Ayah 53:1(1) والنجم اذا ھویٰ :”النجم“ ستارہ۔”الف لام“ تعریف کیلئے ہو تو مراد ”ثریا“ ہے کیونکہ عرب کے ہاں ”النجم“ بول کر ”ثریا“ مراد لینا معروف ہے اور اگر ”الف لام“ جنس کے لئے ہو تو ستاروں کی جنس مراد ہے، خواہ کوئی ہوں اور یہاں جنس مراد لینا زیادہ مناسب ہے۔“”ھوی یھوی ھویاً“ (ض) کا معنی جکرنا اور غروب ہونا بھی آتا ہے اور چڑھنا اور طلوع ہونا بھی اور ”ھوی یھوی ھوی“ (س) کا معنی ہے محبت کرنا۔
(2) قرآن مجید کی قسمیں اپنے جواب قسم کی شہادت کے طور پر لائی جاتی ہیں اورق سم اور جواب قسم میں معنوی طور پر مناسب ہوتی ہے۔ یہاں ”والنجم اذا ھویٰ“ میں مذکور قسم بعد کی آیت ”ماضل صاحبکم وما غوی“ کے دعویٰ کی شہادت کے طور پر لائی گی ہے اور دونوں میں معنوی مناسبت ہے۔ مفسرین نے اس مناسبت کی تقریر کئی طرح سے فرمائی ہے، ان میں سب سے واضح دو تقریریں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ ”النجم“ سے مراد عام ستارے ہیں، یعنی جس طرح تمام ستارے اپنے اپنے مدار میں چلتے ہیں، اپنی مقررہ جگہ سے طلوع ہوتے اور مقررہ جگہ غروب ہوتے ہیں اسی طرح محمد ﷺ بھی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر چل رہے ہیں، اس سے ذرہ برابر ادھر ادھر نہیں ہوتے، حتیٰ کہ وحی الٰہی کے بغیر بولتے بھی نہیں اور ستاروں کے احوال میں سے غروب کا وقت خاص طور پر ذکر کرنے کی مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ عظیم مخلوق مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے۔ اپنی تمام تر وسعت، روشنی اور چمک کے باوجود اس کی مجالس نہیں کہ غروب ہونے اور ڈوبنے سے انکار کرسکے۔ (واللہ اعلم) اس تقریر کی مزید تفصیل سورة تکویر کی آیات (15 تا 19) :(فلا اقسم بالخنس …انہ لقول رسول کریم) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
دوسری تقریر یہ ہے کہ ستاروں سے مراد شہاب ثاقب ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کی طرف بھیجی جانے والی وحی کی حفاظت کا ایسا زبردست انتظام کر رکھا ہے کہ اگر کوئی شیطان آسمان کے نیچے جا کر اسے سننے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر ہر طرف سے شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں جو اسے جلا کر راکھ بنا دیتے ہیں۔ دیکھیے سورة صافات (6 تا 10) اور سورة جن (8، 9)۔ حفاظت کا یہ زبردست انتظام شاہد ہے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے سیھے راستے پر قائم ہیں اور ان پر نازل ہونے والی وحی الٰہی میں کسی قسم کی مداخلت یا کمی بیشی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہی بات سورة واقعہ کی آیت (75):(فلا اقسم بموقع النجوم) میں بیان فرمائی گئی ہے۔
Ayah 53:2(1) ماضل صاحبکم وما غوی :)”ضلالت“ (راہ بھولنے) سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لاعلمی کی وجہ سے غلط راستے پر چل پڑے یا اسے سیدھا سمجھ لے اور ”غوایت“ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر سیدھے راستے سے ہٹ جائے۔ اللہ ت عالیٰ نے قسم اٹھا کر فرمایا کہ تمہارا ساتھی نہ لاعلمی میں غلط راستے پر چل رہا ہے اور نہ جان بوجھ کر سیدھے راستے سے ہٹا ہوا ہے۔ اتنی تاکید کیساتھ نفی اس لئے فرمائی کہ مشرکین آپ کے متعلق یہ بات کہتے تھے۔
(2) ”صلحبکم“ (تمہارا ساتھی) کہہ کر رسول اللہ ﷺ کے صدق و امانت کی صفات کی طرف توجہ دلائی ہے، جو کفار کے ہاں بھی مسلم تھیں کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے معمولات اور اخلاق و عادات تمہارے سامنے ہیں۔ جس شخص نے کبھی کسی آدمی پر جھوٹ نہیں بولا اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کیسے باندھ سکتا ہے ؟ مزید دیکھیے سورة یونس (16)۔
Ayah 53:3(وما ینطق عن الھویٰ : بھولنے یا جان بوجھ کر غلط راستے پر چلنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی صبح راستہ بتانے والے کے بجائے اپنے گمان یا خواہش نفس پر چل پڑتا ہے۔ مشرکین اور تمام گمراہ لوگوں کی گمراہی کا اصل باعث یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے کے بجائے گمان اور اپنی خواہش نفس پر چلتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس و لقد جآء ھم من ربھم الھدیٰ) (النجم : 23)”یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں اور بلاشبہ یقیا ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے۔“ ہمارا رسول ضلالت وغوایت سے اس لئے محفوظ ہے کہ وہ صرف ہمارے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ہے، اپنی خواہش اور مرضی سے کوئی کام نہیں کرتا ، حتیٰ کہ اپنی خواہش سے بولتا بھی نہیں۔
Ayah 53:4(1) ان ھو الا وحی یوحی :”ھو“ سے مراد یا تو قرآن مجید اور دین ہے جس کے متعلق مشرکین کہتے تھے کہ آپ ﷺ نے اسے اپنے پاس سے بنا لیا ہے، جیسا کہ فرمایا :(ام یقولون افترہ بل ھو الحق من ربک) (السجدۃ : 3)”یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہی ہے۔“ اس لئے قرآن اور دین کے متعلق فرمایا کہ وہ وحی کے سوا کچھ نہیں۔ دوسری جگہ فرمایا :(فانھم لایکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون) (الانعام : 33)”تو بلاشبہ وہ تجھے جھوٹا نہیں کہتے اور لیکن وہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔“ یا اس ”ھو“ سے مراد ”ینطق“ کے ضمن میں پایا جانے والا ”منطوق بہ“ ہے، یعنی وہ بات جو وہ بولتا ہے وحی کے سوا کچھ نہیں، جو اس کی طرف کی جاتی ہے۔
یہاں ایک سوال ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہر بات وحی کے بعد ہی کرتے تھے ؟ اگر ہاں کہا جائے تو ان متعدد باتوں کے متعلق کیا کہا جائے گا جن کی اللہ تعالیٰ نے اصلاح فرمائی ؟ مثلاً فرمایا :(عفا اللہ عنک لم اذنت لھم) (التوبۃ : 33) ”اللہ نے تجھے معاف کردیا، تو نے انہیں کیوں اجازت دی۔“ اور فرمایا :(ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی ینحن فی الارض) (الانفال : 68)”کبھی کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں قیدی ہوں، یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون بہا لے۔“ اور فرمایا :(مان کان للنبی و الذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین) (التوبہ : 113)”اس نبی اور ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لئے بخشش کی دعا کریں۔“ اور فرمایا :(یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک) (التحریم 1)”اے نبی ! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لئے حلال کیا ہے ؟“ عالوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو صحباہ ؓ کے ساتھ مشورے کا حکم دیا، فرمایا :(وشاورھم فی الامر) (آل عمران : 159)”اور کام میں ان سے مشورہ کر۔“ جب کہ وحی کے بعد نہ مشورے کی ضرورت ہے نہ اجازت کی۔ جواب اس سوال کا یہ ہے کہ یہاں ان باتوں کو وحی قرار دیا جا رہا ہے جو آپ ﷺ لوگوں کے سامنے قرآن مجید یا شریعت کے حکم کے طور پرب یان فرماتے تھے۔ مفسر ابن کثیر ؒ نے فرمایا :”ان ھو الا وحی یوحی“ ای انما یقول ما امر بہ یبلغہ الی النسا کاملاً موفراً من غیر زیادۃ ولا نقصان“”یعنی ”ان ھو الا وحی یوحی“ کام طلب یہ ہے کہ آپ ﷺ وہی بات کہتے تھے جس کے متعلق آپ ﷺ کو حکم دیا جاتا تھا کہ کسی کمی یا زیادتی کے بغیر پوری پوری لوگوں تک پہنچا دیں۔“
اس وحی میں قرآن مجدید بھی شامل ہے اور حدیث بھی۔ عبداللہ بن عمر وؓ باین کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنتا اسے حفظک رنے کے ارادے سے لکھ لیتا تھا، تو قریش نے مجھے منع کیا اور کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ سے جو بھی سنتے ہو لکھ لیتے ہو، حالانکہ رسول اللہ ﷺ لایک بشر ہیں، جو کبھی غصے میں بات کرتے ہیں اور کبھی خوشی میں، تو میں نے لکھنا ترک کردیا۔ پھر میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اپنے دہن مبارک کی طرف اپنی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :(اکتب فو الذی نفسی بیدہ ! مایخرج منہ الا حق) (ابو داؤد، العلم، باب کتابۃ العلم : 03636 وقال الالبانی صحیح)”لکھو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس (منہ) سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(انی لا اقول الا حقا)”میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔“ نکلتا۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(انی لا اقول الا حقا)”میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔“ تو آپ کے کسی صحابی نے کہا :”یا رسول اللہ ! آپ تو ہم سے خوش طبعی بھی کرلیتے ہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :(انی لا اقول الاحقا)”بلاشبہ میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔“ (مسند احمد : 2/330، ح : 8381) مسند احمد کے محقق نے فرمایا۔”اسنادہ قوی“ کہ اس کی سند قوی ہے۔
(2) اس مقام پر مفسر عبدالرحمن کیلانی نے ”تیسیرا القرآن“ میں رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کی حیثیت کے متعلق بہت مفید بحث لکھی ہے جس میں منکرین حدیث کے مغالطوں کا جواب بھی آگیا ہے۔ فوائد کے پیش نظر وہ بحث یہاں درج کی جاتی ہے :”ان آیات کے اولین مخاطب تو کافر مکہ ہیں، مگر یہ آیتیں چونکہ آپ ﷺ کے اقوال کو وحی اور واجب الاتباع قرار دیتی ہیں، لہٰذا منکرین حدیث ان کو مقید بھی کرتے ہیں اور ان کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب نے یوں کہا کہ اگر رسول اللہ ﷺ اپنے گھر جا کر اپنی کسی زوج سے یہ کہتے ہیں کہ ”میرا جوتا لاؤ“ تو کیا یہ بھی وحی ہوتی تھی ؟ اور اکثر منکرین اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی طرف جو کچھ وحی کی جاتی رہی وہ سب قرآن میں آگئی ہے۔ اسی پر کفار کو اعتراض اور اسی پر آپ ﷺ سے ان کا تکرار اور جھگڑا رہتا تھا اور آپ ﷺ کی قرآن کے علاوہ دوسری باتیں جو بحیثیت انسان کے ہیں، وہ قابل اتباع نہیں ہیں۔ اس طرح یہ حضرات چونکہ تمام ذخیرہ حدیث کو اور آپ ﷺ کی سنت کو دین سے خارج اور ناقابل اتباع بلکہ واضح الفاظ میں بےکار ثابت کرنا چاہتے ہیں لہٰذا ہم اس پر ذرا تفصیل سے بات کریں گے۔ ان لوگوں کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ کی زندگی کے اقوال کو صرف دو حصوں میں قسیم کردیا، حالانکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہونے کی حیثیت سے کتاب اللہ کے معلم، مفسر اور شارع بھی تھے اور آپ ﷺ نے قرآن کی جو تعلیم، تفسیر اور تشطریح فرمائی وہ بھی دین ہی سے متعلق تھی۔ اس طرح آپ ﷺ کے اقوال دو کے بجائے تین حصوں میں تقسیم ہوئے۔ پھر آپ ﷺ صرف بولتے ہی نہ تھے، کچھ کرتے بھی تھے اور آپ ﷺ کے افعال بھی اسی طرح واجب الاتباع تھے جیسے اقوال۔ اس طرح تین کے بجائے اور بھی زیادہ حصے ہوگئے۔ مختصراً آپ ﷺ کی زندگی کے درج ذیل پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں جن سے معلوم ہوجائے گا کہ دین میں سنت کی کیا ضرورت اور کیا مقام ہے :
(1) تشریعی امور : قرآن میں نماز کا حکم تو بہت دفعہ آیا ہے مگر اس کی تفصیل کہیں بھی نہیں کہ اسے کیسے ادا کیا جائے، کتنی نمازیں ہوں، ان کے صحیح اوقات کیا ہیں، ہر نماز میں رکعات کی تعداد کتنی ہے اور اس کی ترکیب کیا ہے ؟ اسی طرح حج کیسے ادا کیا جائے، زکوۃ کتنی وصول کی جائے ؟ قضا یا کا فیصلہ کیونکر کیا جائے۔ ہر قضیہ کیلئے شہادتوں کا نصاب اور طریق کار کیا ہے، یا نکاح میں عورت کی رضا مندی کا حق اور اس کی اہمیت، خلع کا حق، صلح و جنگ کے قواعد کی تفصیلات وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام امور ایسے ہیں کہ انسان سنت یا آپ ﷺ کے اقوال و افعال سے بےنیاز ہو کر انہیں بجا لا ہی نہیں سکتا۔ گویا قرآن کو ماننے اور جاننے کا واحد ذریعہ آپ ﷺ کی سنت ہے۔ پھر یہ تمام مندرجہ امور ایسے ہیں جن میں آپ ﷺ نے صحابہ سے کبھی مشورہ نہیں جاننے کا واحد ذریعہ آپ ﷺ کی سنت ہے۔ پھر یہ تمام مندرجہ امور ایسے ہیں جن میں آپ ﷺ نے صحابہ سے کبیھ مشورہ نہیں کیا، حالانکہ آپ ﷺ کو مشروے کا تاکیدی حکم تھا، کیونکہ یہ امور انسانی بصیرت سے تعلق نہیں رکھتے۔ عام انسان تو کیا ایک نبی بھی ایسے امور کا فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں۔ ایسے تمام امور آپ ﷺ کو بذریعہ وحی بتائے اور سکھائیج اتے تھے۔ خواہ یہ وحی بذریعہ القا ہو یا جبرئیل ؑ کے بصورت انسان سامنے آکر بتانے کی شکل میں ہو۔ گویا ایسے تمام امور بھی بذریعہ وحی طے پاتے تھے جسے عرف عام میں ”وحی خفی“ کہا جاتا ہیا ور یہ تو ظاہر ہے کہ ایسے تمام تفصیلات قرآن میں مذکور نہیں۔
(2) تدبیری امور : ایسے امور میں آپ ﷺ کو صحابہ سے مشورہ لینے کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً جنگ کے لئے کون سا مقام مناسب رہے گا، قیدیوں سے کیا سلوک کیا اجئے، نظام حکومت کیسے چلایا جائے ؟ گویا یہ ایسے امور ہیں جن کا تعلق انسانی بصیرت سے بھی ہے اور تجربہ سے بھی۔ ایسے امور میں وحی کی ضرورت نہیں ہوتی، الایہ کہ مشورہ کے بعد فیصلہ میں کوئی غلطی رہ جائے۔ ایسی صورت میں اس فیصلہ کی اصلاح بذریعہ وحی کردی جاتی ہے، جیسے غزوہ بدر کے قیدیوں کے متعلق مشورہ کے بعد فیصلہ کے متعلق وحی قرآن میں نازل ہوئی۔
(3) اجتہادی امور : اس سے مراد ایسے دینی امور ہیں جن میں کسی پیش آمد ہ مسئلہ کا حل سابقہ وحی کی روشنی میں تلاش کیا جائے۔ گویہ معاملہ ہر ماہ علوم دین کی ذاتی بصیرت سے یکساں تعلق رکھتا ہے، تاہم آپ ﷺ اس کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک عورت نے آپ ﷺ کے پاس آکر مسئلہ پوچھا کہ میرے باپ پر حج فرض تھا اور وہ مرگیا ہے، کیا میں اب اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :”بھلا دیکھو ! اگر اس کے ذمے قرض ہوتا تو تم اسے ادا نہ کرتی ؟“ اس عورت نے ”ضرور کرتی۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا :”تو پھر اللہ اس ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے۔“ (بخاری، جزاء الصید، باب الحج والنذور …: 1853) آپ ﷺ کے ایسے اجتہادات اور اسنباطات کی فہرست بھی طویل ہے، تاہم اس سلسلے میں بھی جب کبھی کوئی لغزش ہوئی تو اس کی بذریعہ وحی جلی یا خفی اصلاح کردی گئی۔
اس کی مثال وہ حدیث ہے جسے سیدنا ابوقتادہ ؓ نے یوں روایت کیا کہ ایک آدمی نے پوچھا :”یا رسول اللہ ! بتائیے اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، درآں حالیہ میں صبر کرنے والا، ثواب کی نیت رکھنے والا، آگے بڑھنے والا، پیٹھ نہ پھیرنے والا ہوں، تو کیا اللہم یرے سب گناہ معاف کر دے گا ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”ہاں !“ وہ شخص چلا گیا تو آپ ﷺ نے اسے پھر آواز دے کر بلایا اور فرمایا :”مگر قرضہ معاف نہ ہوگا، جبریل نے ابھی مجھے اس طرح بتایا ہے۔“ (نسائی، الجھاد، باب من قاتل فی سبیل اللہ تعالیٰ و علیۃ دین : 3158۔ مسلم : 1885) یعنی سائل کے سوال پر رسول اللہ ﷺ نے تو جنت کی بشارت دے دی، کیونک شہادت ایسا افضل عمل ہے کہ خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی شہید جنت کا حق دار بن جاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی بھیج کر اس میں ترمیم فرما دی۔
(4) طبعی امور : جس میں انسان کی روز مرہ کی بول چال، خوراک، پوشاک اور دوسرے معاملات آجاتے ہیں اور ان امور کا تعلق تمام لوگوں سے یکساں ہے۔ ایسے امور میں انسان اور ایسے ہی آپ ﷺ بھی نسبتاً وحی سے آزاد تھے لیکن وہ کون سا پہلو ہے جس میں وحی نے ایسے معاملات پر پابندی نہ لگائی ہو ؟ مثلاً انسان اس بات میں تو آزاد ہے کہ وہ چاہے تو گوشت کھائے چاہے تو سبزی کھائیا ور چاہے تو دال کھائے، لیکن وہ حلال اور پاکیزہ چیزیں ہی کھا سکتا ہے۔ پھر اسے یہ بھی ہدیات ہے کہ کھانے سے پہلے ”بسم اللہ ‘ ‘ پڑھے، اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے، اپنے آگے سے کھائے، برتن کو صاف کرے اور بعد میں دعا پڑھے۔ اسی طرح وہ اپنے لباس کے انتخاب کی حد تک تو آزاد ہے لیکن لباس کا ساتر ہونا اور ستر ڈھانکنا ضروری ہے اور عورتوں کے لئے پردہ بھی۔ عورت مردوں جیسا لباس نہ پہنے، نہ مرد عورتوں جیسا لباس پہنیں۔ وہ اپنے اہل خانہ سے گفتگو میں آزاد ہے لیکن اپنی بیوی سے حسن سلوک اور حسن معاشرت کا پابند ہے۔ وہ اپنا ک اور بار اختیار کرنے میں آزاد ہے لیکن حرام ک اور بار نہیں کرسکتا، نہ جائز ک اور بار میں ناجائز طریقوں سے مال کما سکتا ہے۔ ماپ تول میں کمی بیشی نہیں کرسکتا۔ کسی دوسرے سے فریب سے مال نہیں بٹور سکتا۔ نہ ہی سود اور اس کے مختلف طریقوں سے مال اکٹھا کرسکتا ہے وغیرہ وغیرہ آخر وہ کون سا پہلو ہے جس میں وہ وحی سے بےنیاز ہے۔
ان تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ تشریعی امور کا انحصار کلیتاً وحی پر ہے اور قرآن میں احکام چونکہ مجملاً مذکور ہوئے ہیں اور ان کا تعلق انسانی بصیرت سے بھی نہیں، لہٰذا یہ احکام سنت کے بغیر انجام پا ہی نہیں سکتے۔ باقی تینوں قسم کے امور میں انسان نسبتاً آزاد ہے مگر ان تینوں پہلوؤں پر بھی وحی نے پابندیاں لگائی ہیں اور ہدایات بھی دی ہیں جن میں اکثر کا ذکر قرآن میں نہیں تو پھر آخر سنت نبوی سے انکار کیسے ممکن ہے اور کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ”وما ینطق“ کا تعلق صرف قرآن ہی سے ہے ؟ اور اس نظریے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص سنت کا منکر ہو وہ قرآن کا بھی منکر ہوتا ہے۔“ (تیسیرا القرآن)
Ayah 53:5(علمہ شدید القوی : بعض لوگ اس سے مراد اللہ تعالیٰ لیتے ہیں مگر یہ درست نہیں، بلکہ اس سے مراد جبریل ؑ ہیں جنہوں نے آپ ﷺ تک اللہ تعالیٰ کی وحی پہنچائی۔ دل یل اس کی یہ ہے کہ دوسری جگہ واضح طور پر یہ صفت جبریل ؑ ک بیان ہوئی ہے، فرمایا :(انہ لقول رسول کریم ، ذی قوۃ عند ذی العرش مکین ، مطاع ثم امین) (التکویر : 19 تا 21)”بلاشبہ یقینا یہ ایک ایسے پغیام پہنچانے اولے کا قول ہے جو بہت معزز ہے۔ بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے ہاں بہت متر بےوالا ہے۔ وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، نہایت امانت دار ہے۔“ ”القوی“ ”قوۃ“ کی جمع ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جبریل ؑ کو اللہ تعالیٰ
نے ایک نہیں بہت سی قوتیں عطا فرمائی ہیں اور ہر قوت ہی نہایت مضبوط اور زبردست ہے، بھلا جسے اللہ تعالیٰ نہایت مضبوط قوتوں والا فرمائے اس کی قوتوں کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ سید ولد آدم ﷺ نے انہیں ان کی اصل صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا اور اس دیکھنے سے جو کیفیت آپ ﷺ پر گزری اس سے ان کی عظمت وہیبت، حسن و جمال اور قو ت و وسعت کا تھوڑا سا اندازہ ہوتا ہے۔ پھر ہز اورں سالوں کے فاصلے لمحوں میں طے کرنے سے ان کی رفتار کی سرعت و قوت کا معمولی اندازہ ہوتا ہے۔
Ayahs 53:6–9(1) ذومرۃ : طاقت، توانائی اور مضبوطی والا۔ ”مرۃ“ کا لفظ اصل میں رسی کو بٹنے اور بل دے کر مضبوط کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس پر تنوین تعظیم کیلئے ہے ، اس لئے ترجمہ ”بڑی طاقت والا“ کیا گیا ہے۔ اس طاقت میں عملی اور علمی دونوں طاقتیں شامل ہیں۔”شدید القوی“ کے بعد ”ذومرۃ“ کے ساتھ ان کی طاقت اور توانائی کو مزید اجاگر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے ”شدید القوی“ سے عملی قوتیں اور ”ذومرۃ“ سے علمی اور عقلی قوتیں مراد لی ہیں، مگر دونوں لفظ ہر قسم کی قوتوں پر ساتعملا ہوتے ہیں، اس لئے تاکید مراد لینا راجح معلوم ہوتا ہے۔
(2) ”فاستوی“ برابر ہوا، بلند ہوا۔”افق“ دور سے نظر آنے والی وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملتے ہوئے نظر آتے ہیں اور آسمان نیلے گنبد کی طرح بلند ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ”افق اعلیٰ“ مشرقی کنارا، جہاں سے سورج طلوع کے وقت بلند ہوتا ہے۔ اسی کو دوسری جگہ ”الافق المبین“ فرمایا، جیسا کہ فرمایا :(ولقد راہ بالافق المبین) (الکتویر : 23)”اور بلاشبہ یقیناً اس نے اس (جبریل) کو (آسمان کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے۔“
(3) فتدلی : یہ ”’ لو“ سے مشتق ہے، سورة یوسف میں ہے۔ (فاذدلی دلوہ) (یوسف : 19)”تو اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔“”تدلی“ لٹک آیا، یعنی فضا میں رہتے ہوئے کچھ نیچے آگیا۔ ”قاب“ مقدار۔ ”او ادنی“ یا زیادہ قریب۔ یعنی اگر آدمی اس فاصلے کو دیکھے تو اسے یہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم نظر آئے۔ بعض اہل علم نے فرمایا، یہاں ”او“ ”بل“ کے معنی میں ہے، یعنی دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم، یحساب کہی ونس علیہ السام کے متعلق فرمایا :(وارسلنہ الی مائۃ الف او یریدون) (الصافات :138)”اور ہم نے اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا، بلکہ وہ زیادہ ہوں گے۔“
(4) رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں جبریل ؑ کو دو بار ان کی اصل صورت میں دیکھا ہے۔ ان آیات میں پہلی بار دیکھنے کا ذکر ہے، جبریل ؑ آسمان کے مشرقی کنارے پر نمودار ہوئے، تو زمین و آسمان کا درمیانی فاصلہ ان سے پر ہوگیا ، جیسا کہ جابر بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ (پہلی وحی کے بعد) وحی کے وقفے کے متعلق بیان فرما رہے تھے :(فینا انا مشی اذ سمعت صوتاً من السمآء فرفعت بصری قبل السمآء فاذا الملک الذی جاء نبی بجراء فاعد علی کرسی بین السمآء والارض فجئت منہ حتی ھویت الی الارض فجنت اھلی ففک زملونی زماونی فرما ونی فانزل اللہ تعالیٰ (یا یھا المدثر، قم فانذر) (الی فاھجر) ثم حمی الوحی و تتابع) (بخاری، التفسیر، سورة المدثر ، باب :(والرجز فاھجر) (: 3926)”ایک دفعہ میں چلا جا رہا تھا، اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی تو میں نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھئای تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، تو میں اس سے ڈر گیا، یہاں تک کہ میں زمین پر گرگیا، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا، مجھے چادر اوڑھا دو ، مجھے چادر اوڑھا دو ، تو انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں :(یایھا المدثر، قم فانذر ، وربک فکبر ، وثیابک فطھر، والرجز فاھجر) پھر وحی گرما گرم ہوگئی اور پے در پے آنے لگی۔“
رسول اللہ ﷺ کے جبریل ؑ کو ان کی اصل صورت میں دیکھنے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے : (حدثنا الشیانی قال سمعت زرا عن عبداللہ (فکان قاب قوسین او ادنی، فاوحی الی عبدہ ما اوحی) قال حدثنا ابن مسعود انہ رای جبریل لعہ ست مائۃ جناح) (بخاری، التفسیر، سورة النجم، باب :(فکان قاب قوسین او ادلی؛3856)”زر (بن حبیشن) نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے (فکان قاب قوسین او ادنی ، فاوحی الی عبدہ ما اوحی) کی تفسیر روایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔“
ان آیات کا مقصد کفار کے اس الزام کی تردید ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ پر لگاتے تھے کہ کوئی عجمی آدمی اسے قرآن کی باتیں سکھا جاتا ہے اور یہ ہمیں سنا کر کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ کسی عجمی شخص نے نہیں، بلکہ ایک نہایت مضبوط قوتوں اور بڑی طاقتو الے فرشتے نے اسے اس قرآن کی تعلیم دی ہے۔ چناچہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ وہ شدید القوی فرشتہ مشرق افق پر بلند ہوا، اس وقت وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کسری پر بیٹھا ہوا تھا پھر وہ فضا ہی میں نیچے اترتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے اتنا قریب ہوا کہ آپ سے دو کمانوں سے بھی کم فاصلے پر آگیا۔
Ayah 53:10(1) فاوحی الی عبدہ ما اوحی : ”فاوحی“ (پھر اس نے وحی کی) کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف بھی جاسکتی ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے (جبریل ؑ کے واسطے سے) اپنے بندے کی طرف وحی کی اور ”فاوحی کی ضمیر جبریل علیہ السم ک طرف بھی جاسکتی ہے، مگر اس صورت میں ”عبدہ“ میں ضمیر غائب سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہوگی، کیونکہ ”عبدہ“ سے مراد ”اللہ کے بندے“ کے سوا کوئی ہو ہی نہیں سکتا ، کیونکہ آپ ﷺ ہی نہیں آسمان و زمین کا جو شخص اللہ کا بندہ ہے، جبریل یا کسی اور کا کوئی بندہ نہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ”پھر جبریل نے اس اللہ کے بندے کی طرف وحی کی۔“
(2) ”ما اوحی“ (جو وحی کی) کو مبہم رکھ کر اس کی عظمت شان کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورة طہ کی آیت (78) (فغشیھم من الیم ماغشیھم) کی تفسیر۔ اس سے پچھلی آیت کے آخری فائدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وحی میں ”یایھا المدثر“ سے ”والرجز فاھجر“ تک آیات بھی تھیں۔
Ayah 53:11(1) ماکذب الفواد مارای :”کذاب“ کو سبعہ قرأت میں دو طرح پڑھا گیا ہے۔ چناچہ ابن عامر نے اسے ذال کی تشدید کے ساتھ ”کذب“ پڑھا ہے، جھٹلایا۔ اس وقت معنی ہوگا کہ نبی ﷺ نے آنکھوں سے جو کچھ دیکھا دل نے اسے نہیں جھٹلایا، بلکہ اس کی تصدیق کی۔ دوسرے قراء نے ”ذال“ کو تشدید کے بغیر ”کذب“ پڑھا ہے، جھوٹ کہا۔ یعنی دل نے جبریل ؑ کو دیکھا تو جھوٹ نہیں کہا، بلکہ سچ کہا کہ اس نے جبریل کو دیکھا ہے، جیسے آنکھوں نے دیکھا تو جھوٹ نہیں کہا۔ جبریل ؑ کو دیکھنے میں آنکھیں اور لد دونوں شریک تھے۔ شیخ عبدالرحمٰن السعدی ”تیسیرا الرحمٰن“ میں لکھتے ہیں،”ای اتفق فواد الرسول ﷺ و رویتہ علی الوحی الذی او حاہ اللہ الیہ وتواطاً علیہ سمعہ و فلبہ و بصرہ“”یعنی رسول اللہ ﷺ کے دل اور آپ کی رؤیت نے اس وحی پر اتفاق کیا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف کی اور اس پر آپ کے کان، آنکھیں اور دل متفق ہوگئے۔“ سید امیر علی ملیح آبادی ”مواہب الرحمٰن“ میں اس جملے کی تفسیر کے آخر میں لکھتے ہیں :”بالجملہ آنحضرت ﷺ نے جو دیکھا اس میں فواد اور آنکھ دونوں متفق و صادق ہیں۔“ بعض مفسرین نے ”کذب“ (تشدید کے بغیر) کا معنی ”جھٹلایا“ کیا ہے، جبکہ یہ ”کذب“ (تشدید ذال کے ساتھ) کا معنی ہے،”کذب“ (بلاتشدید) کا نہیں۔
(2) جو کچھ آنکھ نے دیکھا وہ یہ تھا کہ اس نے جبریل ؑ کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، دن کی روشنی میں دیکھا تاریکی میں نہیں دیکھا ، جاگتے ہوئے دیکھا نیند یا نیم خوابی یا اونگھ کی حالت میں نہیں دیکھا، دل نے بھی دیکھنے میں آنکھوں کی موافقت کی اور کہہ دیا کہ واقعی آپ ﷺ نے اس جبریل فرشتے ہی کو دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لاتا ہے اور مسئلے میں کوئی شک و شبہ نہ رہا۔
Ayah 53:12(1) افتمرونہ :”تم اورن“ ماری یماری مراء و مماراۃ“ (مفاعلہ) سے فعل مضارع معلوم جمع مذکر حاضر ہے، جھگڑا کرنا۔ یہ مشرکین مکہ سے خطاب ہے، جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں بتایا کہ میرے پاس کوئی شیطان نہیں بلکہ جبریل فرشتہ آتا ہے اور میں اسے دیکھتا ہوں، اس کی اصل صورت میں بھی میں نے اسے دیکھا ہے تو انہوں نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا اور جھگڑنے لگے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم اپنے صاحب کو خود صادق و امین تسلیم کرتے ہو، جب وہ تم سے کہتا ہے کہ اس کے پاس جبریل فرشتہ آتا ہے اور وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو تم اس سے جھگڑنے لگتے ہو، آخر تمہاریپ اس اسے جھٹلانے اور اس پر جھگڑا کرنے کی کیا دلیل ہے ؟۔
اذا لم تر الھلال فسلم لاناس راوہ بالابصار
”جب تمہیں چاند نظر نہیں آیا تو ان لوگوں کیب ات مان لو جنہوں نے اسے آنکھوں سے دیکھا ہے۔“
(2) علی مایری : واضح رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ”افتم اور نہ علی ما رای“”پھر کیا تم اس سے اس پر جھگڑتے ہو جو اس نے دیکھا“ بلکہ فرمایا :(افتمرونہ علی مایری)”پھر کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو وہ دیکھتا ہے“ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی جس بات کو وہ جھٹلاتے تھے وہ یہ تھی کہ میں جبریل فرشتے کو دیکھتا ہوں جب وہ میرے پاس آتا ہے اور حقیقت بھی یہی تھی کہ پہلی دفعہ جب جبریل علیہ السام غار حرا میں آپ ﷺ کے پاس ائٓے تو اگرچہ اصل صورت میں نہ تھے، مگر بعد میں جب وہ اپنی اصل صورت میں اس شان سے سامنے آئے کہ زمین سی آسمان تک اور دائیں سے بائیں تک پورا افق ان سے بھرا ہوا تھا تو آپ ﷺ فوراً پہچان گئے کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (6 تا 9) کے آخری فائدہ میں مذکور حدیث۔ اس سے ظاہر ہے کہ جبریل ؑ کے آنے پر آپ ﷺ انہیں پہچان لیتے تھے، خواہ کسی حالت میں آئیں۔
Ayah 53:13ولقد راہ نزلۃ اخری :”لام“ اور ”قد“ کے ساتھ تاکید قسم کے مفہوم کا فائدہ دیتی ہے۔ مشرکین کے انکار کی وجہ سے اتنی تاکید کے ساتھ بات کی ہے۔ یعنی تم زمین پر اس کے جبریل علیہ لاسلام کو دیکھنے کا انکار کرتے ہو ، قسم ہے کہ اس نے تو اسے ایک اور بار آسمانوں کے اوپر بھی اس کی اصل صورت میں اترتے ہوئے دیکھا ہے۔
Ayah 53:14(عند سدرۃ الم تھی :”سدرۃ“ بیری کا درخت۔”المنتھی“”انتھی ینتھی ان تھا“ (افتعال) سے ظرف مکان ہے، انتہا کی جگہ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس نام کی وجہ بیان فرمائی ہے، انہوں نے فرمایا :(لما اسری برسول اللہ ﷺ انتھی بہ الی سدرۃ المنتھی وھی فی السماء السادسۃ : الیھا ینتھی ما یعرج بہ من الارض فیقص منھا والیھا ینتھی ما یھبط بہ من فوقھا فیقبض منھا) (مسلم، الایان، باب فی ذکر سدرۃ المنتھی : 183)”جب رسول اللہ ﷺ کو رات (معراج کے لئے) لے جایا گیا تو آپ کو سدرۃ المنتی تک پہنچایا گیا اور وہ چھٹی آسمان میں ہے۔ زمین سے اوپر جو کچھ چڑھتا ہے اس کی انتہا وہاں تک ہوتی ہے، پھر اسے وہاں سے لے لیا جاتا ہے اور اس کے اوپر سے جو کچھ اترتا ہے اس کی انتہا بھی وہیں تک ہوتی ہے، پھر اسے وہاں سے لے لیا جاتا ہے۔“ مسلم کی شرح میں نووی ؒ نے فرمایا کہ صحیح مسلم کے تمام نسخوں میں اسی طرح چھٹے آسمان ہی کا ذکر ہے، جب کہ انس ؓ سے مروی دوسری روایات میں گزر چکا ہے کہ وہ ساتویں آسمان کے اوپر ہے۔ قاضی ٍ (عیاض) نے فرمایا، اس کا ساتویں آسمان پر ہونا ہی زیادہ صحیح اور اکثر کا قول ہے۔ یہی سدرۃ المنتہی کے معنی اور نام کا تقاضا ہے کہ وہ ساتویں آسمان پر ہو۔ نوو فرماتے ہیں کہ دونوں اقوال کو جمع کرنا ممکن ہے کہ اس کی جڑ چھٹی آسمان میں ہے اور زیادہ تر حصہ ساتویں آسمان میں ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وہ بہت بڑی ہے۔
اس آیت سے جبریل ؑ کو دیکھنے کا وقت اور مقام بھی معلوم ہوگیا ، کیونکہ سدرۃ المنتہی آپ ﷺ نے معراج کی رات دیجھی ہے جب آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کروائی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا :(ثم رفعت الی سدرۃ المنتھی فاذا نبفھا مثل قلال ھجر، واذا ورقھا مثل اذان القیلۃ قال ھذہ سدرۃ المنتھی) (بخاری المناقب، باب المعراج، 3888، عن مالک بن صعصعۃ ؓ)”پھر سدرۃ المنتہی میرے سامنے ظاہر ہوئی، دیکھا تو اس کے بیر (پھل) ہجر شہر کے مٹکوں کی طرح اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے۔“
Ayah 53:15(عندھا جنۃ الماوی :’ الماوی“”اوی یاوی اویاً“ (ض) ”البیت والی البیت“ سے مصدر میمی ہے، گھر میں قیام کرنا، رہائش رکھنا۔ یعنی وہ جنت جو متقی لوگوں کے قیام اور ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ جنت جس میں ایمان والوں کا دائمی قیام ہوگا آسمانوں کے اوپر سدرۃ المنتہی کے پاس ہے۔ ابو ذر غفاری ؓ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو سدرۃ المنتہی کے بعد جنت میں لے جایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :(حتی انتھی بن الی سدرۃ المنتھی وغشیھا الو ان لا ادری ماھی ثم ادخلت الجنۃ فاذا فیھا حبایل اللولو، و اذا ترابھا المسک) (بخاری، الصلوۃ باب کیف فرضت الصلاۃ فی الاسرائ 1:339)”پھر مجھے سدرۃ المنتہی تک پہنچایا گیا اور اسے ایسے رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا کہ میں نہیں جانتا وہ کیا تھے۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں موتیوں کی لڑیاں ہیں اور اس کی مٹی کستوری ہے۔“
Ayah 53:16(اذ یغشی السدرۃ مایغشی : سدرۃ المنتہی کے مشاہدے کے وقت اس پر انوار کی بارش، فرشوتں کے ہجوم اور سا کے جلال و جمال کے منظر کی نقشہ کشی کے لئے انسان کے اسعتمال میں آنے والی زبانوں کی تنگ ودامنی کی طرف اشارہ ہے۔ (دیکھیے طہ : 78) حدیث میں اس کے متعلق چند اشارے آئے ہیں، ان میں سے ایک کا ذکر پچھلی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ (وعشیھا الو ان لا ادری ماھی) (دیکھیے بخاری :339)”اور اسے ایسے رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھے۔“ انس ؓ نے حدیث معراج میں سدرۃ المنتہی کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے یہ الفاظ بیان فرماتے : (فلما غشیھا من امر اللہ ما غشی تغیرت فما احد من خلق اللہ یستطیع ان ینع تھا من حسنھا فا وحی اللہ الی ماوخی) (مسلم، الایمان، باب الاسراء برسول اللہ ﷺ …162)”پھر جب اس کو اللہ کے حکم سے ڈھانکا جس چیز نے ڈھانکا تو اس کی حلات بدل گئی، پھر اس کا یہ حال تھا کہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اس کی خوب صورتی بیان نہیں کرسکتا ، اس وقت اس نے میری طرف وحی کی جو وحی کی۔“ اور عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا :(اذ یغشی السدرۃ ما یشغی) قال فراش من ذھب) (مسلم ، الایمان، باب فی ذکر سدرۃ المنتھی :183)”سدرۃ المنتہی کو ڈھانک رہا تھا جو ڈھانک رہا تھا“ سے مراد سونے کے پروانے ہیں۔“ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے جبریل ؑ کو، جو آپ ﷺ کو ساتھ لے کر گئے تھے، ان کی اصل صورت میں ایک بار پھر دیکھا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے آیت (ولقد راہ نزلۃ اخری ، عند سدرۃ المنتھی) کی تفسیر کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(رایت جبریل ﷺ ولہ ست مائۃ جناح ینتشر مین ریشہ التھاویل الدروالیاقوت) (مسند احمد، 1/360، ح : 3385)”میں نے جبریل ﷺ کو دیکھا، اس کے چھ سو بازو تھے اور اس کے پروں سے حیران کن رنگا رنگ موتی اور یا قوت جھڑ رہے تھے۔“ مسند کے محقق نے فرمایا ””اسنادہ حسن“ کہ اس کی سند حسن ہے، اور ابن کثیر ؒ نے فرمایا :”ھذا اسناد جید قوی“ کہ اس کی سند جید قوی ہے۔
Ayah 53:17(مازاع البصر وما طغی :“”زاغ یزیغ زیغاً“ ٹیڑھا ہونا اور ”طغی یطغی طغیاناً“ حد سے بڑھنا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے کمال ادب، تجمل اور استقامت کا بیان ہے کہ جبریل علیہ السلم کو اور اللہ تعالیٰ کی دوسری آیات کبریٰ کو دیکھتے ہوئے آپ کی نگاہ اٹھی پر مرکوز ہی ، نہ دائیں یا بائیں طرف گئی اور نہ ان سے آگے بڑھی۔
Ayah 53:18(1) لقد رای من ایت ربہ الکبری :”من“ تبعیض کے لئے ہے، یعنی قسم ہے کہ آپ ﷺ نے اس موقع پر اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔ ان بہت بڑی نشانیوں میں سب سے پہلی نشانی تو جبریل ؑ ہیں، جنہیں دو دفعہ دیکھنے کے ذکر کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں، اس کے علاوہ احادیث معراج میں اور بہت سی نشانیوں کا ذکر ہے جنہیں آپ ﷺ نے اس موقع پر دیکھا۔ ان میں براق، ساتوں آسمانوں کے عجائبات اور ان پر انبیائے کرام کی ملاقات، دجال، سدرۃ المنتہی، جنت و جہنم، جہنم کا خازن مالک، نہر کوثر، بیت المور ، چار دریا، وہ (مستوی) بلند ہموار جگہ جس پر چڑھے تو قلموں کے چلنے کی آواز سنیں اور دوسری نشانیاں شامل ہیں، اختصار کے پیش نظر ان کی تفصیل ترک کی جاتی ہے۔
(2) یہ آیت واضح دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے عمراج کی رات اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ ”لقد“ کے تاکیدی الفاظ کے ساتھ یہ نہ فرماتے کہ ”بلاشبہ یقیناً اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں“ بلکہ یہ فرماتے کہ ”بلاشبہ یقیناً اس نے اپنے رب اعلیٰ کو دیکھا۔“
(3) جیسا کہ پیچھے گزرا ہے کہ ”شدید القوی“ اور ”ذومرۃ“ سے مراد جبریل ؑ ہیں اور ”’ نا فتدلی“ اور ”فکان قاب قوسین“ کی ضمیر غائب سے بھی وہی مراد ہیں اور ”ولقد راہ“ میں ضمیر ”ہ“ سے مراد بھی جبریل ؑ ہیں۔ قرآن مجید سے اس کی تائید اور صحیح روایات سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی تفسیر بھی گزر چکی ہے۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ اور عائشہ ؓ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے۔ (دیکھیے مسلم، الایمان، باب معنی قول اللہ عزوجل :(ولقد راہ نزلۃ اخری)…: 185، 188)
مگر بعض مفسرین نے ان الفاظ اور ضمیروں کا مصداق اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دو دفعہ دیکھا ہے اس کی تائید میں انہوں نے ابن عباس ؓ کا قول پیش کیا ہے :(عن ابی العالیہ عن ابن عباس قال :(ماکذب الفواد ما ریا) (ولقد راہ نزلۃ اخری) (قال راہ بفوادہ مرتین) (مسلم، الایمان، باب معنی قول اللہ عزوجل :(ولقد راہ نزلۃ اخری)…186)”ابوالعالیہ نے ابن عباس ؓ سے ”ما کذب الفوائد ما رای“ اور ”ولقد راہ نزلہ اخری“ کی تفسیر میں فرمایا کہ آپ ﷺ نے اسے اپنے دل کے ساتھ دوبارہ دیکھا۔“ اس میں شک نہیں کہ آیات کے الفاظ میں ابن عباس ؓ والی تفسیر کی گنجائش موجود ہے، مگر صحیح مسلم میں عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے مراد جبریل ؓ ہی۔ ظاہر ہے رسول اللہ ﷺ کی صراحت کے بعد کسی اور تفسیر کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ اب آپ حدیث کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں، مسروق کہتے ہیں کہ میں عائشہ ؓ کے ہاں ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے فرمایا :(یا ابا عائشۃ ! ثلاث من تکلم بواحدۃ منھن فقد اعظم علی اللہ الفریۃ ، قلت ماھن ؟ قالت من زعم ان محمداً ﷺ رای ربہ فقد اعظم علی اللہ الفریۃ ، قال وکنت متکفا فجلست فقلت با ام المومنین ! انظرینی ولا تعجلینی الم یفل اللہ عزوجل :(ولقد راہ بالافق المبین) (التکویر : 23) (ولقد راہ نزلہ اخری) (النجم : 13) فقالت انا اول ھذہ الامۃ سال عن ذلک رسول اللہ ﷺ فقال انما ھو جبریل لم ارہ علی صورتہ التی خلق علیھا غیر ماتین المرتبین رایتہ منھطا من السمآء سادا عظم خلقہ ما بین السماء الی الارض فقالت او لم تسمع ان اللہ یقول (لاتدر کہ الاصبار، وھو یدرک الابصار، وھو اللطیف الخیر) (الانعام : 103) او لم تسمع ان اللہ یقول (وما کان لبشر ان یکلمۃ اللہ الا وحیا اومن ورآی حجاب او یرسل رسولاً فیوحی باذنہ ما یشآء انہ علی حکیم) (الشوری : 51) (مسلم ، الایمان، باب معنی قول اللہ عزوجل :(ولقدراہ نزلۃ اخری)…188)
”اے ابو عائشہ ! تین باتیں ایسی ہیں کہ جو ان میں سے ایک بات بھی کہے اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔“ میں نے کہا، ”وہ کیا ہیں ؟“ انہوں نے فرمایا :”جو شخص یہ گمان کر کے محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے، اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔“ مسروق کہتے ہیں، میں ٹیک لگائے ہوئے تھا، یہ سن کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور میں نے کہا :”ام المنین ! مجھے کچھ مہلت دیں جلدی نہ کریں، کیا اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا :(ولقد راہ بالافق المبین) (التکویر : 23)”اور بلاشبہ یقیناً اس نے اس کو (آسمان کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے۔“ تو انہوں نے فرمایا :”اس امت میں جس نے آپ ﷺ سے اس کے متعلق سب سے پہلے پوچھا وہ میں ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا :”وہ تو جبریل ؑ ہیں، میں نے انہیں ان کی اس صورت میں ، جس میں انہیں پیدا کیا گیا ہے، ان دو مرتبہ کے سوا نہیں دیکھا۔ میں نے انہیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا، ان کے عظیم وجود نے آسمان و زمین کے مابین کو پر کر رکھا تھا۔“ پھر ام المومنین ؓ نے فرمایا :”کیا تم نے نہیں سنا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :(لاتدر کہ الابصار، وھویدرک الابصار، وھو اللطیف الخبیر) (الانعام : 103)”اسے نگاہیں نہیں پاتیں اور وہ سب نگاہوں کو پاتا ہے اور وہی نہایت باریک بین، سب خبر رکھنے والا ہے۔“ اور کیا تم نے سنا نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :(وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الاوحیا اومن ورآی حجاب او یرسل رسولاً فیوحی باذنہ ما یشآء انہ علی حکیم) (الشوری : 51)”اور کسیب شر کے لئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے ، یا یہ کہ وہ کوئی رسول بھیجے، پھر اپنے حکم کے ساتھ وحی کرے جو چاہے، بیشک وہ بےحد بلند، کمال حکمت والا ہے۔“
ابن کثیر ؒ نے فرمایا :”ابن عباس ؓ سے رسول اللہ ﷺ کو لد سے دیکھنا مروی ہے، ایک روایت میں مطلق دیکھنے کا بھی ذکر ہے مگر اس سے مراد بھی دل سے دیکھنا ہی ہے اور جنہوں نے ان سے آنکھوں کے ساتھ دیکھنا روایت کیا ہے انہوں نے غریب بات کی ہے، کیونکہ اس (آنکھوں کے ساتھ دیکھنے) کے بارے میں صحابہ کرام ؓ سے کوئی چیز ثابت نہیں اور بغوی نے اپنی تفسیر میں جو فرمایا ہے کہ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو آنکھوں کے ساتھ دیکھا ہے اور یہ انس، حسن اور عکرمہ کا قول ہے، تو بغوی کی اس بات میں نظر ہے۔“ (ابن کثیر)
المختصر رسول اللہ ﷺ کا اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے دیکھنا کسی صحابی سے صحیح سند کے ساتھ مروی نہیں۔ ابن عباس ؓ نے دل کے ساتھ دیکھنے کی جو بات کی ہے اگر ان آیات کے پیش نظر کی ہے تو درست نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی تصریح کے خلاف ہے۔ ہاں، نیند کی حالت میں آپ ﷺ کا اللہ تعالیٰ کو دیکھنا صحیح سندوں کیساتھ ثابت ہے اور یہ دیکھنا دل ہی کے خلاف ہے۔ ہاں ، نیند حالت میں آپ ﷺ کا اللہ تعالیٰ کو دیکھنا صحیح سندوں کے ساتھ ثابت ہے اور یہ دیکھنا دل ہی کے ساتھ تھا، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا :(یاعائشۃ ! ان عینی تنامان ولا ینامق لبی) (بخاری، صلاۃ التراویح، باب فصل من قام رمضان : 2013)”اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دلن ہیں سوتا۔“ یہاں آپ ﷺ کا حالت نیند میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنے سے متعلق ایک حدیث درج کی جاتی ہے معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں : ”ایک دن رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے لئے ہمارے پاس آنے سے رکے رہے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیا کو دیکھ لیں، تو آپ ﷺ جلدی ج کے ساتھ آئے ، نماز کی اقامت کہی گئی۔ آپ ﷺ نے نمازپ ڑھائی اور نماز میں اختصار فرمایا۔ ، جب سلام پھیرا تو ہمیں اونچی آواز کے ساتھ فرمایا :”اپنی اپنی صفوں میں بیٹھے رہو۔“ پھر فرمایا :(اما انی ساحد تکم ما حبسنی عنکم الغداۃ انی فمت من اللیل فتوضات وصلیت ما قدرلی فنعست فی صلاتی حتی استقک فاذا انا بربی تبارک و تعالیٰ فی من اللیل فتوضات وصلیت ما قدرلی فنعست فی صلاتی حتی استقلت فاذا انا بربی تبارک و تعالیٰ فی احسن صورۃ فقال یا محمد ! قلت لبیک رب ! قال فیم یختصم الملا الاعلی ؟ قلت لا اذری رب ! قالھا ثلاثاً قال فرایتہ وضع کفہ بین کتفی قدو جدت برداناملہ بین ثدیی فتجلی لی کل شیء و عرفت) (ترمذی، التفسیر، سورة ص : 3235)”سنو ! میں تمہیں بتاؤں گا کہ آج صبح مجھے تمہارے پاس آنے سے کس چیز نے روکے رکھا۔ آج رات میں اٹا، وضو کی ا اور جتنی میری قسمت میں نماز تھی وہ نماز میں نے پیڑھی، پھر مجدھے نماز میں اونگھ آگئی یہاں تک کہ میں بھایر ہوگیا۔ اچانک دیکھتا ہوں کہ میرا رب خوبصورت ترین شکلمیں میرے سامنے ہے، تو اس نے فرمایا : ”اے محمد !“ میں نے کہا :”میں حاضر ہوں اے میرے رب !“ فرمایا :”ملا العیٰ کس بات میں بحثک ر رہے ہیں ؟“ میں نے کہا، ”میں نہیں جانتا۔“ تین دفعہ فرمایا۔ (نبی ﷺ نے فرمایا) : ”تو میں نے اسے (اپنے رب کو) دیکھنا کہ اس نے اپنی کف میرے کندھوں کے درمیان رکھی، تو میں نیا س کے پوروں کی ٹھنڈک اپنی دونوں چھاتیوں کے درمیان محسوس کی، تو میرے لئے (ملا اعلی کی بحث کے متعلق) ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے اسے جان لیا۔“ آگے لمبی حدیث ہے، ترمذی نے فرمایا :”یہ حدیث حسن صحیح ہے اور میں نے محمد بن اسمعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا :”یہ حدیث حسن صحیح ہے۔“
امام ترمذی نے ابن عباس ؓ سے بھی نفاق فرق کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے اور شیخ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔ ابن کثیر ؒ نے فرمایا کہ مسند احمد (1/285) میں ابن عباس ؓ سے مروی حدیث ”رایت ربی بارک و تعالیٰ“ (میں نے اپنے رب عزو جل کو دیکھا) اسی سند والی حدیث کا اختصار ہے، کیونکہ امام احمد نے ابن عباس ؓ سے خواب میں دیکھنے کی مفصل حدیث بھی روایت کی ہے جو پیچھے ترمذی کے حوالیسے گزری ہے۔
صحیح بخاری میں انس ؓ سے مروی حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا ذکر ہے :(ودنا الجبار رب العزۃ قتدلی حتی کان منہ قاب قوسین او ادنی فاوحی اللہ فیما اوخی الیہ حمسین صلاۃ علی امتک قل یوم ولیلۃ) (بخاری، التوحید، باب ماجء فی قولہ عزوجل :(وکلم اللہ موسیٰ تکلیما): 8518)”اور جبار رب العزت قریب آیا پھر اتر آیا، یہاں تک کہ اس سے دو کمانوں کے فاصلے پر ہوگیا یا اس سے بھی قریب۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طرف جو وحی فرمائی، اس میں آپ کی امت پر دن رات میں پچاس نمازوں کی وحی فرمائی۔“ یہ لمبی حدیث ہے، اس حدیث کے شروع اور آخر میں یہ صراحت موجود ہے کہ یہ معاملہ نیند کا تھا اور نیند میں آپ ﷺ کے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے میں کوئی اختلاف نہیں۔ رہی یہ بات کہ کیا معراج متعدد بار ہوا ہے، تو اعہل علم نے فرمایا کہ بیداری کی حالت میں معراج ایک ہی دفعہ ہوا ہے، اس سے پہلے تمہید کے طور پر پہلے خواب میں آپ کو یہ سب کچھ دکھایا گیا۔ تفصیل کے لئے دیکھیے ابن کثیر میں تفسیر سورة بنی اسرائیل اور فتح الباری میں شرح حدیث مذکور۔ تفسیر ہذا میں سورة انعام کی آیت (103) کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔
Ayahs 53:19–21(افرء یتم اللت والعزی …: گزشتہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کی صراط مستقیم پر استقامت اور آپ کی ہر بات اللہ تعالیٰ کی وحی پر موقوف ہونے کا ذکر ہوا، اس کے ساتھ آپ ﷺ کو تعلیم دینے والے فرشتے کی قوت و عظمت کا ذکر ہوا، اس کے زمین پر اور آسمانوں پر سدرۃ المنتہی کے پاس نزول اور رسول اللہ ﷺ کے بالکل قریب آکر وحی پہنچانے کا اور آپ ﷺ کا اسے اور اللہ تعالیٰ کی دوسری بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھنے کا ذکر ہوا۔ ان سب باتوں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت، اس کا جلال اور اس کی وحدانیت خود بخود ظاہر ہو رہی ہے کہ جب اس کے رسول کا، فرشتوں کا اور اس کی زمین و آسمان پر بیشمار نشانیوں کی عظمت کا یہ عالم ہے تو وہ خود کتنی قدرتوں کا مالک ہوگا۔ اس لئے ساتھ ہی اپنی توحید کی طرف توجہ دلانے اور مشرکین کو ان کی حماقت پر متنبہ کرنے کے لئے فرمایا ج کہ جب تم میری قدرتوں کو سن اور دیکھ چکے تو پھر کیا تم نے لات اور عزیٰ کو بھی دیکھا ہے ؟ کیا سوچا بھی جاسکتا ہے کہ یہ معبود ہیں یا اس عظیم الشان کائنات میں ان کا کوئی دخل ہے ؟ یہ انداز بیان ان باتوں کی انتہائی تحقیر اور ان پر طنز کا اظہار ہے، جیسے کوئی انتہائی کمزور اور ہاتھ پاؤں سے معذور شخص بادشاہ ہونے کا دعویٰ کر دے تو سبھی کہیں گے، اسے دیکھو یہ بادشاہ سلامت ہے۔
(2) طبری نے فرمایا :”مشرکین نے اپنے بتوں اور آستانوں کے نام اللہ تعالیٰ کے ناموں کی مونث بنا کر رکھے ہوئے تھے۔ چناچہ انہوں نے لفظ ”اللہ“ کے ساتھ تائے تانیث ملا کر ”اللات“ بنا لیا، جیسے ”عمرو“ مذکر کے لئے ”عمرۃ“ مونث اور ”عباس“ مذکر کے لئے ”عباسۃ“ مونث بنا لیتے ہیں اور ”عزیز“ سے ”غزی“ بنا لیا (جو ”اعزع“ اسم تفصیل کی مونث ہے۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ لفظ ”اللہ“ کا مونث ”اللات“ کیسے بن گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ اللہ اصل میں ”الا لہ“ ہے، مونث اس کا ”الالھۃ“ بنے گا، مگر انہوں نے تخفیف کے لئے اسے ”اللاث“ بنال یا اور معلوم ہے کہ تخفیف کا کوئی طے شدہ قاعدہ نہیں۔ شیخ عبدالرحمٰن سعدی لکھتے ہیں :”مناۃ“”منان“ کی مونث بنا لی گئی ہے۔“ ظاہر ہے یہاں بھی تخفیف قاعدہ ہی اسعتمال ہوا ہے۔
طبری نے فرمایا : ”مشرکین نے اپنے اوثان کے نام اللہ تعالیٰ کے نام کی مونث بنا کر رکھے ہوئے تھے اور دعویٰ یہ کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ (اللہ تعالیٰ ان کے اس بہتان سے بہت بلند ہے) تو اللہ جل ثناء ہ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ لات و عزیٰ اور تیسرے ایک اور منتا کو اللہ کی بیٹیاں کہنے والو !”الکم الذکر“ کیا تم اپنے لئے اولاد لڑکے پسند اور لڑکیاں ناپسند کرتے ہو اور ”ولہ الانثی“ اس کے لئے لڑکیاں قرار دیتے ہو جنہیں اپنے لئے کسی صورت پسند نہیں کرتے، بلکہ ان سے اتنی شدید نفرت رکھتخ ہو کہ انہیں زندہ درگور کردیتے ہو۔“
(3)”اللت“ کی قرأت میں اختلاف ہے۔ اکثر قراء اسے ”تائ“ کی تشدید کے بغیر پڑھتے ہیں، اس مفہم کے مطابق جس کا اوپر ذکر ہوا ہے اور بعض اسے ”اللاث“ (تاء کی تشدید کے ساتھ) پڑھتے ہیں، جو ”لت یلث“ (ن) سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی بلونا اور لت پت کرنا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا :(کان اللات رجلا یلث سویق الحاج) (بخاری، التفسیر، سورة النجم : 3859)”لات ایک مرد تھا جو ستوبلو کر حاجیوں کپو لاتا تھا۔“ پہلی قرأت اس لئے راجح ہے کہ اکثر قراء نے ایسے ہی پڑھا ہے اور اس لئے بھی کہ نص
نے مشرکین کو اس بات پر جھڑکا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ک ے لئے بیٹیاں قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری قرأت کے مطابق ”لات“ ایک مرد تھا۔”لات“ کے مونث ہونے کی ایک دلیل صحیح بخاری (2731، 2732) میں مذکور صلح حدیبیہ والی طوییل حدیث ہے، جس میں ہے کہ جب کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو نے کہا کہ تم مختلف لوگ اکٹھے ہوگئے ہو ، جنگ ہوئی تو بھاگ جاؤ گے، تو ابوبکر ؓ نے فرمایا :(امصص بظر اللات انحن نفر عنہ) (”لات کی شرم گاہ کو چوس، کیا ہم آپ (ﷺ) کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے ؟“ واضح رہے ”بظر“ عورت کی شرم گاہ کو کہا جاتا ہے۔
(4) عرب میں بتوں کے بیشمار آستانے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ان تین کا ذکر اس لئے فرمایا کہ یہ ان کے سب سے مشہور اور بڑے بت تھے۔ مکہ، طائف ، مدینہ اور حجاز کے اکثر علاقوں کے لوگ انہیں سب سے زیادہ پوجتے تھے۔ لات طائف میں تھا، بنو ثقیف اس کے پجاری اور متولی تھے۔ عزیٰ قریش کی خاص دیوی تھی جس کا استہان مکہ اور طائف کے درمیان مقام نخلہ پر تھا۔ وہاں عمارت کے علاوہ درخت بھی تھے جن کی پوجا ہوتی تھی۔ قریش کے ہاں اس کی تعظیم کا اندازہ صحیح بخاری کی اس حدیث سے ہوتا ہے جس میں ہے کہ جنگ اد کے موقع پر جب کفار سملمانوں کو کچھ نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوئے تو پہاڑ پر چڑھ کر باوسفیان نے فخر سے کہا :”لنا العزی ولا عزی لکم“ (ہمارے پاس عزی ہے تمہارے پاس کوئی عزی نہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اسے جواب دو :(اللہ مولانا ولا مولی لکم)”اللہ ہمارا مولیٰ ہے تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔“ (بخاری، الجھاد والسیر، باب ما یکرہ من التنازع…: 3029) منات کا مندر مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے مشلل کے قریب قدید کے مقام پر تھا۔ (دیکھیے بخاری، التفسیر، سورة النجم :3861) مدینہ کے اوس و خزرج اور ان کے ہمونوا اس کی پوجا کرتے تھے۔ ان تمام بتوں کے مندر تھے اور ان کے باقاعدہ پروہتا اور پجاری بھی تھے۔ کعبہ کی طرح ان پر بھی جانور لا کر قربان کئے جاتے تھے۔ ابن کثیر نے اس مقام پر سیرت ابن اسحاق سے عرب کے بتوں کا تذکرہ تفصیل سے نقل کیا ہے کہ وہ کہاں کہاں تھے، ان کی شکل کیا تھی اور کون کون سے صحابہ نے انہیں منہدم کیا۔ یہ تفصیل ان کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
(5) ومنوہ الثالثۃ الاخری : یہاں ایک سوال ہے کہ ”الثالثۃ“ (تیسرا) کہنے کے بعد ”الاخری“ (ایک اور یا بعد والا) کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ مشرکین کے ہاں بتوں اور دیویوں کے بھی درجے ہیں، لات اور عزیٰ کو جو مقام حاصل تھا وہ منات کو حاصل نہ تھا۔ اس کا تذکرہ ان الفاظ میں یہ ظاہر کرنے کے لئے فرمایا ہ اس کا نمبر تمہارے ہاں بھی تیسرا اور دونوں کے بعد ہے۔ یہ بھی شرک پر بہت بڑی چوٹ ہے کہ وہ معبود ہی کیا ہوا جو دوسرے معبود کو بردشات کرتا ہے اور متعدد معبود اپنی اپنی حیثیت پر قناعت کرتے اور خوش رہتے ہیں، بھلا معبود برحق ایسا ہونا چاہیے ؟ ابراہیم ؑ کے زمانے کے بتوں میں بھی یہ تقسیم موجود تھی، جیسا کہ فرمایا :(فجعلھم جذذاء الا کبیرا لھم) (الانبیائ : 58)”پس اس نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا، سوائے ان کے ایک بڑے کے۔“
(6) اس مقام پر بعض مفسرین نے ایک روایت بیان کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اس آیت پر پہنچے تو شیطان نے آپ ﷺ کی زبان پر یہ کلمات جایر کردیئے : ”تلک الغرانیق العلی و ان شفاعتھن لترتجی“ اس روایت کی حقیقت کے لئے دیکھیے سورة حج کی آیت (52) کی تفسیر۔
Ayah 53:22(تلک اذاً قسمۃ ضیزی :):”ضیزی“”ضاز یصیز صیزاً“ (ض) سے ”فعلی“ (فاء کے ضمہ کے ساتھ) کے وزن پر ہے جو ”افعل“ (اسم تفصیل) کی مونث ہے۔ اس کا معنی ”شدید الضیز“ (سخت ناانصافی والی ہے)۔ ”ضاد“ کے ضمہ کو ”یائ“ کی موافقت کے لئے کسرہ سے بدل دیا گیا۔ یعنی ایک تو اللہ کے لئے اولاد بتانا، پھر اپنے لئے لڑکے اور اللہ تعالیٰ کے لئے لڑکیاں پسند کرنا ، یہ تو بہت ہی سخت ناانصافی کی تقسیم ہے۔
Ayah 53:23(1) انھی الا اسمآء سمیتموھآ انتم وابآئکم …: اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة اعراف (71) اور سورة یوسف (40) کی تفسیر۔
(2) ان یتثبعون الا الظن : تفسری کیلئے دیکھیے سورة یونس (36، 66) کی تفسیر۔
(3) وما تھوی الانفس ولقد جآء ھم …: یعنی یہ لوگ ان کی پرستش صرف اپنے دلوں کی خواہشات کی پشیروی میں کر رہے ہیں۔ ان کا دل چاہتا ہے کہ کوئی ایسا معبود ہو جو دنیا میں ان کے کام بناتا رہے اور اگر آخرت آہی جائے تو وہاں بھی انہیں بخشوا دے، مگر ان پر حلال و حرام کی کوئی پابندی ہو نہ ان کی خواہشات پر کوئی قدغن ہو۔ اس لئے کبھی کسی کو اللہ کی اولاد بنا کر پوجنا شروع کر یدتے ہیں، جیسے کوئی مسیح یا عزیز ؑ کو اس کا بیٹا بنا کر پوجتا ہے، جیسے یہود و نصاریٰ اور کوئی فرشتوں کو بیٹیاں بنا کر ، جیسے مشرکین عرب اور کبھی کسی کو اس کا ایسا محبوب یا محبوبہ بنا کر پوجنے لگتے ہیں جس کی محبت کے ہاتھوں وہ مجبور ہے اور ان کی کوئی بات ٹال نہیں سکتا، جیسا کہ عام بت پرست ہیں اور کئی جھوٹے مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے اور دل میں امید باندھ لیتے ہیں کہ ان کے بنائے ہوئے یہ خیالی معبود قیامت کے دن انہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا لیں گے، کیونکہ ان کا اس کے ساتھ نسب یا محبت کا رشتہ ہے جس سے مجبور ہو کر اسے ان کی شفاعت ماننا پڑے گی۔ جب کہ حقیقت میں یہ سب ان کی ناکام تمنائیں اور آرزوئیں ہیں، بات یہ ہے :(ولقد جآء ھم من ربھم الھدی)”اور بلاشبہ یقیناً ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایات آچکی۔“ اور اصل ہدایت اور سیدھی راہ وہی ہے جو ہمارے پیغمبر ﷺ لے کر ان کے پاس آئے ہیں۔
Ayahs 53:24–25(ام للانسان ما تمنی…: یعنی انہوں نے جو آرزوئیں دل میں پال رکیھ ہیں ہ ان کے معبود دنیا میں ان کے کام آئیں گے اور آخرت میں انہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا لیں گے، یا اگر آخرت قائم ہوئی تو انہیں وہاں بھی وہی آسئاشیں ملیں گی جو انہیں دنیا میں میسر ہیں، تو سب سے پہلے یہ سوچیں کہ آیا انسان کی ہر تمنا جو وہ کرے، کیا پوری ہوتی ہے ؟ ظاہر ہے ایسا ہرگز نہیں، کیونکہ دنیا کا مالک بھی صرف اللہ تعالیٰ ہے اور آخرت کا مالک بھی وہی ہے، اسلئے کسی اور کے چاہنے یا نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، بلکہ ہوتا وہی ہے جو مالک چاہے۔ پھر انہوں نے ان خود ساختہ معبودوں سے یہ توقع کیسے باندھ لی کہ وہ ان کی تمنائیں پوری کریں گے۔ یہاں تو بڑے سے بڑا شخص بھی خواہ اللہ کا خلیل ہو یا اس کا حبیب، اس کی مرضی کا پابند ہے اور اس کی وہی آرزو پوری ہوتی ہے جو مالک چاہتا ہے۔ ابراہیم ؑ کے والد کو دیکھ لو، نوح ؑ کے بیٹے اور نبی کریم ﷺ کے چچا کو دیکھ لو، تم پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ کسی بھی شخص کی تمنا وہی پوری ہوتی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کا مالک چاہتا ہے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
ما کل ما یتمنی المرہ یدر کہ تجری الریاح بما لاتشتھی السفن
”ایسا نہیں کہ آدمی جو تمنا کرے اسے حاصل کر ہی لے، کیونکہ بہت دفعہ ہوائیں کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں۔“