Ayah 49:1(1) یا یھا الذین امنوا : رازی نے فرمایا :”اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو مکارم اخلاق کا سبق دیا ہے، ان کا تعلق یا تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملے میں ہوگا یا اس کے رسول کے ساتھ یا فاسق لوگوں کے ساتھ یا ان ایمان والوں کے ساتھ جو حاضر ہوں یا ان ایمان والوں کے ساتھ جو غائب ہوں اور پانچوں قسموں میں سے ہر ایک کی ابتداء ”یا یھا الذین امنوا“ کے ساتھ کی ہے۔“
(2) لاتقدموا بین یدی اللہ و رسولہ :”لاتقدموا“ باب تفعیل ہے، جس کا مجرد ”قدم یقدم“ (ن) آتا ہے، جس کا معنی ”’ دوسرے کے آگے چلنا“ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے متعلق فرمایا :(یقدم قومہ یوم القیمۃ) (ھود : 98)”وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا۔“ (تقدم یتقدم“ (تفعل) کا معنی بھی ”آگے بڑھنا“ ہے۔ باب تفعیل کے لحاظ سے اس کا معنی ”آگے کرنا“ ہوگا، یعنی اپنی کوئی بات یا کوئی فعل اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ کرو۔ بعض اوقات ”قدم“ ”تقدم“ کے معنی میں بھی آجاتا ہے، یعنی وہ آگے بڑھا، جیسے ”کانہ قدم نفسہ“ ”گویا اس نے اپنے آپ کو آگے بڑھا لیا۔“ اس صورت میں آیت کا معنی ہوگا :”اللہ اور اس کے رسول سے آگے مت بڑھو۔“ اور یہاں یہی معنی راجح ہے۔ اسی سے ”مقدمۃ الجیش“ (لشکر کا سب سے اگلا حصہ) ہے۔ باب تفعیل باب تفعل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے ”وجہ ای توجہ“ اور ”بین ای تبین“ آیت میں اس شخص کو جو اللہ اور اس کے رسول کی اجازت یا حکم کے بغیر کوئی کام یا بات کرتا ہے اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو کسی دوسرے کو پیچھے چھوڑ کر اس سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ (ابن عاشور)
(3)”لاتقدموا بین یدی اللہ و رسولہ“ میں اللہ اور اس کے رسول کو اکٹھا ذکر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رسول سے آگے بڑھنا درحقیقت اللہ تعالیٰ سے آگے بڑھنا ہے، کیونکہ رسول وہی کہتا اور کرتا ہے جس کی وحی اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے، فرمایا :(وما ینطق عن الھوی، ان ھو الا وحی یوحی) (النجم : 3، 3)”اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔“
(4) اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا بنیادی تقاضا بیان کیا گیا ہے کہ جب تم اللہ کو اپنا رب اور رسول کو اپنا ہادی اور رہبر مانتے ہو تو پھر ان کے پیچھے چلو، آگے مت بڑھو ! اپنے فیصلے خود ہی نہ کرلو، بلکہ پہلے یہ دیکھو کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم کیا ہے۔ یہ حکم سورة احزاب میں م وجود حکم سے بھی ایک قدم آگے ہے، فرمایا :(وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امراً ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضلاً مبیناً (الاحزاب : 36)”اور کبھی بھی نہ کسی مومن مرد کا حق ہے اور نہ کسی مومت عورت کا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں کہ ان کے لئے ان کے معاملے میں اختیار ہو اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے سو یقیناً وہ گمراہ ہوگیا ، واضح گمراہ ہونا۔“ یعنی سورة احزاب میں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو کسی ایمان والے مرد یا ایمان والی عورت کو خود کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار بقای نہیں رہتا اور یہاں فرمایا کہ ایمان والوں کو پہل کرتے ہوئے اپنے فیصلے خود نہیں کرلینے چاہئیں، بلکہ پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے متعلق اللہ اور اس کے رسول کا حکم کیا ہے۔ یہ حکم مسلمانوں کے انفرادی معاملات میں بھی ہے اور اجتماعی معاملات میں بھی۔ کسی بھی شخص کو خواہ وہ کوئی عالم ہو یا امام یا پیر فقیر، یہ حق حاصل نہیں اور نہ ہی کسی جماعت یا پارلیمنٹ کا حق ہے کہ وہ اپنی طرف سے شریعت بنائے، کسی کام کو حلال یا حرام کہے، یا باعث ثواب یا گناہ قرار دے۔ اگر کوئی کسی کو یہ حق دیتا ہے تو وہ اسے اپنا رب بناتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة توبہ کی آیت (31): (واتخذوا احبارھم و رھبانھم ارباباً من دون اللہ) کی تفسیر۔
(5) اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت سے آگے مت بڑھو، ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ چناچہ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کی تفسیر نقل فرمائی ہے :(لاتقدموا بین یدی اللہ ورستولہ) یقول لاتقولوا خلاف الکتاب والسنۃ) (طبری :31928) یعنی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کے خلاف کوئی بات نہ کہو۔ بعض مفسرین نے اس آیتل کی شان نزول رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنا بیان کی ہے اور بعض نے عید الاضحیٰ کی نماز سے پہلے قربانی کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام کام اس آیت کے مضمون میں شامل ہیں البتہ یہ بات ثابت نہیں کہ یہ آیت خاص ان کے بارے میں اتری ہے۔
(8) واثقوا للہ ان اللہ سمیع :”ان“ تعلیل یعنی پہلی بات کی وجہ بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ یعنی اللہ سے ڈرتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے والا اور ہر کام ک جاننے والا ہے، خواہ وہ سب کے سامنے کیا جائے یا چھپ کر عمل، میں آچکا ہو یا دل میں اس کا ارادہ ہو ، اگر تم اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھو گے تو اس سے تمہارا جرم چھپا نہیں رہے گا اور وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔
Ayah 49:2(1) یایھا الذین امنوا لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی : آلوسی نے فرمایا کہ پچھلی آیت میں ایمان والوں کو اپنے قول یا فعل میں رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا ، اس آیت میں آپ کے سامنے بولنے کی کیفیت میں بھی آپ سے بڑھنے کو منع فرما دیا۔ چناچہ فرمایا ہ آپ ﷺ کی موجودگی یا آپ کی مجلس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے بھی اپنی آوازیں آپ ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کریں۔ صحیح بخاری میں اس آیت کا سبب نزول بیان ہوا ہے، ابن ابی ملیکہ فرمایت ہیں :(کاج الخیران ان بھلکا، ابا بکر و عمر ؓ عنھما، رفعا اصواتھما عند النبی ﷺ حین قدم علیہ رکب بنی تمیم فاشار احدھما بالافرع بن حابین اخی بنی مجاشع واشار الآخر برجل آخر قال نافع لا احفظ اسمہ، فقال ابوبکر لعمر، ما اردت الا خلا فی قال ما اردث خلافک فارتفعت اصواتھما فی ذلک فانزل اللہ :(یایھا الذین امنوا لاترفعوا اصواتکم) (الآیۃ، قال ابن الزبیر فما کان عمر یسمع رسول اللہ ﷺ بعد ھذہ الآیۃ حتی یستفھمہ) (بخاری ، التفسیر، باب :(لاترفعوا اصواتکم فوق صورت النبی):3835)”’ و سب سے بہتر آدمی قریب تھے کہ ہلاک ہوجاتے، ابوبکر اور عمر ؓ دونوں نے اپنی آواز بلند کیں جب بنو تمیم کے شتر سوار آپ ﷺ کے پاس آئے۔ تو ان دونوں (بہترین آدمیوں) میں سے ایک نے بنی مجاشع کے اقرع بن حابس (کو بنو تمیم کا امیر مقرر کرنے) کا اشارہ کیا اور دوسرے نے ایک اور کا اشارہ کیا۔ نافع نے کہا، مجھے اس کا نام یاد نہیں۔ تو ابوبکر ؓ نے عمر ؓ سے کہا :”تم نے صرف میری مخالفت کا ارادہ کیا ہے۔“ انہوں نے کہا :”میں نیا پٓ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا۔“ اس میں دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :(یایھا الذین امنوا لا ترفعوآ اصواتکم فوق صوت النبی)”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنی آواز نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو۔“ ابن زبیر ؓ نے فرمایا، پھر اس آیت کے بعد ؓ کی آواز رسول اللہ ﷺ کو سنئای نہیں دیتی تھی جب تک کہ آپ ﷺ ان سے دوبارہ پوچھتے نہیں تھے۔“
(2) کسی مجلس میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان ہو تو آپ ﷺ کے ادب کا تقاضا ہے کہ اس کے مقابلے میں کسی شخص کو قول ذکر نہ کیا جائیا ور نہ اسے رد کرنے کے لئے کسی قسم کے عقلی ڈھکو سلے پیش کئے جائیں، کیونکہ یہ بھی آپ ﷺ کی آواز سے اپنی آواز کو اونچا کرنا ہے، بلکہ مخالفت کی وجہ سے یہ اس سے بھی سنگین بےادبی ہے۔
(3) بعض لوگوں کا معاملہ بڑا عجیب ہے کہ وہ لوگوں کو باور کرواتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کی مجلس میں موجود ہیں، پھر اتنی اونچی آواز سے بولتے ہیں کہ سننے والوں کے کانوں کے پردے پھٹنے کے قریب ہوتے ہیں، اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ سے محبت کے واحد اجارہ دار بھی بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ نہ رسول اللہ ﷺ اب کسی مجلس میں موجود ہوتے یا تشریف لاتے ہیں اور نہ ہی آپ کو موجود سمجھتے ہوئے آپ کی محبت یا ادب میں اتنی بلند آواز کے ساتھ بولنے کی کوئی گنجائش ہے۔
(4) ولا تجھروالہ بالقول : اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اس ادب کی تعلیم اس لئے دی کہ بعض اکھڑ اعرابی آپ سے اسی طرح اونچی آواز میں بات کرتے اور آپ کو اسی طرح نام لے کر خطاب کرتے جس طرح وہ ایک دوسرے کے ساتھ بات کرتے یا مخاطب کرتے تھے۔ چناچہ فرمایا اور نہ آپ ﷺ سے اس طرح اونچی آواز میں بات کرو جس طرح ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو اور نہ ہی اس طرح آپ کو نام لے کر مخاطب کرو جس طرح ایک دوسرے کو مخطاب کرتے ہو بلکہ ”اے محمد“ کہنے کے بجائے ”اے اللہ کے رسول“ یا ”اے اللہ کے نبی“ وغیرہ کہا کرو۔ یہ ادب سورة نور میں بھی سکھایا گیا ہے۔ فرمایا :(لاتجعلوا دعآء الرسول بینکم کدعآء بعضکم بعضاً) (النور : 63)”رسول کے بلانے کو اپنے درمیان اس طرح نہ بنا لو جیسے تمہارے بعض کا بعض کو بلانا ہے۔“ خود اللہ تعالیٰ نے پورے قرآن مجید میں کسی جگہ آپ ﷺ کو نام کے ساتھ مخاطب نہیں فرمایا، بلکہ مختلف القاب کے ساتھ ہی مخاطب فرمایا ہے، جیسے ”یایھا الرسول“ ، ”یایھا النبی“ ، ”یایھا المزمل“ ، اور ”یایھا المدثر“ وغیرہ۔ حالانکہ دوسرے انبیاء کو نام لے کر خطاب فرمایا ہے، جیسے ”یادم“ ، ”یا نوح“ ، ”یربرھیم“ ، ”یا موسیٰ“ ، ”یعیسی ابن مریم“ اور ”یداود“ وغیرہ۔ اس کے باوجود اکثر جاہل ”یا محمد“ کہنے اور لکھنے پر اصرار کرتے ہیں اور دعویٰ آپ ﷺ سے محبت کا رکھتے ہیں۔ اس آیت سے آپ ﷺ کی توقیر و تعظیم کا اندازہ ہوتا ہے۔
(5) ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون : اس سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کی موجودگی میں آپ کی آواز سے آواز اونچی کرنا یا آپ سے ایسے لہجے میں بات کرنا جس سے آپ کی توقیر و تکریم میں فرق آتا ہو اعمال ضائع ہوجانے کا موجب ہے، خواہ یہ کام کا کوئی مومن ہی کیوں نہ کرے، کیونکہ ساتھ ہی فرمایا :(وانتم لاتشعرون)”اور تم شعور نہ رکھتے ہو۔“ منافقین تو ایمان سے خالی تھے، اس لئے وہ جان بوجھ کر آپ سے گستاخی کے ساتھ پیش آتے تھے اور انہیں اپنے اعمال کے ضائع ہونے کی کوئی فکر بھی نہیں تھی۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اعمال ایسے منحوس ہیں کہ وہ اعمال صالحہ کو بھی ضائع کرنے کا باعث بن جاتے ہیں، خصوصاً جن میں اللہ تعالیٰ یا رسول کریم ﷺ کی بےادبی پائی جائے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا موجب ہوتے ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا :”ان تحبط اعمالکم و انتم لاتشعرون) یعنی مہ نے تمہیں آپ ﷺ کے پاس آواز بلند کرنے سے اس لئے منع کیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے آپ ﷺ غصے میں ہوجائیں تو آپ کے غصے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی غصے ہو اجئے اور اس شخص کے اعمال برباد کر دے جس نے آپ کو غصہ دلایا اور اسے معلوم بھی نہ ہو، جیسا کہ صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان العبد لیتکلم بالکلمۃ من رضوان اللہ لایلقی لھا بالا یرفع اللہ بھا درجات و ان العبد لیتکلم بالکلمۃ من سخط اللہ لایلقی لھا بالا یھوی بھا فی جھنم) (بخاری، الرقاق، باب حفظ اللسان :6388)”بندہ اللہ کو راضی کرنے والی کوئی بات کرتا ہے، جس کا ووہ کوئی دھیان نہیں کرتا، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے کئی درجے بلند کردیتا ہے اور بندہ اللہ کو غصہ دلانے والی کوئی بات کرتا ہے، جس کا وہ دھیان نہیں کرتا، تو اس کی وجہ سے وہ جہنم میں گر جاتا ہے۔“
(6) اس آیت کے بعد صحابہ کرام ؓ آپ ﷺ کے پاس آواز بلند کرنے سے کس قدر ڈرتے اور اس سے بچتے تھے اس کا اندازہ ایک تو عمر بن خطاب ؓ کے عمل سے ہوتا ہے جس کا تذکرہ اسی آیت کی تفسیر کے پہلے فائدے میں ہوا ہے، اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کے خطیب ثابت بن قیس ؓ کا رویہ بھی اس کی ایک مثال ہے۔ انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں :”جب یہ آیت
اتری (یایھا الذین امنوا لاترفعوآ اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم و انتم لاتشعرون) اب ثابت بن قیس بن شماس ؓ کی آوازبہت بلند تھی تو وہ کہنے لگے :”میں ہی اپنی آواز رسول اللہ ﷺ کی آواز سے بلند کیا کرتا تھا، میرا عمل تو ضائع ہوگیا ، میں اہل نار سے ہوں۔“ اور وہ غمگین ہو کر گھر میں بیٹھ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں نہ دیکھا تو ان کے بارے میں پوچھا۔ کچھ لوگ ان کے پاس گئے اور ان سے کہا : ”رسول اللہ ﷺ تمہیں تلاشک ر رہے تھے، تمہیں کیا ہوا ؟“ کہنے لگے :”میں ہی ہوں جو اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند کرتا تھا اور اونچی آواز سے باتک رتا تھا، میرا عمل ضائع ہوگیا اور میں اہل نار سے ہوں۔“ لوگوں نے آکر رسول اللہ ﷺ کو ان کی بات بتائی تو نبی ﷺ نے فرمایا :(لا، بل ھو من اھل الجنۃ)”نہیں، بلکہ وہ اہل جنت سے ہے۔“ انس ؓ نے فرمایا :”پھر ہم انہیں اپنے درمیان چلتا پھرتا دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ جنتی ہیں۔ تو جب یمامہ (مسلیمہ کذاب سے جنگ) کا دن ہوا تو ہم میں پیچھے ہٹنے کے کچھ آثار ظاہر ہوئے۔ ایسے میں ثابت بن قیس بن شماس ؓ آئے، انہوں نے میت والی خوشبو لگا رکھی تھی اور کفن پہنا ہوا تھا۔ کہنے لگے :”تم نے اپنے ساتھیوں کو (پیچھے ہٹنے کی) بہت بری عادل ڈال دی ہے۔“ یہ کہہ کر لڑنے لگے، حتیٰ کہ قتل کر یدئے گئے۔“ (مسند احمد : 3/138 ، ح : 12308) اس کی سند صحیح ہے۔ تفسیر ابن کثیر کے محقق لکھتے ہیں کہ ثابت بن قیس ؓ کو یہ خیال اس لئے ہوا کہ بنو تمیم (جن کے بارے میں یہ آیات اتریں) ان کے سامنے (رسول اللہ ﷺ کی طرف سے) انہوں نے ہی خطبہ دیا تھا۔ دیکھیے البدایہ والنہایہ (5/42) اور فتح الباری (8/591)۔
Ayah 49:3ان الذین یغضون اصواتھم …: اس میں ان لوگوں کی تعریف ہے جو رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و تکریم کا خیال رکھتے ہوئے آپ کے پاس اپنی آواز پست رکھتے تھے، جیسا کہ عمر ؓ کے متعلق گزرا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے تقویٰ کا امحتان کر کے دیکھ لیا کہ وہ پرہیز گاری کے امتحان میں پوری طرح کامیاب ہیں، جیسے سونے کو آگ میں ڈال کر دیکھا جاتا ہے اور وہ خالص نکلتا ہے، تو کہا جاتا ہے کہ ہم نے اس کے خلاص ہونے کی آزمائش کرلی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی آواز پست نہیں رکھتا اس کا دل تقویٰ سے خالی ہے، پھر جو شخص آپ ﷺ کی حدیث سننے کے بعد اس کے خلاف آواز اٹھائے وہ تقویٰ اور ایمان سے کس قدر دور ہوگا۔
Ayah 49:4(1) ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت :”حجرۃ“ زمین کا وہ قطعہ جس کے گرد دیوار بنی ہوئی ہو، گھر کے صحن کی چار دیواری۔ طبری نے فرمایا :”حجرۃ“ کی جمع ”حجر“ ہے اور اس کی جمع ”حجرات“ ہے۔“ روح المعانی میں ان حجرات کی کیفیت بیان کی گئی ہے :”یہ نو حجرے تھے، ہر بیوی کے پاس ایک حجرہ تھا اور جیسا کہ ابن سعد نے عطاء خراسانی سے روایت کی ہے، یہ کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، ان کے دروازوں پر سیاہ بالوں کے ٹاٹ کے پردے تھے۔ بخاری نے ”الادب المفرد“ میں اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے داؤد بن قیس سے بیان کیا ہے، انہوں نے فرمایا :”میں نے وہ حجرے دیکھے ہیں، کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، جنہیں باہر کی جانب سے بالوں کے ٹاٹوں سے ڈھانپا ہوا تھا اور میرا گمان ہے کہ صحن کے دروازے سے کمرے کے دروازے تک چھ یا سات ہاتھ (نو یا ساڑھے دس فٹ) کا فاصلہ تھا اور کمرے کا اندرونی حصہ دس ہاتھ (پندرہ فٹ) تھا اور میرا گمان ہے کہ گھر کی چوڑائی سات آٹھ ہاتھ (ساڑھے دس بارہ فٹ) کے درمیان تھی۔“ اور حسن سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :”میں عثمان بن عفان ؓ کی خلافت میں نبی ﷺ کی بیویوں کے کمروں میں جایا کرتا تھا تو ان کی چھت کو ہاتھ لگا لیتا تھا۔ ولید بن عبدالملک ؒ کے عہد میں ان کے حکم سے ان گھروں کو مسجد نبوی میں شامل کرلیا گیا جس پر لوگ بہت روئے۔“ اورس عید بن مسیب نے فرمایا :”اللہ کی قسم ! مجھے پسند تھا کہ ان حجروں کو ان کی حالت پر رہنے دیا جاتا، تاکہ اہل مدینہ کے بچے بڑے ہوتے اور تمام دنیا سے آنے والے آتے تو دیکھتے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی زندگی میں کیسے گھروں پر اکتفا کیا ہے۔ اس سے ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی حرص اور اس پر فخر کے بجائے زہد اور دنیا سے بےرغبتی پیدا ہوتی ہے۔“ اور ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے بھی ایسی ہی بات فرمائی۔“ (روح المعانی)
گزشتہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آپ کے ادب کا بیان تھا، ان آیات میں اس وقت آپ ﷺ کے ادب کو ملحوظ رکھنے کا بیان ہے جب آپ گھر میں ہوں۔ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ کچھ اعرابی لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے گھروں کی چار دیواری کے باہر کھڑے ہو کر آپ کو بلانے کے لئے آوازیں دیں، تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو ”لایعقلون“ قرار دیا۔”لایعقلون“ قرار دینے سے مقصود انہیں ڈانٹنا اور تمام مسلمانوں کو آپ کے ادب کی تعلیم دینا ہے۔
(2) اکثرھم لایعقلون : ابن جزی (صاحب التسہیل) نے فرمایا :”اس میں دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ ان میں کچھ لوگ عقل رکھنے والے بھی تھے، اس لئے ان کے اکثر کو ”لایعقلون“ فرمایا، سب کو نہیں۔ دوسری یہ کہ مراد سب ہی کو ”لایعقلون“ قرار دینا ہے، عقل والوں کو کم قرار دینے سے مراد ان کی نفی ہے۔ الفاظ کے مطابق پہلی وجہ زیادہ ظاہر ہے، دوسری میں زیادہ بلیغ طریقے سے سب کی مذمت کا بیان ہے۔“
Ayah 49:5(1) ولم الھم صبروا حتی تخرج الیھم…: یعنی اگر وہ آوازیں دینے کے بجائے صبر کرتے اور آپ ﷺ کے تشریف لانے کا انتظار کرتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا، کیونکہ اس صبر و اتنظار میں اور آپ ﷺ کا ادب محلوظ رکھنے میں انہیں اجر و ثواب ملتا، رسول اللہ ﷺ زیادہ خوش دلی کے ساتھ ان سے ملتے اور زیادہ بہتر طریقے سے ان کی ضرورتیں پوری فرماتے۔ ظاہر ہے جس شخص پر پوری امت کی ذمہ داری کا بوجھ ہے اور وہ ہر وقت اسی فکر و عمل میں مصروف ہے، اگر اس وقت جب وہ گھر میں ہے یہ خیال کئے بغیر کہ اس وقت وہ آرام کر رہا ہے یا گھر کے کسی کام میں مصروف ہے، آوازیں دینا شروع کردیا جائے تو اس خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی جو صبر و انتظار کے ساتھ اس سے حاصل ہونا تھی۔ اس سے اساتذہ کرام، اہل علم اور مسلمانوں کے امراء و اکابر کے اکرام کی بھی تعیم ملتی ہے۔
(2) واللہ غفور رحیم : یعنی حق تو یہ تھا کہ ان لوگوں کو ان کی اس بےادبی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نہ کوئی سزا ملتی، مگر چونکہ ان سے یہ فعل بےعقلی کی وجہ سے سر زد ہوا تھا، بدنیتی کی وجہ سے نہیں، اس لئے آخر میں اپنے غفور و رحیم ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی مغفرت کا اشارہ فرما دیا۔
(3) رسول اللہ ﷺ جب زندہ تھے اور دیوار کے باہر سے آپ تک آواز بھی پہنچتی تھی اس وقت آپ کو آواز دینے والوں کو اللہ تعالیٰ نے بےعقل قرار دیا تو اب جبکہ رسول اللہ ﷺ فوت ہوچکے اور یہ ممکن ہی نہ رہا کہ آپ ﷺ ہماری بات سنیں یا ہم آپ ﷺ کی بات سنیں، جیسا کہ فرمایا :(ومن ورآئھم برزخ الی یوم یبعثون) (المومنوکن : 100)”اور ان کے پیچھے اس دن تک جب وہ اٹھائیں جائیں گے، ایک پردہ ہے۔“ تو جو لوگ اب ہز اورں میل دور سے آپ ﷺ کو آوازیں دیتے ہیں اور آوازیں بھی اس مقصد کے لئے دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پورا نہیں کرسکتا، تو ان کے ”لایعقلون“ (بےعقل) ہونے میں کیا شبہ ہے۔
Ayah 49:6(1) یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنبا فتبینوا : ”فاسق“ جو دین کی کسی حد سے یا تمام حدوں سے نکل جائے، جن کی پابندی لازم ہے۔ اس کا اشتقاق ”فسق الرطب“ (تازہ کھجور چھلکے سے باہر نکل گئی، یعنی پھٹ گئی) سے ہے۔ اس کا اکثر استعمال نافرمانی کے مرتکب مسلمان پر ہوتا ہے، کافر پر بھی یہ لفظ بول لیا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(افمن کان مومنا کمن کان فاسقاً لایستون) (السجدۃ :18)”تو کیا وہ شخص جو مومن ہو وہ اس کی طرح ہے جو نافرمان ہو ؟ برابر نہیں ہوتے۔“”نبا“ کوئی اہم خبر۔ راغب نے فرمایا :”خبر کو ”نبا“ اس وقت کہتے ہیں جب اس سے کوئی عظیم فائدہ حاصل ہوتا ہو، ایسی ہی خبر سے کسی بات کا یقین یا غلبہ ظن حاصل ہوتا ہے۔“ ‘”فتبینوا“ ”تبین یتبین“ (تفغل) لازم بھی آتا ہے، یعنی کسی چیز کا خوب واضح ہوجانا اور متعدی بھی، یعنی کسی چیز پر پوری طرح غور و فکر اور اس کی تحقیق کرنا، اس کی حقیقت معلوم کرلینا، یہاں متعدی کے معنی میں ہے۔ اکثر قراءتوں میں ”فتبینوا“ ہے، حمزہ اور کسائی کی قرأت میں ”فتبنوا“ ہے، معنی دونوں کا ایک ہی ہے۔
(2) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسے ادب کی تعلیم دی ہے جس کا اہتمام ان کے دین و دنیا کے معاملات میں نہایت ضروری ہے اور جس کی پابندی نہ کرنے سے بےپناہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ وہ یہ کہ جب ان کے پاس کوئی فاسق، جو کھلم کھلا دین کی حد پامال کرنے والا ہے، کوئی اہم خبر لے کر آئے تو اسے سنتے ہی سچا نہ سمجھ لیں اور نہ ہی پوری تحقیق کے بغیر اس کی بات کا اعتبار کریں، کیونکہ جو فسق سے پرہیز نہیں کرتا وہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔
(2) ان تصیبوا قوماً بجھالۃ : اس سے معلوم ہوا کہ فاسق کی خبر پر بلاتحقیق عمل کرنا جہالت ہے، جو خطا سے بڑھ کر ہے، کیونکہ مجتہد اگر غلطی کرے تو اسے مخطی کہہ سکتے ہیں، جاہل نہیں، جب کہ بلاتحقیق فاسق کے قول پر فیصلہ کرنے والا اگر غلط فیصلہ کرے تو وہ جاہل ہے۔ (رازی) یعنی ایسا نہ ہو کہ تم کسی فاسق کی خبر پر بلاتحقیق کوئی کاروائی کر گزرو اور لاعلمی میں کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا دو ، ان پر حملہ کر کے انہیں زخمی یا قتلک ردو، ان کی غیبت کر بیٹھو یا ان سے قطع تعلق کرلو، غرض تمہاری طرف سے انہیں کوئی بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کتنے ہی فتنے اور فساد ہیں جو بلاتحقیق ایسی خبروں پر عمل کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور بات بگڑ کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔
(4) فتصبحوا علی مافعلتم ندمین : پھر تم اس پر پشیمان ہوجاؤ، کیونکہ جلد بازی اور بلاتحقیق کام کا نتیجہ پشیمانی ہی ہے۔
(5) یہ آیت اس عظیم الشان علم کی بنیاد ہے جسے اصول حدیث کہا جاتا ہے، جو ہماری امت کی خصوصیت ہے اور جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے افعال و اقوال اور احوال و تقریرات محفوظ طریقے سے ہم تک پہنچے ہیں اور قیامت تک پہنچتے جائیں گے۔ اس علم کی تکمیل کے لئے امت مسلمہ نے ایک لاکھ سے زیادہ راویوں کے حالات زندگی، ان کا صدق و کذب، عدالت و فسق حافظ ہونا یا نہ ہونا وغیرہ سب کچھ محفوظ کردیا ہے۔ اس میں سب سے پہلے دیکھا جاتا ہے کہ کوئی خبر بیان کرنے والا فاسق ہے یا عادل اگر فاسق ہے تو اس کی خبر کی تحقیق کی جائے گی، اگر کسی دوسرے ذریعے سے اس کا درست ہونا ثابت ہوجائے تو اسے مانل یا جائے گا ورنہ اسے قبول نہیں کیا جائے گا اور اگر خبر دینے والا عادل ہے تو مزید تحقیق کی ضرورت نہیں اور اس کی خبر قبول کی جائے گی، خواہ خبر دینے والا ایک ہی ہو۔ اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ خبر واحد حجت ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مجہول آدمی کی خبر بھی بلاتحقیق قبول نہیں کی جائے گی، کیونکہ اس کے فاسق ہونے کا احتمال ہے۔
(6) آیت کے الفاظ میں ”فاسق“ اور ”بنیا“ دونوں نکرہ ہیں، اس میں کسی خاص شخص کو متعین نہیں کیا گیا، بلکہ ایک عام قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ کوء فاسق کوئی بھی خبر لے کر تمہارے پاس آئے تو اس کی تحقیق کرلو۔ بہت سے مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، جنہیں رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ بنو مصطلق سے زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا۔ یہ عثمان بن عفان ؓ کے ماں کی طرف سے بھایء تھے۔ بنو مطلق اور ان کے قبیلہ میں اسلام سے پہلے سے دشمنی چلی آرہی تھی، وہ لوگ مسلح ہو کر استقبال کیلئے آئے تو یہ ڈر گئے کہ شاید یہ لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں اور وہیں سے واپس آکر رسول اللہ ﷺ سے ش کیا ت کی کہ بنو مصطلق نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا ہے، بلکہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔ آپ ﷺ نے یہ سن کر بنو مصطلق کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا، ابھی یہ لشکر راستے میں تھا کہ ادھر سے بنو مصطلق کے سردار حارث بن ضرار ؓ (ام المومنین جویریہ ؓ کے والد) اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آتے نظر آئے۔ قریب پہنچ کر انہوں نے لشکر والوں سے دریافت کیا کہ آپ لوگ کدھر جا رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہاری طرف ہی جا رہے ہیں۔ انہوں نے سبب پوچھا تو لشکروں والوں نے بتایا کہ آپ ﷺ نے ولید بن عقبہ ؓ کو تمہارے پاس بھیجا اور تم نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا، بلکہ اسے قتل کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق دے کر مبعوث کیا ہے ! ولید نہ ہمارے پاس آیا اور نہ ہم نے اس کی شکل دیکھی۔ پھر یہی بات انہوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہی اور مزید کہا کہ ہم تو خود آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کی طرف سے کوئی زکوۃ وصول کرنے نہیں پہنچا اور ہم ڈر گئیک ہ کہیں آپ ہم سے ناراض نہ ہوگئیہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ ان روایات کا خلاصہ ہے جو ابن کثیر وغیرہ نے قنل فرمائی ہیں۔
7۔ عام مفسرین نے اس واقعہ کو بنیاد بنا کر ولید بن عقبہ ؓ کو فاسق اور ان کی خبر کو تحقیق کے بغیر ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ بعض کج دماغوں نے اسے اس مسلم قاعدے پر طعن کا ذریعہ بنایا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ سب کے سب عادل ہیں اور کسی سے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ ثابت نہیں، اس لئے رسول اللہ ﷺ کا صحابی کوئی بھی ہو اس کی بیان کردہ ہر روایت معتبر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کو ولید بن عقبہ ؓ سے متعلق قرار دینے والی کسی بھی روایت کی سند صحیح نہیں۔ ابن کثیر ؒ نے اس مقام پر چادر روایتیں نقل کی ہیں اور ان میں سب سے بہتر حارث بن ضرار خزاعی ؓ کی روایت کو قرار دیا ہے۔ اس کی سند یہ ہے :”قال الامام احمد فی مسندہ حدثنا محمد بن سابق حدثنا عیسیٰ بن دینار حدثنا ابی انہ سمع الحارث بن ضرار الخراعی قال“ (مسند احمد :289/3، ح :18359) تفسیر ابن کثیر کے محقق سامی بن محمد سلامہ لکھتے ہیں :”بہت سے مفسرین اس قول کی طرف گئے ہیں (کہ یہ آیت ولید بن عقبہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے) حالانکہ اس قول میں نظر ہے، کیونکہ جتنی بھی روایات میں یہ قصہ بیان ہوا ہے وہ سب معلول ہیں (ان میں خرابی ہے) ان میں سب سے بہتر امام احمد کی حارث بن ضرار خزاعی ؓ سے روایت ہے۔ اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے اور قاضی ابوبکر بن العربی نے اپنی کتاب ”العواصم من القواصم (ص : 102)“ میں اس قصے کا انکار کیا ہے۔“
تفسیر ابن کثیر کی تخریج ”ھدایۃ المستنیر“ (تالیف ابو عبدالرحمٰن عادل بن یوسف العزازی) میں ہے :”اس روایت میں دینار کوفی ہے، حافظ نے فرمایا، مقبول ہے، یعنی جب اس کی کوئی متابعت موجود ہو۔“ ظاہر ہے یہاں کسی نے اس کی متابعت نہیں کی، اس لئے اس کی یہ روایت قبول نہیں۔ مسند احمد کے محققین نے اس روایت پر لکھا ہے :”حارث بن ضرار کے اسلام کا قصہ چھوڑ کر باقی روایت اپنے شواہد کی وجہ سے حسن ہے اور یہ سند ضعیف ہے، کیونکہ عیسیٰ کا والد دینار مجہول ہے۔ وہ کوفے کا رہنے والا ہے اور عمرو بن حارث کا مولیٰ ہے، اس سے اس کے بیٹے عیسیٰ نے اکیلے ہی یہ روایت بیان کی ہے اور ابن المدینی نے فرمایا :”لا اغرفہ“ (میں اسے نہیں پہچانتا) اس کے باوجود ابن حبان نے اس کا ذکر ”الثقات“ میں کیا ہے۔“
اس آیت کے ولید بن عقبہ ؓ کے متعلق نازل ہونے کی دوسری روایت ابن کثیر نے ام سلمہ ؓ کو بیان کی ہے۔ سے ضعیف ہے۔“ ابن کثیر میں اس مفہوم کی تیسری روایت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، جو عوفی کی وجہ سے ضعیف ہے۔ چوتھی روایت مجاہد اور قتادہ نے بیان کی ہے جو تابعی ہیں اور ان کی روایت مرسل ہے جو حجت نہیں۔ آپ غور فرمائیں ! یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی سب سے بہتر روایت کو حسن کہنے والے بھی اس کی سند کے ضعیف ہونے کا اعتراف کرتے ہیں، حسن صرف شواہد کی وجہ سے کہتے ہیں اور شواہد بھی ایسے کہ سب کی سند ضعیف ہے۔ ایسی کمزور روایت کے ساتھ ایک صحابی کو فاسق قرار دینا کیسے درست ہوسکتا ہے، جو اس جماعت کا فرد ہے جسے اللہ تعالیٰ کی رضا کی سند حاصل ہوچکی ہے۔
(8) اگر اس قصے کو درست مان لیا جائے تو بھی اس سے ولید بن عقبہ ؓ کا فاسق ہونا لازم نہیں آتا۔ سب سے پہلے تو رسول اللہ ﷺ کا صدقات کی وصولی کے لئے ان کا انتخاب ان کے فاسق ہونے کی نفی کرتا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایسے اعمال کو صدقات وغیرہ کی وصولی پر مقرر فرماتے تھے جو نہایت امین ہوتے تھے، جیسا کہ ابوعبیدہ امین ہذہ الامہ کو یمن کی طرف بھیجنے سے ظاہر ہے۔ پھر ولید ؓ کو یہ کہنا کہ بنو مصطلق نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا ہے اور میرے قتل کا ارادہ کیا ہے، اس کی وجہ خود اس روایت میں موجود ہے کہ ان کے درمیان سابقہ دشمین موجود تھی اور مسلح افراد کی بہت بڑی تعداد کو دیکھ کر ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگیا کہ یہ مجھے قتل کرنے آئے ہیں اور زکوۃ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ایسا گمان پیدا ہونا فطری بات ہے۔ آپ اسے گمان کی غلطی کہہ سکتے ہیں مگر جھوٹ یا فسق نہیں کہہ سکتے۔ رہا آیت کا نزول تو اس میں نہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ولید فاسق ہے نہ اس کے رسول ﷺ نے یہ فرمایا۔ آیت میں مسلمانوں کو ایک حکم دیا گیا ہے کہ ان کے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرلیا کریں، اندھا دھند اس پر کارروائی نہ کریں۔
(9) شیخ عبدالرحمان معلی یمانی نے ”الانوار الکاشفہ (ص : 263)“ میں ولید بن عقبہ ؓ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ ولید بن عقبہ ؓ سے نبی ﷺ کی کوئی حدیث منقول ہی نہیں، اس لئے اس واقعہ سے کسی صحابی کی نقل کردہ روایت کا مردود ہونا لازم ہی نہیں آتا، کیونکہ انہوں نے آپ ﷺ سے کوئی روایت نقل ہی نہیں کی۔ شیخ معلمی نے ان سے مروی دوسری روایات کے علاوہ اس روایت کی بھی نفی کی ہے جو مسند احمد میں ہے کہ ولید ؓ بیان کرتے ہیں :(لما فتح رسول اللہ ﷺ مکہ جعل اھل مکہ یاتونہ بصبیانھم فیمسع علی رؤوسھم ویدعولھم، فجی بی الیہ وانی مطلب بالخلوق، فلم یمس علی راسی ، ولم یمنعہ من ذلک الا ان امی خلقتنی، بالخلوق فلم یمشنی من اجل الخلوق) (مسند احمد :32/3، ح :16389)”جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو اہل مکہ اپنے بچے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے لگے، آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لئے برکت کی دعا کرتے۔ مجھے بھی آپ کے پاس لایا گیا مگر آپ نے میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا اور آپ کے ہاتھ نہ پھیرنے کی وجہ یہی بنی کہ میری ماں نے مجھے خلوق (زعفران سے مرکب ایک خوشبو) لگائی تھی تو آپ ﷺ نے خلوق کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔“ مسند احمد کے محققین نے لکھا :”اس کی سند عبداللہ ہمدانی کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، کنیت اس کی ابو موسیٰ ہے۔ اس سے روایت میں ثابت بن حجاج الکلابی منفرد ہے اور ذہبی اور ابن حجر نے تقریب میں اسے مجہول کہا ہے۔ بخاری نے ”تاریخ کبیر“ (5/224) میں کہا ہے :”لایصخ حدیثہ“ (اس کی حدیث صحیح نہیں) اور ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ یہ ابو موسیٰ مجہول ہے اور یہ خبر منکر ہے، صحیح نہیں۔“ اگر اس روایت کو صحیح مانا جائے تو ولید بن عقبہ ؓ کو فاسق کہنے کی بنیادی ختم ہوجاتی ہے، کیونکہ اس سے فتح مکہ کے موقع پر ولید کا بچہ ہونا ثابت ہوتا ہے، جسے صدقات کا عامل بنا کر بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
10۔ بعض لوگوں نے صحیح مسلم (1707) وغیرہ کی اس روایت کی وجہ سے ولید بن عقبہ ؓ کو فاسق قرار دیا ہے جس میں ہے کہ انہوں نے شراب پی کر صبح کی جماعت دو رکعتیں پڑھانے کے بعد کہا کہ مزید پڑھاؤں، جس پر عثمان ؓ نے ان پر شراب کی حد لگائی۔ واضح رہے کہ بعض روایات میں دو کے بجائے چار رکعتیں پڑھانے کا ذکر ہے مگر ان میں سے کوئی روایت بھی صحیح نہیں۔ بعض اہل علم نے لکھا :”علامہ آلوسی نے روح المعانی میں فرمایا :”اس معاملے میں حق بات ہے وہ جس کی طرف جمہور علماء گئے ہیں کہ صحابہ کرام معصوم نہیں ہیں، ان سے گناہ کبیرہ بھی سر زد ہوسکتا ہے جو فسق ہے اور اس گناہ کے وقت ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جس کے وہ مستحق ہیں، یعنی شرعی سزا جاری کی جائے گی، لیکن اہل سنت و الجماعہ کا عقیدہ قرآن و سنت کی نصوص کی بنا پر یہ ہے کہ صحابی سے گناہ تو ہوسکتا ہے مگر کوئی صحابی ایسا نہیں جو گناہ سے توبہ کر کے پاک نہ ہوگیا ہو۔ قرآن کریم نے علی الاطلاق ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا فیصلہ فرما دیا ہے : فرمایا :(رضی اللہ عنھم و رضواعنہ واعدالھم جنت تجری تحتھا الانھر خلدین فیھا ابداً ذلک الفوز العظیم) (التوبۃ : 100)”اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کئے ہیں جن کے تلے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ ک ی رضا گناہ کے معاف ہونے کے بغیر نہیں ہوتی، جیسا کہ قاضی ابویعلیٰ نے فرمایا :”رضا اللہ تعالیٰ کی ایک صفت قدیمہ ہے، وہ پانی رضا کا اعلان صرف انہی کے لئے فرماتے ہیں جن کے متعلق وہ جانتے ہیں کہ ان کی وفات ان کاموں پر ہوگی جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے۔“ (کذا فی الصارم المسلول لابن تیمیۃ) خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ کی عظیم الشان جماعت میں سے اگر کسی سے کبھی کوئی گناہ سر زد ہوا بھی ہے تو اسے فوراً توبہ کی توفیق نصیب ہوئی ہے۔ حق تعالیٰ نے ان کو رسول کریم ﷺ کی صحبت کی برکت سے ایسا بنادیا تھا کہ شریعت ان کی طبیعت بن گئی تھی، خلاف شرع کوئی کام یا گناہ سر زد ہونا انتہائی شاذ و نادر تھا۔ ان کے اعمال صالحہ، نبی کریم ﷺ اور سالام پر اپنی جانیں قربان کرنا اور ہر کام میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے اتباع کو وظیفہ زندگی بنانا اور اس کیلئے ایسے مجاہدات کرنا جن کی نظیر پچھلی امتوں میں نہیں ملت، ی ان بیشمار اعمال صالحہ اور فضائل و کمالات کے مقابلے میں عمر بھر میں کسی گناہ کا سرزد ہوجانا اس کو خود ہی کالعدم کردیتا ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت و عظمت اور ادنیٰ سے گناہ کے وقت ان کا خوف ، خشیت اور فوراً توبہ کرنا بلکہ اپنے آپ کو سزا کے لئے خود پیش کردینا روایات حدیث میں مشوہر و معروف ہے اور بحکم حدیث گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے جیسے گناہ کیا ہی نہیں۔ تیسرے قرآن کے ارشاد کے مطابق اعمال صالحہ اور حسنات خود بھی گناہوں کا کفار ہ ہوجاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(ان الحسنت یذھبن السیات) (ھود : 113)”بیشک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“ خصوصاً جب ان کی حسنات عام نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں :(المشھد رجل منھم مع رسول اللہ ﷺ یعبر فیہ وجھہ خیر من عمل احدکم عمرہ ولو عمر عمر نوح) (ابوداؤد، السنتہۃ باب فی الخلفاء : 3650 قال الالبانی صحیح) ”اللہ کی قسم ! ان میں سے کسی شخص کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں ان کے چہرے پر غبار پڑگیا ہو، تم میں سے کسی شخص کی عمر بھر کی عبادت و اطاعت سے افضل ہے۔ اگرچہ اس کو نوح ؑ کی عمر دے دی گئی ہو۔“ اس لئے ان سے صدور گناہ کے وقتا گرچہ سزا وغیرہ میں معاملہ وہی کیا گیا جو اس جرم کے لئے مقرر تھا، مگر اس کے باوجود بعد میں کسی کے لئے جائز نہیں کہ ان میں سے کسی کو فاسق قرار دے۔ اس لئے اگر بنی کریم ﷺ کے عہد میں کسی صحابی سے کوئی گناہ موجب فسق سرزد بھی ہو اور اس وقت ان کو فاسق کہا بھی گیا ہو تو اس سے یہ جائز نہیں ہوجاتا کہ اس فسق کو ان کے لئے ہمیشہ کا حکم سمجھ کر معاذ اللہ فاسق کہا جائے۔“ (کذافی الروح)
Ayah 49:7(1) واعلموا ان فیکم رسول اللہ : ظاہر ہے کہ ہر صحابی یہ جانتا تھا کہ اللہ کا رسول ہم میں موجود ہے، اس کے باوجود فرمایا :”اور جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول ہے۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی میں رسول اللہ ﷺ کے بنفس نفیس موجود ہونے اور آپ کی وفات کے بعد کتاب و سنت کے موجود ہونے کے باوجود جو شخص اپنی رائے پر اصرار کرتا ہے اور آپ ﷺ اور آپ کی حدیث سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے اپنی بات منوانا چاہتا درحقیقت وہ اس بات سے جاہل ہے کہ ہم میں اللہ کا رسول موجود ہے، ہمیں ہر معاملے میں ان کی بات ماننی چاہیے، کیونکہ اگر اسے یہ بات معلوم ہوتی تو وہ رسول کی اطاعت کرتا اور رسول کو اپنی اطاعت کروانے کی کوشش نہ کرتا۔ سو جس طرح وہ شخص جاہل ہے جو چار دیواری کے باہر سے آپ کو آواز دیتا ہے اور وہ شخص جاہل ہے جو کسی فاسق کی لائی ہوئی خبر پر بلاتحقیق کا رروائی کر گزرتا ہے، اسی طرح وہ شخص بھی جاہل ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کی حدیث کے ہوتے ہوئے اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ سالئے اسے یہ بتانے کی شدید ضرورت ہے کہ جان لو ! تم میں اللہ کا رسول موجود ہے۔
(2) لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم : یعنی رسول کے احکام چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے اور اس کا ہر حکم علم و حکمت اور رحمت و مصلحت پر مبین ہے اس لئے رسول کی اطاعت کرنے سے تم ہر طرح کی مشقت اور مصیبت سے بچے رہو گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید یکم العسر) (البقر 1: 185)”اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔“ اور رسول کو بھی تمہارا مشقت میں پڑنا کسی صورت گوارا نہیں فرمایا :(عزیز علیہ ما عنثم حریص علیکم) (التوبۃ : 128”اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حصر رکھنے والا ہے۔“ اس کے برعکس اگر رسول تمہاری اطاعت کرے تو تم مشقت میں پڑجاؤ گے، کیونکہ اول تو تمہاری سب کی بات ایک نہیں ہوگی، ہر شخص وہ بات منوانے کی کوشش کرے گا جو اس کے خیال میں اس کے فائدے کی ہے، تو رسول کس کس کی بات مانے گا اور کس کی بات کا امت کو حکم دے گا ؟ پھر تمہارا علم ناقص ہے، نہ تمہیں مستقبل کی کوئی خبر ہے نہ تم غیب کا علم رکھتے ہو، تمہیں کیا معلوم کہ تم جسے اپنے لئے فائدہ مند کو رہے اور وہ انجام کے لحا ظ سے کس قدر نقصان دہ ہے۔ اس لئے جس طرح کائنات کا نظام درست اس لئے چلر ہا ہے کہ وہ ایک اللہ کے حکم کے مطابق چل رہا ہے اسی طرح شریعت کا نظام بھی صرف رسول کی اطاعت سے صحیح چل سکتا ہے، کیونکہ اس کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے، فرمایا (ولو اثبع الحق اھوآء ھم لفسدت السموت والارض ومن فیھن) المومون : 81)”اور اگر حق ان کی خواہشوں کے پیچھے چلے تو سب آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے، یقیناً بگڑ جائیں۔“
(3) ”لو یطیعکم فی کثیر من الامر“ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ رسول بعض تدبیری امور میں تمہارا مشورہ مان بھی لیتا ہے، کیونکہ اسے اللہ کی طرف سے مشورہ کا حکم دیا گیا ہے، چناچہ فرمایا :(فاعف عنھم واستغفر لھم و شاورھم فی الامر) (آل عمران : 159)”سو ان سے درگزر کر اور ان کے لئے بخشش کی دعا کر اور کام میں ان سے مشورہ کر۔“ مگر یاد رکھو ! تمہارا کام حکم دینا نہیں، مشورہ دینا ہے، رسول مناسب سمجھے تو مان لے مناسب نہ سمجھے تو نہ مانے، آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ کی راہنمئای کے ساتھ اسی نے کرنا ہے، جیسا کہ فرمایا :(فاذا عزمت فتوکل علی اللہ) (آل عمران :159)”پھر جب تو پختہ ارادہ کرے تو اللہ پر بھروسہ کرے۔ ‘
(4) ولکن اللہ حبب الیکم الایمان : ایمان سے مراد یہاں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہے جس میں تصدیق بالقلب ، اقرار باللسان اور عمل بالارکان تینوں شامل ہیں۔ یعنی اگر رسول بہت سی باتوں میں تمہاری اطاعت کرے تو یقینا تم مشکل میں پڑجاؤ، لیکن اللہ تعالیٰ نے (تمہیں مشکل میں پڑنے سے بچا لیا اور) ایمان یعنی رسول ﷺ کی اطاعت کو تمہارے لئے محبوب بنادیا اور اسے تمہارے دلوں میں ایسا مزین کردیا کہ تم خوش دلی سے رسول کی اطاعت پر کار بند ہوگئے۔ اس لئے بعض اوقات بتقاضیء بشریت تم سے غل طی ہوجاتی ہے مگر ایمان کی محبت اور کفر سے نفرت کی بدولت تم جلد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہو اور گناہوں سے باز رہتے ہو۔
(5) وکرۃ الیکم الکفر والفسوق والعصیان : یعنی کفر، فسوقا ور عصیان کو تمہارے لئے نپاسندیدہ بنادیا۔ رازی نے فرمایا :”ایمان میں تصدیق بالقلب، اقرار باللسان اور عمل بالا ارکان تینوں شاملیں۔ کفر دل کی تصدیق نہ ہونا ہے، فسوق زبان سے اقرار نہ کرنا ہے اور عصیان عمل نہ کرنا ہے۔“ شیخ عبدالرحمان السعید نے فرمایا :”(کفر کا معنی تو ظاہر ہے) فسوق سے مراد بڑے گناہ (کبائر) اور عصیان سے مراد ان سے کم تر درجے کے گناہ ہیں۔“ (واللہ العم)
(6) اولئک ھم الرشدون : یعنی یہ لوگ جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایمان کو محبوب بنادیا ہے اور اسے ان کے دلوں میں مزین کردیا ہے اور کفر و فسوق و عصیان کو ان کے لئے ناپسندیدہ بنادیا ہے، یہی لوگ ہیں جو کامل ہدایت والے ہیں۔”الف لام“ بیان کمال کے لئے ہے اور حصر کا فائدہ بھی دے رہا ہے کہ صحابہ ہی ہدایت پر ہیں، ان کے دشمن اور مخلاف گمراہ ہیں۔ اس آیت میں صحابہ کرام کی بےحد فضیلت بیان ہوئی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کے وہ اوصاف حمیدہ بیان کئے جو اس نے انہیں عطا فرمائے اور آخر میں صریح الفاظ میں ان کے راہ راست پر ہونے کی شہادت دی۔
Ayah 49:8(1) فضلاً من اللہ ونعمۃ : یہ ”الرشدون“ کا مفعول لہ ہے، یعنی یہ لوگ اللہ کے فضل اور اس کی نعمت کی وجہ سے کامل ہدایت والے ہیں۔ یہ ”حبب“ اور ”کرہ“ کا مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے۔
(2) واللہ علیکم حکیم : یعنی اللہ تعالیٰ نے اندھا دھند نہیں بلکہ اپنے کمال علم و حکمت کی بنا پر انہیں اپنے نبی ﷺ کی صحبت کے لئے منتخب فرمایا۔ ان کے دلوں میں ایمان کو محبوب و مزین کردیا، کفر و فسوق اور عصیان کو ناپسندیدہ بنادیا اور انہیں راہ راست پر گامزن فرما دیا، کیونکہ وہ ان کی استعداد و اہلیت پوری طرح جانتا تھا اور سا کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ انہیں اس مقام پر فائز فرمائے۔