51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 51:41

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد میں، جب ہم نے ان پر بانجھ (خیرو برکت سے خالی) آندھی بھیجی۔

(وفی عاد اذ ارسلنا علیھم الریح العقیم : یعنی قوم عاد میں بھی ہم نے ایک نشانی اور بڑی عبرت چھوڑی۔ ”العقیم“ وہ رحم یا عورت جس سے بچہ پیدا نہ ہو، ایسے مرد کو بھی ”عقیم“ کہتے ہیں، پھر ہر اس چیز کو بھی جو خیرو برکت سے خالی ہو۔ قوم عاد پر جو آندھی مسلط کی گئی وہ بھی ہر خیر و برکت سے خالی اور سراسر بربادی اور تباہی تھی، اس لئے اسے ”العقیم“ فرمایا۔ اس کی تفصیل کیلئے دیکھیے سورة حاقہ (6 تا 8) ، قمر (19، 20) اور سورة احقاف (24، 25)۔
Ayah 51:42

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

جو کسی چیز کو نہ چھوڑتی تھی جس پر سے گزرتی مگر اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح کردیتی تھی۔

ماتذرمن شیء اتت علیہ …:”الرمیم“ بوسیدہ، پرانی، گلی ہوئی ہڈی۔
Ayahs 51:43–44

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود میں، جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

پھر انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سر کشی کی تو انھیں کڑک نے پکڑ لیا اور وہ دیکھ رہے تھے۔

(وفی ثمود اذ قیل لھم تمتعواحتی حین…: اس کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ جب انہوں نے اونٹنی کو کاٹ دیا تو ان سے کہا گیا کہ تین دن تک خوب فائدہ اٹھا لو، اس کے بعد تم پر عذاب آجائے گا۔ ان تین دنوں میں وہ تائب ہوسکتے تھے، مگر وہ اپنی سرکشی پر اور صالح ؑ کی تکذیب پر اڑے رہے تو تیسرے دن ان کے دیکھتے دیکھتے ایک ہولناک چیخ بلند ہوئی (ہود : 67) جس کے ساتھ نہایت خوفناک کڑک والی بجلی گری، جس نے انہیں بھسم کردیا اور وہ اس طرح نیست و نابود ہوئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ فرمایا :(کان لم یغنوا فیھا) (ھود : 68) ”جیسے وہ ان میں رہے ہی نہ تھے۔“ دوسرا قول یہ ہے کہ اس ”تمتعوا حتی حین“ (ایک وقت تک خوب فائدہ اٹھا لو) کہنے سے مراد صالح ؑ کا ان کی طرف مبعوث ہونے کے وقت کا خطاب ہے کہ دنیا میں تمہیں موت تک مہلت ہے، اس میں خوب فائدہ اٹھا لو، مگر اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچانا ورنہ تم پر عذاب آجائے گا، مگر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور اونٹنی کو کاٹ دیا تو انہیں ساعقہ نے پکڑ لیا۔ آیت کے الفاظ میں دونوں معنوں کی گنجائش ہے اور دونوں بیک وقت بھی مراد ہوسکتے ہیں۔
Ayah 51:45

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پھر نہ انھوں نے کسی طرح کھڑے ہونے کی طاقت پائی اور نہ وہ بدلہ لینے والے تھے۔

(فما استطاعوا من قیام…:”منتصرین“”انتصار“ کے لفظ میں اپنے آپ کو کسی سے بچانے کا مفہوم بھی شامل ہے اور بدلا لینے کا بھی۔ یعنی جب وہ عذاب کے تھپیڑے سے زمین پر گرے تو پھر نہ کسی طرح اٹھ سکے اور نہ اس سے بچاؤ کرسکے، بدلا لینا تو بہت دور کی بات ہے۔
Ayah 51:46

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور اس سے پہلے نوح کی قوم کو، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔

(وقوم نوح من قبل …: رازی نے یہاں ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ ان پانچ اقوام کے ذکر میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انھی چیزوں کے ساتھ عذاب دیا جو ان کے وجود اورق یام کا باعث تھیں۔ وہ چار چیزیں ہیں، مٹی، پانی ، ہوا اور آگ۔ قوم لوط کھنگر مٹی کے پتھروں کے ساتھ ہلاک ہوئی، فرعون اور قوم نوح پانی کے ساتھ، عاد ہوا کے ساتھ اور ثمود آگ کے ساتھ تباہ برباد کئے گئے۔
Ayah 51:47

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور آسمان، ہم نے اسے قوت کے ساتھ بنایا اور بلاشبہ ہم یقینا وسعت والے ہیں۔

(1) والسمآء بنینھا باید : سورت کی ابتدا سے قیامت اور جزا و سزا کے حق ہونے کا بیان چلا آرہا ہے، اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے کئی قسمیں کھائیں اور دوبارہ زندہ کرنے پر اپنے قادر ہونے کے بہت سے دلائل پیش فرمائے، جن میں آسمان و زمین کا خصوصاً ذکر فرمایا۔ درمیان میں رسول اللہ ﷺ کی تسلی اور کفار کو تنبیہ کیلئے قیامت اور پیغمبروں کو جھٹلانے والی اقوام کے انجام بدکا ذکر فرمایا۔ منکرین قیامت کا سب سے بڑا شبہ یہ ہے کہ مرنے اور بوسیدہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندگی کیسے ممکن ہے ؟ اس لئے اللہ تعالیٰ اس شبہے کے رد کے لئے آسمان و زمین کا خاص طور پر ذکر فرماتے ہیں، کیونکہ انس ان کو نظر آنے والی مخلوقات میں یہ سب سے بڑے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس و لکن اکثر الناس لایعلمون) (المومن : 58) ”یقینا آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ یہاں آخرت کے حق میں تاریخی دلائل ذکر کرنے کے بعد دوبارہ پھر اس کے ثبوت میں آفاقی دلائل پیش کئے جا رہے ہیں۔ قرآن مجید اسی طرح بات کو مختلف انداز سے پھیر پھیر کر بیان کرتا ہے، تاکہ وہ اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے۔ (2) ”اید“ ”ید“ کی جمع کے طور پر بھی آتا ہے جس کا معنی ہاتھ ہے اور اگر یہ معنی کیا جائے کہ ”ہم نے آسمان کو ہاتھوں کے ساتھ بنایا“ تو اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی، کیونکہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہیں اور اس طرح ہیں جس طرح اس کی شان کے لائق ہے، ہم نہیں جانتے نہ جان سکتے ہیں کہ کیسے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے فرمایا :(ما منعک ان تسجد لما خلقت بیدی) (ص : 85)”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لئے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ؟“ مگر یہاں ”باید“ (ادیشید“ (قوی ہونا) کا مصدر ہے اور معنی اس کا ”قوت“ ہے، تنوین اس میں تعظیم کی ہے اور (وایدنہ بروح القدس) (البقرہ : 253) (اور ہم نے اسے روح القدس کے ساتھ قوت بخشی) بھی اسی سے مشتق ہے۔ اس مقام پر ”بائید“ کا یہ معنی طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ترجمان القرآن ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واذاکر عبدنا داؤد ذا الاید) (ص :18)”اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کر جو قوت والا تھا۔“ یعنی اتنا عظیم آسمان بنانا نفاق کام نہیں، یہ ہماری ہی قوت ہے جس کیساتھ ہم نے اسے اس وقت بنایا جب کچھ بھی نہیں تھا، تو ہم تمہیں دوبارہ کیوں نہیں بنا سکتے ؟ آسمان کے لئے ”خلقنا ھا“ کے بجائے ”بنینھا“ کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ دیکھنے میں وہ ایک خیمے کی مانند نظر آتا ہے، جس کے لئے لفظ ”بنائ“ استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر لفظ ”بنائ“ میں بناوٹ پر غور کرنے کی دعوت بھی ہے کہ اتنے عظیم آسمان کو ستونوں کے بغیر بنانے والے کے متعلق تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ انسان ضعیف البنیان کو دوبارہ نہیں بنا سکے گا۔ پھر یہ کہنے کے بجائے کہ ”وبنینا السمائ“ (اور ہم نے آسمان کو بنایا) یہ فرمایا :(والسممآء بنینھا) (اور آسمان ہم نے اسے بنایا) اتنے سے لفظوں میں آسمان کا ذکر دو دفعہ فرما دیا۔ ایک لفظ ”السمآئ“ کے ساتھ اور دوسرا اس کی ضمیر ”ھا“ کے ساتھ، مقصد آسمان اور اس کی بناوٹ کی طرف اچھی طرح متوجہ کرنا ہے۔ (3) وانا لموسعون :”موسع“”اوسع یوسع“ (افعال) سے اسم فاعل ہے، جب کوئی وسعت والا ہو، جیسا کہ فرمایا :(علی الموسع قدرہ و علی المقتر قدرہ) (البقرہ : 236)”وسعت والے پر اس کی طاقت کے مطابق اور تنگی والے پر اس کی طاقت کے مطاق ہے۔“ وسعت کا لفظ قدرت اور فراخی دونوں معنوں کیلئے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ”واسع“ بھی ہے، فرمایا :(ان اللہ واسع علیم) (البقر 1: 115)”بیشک اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی وسعت کی کوئی حد نہیں، اس کا وجود، حیات، علم ، قدرت ، حکمت وغیرہ سب لامحدود ہیں۔ ”انا لموسعون“”ان“ اور ”لام“ (تاکید کے دو حرفوں) کے ساتھ اس لئے فرمایا کہ قیامت کا منکر دراصل اللہ تعالیٰ کی قدرت و وسعت کا منکر ہے اور بلاغت کا قاعدہ ہے کہ مخاطب جس قدر کسی بات کا منکر ہو اتنی ہی زیادہ تاکید کے ساتھ بات کی جاتی ہے۔ (4) ”اوسع یوسع“ کا ایک معنی وسیع کرنا بھی ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ ”آسمان، ہم نے اسے بنایا اور یقینا ہم وسیع کرنے والے ہیں۔“ مفسر کیلاین لکھتے ہیں :”کائنات میں بیشمار چیزیں ایسیہیں جن میں آج تک تخلیق اور توسیع کا عمل جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ (بلکہ ہر چیز کا یہی حال ہے) سب سے پہلے انسان ہی کو لیجیے، اس کی نسل بڑھ ریہ ہے، تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہی کائنات کا شاہکار ہے۔ پھر زمین کی پیداوار بیھ اللہ تعالیٰ اسی نسبت سے بڑھات جا رہے ہیں۔ اس آیت میں بالخصوص آسمان کا ذکر ہے، تو آسمان کی پیدائش کا بھی یہی حال ہے، آسمان میں لاتعداد مجمع الجوم اور کہکشائیں ہئیت دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال کر ان کے علم کو ہر آن چیلنج کر رہی ہیں۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ہئیت دان جو جوں پہلے سے زیادہ طاقت ور اور جدیدق سم کی دور بینیں ایجاد کر رہے ہیں تو توں اس بات کا بھی انکشاف ہو رہا ہے کہ کائنات میں ہر آن مزید وسعت پیدا ہو رہی ہے۔ سیاروں کے درمیانی فاصلے بھی بڑھ رہے ہیں اور نئے نئے اجرام بھی مشاہدہ میں آرہے ہیں۔“
Ayah 51:48

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور زمین، ہم نے اسے بچھا دیا، سو (ہم) اچھے بچھا نے والے ہیں۔

(1) والارض فرش تھا : آسمان بنانے کی طرح زمین بچھانے کو بھی دوبارہ زنادہ کرنے پر قادر ہوکنے کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا ہے اور ”وفرشنا الارض“ کے بجائے ”والارض فرنھا“ میں بھی وہی بات محلوظ ہے جو ”والسمآء بینھا“ میں ملحوظ ہے۔ زمین کی پیدائش میں اس کے گول ہونے کے ذکر کے بجائے، جو ہر ایک کی سمجھ میں آنے والی بات نہیں تھی، اس بات کا ذکر فرمایا جو ہر شخص کے مشاہدے اور استعمال میں ہے اور جس سے سب فائدہ اٹھاتے ہیں، کیونکہ اگر وہ ناہموار اور اونچی نیچی ہوتی تو اس پر ان کا اور ان کے جانوروں کا رہنا ہی ممکن نہ ہوتا، نہ وہ اس پر بیٹھ سکتے، نہ لیٹ سکتے اور نہ چل پھر سکتے اور اس خوشگوار زندگی اور آسئاش کا تصور تک نہ ہوتا جو زمین کو بچھا کر اللہ تعالیٰ نے بندوں کو عطا فرما رکھی ہے۔ (2) فنعم المھدون :”ای نحن“ یعنی ہم بہت اچھے بچھانے والے ہیں۔ ان آیات میں جمع متکلم (ہم) کا صیغہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے اظہار کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 51:49

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہر چیز سے ہم نے دو قسمیں بنائیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

(1) ومن کل شیء خلقنا زوجین : آسمان و زمین کی پیدائش کے بعد تمام موجودات کو پیدا کرنے کی کیفیت بیان فرمائی کہ جس طرح آسمان کے مقابلے میں زمین ہے اسی طرح ہم نے ہر چیز کی دو دو قسمیں بنائی ہیں۔ ہر ایک کے قمبالے میں دوسری چیز موجود ہے۔ چناچہ آسمان و زمین، دن رات، خشکی و تری، اندھیرا و اجالا، موت و حیات، نیکی و بدی، جنت و دوزخ یہاں تک کہ نباتات و حیوانات کے بھی جوڑے ہیں۔ (2) لعلکم تذکرون : تاکہ تم نصیحت حاصل کرو، توحید کو سمجھو اور جان لو کہ مخلوق جو بھی ہے اس کے مقابلے میں دوسری موجود ہے، مگر ان سب کا خلاق ایک اللہ ہے، اس کا کوئی جوڑے ہے نہ ہمسر، نہ شریک اور نہ اس کے مقابلے میں کوئی ہستی ہے اور یہ بھی سمجھ لو کہ اتنی عظیم ال شان کائنات کو بنانے والا تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر اس کے حضور پیش ہونا ہے۔
Ayah 51:50

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

پس دوڑو اللہ کی طرف، یقینا میں تمہارے لیے اس کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔

(1) فقروا الی اللہ : یعنی جب آسمان و زمین اور کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے پر اور تمہیں دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت پر دلالت کر رہی ہے تو تم پر لازم ہے کہ اللہ کی طرف دوڑو، کفر کو ترک کر کے توحید کی طرف آؤ اور گناہوں سے توبہ کر کے اس کی رحمت کی پناہ میں آجاؤ۔ (2) انی لکم منہ نذیر مبین : ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(مثلی و مثل ما یعثنی اللہ کمثل رجل اتی قوما فقال رایت الجیش بعینی وانی انا النذیر العریان فالنجاء النجاء فاطعتہ طائفۃ فاذ لجوا علی مھلھم فنجوا، وکذبتہ طائفۃ فصبحھم الجیش فاجناجھم) (بخاری، الرقاق، باب الانتھاء عن المعاصی : 6382)”میری مثال اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ دے ر مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس آدمی ک سی ہے جو ایک قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا، میں نے لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں ننگا ڈرانے والا ہوں، (عرب کا قدیم دستور تھا کہ دشمن کے حملے سے خبردار کرنے والا شخص کپڑے اتار دیتا اور ننگا ہو کر چیخ چیخ کر حملے سے ڈراتا) اس لئے دوڑو، دوڑو۔ تو ایک گروہ نے اس کی بات مان لی اور آرام کے ساتھ اندھیرے میں چل پڑے اور بچ کر نکل گئے اور ایک گروہ نے اسے جھٹلا دیا تو لشکر نے صبح صبح ان پر حملہ کیا اور انہیں تباہ و برباد کردیا۔“
Ayah 51:51

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بناؤ، بلاشبہ میں تمہارے لیے اس کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔

ولا تجعلوا مع اللہ الھا اخر…: یعنی صرف اللہ کی طرف رجوع کافی نہیں بلکہ اس کے سوا ہر معبود سے برأت بھی ضروری ہے، اس لئے اس کے ساتھ کسی اور کو معبود مت بناؤ۔ تاکید کے لئے دوبارہ فرمایا کہ میں اس کی طرف سے تمہیں کھلا ڈرانے والا ہوں۔
Ayah 51:52

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے، کوئی رسول نہیں آیا مگر انھوں نے کہا یہ جادوگر ہے، یا دیوانہ۔

(کذلک ما اتی الذین من قبلھم من رسول …: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ معاملہ آپ ہی کے ساتھ پیش نہیں آیا کہ توحید اور آخرت کی دعوت سن کر جھٹلایا گیا ہو اور جادوگر یا دیوانہ کہا گیا ہو، بلکہ آپ سے پہلے جس قوم کے پاس بھی کوئی رسول آیا اس کے جاہلوں نے یہی کہا کہ جادوگر دیوانہ کہا گیا ہو، بلکہ آپ سے پہلے جس قوم کے پاس بھی کوئی رسول آیا اس کے اجہلوں نے یہی کہا کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ وہ سب جب معجزوں کیساتھ لاجواب ہوتے تو انہیں جادو کہہ کر جھٹلا دیتے، جب رسول کے کلام کی بےپناہ تاثیر دیکھتے تو اسے جادوگر کہہ کر لوگوں کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کرتے اور جب دیکھتے کہ اکیلا شخص پوری قوم کے خلاف توحید اور آخرت کی بات کر رہا ہے، نہ اپنے کسی دنیوی مفاد کی پروا کرتا ہے اور نہ ساری قوم کی مخالفت ، استہزا اور اذیت رسانی کے باوجود اپنی دعوت سے باز آتا ہے تو اسے دیوانہ قرار دیتے۔
Ayah 51:53

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا انھوں نے ایک دوسرے کو اس (بات) کی وصیت کی ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ (خود ہی) سر کش لوگ ہیں۔

(1) اتواصوابہ :”تواصی یتواصی تواصیاً“ باپ تفاعل میں تشارک پایا جاتا ہے، ایک دور سے کو وصیت کرنا۔ یعنی جب سب نے ایک ہی بات کہی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ سب ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کر گئے ہیں ؟ (2) بل ھم قوم طاغون : ینی یہ تو ممکن نہیں کہ انہوں نے ایک دور سے کو اس بات کی وصیت کی ہو، کیونکہ ان کے درمیان مدتوں کا فاصلہ ہے، علاقے بھی ایک نہیں، تو اصل بات یہ ہے کہ یہ سرکش لوگ ہیں، پہلے لوگ بھی سرکش تھے اور اپنی خواہش نفس پر کوئی پابندی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ دونوں کی سرکشی ان کے لئے رسول کی اطاعت اور حق بات تسلیم کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنی، اسی لئے پچھلوں نے بھی وہی بات کہی جو ان کے پہلوں نے کہی۔
Ayah 51:54

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

سو تو ان سے منہ پھیر لے، کیونکہ تو ہرگز کسی طرح ملامت کیا ہوا نہیں۔

(فتول عنھم فما انت بملوم : یعنی جب وہ سرکشی پر اڑے ہوئے ہیں اور حق واضح ہونے کے باوجود اسے قبول کرنے پر تیار نہیں تو آپ کی ذمہ داری یہ نہیں کہ انہی کے پیچھے پڑے رہیں، بلکہ آپ ان سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ آپ کا کام حق کا پیغام پہنچا دینا ہے، وہ آپ نے پہنچا دیا، اب اگر وہ اسے قبول نہیں کرتے تو آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ دیکھیے سورة شوریٰ (48) کی تفسیر۔
Ayah 51:55

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

اور نصیحت کر، کیونکہ یقینا نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے۔

وذکر فان الذکری تنفع المومنین :”ذکر یذکر تذکرۃ“ کا معنی نصیحت بھی ہے اور یاد دہانی بھی یعنی سرکشوں سے منہ پھیرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ انہیں یاد دہانی اور نصیحت کرنا بھی چھوڑ دیں، بلکہ آپ انہیں یاد دہانی اور نصیحت کرتے رہیں، کیونکہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے اور چونکہ آپ کو معلوم نہیں کہ کون ہے جو ایمان لے آئے گا اور کون ہے جو اس سے محروم رہے گا، اسلئے آپ ایمان لانے والی سعید روحوں کی تلاش میں ہر نیک و بد، موافق و مخالف کو نصیحت جاری رکھیں، بالآخر وہ لوگ جن کی فطرت مسخ نہیں ہوئی، اس نصیحت سے فائدہ اٹھائیں گے، جیسا کہ فرمایا : (سیدکر من یخشی ، ویتجنبھا الاشقی) (الاعلی : 10، 11)”عنقریب نصیحت حاصل کرے گا جو ڈرتا ہے۔ اور اس سے علیحدہ رہے گا جو سب سے بڑا بدنصیب ہے۔“
Ayah 51:56

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔

(1) وما خلقت الجن و الانس الالیعبدون : اس آیت میں بتایا کہ نصیحت کیا کرنی ہے اور کون سی بات یاد دلانی ہے۔ فرمایا انہیں یاد دلاؤ کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ (2) عبادت کا معنی بندگی ہے۔ غلام کو عربی میں عبد اور فاسری میں بندہ کہتے ہیں۔ عبادت وہ تعلق ہے جو غلام کا اپنے مالک یا عبد کا اپنے رب کے ساتھ ہوتا ہے۔ (3) کائنات کی ہر چیز رب تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے، سکیک ی مجال نہیں کہ ذرہ برابر سرتابیک ر سکے۔ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے ”کن“ کہتا ہے اور وہ ہوجاتی ہے۔ اس ارادے کو ارادہ کونیہ اور اس حکم کو تکوینی حکم کہتے ہیں، فرمایا :(انما امرہ اذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون) (یٰسین : 82)”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہوجا“ تو وہ ہوجاتی ہے۔“ (4) اکثر معاملات میں انسان اور جن بھی اللہ تعالیٰ کے اس ارادہ کونیہ اور تکوینی کے اسی طرح پابند ہیں جس طرح دوسری تمام چیزیں، ان کی پیدائش، عمر، رزق، صحت، مرض اور ان کے اعضا کے افعال اور صلاحیتوں میں ان کی مرضی کا کچھ دخل نہیں۔ البتہ دونوں کو امتحان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک حد تک اختیار عطا فرمایا ہے اور زندگی گزارنے کے لئے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کچھ احکام دیئے ہیں کہ میں تمہارا رب ہوں اور تم میرے بندے ہو، میں تمہارا مالک ہوں اور تم میرے غلام ہو، لہٰذا تم نے میری غلامی اور بندگی میں زندگی بسر کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو حکم شرعی اور اس ارادے کو ارادہ شرعیہ کہتے ہیں۔ انسان اس حکم کی تعمیل اور اس ارادے کو پورا بھی کرسکتا ہے اور اسے اس حکم کی نافرمانیا ور اس رادے کو پورا نہ کرنے کا بھی اختیار ہے۔ اسی اختیار پر اس سے باز پرس ہوگی اور وہ ثواب یا عذاب کا مستحق بنے گا، فرمایا :(الذی خلق الموت والحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملاً) (الملک : 2)”وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کیا، تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے اس کی یاد دہانی کے لئے پیغمبر بھیجے اور فرمایا :(وما خلقت الجن والانس الالیعبدون)”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کا یم گر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ یعنی ان دونوں کو پیدا کرنے سے میرا مقصد اور ارادہ شرعیہ یہی ہے کہ وہ میری عبادت اور میری بندگی و غلامی کریں اور اپنی پوری زندگی میرے احکام کے مطابق گزاریں۔ (5) بعض لوگوں نے رکوع و سجود، قیام، ذکر، نماز، روزے ، زکوۃ اور حج وغیرہ ہی کو عبادت سمجھ رکھا ہے، بیشک یہ بھی عبادت ہیں، مگر صرف یہی عبادت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم بھی دیا ہے اس کی اطاعت کرنا عبادات ہے، کیونکہ بندگی اور عبادت کا مطلب ہی مالک کے حکم بلکہ اشارے پر چلنا ہے۔ جو مالک کا حکم نہ مانے وہ غلام کیسا اور جو اپنے رب کے حکم پر نہ چلے وہ عبد کیسا ؟ جو شخص مسجد میں تو نماز پڑھتا ہے مگر گھر بازار اور عدلات میں اپنی مرضی پر چلتا ہے وہ نہ رب کا بندہ ہے اور نہ اس کا عہد۔ ہاں، اگر وہ ہر کام میں اس کے حکم پر چلتا ہے تو اس کا ہر کام عبادت ہے، حتیٰ کہ نماز ہی نہیں، اس کا کھاناپ ینا، سونا اور بیوی سے صحبت بھی عبادت ہے، کیونکہ رب کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس نے مالک کے منع کئے ہوئے حرام سے اجتناب کیا اور اپنی خواہش پوری کی تو اپنے مالک کے حکم پر چلتے ہوئے پوری کی، یہی بندگی اور یہی عبادت ہے۔ (6) رب تعالیٰ کا اپنے بندوں سے سب سیپ ہلا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس اکیلے کو اپنا رب اور مالک مانیں، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔ اس لئے عبداللہ بن عباس ؓ نے سورة بقرہ کی آیت (21) :(یایھا الناس اعبدوا ربکم) کی تفسیر فرمائی :”ای و خدوا ربکم“ ”یعنی اپنے رب کو ایک مانو۔“ (طبری بسند حسن) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) (الانبیائ : 25)”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، سو میری عبادت کرو۔“
Ayah 51:57

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

نہ میں ان سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔

(مار ارید منھم من رزق …: یہ کلام انسان کی عام عادت کے مطابق کیا گیا ہے، کیونکہ انسان جو کچھ بناتا ہے اپنے کسی فائدے کے لئے بناتا ہے اور جو غلام خریدتا اور پانی ملکیت میں رکھتا ہے اس سے مقصد اپنی ضروریات کے لئے ان سے کام لینا اور ان کی کمائی کھانا ہوتا ہے۔ فرمایا جن و انس سے نہ میں کسی طرح کا رزق چاہتا ہوں اور نہ میرا یہ مقصد ہے کہ وہ مجھے کھانے کو کچھ دیں۔ ان کے پیدا کرنے سے میرا اپنا کوئی نفع مقصود نہیں، میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ میری بندگی کریں، میرے غلام بن کر رہیں اور اس میں انھی کا فائدہ ہے۔ آیت میں اپنے لئے پہلے رزق کی نفی کی جس میں انسان کی ہر ضورت آتی ہے۔ اس کے بعد رقز میں سے انسان کے لئے سب ضروری چیزک ھانے کی نفی فرمائی۔
Ayah 51:58

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی بےحد رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہے۔

(1) ان اللہ ھو الرزاق ذوالقواۃ المتین :”ھو“ ضمیر فصل لانے سے اور ”الرزاق“ خبر پر ”الف لام“ لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا کہ رزاق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور کوئی نہیں۔ ”الرزاق“ مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی میں نہ جن و انس سے کسی طرح کا رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں، کیونکہ رزق دینے والا تو صرف میں ہوں، میرے سوا کوئی رزق دینے والا ہے ہی نہیں اور میں کھانیپ ینے اور ہر ضرورت سے غنی ہوں، تو میں جن و انس سے رزق کا یا کھلانے کا ارادہ کیوں کروں گا ؟ دوسریج گہ فرمایا :(قل اغیر اللہ اتخذ و لیافاطر السموت والارض وھو یطعم ولایطعم) (الانعام : 13) ”کہ دے کیا میں اللہ کے سوا کوئی مالک بناؤں جو آسمانوں اور زمین پیدا کرنے والا ہے، حالانکہ وہ کھلاتا ہے اور اسے نہیں کھلایا جاتا۔“ (2) سیاق کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا :”انی انا الرزاق ذوالقوۃ المتین“ کہ (نہ میں ان سے کسی رزق کا ارادہ کرتا ہوں اور نہ یہ ارادہ رکھتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں) کیونکہ میں ہی تو بےحد رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہوں۔ رسول اللہ ﷺ سے اس طرح پڑھنا بھی ثابت ہے، چناچہ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے اس طرح پڑھایا :(انی انا الرزاق ذوالقوۃ المتین) (ابو داؤد، الحروف و القراء ات ، باب : 3993۔ ترمذی : 2930، وصححہ فلالبانی) مصحف امام میں ”ان اللہ ھو الرزاق“ ہے اور متواتر قرأت یہی ہے۔ ”انی انا الرزاق“ کے بجائے ”ان اللہ ھو الرزاق، کہنے میں لفظ ”اللہ“ میں آنے والی تمام صفات، مثلاً اس کے جلال، اس کی کبریائی اور عظمت کا اظہار مقصود ہے۔ (3) ذوالقوۃ المتین :”ذوالقوۃ“ ”ذو“ کا لفظ کسی اہم چیز کا مالک ہونے کے لئے آتا ہے، مثلاً ”’ و مال“ اور ”ذو شرف“ یعنی ساری قوت کا مالک ہے۔“ ”المتین“ نہایت مضبوط۔ جسے کوئی نہ اس کے ارادے سے ہٹا سکتا ہے اور نہ اس کا مقابلہ کرسکتا ہے۔
Ayah 51:59

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

پس یقینا ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، ان کے ساتھیوں کی باری کی طرح (عذاب کی) ایک باری ہے، سو وہ مجھ سے جلدی (عذاب) نہ مانگیں۔

(1) فان للذین ظلموا ذنوباً …:”ذنوباً“ (ڈال کر فتحہ کے ساتھ) اصل میں بڑے ڈول کو کہتے ہیں اور ”ذنوب“ (ڈال کے ضمہ کے ساتھ)”ذنب“ کی جمع ہے، گناہ پہلے لوگ ایک ہی کنوئیں سے پانی لینے کے لئے آتے تو ہر ایک اپنا ڈول ساتھ لاتا تھا، پھر باری باری اپنا ڈول ڈلاتے اور پانی بھر کرلے جاتے، اس لئے ”ذنوب“ (ڈول) کا لفظ باری کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ سورت کے آخر میں کفار قریش کے متعلق فرمایا ہ جس طرح ان سے پہلے ان کے ساتھیوں پر عذاب باری باری آیا اسی طرح ان مشرکین پر عذاب کی نوبت (باری) بھی آرہی ہے جنہوں نے ظلم کیا۔ ظلم سے مراد اللہ کے ساتھ شرک ہے۔ باری آنے میں کچھ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ (2) فلا یستجلون : یہ اصل میں ”فلا یستعجلونی“ تھا،”یائ“ حذف ہوگئی، نون وقایہ پر کسرہ یہ بتانے کے لئے باقی رہا کہ یہاں سے ”یائ“ حذف ہوئی ہے۔ سو وہ مجھ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ نہ کریں، باری آنے پر ان کا یہ مطالبہ بھی پورا ہوجائے گا۔
Ayah 51:60

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

پھر بڑی ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ان کے اس دن سے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں۔

(فویل للذین کفروا …:”فویل“ پر تنوین تہویل کے لئے ہے، اس لئے ترجمہ ”بڑی ہلاکت“ کیا گیا ہے۔”جس دن کا وہ وعدہ دیئے جاتے ہیں“ سے مراد قیامت کا دن ہے، جس کا سورت کے شروع میں ذکر ہے، فرمایا :(انما توعدون لصادق، و ان الدین لواقع) (الذاریات : 5، 6)”کہ بلاشبہ جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یقینا سچا ہے اور بلاشبہ جزا یقیناً واقع ہونے والی ہے۔“ سورة معارج میں قبروں سے نکلنے کے دن کے متعلق فرمایا :(ذلک الیوم الذی کانوا یوعدون) (المعارج : 33)”یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جانا تھا۔“