52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 52:1

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم ہے طور کی !

(1) والطور : اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی پانچ عظیم الشان مخلوقات کی قسم اٹھائی ہے، اس بات کا یقین دلانے کے لئے کہ اس کا عذاب قیامت کے دن اس کے دشمنوں پر واقع ہو کر رہنے والا ہے، اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔ یہ پانچوں مخلوقات اللہ تعالیٰ کی عظیم اور لا محدود قوت و قدرت کی شاہد ہیں اور اس بات کی دلیل ہیں کہ ان عظیم مخلوقات کے خلاق کے لئے قیامت برپا کرنا اور اپنے منکروں کو عذاب دینا نفاق بات ہے۔ (2)”الطور“ کا معنی وہ پہاڑ جس پر پودے اگتے ہوں۔ ایک خاص پہاڑ کا نام بھی ”طور“ ہے جس کے دامن میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے کلام کیا اور اگر اس پر ”الف لام“ جنس کا ہو تو تمام پہاڑ مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کی طرف توجہ دلانے کے لئے متعدد مقامات پر پہاڑوں کا ذکر فرمایا ہے۔ ان کا زمین میں گڑا ہوا ہونا ، آسمان کی طرف بلند ہونا، سمندر سے ہز اورں فٹ بلند ہونے کے باوجود ان پر چشموں، پودوں اور درختوں کا اور اتنی بلندی پر گلیشیروں کی صورت میں پانی کے بےحساب ذخیروں کا موجود ہونا ، ان کے اندر چھپے ہوئے معدنیات کے بیشمار خزانے ، اتنے بلند اور ٹھوس ہونے کے باوجود ان میں راستوں کا موجود ہونا، غرض پہاڑوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت کی بیشمار نشانیاں ہیں۔ مزید دیکھیے سورة رعد (3) ، حجر (19) ، نحل (15، 81) ، لقمان (10) ، فاطر (27) ، مرسلات (27) ، نبا (7) ، نازعات (32) اور سورة غاشیہ (19)۔
Ayahs 52:2–3

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے !

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

ایسے ورق میں جو کھلا ہوا ہے۔

(وکتب مسطور ، فی رق منشور :”مسطور“ ترتیب اور خوبصورتی کے ساتھ سطر میں لکھی ہوئی کتاب۔ ”رق“ کا مادہ رقت اور باریکی کے لئے استعمال ہوتا ہے، مراد باریک چمڑا یا جھلی ہے جو مضبوط اور دیرپا ہونے کی وجہ سے لکھنے کے لئے استعمال ہوتے تھے۔ کاغذ یا کسی طرح کا باریک ورق بھی ”رق“ ہے۔ ”منشور“ کھلا ہوا، جسے کھول کر پڑھا جاسکے۔ اس ”کتاب مسطور“ کے متعلق مفسرین کے متعدد اقوال ہیں، لوح محفوظ، اعمال نامے، تورات، آسمانی کتابیں اور قرآن مجید وغیرہ۔ لفظ عام ہونے کی وجہ سے ”کتاب مسطور“ میں یہ تمامم کتابیں اور انسان، جن یا فرشتے جو کچھ لکھتے ہیں وہ سب کچھ شامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لکھنا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے بہت بڑی نشانی ہے، خواہ اس نے خود لکھا ہو، جیسے لوح محفوظ ہے ، یا اس کے فرشتوں نے لکھا ہو، جیسے نامہ ہائے اعمال ہیں، یا اس کے سکھانے سے انسانوں نے لکھا ہو۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ”اکرم“ ہونے کا ذکر لکھنے کی تعلیم دینے کے حوالے سے فرمایا :(اقرا و ربک الاکرم، الذی علم بالقلم) (العلق : 3، 3)”پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔ وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا۔“ اور سورة قلم میں تمام لکھنے والوں کی لکھی ہوئی تحریروں کو شاہد کے طور پر پیش کرنے کے لئے ان کی قسم کھائی، جیسا کہ فرمایا :(ن و القلم وما یسطرون) (اقلم : 1)”ن۔ قسم ہے قلم کی ! اور اس کے جو وہ لکھتے ہیں !“ یہاں قیامت کے قیام اور اس میں عذاب واقع ہونے کا ایک شاہد ”کتاب مسطور“ کو قرار دیا ہے۔
Ayah 52:4

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی !

(والبیت المعمور : آباد گھر۔ اس کے متعلق بھی مفسرین کے مختلف اقوال ہیں بعض نے فرمایا، اس سے مراد حدیث میں مذکور ساتویں آسمان پر موجود ایک مکان ہے۔ انس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :(ثم عرج بنا الی السماء السابعۃ فاستفتح جبریل فقیل من ھذا ؟ قابل جبریل، قبل و من معک ؟ قال محمد ﷺ ، قیل وقد بعث الیہ ؟ قال قد بعث الیہ، فتح لنا فاذا انا ابراہیم ﷺ مسنداً ظھرہ الی البیت المعمور واذا ھو یدخلہ کل یوم سبعون الف ملک لایعودون الیہ) (مسلم، الایمان، باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الی السموات…: 162)”پھر ہمارے ساتھ ساتویں آسمان کی طرف چڑھے تو جبریل نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا، کہا گیا :”کون ہے ؟“ کہا :”جبریل ہوں۔“ کہا گیا :’ اور آپ کیساتھ کون ہے ؟“ کہا :”محمد ﷺ ہیں۔“ کہا گیا :”کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے ؟“ کہا :”ہاں، پیغام بھیجا گیا ہے۔“ تو ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا تو میں نے ابراہیم ﷺ کو دیکھا کہ وہ اپنی پیٹھ کی ٹیک بیت المعمور (آباد گھر) کے ساتھ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس گھر میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، (اور جو ایک دفعہ داخل ہوجاتے ہیں وہ) پھر دوبارہ کبھی اس میں داخل نہیں ہوتے۔“ بعض مفسرین نے فرمایا اس سے مراد کعبہ ہے جو ہر وقت عمرہ، حج ، قیام اور طواف کرنے والوں کے ساتھ آباد رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ”البیت المعمور“ کے لفظ میں ان دونوں عظیم الشان گھروں کے علاوہ ہر آباد گھر بھی شامل ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت کا کھلا نشان ہے کہ اس نے زمین کے ہر حصے کو آباد کردیا ہے۔ شہروں، بستیوں ، میدانوں، صحراؤں، پہاڑوں، سمندروں غرض زمین کے جس حصے کو دیکھو وہیں آباد نظر آئے گی۔ حتی کہ قطب شمالی، جہاں ہر طرف برف ہی برف ہے، وہاں بھی آباید ملے گی۔ یعنی یہ آباد گھر (زمین) شاہد ہے کہ جس نے ابتداء اتنی آبادی پھیلا دی ہے جب کچھ بھی نہیں تھا، تو وہ انہیں دوبارہ زندہ کر کے مجرموں کو عذاب دے سکتا ہے اور یقیناً دے گا، کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو انسان کو پیدا کرنا بےمقصد ٹھہرتا ہے، جبکہ ایسا نہیں، فرمایا :(ایحسب الانسان انی ترک سدی) (القیامۃ : 36)”کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے بغیر پوچھے ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟“
Ayah 52:5

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی اٹھائی ہوئی چھت کی !

(والسقف المرفوع : اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لئے چھت کی طرح ہے، جیسا کہ فرمایا :(وجعلنا السمآء سقفاً محفوظاً وھم عن ایتھا معرضون) (الانبیائ : 32)”اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنا یا اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرنے والے ہیں۔“ جسے اللہ تعالیٰ نے اتنی بلندی پر کسی ستون کے بغیر محض اپنے حکم کے ساتھ تھام کر رکھا ہوا ہے، فرمایا :(اللہ الذی رفع السموت بغیر عمد ترونھا) (الرعد : 2)”اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے جنہیں تم دیکھتے ہو۔“ اور فرمایا :(ویمسک السمآء ان تفع علی الارض الا باذنہ) (الحج : 65) ”اور وہ آسمان کو تھام کر رکھتا ہے اس سے کہ زمین پر گرپڑے مگر اس کے اذن سے۔“ پھر اسب لند چھت کو سورج، چاند اور ستاروں کیساتھ سجا رکھا ہے، فرمایا :(ولقد زینا السمآء الدنیا بمصابیح) (الملک : 5)”اور بلا شبہ یقینا ہم نے قریب آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی۔“ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر آسمان کے پیدا کرنے کو انسان کی دوبارہ پیدائش کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا ہے، فرمایا :(ء انتم اشد خلقاً ام السمآء بنھا، رفع سمکھا فسوھا، واغطش لیلھا واخرج صحھا) (النازعات :28 تا 29)”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان ؟ اس نے اسے بنایا۔ اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا۔ اور اس کی رات کو تاریک کردیا اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کردیا۔“
Ayah 52:6

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور لباب بھرے ہوئے سمندر کی !

(والبحر المسجور :”سجر یسجر“ (ن) کئی معنوں میں آتا ہے۔”بحر التنور“ ”اس نے تنور ایندھن سے بھر کر بھڑکا دیا۔“”سجر الماء النھر ‘ ”پانی نے نہر کو بھر دیا۔“”سجر الکلب (شدہ بالساجور)“”اس نے کتے کو پٹے کے ساتھ باندھ دیا۔“ اس آیت میں زمین کی سطح پر پائی جانے والی سب سے عظیم مخلوق سمندر کی قسم کھا کر اسے قیامت کے دن عذاب دینے پر قادر ہونے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ لفظ ”المسجور“ لغت کے لحاظ سے جن کیفیتوں کا اظہار کرتا ہے وہ تینوں یہاں مراد لی جاسکتی ہییں۔ ایک یہ کہ وہ لبالب بھرا ہوا ہے، مدتیں گزرنے کے باوجود اس کی لبریزی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ قتادہ نے فرمایا :”الممتلی“ (طبری : 32593، بسند صحیح)”بھرا ہوا۔“ پھر وہ ساکن نہیں بلکہ اس میں ہر وقت ابلنے اور جوش مارنے کی سی کیفیت جاری رہتی ہے۔ مجاہد نے فرمایا :”الموقد“ (طبری : 32592، بسند حسن)”بھڑکایا ہوا۔“ مزید دیکھیے سورة تکویر کی آیت (6) :(واذا البحار سجرت) کی تفسیر۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے خشکی پر چڑھ دوڑنے سے باندھ کر رکھا ہوا ہے۔ اگر کبھی اسے طوفان کی صورت کی صورت میں نکلنے کی تھوڑی سی اجازت ملتی ہے تو شہروں کے شہر صفحہ ہستی سے نپاید ہوجاتے ہیں۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے :(البحر المسجور“ المحبوس) (طبری : 32596)
Ayah 52:7

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

کہ یقینا تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے۔

(ان عذاب ربک لواقع) یہ جواب قسم ہے، جس کا یقین دلانے کے لئے پانچوں قسمیں کھائی گی ہیں۔
Ayah 52:8

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔

مالہ من دافع : اس کی تفصیل اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة روم (43) اور سورة معارج (1، 2) کی تفسیر۔
Ayah 52:9

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن آسمان لرزے گا، سخت لرزنا۔

(یوم تمور السمآء موراً :”مار یمور موراً“ (ن) کسی چیز کا تیزی سے حرکت کرنا اور آگے پیچھے اور دائیں بائیں زور سے ہلنا، الٹ پلٹ ہونا، چکر کھانا۔ ”موراً“ مصدر تاکید کے لئے ہے، اس لئے ترجمہ ”سخت لرزنا“ کیا گیا ہے۔ ”یوم“ ”لواقع“ کا ظرف ہے، یعنی تیرے رب کا عذاب اس دن واقع ہونے والا ہے جب آسمان میں سخت لرزہ پیدا ہوگا اور وہ نہایت تیزی سے چکر کھائے گا اور آخر کار پھٹ جائے گا۔ قیامت کے دن آسمان پر گزرنے والے احوال کے لئے دیکھیے سورة فرقان (25) ، رحمٰن (37) ، حاقہ (16) ، معارج (8) مزمل (18) ، مرسلات (9) ، نبا (19) ، تکویر (11) ، انفطار (1) ، انشقاق (1) ، ابراہیم (48) ، انبیاء (104) اور سورة زمر (67)۔
Ayah 52:10

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ چلیں گے، بہت چلنا۔

(وتسیر الجبال سیراً : قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے احوال کیلئے دیکھیے سورة نبا (20) کی تفسیر۔
Ayahs 52:11–12

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

تو اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

وہ جو فضول بحث میں کھیل رہے ہیں۔

(فویل یومئذ للمکذبین، الذین ھم فی خوض یلعبون :”خاص یخوض خوضا“ (ي) اصل میں پانی کے اندر داخل ہونے کو کہتے ہیں، پھر یہ لفظ فضول اور بےہودہ اقوال و اعمال میں مشغولیت کے معنی میں استعمال ہونے لگا کہ جس طرح پانی میں جانے والے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا پاؤں کہاں پڑے گا، فضول کام یا بات کرنے والا بھی اس سے بیخبر ہوتا ہے کہ اس کا پاؤں کہاں پڑ رہا ہے۔ مزید دیکھیے سورة مدثر (45) کی تفسیر۔
Ayah 52:13

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔

یوم یدغون الی نار جھنم دعا :”’ ع یدع“ سختی کے ساتھ دھکیلنا۔”’ غا“ مصدر مجہول برائے تاکید ہے، بری طرح دھکیلا جانا۔ یعنی فرشتے انہیں نہایت سختی کے ساتھ بری طرح دھکیلتے ہوئے جہنم کی آگ کی طرف لے جائیں گے۔ مزید دیکھیے سورة دخان (47) ، رحمان (41) ، قمر (48) اور سورة مومن (70 تا 72)۔
Ayah 52:14

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔

(ھذہ النار التی کنتم بھا تکذبون :) یعنی فرشتے انہیں ذلیل کرنے کے لئے کہیں گے، یہی وہ جہنم ہے جسے تم دنیا میں مسلسل جھٹلاتے رہے۔”کان“ استمرار کے لئے ہے۔
Ayah 52:15

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

تو کیا یہ جادو ہے، یا تم نہیں دیکھ رہے ؟

(افسحر ھذا ام انتم لاتبصرون : یعنی جس طرح تم دنیا میں ہر معجزے کو جادو کہہ کر جھٹلا دیتے تھے، اب اس آگ کو بھی جادو کہہ کر جھٹلا دو ، تو بتاؤ کیا یہ جادو ہے ؟ یا جس طرح تم دنیا میں کہتے تھے :(من بیننا وبینک حجاب) (حم السجدۃ : 5) کہ ہمارے اور تمہارے درمیان ایک پردہ ہے، جو کچھ تم بتاتے ہو ہمیں دکھائی نہیں دیتا تو بتاؤ کیا اب بھی تم نہیں دیکھ رہے ؟ یہ ساری بات کفار کو دنیا میں ان کی جھٹلانے کے لئے کہی ہوئی باتیں یاد کروا کر ذلیل کرنے کیلئے کہی جائے گی۔
Ayah 52:16

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

اس میں داخل ہوجاؤ، پھر صبر کرو یا صبر نہ کرو، تم پر برابر ہے، تمہیں صرف اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

(1) اصلوھا : ظاہر ہے وہ یہی کہیں گے کہ پروردگار ! نہ یہ جادو ہے اور نہ اسے دیکھنے سے ہم اندھے ہیں بس ایک دفعہ ہمیں واپس جانے دے، ہم کبھی انکار نہیں کریں گے۔ (دیکھیے انعام : 27 تا 30) مگر حکم ہوگا اب اس میں داخلے کے بغیر چارہ نہیں، اسی میں جھلستے رہو۔ (2) فاصبروا ولا تصبروا سوآء علیکم : یعنی تمہارے لئے صبر کرنا یا نہ کرنا دونوں برابر ہیں، کیونکہ نہ صبر سے تمہارے عذاب میں تخفیف ہوگی اور نہ جزع فزع اور واویلا کرنے سے، کیونکہ اب نہ عذاب میں کمی ہوگی، نہ اس میں وقف ہوگا اور نہ اس سے نکل کرسکو گے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (162) ، زخرف (75) اور سورة ابراہیم (21)۔ (3) انما تجزون ما کنتم تعملون : یعنی جس طرح تم نے طے کر رکھا تھا کہ کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے، اب اس کی جزا یہی ہے کہ کسی صورت آگ سے نکل نہیں سکو گے۔
Ayah 52:17

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

بیشک متقی لوگ باغوں اور بڑی نعمت میں ہیں۔

ان المتقین فی جنت و نعیم : مکذبین کے برے انجام کے ذکر کے بعد متقین کے حسن انجام کا ذکر فرمایا۔ مزید دیکھیے سورة حجر (45)۔
Ayah 52:18

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

لطف اٹھانے والے اس سے جو ان کے رب نے انھیں دیا اور ان کے رب نے انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا لیا۔

(1)”فکھین“”فکہ یف کہ فکھا و فکاھۃ“ (ع) سے اسم فاعل ہے، خوش ہونا، لطف اٹھانا، لذت لینا، ظریف الطبع ہونا۔ (2) بما انتھم ربھم : اس کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة ذاریات (16) کی تفسیر۔ (3) ووقھم ربھم عذاب الجحیم : اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة دخان (56) کی تفسیر۔
Ayah 52:19

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

کھاؤ اور پیو خوب مزے سے، اس کے بدلے جو تم کیا کرتے تھے۔

(کلوا واشربوا ھنیئاً …:”ھنا یھنی ویھنا ویھنو الطعام“ کا مفہوم صرف مزیدار ہونے کے لفظ پورا ادا نہیں ہوتا، بلکہ لغت میں ”ھنیی“ سے مراد وہ چیز ہے جو کسی مشقت کے بغیر آسانی سے حاصل ہوجائے، کھانے میں لذیذ ہو اور گلے سے آسانی سے اتر جائے ، اس سے بدہضمی یا بیماری کا کوئی اندیشہ نہ ہو اور اس کے ساتھ کوئی غم یا فکر نہ ہو۔
Ayah 52:20

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

ایسے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جو قطاروں میں بچھائے ہوئے ہیں اور ہم نے ان کا نکاح سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتوں سے کردیا، جو بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں۔

(1) متکین علی سرر مصفوفۃ : ابن کثیر ؒ نے فرمایا کہ وہ تخت قطار در قطار آمنے سامنے بچھے ہوں گے، جیسا کہ فرمایا :(علی سرر متقبلین) (الصاقات : 33)”تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔“ (2) وزوجھنم بحور عین : اس کے لئے دیکھیے سورة دخان (54) کی تفسیر۔
Ayah 52:21

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی، ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان سے ان کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے، ہر آدمی اس کے عوض جو اس نے کمایا گروی رکھا ہوا ہے۔

(1) والذین امنوا واثبعتھم ذریتھم بایمان :”بایمان“ پر تنوین تنکیر و تقلیل کیلئے ہے، اس لئے ترجمہ ”اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی“ کیا گیا ہے۔ (2) الحقنا بھم ذریتم : طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے اس کی تفسیر نقل فرمائی ہے :(ان اللہ تبارک و تعالیٰ یرفع للمومن ذریتہ ، وان کانوا دونہ فی العمل ، لیقر اللہ بھم عینہ) (طبری : 32622)”اللہ تعالیٰ مومن کی خاطر اس کی اولاد کو اونچا لے جائے گا، خواہ وہ عمل میں اس سے کم ہوں گے، تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اس کی آنکھ ٹھنڈی کرے۔“ اس سے پہلے سورة رعد (23) میں بیان فرمایا کہ اہل جنت کے آباء اور بیوی بچوں میں سے جو بھی صالح ہوں گے وہ ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے اور سورة مومن (8) میں فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ سے ایمان والوں کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں اور ان کے آباء ، بیویوں اور اولادوں کو جنت میں داخل کر دے۔ زیر تفسیر آیت میں جنت کے داخلے کے ساتھ ایک اور بڑی خوش خبری دی ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجے کا ایمان لا کر اپنے صالح آباء کے نقش قدم پر چلتی رہی ہو تو خواہ وہ ایمان یا عمل کے لحاظ سے اس بلند درجے کے مستحق نہ بھی ہوئے جو ان کے آباء کو حاصل ہوگا، پھر بھی اللہ تعالیٰ انہیں ان کے آباء کے ساتھ ملا دے گا۔ (3) وما التھم من عملھم من شیء :”التیالت التا“ (ض) ”الشیئ“ کسی چیز کا کم ہوا۔”الت الرجل حقہ“ ”کسی آدمی کے حق میں کمی کرنا، پورا نہ دینا۔“ یعنی یہ نہیں ہوگا کہ ہم آباء کو ان کے اعلیٰ درجے سے نیچے لا کر ان کی اولاد کے ساتھ ملا دیں، کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ ان کے عمل کا اجر کم کردیا جائے۔ اس لئے ہم ان کے عمل میں کسی طرح کمی نہیں کریں گے ، بلکہ محض اپنے فضل سے اولاد کا درجہ بڑھا کر آباء کے اعلیٰ درجے میں پہنچا دیں گے۔ (4) جس طرح آباء کے عمل کی برکت سے اولاد کے درجات میں اضافہ ہوگا اسی طرح اولاد کی دعا کی بدولت اللہ تعالیٰ آباء پر بھی فضل فرمائے گا۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان اللہ عزو جل لیرفع الدرجۃ للعبد الصالح فی الجنہ فیقول یا رب ! انی لی ھذہ ؟ فیقول باستغفار ولدلک لک) (مسند احمد : 2/509 ح : 10610، مسند احمد کے محققین نے اس کی سند کو حسن اور ابن کثیر نے صحیح قرار دیا ہے۔”اللہ عزو جل جنت میں صالح بندے کا درجہ بنلد فرمائے گا تو وہ کہے گا :”اے میرے رب ! مجھے یہ درجہ کیسے مل گیا ؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا :”تیری اولاد کے تیرے لئے استغفار کی وجہ سے۔“ اس کی تائید اس مشہور حدیث سے ہوتی ہے جو ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کی، آپ ﷺ نے فرمایا :(اذا مات الانسان انفطع عنہ عملہ الا من ثلاثۃ الا من صدقۃ جاریۃ او علم ینفع بہ او ولد صالح یدعولہ) (مسلم، الوصیۃ باب ما بلحق الانسان من التواب بعد وفاتہ : 1631)”جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کا عمل اس سے کٹ جاتا ہے، سوائے تین اعمال کے ، صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جاتا رہے یا صالح اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔ (5) کل امری بما کسب رھین :”رھن برھن رہنا“ (ف) گروی رکھنا۔”رھین“ گروی رکھا ہوا۔ اگر کوئی شخص کسی سے کچھ قرض لے اور قرض دینے والا اپنے حق کی وصولی کے لئے ضمانت کے طور پر اس کی کوئی چیز اپنے پاس رہن (گروی) رکھ لے تو جب تک وہ قرض ادا نہ کرے اس کی گروی رکھی ہوئی چیز چھوڑی نہیں جاتی اور اگر ادا کری ہی نہ سکے تو ضبط کرلی جاتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنا فضل بیان فرمایا کہ صالح اولاد کے اعمال ان کے آباء کے درجے کے لائق نہ بھی ہوئے تو انہیں ان کے آباء کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ اب اپنے عدل کا بیان فرمایا کہ کسی شخص کو دوسرے کے گناہ میں نہیں پکڑا جائے گا، بلکہ ہر آدمی اپنے کمائے ہوئے عمل کے بدلے ہی گرفتار ہوگا، خواہ وہ باپ ہو یا بیٹا۔ پھر یا تو آدمی وہ عمل پیش کر کے چھوٹ جائے گا جس کی ادائیگی اس کے ذمے تھی یا پیش نہ کرسکنے کی وجہ سے گرفتار رہے گا۔ مزید دیکھیے سورة انعام (164) ، فاطر (18) اور سورة مدثر (38)۔
Ayah 52:22

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور ہم انھیں پھل اور گوشت زیادہ دیں گے اس میں سے جو وہ چاہیں گے۔

(وامدد نھم بفاکھۃ…:) اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سوروہ صافات (42) کی تفسیر۔
Ayah 52:23

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہ اس میں ایک دوسرے سے شراب کا پیالہ چھینیں جھپٹیں گے، جس میں نہ بےہودہ گوئی ہوگی اور نہ گناہ میں ڈالنا۔

(1) یتنازعون فیھا کا سا :”کا سا“ کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة صافات (45) کی تفسیر۔ اہل جنت ایک دوسرے سے شراب کے پیالے اس لئے نہیں چھینیں جھپٹیں گے کہ وہاں کسی کمی کا یا ختم ہونے کا اندیشہ ہوگا، بلکہ محض خوش طبعی کے طور پر ایسا کریں گے، کیونکہ چھیننے جھپٹنے کا الگ مزا ہے۔ (2) لا لغو فیھا ولا تاثیم : دنیا کی شراب میں کئی قباحتیں ہیں، جن میں سے سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ آدمی کی عقل پر پردہ پڑجاتا ہے ، حالانکہ عقل ہی اسے جانوروں سے امتیاز اور ان پر برتری عطا کرتی ہے۔ پھر وہ نشے کی حالت میں بکواس کرنے لگتا ہے، گناہ کے کام کر بیٹھتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات اپنی محرم عورتوں تک کی عزت برباد کر بیٹھتا ہے۔ جنت کی شراب میں دنیا کی شراب والی کوئی قباحت نہیں ہوگی، مگر اس میں وہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہوں گی جن کی وجہ سے یہ لوگ اس کی تلخی، بدبو اور بعد کے برے اثرات کے باوجود اسے پیتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورة صافات (47)۔
Ayah 52:24

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور ان پر چکر لگاتے رہیں گے انھی کے لڑکے، جیسے وہ چھپائے ہوئے موتی ہوں۔

(1) ویطوف علیھم غلمان لہم : اس کی وضاحت کیلئے دیکھیے سورة دہر (19) اور سورة واقعہ (17، 18) کی تفسیر۔ (2) کانھم لو لو مکنون : یعنی ان کی خوبصورتی، سفیدی اور پاکیزگی کا یہ عالم ہوگا جیسے موتی ابھی اپنی سیپ ہی میں محفوظ ہوں، یا جواہرات والی ڈبیا میں اس طرح چھپا کر رکھے ہوئے ہوں کہ نہ ان پر گرد و غبار کا کوئی ذرہ پڑا ہوا اور نہ وہ ہاتھ لگنے سے میلے ہوئے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں وہ اتنے خوبصورت اور صاف ستھرے ہوں گے کہ چھوٹے سے میلے ہوتے ہوں گے۔
Ayah 52:25

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور ان کے بعض بعض پر متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کرتے ہوں گے۔

(واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون : یعنی اہل جنت ان نعمتوں سے جن کا ذکر اوپر گزرا شاد کام ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔ ان میں سے ہر ایک پوچھنے والا بھی ہوگا اور دوسرے کو واب دینے والا بھی کہ سناؤ دنیا میں تم پر کیا کچھ گزرا ؟ پھر اس کی مصیبتوں اور فتنوں سے بچتے بچاتے یہاں جنت میں کیسے پہنچے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ انہیں گزشتہ تمام واقعات یادہوں گے ، چناچہ وہ اپنی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہیں گے۔ ایک دوسرے سے اس سوال و جواب میں ان کے ابٓاء اور ان کی اولاد کی گفتگو بھی شامل ہے جو ایک درجے میں اکٹھے ہوں گے۔ تو خوشی سے ایک دوسرے سے گزرے ہوئے احوال کے متعلق سوال کریں گے اور موجودہ حالت کے بارے میں بیھ کہ اللہ تعالیٰ نے ہم جیسے گناہگ اورں پر اتنا بڑا انعام کیسے کردیا کہ ہمیں جنت میں داخل فرمایا اور پھر ہم سے بعض کے عمل کی کوتاہی کے باوجود سب کو یکجا کردیا۔
Ayah 52:26

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

کہیں گے بلاشبہ ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرنے والے تھے۔

(قالوا انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین : یعنی وہ کہیں گے کہ ہم اس سے پہلے دنیا میں اپنے گھر والوں میں رہتے ہوئے ہر قسم کی آسائشو کے باوجود ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں ہم سے اللہ کی نافرمانی نہ ہوجائے، ہماری نیکیاں نامقبول نہ ہوجائیں اور ہمارے اعمال کی شامت سے ہمارا خاتمہ خراب نہ ہوجائے۔”فی اھلنا“ (اپنے گھروالوں میں) کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کے بارے میں ڈرتے رہتے تھے کہ وہ اللہ کے نافرمان نہ بن جائیں اور نافرمانی کے نتیجے میں جہنم کا ایندھن نہ بن جائیں، اور یہ بھی کہ ان کی وجہ سے کہیں ہم راہ راست سے نہ بھٹک جائیں، ان کی خاطر کمائی کرتے کرتے حرام کاموں کا ارتکاب نہ کر بیٹھیں ، انہیں نمازی اور رب تعالیٰ کا فرماں بردار بنانے کی کوشش میں کوتاہی نہ کر بیٹھیں اور ان کی محبت اللہ کی اطاعت پر غالب نہ آجائے۔
Ayah 52:27

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

پھر اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں زہریلی لو کے عذاب سے بچا لیا۔

(فمن اللہ علینا و قنا عذاب السموم :”السموم“ ”سم“ (زہر) سے مشتق ہے، زہریلی یو۔ اس کی جمع ”سمائم“ آتی ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ ”مسام“ سے ہے جو جسم کے ہر مسام میں داخل ہوجائے۔ یعنی ہم تو شدید خائف تھے کہ اپنی کوتاہیوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے جہنم میں نہ پھینک دیئے جائیں، مگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہماری خطائیں معاف فرما کر ہمیں جہنم کی زہریلی بو سے بچا لیا۔
Ayah 52:28

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

بیشک ہم اس سے پہلے ہی اسے پکارا کرتے تھے، بیشک وہی تو بہت احسان کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

(1) انا کنا من قبل ندعوہ : یعنی مہ اس سے پہلے دنیا میں ڈرتے تھے، مگر ڈرنے کے باوجود اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوئے، بلکہ اپنی امیدیں اسی سے وابستہ رکھیں۔ اس لئے اسی کو پکارتے رہے، اسی سے دعا کرتے رہے اور اسی سے جنت میں داخلے اور جہنم سے پناہ کی درخواست کرتے رہے۔ (2) انہ ھو البر الرحیم :”ان“ تعلیل کے لئے آتا ہے، یعنی اس نے ہماری خطائیں معاف فرمائیں، ہمیں جہنم کی زہریلی بو سے بچایا، ہمیں جنت کی نعمتیں عطا کیں اور ہمارے پیاروں کو ہمارے ساتھ یکجا کردیا، اس لئے کہ وہی ہے جو بےحد احسان کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے، ہمیں جو کچھ عطا ہوا وہ محض اسی کے احسان اور رحم کا نتیجہ ہے۔
Ayah 52:29

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

پس نصیحت کر، کیوں کہ تو اپنے رب کی مہربانی سے ہرگز نہ کسی طرح کاہن ہے اور نہ کوئی دیوانہ۔

(1) فذکر فما انت بنعمت ربک بکاھن ولا مجنون :”کاہن“ وہ شخص جو شیاطین سے تعلق رکھتا ہے اور ان سے سن کر غیب کی خبریں یدتا ہے، جن میں ایک آدھ وہ سچی خبر بھی ہوتی ہے جو انہوں نے آسمان کے نیچے فرشتوں کی باہمی گفتگو سے چرائی ہوتی ہے، پھر اس کے ساتھ سو باتیں جھوٹی ملا کر اپنے دوستوں کو بتاتے ہیں۔ (2) سورت کے شروع سے قیامت، جزا و سزا اور جنت و جہنم کی تفصیل اور دلائل ذکر کرنے کے بعد فرمایا :”فذکر“ (پس نصیحت کر) یعنی جب ہم نے یہ سب کچھ آپ کو وحی کے ذریعے سے بتادیا تو اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کے ساتھ تمام لوگوں کو صنیحت کریں اور کفار و مشرکین کی بےہودہ باتوں اور تہمتوں کی پروا نہ کریں۔ وہ آپ کو کاہن کہیں یا مجنون، آپ اللہ کے فضل سے کسی طرح بھی نہ کاہن ہیں نہ مجنون۔ کہانت یا دیوانگی کی کوئی بھی بات آپ میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔ ”فما انت بنعمت ربک بکاھن“ میں ”ما“ نافیہ کے بعد ”بائ“ نفی کی تاکید کے لئے ہے اور ”بکاھن“ پر تنوین تنکیر کے لئے ہے ، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے ”تو اپنے رب کی مہربانی سے ہرگز نہ کسی طرح کاہن ہے اور نہ کوئی دیوانہ۔“ (2) اللہ تعالیٰ نے اور مقامات پر بھی رسول اللہ ﷺ سے کہانت اور جنون کی نفی فرمائی ہے۔ دیکھیے سورة حاقہ (41، 42) ، قلم (2) اور سورة تکویر (22)۔ سورة شعراء میں یہ بات کہ آپ ﷺ کاہن نہیں اور یہ کہ کاہن کس طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ تفصیل سے گزر چکی ہے، دیکھیے سورة شعراء کی آیات (210 تا 223) اور ان کی تفسیر۔
Ayah 52:30

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں ؟

(ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون :”نربص یتربص“ (تفغل) ”آنے والے کسی شر یا خیر کا انتظار کرنا۔“”المنون“”من یمن منا“ (ن) کا معنی ”قطع کرنا“ ہے۔ ”المنون“ بروزن ”فعول“ (کاٹنے والا) موت کو کہتے ہیں، کیونکہ وہ زندگی کی رسی کو کاٹ دیتی ہے اور زمانے کو بھی، کیونکہ وہ بھی زندگی کے ایام کو کاٹتا چلا جاتا ہے۔ ”ریب“ کا اصل معنی شک اور بےچینی ہے، لیکن جب اس کا استعمال زمانے کے ساتھ ہو تو مراد زمانے کے حوادث ہوتے ہیں، کیونکہ وہ آدمی کو بےچین رکھتے ہیں۔ یہاں سے اللہ تعالیٰ نے انکار اور تعجب کے انداز میں ان مشرکین کی جہالت کی باتوں کا پندرہ (15) دفعہ لفظ ”ام“ کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور ہر ”ام“ کے بعد سوال کرتے ہوئے ان پر الزام قائم کیا ہے، جس کا جواب ان میں سے کسی کے پاس نہیں۔ چناچہ اس آیت میں فرمایا :(ام یقولون شاعر)”یا وہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے۔“ کفار یہ قول نقل فرما کر تردید کی ضرورت نہیں سمجھی، کیونکہ قرآن مجید کا وجود ہی اس کی تردید کے لئے کافی ہے۔ البتہ ان کی اس بات کا جواب دیا ہے ہے کہ ہم اس پر زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں کہ اس پر کوئی آفت آجائے، یا اس کی موت کا وقت آجائے، جس کے ساتھ اس کی دعوت کا سلسلہ ختم ہوجائے۔
Ayah 52:31

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

کہہ دے انتظار کرو، پس بیشک میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔

(قل تربصوا فانی معکم من المتربصین : اس کا یہ مطلب نہیں کہ انتظار کر کے دیکھ لو، تم ہی مرو گے میں نہیں مروں گا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ تم میرا انجام دیکھو میں تمہارا انجام دیکھتا ہوں۔ تمہارا انجام ناکامی اور ہلاکت ہے، میرا انجام کامیابی اور نجات ہے۔
Ayah 52:32

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

یا انھیں ان کی عقلیں اس بات کا حکم دیتی ہیں، یا وہ خود ہی حد سے گزرنے والے لوگ ہیں ؟

(ام تامرھم احلامھم بھذآ…:”احلام“”حلم“ کی جمع ہے، جو دراصل غصہ بھڑکنے کے وقت ضبط نفس کو کہتے ہیں۔ عقل کو ”حلم“ اس لئے کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں وہی طبیعت پر ضبط کا باعث ہوتی ہے۔ مشرکین اپنے آپ کو بڑا عقل مند باور کرواتے تھے، اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے متعلق ان کی تین باتیں ذکر فرمائیں، کاہن، مجنون اور شاعر پھر ان کی عقولں پر چوٹ فرمائی کہ کیا کوئی عاقل ایسی بات کہہ سکتا ہے ؟ اول تو رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی اور آپ کا لایا ہوا قرآن سب کے سامنے ہے، کوئی شخص جس کی عقل قائم ہو وہ آپ کے متعلق یا قرآن کے متعلق ان میں سے کوئی بات بھی نہیں کہہ سکتا، کیو کہ قرآن کریم کا اور رسول کریم ﷺ کا کہانت، جنون یا شعر کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق جو باتیں کہہ رہے ہیں وہ آپ س میں اتنی متضاد ہیں کہ ایک شخص میں جمع ہو ہی نہیں سکتیں۔ یہ بھی ؟ پھر یہ کون سی عقل مندی ہے کہ کسی شاعر یا کاہن یا دیوانے سے اتنے شدید خوف زدہ ہوجاؤ کہ کسی کو اس کی بات نہ سننے دو ؟ بھلا آج تک کسی شاعر، کاہن یا دیوانے کی اتنی شدید مخالفت کی گئی ہے جتنی یہ لوگ آپ ﷺ کی کر رہے ہیں۔ فرمایا گیا ان کی عقلیں انہیں اس کا حکم دیتی ہیں ؟ جواب ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ وہ خود بخود ظاہر ہے کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ان کی عقلوں کا فیصلہ نہیں بلکہ بات کچھ اور ہے اور وہ یہ ہے کہ دراصل یہ سرکش لوگ ہیں اور ان کی سرکشی انہیں حق قبول نہیں کرنے دیتی۔
Ayah 52:33

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے یہ خود گھڑ لیا ہے ؟ بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے۔

(امن یقولون تقولہ بل لایومنون :) تقول یتقول تقولاً“ (تفعل) تکلف سے بات بنانا اور گھڑنا۔ ”فلان نقول علی فلان“ فلاں نے فلاں پر جھوٹ گھڑ دیا۔“ یعنی یا وہ قرآن کے متعلق کہتے ہیں کہ نبی نے یہ کلام اپنے پاس سے بنا کر اللہ کے ذمے لگا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نہیں فرمایا کہ نہیں یہ نبی کا بنایا ہوا نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے، کیونکہ خود ان کا دل جانتا ہے کہ یہ آپ ﷺ کا اپنا کلام نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ اہل زبان ہیں وہ اسے سن کر سمجھ لیتے ہیں کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔ پھر جو شخص رسول اللہ ﷺ کو جانتا ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ نبوت سے پہلے چالیس برس تک کسی انسان پر بھی جھوٹ نہ باندھنے والا شخص اللہ پر جھوٹ باندھ سکتا ہے۔ اسلئے فرمایا :(بلا لا یومنون) یعنی ان کی مخالفت کی وجہ یہ نہیں کہ آپ ﷺ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ مانتے ہی نہیں، انہوں نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ ہم کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 52:34

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

پس وہ اس جیسی ایک ہی بات بنا کرلے آئیں، اگر سچے ہیں۔

(فلیاتوا بحدیث مثلہ ان کانوا صدقین :) یعنی اگر یہ اسے رسول کا اپنے پاس سے گھڑا ہوا انسانی کلام سمجھتے ہیں تو وہ بھی اس جیسی ایک بات ہی بنا کرلے آئیں، اگر سچے ہیں۔ آخر وہ بھی اہل زبان ہیں، انہیں اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز ہے، پھر انہیں یہ بھی پیش کش ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ساری کائنات کو ساتھ ملا کر اس جیسی ایک بات بنا کرلے آئیں۔ قرآن مجید کے ان مقامات پر بھی نظر ڈال لیں، سورة بقرہ (23) ، یونس (38) ، ہود (13) اور بنی اسرائیل (88)۔
Ayahs 52:35–36

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں، یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں ؟

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

یا انھوں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ بلکہ وہ یقین نہیں کرتے۔

(1) ام خلفوا من غیر شیء …: اس سے پہلے تین سوال یہ ثابت کرنے کے لئے تھے کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول اور قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے، اب یہاں سے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کو ثابتک رنے کی بات کا آغاز فرمایا۔ یعنی محمد ﷺ نے ان کے سامنے جو دعوت پیش کی ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا خلاق ہے، اس لئے تمہیں اسی کی عبادت کرنی چاہیے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے۔ آخر اس پر ان کے بگڑنے کی کیا کوئی معقول وجہ ہے ؟ اگر یہ رب تعالیٰ کو خلاق نہیں مانتے تو بتائیں کہ کیا وہ کسی بنانے والے کے بغیر ہی بن گئے ہیں ؟ ظاہر ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ہر بنی ہوئی چیز کا کوئی بنانے والا ضرور ہوتا ہے۔ یا پھر انہوں نے اپنے آپ کو خود بن الیا ہے ؟ یہ پہلی بات سے بھی زیادہ ناممکن بات ہے، کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی چیز خلاق بھی ہو اور مخلوق بھی۔ یا پھر یہ بتائیں کہ یہ آسمان و زمین انہوں نے بنائے ہیں ؟ ظاہر ہے ایسا بھی نہیں، کیونکہ یہ کائنات اس وقت کی بنی ہوئی ہے جب ان لوگوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تین سوال کئے ہیں جن کا جواب ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ وہ بالکل ظاہر ہے کہ نہ یہ لوگ کسی بنانے والے کے بغیر بنے ہیں، نہ یہ اپنے آپ کو خود بنانے والے ہیں اور نہ کائنات ان کی بنائی ہوئی ہے، بلکہ انہیں اور ساری کائنات کو بنانے والا کوئی اور ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ اس حقیقت کو وہ بھی مانتے تھے، جیسا کہ فرمایا :(ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ فانی یوفکون) (الزخرف : 88)”اور یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ انہیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ، پھر کہاں بہکائے جاتے ہیں۔“ اور فرمایا :(ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن اللہ) (لقمان : 25)”اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔“ (2) بل لایوقنون : یعنی بات یہ نہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو اپنا خلاق نہیں مانتے اور اس کا اقرار نہیں کرتے، بلکہ اصل یہ ہے کہ اقرار کے باوجود انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے، کیونکہ اگر انہی واقعی یقین ہوتا کہ ہمارا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو اسی کی عبادت کرتے ، نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بناتے اور نہ اس کی طرف دعوت دینے والے کی اس طرح مخالفت کرتے۔
Ayah 52:37

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

یا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں، یا وہی حکم چلانے والے ہیں ؟

(1) ام عندھم خزآئن ربک …: یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ آپ ﷺ ہی کو کیوں رسول بنایا گیا، مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو رسالت کے لئے کیوں نہ چنا گیا ؟ فرمایا، یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو رسول بنا کر بھیجا اجئے مالک کا کام ہے۔ اب یہ لوگ اگر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے رسول کا انکار کرتے ہیں تو اس کا مطلق یہ ہے کہ یا تو تیرے رب کے خزانوں کے مالک یہ ہیں، جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں، یا یہ کہ مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر اس پر حکم انہی کا چلتا ہے۔ اب یہ خود ہی بتائیں کہ ان دونوں میں سے ان کا دعویٰ کیا ہے ؟ مزید دیکھیے سورة ص (8 تا 10) اور سورة زخرف (31، 32) ، خلاصہ یہ کفار کے پاس رسول اللہ ﷺ کی رسالت سے انکار کی کوئی عقلی دلیل نہیں۔ (2) آیت کی تفسیر اس طرح بھی ہوسکتی ہے کہ یا یہ لوگ اس لئے اکیلے رب کی عبادت نہیں کرتے اور محمد ﷺ کو رسول نہیں مانتے کہ تیرے رب کے خزانوں کے مالک ویہ ہیں، یا ان پر انھی کا حکم چلتا ہے، اس لئے وہ اپنی مرضی کے ملاک ہیں جو چاہیں کرتے پھریں ؟ ظاہر ہے ایسا بھی ہرگز نہیں۔
Ayah 52:38

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر وہ اچھی طرح سن لیتے ہیں ؟ تو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل پیش کرے۔

(ام لھم سلم یستعون فیہ …:) یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ عالم بالا کی طرف کان لگائے رکھتے ہیں اور وہاں سے سن آئے ہیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہی حق ہے اور یہ بھی سن آئے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول نہیں اور نہ اس نے انہیں بھیجا ہے، بلکہ انہوں نے قرآن خود ہی تصنیف کر کے اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگا دیا ہے۔ اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے تو وہ اس کی واضح دلیل پیش کرے، جس سے معلوم ہو کہ وہ واقعی آسمان تک گیا تھا اور وہاں اس نے واقعی اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں کی باتیں سنی ہیں۔ دیکھیے سورة احقاف (4) اور سورة فاطر (40) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے پاس رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے کے لئے کوئی نقلی دلیل بھی نہیں۔
Ayah 52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

یا اس کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ؟

(ام لہ البنت ولکم البنون): پھر جب انہیں عالم بالا تک رسائی نہیں تو انہیں کیسے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کو کائنات کا نظام چلانے کے لئے اولاد کی ضرورت ہے اور انہوں نے یہ کیسے طے کردیا کہ اولاد بناتے وقت اس نے اپنے لئے بیٹوں کے بجائے بیٹیوں کا چناؤ کیا ہے اور انہیں بیٹوں کے لئے منتخب کیا ہے ؟ حالانکہ یہ لوگ اپنے لئے کبھی بیٹیاں پسند نہیں کرتے۔ دیکھیے سورة نحل (57 تا 60) اور سورة زخرف (16 تا 18)۔
Ayah 52:40

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

یا تو ان سے کوئی اجرت مانگتا ہے ؟ پس وہ تاوان سے بوجھل کیے جانے والے ہیں۔

(ام تسلھم اجراً …:”الغرم و الغرامۃ و المغرم“ تاوان، چٹی، جو مال آدمی کو نہ چاہیے کے باوجود دینا پڑجائے۔ ”اجراً“ پر تنوین تنکیر کیلئے ہے، کسی بھی طرح کی اجرت۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوت قبول نہ کرنے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ آپ ان سے کسی طرح کی اجرت کا مطالبہ کرتے ہوں اور وہ تاوان سمجھ کر بوجھ بردشات کرنے کیلئے تیار نہ ہوں۔ جب آپ ان سے کسی طرح کی اجرت یا معاوضے کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ اپنی مزدوری صرف اللہ تعالیٰ کے ذمے سمجھتے ہیں اور اپنی کمائی یا ک اور بار یک بھی پروانہ کرتے ہوئے ہر وقت ان کی خیر خواہی کے لئے ان کے پیچھے پھرتے ہیں تو پھر وہ آپ سے دور کیوں بھاگتے ہیں ؟ مزید دیکھیے سورة مومنون (72)۔