاتا ہے“۔ (التحریر والتنویر)
3۔ فی الخیام :”الخیام“ ”خیمۃ“ کی جمع ہے ، جو عموماً پشم یا بالوں کے بنے ہوئے کپڑے سے بنایا جاتا ہے۔ پھر جتنے خوشحال لوگوں کا ہو اتنا ہی قیمتی ، اونچا اور شاندار بنایا جاتا ہے۔ جنت کے خیموں کا وصف رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا : عبد اللہ بن قیس (ابو موسیٰ اشعری ؓ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان فی الجنۃ خیمۃ من لزکوۃ مجوفۃ عرضھا ستون میلا فی کل زاویۃ منھا اھل ما یرون الاخرین یطوف علیھم المومنون) (بخاری التفسیر ، باب :(حور مقصورات فی الخیام) 4879)”جنت میں ایک خولدار موتی کا خیمہ ہے جس کا عرض ساٹھ (60) میل ہے ، اسکے ہر کونے میں ایک گھر والے ہیں جو دوسروں کو نہیں دیکھتے ، مومن ان پر چکر لگائیں گے۔
Ayahs 55:76–77مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّعَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ :”زفرف“ اس جنس یا اسم جمع ہے ، مفردم اس کا ”رفرفۃ“ ہے ، منقش قالین جو بستر پر بچھایا جائے۔ ’ ’ عقبری“ کوئی بھی چیز جو اپنی جنس میں سب سے فائق اور نادر الوجودہو۔ اس کی نسبت ”عبقر“ کی طرف ہے جو جاہلیت کے افسانوں میں جنوں کا شہر تھا۔ جسے اردو میں پرستان کہتے ہیں۔ عرب میں فوق العادت خوبصورت یا کمال چیز کی نسبت اس کی طرف کردیتے تھے ، گویا یہ انسانوں کی سر زمین کی نہیں بلکہ جنوں اور پریوں کی سرزمین کی چیز ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے کنویں سے پانی کھینچنے والے خواب کے ذکر میں فرمایا :(ثم اخذھا عمر ، فاستحالت بیدہ غربا ، فلم ار عبقربا فی الناس یفری فریۃ) (بخاری ، المناقب ، باب علامات النبوۃ فی الاسلام : 3634)”پھر وہ ڈول عمر ؓ نے پکڑا تو وہ ایک بڑے ڈول کی شکل میں بدل گیا۔ تو میں نے کوئی نادر قوت والا شخص نہیں دیکھا جو اس جیسی کاٹ کاٹتا ہو۔“ اس لیے اس کا ترجمہ شاہ رفیع الدین ؒ تعالیٰ نے ”نادر“ کیا ہے اور ”حسان“ کا ترجمہ ”نفیس“ کیا ہے۔ ”زفرف ‘ ‘ کا لفظ منفرد ہے ، اس کے مطابق ”عبقری“ صفت مفرد لائی گئی ہے اور اسم جنس یا اسم جمع ہونے کی وجہ سے اس میں جمع کا مفہوم پایا جاتا ہے ، اس لیے اس کی صفات ”خضر“ اور ”حسان“ جمع لائی گئی ہیں۔
Ayah 55:78تَبٰـرَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ :”تبرک“ باب تفاعل ہے ، جب اس میں تشارک مقصود نہ ہو تو مبالغہ مراد ہوتا ہے ، یعنی بہت برکت والا ہے تیرے رب کا نام۔ پھر جب اس کا نام بہت برکت والا ہے تو اس کی ذات پاک کس قدر با برکت ہوگی۔ ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور یوں کہتے :(اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال والاکرام) (مسلم المساجد ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ۔۔۔۔ 591) ”اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تجھی سے سلامتی ہے اے جلال اور اکرام والے !“ اس دعا میں کئی لوگ ان الفاظ کا اضافہ کرتے ہیں :”والیک یرجع السلام حینا ربنا بالسلام و ادخلنا دار السلام“۔ یہ الفاظ حدیث سے ثابت نہیں ہیں۔
”ذی الجلل والا کرام“ اللہ تعالیٰ کا ایسا با برکت نام ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے کثرت سے پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :(الظور بیا ذا الجلال والاکرام) (ترمذی ، الدعوات ، باب : 2524، وقال الالبانی صحیح)”یا ذالجلال والاکرام“ سے چمٹ جاؤ ، اسے لازم پکڑ لو۔“”الظوا“ ”الظ یلظ الظاظا“ سے ہے جس کا معنی ”چمٹ جانا“ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے اس کو لازم پکڑنے کے حکم سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ قدر با برکت نام ہے۔