50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

قۤ۔ قسم ہے قرآن کی جو بہت بڑی شان والا ہے !

(1) ق : مفسر ابن کثیر نے فرمایا : ”ق“ ان حروف تہجی میں سے ہے جو سورتوں کی ابتدا میں مذکور ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”ص“ ، ”ن“ ، ”الم“ ، ”حم“ ، ”طس“ ، وغیرہ۔ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ہم سورة بقرہ کے شروع میں اس پر کلام کرچکے ہیں جسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ (ہماری اس تفسیر میں بھی سورة بقرہ کے شروع میں اس پر کلام گزر چکا ہے) بعض سلف سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا ”ق“ ایک پہاڑ ہے جو ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اسے جبل قاف کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے (واللہ اعلم) کہ یہ بنی اسرائیل کی خرافات سے ہے جو بعض لوگوں نے یہ سمجھ کرلے لی ہیں کہ بنی اسرائیل سے وہ روایات لینا جائز ہیں جنہیں ہم نہ سچا کہیں نہ جھوٹا۔ میرے نزدیک یہ اور اس جیسی دوسری باتیں بنی اسرائیل کے دشمن دین اور زندیق لوگوں کی گھڑی ہوئی ہیں، جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کے دلوں میں ان کے دین کے بارے میں شکوک پیدا کرنا چاہتے تھے۔ جیسا کہ ہماری امت میں بڑے بڑے جلیل القدر علماء و حفاظ اور ائمہ کی موجودگی کے باوجود نبی ﷺ سے جھوٹی روایات گھڑ کر بیان کی گئی ہیں، حالانکہ کوئی زیادہ مدت بھی نہیں گزری۔ تو اتنی لمبی مدت میں بنی اسرائیل کا کیا حال ہوگا جن میں تنقید کرنے والے حفاظ بہت کم تھے، شرابیں پی جاتی تھیں اور ان کے علماء اللہ کے کلام اور اس کی آیات میں لفظی اور معنوی تحریف اور تدبیلی کیا کرتے تھے۔ شارع نے یہ کہہ کر ”حدتوا عن بنی اسرائیل ولا حرج“ (بنی اسرائیل سے بیان کرو اور کوئی حرج نہیں) صرف ان روایات کی اجازت دی ہے جنہیں عقل ممکن قرار دیتی ہو، رہی ہو باتیں جو عقلاً محال اور واضح طور پر باطل ہیں، وہ اس فرمان میں شامل نہیں ہے۔“ (ابن کثیر)”حدتوا عن بنی اسرائیل ولا حرج“ کی تفسیر جو ابن حبان ؒ نے فرمائی ہے، اس تفسیر کے مقدمہ میں اسرائیلیات پر کلام میں ملاحظہ فرمائیں۔ اس کے بعد ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالے سے ایک روایت نقل فرما کر اس کی تردید کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے پیچھے ایک سمندر پیدا فرمایا ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کی پیچھے ایک پہاڑ پیدا فرمایا ہے جسے ”کوہ قاف“ کہا جاتا ہے، جس کے اوپر آسمان دنیا ہے۔ اسی طرح سات زمینیں ہیں جن میں ہر ایک کیپ یچھے ایک سمندر اور ایک کوہ قاف ہے۔ غرض لمبی روایت ہے جو عقل و نقل اور مشاہدے کے صریح خلاف ہے۔ اگر واقعی قاف کسی پہاڑ کا نام بھی ہوتا تو اسے ”ق“ کے بجائے ”قاف“ لکھا جاتا۔ معلوم ہوتا ہے مسلمانوں میں کوہ قاف اور اس کی پریوں کے افسانے ایسی ہی روایتوں سے رائج ہوئے ہیں اور کتب تفسیر میں نقل ہونے کی وجہ سے ملحد اور بےدین لوگوں کو اسلام اور قرآن و سنت پر اعتراض کا موقع مل گیا ہے، حالانکہ قرآن و سنت دونوں ایسی فضول باتوں سے پاک ہیں۔ غیر محتاط اور مکھی پر مکھی مارنے والے مفسرین کی باتوں کو لے کر اسلام پر اعتراض صرف بد باطن اور بدنیت لوگ ہی کرتے ہیں، اہل تحقیق کا یہ شیوہ نہیں۔ (2) والقرآن المجید : قسم کسی بات کی تاکید کے لئے اٹھائی جاتی ہے، وہ تاکید یا تو اس چیز کی عظمت کی بنا پر ہوتی ہے جس کی قسم اٹھائی گئی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ اور اس کے اسمائے حسنیٰ کی قسم ہے، یا قسم کے اس بات کی دلیل اور شاہد ہونے کی بنا پر ہوتی ہے جو قسم کے جواب میں آرہی ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی قسم اس کے عظیم مجدو شرف کی بنا پر اٹھائی ہے اور اس بنا پر بھی کہ قرآن آپ ﷺ کے رسول برحق ہونے کی دلیل۔ اس کا جواب قسم محذوف ہے جو اگلی آیت :(بل عجبوآ ان جآء ھم منذر منھم فقال الکفرون ھذا شیء عجیب) سے سمجھ میں آرہا ہے۔ اگلی آیت میں پہلی بات جس پر کفار کے تعجب کا ذکر ہے، یہ ہے کہ ان کی طرف خود ان میں سے ایک پیغمبر کیسے مبعوث ہوگیا ؟ وہ تو کوئی فرشتہ ہونا چاہیے تھا۔ جواب قسم اس مفہوم کا جملہ ہوگا۔”انک رسول اللہ حقا و ما ردوا امرک بحجۃ ولا کذبوک ببرھان“ یعنی یہ عظیم الشان قرآن اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور کفار نے آپ کی نبوت کا انکار کسی دلیل یا جھت کی بنا پر نہیں کیا بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور کفار نے آپ کی نبوت کا انکار کسی دلیل یا حجت کی بنا پر نہیں کیا بلکہ محض اس تعجب کی بنا پر کیا ہے کہ ان کے پاس ان میں سے ایک ڈرانے والا کیسے آگیا ؟ سورة یٰسین میں اس قسم کا جواب محذوف محض اس تعجب کی بنا پر کیا ہے کہا ن کے پاس ان میں سے ایک ڈرانے والا کیسے آگیا ؟ سورة یٰسین میں اس قسم کا جواب محذوف نہیں بلکہ مذکور ہے، فرمایا :(یسیٰ ، والقرآن الحکیم، انک لمن المرسلین) (یٰسین : 1 تا 3) ”یس۔ اس حکمت سے بھرے ہوئے قرآن کی قسم ! بلا شبہ تو یقینا بھیجے ہوئے لوگوں میں سے ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر کفار کے اس تعجب اور شبہے کا ذکر فرما کر اس کا رد فرمایا ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : 94) سورة ص میں بھی ”والقرآن ذی الذکر“ کا جواب محذوف ہے جو اس سے اگلی آیت :(بل الذین کفروا فی عزۃ و شقاق) سے معلوم ہو رہا ہے۔
Ayah 50:2

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ انھوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا، تو کافروں نے کہا یہ ایک عجیب چیز ہے۔

2(1) بل عجبوآ ان جآء ھم منذرمنھم :”عجبوآ“ (انہوں نے تعجب کیا) میں ضمیر کفار قریش کے لئے ہے اور ڈرانے والے سیدنا محمد ﷺ ہیں۔ بعض نے کہا کہ ضمیر سے مراد تمام لوگ ہیں اور ”ان میں سے“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کی جنس سے ایک انسان ہیں اور آپ ﷺ کی صفات میں سے ”منذر“ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ آپ انہیں دوبارہ زندہ کئے جانے، اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور اس کے عذاب سے ڈراتے تھے۔ (2) فقال الکفرون ھذا شیء عجیب : یہ دوسری بات ہے جسے کفار نے عجیب قرار دیا اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ یہاں ”فقالوا“ کہنے کے بجائے جو یہ فرمایا ”فقال الکفرون“ تو لفظ ”الکفرون“ ان کی مذمت کے اظہار کے لئے ہے کہ اس تعجب کی بھی کوئی معقول وجہ نہیں، کیونکہ جس نے پہلی دفعہ انہیں پیدا کیا، جب ان کا نام و نشان تک نہ تھا، وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے، بلکہ یہ تعجب محض ان کے کفر اور ”میں نہ مانوں“ کی ضد کی وجہ سے ہے۔
Ayah 50:3

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مر گئے اور ہم مٹی ہوگئے ؟ یہ واپس لوٹنا بہت دور ہے۔

(1) ء اذا متنا و کنا تراباً :”اذا“ فعل محذوف کا ظرف ہے :”ای انرجع اذا متنا و کنا تراباً“”یعنی کیا ہم اس وقت دوبارہ لوٹیں گے جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے۔“ مزید دیکھیے سورة رعد (5) اور سورة صافات (16)۔ (2) ذلک رجع بعید : یہ لوٹنا تو عقل سے بہت دور ہے، یعنی ان کے خیال میں ممکن ہی نہیں۔ (3) حقیقت یہ ہے کہ کفار نے جن باتوں کو باعث تعجب قرار دیا وہ قابل تعجب نہیں، بلکہ قابل تعجب کفار کی باتیں ہیں۔ چناچہ انہوں نے اس بات کو قابل تعجب قرار دیا کہ انہیں خبردار کرنے اور ڈرانے والا خود ان میں سے آیا، حالانکہ اپنی جنس کا فرد ڈرانے اور آگاہ کرنے میں زیادہ مخلص اور خیر خواہ ہوتا ہے۔ تعجب کی بات یہ تھی کہ انسانوں کو خبردار کرنے کے لئے کوئی فرشتہ آتا، یا عربوں کی طرف کوئی چینی آتا۔ پھر وہ اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ انسان رسول کیسے ہوگیا اور انہیں اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہوتا کہ وہ پتھر کو رب مان کر اس کی پرستش کر رہے ہیں۔ پھر وہ مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو عجیب کہہ رہے ہیں اور انہیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ پہلی مرتبہ اسی مٹی سے انہیں پیدا کیا گیا اور زندگی عطا کی گئی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی قیامت کے انکار کی بات کو عجیب قرار دیا، فرمایا :(وان تعجب فعجب قولھم اذا کنا ترباً ء انا لفی خلق جدید) (الرعد : 5)”اور اگر تو تعجب کرے تو ان کا یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ کیا ج ب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہم یقینا ایک نئی پیدائش میں ہوں گے۔“ (بقاعی)
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

بیشک ہم جان چکے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو خوب محفوظ رکھنے والی ہے۔

(1) قد علمنا ما تنقص الارض منھم : وہ دوبارہ زندہ ہونے کو اس لئے بعید کہہ رہے تھے کہ مٹی ہونے کے بعد اس کے ذرات تو سب ایک جیسے ہوجاتے ہیں، پھر جب ان کی مٹی کی دوسری مٹی سے پہچان ہی ختم ہوگئی تو وہ دوبارہ کیسے زندہ ہوسکتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہے کو رد کرتے ہیں فرمایا :(قد علمنا)”یقینا ہم جان چکے، یعنی ہمیں پہلے ہی سے معلوم ہے کہ مرنے کے بعد زمین ان کے جسم میں سے جن جن اجزا کو کم کرے گی اور انہیں مٹی میں بدلتی جائے گی وہ جہاں کہاں ہوں گے، ہمارے علم سے ایک ذرہ بھی باہر نہیں ہے۔ ”منھم“ میں لفظ ”من“ تبعیض کیلئے ہے اس میں اشارہ ہے کہ انسان کے تمام اجزا مٹی نہیں ہوتے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لیس من الانسان شی الا یبلی الا عظماً واحدا وھو عجب الذنب و منہ برکب الخلق یوم القیامۃ) (مسلم، الفتن ، باب ما بین النفختین :2955 عن ابی ہریرہ ؓ)”انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہوجاتی ہے سوائے ایک ہڈی کے جو ذم کی ہڈی ہے اور قیامت کے دن مخلوق کو اسی سے جوڑا جائے گا۔“ (2) وعندنا کتب حفظ :”حفیظ“ مبالغے کا صیغہ ہے۔ چونکہ لوگ لکھی ہوئی بات کو زیادہ معتبر سمجھتے ہیں اس لئے ان کی عام عادت کو مدنظر رکھتے ہوئے فرمایا، ان کا ذرہ ذرہ ہمارے علم میں ہونے کے علاوہ اس کتاب میں بھی درج ہے جو خوب محفوظ رکھنے والی ہے۔ پھر ہمارے لئے ان ذرات کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے ؟“ کتب حفیظ“ سے اکثر مفسرین نے لوح محفوظ مراد لی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی وہ سب کچھ لکھ دیا ہے جو آئندہ ہونے والا ہے، اس میں ان کے ہر ذرے کے متعلق بھی درج ہے کہ وہ کہاں ہوگا۔”کتب حفیظ“ سے مراد ایسیک تاب بھی ہوسکتی ہے جس میں ہر انسان کا نام، اس کے اعمال اور اس پر زندگی میں اور متو کے بعد گزرنے والے تمام احوال ساتھ ساتھ درج ہوتے جاتے ہوں، حتیٰ کہ یہ بھی کہ مرنے کے بعد اس کے جسم کا کوئی بھی ذرہ کہاں کہاں منتقل ہوا اور کہاں موجود ہے۔ اس لئے قیامت کا انکار سا بنا پر درست نہیں کہ مٹی ہوجانے کے بعد وہ ذرات کیسے جمع کئے جائیں گے۔ کفار کو دوبارہ زندگی کا یقین دلانے کے لئے ”کتب حفیظ“ کا یہ مفہوم الفاظ کے زیادہ قریب ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ انھوں نے سچ کو جھٹلادیا جب وہ ان کے پاس آیا۔ پس وہ ایک الجھے ہوئے معاملے میں ہیں۔

(1) بل کذبوا بالحق لما جآئھم : یعنی صرف یہی نہیں کہ ان لوگوں نے اپنی جنس میں سے رسول کی آمد کو اور دوبارہ زندہ کئے جانے کو عجیب قرار دیا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب ان کے پاس حق آیا تو اسے سنتے ہی کسی غور و فکر کے بغیر جھٹلادیا۔ (2) فھم فی امر مریج :”مرج الامر، ای اضطرب ولتبس وقسد“”امر مریج“ الجھا ہوا معاملہ۔ یعنی سوچے سمجھے بغیر جھٹلا دینے کے بعد اب رسول اللہ ﷺ اور قرآن کے بارے میں ان ک سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ وہ انہیں جھٹلانے کا کیا جواز پیش کریں، اس لئے وہ کبھی ایک بات کرتے ہیں کبھی دوسری۔ ایک بات پر انہیں قرار نہیں ہے اور وہ سخت ذہنی الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ کبھی رسول اللہ ﷺ کو شاعر کہتے ہیں، کبھی کاہن، کبھی مجنون (پاگل) اور کبھی ساحر۔ اسی طرح قرآن کو کبھی نبی ﷺ کا اپنا تصنیف کیا ہوا کلام کہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ کوئی عجمی شخص انہیں سکھا جاتا ہے اور کبھی اسے جادو کہہ دیتے ہیں۔ الفرض، ہر موقع پر کوئی نہ کوئی بات گھڑ لیتے ہیں۔
Ayah 50:6

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

تو کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کیسے اسے بنایا اور اسے سجایا اور اس میں کوئی درزیں نہیں ہیں۔

(1) افلم ینظروا الی السمآء : کفار نے جن چیزوں کو جھٹلایا ان میں سے ایک اہم چیز دوبارہ زندگی تھی، اس لئے یہاں سے اس کے کچھ مزید دلائل بیان فرمائے۔”افلم ینظروآ“ میں ”نظر“ کا معنی اگرچہ غو رو فکر بھی ہے، مگر اولین معنی دیکھنا ہے اور اس میں زیادہ زور ہے کہ ان مخلوقات کے دوبارہ زندگی پر دلالت کے لئے انہیں صرف آنکھوں کے دیکھ لینا ہی کافی ہے۔ یعنی آسمانوں کا بنانا انہیں ستاروں کے ساتھ سجانا اور زمین کو پیدا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں بنانے والا انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ دوسری جگہ یہی بات زیادہ صریح الفاظ میں بیان فرمائی ہے :(اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت والارض ولم یغی بخلقھن بقدر علی ان یحی الموتی بلی انہ علی کل شیء قدیر) (الاحقاف : 33)”اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے ؟ کیوں نہیں ! یقینا وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ (2) فوقھم : یہ ”السمآئ“ سے حال ہے، یعنی ان کے لئے آسمان کو دیکھنا کچھ مشکل نہیں، نہ اس کے لئے کسی سفر کی ضرورت ہے، نہ دور بین یا کسی آلے کی، بس اوپر سر اٹھائیں اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم مخلوق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ (3) کیف بنینھا وزینھا :”السمآئ“ سے مراد پورا عالم بالا ہے، جس میں فضا، چاند، تارے، سورج اور خیمے کی طرح چ اورں طرف سے زمین کو گھیرے میں لئے ہوئے نیلا آسمان سبھی کچھ شامل ہے۔ ”کیف“ کے ساتھ انہیں بنانے اور مزین کرنے کی کیفیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کی بلندی، ان کی عظمت، ان کی مضبوطی، خوب صورتی اور ان کا کسی بھی خرابی یا خامی سے پاک ہونا سب ایسی چیزیں ہیں جنہیں دیکھ کر آدمی حیران رہ جاتا ہے اور اسے یقین ہوجاتا ہے کہ انہیں بنانے والا ہر چیز پر قادر ہے، وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ پھر آسمان، سورج، چاند اور ستاروں کے اس نظام کو دیکھنے اور ان پر غور و فکر کرنے میں لوگوں کے اپنی عقل اور علم کے لحاظ سے مختلف درجے ہیں، آیت میں تمام طبقات کے لئے ہدایت کی روشنی موجود ہے۔ تفہیم القرآن میں ہے :”اس نظام کو آدمی کسی آلے کے بغیر اپنی آنکھ ہی سے دیکھ لے تو اس پر حیرت طاری ہوجاتی ہے لیکن اگر دوربین لگالے تو ایک ایسی وسیع و عریض کا ئنات اس کے سامنے آتی ہے، جو ناپید اکنا رہے۔ ہماری زمین سے لاکھوں گنا بڑے سیارے اس کے اندر گیندوں کی طرح گھوم رہے ہیں۔ ہمارے سورج سے ہز اورں درجہ زیادہ روشن تارے اس میں چمک رہے ہیں۔ ہمارا یہ پورا نظام شمسی اس کی صرف ایک کہکشاں (Galaxy) کے ایک کونے میں پڑا ہوا ہے۔ تنہا اسی ایک کہکشاں کا پتا دے رہا ہے۔ ان لاکھوں کہکشاؤں میں سے ہماری قریب ترین ہمسایہ کہکشاں اتنے فاصلے پر واقع ہے کہ اس کی روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار یمل فی سیکنڈ کی رفتار سے چل کر دس لاکھ سال میں زمین تک پہنچتی ہے۔ یہ تو کائنات کے صرف اس حصے کی وسعت کا حال ہے جو اب تک انسان کے علم اور مشاہدے میں آئی ہے، خدا کی خدائی کس قدر وسیع ہے اس کا کوئی اندازہ ہم نہیں کرسکتے۔ ہوسکتا ہے کہا نسان کی معلوم کائنات اس کے مقابلے میں وہ نسبت بھی نہ رکھتی ہو جو قطرے کو سمندر سے ہے۔ اس عظیم کارگاہ ہست و بود کو جو خدا وجود میں لایا ہے اس کے بارے میں زمین پر رینگنے والا یہ چھوٹا سا حیوان ناطق، جس کا نام انسان عے، اگر یہ حکم لگائے کہ وہ اسے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا تو یہ اس کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے، کائنات کے خلاق کی قدرت اس سے کیسے تنگ ہوجائے گی ؟“ (4) وما لھا من فروج :”فروج“ ”فرج“ کی جمع ہے، شگاف ، دراڑ، درز۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ملک (3، 4) کی تفسیر۔ تفہیم القرآن میں ہے :”یعنی اپنی اس حیرت اگنیز وسعت کیب اوجود یہ عظیم الشان نظام کائنات ایسا مسلسل اور مستحکم ہے اور اس کی بندش اتنی چست ہے کہ اس میں کسی جگہ کوئی دراڑ یا شگاف نہیں اور سا کا تسلسل کہیں اج کر ٹوٹ نہیں جاتا۔ اس چیز کو ایک مثال سے اچھی طرح سجھا جاسکتا ہے۔ جدید زمانے کی ریڈیائی ہئیت دانوں نے ایک کہکشانی نظام کا مشاہدہ کیا ہے جسے وہ ”منبع 3 ج 295(Source 3 c , 285) کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے متعلق ان کا اندازہ یہ ہے کہ اس کی جو شعاعیں اب ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ چار ارب سال سے بھی زیادہ مدت پہلے اس میں سے روانہ ہوئی ہوں گی۔ اس بعید ترین فاصلے سے ان شعاعوں کا زمین تک پہنچنا آخر کیسے ممکن ہوتا اگر زمین اور اس کہکشاں کے درمیان کائنات کا تسلسل کسی جگہ سے ٹوٹا ہوا ہوتا اور اس کی بندش میں کہیں شگاف پڑا ہوا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر کے درصا یہ سوال آدمی کے سامنے پیش کرتا ہے کہ میری کائنات کے اس نظام میں جب تم ایک ذرا سے رخنے کی نشاندہی بھی نہیں کرس کتے تو میری قدرت میں اس کمزوری کا تصور تمہارے دماغ میں کہاں سے آگیا کہ تمہاری مہلت امتحان ختم ہوجانے کے بعد تم سے حساب لینے کیلئے میں تمہیں پھر زندہ کر کے اپنے سامنے حاضر کرنا چاہوں تو نہ کرسکوں گا۔ یہ صرف امکان آخرت ہی کا ثبوت نہیں ہے بلکہ توحید کا ثبوت بھی ہے۔“
Ayah 50:7

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین، ہم نے اسے پھیلایا اور اس میں گڑے ہوئے پہاڑ رکھے اور اس میں خوبی والی ہر قسم اگائی۔

والارض مددنھا…:”بھیج“”بھجۃ“ سے صفت کا صیغہ ہے، جوابی والی۔ اس آیت کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حجر (19) ، نجل (15) طہ، (53) ، نمل (6061) ، لقمان (10) ، زخرف (10 تا 14) اور سورة مرسلات (25 تا 27)۔
Ayah 50:8

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

ہر اس بندے کو دکھانے اور یاد دلانے کے لیے جو رجوع کرنے والا ہے۔

(تبصرۃ و ذکری …:”تبصرۃ“ اور ”ذکری“ یہ دونوں مفعول لہ ہیں، یعنی ہم نے یہ سب کچھ بنایا اور اس کا یہاں ذکر کیا ہے ہر اس آدمی کو دکھانے اور یاد دلانے کے لئے جو دھیان ہی نہ کرے اس کے لئے یہ سب کچھ بےفائدہ ہے۔ انہاں نوں بازار پھرایا، سارا شہر وکھایا آخر اتے آکھن لگا کجھ نہیں نظری آیا ”یعنی اندھے کو بازار دکھایا اور سارے شہر کی سیر کروائی، مگر اس نے آخر میں یہی کہا کہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دیا۔“
Ayah 50:9

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے ایک بہت بابرکت پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ باغات اور کاٹی جانے والی (کھیتی) کے دانے اگائے۔

(1) ونزلنا من السمآء مآء مبرکاً :”مآء مبرکاً“ وہ اپنی جس میں بہت برکت یعنی خیر کثیر رکھی گئی ہے۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لئے نہیں بلکہ مبالغے کے لئے ہے۔ جس پانی کو اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے اس کی خیر کی کثرت کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے۔ موت کے بعد زندگی کے اثبات کے لئے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزوں کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد اب بارش کا اور اس کی برکت سے زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں کا ذکر فرمایا۔ مقصود اس سے بھی موت کے بعد زندگی کا اثبات ہے، چناچہ آخر میں فرمایا :(کذلک الخروج) (ق : 11)”اسی طرح (دوبارہ زندہ ہو کر) نکلنا ہے۔”آسمان سے پانی اتارنے کے لئے باب تفعیل ”نزلنا“ استعمال فرمایا جس میں تدریج ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ بارش کے قطروں کے بجائے کروڑوں اربوں ٹن پانی دفعتاً گرا دے تو زمین پر کوئی چیز باقی ہی نہ رہے۔ (2) فانبتتابہ جنت وحب الحصید :”خصد یحصد حصداً و حصادا“ (ن) کھیتی کاٹنا۔ (الحصید“ بمعنی (المحصود“ کاٹی ہوئی کھیتی۔ بارش سے پیدا ہونے والی چیزیں دو قسم کی ہیں، کچھ وہ جن کے درخت باقی رہتے ہیں اور ان کے پھل پھول، گوند، پتوں، ٹہنیوں اور لکڑی وغیرہ سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور کچھ وہ جنہیں کاٹ کر ان سے غلہ، دالیں، سبزیاں، ادویات اور بیشمار مفید چیزیں حاصل کی جاتی ہیں۔ یہاں خصوصاً پھل دار درختوں اور غلہ جات کا ذکر فرمایا، کیونکہ یہ دوسری اشیاء پر برتری رکھتے ہیں اور انسان اور اس کے پالتو جانوروں کی خوراک بنتے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا :(متاعا لکم ولا تعامکم) (النازعات : 33)”تمہاری اور تمہارے چوپاؤں کی زندگی کے سامان کے لئے۔“
Ayah 50:10

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور کھجوروں کے درخت لمبے لمبے، جن کے تہ بہ تہ خوشے ہیں۔

(1) والنحل بسقت :”النخل“ اسم جنس ہے جو کھجور کے درختوں پر بولا جاتا ہے، زیادہ ہوں یا ایک۔ اگر کھجور کا ایک درخت ہو تو اسے ”نحلۃ“ کہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(فا جآء ھا المخاص الی جدع النجلۃ) (مریم 23) ”پھر درد زہ اسے کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔”یسق یسق بسوقا“ (ن)”النحل“ کھجور کے درختوں کا لمبا اور بلند ہونا۔ چناچہ زمین پر پڑے ہوئے کھجور کے لمبے تنے کو ”باسق“ نہیں کہتے۔ (2) لھا طلع نصید :”طلع“ کھجور کے پھل کا خوشہ جو شروع میں طلوع ہوتا ہے اور اس پر پردہ ہوتا ہے۔”نصید“ معنی ”منصود“ تہ بہ تہ۔ یعنی پردے کے اندر انار کے دانوں کی طرف کھجور کے دانوں کی ابتدا تہ بہ تہ قط اورں کی شکل میں ہوتی ہے، جب غلاف سے باہر نکل آئیں تو ”نصید“ نہیں رہتے، بلکہ الگ الگ ہوجاتے ہیں۔
Ayah 50:11

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

بندوں کو روزی دینے کے لیے اور ہم نے اس کے ساتھ ایک مردہ شہر کو زندہ کردیا، اسی طرح نکلنا ہے۔

(واحیینا بہ بلدۃ میتاً کذلک الخروج : یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھنے میں تعجب کی کون سی بات ہے ؟ کیا تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوتی ہے، جیسے اس میں زندگی کے کوئی آثار ہی نہیں، پھر ی کیا ک بارش ہوتی ہے تو اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور درخت اگتے ہیں، گویا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اسی طرح تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے۔
Ayahs 50:12–14

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور کنویں والوں نے اور ثمود نے۔

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون نے اور لوط کے بھائیوں نے۔

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور درختوں کے جھنڈ والوں نے اور تبع کی قوم نے، ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا۔

(1) کذبت قبلھم قوم نوح …: یعنی یہ آپ کو جھٹلانے والے پہلے لوگ نہیں جنہوں نے ہمارے کسی رسول کو جھٹلایا ہو، بلکہ اس سے پہلے کئی اقوام نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہمارے عذاب کا نشانہ بنے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی اور آپ ﷺ کو جھٹلانے والوں کے لئے تنبیہ ہے۔ آیت میں مذکور اکثر اقوام کا ذکر متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔ اصحاب الرس کا ذکر سورة فرقان (38) میں، اصحاب الایکہ کا ذکر سورة حجر (78) اور سورة شعراء (176) میں اور قوم تتبع کا ذکر سورة دخان (37) میں دیکھیے۔ (2) کل کذب الرسل : ان سب قوموں نے تمام رسولوں کو جھٹلا دیا، کیونکہ یہ سب نہ اپنی طرح کے کسی انسان کو رسول ماننے کے لئے تیار تھے اور نہ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کو۔ اس لئے ان میں سے ہر ایک کو تمام رسولوں کو جھٹلانے والا قرار دیا۔ (2) فحق و عید : ”اصل میں ”وعیدی“ ہے۔ آیات کے فواصل کی مطابقت کے لئے یاء کو حذف کردیا، دال پر کسرہ یاء کے حذف ہونے کی دلیل ہے، ورنہ ”حق“ کا فاعل ہونے کی وجہ سے ”وعید“ کے دال پر ضمہ ہونا چائے۔ تھا۔
Ayah 50:15

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

تو کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کے ساتھ تھک کر رہ گئے ہیں ؟ بلکہ وہ ایک نئے پیدا کیے جانے کے متعلق شک میں مبتلا ہیں۔

(1) افعیینا بالخلق الاول : یہ خلاصہ اور نتیجہ ہے اس دلیل کا جس کی تفصیل سورت کے شروع سے آرہی ہے کہ جب ہم نے اس وقت جب کچھ بھی نہیں تھا آسمان و زمین، بارش اور اوپر مذکور تمام چیزیں پیدا کرلیں اور ہمیں ان کے پیدا کرنے سے کوئی تھکاوٹ لاحق نہیں ہوئی تو کیا یہ بےچارہ انسان ضعیف البنیان ہی ایسی مخلوق ہے جسے پہلی دفعہ پیدا کر کے ہم تھک گئے ہیں اور اسے دوبارہ زندہ نہیں کرسکتے، حالانکہ ہمارا تخلیق کا عمل مسلسل جاری ہے اور وہ دوبارہ زندگی تو پہلی دفعہ کے مقابلے میں نفاق بات ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے مختلف انداز سے کئی جگہ بیان فرمائی ہے، دیکھیے سورة روم (27) یٰسین (78، 79) ، نازعات (27) اور سورة ق (38)۔ (2) بل ھم فی لبیس من خلق جدید : یعنی یہ اس چیز کے منکر نہیں ہیں کہ ان کو پہلی بار ہم نے ہی پیدا کیا اور یہ کہ پہلی بار پیدا کر کے ہم تھک کر نہیں رہ گئے، لیکن اس کے باوجود انہیں شک ہے کہ ہم دوبارہ بھی پیدا کرسکیں گے یا نہیں، حالانکہ معمولی غور و فکر سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ اگر ہمیں دشواری پیش آتی تو پہلی دفعہ آتی، دوسری بار پیدا کرنے کا کام تو پہلی بار کی بہ نسبت کہیں آسان ہے۔
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور بلا شبہ یقینا ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان چیزوں کو جانتے ہیں جن کا وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔

(1) ولقد خلقنا الانسان ونعلم ماتوسوس بہ نفسہ : وسوسہ کا اصل معنی وہ ہلکی یا دبی ہوئی حرکت یا آواز ہے جو عام طور پر محسوس نہ ہوتی ہو۔ اس سے مراد وہ بات بھی ہوتی ہے جو بالکل آہستہ آواز سے کسی کے کان میں کہی جائے اور صرف اسی کو سنائے دے اور وہ بات بھی جو بغیر آواز کے کسی کے دل میں ڈال دی جائے، جیسے شیطان یا نفس انسان کے دل میں وسوسہ ڈلاتا ہے۔ قیامت کے منکروں کے اس شبہ کا جواب کہ جب ہم مر کر مٹی ہوگئے تو دوبارہ کیسے زندہ کئے جائیں گے، اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ ہم انسان کے مٹی ہوجانے والے ہر ذرے کو جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہے، وہ نہ ہمارے علم سے باہر ہے اور نہ ہماری دسترس اور قدرت سے، ہم جب چاہیں گے اسے دوبارہ زندہ کردیں گے، اب فرمایا خاک کے ذرات کا وجود تو پھر بھی باقی رہتا ہے اور نظر آتا ہے، ہم تو انسان کی وہ چیزیں بھی جانتے ہیں جو اس سے بھی زیادہ مخفی ہیں اور بظاہر ان کا وجود بھی باقی نہیں رہتا، کیونکہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے تو ہم سے بڑھ کر اسے کون جان سکتا ہے ؟ فرمایا :(الایعلم من خلق ، وھو اللطیف الخبیر) (الملک : 13)”کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور روہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔“ چناچہ ہم اس کے اقوال و افعال ہی کو نہیں اس کی ان باتوں کو بھی جانتے ہیں جن کا خیال اور وسوسہ اس کا نفس اس کے دل میں ڈالتا ہے۔ سو ہم صرف اسے زندہ ہی نہیں کریں گے، بلکہ زندہ کرنے کے بعد اس کے تمام اعمال کا محاسبہ بھی کریں گے اور محاسبے کے لئے اگرچہ ہمارا علم ہی کافی ہے، مگر ہم نے حجت پوری کرنے کے لئے اس کے ہر قول و فعل کو فرشتوں کے ذریعے سے لکھ کر محفوظ کرنے کا بھی بندوبست کیا ہے۔ (2) ونحن اقرب الیہ من حبل الورید :”الورید“ دل سے نکلنے والی رگ جس کے کٹنے سے انسان مرجاتا ہے۔ دل دیتے۔“ اور گردن میں اس کا نام ”وتین“ ہے، جیسا کہ فرمایا :(ثم لقطعنا منہ الوتین) (الحآقہ : 36)”پھر ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔“ اور گردن میں اس کا نام ”ورید“ ہے، جو ”ورد یرد“ سے ”فعیل“ کے وزن پر ہے، کیونکہ خون دل دل سے اس میں واردہوتا ہے۔ ”حبل“ کا معنی بھی رگ ہے۔”حبل“ کی اضافت ”الورید“ کی طرف بیانیہ ہے، یعنی وہ رگ جو ورید ہے، جیسا کہ مسجد الجامع کی اضافت ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”گردن کی رگ مراد ہے جس میں جان پھرتی ہے دل سے دماغ تک۔ اس کے کٹنے سے موت ہے۔“ (3) ”ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے پر یب ہیں“ کیونکہ انسان کے جسم کے حصے تو ایک دوسرے کو چھپائے ہوئے ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے کوئی چھپ نہیں سکتی۔ مفسر ابن کثیر نے یہاں ”نحن“ سے مراد فرشتے لئے ہیں، جیسا کہ سورة واقعہ کی آیت (85):(ونحن اقرب الیہ منکم ولکن لاتبصرون) (اور ہم تم سے زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں اور لیکن تم نہیں دیکھتے) میں بعض ائمہ نے فرشتوں کا قریب ہونا مراد لیا ہے۔ اگرچہ اس معنی کی بھی گنجائش ہے، مگر الفاظ کے ظاہر کا تقاضا یہی ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ اپنے متعلق فرما رہے ہیں اور اس بات کا یقین اور احساس کہ میرا رب میری رگ جاں سے بھی زیادہ مجھ سے قریب ہے ، انسان کو گناہوں کے ارتکاب سے زیادہ باز رکھنے والا اور اس سے محبت پیدا کرنے کا زیادہ باعث ہے۔ فتح البیان میں ہے، انسان کو گناہوں کے ارتکاب سے زیادہ بازر رکھنے والا اور اس سے محبت پیدا کرنے کا زیادہ باعث ہے۔ فتح البیان میں ہے، قشیری نے فرمایا :’ فی ھذہ الآیۃ ھیۃ و قزع و خوف لقوم و روح و انس و سکون قلب لقوم“”اس آیت میں کچھ لوگوں کے لئے ہیبت، گھبراہٹ اور خوف کا اور کچھ لوگوں کے لئے راحت، انس اور سکون قلب کا سامان موجود ہے۔“ (4) قرآن مجید نے صریح الفاظ میں اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا بیان فرمایا ہے :(الرحمٰن علی العرش استوی) (طہ : 5)”وہ بےحد رحم والا عرش پر بلند ہوا۔“ پھر اس کا انسان کے قریب ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ یہ بحث ان شاء اللہ سورة حدید کی آیت (14) (وھو معکم این ماکنتم) میں آئے گی۔
Ayah 50:17

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب (اس کے ہر قول و فعل کو) دو لینے والے لیتے ہیں، جو دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہیں۔

(1) اذ یتلقی الم تلقین عن الیمین :”تلقی یتلقی“ (تفعل) لینا، استقبال کرنا۔”یتلقی“ اور ”الم تلقین“ کا مفعول محذوف ہے :”ای جمیع اقوالہ وافعالہ“”اذا“ پچھلی آیت میں ”اقرب“ کا ظرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان کے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے دو فرشتے اس کے ہر قول و فعل کو لے کر لکھ رہے ہوتے ہیں تو اس وقت ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں اور اس کے دل میں آنے والے وسوسے اور سینے کے راز بھی خوب جانتے ہوتے ہیں۔ (2)”قعید“ بمعنی ”مقاعد“ ہے، جیسے ”جلیس“ بمعنی ”مجالس“ ہے۔ یعنی وہ انسان کے ساتھ لازم رہتے ہیں۔ (قعید“ (ساتھ بیٹھے ہوئے) کا لفظ ان کے بیدار اور ہشیار رہنے کی کیفیت کے بیان کے لئے ہے کہ وہ انسان سے سر زد ہونے والے کسی بھی قول یا فعل کو لکھنے کے لئے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں، کسی لمحے۔ بھی ان کے الگ ہونے یا غفلت یا نیند کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ (3) یہاں ایک سوال ہے کہ فرشتے تو دو ہیں مگر ان کی کیفیت بیان کرنے کے لئے لفظ ”قعید“ لایا گیا ہے جو واحد ہے، اسے تثنیہ بنا کر ”قعیدان“ کیوں نہیں کہا گیا ؟ مفسرین نے اس کے دو جواب دیئے ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد ”کل واحد منھما“ ہے، یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک تیار بیٹھا ہے۔ دوسرا یہ کہ ”قعید“ ”فعیل“ کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے اور ”فعیل“ اور ”فعول“ واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مونث سب کے لئے اسی طرح استعمال کرلیا جاتا ہے۔ دونوں جواب درست ہیں۔
Ayah 50:18

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

وہ کوئی بھی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک تیار نگران ہوتا ہے۔

(مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عبید :”رقیب“ نگرانی کرنے والا اور ”عبید“ تیار۔ اس آیت کے مفہوم کے قریب یہ آیات ہیں :(وان علیکم لحفظین، کراماً کاتبین، یعلمون ماتفعلون) (الانفطار : 10 تا 12)”حالانکہ بلاشبہ تم پر یقینا نگہبان (مقرر) ہیں۔ جو بہت عزت والے ہیں، لکھنے والے ہیں۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔“ اگرچہ انسان کا ہر قول و فعل اور ارادہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے، مگر فرشتوں کے ذریعے سے کتاب اعمال کی تیاری قیامت کے دن اس پر حجت قائم کرنے کیلئے ہے، فرمایا :(ونخرج لہ یوم القیمۃ کتباً یلفسہ منشوراً ، اقرا کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیباً) (بنی اسرائیل : 13، 13)”اور قیامت کے دن ہم اس کے لئے ایک کتاب ناکلیں گے، جسے وہ کھولی ہوئی پائے گا۔ اپنی کتاب پڑھ، آج تو خود اپنے آپ پر بطور محاسب بہت کافی ہے۔“ آج کل آڈیو اور وڈیو کے ذریعے سے انسان کے تقریباً ہر قول و فعل کا مکمل نقشہ محفوظ کرلیا جاتا ہے۔ انسانی ایجادات کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو عطا کردہ صلاحیتوں کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ہوسکتی۔ اس کتاب کو دیکھ کر بندوں کا جو حال ہوگا وہ اللہ تعالیٰ نے سورة کہف میں بیان فرمایا ہے :(ووضع الکتب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ ویقولون یویلتنا مال ھذا الکتب لایغادر صغیرۃ و لا کبیرۃ الا احصھا، ووجدوا ما عملوا حاضراً ولا یظلم ربک احداً) (الکھف : 19) ”اور کتاب رکھی جائے گی، پس تو مجرموں کو دیکھے گا کہ اس سے ڈرنے والے ہوں گے جو اس میں ہوگا اور کہیں گے ہائے ہماری بربادی ! اس کتاب کو کیا ہے، نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑتی ہے اور نہ بڑی مگر اس نے اسے ضبط کر رکھا ہے اور انہوں نے جو کچھ کیا اسے موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔“
Ayah 50:19

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی بےہوشی حق کے ساتھ آئے گی۔ یہ ہے وہ جس سے تو بھاگتا تھا۔

(1) وجآء ت سکرۃ الموت : یہ ذکر کرنے کے بعد کہ انسان جو کچھ کرتا ہے سب اللہ کو معلوم ہے اور انسان کی کتاب اعمال میں بھی لکھا ہوا اور محفوظ ہے اور اس کے سامنے پیش آنے والا ہے، اب اس حقیقت کے انسان کے سامنے آنے کے دو وقت بیان فرمائے، پہلا موت کا وقت اور دوسرا قیامت کا وقت۔ اس آیت میں موت کا ذکر ہے، موت کی بےہوشی سے مراد اس کی سختی اور شدت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں موت اور قیامت کے لئے ماضی کے صیغے استعمال فرمائے ہیں یعنی ”وجآء ت سکرۃ الموت“ (اور موت کی بےہوشی آگئی) اور ”نفخ فی الصور“ (اور صور میں پھونکا گیا) حالانکہ یہ کام آئندہ ہونے والے ہیں، تو مقصد وہ نقشہ سامنے لانا اور یہ باور کروانا ہے کہ ان کا آنا اتنا یقینی ہے کہ سمجھو وہ آچکے۔ (2) عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے آخری وقت کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ کے سامنے پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ اس میں ڈالتے اور انہیں چہرے پر پھیرتے جاتے تھے اور ساتھ یہ فرماتے تھے :(لا الہ الا اللہ، ان للموت سکراب) (بخاری، المغازی، باب مضر النبی ﷺ و وفاتہ : 3339)”لا الہ الا اللہ، یقینا موت کی بہت سختیاں ہیں۔“ (3) بالحق : موت کی بےہوشی کے حق کو لے آنے کا مطلب یہ ہے کہ جان نکلنے کی سختی کے ساتھ ہی وہ حقیقت سامنے آجائے گی جس پر دنیا میں پردہ پڑا ہوا ہے اور آدمی آنکھوں سے دیکھ لے گا کہ رسولوں نے جو بات بتائی تھی وہ حق اور سچ تھی۔ (4) ذلک ما کنت منہ تحید :”حاد یحید حیدۃ“ (باغ بیع) کسی چیز سے کنی کترانا، بچ کر نکلنا، دور بھاگنا۔ ہر انسان ہی طبعی طور پر موت سے بھاگتا ہے، مگر اس سے چارہ نہیں اور نہ ہی انسان کے سدا زندہ رہنے کی خواہش پوری ہوسکتی ہے۔ دیکھیے سورة جمعہ (8) اور سورة احزاب (16) کی تفسیر۔ یعنی یہ وہ حقیقت ہے جس کا سامنا کرنے سے تو پہلو تہی کرتا اور کنی کتراتا تھا اور چاہتا تھا کہ اس سے بچ کر پانی من مانی کرتا رہے۔
Ayah 50:20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور صور میں پھونکا جائے گا، یہی عذاب کے وعدے کا دن ہے۔

ونفخ فی الصور…: موت کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب انسان کے سامنے یہ حقیقت کھل کر آجائے گی کہ وہ جو کچھ کرتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اور کراماً کاتبین کے ذریعے سے محفوظ ہو رہا تھا۔ یہاں صور میں پھونکے جانے سے مراد دوسری دفعہ پھونکا جانا ہے، جب ہر آدمی قبر سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوجائے گا۔“ وعید“ دھمکی اور سزا کے وعدے کو کہتے ہیں، یعنی تمہیں نافرمانی پر جو وعید سنائی گئی تھی یہ اس کے پورے ہونے کا دن ہے۔“ نفح صور“ کے لئے دیکھیے سورة ابراہیم (47 تا 51) طہ (102) ، حج (1) ، یٰسین (51) اور سورة زمر (68)۔
Ayah 50:21

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص آئے گا، اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہی دینے والا ہے۔

(وجآء ت کل نفس معھا سآئق و شھید :”سآئق“ ”ساق یسوق سوفاً“ سے اسم فاعل ہے، ہانکنے والا جو جانوروں کو یا کسی گروہ کو ہانک کر کسی جگہ پہنچاتا ہے۔ ”شھید“ شہادت دینے اولا۔ یعنی قبر سے نکلتے ہی ہر کافر کے ساتھ ایک فرشتہ ہانکنے والا ہوگا جو اسے ہانک کر محشر کی طرف لے جائے گا اور ایک اس کے اعمال بد کی شہادت دینے ولا ہوگا۔ یہ فرشتہ کراماً کاتبین میں سے بیھ ہوسکتا ہے جو اس کا نامہ اعمال لے کر شہادت کے لئے حاضر ہوگا۔ گویا مجرم بھی حاضر ہوگا اور اس کے خلاف مکمل شہادتیں بھی حاضر ہوں گی۔”کل نفس“ سے مراد یہاں ہر کافر و مشرک ہے، کیونکہ اس اہانت اور تذلیل کے ساتھ کفار ہی کو لے جایا جائے گا۔ بعد کی آیات سے بھی یہ بات واضح ہو رہی ہے۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

بلا شبہ یقینا تو اس سے بڑی غفلت میں تھا، سو ہم نے تجھ سے تیرا پردہ دور کردیا، تو تیری نگاہ آج بہت تیز ہے۔

(1) لقد کنت فی عقلہ من ھذا :”غفلۃ“ میں تنوین تعظیم کے لئے ہے، اس لئے ترجمہ ”بڑی غفلت“ کیا گیا ہے۔ یہاں یہ الفاظ محذوف ہیں کہ ”ہر کافر و مشرک سے کہا جائے گا کہ …۔“ یہ آیت بھی دلیل ہے کہ ”کل نفس“ سے مراد کفار ہیں، کیونکہ وہی آخرت سے غافل ہیں، مومن تو آخرت کا یقین رکھتے ہیں اور اس کی فکر میں رہتے ہیں۔ کفار کو یہ بات ذلیل کرنے کے لئے طنز کے طور پر کہی جائے گی۔ (2) فکشفنا عنک عطآء ک…: یعنی تیری آنکھوں پر پڑا ہوا غفلت کا پردہ، جس کی وجہ سے تو آخرت کا انکار کرتا تھا، وہ پردہ اب ہم نے دور کردیا ہے، اس لئے تیری نظر تیز ہوچکی ہے اور تو اپنی آنکھوں کے ساتھ ان تمام حقیقتوں کو دیکھ سکتا ہے جن کا انکار کرتا تھا۔
Ayah 50:23

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اس کا ساتھی (فرشتہ) کہے گا یہ ہے وہ جو میرے پاس تیار ہے۔

(وقال قرینہ ھذا مالدی عبید :”قرین“ ساتھی۔ یعنی وہ فرشتہ جو اسے ہانک کر محشر میں لانے پر مقرر تھا کہے گا، اے رب ! وہ مجرم جسے لانے پر تو نے مجھے مقرر فرمایا تھا یہ میرے پاس حاضری کے لئے تیار ہے اور وہ فرشتہ جو شہادت کے لئے ساتھ تھا کہے گا، اس کے متعلق جس جس شہادت کی ضرورت ہے وہ یہ ہے جو میرے پاس تیار ہے۔
Ayahs 50:24–26

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

جہنم میں پھینک دو تم دونوں (فرشتے) ہر زبردست ناشکرے کو، جو بہت عناد رکھنے والا ہے۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

جو خیر کو بہت روکنے والا، حد سے گزرنے والا، شک کرنے والا ہے۔

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بنا لیا، سو دونوں اسے بہت سخت عذاب میں ڈال دو۔

القیافی جھنم کل کفار عبید…: اللہ تعالیٰ ان دونوں فرشتوں سے فرمائے گا کہ ہر ایسے شخص کو جہنم میں پھینک دو جو سخت نا شکرا ، بہت عناد رکھنے والا، خیر کو بہت روکنے والا، حد سے گزرنے والا اور شک کرنے والا ہے جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود بنا رکھا تھا، سو اسے شدید عذاب میں پھینک دو۔ اس میں اسے جہنم میں پھینکنے کے فیصلے کے ساتھ اس فیصلے کی وجہ اور اس کے دلائل بھی بیان فرما دیئے ہیں اور یہ بھی کہ صرف ایک کو نہیں بلکہ ان جرائم کے مرتکب تمام مجرموں کو جہنم میں پھینک دو۔
Ayah 50:27

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب ! میں نے اسے سر کش نہیں بنایا اور لیکن وہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا۔

(قال قرینہ ربنا ما اطغیتہ…: کافر جب یہ حکم سنے گا تو کہے گا، اے میرے رب ! میرا کئے گناہ نہیں۔ مجھے تو میرے قرین (ساتھی) کہے گا، اے مہارے رب ! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا، بلکہ یہ خود ہی بہت دور کی گمراہی میں مبتلا تھا، میں نے اس پر کوئی زبردستی نہیں کی۔ اگر یہ خود انتہائی گمراہ نہ ہونا تو میرے کہنے سے کبھی سرکشی اختیار نہ کرتا۔ ”قرین“ سے مراد وہ شیطان بھی ہے جو انسان کے ساتھ رہ کر اسے گمراہ کرتا رہتا ہے اور انسانوں میں سے برے ساتھی جو اسے برائی کا درس دیتے اور اس پر ابھارتے رہتے ہیں۔ قیامت کے دن جب مجرم یہ بہا نہ بنائے گا کہ ان لوگوں نے مجھے گمراہ کیا تو وہ اس سے صاف برأت کا اظہار کردیں گے۔ ان گمراہ کرنے والے شیاطین الانس والجن کے اپنے گمراہ کردہ لوگوں سے بری ہونے کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بقرہ (167) اعراف (38، 39) ، ابراہیم (21) ، سبا (31 تا 33) اور سورة ص (55 تا 61)
Ayah 50:28

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

فرمایا میرے پاس جھگڑا مت کرو، حالانکہ میں نے تو تمہاری طرف ڈرانے کا پیغام پہلے بھیج دیا تھا۔

(قال لاتختصموا لدی و قد قدمت الیکم بالوعید : اللہ تعالیٰ ان کا جھگڑا سن کر فرمائے گا، اب یہاں میرے پاس مت جھگڑو، اس جھگڑے سے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ میں نے تو تمہیں پہلے ہی رسول بھیج کر نافرمانی کی سزا سے آگاہ کردیا تھا مگر تم نے پروا نہیں کی، اب اپنے کفر و عناد کی سزا بھگتو۔
Ayah 50:29

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ہرگز کوئی ظلم ڈھانے والا نہیں۔

(1) مایبدل القول لدی : یعنی میں نے جو تمہیں جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ کردیا ہے وہ اب بدل نہیں سکتا۔ مزید دیکھیے سورة ص (84، 85) کی تفسیر۔ اس کی ایک تفسیر یہ بیھ ہے کہ میرے پاس کوئی بات کو بدل نہیں سکتا اور نہ یہاں کسی کا جھوٹ چل سکتا ہے، کیونکہ میں تمام باتیں جانتا ہوں۔ اس کے مطابق اشارہ قرین کے یہ کہنے کی طرف ہوگا :(ما اطغیتہ)”میں نے اسے سرکش نہیں بنایا۔“ (السبیل) یعین یہاں نہ مجرم کا جھوٹ چل سکتا ہے نہ اس کے قرین کا دونوں ”کفار عنید“ ہیں اور ”کفار عنید“ جو بھی ہے اسے جہنم میں ڈالا جائے گا۔ (2) وما انا بظلام اللعبید : یعنی اگر میں نے پہلے نہ بتایا ہوتا ہے اور تمہیں جہنم میں ڈلتا تو یہ شدید ظلم ہوتا جو میں اپنے بندوں پر کسی صورت کرنے والا نہیں۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (182) اور سورة حج (10)۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ مزید ہے ؟

(یوم نقول لجھنم ھل امتلات …: یعنی یہ سب کچھ اس دن واقع ہوگا جب ہم جہنم سے کہیں گے کیا تم بھر گئی۔ اس کی سب سے صحیح تفسیر وہ ہے جو انس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے نقل کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا :(یلقی فی النار و تقول ھل من مزید حتی یضع قدمہ فتقول قط قط) (بخاری، التفسیر، سورة ق، باب قولہ :(وتقول ھل من مزید): 3838)”جہنم میں لوگ ڈالے جائیں گے اور وہ یہی کہتی رہے گی، کیا کچھ اور بھی ہے ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی، بس بس۔“ بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق جہنم یہ بات زبان حال سے کہے گی، مگر اس تاویل کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں حقیقت ممکن نہ ہو اور یہاں تو ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے زبان دے رکھی ہے جس کی بولی اگر ہم نہیں سمجھتے تو پیدا کرنے والا خوب سمجھتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم) (بنی اسرائیل : 33)”اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔“ اور فرمایا :(وقالوا لجلودھم لم شھدثم علینا قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شیئ) (حم السجدجۃ : 21)”اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی ؟ وہ کہیں گے ہمیں اس اللہ نے بلوا دیا جس نے ہر چیز کو بلوایا۔“
Ayah 50:31

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور جنت پر ہیز گاروں کے لیے قریب کردی جائے گی، جو کچھ دور نہ ہوگی۔

(واز لقت الجنۃ للمتقین غیر بعید : قرآن کے عام اسلوب کے مطابق جہنمیوں کے ساتھ اہل جنت کا ذکر بھی فرمایا۔ یعنی متفی لوگوں کی تکریم کے لئے جنت ان کے قریب لائی جائے گی، تاکہ انہیں چلنے کی تکلیف نہ اٹھانا پڑے۔ ”غیر بعید ‘ ‘ کا لفظ تاکید کے لئے ہے ، جیسے فرمایا :(واصل فرعون قومہ وما ھدی) (طہ : 89)”اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور سیدھے راستے پر نہ ڈالا۔“ اور رسول اللہ ں نے بارش کی دعا میں فرمایا :(نافعاً غیر ضار عاجلاً غیر اجل) (ابو داؤد، صلاۃ الاستسقاء باب رفع الیدین فی الستسقاء : 1169)”(اے اللہ ! وہ بارش ، نفع آور ہو، کسی ضرر کا باعث نہ بنے اور جلدی آئے ، دیر نہ کرے۔“
Ayah 50:32

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اس شخص کے لیے جو بہت رجوع والا، خوب حفاظت کرنے والا ہو۔

(ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ :”اواب“ ”اب یووب اوباً“ (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے بہت رجوع کرنے والا ، جو ہر معاملے میں اللہ کی طرف بہت رجوع کرے اور کوئی قدم اپنی خواہش کی بنا پر نہ اٹھائے، اسی طرح ہر لغزش کے بعد اللہ کی طرف رجوع کر کے توبہ و استغفار کرے۔ ”حفیظ“ جو اللہ کے احکامات کی خوب حفاظت اور پابندی کرنے والا ہو۔ یعنی جنتیوں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جنت جس کا تم سے ہر ایسے شخص کے لئے وعدہ کیا جاتا تھا جو اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والا، اس کے احکام کی خوب پابندی کرنے والا ہو۔
Ayah 50:33

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو رحمان سے بغیر دیکھے ڈر گیا اور رجوع کرنے والا دل لے کر آیا۔

(1) من خشی الرحمٰن بالغیب : یعنی رحمان کو دیکھے بغیر اس سے ڈرتا ہے اور اس وقت بھی ڈرتا ہے جب وہ ولگوں سے غائب ہوتا ہے، کوئی اس کے پاس نہیں ہوتا۔ یہاں ایک سوال ہے کہ خشیت کے ساتھ لفظ ”رحمان“ لانے میں کیا حکمت ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ رحمان کا لفظ لانے میں اس شخص کی تعریف مقصود ہے کہ وہ اللہ کی رحمت اور اس کے معافک ر دینے کی صفت کا علم رکھنے کے باوجود اس سے ڈرتا ہے۔ (زمخشری) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(سبعۃ یظلھم اللہ تعالیٰ فی ظلہ یوم لا ظل الا ظلہ)”سات آدمی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جب اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“ ان میں سے پانچویں کے بارے میں فرمایا :(ورجل دعتہ امراۃ ذات منصب و جمال فقال انی اخاف اللہ)”اور وہ آدمی ہے جسے اونچے حسب اور جمال والی عورت نے دعوت دی تو اس نے کہا میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔“ اور آخر میں فرمایا :(ورجل ذکر اللہ خالی اً فضاضت عیناہ) (بخاری، الزکاۃ باب الصدقۃ بالیمین : 1323) ”اور ایک وہ آدمی جس نے اکیلے ہونے کی حالت میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہ پڑیں۔“ (2) وجآء بقلب منیب : یعنی اس کے دل کا رجوع اللہ ہی کی طًرف رہتا ہے۔
Ayah 50:34

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یہی ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔

ادخلوھا بسلم…: یعنی ان کی عزت افزائی کے لئے کہا جائے گا کہ سلام کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ۔ سلام کا مطل یہ ہے کہ ہر قسم کے خوف، غم اور فکر سے سلامت رہ کر اس میں داخل ہوجاؤ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں اس حال میں داخل ہوجاؤ کہ تم پر فرشتوں اور پوردگار کی طرف سے سلام ہے، جیسا کہ فرمایا :(سلم قولا من رب رحیم) (یٰسین : 58) ”سلام ہو۔ اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بےحد مہربان ہے۔“ اب تم ہمیشہ یہاں رہو گے، کبھی اس سے نکالے نہیں جاؤ گے۔
Ayah 50:35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان کے لیے جو کچھ وہ چاہیں گے اس میں ہوگا اور ہمارے پاس مزید بھی ہے۔

(1) لھم مایشآء و ن فیھا : اس کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة حم السجدہ (31) اور سورة زخرف (71)۔ (2) ولدینا مرید : یعنی جو کچھ وہ چاہیں گے وہ بھی ملے گا اور ہمارے پاس مزید بھی بہت کچھ ہے، جس مں وہ چیزیں ہیں جن کا خیال تک کسی کو نہیں آیا۔ (دیکھیے سجدہ : 17) اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی۔ دیکھیے سورة یونس (26)۔۔
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی نسلیں ہلاک کردیں، جو پکڑنے میں ان سے زیادہ سخت تھیں۔ پس انھوں نے شہروں کو چھان مارا، کیا بھاگنے کی کوئی جگہ ہے ؟

(1) وکم اھلکنا قبلھم من قرب …:”فتقبوا“ نقب کا معنی سوراخ ہے۔”نقب (ن) فی الارض“ زمین میں گھوما پھرا۔ ”نقب تنقیباً“ (تفعیل) میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہے، خوب گھوما پھرا۔ نقب (سوراخ) کی مناسب سے ”فنقبوا فی البلاد“ کا ترجمہ کیا گیا ہے :”پس انہوں نے شہروں کو چھان مارا۔“ اس سے پہلے کفار کو آخرت میں دیئے جانے والے عذاب کا ذکر فرمایا : درمیان میں ایمان والوں کے حسن انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب کفار کو دنیا میں دیئے جانے والے ہولناک عذابوں کا ذکر فرمایا۔ مقصود کفار کو ڈرانا اور رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کو تسلی دلانا ہے کہ وہ کفار کی شان و شوکت سے مرعوب نہ ہوں۔ (2) یعنی ہم نے ان کفار سے پہلے بہت سی نسلیں ہلاک کردیں جو گرفت میں ان سے بہت سخت اور ان سے زیادہ قوت والی تھیں، جیسا کہق وم نوح ، عاد، ثمود اور قوم فرعون وغیرہ۔ تو ان کے مقابلے میں ان بےچ اورں کی کیا بساط ہے ؟ مزید دیکھیے سورة روم (9)۔ (3) فنقبوا فی البلاد : یعنی وہ اہل مکہ سے تجارت اور ک اور بار میں بھی بہت آگے تھے، چناچہ انہوں نے اس مقصد کے لئے دنیا کے شہروں کو چھان مارا تھا۔ بعض اہل علم نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک ہی پر قوت و گرفت نہیں رکھتے تھے بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی جا گھسے تھے۔ (4) ھل من محیص :”محیص“”خاص یحیص حیصا“ سے ظرف ہے، بھاگنے کی جگہ۔ یعنی جب ان پر عذاب آیا تو وہ اس سے بھاگنے کی جگہ ڈھونڈتے پھرے کہ کیا بھاگنے کی کوئی جگہ ہے، مگر انہیں کہیں جائے پناہ نہ ملی۔
Ayah 50:37

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں اس شخص کے لیے یقینا نصیحت ہے جس کا کوئی دل ہو، یا کان لگائے، اس حال میں کہ وہ (دل سے) حاضر ہو۔

ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب …:”قلب“ نکرہ ہے، اس لئے ترجمہ ”کوئی دل“ کیا گیا ہے۔ نصیحت حاصل کرنے کے دو ہی ذریعے ہیں، یا تو آدمی خود غور و فکر کرے اور عقل سے کام لے یا کسی خیر خواہ کی بات توجہ سے سن کر اس پر عمل کرلے۔ یعنی اس سورت میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے نصیحت ویہ حاصل کرسکتا ہے جو کوئی دل رکھتا ہو جس کے ساتھ اس پر غور و فکر کرے۔”کوئی دل“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ دل کے ساتھ معلولی سا غور و فکر بھی کرے، یا دل کی حاضری کے ساتھ ان آیات کو سن لے۔ مگر کفار کی حال یہ ہے :(لھم قلوب لایفقھون بھا ، ولھم اعین لایبصرون بھا ولھم اذان لایسمعون بھا) (الاعراف : 189)”ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں۔“ اور قیامت کے دن وہ خود تسلیم آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں۔“ اور قیامت کے دن وہ خود تسلیم کریں گے :(لوکنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحب السعیر) (الملک : 10)”اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوئے تو ہم بھڑکتلی ہوئی آگ والوں میں سے نہ ہوتے۔“
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے نہیں چھوا۔

(1) ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام…: قیامت کی دلیل کے طور پر آسمان و زمین کی پیدا کرنے کا دوبارہ ذکر فرمایا کہ بلاشبہ یقینا ہم نے یہ سارے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کئے اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے چھوا تک نہیں، تو ہم انسان کو دوبارہ کیوں زندہ نہیں کرسکتے ؟ یہی بات پہلے فرمائی تھی :(افعیینا بالخلق الاول) (ق : 15)”تو کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کیساتھ تھک کر رہ گئے ہیں ؟“ دوبارہ اس لئے ذکر فرمائی کہ بار بار دہرانے سے بات ذہن میں بیٹھ جاتی ہے۔ (2) وما مسنا من لغوب : اس میں یہود و نصاری کا رد بھی ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور ساتویں دن آرام کیا۔ کتاب مقدس میں تورات کے سفر التکوین (2: 2) کے الفاظ ہیں : ”فاستراح فی الیوم السابع“ یعنی ”ساتویں دن میں آرام کیا۔“
Ayahs 50:39–40

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کی تسبیح کر اور سجدے کے بعد کے اوقات میں بھی۔

(1) فاصبر علی مایقولون وسبح بحمد ربک …: اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة طہ (130) کی تفسیر۔ (2) وادبار السجود : صظحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا :(امرۃ ان یسبح فی ادبار الصلوات کلھما یعنی قولہ :(وادبار السجود) (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(وسبح بحمد ربک…): 3852)”واذبار السجود“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ تمام نمازوں کے بعد تسبیح پڑھا کریں۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس (33) دفعہ سبحان اللہ، تینتیس (33) دفعہ الحمد للہ اور تینتیس (33) دفعہ اللہ اکبر کہے تو یہ ننانوے (99) ہوگئے اور سو (100) پورا کرنے کے لئے کہے :(لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر) تو اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔“ (مسلم، المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ…: 598)