Ayah 51:1(1) والذاریت ذرواً : قسم کا مقصد کسی بات کی تاکید اور اسے سچا ثابت کرنا ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی قسمیں دراصل اپنے جواب قسم کی دلیل اور شاہد ہیں جنہیں قسم کی صورت میں لایا گیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے حق ہونے کی دلیل کے طور پر چار قسمیں اٹھائی ہیں۔
(2) والذریت ذروا :”الذریت“”ذرا یذرو ذروا“ سے اسم فاعل ”ذاریۃ“ کی جمع ہے۔ اس کا معنی ”ہوا کا کسی چیز کو اڑانا اور بکھیرنا“ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(فاصبح ھشیماً تذروہ الریح) (الکھف : 35)”پھر وہ چورا بن گئی، جسے ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں۔“”ذرواً“ مفعول مطلق ہے جو ”الذریت“ کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ ”الذریت“ کا لفظی معنی ہے اڑانے والیاں۔ اب ان اڑانے والویں سے مراد کیا ہے ؟ مفسرین کا اتفاق ہے کہ ان سے مراد ہوائیں ہیں جو تیز چلتی ہیں تو گرد و غبار اور خس و خاشاک کو اڑا کر بکھیری چلی جاتی ہیں۔
Ayah 51:2(فالحملت وقراً :”وقراً“ بوجھ، اس پر تنوین تعظیم کے لئے ہے، بھاری بوجھ، یہ بھی ہواؤں ہی کی صفت ہے کہ پھر وہ ہوائیں سورج کی حرارت کے ساتھ سمندر سے اٹھنے والے آبی بخارتا سے بننے والے کروڑوں اربوں ٹن وزنی بھاری بادلوں کی اٹھاتی ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ عربی زبان میں عام طور پر جب صفات کا عطف فاء کے ساتھ ہو تو ایک تو وہ سب ایک ہی موصوف کی صفتیں ہوتی ہیں، دوسرا ان میں ترتیب ہوتی ہے، جیسا کہ سورة عادیات میں ہے :(والعدیت ضبحاً ، فالموریت قدحا، فالمغیرت صبحاً ، فاثرن بہ نقعاً ، فوسطن بہ جمعاً) (العادیات : 1 تا 5)”قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو پیٹ اور سینے سے آواز نکالتے ہوئے دوڑنے والے ہیں ! پھر جو سم مار کر چنگاریاں نکالنے والے ہیں ! پھر جو صبح کے وقت حملہ کرنے والے ہیں ! پھر اس کے ساتھ غبار اڑاتے ہیں۔ پھر وہ اس کے ساتھ بڑی جماعت کے درمیان جا گھستے ہیں۔“ یہاں فاء کے ساتھ عطف سے ظاہر ہے کہ یہ اور اس کے بعد آیات میں مذکور سب صفات ہواؤں میں کی ہیں۔
Ayah 51:3فالجریت یسراً : یہ بھی ان ہواؤں ہی کی صفت ہے کہ پھر وہ اتنے بےحساب وزنی بادلوں کو اٹھا کر آسانی کے ساتھ چلتی ہیں، انہیں اس بوجھ کی وجہ سے چلنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی۔
Ayah 51:4فالمقمت امراً : یہ بھی وہ ہوائیں ہی ہیں جو بھاری بادلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے انہیں اللہ کے حکم سے زمین کے مختلف حصوں میں لے جا کر ان کے حصے کی بارش برساتی ہیں، جس سے مردہ زمین زندہ ہوتی ہے اور ہر علاقے کے لوگوں میں ان کا رزق تقسیم ہوتا ہے۔
Ayahs 51:5–6(1) انما توعدون لصادق …: یہاں ”انما“ اکٹھا لفظ نہیں جو کلمہ حصر ہے اور جس کا معنی ہے ”اس کے سوا نہیں“ بلکہ اس میں ”ان ‘ حرف تاکید الگ ہے اور ”ما الگ ہے جو اسم موصول ہے اور اس کا معنی ہے ”وہ جو۔ ذ صحابہ کرام ؓ کے زمانے میں رسم الحظ پوری طرح ضبط نہیں ہوا تھا، انہوں نے ان دونوں کو اکٹھا لکھ دیا، تو بعد میں امت نے قرآن مجید کی حفاظت کا اتنا زبردست اہتمام کیا کہ صحابہ نے جو لفظ جس طرح لکھا تھا قرآن مجید کے رسم الخط میں اسے اسی طرح باقی رکھا گیا۔
(2) یعنی انچ اورں صفات کی حامل ہوائیں شاہد ہیں کہ تم سے دوبارہ زندہ کئے جانے اورق بروں سے نکل کر اللہ کے سامنے پیش ہونے کا جو وعدہ کیا ج اتا ہے وہ یقیناً سچا ہے اور ہر عمل کی جزا بلاشبہ یقینا واقع ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہواؤں کی مردوں کے زندہ کرنے پر دلالت کو ایک اور آیت میں خوب واضح فرمایا :(وھو الذی یرسل الریح بشراً بین یدی رحمتہ ، حتی اذا اقلت سحاباً ثقالاً سقنہ لبلد میت فانزلنا بہ المآء فاخرجنا بہ من کل الثمرت ، کذک نحرج الموتی لعلکم تذکرون) (الاعراف : 58) ”اور وہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے بھیجتا ہے، اس حال میں کہ خوش خبری دینے والی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل اٹھاتیہیں تو ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف ہانکتے ہیں، پھر اس سے پانی اتارتے ہیں، پھر اس کے ساتھ ہر قسم کے کئی پھل پیدا کرتے ہیں، اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ قرآن مجید نے بارش کے ساتھ مردہ زمین کے زندہ کرنے کو قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر بار بار بیان فرمایا ہے، مثلاً دیکھیے سورة فاطر (9) اور سورة روم (48 تا 50)۔
Ayah 51:7(والسمآء ذات الحبک :”حبک یحبک حبکا“ (ن، ض) کسی چیز کو باندھنا، مضبوط بنانا، جو لا ہے کا کپڑے کو مضبوطی اور خوبصورتی کے ساتھ بننا۔”الحبک“ ”حبیکۃ“ کی جمع ہے۔ ”حبک الرمل والماء والشعر“ ٹھہرے ہوئے پانی یا ریت پر ہوا سے جو لہریں سی بن جاتی ہیں، گھونگھر یا لے بالوں کی لہریں۔ ”حبک السمآئ“ آسمان میں ستاروں کے راستے۔ (قاموس)
Ayah 51:8انکم لفی قول مختلف : یعنی یہ آسمان جو نہایت مضبوط و مسحتکم اور بےحد خوبصورت ہے، جس میں ستاروں کے راستے میں اور جو بادلوں کی لہروں سے آراستہ ہے، شاہد ہے کہ تم ایسی بات میں پڑے ہوئے ہو جس میں تمہارا بہت اختلاف ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اس میں آسمان کی شہادت کیسے ہے اور یہ کہنے سے حاصل کیا ہے کہ تم ایسی بات میں پڑے ہوئے ہو جس میں بہت اختلاف ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اتنا مستحکم و مضبوط ، بلند و بالا، خوبصورت اور مزین آسمان شاہد ہے کہ اس کے بنانے والے کے لئے قیامت برپا کرنا اور تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کچھ مشکل نہیں، جیسا کہ فرمایا :(ء انتم اشد خلقاً ام السمآء بنھا) (النازعات : 28)”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان ؟ اس نے اسے بنایا۔“ رہا یہ سوال کہ جواب قسم ”انکم لفی قول مختلف“ کی مناسبت قسم کے ساتھ کیا ہے ؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ دراصل یہاں بات مختصر کی گئی ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مضبوط و مسحتکم آسمان کی قسم کھا کر فمایا ہ اے گروہ کفار ! اس آسمان کی قسم یعہ کہ قیامت کے متعلق اللہ کا قول حق اور تمہارا قول باطل ہے، کیونکہ تم ایسے قول میں پڑے ہوئے ہو جو باہم مختلف اور متناقض ہے، جب کہ حق میں اختلاف نہیں ہوتا، جیسا کہ فرمایا :(ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً (النسائ : 82)”اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔“ چناچہ تم میں سے کوئی تو کہتا ہے کہ یہ دنیا ایسے ہی چلی آئی ہے، کچھ لوگ مرتے ہیں اور دوسرے پیدا ہوتے ہیں، نہ آج تک کوئی دوبارہ آیا نہ کوئی دوبارہ زندگی ہے۔ کوئی تناسخ کا قائل ہے اور کہتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کا بدلا تو لازم ہے مگر اس کیلئے کوئی دن مقرر نہیں، بلکہ انسان دنیا میں بار بار اچھی یا بری مخلوق کی صورت میں جنم لیتا رہتا ہے۔ کوئی آخرت کو تو مانتا ہے مگر کچھ ہستیوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ ایسی زور آور ہیں کہ اپنی شفاعت کے ساتھ اس دن اپنے نام لیواؤں کو زبردستی چھڑا لیں گی۔ یہ اختلاف دلیل ہے کہ قیامت کے متعلق تمہارا قول باطل ہے۔ قیامت کے متعلق کفار کے اختلاف کا ذکر سورة نبا کے شرع میں بھی فرمایا :”عم یتسآء لون، عن النبا العظیم ، الذی ھم فیہ مختلفون) (النبیا : 1 تا 3) ”کس چیز کے بارے میں وہ آپ س میں سوال کر رہے ہیں ؟ (کیا) اس بڑی خبر کے بارے میں ؟ وہ کہ جس میں وہ اختلاف کرنے والے ہیں۔“
Ayah 51:9(یوفک عنہ من افک :”عنہ“ کی ضمیر کا مرجع یا تو ”ان الذین لواقع“ میں لفظ ”الدین“ ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ اس (قیامت) سے وہی بہکایا جاتا ہے جو) پہلے ہی) بہکایا گیا ہو، کسی صحیح الدماغ آدمی کو اس سے پھیرا اور بہکایا انہیں جاسکتا۔ یا ”عنہ“ کی ضمیر کا مرجع ”قولم ختلف“ ہے، اس صورت میں ”عن“ تعلیل کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ یقینا تم ایک اختلاف والی بات میں پڑے ہوئے ہو جس کی وجہ سے وہی آدمی بہکایا جاتا ہے جو (پہلے ہی) بہ کیا ا گیا ہو، ایسی مختلف باتوں کی وجہ سے کسی صحیح دماغ والے کو بہ کیا انہیں جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ ”عن“ کے معانی میں سے تعلیل مسلم معنی ہے، اس معنی کی مثال یہ آیت ہے :(وما نحن بتارکی الھتنا عن قولک) (ھود : 53) ”اور ہم اپنے معبودوں کو تیرے کہنے کی وجہ سے ہرگز چھوڑنے والے نہیں۔“
Ayah 51:10قتل الخرصون :”خرص یخرص خرصاً“ (ن) اندازہ لگانا، اٹکل لگانا، جیسا کہ فرمایا :(ان ھو الا یخرصون) (الزخرف : 20)”وہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔“ (خراص“ مبالغے کا فیغہ ہے، بہت اٹکل لگانے والا۔ کفار کے پاس آسمانی ہدایت کی روشنی نہیں اس لئے وہ علم اور یقین سے محروم ہیں ان کا سارا دار و مدار ظن وتخمین اور وہم پر گمان پر ہے۔ چناچہ شرک کی بنیاد سراسر گمان اور اندازوں کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں، اسلئے فرمایا، اٹکل لگانے والے مارے گئے۔
Ayah 51:11الذین ھم فی غمرۃ ساھون :”غمر یغمر غمراً“ (ن)”المائ“ کا معنی ”پانی کا کسی چیز کو ڈھانپ لینا“ ہے، اسلئے گہرے پانی کو ”غمرۃ“ کہتے ہیں۔ سختی اور موت کو اور جہالت و غفلت کو بھی ”غمرۃ“ کہتے ہیں، کیونکہ وہ بھی آدمی کی عقل کو ڈھانپ لیتی ہیں۔”غمرۃ“ پر تنوین تعظیم کے لئے ہے، اس لئے ترجمہ ”بڑی غفلت“ کیا گیا ہے۔ ”ساھون“ ’ سھا یسھو سھواً“ (ن) سے اسم فاعل کی جمع ہے، بھولے ہوئے۔ یعنی انہوں نے آخرت کا انکار محض خیال اور اندازے ک بنا پر کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس کی تیاری سے بہت بڑی غفلت میں مبتلا ہو کر اپنے خوفناک انجام کو بھولے ہوئے ہیں۔
Ayah 51:12یسئلون ایان یوم الدین : یعنی جب انہیں قیامت کے انکار کی کوئی معقول دلیل نہیں ملتی تو وہ کہتے ہیں، اچھا یہ بتاؤ جزا کا دن کب ہے ؟ ظاہر ہے ان کا یہ سوال محض انکار اور استہزا کے لئے ہے، کیونکہ تاریخ کا تعین کوئی دلیل نہیں جس سے کوئی منکر اقرار پر آمادہ ہوجائے، بلکہ اس کے بعد ان کا اگلا سوال یہ ہوگا کہ اس کے آنے سے پہلے آخر ہم یہ یقین کیسے کرلیں کہ اس دن وہ واقعی آجائے گی ؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا وقت نہیں بتایا۔
Ayah 51:13یوم ھم علی النار یفتنون :”فتن یفتن“ (ن، ض) کا معنی آزمانا بھی ہے اور جلانا بھی۔ کھرے یا کھوٹے کی پہچان کے لئے سونے کو آگ میں پگھلایا جائے تو کہتے ہیں :”فتنت الذھب،“ فرمایا، وہ روز جزا اس دن ہوگا جب انہیں آگ پر رکھ کر تپایا اور جلایا جائے گا۔
Ayah 51:14ذوقوافتنتکم…: یہ بات انہیں ذلیل کرنے کے لئے بطور طنز کہی جائے گی۔
Ayah 51:15ان المتقین فی جنت وعیون : مکذبین کے عبد متقین کا ذکر فرمایا۔ اس کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة حجر کی آیت (45) کی تفسیر۔ آیت کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ جنتوں میں داخلے کا سبب تقویٰ ہے، جیسا کہ فرمایا :(تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا من کان تقیاً) (مریم : 63)”یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے بناتے ہیں جو بہت بچنے والا ہو۔“
Ayah 51:16(1) اخذین ما اتھم ربھم : اس کے لفظی معنی اگرچہ یہی ہیں کہ ”وہ لینے والے ہوں گے جو ان کا رب انہیں دے گا“ مگر موقع و محل کی مناسبت اور ”اتھم ربھم“ کے لفظ کے تقاضے سے ظاہر ہے کہ یہاں صرف لینا ہی مراد نہیں بلکہ مراد ان کے رب کا انھیں بےحساب دینا اور ان کا اس سے جی بھر کر خوشی خوشی لینا ہے۔ ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان اللہ یقول لاھل الجنۃ یا اھل الجنۃ ! فیقولون لبیک ربنا وسعدیک والخیر فی یدیک ، فیقول ھل رضیتم ؟ فیقولون وما لنا لا ترضی یا رب ! وقد اعطیتنا مالم تعط احداً من خلفک ؟ فیقول الا اعطیکم افضل من ذلک ؟ فیقولون یا رب ! وای شیء افضل من ذلک ؟ فیقول احل علیکم رضوانی فلا اسخط علیکم بعدہ ابداً) (بخاری، التوحید، باب کلام الرب مع اھل الجنۃ :8518)”اللہ تعالیٰ اہل جنت سے کہے گا :”اے جنت والو !“ وہ کہیں گے : وہ کہیں گے :”ہم حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار ! ہم حاضر ہیں اور ساری خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔“ فرمائے گا :”کیا تم راضی ہوگئے ؟“ وہ کہیں گے :”ہمیں کیا ہے کہ ہم راضی نہ ہوں جب کہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں کیا۔“ فرمائے گا :”کیا میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز نہ دوں ؟“ وہ کہیں گے :”اے ہمارے رب ! بھلا اس سے فاضل چیز کیا ہے ؟“ فرمائیگا :”میں تمہیں اپنی رضا اور خوشنودی عطا کرتا ہوں، سو اس کے بعد میں کبھی تم پر ناراض نہیں ہوگا۔“
(2) انھم کانوا قبل ذلک محسنین :”ان“ تعلیل کے لئے ہوتا ہے، یعنی یہ نعمت انہیں اس لئے ملے گی کہ وہ اس سے پہلے دنیا میں احسان کرنے والے تھے۔ احسان کی تعریف رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمائی ہے :(ان تعبد اللہ کا تک تراہ، فان لم تکن تراہ فانہ یراک) (بخاری، الایمان، باب سوال جبریل النبی ﷺ …: 50)”احسان یہ ہے) کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہوے، سو اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو یقینا وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ (محسنین“ کا لفظطی معنی ”عاملین الحسنات“ ہے، یعنی وہ نیکیاں کرنے والے تھے۔ آگے ان نیکیوں کی کچھ تفصیل ہے۔
Ayah 51:17کانوا قلیلاً من الیل مایھجعون :”ھجع یھجع ھجوعا“ (ف) سونا، رتا کا سونا، ہلکا سا سونا تینوں معنوں میں آتا ہے۔”مایھجعون“ کے دو معنی کئے گئے ہیں، ایک یہ کہ ”ما“ مصدر یہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ رات میں سے بہت تھوڑا حصہ سوتے تھے۔ ابن کثیر نے یہ مطلب احنف بن قیس، حسن بصری اور زہری سے نقل فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة مزمل میں فرمایا :(یایھا المزمل ، قم الیل الا قلیلا ، نصفۃ ہ اوا نقص منہ قلیلاً ، اوزد علیہ ورثل القرآن ترتیلاً) (المزمل : 1 تا 3)”اے کپڑے میں لپٹنے والے ! رات کو ق یام کو مگر تھوڑا۔ آدھی رات (قیام کر) یا اس سے تھوڑا کم کم کرلے۔ یا اس سے زیادہ کرلے اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھ۔“ ان آیات کے نازل ہونے پر آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ ایک سال تک اس پر عمل کرتے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے سورة مزمل کا آخری حصہ نازل کیا، جس میں فرمایا :(ان ربک یعلم انک تقوم ادنیٰ من ثلثی الیل و نصفہ و ثلثہ و طآئفۃ من الذین معک واللہ یقدر الیل والنھار، علم ان لن تحصوہ فتاب علیکم فاقراء و اما تیسر من القرآن، علم ان سیکون منکم مرضی واخرون یضربون فی الارض یبتغون من فصل اللہ ، واخرون یقاتلون فی سبیل اللہ ، فاقراء وا ماتیسر منہ) (المزمل : 20)”بلاشبہ تیرا رب جانتا ہے کہ تو رتا کے دو تہائی کے قریب اور اس کا نصف اور اس کا تیسرا حصہ قیام کرتا ہے اور ان لوگوں کی ایک جماعت بھی جو تیرے ساتھ ہیں اور اللہ رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم ہرگز اس کی طاقت نہیں رکھو گے، سو اس نے تم پر مہربانی فرمائی تو قرآن میں سے جو میسر ہو پڑھو، اس نے جان لیا کہ یقینا تم میں سے کچھج بیمار ہوں گے اور کچھ دوسرے زمین میں سفر کریں گے، اللہ کا فضل تلاش کریں گے اور کچھ دوسرے اللہ کی راہ میں لڑیں گے، پس اس میں سے جو میسر ہو پڑھو۔“ تو صحیح مسلم (746) میں مذکر عائشہ ؓ کی حدیث کے مطابق قیام اللیل جو فرض تھا، نقل ہوگیا اور اس میں تخفیف ہوگئی اور رات کے اکثر حصے کے بجائے حکم ہوا :(فاقرء و اما تیسر من القرآن) کہ جتنا قیام آسانی سے کرسکتے ہو کرلو۔ اس آیت کی تفسیر اور قیام اللیل کی فضیلت کے لئے سورة مزمل کی ابتدائی اور آخری آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
”کانوا قلیلاً من الیل مایھجعون“ کا مطلب اگر یہ کیا جائے کہ جنت میں وہ متقی جائیں گے جو رات کا تھوڑا حصہ سوتے تھے تو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے دائمی عمل سے اس کا مطلب کی تائید نہیں ہوتی۔ ہاں، مندرجہ ذیل حدیث کو سامنے رکھا جائے تو ”مایھجعون“ کا یہ مطلب بالکل درست ہے۔ عثمان بن عفان ؓ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا :(من صلی العشاء فی جماعۃ فکانما فام نصف اللیل، ومن صلی الصبح فی جماۃ فکنما صلی الیل کلہ) (مسلم المساجد و مواضع الصلاۃ باب فضل صلاۃ العشاء والصبح فی جماعۃ : 656)”جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو گویا اس نے صنف رات قیام کیا اور جو شخص صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو گویا اس نے ساری رات قیام کیا۔“ میزد بحث سورة سجدہ کی آیت (16):(تنجا فی جنوبھم عن المصاجع) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
”مایھجعون“ کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اس میں ”ما“ نافیہ ہے۔ ابن کثیر نے یہ مطلب ابن عباس ، مطرف بن عبداللہ اور مجاہد سے نقل فرمایا ہے اور تفسیر ابن کثیر کے محقق و کتور حکمت بن بشیر نے طبری اور دوسری کتابوں میں مذکور ان کی سندوں کو حسن یا صحیح قرار دیا ہے۔ انس ؓ اور ابو جعفر باقر کے اقوال بھی اس پر مبنی ہیں کہ ”ما“ نافیہ ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : (لم تکن تمضی علیھم لیلۃ الا یخذون منھا ولو شیاء) (ابن کثیر :318/8)”یعنی ان پر جو رات بھی گزرتی تھی اس میں سے کچھ نہ کچھ حصہ لیتے تھے خواہ تھوڑا ہی ہو۔“ مطرف بن عبداللہ نے فرمایا :”قل لیلۃ لا تاتی علیھم الا یصلون فیھا اللہ عزوجل ، اما من اولھا و اما من اوسطھا“ (ابن کثیر :318/8)”ان پر کم ہی کوئی رات آتی تھی مگر وہ اس میں اللہ عزوجل کے لئے نماز پڑھتے تھے، یا اس کے شرع میں یا اس کے دریمان میں۔“ مجاہد نے فرمایا :”قل مایرقدون لیلۃ حتی الصباح لایتھجدون“ (ابن کثیر :318/8)”کم ہی کئیو رات ہوتی تھی جس میں وہ صبح تک سوئے رہیں اور تہجد نہ پڑھیں۔“ انس بن مالک اور ابوالعالیہ نے فرمایا :”کانوا یصلون بین المغرب والعشائ“ (ابن کثیر :318/8)”وہ مغرب اور شعاء کے درمیان نمازپ ڑھتے تھے۔“ اور ابو جعفر باقر نے فرمایا :”کانوا لاینامون حتی یصلوا الغمۃ“ (ابن کثیر :318/8)”وہ جب تک عشاء نہ پڑھ لیتے سوتے نہیں تھے۔“
”مایھجعون“ میں ”ما“ کو نافیہ ماننے کی صورت میں ترجمہ ہوگا ”وہ سوتے نہیں تھے“ یعنی جاگتے تھے اس کے مطابق آیت کا ترجمہ ، تفسیر اور اس پر حاشیہ تفسیر ثنائی سے نقل کئے جاتے ہے :”یہ لوگ راتوں کو کس قدر جاگا کرتے اور صبح کے قوت خدا سے بخش مانگا کرتے تھے۔“ تفسیر ہے :”ان کی نیکی کا نمونہ یہ ہے کہ یہ لوگ راتوں کو بغضر عبادت کسی قدر جاگا کرتے اور تہجد کے بعد یا شب خیزی کے بعد صبح کے قوت خدا سے بخشش مانگا کرتے تھے۔ یعنی صبح سے پہلے تھوڑی رات رہتے اٹھتے تھے اور خدا کی یاد جتنی بھی ہو سکے کر کے صبح سویرے اپنے لئے اور اپنے ماں باپ کیلئے بلکہ جملہ مومنین کے لئے استغفار کرتے تھے۔“ حشایہ :”مایھجعون“ میں وہ لفظ ہیں۔“ ”ھجع“ کے معنی ہیں رات کی نیند۔ قاموس میں ہے :”الھجوع النوم لیلاً ،“”ما“ نافیہ ہے، پس معنی یہ ہیں ”رات کو تھوڑا سا وقت نیند ترک کردیتے تھے۔“ وہ تھوڑا سا وقت چاہیے نماز تہجد کا ہو، جیسے سورة نبی اسرائیل میں ہے :(ومن الیل فتھجد بہ) (بنی اسرائیل :89) نماز عشاء کا ہو جیسے :(واقم الصلوۃ طرفی النھار وزلفاً من الیل) (ھود : 113) میں ”زلفا“ سے مراد عشاء کی نماز ہے، ممکن ہے یہی مراد ”مایھجعوکن“ سے ہو۔ واللہ اعلم)“ (ثنائی)
معارف القرآن میں ہے :”کانوا قلیلاً من الیل ما یھجعون) میں ”یھجعون“ ”ھجوع“ سے مشتق ہے۔ جس کے معنی رات کو سونے کے آتے ہیں۔ اس میں مومنین متقین کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ رات کو جاگنے اور عبادت کرنے کی مشقت اٹھاتے ہیں اور بہت کم سوتے ہیں۔ اور ابن عباس اور قتادہ وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس جملے کا مطلب حرف ”ما“ کو اس میں نفی کے لئے قرار دے کر یہ بتلایا ہے کہ ”رات کو تھوڑا سا حصہ ان پر ایسا بھی آتا ہے جس میں وہ سوتے نہیں بلکہ عبادت و نماز وغیرہ میں مشغول رہتے ہیں۔ اس مفہوم کے اعتبار سے وہ سب لوگ اس کا مصداق ہوجاتے ہیں جو رتا کے کسی بھی حصہ میں عبادت کرلیں، خواہ شروع میں یا آخر میں یا درمیان میں۔ اسی لئے انس اور ابوالعالیہ نے اس کا مصداق ان لوگوں کو قرار دیا جوم غرب و عشاء کے درمیان نمازپ ڑھتے ہیں اور امام ابوجعفر باقر نے فرمایا کہ جو لوگ عشاء کی نماز سے پہلے نہ سوویں وہ بھی اس میں داخل ہیں۔ (ابن کثیر)“
Ayah 51:18و بالا استحارھم یستعفرون :”اسحار“ ”سحر“ (سین اور حاء کے فتحہ کے ساتھ) رات کا آخری حصہ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ینزل ربنا تبارک و تعالیٰ کل لیلۃ الی السماء الدنیا حین بیقی تلث اللیل الآخر یقول من یدعونی فاستجیب لہ ؟ من یسالنی فاعطیہ ؟ من یستغفرنی فاغفرلہ ؟)) (بخاری، التھجد، باب الدعائ، والصلاۃ من آخر اللیل : 1135)”ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات ، جب رات کا آخری ثلث باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا کی طرف اترنا ہے اور فرماتا ہے :”کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخشوں ؟“
Ayah 51:19(وفی اموالھم حق للسآئل و المحروم : اس کی تسیر کے لئے دیکھے سورة معارج (24، 25) کی تفسیر۔
Ayah 51:20(1) وفی الاضر ایت للموقنین : شروع سورت میں چار طرح کی ہواؤں کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ قیامت حق ہے، پھر اس پر آسمان کی قسم اٹھائی۔ اب ”واؤ“ کے ذریعے سے اسی کے ساتھ سلسلہ کلام جوڑ کر فرمایا :”اور زمین میں بھی یقین کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔“ یہ وہی استدلال ہے جو قرآن میں قیامت حق ہونے کے لئے جا بجا موجود ہے۔ مثلاً فرمایا :(ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ فاذا انزلنا علیھا المآء اھترت و ربت ، ان الذین احیاھا لمحی الموتی (حم لسجدۃ : 39)”اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو دبی ہوئی (بنجر) دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور پھولتی ہے۔ بیشک وہ جس نے اسے زندہ کیا، یقینا مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ زمین کی پہلی ساری کھیتی چورابن کر ختم ہوجاتی ہے، پھر دوبارہ نئی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو ہر شخص کے مشاہدے میں آتی ہے، اس پر بہت زیادہ غور و فکر کی ضرورت نہیں، صرف یقین کی ضرورت ہے۔ اس لئے اس آیت میں غور و فکر کی دعوت نہیں دی، جس طرح اس کے بعد والی آیت میں ”افلا تبصرون“ فرمایا ہے، بلکہ فرمایا :”زمین میں قین کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔“ یہ اس لئے فرمایا ہ ان نشانیوں سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو یقین کرتے ہیں۔
(2) وفی الارض ایت للموقین“ (اور زمین میں قین کرنیو الوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں) اس میں صریح ال فاظ میں یہ نہیں بتاتا کہ کس چیز کی نشانیاں ہیں، کیونکہ اس میں صرف قیامت حق ہونے ہی کی نشانیاں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے وجود اس کی وحدانیت اور اس کی لامحدود قدرت کی بھی بیشمار نشانیاں ہیں۔ زمخشری نے فرمایا :”اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جو صانع اور اس کی قدرت و حکمت اور تدبیر پر دلالت کرتی ہیں ، چناچہ زمین اپنے اوپر والی چیزوں کے لئے بچھونے کی طرح ہے، جیسا کہ فرمایا :(الذی جعل لکم الارض مھداً) (طہ : 53)”وہ جس نے تمہارے لئیز مین کو بچھونا بنایا۔“ اور چلنے والوں کے لئے اس میں راستے اور وسیع شاہ راہیں ہیں جو اس کے کندھوں پر چلتے پھرتے ہیں اور اس کے مختلف حصے میں، جیسے میدان، پہاڑ، ریگستان، سمندر وغیرہ اور کئی ٹکڑے ہیں، مثلاً سخت، نرم، زرخیز، شور وغیرہ۔ وہ حاملہ جانور کی طرح ہے جس کے پیٹ سے بیشمار پودے، درخت اور پھل پیدا ہوتے ہیں، جن کے رنگ، خوشبو اور ذائقے مختلف ہیں، حالانکہ سبھی ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ایک دوسرے پر برتری رکھتے ہیں اور یہ سب کچھ زمین پر رہنے والوں کی ضروریات ، ان کی صحت وب یماری کی مصلحتوں کے عین موافق ہے۔ پھر اس میں پھوٹنے والے چشمے، رنگا رنگ معدنیات اور خشکی، ہوا اور سمندر میں پھیلے ہوئے مختلف شکلوں ، صورتوں اور کاموں والے وحشی، پالتو، مفید اور زہریلے جانور اور اس کے علاوہ شمار سے باہر چیزیں ہیں جن میں یقین کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں، کیونکہ وہی دیکھنے والی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔“
Ayah 51:21(1) وفی انفسکم افلاتبصرون : یعنی خود تمہارے نفسوں میں دوبارہ زندہ ہونے کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں کہ مٹی اور نطفے سے لے کر موت تک ہر لمحہ موت کے بعد زندگی کا شاہد ہے، کیونکہ جسم کا ہر خلیہ جو موجود ہوتا ہے فنا ہوتا اور اس کی جگہ نیا خلیہ وجود میں آتا رہتا ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے، جس کے دوران انسان بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی طرف بھی منقت ہوتا رہتا ہے، مگر موت و حیات کے اس سلسلے پر غور کرنے والے بہت ہی کم ہیں۔ یہ بحث تفصیل کے ساتھ سورة مومنون (12 تا 16) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
(2) انسان کی ذات میں قیامت کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، حکمت، تدبیر، صنعت، قدرت اور دوسری صفات کی بھی بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ مفسر کیلانی لکھتے ہیں :”انسان کا اپنا وجود اور اس کی مشینری کائنات اصغر ہے اور اس میں جو نشانیاں ہیں وہ کائنات اکبر کی نشانیوں سے کسی طرح کم نہیں۔ انسان کا معدہ ایک چکی ک طرح دن رات کا م میں لگا رہتا ہے، جو غذا کو پیس کر ایک مغلوبہ تیار کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ جب یہ فارغ ہوجائے تو اور غذا طلب کرتا ہے جسے تم بھوک کہتے ہیں۔ اس ملغوبہ کی تیاری میں اگر پانی کی کمی ہو تو ہمیں پیاس لگ جاتی ہے اور ہم کھانے پینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پھر اس کے اندر چھلنی بھی ہے جس سے چھن کر یہ ملغوبہ جگر میں چلا جاتا ہے، جہاں اچھالنے والی، دفع کرنے والی، صاف کرنے والی ، کھینچنے والی مشینیں اورق وتیں کام کر رہی ہیں۔ یہیں دوسری اخلاط بنتی ہیں۔ فالتو پانی کو گردے پیشاب کے راستے کرنے والی کھینچنے والی مشینیں اور قوتیں کام کر رہی ہیں۔ یہیں دوسری اخلاط بنتی ہیں۔ فالتو پانی کو گردے پیشاب کے راستے خارج کردیتے ہیں۔ قوت دافعہ فالتو مواد یا فضلہ کو خارج کرنے کا کام کرتی ہے اور جس طرح انسان کھانے پینے پر مجبور ہوتا ہے اسی طرح رفع حاجت پر مجبور ہوجاتا ہے اور اگر روکے تو بیمار پڑجا ات ہے۔ پھر انسان کے جسم میں اتنی باریک نالیاں ہیں انسان کا دل پمپ کا کام کرتا ہے جو ایک منٹ بھی ٹھہر جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔ پھر انسان کا سانس لینا بھی ایک لاگ پورا نظام ہے۔ سب سے زیادہ باریک آنکھ کے طبقے اور جھلیاں ہیں جو ایسی لطافت کیساتھ بنائی گئی ہیں کہ اگر ذرا سا فتور آجائے تو بینائی جواب دے جاتی ہے۔ (پھر سننے ، سونگھنے، چکھنے، سوچنے، سجھنے، یاد رکھنے، محسوس کرنے، سونے، جاگنے، بولنے اور دوسرے بیشمار افعال کے نظام ہیں جن میں سے ہر ایک پر غور کیا جائے تو آدمی حیرت کے سمندر میں غرق ہوجاتا ہے) انسان کا جسم ابتدا ہی سے حکیموں اور ڈاکٹروں کی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے ، مگر اس کے بیشتر اسرار آج تک پردہ راز ہی میں ہیں۔“ (تیسیرا القرآن)
(3) ”وفی الارض ایت“ میں آفاقی آیات کا ذکر ہے اور ”وفی انفسکم“ میں انفسی آیات کا۔ مزید دیکھیے حم السجدہ (53)۔
Ayah 51:22(1) وفی السمآء رزقکم : اکثر مفسرین نے یہاں رزق سے مراد بارش لی ہے، جیسا کہ فرمایا :(ھو الذین یریکم ایتہ وینزل لکم من السمآء ر زقاً (المومن : 13)”وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔“ مگر لفظ عام ہیں، اس لئے رزق سے مراد وہ سب کچھ ہے جو دنیا میں انسان کو جیتے، کھانے پیتے اور کام کرنے کے لئے دیا جاتا ہے۔ یعنی تمہیں جو کچھ دیا جا رہا ہے وہ آسمان میں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور تمہیں وہیں سے عطا ہوتا ہے۔”فی السمآئ“ مقدم لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے ”تمہارا رزق آسمان ہی میں ہے۔“ تو جب تمہارا رزق آسمان ہی میں ہے تو پھر کمائی کے لئے اتنی فکر کیوں کہ جائز و ناجائز کی تمیز بھی نہ کی جائے اور حق والوں کو حق بھی نہ دیا جائے ؟ پھر اسئل اور محروم پر خرچ کرنے میں بخل اور دریغ کیسا ؟ اور جب آتا آسمان سے ہے تو کسی پر خرچ کر کے اپنا احسان جتلانے کی کیا وجہ ؟
(2) وما توعدون : یعنی حشر و نشر، جزا و سزا اور جنت و دوزخ وغیرہ جن کے رونما ہونے کا وعدہ تمام انبیاء کی زبانی اور تمام آسمانی کتابوں کے ذریعے سے کیا گیا ہے، ان سب کا حکم آسمان ہی سے ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”آنے والی جو بات ہے اس کا حکم آسمان ہی سے اترتا ہے۔“ (موضح)
(3) اس مقام پر بعض مفسرین نے کچھ لوگوں کے واقعات لکھے ہیں جنہوں نے یہ آیت سن کر کمائی ترک کردی اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہئے جنگل بیابان کی راہ لی اور وہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں تازہ کھجوریں اور رزق ملنے لگا۔ چناچہ طبری نے سلیمان ثوری نے کی زبانی نقل کیا ہے کہ واصل احدب نے یہ آیت ”وفی السمآء رزقکم وما توعدون“ پڑھی تو کہنے لگے ”میرا رزق تو مجھے آسمان میں نظر آرہا ہے اور میں اسے زمین میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ ایک خرابے میں چل یگئے۔ تین دن تک کھانے کو کچھ نہ ملا، جب تیسرا دن ہوا تو اچانک ان کے پاس تازہ کمجوروں کی ایک نوکری آگئی۔ ان کا ایک بھائی تھا، جو ان سے بھی اچھی نیت والا تھا، وہ بھی اس خرابے میں ان کے ساتھ آگیا تو ٹوکریاں دو ہوگئیں۔ ان کا یہی حال رہا، یہاں تک کہ موت نے ان کے درمیان جدائی ڈال دی۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسی ہی کہانیوں نے اسلام رخ روشن مسخ کیا ہے۔ آسمان میں رزق ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آدمی کمانا ترک کر دے۔ یہ رہبانیت ہے جس کی اسلام میں گنجائش ہی نہیں، یہاں تو محنت کر کے کمانے اور دوسروں پر خرچ کرنے کی تلقین ہے، جنگلوں، یابانوں یا خانقاوہں میں بیٹھ کر لوگوں کی طرف سے یا غیب سے آنے والے رزق کے انتظار کے بجائے جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے پاکیزہ ترین رقز حاصل کرنے کی ترغیب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی پوری زندگی اس کی شاہد ہے۔ آسمان والے پر رکھے اور ایک ملحہ کے لئے بھی رزق کی خاطر اس کے حکم سے سرتابی نہ کرے۔ تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ ابن کثیر ؒ جیسے محقق نے کسی تنقید کے بغیر یہ کہانی نقل کردی ہے، حالانکہ طبری میں اس روایت کے راوی طبری کے استاذ محمد بن حمید رازی ہیں، جن کا ضعیف ہونا معروف ہے۔
Ayah 51:23فو رب السمآء والارض انہ لحق…: کسی بات کا یقین دلانے کے لئے اس کی تشبیہ ایسی چیز کے ساتھ دی جاتی ہے جو مخاطب کے نزدیک یقینی ہو، مثلاً کہا جاتا ہے :”کما انک ھھنا“ کہ یہ بات ایسے ہی یقین ہے جیسے تم یہاں موجود ہو، یا ”کما انک تسمع و تری“ جیسے یہ یقینی ہے کہ تم سن رہے ہو اور دیکھ رہے ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کا یقین دلانے کے لئے جو اس سے پہلے گزری ہیں آسمان و زمین کے رب کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ سب کچھ ایسے ہی حق اور یقینی ہے جیسے تمہیں یقین ہے کہ تم بولتے ہو۔ اس سے پہلے مذکور چیزوں میں سب سے قریب یہ ہے کہ تمہارا رزق اور وہ تمام چیزیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان ہی میں ہیں۔ اس لئے مطلب یہ ہوا کہ تمہارے رزق کا اور تم سے وعدہ کردہ چیزوں کا آسمان ہی میں ہونا ایسے ہی یقینی ہے جیسے تمہارا بولنا یقینی ہے اور تمہیں کوئی شک نہیں کہ تم واقعی بولتے ہو۔”انہ لحق“ (بلا شبہ یقیناً یہ حق ہے) سے مراد سورت کے شروع سے یہاں تک مذکور تمام چیزیں بھی ہوسکتی ہیں کہ بلاشبہ یقینا تم سے کئے گئے وعدے قیامت ، جزا و سزا، جنت و جہنم تمہارے رزق کا اور تم سے وعدہ کردہ چیزوں کا آسمان ہی میں ہونا ایسے ہی حق ہے جیسے یہ حق ہے کہ تم بول رہے ہو اور تمہیں اپنے بولنے میں شک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سننے یا دیکھنے وغیرہ کے بجائے بولنے کا ذکر اس لئے فرمایا کہ سننے یا دیکھنے میں بعض اوقات شبہ بھی پڑجاتا ہے، مگر آدمی کو اپنے بولنے میں کبھی شبہ نہیں ہوتا کہ میں بول رہا ہوں اور بات کر رہا ہوں۔
Ayah 51:24(1) ھل اتک حدیث ضیف ابراہیم …: یہاں سے رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے چند انبیاء کی مدد کا اور انہیں جھٹلانے والی اقوام پر آنے والے عذابوں کا ذکر فرمایا۔ ابراہیم اور لوط ؑ کے واقعات اور ان کے تفسیری فوائد سورة ہود (69 تا 83) ، حجر (51 تا 77) اور سورة عنکبوت (16 تا 35) میں تفصیل سے گزر چکے ہیں۔ اس مقام سے تعلق رکھنے والی چند باتیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں۔
(2) کیا تیرے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی ہے ؟ سوال سے مقصود اس واقعہ کی عظمت و شان اور اہمیت کا احساس دلاتا ہے اور یہ بھی کہ آپ کو اس بات کی خبر نہ تھی، یہ وہ ہیں جو وحی کے ذریعے سے آپ کو اس سے آگ اہ کر رہے ہیں۔
(3) ”المکرمین“ (معزز) اس لئے فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہیں، جیسا کہ فرمایا :(بل عباد مکرمون) (الانبیائ : 26)”بلکہ وہ بندے ہیں جنہیں عزت دی گئی ہے۔“ اور ہمارے نبی ﷺ کا بھی حکم ہے : (من کان یومن باللہ والیوم الآخر فلیکرم صیف 2) (بخاری، الادب، باب من کان یومن باللہ …:6, 18)”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“
Ayah 51:25(1) اذ دخلوا علیہ فقالوا :”سلماً“ اور ”سلم“ کے فرق کے لئے دیکھیے سورة ہود (69) کی تفسیر۔
(2) فیم منکرون : یہ بات دل میں کہی یا گھر والوں سے کہی اور ممکن ہے انسانی شکل میں آنے والے فرشتوں سے کہی ہو کہ آپ اس علاقے میں نئے تشریف لائے ہیں، پہلے کبھی آپ کو یہاں نہیں دیکھا۔
Ayah 51:26(1) فراغ الی اھلہ :”راع بروع روعا“ (ن) کا معنی خفیہ طور پر جانا، حیلے کے ساتھ تیزی سے نکل جانا ہے۔ یہ ”روعان الثعلب“ سے ہے، لومڑی کا خفیہ طریقے سے آنا جانا۔ مطلب یہ ہے کہ ابراہیم ؑ مہمانوں کے لئے کھانے کا انتظام کرنے کے لئے خاموشی سے گئے، تاکہ انہیں خبر نہ ہو سکے اور وہ جاتے ہوئے دیکھ کر مہمانی لانے سے منع نہ کردیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مہمانوں سے پوچھنا کہ کیا آپ کھانا کھائیں گے تو ایک طرف، انہیں تو مہمانی کے اہتمام کا حتی الوسع پتا بھی نہیں لگنے دینا چاہیے۔
(2) فجآء بعجل سمین : سورة ہود میں ”بعجل حنیذ“ (بھنا ہوا بچھڑا) آیا ہے۔ معلوم ہوا موٹا تازہ بچھڑا بھون کر لائے تھے۔ بعض مفسرین نے ”سمین“ کا معنی“ گھی میں تلا ہوا“ کیا ہے، کیونکہ ”سمن“ کا معنی موٹاپا بھی ہے اور گھی بھی۔ اس کے مطابق ”سمین“ کا معنی موٹا بھی ہوسکتا ہے اور گھی میں تلا ہوا بھی۔ مگر ”حنیذ“ کے ساتھ ”سمین“ کا معنی ”موٹا“ زیادہ مناسب ہے، کیونکہ ”حنیذ“ گرم پتھروں یا کوئلے پر بھنے ہوئے کو کہتے ہیں۔
Ayah 51:27فقربہ الیھم قال الا تاکلون : اس سے معلوم ہوا کہ یہ بھی مہمان نوازی کے آداب میں سے ہے کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو کھانے تک جانے کی زحمت دینے کے بجائے اسے ان کی خدمت میں پیش کرنا چاہیے اور یہ بھی کہ اگر وہ کھانے میں تامل کریں تو شائستہ طریقے سے کھانے کی درخواست کرنی چاہیے۔
Ayah 51:28(1) فاوجس منھم خیفۃ …: اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (70) کی تفسیر۔
(2) وبشروہ بغلم علیم : سورة ہود میں اس لڑکے کا نام اسحاق آیا ہے، وہ ”غلام علیم“ تھے اور اسماعیل ؑ ”غلام حلیم۔“ ان کا ذکر سورة صافات (101) میں ہے۔ اسحاق ؑ کو ”بغلم علیم“ فرمایا، حالانکہ ”علیم“ تو انہوں نے جوانی میں بننا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو بچے حفظ شروع کردیں انہیں آئندہ کا لحاظ کرتے ہوئے حافظ کہا جاسکتا ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 51:29(1) فاقبلت امراتہ فی صرۃ …:”صرۃ“ صیحہ، چیخ ”صر“ یصر“ (ن) ”صریر“ القلم“ (قلم کی آواز) اور ”صربر الباب“ (دروازے کی آواز) بھی اسی سے مشتق ہے۔ ”صرۃ“ میں تنوین تعظیم کی ہے :”ای صبحہ عظیمۃ ورنہ“ ابن کثیر نے فرمایا :”صرۃ“ سے مراد اس کا ”یویلتی“ کہنا ہے جو سورة ہود (72) میں مذکور ہے، یہاں اس کا قول مختصر ذکر فرمایا ہے۔”عجوز عقیم“”ای انا عجوز مقیم“ یعنی یہ بشارت سن کر اپنی عمر دیکھتے ہوئے حیرت و مسرت کے جذبات سے بےاختیار چیختی ہوئی فرشتوں کی طرف آئی۔
(2) فصکت وجھا :”صک یصک صکا“ (ن) چہرے پر زور سے ہاتھ مارنا، جیسا کہ عورتیں تعجب کے وقت کرتی ہیں یعنی تعجب سے چہرے کو پ یٹ کر کہنے لگی کہ میں تو بڑھی ہوں، جوانی کی عمر سے بانجھ ہوں، اب خاک بچہ جنوں کی۔
(3) بعض لوگوں نے اس سے ماتم اور سینہ کو بی کی دلیل کشیدگی ہے، مگر یہ نہیں سوچا کہ کیا خوشی کی خبر پر بھی ماتم ہوتا ہے ! ؟
Ayah 51:30(قالوا کذلک قال ربک …: فرشتوں نے کہا بیشک آپ ایسی ہی ہیں، مگر ہم بھی اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے بلکہ آپ کے رب کی با ت بتا رہے ہیں، اس نے ایسے فرمایا ہے، یقینا وہ کمال حکمت اور علم والا ہے، نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر ہے اور نہ اس کے کسیک ام میں کوئی خامی یا غلطی ہے۔
Ayah 51:31(1) قال فما خطبکم ایھا المرسلون : جب ابراہیم ؑ مہمانوں کے کھانا نہ کھانے پر خوف زدہ ہوئے اور صاف اظہار بھی کردیا :(انا منکم وجلون) (الحجر : 52)”ہم تو تم سے ڈرنے والے ہیں۔“ کیونکہ انہیں ان کے فرشتہ ہونے کا اندازہ ہوگیا تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے ہ فرشتوں کا اس طرح آنا معمولی بات نہیں ہوتی، جیسا کہ فرمایا :(ما نزل المئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین) (الحجر : 8)”ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق (عذاب) کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیئے گئے نہیں ہوتے۔“ اس لئے وہ شدید ڈر گئے، تو فرشتوں نے ان کا خوف دور کرنے کے لئے ان سے دو باتیں کہیں، ایک یہ :(لاتخف انا ارسلنا الی قوم لوط) ھود : 80) ”ڈرو نہیں، کیونکہ ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔“ یعنی آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہماری منزل مقصود دوسری ہے۔ دوسری بات انہوں نے یہ کی کہ ہم آپ کو بیٹے اور پوتے اسحاق و یعقوب کی بشارت دینے آئے ہیں۔ (دیکھیے ہود : 71) جب ابراہیم ؑ کو اطمینان ہوگیا تو انہوں نے پوچھا، تو اے بھیجے جانے والے فرشتو ! (قوم لوط کے ساتھ) تمہارا معاملہ کیا ہے اور تم ان کے متعلق کیا کرنا چاہتے ہو ؟ یاد رہے ! ”خطب“ کا لفظ عموماً کسی اہم یا سخت معاملے کے متعلق ہی اسعتمال کیا جاتا ہے۔
(2) اس سارے واقعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہا نبی اء (علیہم السلام) عالم الغیب نہیں ہوتے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة حجر (62) کی تفسیر۔
Ayahs 51:32–34(قالو انا ارسلنا الی قوم مجرمین …: ان آیات کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (83) ، حجر (58، 74) اور سورة عنکبوت (31 تا 35)۔
Ayah 51:35(فاخرجنا من کان فیھا من المومنین : عذاب آنے سے پہلے لوط ؑ کے گھر والوں کو اس بستی سے نکالنے کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (81) اور سورة حجر (65)۔
Ayah 51:36(فما وجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین :) یعنی اس بستی میں مسلمانوں کا صرف ایک گھر تھا اور وہ لوط ؑ کا گھر تھا، جنہیں بیوی کے سوا اس کے تمام افراد کو ساتھ لے کر نکل جانے کا حکم وہا۔
ان دونوں آیات سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا ہو تو وہی ایمان بھی ہے، اس صورت میں اسلام و ایمان اور مسلم و مومن ایک ہی چیز ہیں۔ ہاں جب اسلام حقیقی نہ ہو، بلکہ صرف ظاہری اعمال پر مشتمل ہو تو اسلام اور ایمان میں فرق ہے۔ امام بخاری ؒ اور محدثین یہی فرماتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورة حجرات (14، 15) کی تفسیر۔
Ayah 51:37(وترکنا فیھا ایۃ للذین یخافون العذاب الالیم : اس بستی کو عذاب الیم سے ڈرنے والوں کے لئے نشانی اس لئے قرار دیا کہ وہی اس سے عبرت حاصل کرتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ڈرنے کے بجائے سرکشی اختیار کرتے اور خواہش نفس کے پیچھے چلت یہیں ان کے لئے ہر نشانی کفر اور سرکشی میں اضافے کا باعث ہی بنتی ہے۔ مزید دیکھیے سورة حجر (75 تا 77) اور سورة عنکبوت (35)۔
Ayah 51:38(وفی موسیٰ اذا ارسلنہ الی فرعون بسلطن مبین : یعنی لوط ؑ کی بستی کے علاوہ موسیٰ ؑ کے واقعہ میں بھی ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے جو عذاب الیم سے ڈرتے ہیں، جب ہم نے انہیں صریح معجزات دے کر بھیجا ، جو ان کے اللہ کا پیغمبر ہونے کی واضح دلیل تھے۔
Ayah 51:39(فتولی برکنہ وقال سحر او مجنون :”برکنہ“ میں ”بائ“ سیبیہ ہے۔ ”رکن“ کسی چیز کا سہارا اور آسرا قوت۔ یعنی اس نے اپنی سلطنت اور فوجوں کی قوت کی وجہ سے ان واضح دلائل سے منہ پھیرلیا اور حق پہچانل ینے کے باوجود ایمان لانے سے اناکر کردی اور لوگوں کو موسیٰ ؑ سے برگشتہ کرنے کیلئے کہنے لگا کہ یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے۔ موسیٰ ؑ کا واقعہ اور ان کی فرعون کے ساتھ تفصیلی گفتگو، جس میں فرعون نے انہیں دیوانہ اور پھر جادو گر قرار دیا سورة شعراء (10 تا 35) میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 51:40(فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم…:”الا یلیم“ (افعال) ایسا کام کرنا جس پر ملامت کی جائے۔”ملیم“ مستحق ملامت، ایسا کام کرنے والا جس پر اسے ملامت کی جائے۔ یعنی وہ ایسا ظالم و سرکش تھا کہ اس کے سمندر میں لشکر سمیت غرق ہونے پر کسی نے اس کے حق میں کوئی کلمہ خیر نہیں کہا، بلکہ ہر شخص کے منہ سے اس کے لئے ملامت اور پھٹکار ہی نکلی جس نے سنا یہی کہا کہ ان کے ساتھ ایسے ہی ہونا چاہیے تھا۔ خس کم جہاں پاک۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(فما بکت علیھم السمآء والارض) (الدخان : 29)”پھر نہ آسمان ان پر رویا نہ زمین۔“ سمندر میں پھینکے جانے کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة یونس 90 تا 92) ، طہ (77، 78) اور سورة شعراء (52 تا 67)۔