Ayah 48:1(انا فتحنالک فتحا مبیناً : لفظ ”فتحاً“ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ اور اس کے قریب ہونے والی فتوحات ہیں اور یقیناً یہ الفاظ فتح مکہ پر بھی صادق آتے ہیں، مگر صحابہ کرام اور محقق اہل علم نے اس کا سبب نزول صلح حدیبیہ بیان فرمایا ہے۔ چناچہ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ انس ؓ نے ”انا فتحنا لک فتحا مبیناً“ کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ (بخاری، التفسیر، سورة الفتح :3833) اور برئا بن عازب ؓ نے فرمایا :”تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور واقعی فتح مکہ فتح تھی مگر ہم حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کو فتح شمار کرتے ہیں۔“ (بخاری، المغازی، باب غزوہ الحدیبۃ :3150) زید بن اسلم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفر میں چل رہے تھے، رات کو عمر بن خطاب ؓ بھی آپ کے ساتھ چل رہے تھے۔ عمر بن خطاب ؓ نے آپ ﷺ سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے انہیں جواب نہ دیا، انہوں نے پھر سوال کیا تو آپ ﷺ نے جواب نہ دیا، انہوں نے پھر آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے جواب نہ دیا۔ عمر بن خطاب ؓ نے کہا :”عمر ! تیری ماں تجھے گم پائے، تو نے اصرار کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے تین مرتبہ سوال کیا، لیکن ہر بار آپ نے جواب نہیں دیا۔“ عمر ؓ فرماتے ہیں، چناچہ میں اپنی اونٹنی کو حرکت دے کر مسلمانوں سے آگے نکل گیا، اس خوف سے کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نازل نہ ہوجائے۔ کچھ دیر بعد ہی میں یہی سمجھ رہا تھا کہ میرے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے۔ میں نے سلام کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا :(لقد انزلت علی اللیلۃ سورة لھی احب الی مما طلعت علیہ الشمس، ثم قراً :(انا فتحنا لک فتحاً مبینا) (بخاری، المغازی، باب غزوۃ الحدیبیۃ :3188)”رات مجھ پر وہ سورت اتری ہے جو مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پڑھا :(انا فتحنا لک فتحاً مبیناً)”بیشک ہم نے تجھے فتح دی، ایک کھلی فتح۔“
سہل بن حنیف ؓ سے مروی ایک لمبی حدیث کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر سورة فتح نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے عمر ؓ کی طرف پیغام بھیجا اور انہیں سورة فتح پڑھوائی۔ انہوں نے کہا :(یا رسول اللہ ! اوفتح ھو ؟)”اے اللہ کے رسول ! کیا یہ فتح ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :(نعم)”ہاں !“ تو ان کا دل خوش ہوگیا اور وہ چلے گئے۔ (مسلم، الجھاد والسیر، باب صلح الحدیبیۃ…:1885)
(2) حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ اسلام اور مسلمانوں کی عظیم فتح تھی، کیونکہ اس کے ساتھ مسلمانوں کو بیشمار فوائد حاصل ہوئے۔ جن میں سے ایک یہ تھا کہ قریش نے مسلمانوں کا وجود تسلیم کرلیا، جو اس سے پہلے وہ کسی صورت تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ ایک یہ کہ دشمن کی حقیقی قوت کا اندازہ ہوگیا اور یہ کہ وہ کس حد تک مزاحمت کرسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں مخلص ایمان والوں اور منافقین کی پہچان ہوگئی، کیونکہ منافقین رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلنے کی جرأت ہی نہیں کرسکے تھے، جیسا کہ آگے ”سیقول المخلفون“ میں آرہا ہے۔ ایک یہ کہ جزیرہ عرب میں امن قائم ہوجانے سے کفار اور مسلمانوں کا ایک دوسرے سے میل جول شروع ہوگیا۔ کفار نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی بات سنی، ان کے اخلاق دیکھے، آپ س میں بحث و مناظرہ ہوا اور دعوت کا دائرہ وسیع ہوا، جس کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد نے اسلام قبول کرلیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس سے پہلے حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چودہ صحابہ آئے تھے، لیکن صرف دو سال بعد فتح مکہ کے سال آپ ﷺ دس ہزار صحابہ کیساتھ فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہوئے۔
(3) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی تاکید کے ساتھ اس فتح کی اہمیت بیان فرمائی، ایک اس کی عظمت کے اظہار کے لئے اس کی نسبت اپنی طرف دو دفعہ جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمائی، ایک ”انا“ اور دوسرا ”فتحنا“ اور دوسری یہ کہ ”فتحنا“ کی تاکید مفعول مطلق ”فتحا“ کے ساتھ فرمائی اور تیسری یہ کہ اسے ”فتح مبین“ قرار دیا، یعنی بیشک ہم نے تیرے لئے فتح دی، ایک کھلی فتح۔
(4) ”انا فتحنالک“ میں ”لک ‘(تیرے لئے) کے الفاظ میں رسول اللہ ﷺ کی تکریم و تشریف کا اظہار ہو رہا ہے، جس سے امت کو آپ ﷺ کی قدر پہچاننے اور آپ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کی تعلیم دینا مقصود ہے۔
Ayah 48:2(1) لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر :”لیغفر“ کا لام ”لام عاقبت“ ہے، یعنی ہم نے آپ کو یہ فتح مبین عطا فرمائی تاکہ آپ کو اس کے نتیجے میں چار عظیم نعمتیں حاصل ہوں۔ گویا اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو فرما رہے ہیں کہ آپ نے اپنی رسالت کا حق ادا کیا، میرا پیغام پہنچایا، جان مار کر محنت کی، اپنی زبان اور تلوار کے ساتھ جہاد کیا، مسلمانوں کی ایک مخلص ترین جماعت تیار کی، سختی کے موقع پر سختی اور نرمی کے موقع پر نرمی کی اور مختصر سے عرصے میں وہ کامیابی حاصل کی جو طویل مدتوں میں کوئی حاصل نہ کرسکا، حتیٰ کہ وہ کام پورا کر دکھایا جو ہم نے آپ کے ذمے لگایا تھا۔ اب آپ اپنی محنت کا پھل اٹھائیں گے، جس سے دنیا اور آخرت میں آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، چناچہ ہم نے آپ کیلئے واضح فتح عطا کی جس کے نتیجے میں پہلی نعمت آپ کو یہ ملی کہ نبوت سے پہلے اور بعد کے گناہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخش دیئے۔
(2) یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ کیا نبی سے بھی گناہ کا صدور ہوسکتا ہے ؟ بعض حضرات نے انبیائے کرام (علیہم السلام) سے گناہ صادر ہونے کو ناممکن قرار دیا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک نبی سے گناہ کا صادر ہونا اس کی شان کے خلاف ہے، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ قرآن مجید نے آپ ﷺ کے متعلق لفظ ”ذنب“ استعمال کیا ہے، جس کا معروف و مشہور معنی ”گناہ“ ہے۔ اس لئے فارسی اور اردو تقریباً تمام مترجمین نے یہاں ”ذنب“ کا معنی گناہ کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ آپ کی طرف لفظ گناہ کی نسبت سے آپ کی شان میں کمی کا اظہار ہوتا ہے، تو جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انبیاء کے گناہوں کو اپنے گناہوں کی طرح سمجھ لیتے ہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء ؑ کو جتنا عظیم اورب لند مرتبہ عطا فرمایا ہے اسے محلوظ رکھتے ہوئے وہ اپنی معمولی کوتاہیوں اور لغزشوں کو گناہ قرار دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی انہیں ”ذنوب“ کہہ کر ان سے استغفار کا حکم دیتا ہے، اسی لئے وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں استغفار کرتے ہیں جس سے ان کا مرتبہ پہلے سے بھی بلند ہوجاتا ہے۔ مثلاً موسیٰ ؑ سے خطا کے ساتھ قبطی قتل ہوگیا تو انہوں نے دعا ک :(رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی فغفرلہ) (القصص :16) ”اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، سو تو مجھے بخش دے، تو اللہ نے اسے بخش دیا۔“ آدم ؑ منع کرنے کے باوجود بھول کر اس پودے میں سے کھا بیٹھے تو کہا :(ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین (الاعراف : 23)”اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہوجائیں گے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اس استغفار کے نتیجے میں انہیں ”مجتبی“ بنا لیا، فرمایا (ثم اجتبہ ربہ فتاب علیہ وھدی) (طہ : 122)”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، تو اس پر مہربانی فرمایء اور ہدایت دی۔“ یونس ؑ بغیر اجازت قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تو مچھلی کے پیٹ سے اللہ تعالیٰ کو پکارا (لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین) (الانبیائ : 88)”تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں سے ہوگیا ہوں۔“ اس استغافر کے نت یجے میں انہیں وہ مقام حاصل ہوا جو خطا نہ ہونے اور استغفار نہ کرنے کی صورت میں کبھی حاصل نہ ہوتا، فرمایا :(فاجتبہ ربہ فجعلہ من الصلحین) (القلم : 50) ”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا ، پس اسے نیکوں میں شامل کردیا۔“
بنی آدم کا فرشتوں سے یہی فرق ہے کہ فرشتوں سے نہ خطا ہوتی ہے، نہ انہیں استغافر کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ وہ استغفار سے حاصل ہونے والا بلند مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ انبیائے کرام ؑ ہماری طرح کبیرہ گناہوں کا ارتکاب یا دیدہ و دانستہ فرمانی نہیں کرتے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے فرماں بردار بندے ہوتے ہیں، البتہ ان سے بشری تقاضوں کے پیش نظر کوئی معمولی کوتاہی یا اجتہادی خطا ہوجاتی ہے۔ انبیاء کی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس خطا یا کوتاہی پر قائم نہیں رہنے دیتا، بلکہ وحی کے ذریعے سے فوراً اصلاح فرما دیتا ہے، انبیاء کے معصوم ہونے کا یہی مطلب ہے۔ کسی امتیک و، خواہ وہ کتنے بلند منصب پر فائز ہو یہ امتیاز حاصل نہیں کہ اس کی خطا کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے اصلاح کی جائے۔ انبیاء سے سر زد ہونے والی یہ معمولی کوتاہیاں یا اجتہادی خطائیں بھی ان کے مقام کے پیش نظر خود انہیں اتنی بڑی نظر آتی ہیں کہ وہ بار بار اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ ہمارے نبی مکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ”ذنوب“ سے مغفرت مانگنے کا حکم دیا، جس پر عمل کرتے ہوئے آپ بےحد استغفار کرتے تھے۔ دیکھیے سورة محمد کی آیت (19) کی تفسیر۔ استغفار کی وہ مختلف دعائیں جو رسول اللہ ﷺ اللہ کی جناب میں کیا کرتے تھے ان تمام دعاؤں میں لفظ ”ذنب“ استعمال ہوا ہے۔ ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول کا معاملہ ہے کہ آپ ﷺ ذنوب کا اقرار کر کے استغفار کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ ک و پہلے اور پچھلے ذنوب کی مغفرت کی خوش خبری دے رہے ہیں۔ صحابہ کرام ؓ بھی اس بات کا حوالہ دیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آپ کے پہلے اور پچھلے ذنوب معاف فرما دیے ہیں، جیسا کہ ام المومنین عائشہ ؓ ب یان کرتی ہیں۔ (ان نبی اللہ ﷺ کان یقوم من اللیل حتی تنفطر قدماہ فقالت عائشہ لم تصنع ھذا یا رسول اللہ وقد غفر اللہ لک ما تقدم من ذنبک وما تاخر ؟ قال افلا احب ان اکون عبداشکور ؟) (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(لیغفرلک اللہ ماتقدم…):3838)”نبی ﷺ رات اتنا قیام کرتے حتیٰ کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے تو عائشہ ؓ نے کہا :”یا رسول اللہ ! آپ اس طرح کیوں کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا :”تو کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں ؟“
یہی وجہ ہے کہ پہلے تقریباً سبھی ترجمہ کرنے والوں نے ”ذنب“ کا معنی گناہ کیا ہے۔ یہ ترجمہ کرنے والے قرآن مجید کے سب خدام کیا نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کے گستاخ اور رسول اللہ ﷺ کے مقام سے نا آشنا تھے ؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے تو رسول اللہ ﷺ گناہ گار ٹھہرتے ہیں۔ آپ ان حضرات سے پوچھیں کہ آپ ”ذنب“ کا ترجمہ کر کے بتائیے، ان میں سے ایک صاحب نے ”لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر“ کا ترجمہ کیا ہے :”تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف فرما دے۔“ ایک اور صاحب نے ترجمہ کیا ہے :”تاکہ اللہ تعالیٰ تمہاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے۔“ اپنے خیال میں ان حضرت ا نے نبی ﷺ کو گناہ گار ہونے سے تو بچا لیا مگر انہیں خطا کار اور کوتاہی کا مرتکب ہونے سے تو نہ بچا سکے، بتائیے آپ نے کون سامعر کہ سر کیا ؟ حقیقت یہ ہے کہ ایک آدھ معمولی گناہ و خطا سے آدمی نہ گناہ و خطا سے آدمی نہ گناہگار کے لقب کا حق دار بنتا ہے اور نہ ہی اسے خطاکار یا کوتاہ کار کہہ سکتے ہیں۔
بعض حضرات نے یہاں ذنب کا معنی الزام کیا ہے اور ترجمہ کیا ہے :”تاکہ اللہ تعالیٰ آپ پر لگائے گئے پہلے پچھلے تمام الزامات دور کر دے۔“ ان حضرت ا سے کوئی پوچھے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی جن کاموں پر باز پرس فرمائی اور ساتھ ہی انہیں معاف کردینے کی بشارت بھی دے دی، کیا وہ سب الزامات تھے جو اللہ تعالیٰ نے غلط قرار دے کر دور فرما دیئے ؟ مثلاً فرمایا :(یا یھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضک ازواجک واللہ غفور رحیم) (التحریم : 1) ”اے نبی ! تو کیا حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لئے حلال کیا ہے ؟ تو اپنی بیویوں کی خوشی چاہتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔“ اور فرمایا :(عفا اللہ عنک لم اذنت لھم حتی یتبین لک الذین صدقوا و تعلم اللذین) (التوبۃ : 33)”اللہ نے تجھے معاف کردیا، تو نے انہیں کیوں اجازت دی، یہاں تک کہ تیرے لئے وہ لوگ صاف ظاہر ہوجاتے جنہوں نے سچ کہا اور تو جھوٹوں کو جان لیتا۔“ اور فرمایا :(ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی ینحن فی الارض تریدون عرض الدنیا ، واللہ یرید الاخرۃ ، واللہ عزیز حکیم) (الانفال :68)”کبھی کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں قیدی ہوں، یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون بہا لے، تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ اور فرمایا :(وتخشی الناس، واللہ احق ان تخشہ) (الاحزاب :38)”اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا، حالانکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تو اس سے ڈرے۔“
اصل بات یہ ہے کہ ایسے حضرات غلو کی وجہ سے ہر اس شخص کو گستاخ رسول قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں جو ان کی طرح نبی ﷺ کو خدائی صفات کا مالک قرار نہ دے، آپ کا عالم الغیب نہ مانے، مختار کل تسلیم نہ کرے، یا یہ نہ مانے کہ آپ ﷺ سے خطاب ہوس کتی ہی نہیں۔ ان میں سے بعض حضرات نے اس مقام پر ذنب کا معنی تو گناہ ہی کیا ہے، مگر اس آیت کے ترجمے میں تحریف قرآن کے اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا اس امت کو مہلت دینے کا فیصلہ نہ ہوتا تو ان کا نام و نشان مٹا دیا جاتا۔ چناچہ ان میں سے ایک صاحب نے ”لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر“ کا ترجمہ کیا ہے :”تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے۔“ ایک اور صاحب نے ترجمہ کیا ہے، ”تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے۔“ ایک اور صاحب نے ترجمہ کیا ہے ”تاکہ آپ کی خاطر اللہ آپ کی امت (کے ان تمام افراد) کی اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے (جنہوں نے آپ کے حکم پر جہاد کئیا ور قبرانیاں دیں۔)“ ان لوگوں کی تحریف پر جرأت دیکھیے، لفظ ”ذنبک“ کا معنی ”تیرے گناہ“ کے علاوہ ہو نہیں سکتا، مگر یہ لوگ اس کا ترجمہ ”تیری امت کے اگلے پچھلے گناہ“ کر رہے ہیں اور حب رسول کے اتنے بڑے اجارہ دار بنے ہوئے ہیں کہ جو ان کی طرح تحریف نہ کرے، یا ان کی تحریف پر شاباش نہ کہے وہ ان کی نظر میں حب رسول سے آشنا ہی نہیں۔ ان لوگوں کے ترجمے کے مطابق تو تمام امتیوں کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہوچکے ہیں، اب اگر کوئی قتل یا زنا چوری کرتا ہے تو اس پر حد کیسی ؟ اسے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی مل چکی ہے۔ یہ سب نتیجہ اسی غلو کا ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا :(لاتطرونی کما اطرت النصاری ابن مریم فانما انا عبدہ، فقولوا عبداللہ و رسولہ) (بخاری احادیث، النبایئ، باب قول اللہ تعالیٰ :(واذکر فی الکتاب مریم /): 3335)”مجھے حد سے مت بڑھاؤ جس طرح نصاریٰ نے مسیح ابن مریم کو حد سے بڑھا دیا، کیونکہ میں تو صرف اس کا بندہ ہوں، سو تم ”اللہ کا بندہ اور اس کا رسول“ کہو۔“
(3) اس مقام پر اکثر مفسرین نے نبی کریم ﷺ کے متعلق لفظ ذنب کی توجیہ کرتے ہوئے ایک جملہ مسلم قول کے طور پر ذکر فرمایا ہے :”حسنات الابرار سیئات المقربین“”نیک لوگوں کی نیکیاں مقرب لوگوں کی برائیاں ہوتی ہیں۔“ یہ جملہ اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول ﷺ کا تو ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ بات کہنے والا کون ہے، مگر اکثر مفسر اور مصنف اسے اندھا دھند بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ نہ یہ سوچتے ہیں کہ نیکی بدی کیسے بن سکتی ہے اور نہ یہ خیال فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کے مطابق ابرار مقربین کی یہ تقسیم سرے سے غلط ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کون مقرب ہوگا ؟ اور آپ ﷺ پچھلی رات اٹھ کر جن آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے ان میں مذکور دعاؤں میں سیا یک دعا یہ ہے :(وتوفنا مع الابرار) (آل عمران :193)”اور ہمیں ابرار کے ساتھ فوت کر۔“ پھر وہ کون سے ابرار ہیں جن کی نیکیاں مقربین کی بدیاں ہیں ؟
(4) ویتم نعمتہ علیک : یہ دوسری نعمت ہے جو صلح حدیبیہ کے نتیجے میں حاصل ہونے کی خوش خبری دی گئی۔ اس سے مراد وہ بہت سی نعمتیں عطا کرنا ہے جو اس سے پہلے آپ کو عطا نہیں کی گئی تھیں، مثلاً قریش، اہل مکہ اور دوسرے لوگوں کا فوج در فوج اسلام میں داخل ہونا، تمام دشمنوں اور مخالفوں کا زیر وہ اجنا، پورے ملک عرب کا آپ کے زیر نگیں ہوجانا اور دین کی تکمیل وغیرہ، جن کا اس موقع پر آپ ﷺ سے وعدہ کیا گیا اور کچھ ہی عرصہ بعد پورا کردیا گیا اور اعلان ہوگیا :(الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا) (المائدۃ : 3)”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا۔“
(5) ویھدیک صراط مستقیماً : یہ تیسری نعمت کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکام پر عمل، ان کی تبلیغ و جاد، سلطنت کے معاملات اور فتح و کامرانی کے حصول کے بارے میں آپ کو بالکل سیدھے راستے پر چلائے گا۔ اگرچہ یہ سب کچھ پہلے بھی آپ کو حاصل تھا، مگر اس کے بعد جس وسعت کے ساتھ حاصل ہوا وہ پہلے حاصل نہ تھا۔ مزید دیکھیے سورة فاتحہ کی آیت :(اھدنا الصراط مستقیم) کی تفسیر۔
Ayah 48:3وینصرک اللہ نصراً عزیزاً : چوتھی اور آخری نعمت یہ ہے کہ ”نصر عزیز“ کا ذکر اپنے سب سے باعظمت نام ”اللہ“ کے ساتھ فرمایا، تاکہ اس کی اہمیت واضح ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی مدد فرمائیگا جس سے آپ کو عزت و قوت اور غلبہ حاصل ہوگا اور آپ کے دشمن عاجز اور مغلوب ہوجائیں گے۔ یہاں مبالغے کے لئے ”عزیز“ کی نسبت ”نصر“ کی طرف فرمائی ہے، ورنہ عزیز تو اس کے نتیجے میں رسول اللہ ﷺ نے ہونا ہی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہتے ہیں :”فلان نھارہ صائم ولیلہ قائم“ ”فلاں کا دن روزہ رکھنے والا اور رات قیام کرنے والی ہے۔“
Ayah 48:4(1) ھو الذی انزل الکسینۃ فی قلوب المومنین :”الکسینۃ“ سے مراد وہ سکون و اطمینان اور ثبات قلب ہے جس کا اتارنا اللہ تعالیٰ نے مدینہ سے نکلنے سے لے کر اس فتح مبین کے حصول تک مومنوں کے دلوں پر مسلسل جاری رکھا اور جو اس فتح کا اہم سبب بنا، ورنہ اگر مسلمان مدینہ سے عمرہ کے لئے نکلتے وقت منافقین کی طرح سوچنے لگتے کہ یہ تو صریحاً موت کے منہ میں جانا ہے، یا راستے میں جب اطلاع ملی کہ قریش لڑنے مرنے پر تلے ہوئے ہیں تو ہمت ہار جاتے، یا حدیبیہ میں پہنچنے پر جس طرح کفار نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا اور چھاپے اور شب خون مار مار کر انہیں اشتعال دلانے کی کوشش کی ، پھر جب عثمان ؓ کی شہادت کی خبر پھیلی، ان میں سے کسی موقع پر اگر مسلمان اپنے آپ پر قابو نہ رکھتے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت پر قائم نہ رہتے تو یہ فتح مبین کبھی حال نہ ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکینت ہی تھی جس نے ہر موقع پر انہیں اطاعت پر ثابت قدم رکھا۔ پھر جب صلح کی وہ شرئاط ان کے سامنے آئیں جو مسلمانوں کو سخت ناپسند اور ان کے خیال میں ان اطاعت پر ثابت قدم رکھا۔ پھر جب صلح کی وہ شرائط ان کے سامنے آئیں جو مسلمانوں کو سخت ناپسند اور ان کے خیال میں ان کی ذلت کا باعث تھیں، خصوصاً ابوجندل ؓ مظلومیت کی تصویر بنے ہوئے مجمع عام میں آکھڑے ہوئے، اس موقع پر اس سکینت ہی کی برکت تھی کہ سب نے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر سر تسلیم خم کردیا۔
(2) لیزدادوآ ایمانا مع ایمانھم : یعنی ایمان انہیں پہلے بھی حاصل تھا مگر ان تمام آزماشوں میں ثابت قدم رہنے کی وجہ سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور جب اس ثابت قدمی کے خوش گوار نتائج سامنے آئے تو ان کا ایمان مزید بڑھ گیا۔ یہ آیت بھی ان بہت سی آیات و احادیث میں سے ایک ہے جو ایمان میں زیادتی اور کمی کی دلیل ہیں۔ امام بخاری نے متعدد آیات و احادیث کے ساتھ اس مسئلے کو مدلل ذکر فرمایا ہے۔ روح المعانی میں ہے :”بخاری نے فرمایا، میں بہت سے شہروں میں ایک ہزار سے زائد علماء سے ملا، میں نے ان میں سے ایک شخص بھی نہیں دیکھا جو اس بات سے اختلاف کرتا ہوا کہ ایمان قول اور عمل ہے اور اس میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے اور انہوں نے اس کی عقلی اور نقلی دلیلیں بیان کی ہیں۔ عقلی دلیلیں تو یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت میں تفاوت نہ ہو تو امت کے عام آدمیوں کا ایمان، جو فسق و فجور میں منہمک رہتے ہیں، انبیاء کے ایمان کے برابر ہوگا اور یہ لازم باطل ہے ، سو ملزوم بھی ایسا ہی ہے اور نقلی دلیل یہ کہ اس مفہوم کی آیات و احادیث بہت زیادہ ہیں جن میں سے ایک یہ آیت ہے جو زیر تفسیر ہے۔“ (ملحضاً) یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان میں زیادتی کا مطلب اعمال کے لحاظ سے زیادتی ہی نہیں بلکہ دل کی تصدیق اور اس کے یقین میں بھی زیادتی اور کمی ہوتی ہے۔ کبھی یقین کا یہ حال ہوتا ہے کہ آدمی اپنی جان، مال اور ہر چیز اللہ کی راہ میں لٹانے پر تیار ہوجاتا ہے اور بھی اس یقین میں ایسی کمی ہوتی ہے کہ اسلام قبول کرتے وقت ایمان کا جو سرمایہ اسے حاصل ہوا تھا وہ بھی خطرے میں پڑجاتا ہے۔ تعجب اور افسوس ہے ان بڑے بڑے شیوخ الحدیث پر جو اتنی صریح آیات و احادیث کے باوجود یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے، ان کے علمک ا کمال یہی ہے کہ وہ تاویل کے ذریعے سے ثابت کردیتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا ایمان برابر ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے دھڑے کے کسی بزرگ نے کہہ دیا ہے کہ ایمان میں نہ زیاتدی ہوتی ہے نہ کمی۔
(3) وللہ جنود السموت ولارض : یعنی آپ کو ظاہر اسباب کی کمی کے باوجود یہ فتح مبین آپ کی جدوجہد یا ذاتی کمال کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد کی بدولت حاصل ہوئی، کیونکہ وہی آسمانوں کے اور زمین کے بیشمار لشکروں کا مالک ہے۔ جس کی چاہتا ہے جس لشکر کے ساتھ چاہتا ہے مدد کردیتا ہے۔ آسمانوں کے لشکروں کی مثال بدر میں نازل ہونے والے فرشتے، احزاب میں آنے والی آندھی اور بدر میں اترنے والی بارش ہیں اور زمین کے لشکروں کی مثال فتح مکہ کے موقع پر آنے والے دس ہزار مجاہدین کا عظیم الشان لشکر ہے۔”للہ“ کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہوا، جس کا مطلب ہوا کہ اللہ تعالیٰ مانتا ہی نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں اس کے علاوہ بھی کسی کے پاس کوئی لشکر ہے، کیونکہ اس کیس امنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔
(4) وکان اللہ علیماً حکیماً : یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے لشکروں کا اکیلا مالک ہے اور لشکر بھی ایسے کہ ان میں سے کسی لشکر کا ایک فرد اگر اللہ کا حکم ہو تو تمام کافر کو نیست و نابود کر دے، مگر اس نے یہ فتح مبین اور نصر عزیز صلح کی صورت میں عطا فرمائی کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ اس کے علم میں یہ بات تھی اور اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ اب کفار کو تلوار کی مار کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے اور ان کی دعوت سننے کا موقع دیا جائے، تاکہ کافر مسلمان ہوجائیں اور دشمن دوست بن ذجائیں۔ واضح رہے، یہاں ”علیماً حکیماً“ فرمایا ہے : جبکہ آگے جہاں کفار و منافقین کیلئے عذاب اور لعنت کا ذکر فرمایا ہے وہاں ”عزیز اً حکیماً“ فرمایا ہے، کیونکہ عذاب کے ذکر کے مناسب صفت علم کے بجائے صفت عزیز ہے۔
Ayah 48:5(2) لیدخل المومنین : سب سے واضح اور صحیح بات یہی ہے کہ لیدخل کا لام ھوالذی انزل السکینۃ کے متعلق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایمان میں اور زیادہ ہوجائیں اور تاکہ اس کی سکینت اور ایمان کی زیادتی کے ذریعے اللہ تعالیٰ مومن مردوں اور مومن عورتون کو ان باغوں میں داخل کرے جن کے تلے نہریں چلتی ہیں
والمومنت : مومن عورتوں کا ذکر خاص طور پر یہاں اس لئے فرمایا کہ جہاد کا اجر صرف مردوں کے ساتھ خاص نہ سمجھ لیا جائے، کیونکہ مومن عورتیں بھی جہاد میں شریک ہوتی ہیں۔ وہ اپنے بھائیوں، خاوندوں، بیٹوں، باپوں اور دوسرے عزیزوں کے جہاد پر نکلنے میں رکاوٹ نہیں بنتیں، بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، ان کی عدم موجودگی میں تنہائی اور دوسری پریشانیوں پر صبر کرتی ہیں اور ان کی شہادت کی صورت میں بیوہ ہونے اور بچوں کے یتیم ہونے پر صبر کرتی ہیں۔ ان میں سے کئی لشکر کے ساتھ جا کر کھانا پکانے، کپڑے دھونے، صفائی کرنے کی اور دوسری خدمات سر انجام دیتی ہیں۔ لڑائی کی صورت میں مجاہدوں کو پانی پلانے ، زخمیوں کی مرہم پٹی اور بیماریوں کی تیمار داری کا اہتمام کرتی ہیں۔ (ابن عاشور)
(3) جنت تجری من تحتھا الانھر…: جنتوں میں داخل کرنے سے مراد یہاں خاص داخلہ ہے جو مجاہدین کے ساتھ خاص ہے ، وہ داخلہ نہیں جو محض ایمان اور عمل صالح کی بدولت حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے ساتھ ہی فرمایا :(ویکفر عنھم سیاتھم)”اور تاکہ وہ ان سے ان کی برائیاں دور کرے۔“ (ابن عاشور) ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان فی الجنۃ مائۃ درجۃ اعدھا اللہ للماجاھدین فی سبیل اللہ مابین الدر جتین کما بین السماء والارض فاذا سالتم اللہ فاسالوہ الفردوس فانہ اوسط الجنۃ و اعلی الجنۃ اراہ قال و فوقۃ عرش الرحمٰن۔ ومنہ تفجر انھار الجنۃ) (بخاری، الجھاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ :2890)
”جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجادین فی سبیل اللہ کیلئے تیار فرمائے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے، تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا افضل اور جنت کا اعلیٰ حصہ ہے۔ (یحییٰ بن صالح نے کہا) میں سمجھتا ہوں یوں کہا کہ اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔“
Ayah 48:6(1) ویعذب المنفقین والمنفقت…: اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکینت کی بدولت ایمان والے مجاہد مردوں اور عروتوں کے جنت میں داخلے کے ذکر کے بعد ان لوگوں کو عذاب دینے کا ذکر فرمایا جو اس غزوہ کے نتیجے میں اللہ کے غضب اور لعنت کا نشانہ بنے اور جہنم ان کا ٹھکانا بنی۔ منافقین و کافر کو یہ عذاب مسلمانوں کی تول اورں کے ساتھ بھی دیا گیا، جیسا کہ فرمایا (قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم) (التوبۃ : 13)”ان سے لڑو، اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“ اور مسلسل خوف اور رسوئای کے ساتھ بھی اور مسلمانوں کی کامیابیاں اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کی صورت میں بھی۔ آخرت کا عذاب اس کے علاوہ اور ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہاں منافقین کا ذکر کفار سے پہلے کرنے کا مقصد مسلمانوں کو آگاہ کرنا عذاب اس کے علاوہ اور ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہاں منافقین کا ذکر کفار سے پہلے کرنے کا مقصد مسلمانوں کو آگاہ کرنا ہے کہ منافقین کا کفر پوشیدہ ہے، اسلئے وہ زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں، لہٰذا مسلمانوں کو نہ انہیں بھولنا چاہیے اور نہ ان سے کبھی غافل ہونا چاہیے۔ منافق اور مشرک مردوں کے ساتھ منافق اور مشرک عورتوں کا ذکر اس لئے فرمایا کہ وہ بھی ان کی پوری طرح راز دار ، ہر طرح سے معاون اور تمام سازشوں میں شریک ہیں۔
(2) الظانین باللہ ظن السوہ :”منافقین“ سے مراد مدینہ منورہ کے منفاقین ہیں اور ”مشرکین“ سے مراد مکہ معظمہ کے مشرکین۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ذلت و رسوائی کا عذاب دیا، اس لئے کہ منافقین کا اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ غلط گمان تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جکرام ؓ جو عمرہ حدیبیہ ادا کرنے کیلئے آپ کے ساتھ گئے ہیں وہ واپس مدینہ نہیں آسکیں گے، مشرکین انھیں وہیں تباہ و برباد کردیں گے اور مشرکین نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے دین کو مٹنے سے نہیں بچا سکے گا اور کفر کا کلمہ بند ہو کر رہے گا۔ (قرطبی وغیرہ)
(3) علیھم دآئرۃ السوئ : اس جملے کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة توبہ کی آیت (98) کی تفسیر۔ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آرہی ہے :”ای الظانین باللہ ظن السوہ والمتربصین لکم الدواثر، علیھم دائرۃ السوئ“ ”تاکہ ان منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کو عذاب دے) جو اللہ کے متعلق براگمان کرنے والے اور تم پر زمانے کی گردشوں کا انتظار کرنے والے ہیں، بری گردش خود انھی پر آنے والی ہے۔“
Ayah 48:7واللہ جنود السموت والارض …: یہ جملہ پہلے بھی گزر چکا ہے، یہاں اللہ کے جنود سے ڈرانا اور کفار و منافقین کو عذاب، غضب اور لعنت کی وعید سنانا مقصود ہے، جس کیساتھ عزیز کی صفت مناسبت رکھتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ جیسے عذاب دینا چاہے یا ذلیل و رسوا کرنا چاہے کوئی اسے روک نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی اس کے مقابلے میں غالب آسکتا ہے، مگر حکیم بھی ہے، اسلئے اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق نافرمانوں کو فوراً نہیں پکڑتا، بلکہ انہیں ملہت دیتا ہے، تاکہ وہ باز آجائیں، مگر جب پکڑتا ہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے جس سے بچ کر کوئی نکل نہیں سکتا۔
Ayah 48:8انا ارسلنک شاھداً و مبشراً و نذیراً : سورت کے شروع سے یہاں تک رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کے لئے فتح و نصرت، مغفرت، تکفیر سیئات اور نجت میں داخلے کی بشارت اور وعدے کا بیان ہے، جس کے ساتھ منافقین و کفار کے لئے عذاب، غضب، لعنت اور جہنم میں داخلے کی وعید کا بیان ہے۔ اب یہاں سے اس فتح مبین کے مختلف پہلوؤں کی تفصیل کا آغاز ہوتا ہے جس کی تمہید کے طور پر رسول اللہ ﷺ کا مقام و منصب بیان فرمایا، تاکہ مسلمان اسے پہچانیں اور آپ ﷺ کی اطاعت اور جاں نثاری میں کوئی دریغ نہ کریں۔ چناچہ فرمایا کہ ہم نے آپ کو جن یا میں لوگوں کے سامنے حق کی شہادت دینے والا، اسے تمام لوگوں تک پہنچا دینے والا، آخرت میں ان پر پیغام حق پہنچا دینے کی شہادت دینے والا، فرماں بر داروں کو بشارت دینے والا اور نافرمانوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اس مقام پر اصل مقصود فتح کی بشارت اور اس سے متعلقہ معاملات ہیں، سالئے آپ ﷺ کی تعریف میں صرف تین الفاظ ”شاھداً“ ، ”مبشرا“ اور ”نذیراً“ بیان فرمائے، جبکہ سورة احزاب میں مقصود رسول اللہ ﷺ کے اپنے متنبیٰ زید ؓ کی مطلقہ زینب ؓ سے نکاح اور دوسرے معاملات پر منافقین کی اڑائی ہوئی گرد سے آپ ﷺ کا دامن پاک کرنا ہے، اس لئے وہاں سورة احزاب (46) میں آپ ﷺ کی زیادہ تعریف فرمایء اور ان تینوں اوصاف کے ساتھ ”وداعیا الی اللہ باذنہ و سراجاً منیراً“ (اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے اذان سے اور روشنی کرنے والا چراغ) بھی فرمایا۔ (ابن عاشور)”شاھدا“ کی تفسیر کے لئے مزید دیکھیے سورة احزاب (45) ، بقرہ (143) اور سورة نسائ (41)۔
Ayah 48:9لتومنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ …: ”تعزیر“ کا معین ہے تعظیمکے ساتھ مدد کرنا۔ (راغب) اور ”توقیر“ وقار سے نکلا ہے، تعظیم کرنا۔ اس بات پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ ”تسبحوہ“ (اس کی تسبیح کرو) سے مراد اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہے، کیونکہ تسبیح اللہ کے سوا کسی کی ہو ہی نہیں سکتی۔ اکثر مفسرین کے مطابق اس سے پہلے دونوں الفاظ ”تعززروہ“ اور ”توقروہ“ میں بھی ضمیر غائب کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہونا چاہیے تاکہ تمام ضمیروں میں موافقت رہے۔ مطلب یہ ہوگا ”تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس (اللہ) کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور دن کے شروع اور آخر میں اس کی تسبیح کرو۔“ اللہ کی مدد سے مراد اس کے دین کی مدد ہے، جیسا کہ فرمایا :(ان تنصروا اللہ ینصرکم) (محمد : 8) ”اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔“
بعض مفسرین نے فرمایا کہ ”وتعزروہ وتوقروہ“ میں ضمیر غائب اس سے پہلے ”لتومنوا باللہ و رسولہ“ میں مذکور ”رسولہ“ کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ وہ ”تعزروہ“ کے قریب تر ہے، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے ذکر کے ساتھ آپ کی تعزیر و توقیر کا حکم دے کر آخر میں اپنی تسبیح کا حکم دیا۔ اس مقام پر رسول اللہ ﷺ کی توقیر و تعزیز کے بیان کی مناسبت بالکل واضح ہے کہ آگے آپ کی بیعت کو اللہ تعالیٰ سے بیعت قرار دیا۔ مطلب یہ ہوگا :”تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس (رسول) کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور دن کے شروع اور آخر میں اس (اللہ) کی تسبیح کرو۔“ یہ معنی بھی درت ہے، اگرچہ اس میں ضمیروں میں موافقفت نہیں رہتی، مگر قرینہ موجود ہو تو ضمیروں کا اتفاق ضروری نہیں ہوتا۔ اس معنی کی تائید سورة اعراف کی آیت سے ہوتی ہے جس میں تعزیر کا لفظ رسول اللہ ں کے لئے آیا ہے، فرمایا :(فالذین امنوا بہ و عزروہ ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ، اولئک ھم المفلحون) (الاعراف :158)”سو وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے اور اسے قوت دی اور اس کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“ قرآن و حدیث میں لفظ ”تعزیر“ قوت دینے یا مدد کرنے کے معنی میں اللہ تعالیٰ کے لئے استعملا نہیں ہوا۔ ہاں ”توقیر“ کا مادہ ”وقار“ اللہ تعالیٰ کے لئے سورة نوح میں آیا ہے، فرمایا :(مالکم لاترجون للہ وقاراً (نوح : 13)”تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے ؟“ اس لئے سیاق کے لحاظ سے دوسرا معنی درست ہے، اگرچہ اتحاد ضمائر کی جو خوبی پہلی تفسیر میں موجود ہے وہ دوسری میں نہیں۔
Ayah 48:10(1) ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ : سیاق کے لحاظ سے اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے اور مفسرین نے اس کا مصداق اسی کو قرار دیا ہے، اگرچہ ”یبایعونک“ کے لفظ میں ہر وہ بیعت شامل ہے جو رسول اللہ ﷺ سے کی گئی، خواہ بیعت رضوان ہو یا اس سے پہلے یا بعد کی کوئی بیعت۔ اسے بیعت اس لئے کہتے ہیں کہ مسلمان اس عہد کے ذریعے سے اپنی جان اور اپنا مال جنت کے بدلے میں فروخت کردیتا ہے۔ اسلام کا مطلب بھی یہی ہے کہ جس نے اسلام قبول کیا وہ اپنی جان اور اپنا مال اللہ تعالیٰ کے ہاتھ فروخت کرچکا، جیسا کہ فرمایا :(ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم و اموالھم بان لھم الجنۃ یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون و یقتلون وعداً علیہ حقاً فی التوریۃ والانجیل والقرآن، ومن اوفی بعھدہ من اللہ فاستبشروا وبیعکم الذی بایعتم بہ ، وذلک ھوالفوز العظیم) (التوبۃ : 111)”بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لئے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لئے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتلکئے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو اپنے اس سودے پر خوب خوش ہوجاؤ جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی تعظیم و تکریم اور اس کا شرف بیان کرنے کیلئے فرمایا :(ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ)”بیشک وہ لوگ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں۔“ یہ ایسے ہی جیسے فرمایا :(من یطع الرسول فقد اطاع اللہ) (النسا : 80) ”اور جو رسول کی اطاعت کرے تو بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ ”کیونکہ رسول، اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ہے، اس لئے اس کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور اس کے ہاتھ پر بیعت اس کے واسطے سے اللہ تعالیٰ س۔ بیعت ہے۔
(2) ید اللہ فوق ایدیھم :”ید اللہ“ کا لفظیم عنی ہے ”اللہ کا ہاتھ“ اور اللہ کے ہاتھ کی کیفیت مخلوق کے علم و ادراک سے بلند ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کے فرمائے ہوئے الفاظ پر اکتفا کرنا چاہیے کہ ”اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ کیا وپر ہے۔“ رہی یہ بات کہ کیسے ہے ؟ تو یہ بات اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ مفسرین نے یہاں مختلف تاویلیں کی ہیں اور سب تاویلوں کا باعث یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں جیسا سمجھا اور اس کا ہاتھ اوپر ہونے کو اپنا ہاتھ اوپر ہونے کی طرح سمجھا، اس لئے اس کا انکار کردیا یا تاویل کردی۔ حالانکہ یہ بات بہت سی آیات و احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ صحابہ کرام ؓ نے بھی یہ آیات سنیں، کسی نے تاویل کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی، نہ کسی نے انکار کای، جو الفاظ جس طرح آئے اسی طرح مان لئے۔ ہمیں ب یھ اس چکر میں نہیں پڑنا چاہیے کہ اللہ کا ہاتھ کیسا ہے اور ان کے ہاتھ کیا وپر کس طرح ہے۔
(3) بیعت رضوان وہ بیعت ہے جو حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام ؓ نے ایک درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر کی تھی۔ ان کی تعداد اکثر صحیح روایات کے مطابق چودہ سو تھی، بعض صحابہ نے پندرہ سو بھی بیان کی ہے۔ جابر ؓ سے صحیح سند کیساتھ چودہ سو اور پندرہ سو دونوں روایتیں موجود ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ نے تطبیق یہ دی ہے کہ ان کی تعداد چودہ سو اور پندرہ سو کے دریمان تھی، بعض اوقات زائد کو چھوڑ کر چودہ سو بیان کردیئے اور بعض اوقات درمیان کا عدد پورا کر کے پندرہ سو بیان کردیے۔ احادیث میں ہے کہ ان تمام صحابہ نے یہ بیعت کی، صرف جدبن قیس نامی شخص نے بیعت نہیں کی۔
اس بیعت کا باعث یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن عفان ؓ کو حدیبیہ سے اہل مکہ کی طرف بات چیت کے لئے بھیجا کہ وہ مسلمانوں کو بیت اللہ کا عمرہ ادا کرنے سے نہ روکیں۔ عثمان ؓ کے واپس آنے میں دیر ہوئی تو افواہ پھیل گئی کہ انہیں قتلک ر دیا گیا ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے لڑنے کا پختہ ارادہ فرمال یا اور صحابہ کو بیعت کی دعوت دی۔ سلمہ بن اکوع ؓ نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ سے دو دفعہ بیعت کرنے کا ذکر کیا تو (ان کے شاگرد) یزید نے پوچھا ”اے ابو مسلم ! آپ اس دن کس چیز پر بیعت کرتے تھے ؟“ انہوں نے فرمایا :”موت پر۔“ (بخاری، الجھاد ولاسمیر، باب البیعۃ فی الحرب علی ان لایفروا :296) جبکہ جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا :”ہم نے آپ ﷺ سے موت پر بیعت نہیں کی بلکہ اس بات پر بیعت کی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔“ (مسلم، الامارۃ باب استحباب مبایعۃ الام الجیش …:1856/68 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ نے موت پر بیعت کی اور بعض نے اس بات پر کہ ہم کسی صورت میدان سے فرار اختیار نہیں کریں گے اور دونوں کی حقیقت ایک ہی ہے، کیونکہ کسی صورت نہ بھاگنے کا مطلب موت کے لئے تیار رہنا ہی ہے۔ چونکہ عثمان ؓ کی شہادت کی خبر یقینی نہیں تھی، بلکہ ان کے زندہ ہونے کا بھی امکان تھا، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کو بھی اس بیعت میں شریک فرما لیا۔ چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا :(قلو کان احد اغر ببطن مکۃ من عثمان لبعنہ مکانہ، فبعث رسول اللہ ﷺ عثمان و کانت بیعۃ الرضوان بعد ما ذھب عثمان الی مکۃ فقال رسول اللہ ﷺ بیدہ الیمنی ھذہ ید عثمان فضرب بھا علی بدہ، فقال ھذہ لعمان) (بخاری، فضائل اصحاب النبی ﷺ ، باب مناف، عثمان بن عفان ابی عمرہ القریشی :3699)”اگر وادی مکہ میں عثمان ؓ سے زیادہ کوئی شخص عزت والا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اس کے بجائے اسے بھیجتے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان ؓ کو مکہ بھیجا اور بیعت رضوان عثمان کے مکہ جانے کے بعد ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں اہتھ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا :”یہ عمثان کا ہاتھ ہے۔“ پھر اسے دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا :”یہ عثمان کی بیعت ہے۔“ کفار کو جب اس بیعت کے متعلق پتا چلا تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے عثمان کو واپس بھیج دیا اور صلح کی کوششیں شروع کردیں جس کے نتیجے میں صلح حدیبیہ ہوئی۔
(4) فمن نکت فانما ینکث علی نفسہ : یہ بات مسلم ہے کہ ان صحابہ میں سے کسی نے اس بیعت میں کیا ہوا عہد نہیں توڑا، خصوصاً اس لئے کہ یہ بیعت خون عثمان کے قصاص کے لئے لڑائی کے متعلق لی گئی تھی اور اس کا دورانیہ بیعت سے لے کر صلح ہونے تک تھا۔ اس بیعت سے حاصل شدہ رضوان الٰیہ کے لئے اتنا ہی کافی ہے، اگرچہ بعد میں بھی ان صحابہ میں سے کسی سے میدان جہاد سے فرار ثابت نہیں۔
(5) ومن اوفی بما عہد علیہ اللہ…: اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو پورا کرنے والوں کے لئے اجر عظیم ہے اور جیسا کہ آگے آرہا ہے اللہ تعالیٰ کے راضی ہوجانے کی بشارت کے بعد جو لوگ ان مبارک ہستیوں سے بغض یا عداوت رکھیں ان کی بدنصیبی میں کیا شک ہے۔
(6) بما عھد علیہ اللہ : جمہور قراء نے ”علیہ“ کی ”ہائ“ پر کسرہ پڑھا ہے، اس کیو جہ یہ ہے کہ یہ ضمیر اصل میں ”ھو“ ہے، واؤ حذف کرنے کے بعد بھی یہ مضمون ہی رہتی ہے، جیسے ”لہ“ اور ”ضربہ“ میں ہے، البتہ اس سے پہلے ”یائ“ ہو تو اس کی رعایت سے اس پر کسرہ پڑھا جاتا ہے، جیسے ”فیہ، الیو ، علیہ“ وغیرہ میں ہے۔ یہاں حفص نے جو اس پر ضمہ پڑھا ہے آلوسی نے اس کی دو مناسبتیں بیان کی ہیں، ان میں سے ایک کی فصیل یہ ہے کہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیعت اور عہد کا ذکر ہے جو لفظ ”اللہ“ کو ایسے طریقے سے ادا کرنے کا تقاضا کرتا ہے جس سے اس کی عظمت اور لجال کا اظہار ہوتا ہو کہ کتنی عظیم ہستی سے عہد کیا گیا ہے اور معلوم ہے کہ لفظ ”اللہ“ سے پہلے اگر کسرہ ہو تو اس کے لام کو باریک پڑھا جاتا ہے، اسے تفخیم کے ساتھ (پر کر کے) نہیں پڑھا جاتا۔ اس لئے ”علیہ“ کی ”ہائ“ پر کسرہ کے بجائے ضمہ لایا گیا ہے، تاکہ لفظ ”اللہ“ کی ادائیگی پوری شان و شوکت اور جلال و عظمت کے اظہار کے ساتھ ہو۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ ”علیہ“ میں ”ہائ“ اصل میں ”ھو“ ہے، جیسا کہ پیچھے گزرا، لہٰذا اس کا اصل اعراب ضمہ ہے نہ کہ کسرہ، اسلئے اصل ضمہ کو باقی رکھنا اصل عہد کے قائم رکھنے اور پورا کرنے کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
Ayah 48:11(1) سیقول لک المخلقون من الاعراب : رسول اللہ ﷺ نے جب عمرہ کے لئے جانے کا ارادہ فرمایا تو مدینہ کے اردگرد کے اعراب کو ساتھ چلنے کے لئے کہا، تاکہ اہل مکہ مسلمانوں کی تعداد دیکھ کر انہیں عمرہ سے نہ روکیں، مگر ان میں سے اکثر لوگ جان بوجھ کر پیچھے رہ گئے۔ یہ لوگ اگرچہ منافق نہیں تھے مگر ابھی تک ایمان ان کے دلوں میں پوری طرح جاگزیں نہیں ہوا تھا۔ اس کی دلیل آگے آنے والی آیات (قل للملخفین من الاعراب…“ ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ مظفر و منصور واپس روانہ ہوئے تو ان لوگوں نے اپنے دلوں میں عذر بہانے تیار کئے جو وہ آپ کی آمد پر آپ کے سامنے پیش کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو پہلے ہی راستے میں ان کے بہانوں کی اطلاع دے دی جو وہ پیش کرنے والے تھے اور ان کے پیچھے رہنے کا حقیقی سبب بھی بتادیا۔ یہ قرآن مجید کے معجزات میں سے ہے کہ اس نے وہ بات پہلے ہی بتادی جو بعد میں ہونے والی تھی۔
(2) ”المخلفون“ کا لفظی معنی ”پیچھے چھوڑ دیئے جانے والے“ ہے، جبکہ یہ لوگ جان بوجھ کر خود پیچھے رہے تھے، تو بظاہر ان کے لئے لفظ ”متحلفون“ (پیچھے رہنے والے) استعمال ہونا چاہیے تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ”الملخفون“ کا لفظ استعمال فرمایا۔ یعنی ان کی بدنیتی اور شامت اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ساتھ جانے کی توفیق ہی نہیں دی، بلکہ انہیں پیچھے چھوڑ دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی کا نیک اعمال سے محروم رہنا اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے اعمال بد کی وجہ سے نیک اعمال کی توفیق سلب کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ تبوک کے مخلفین کے متعلق فرمایا :(ولو ارادوا الخروج لا عدوا لہ عدۃ ولکن کرہ اللہ ابعاثھم فثبطھم و قیل اقعدوا مع القعدین) (التوبۃ : 36)”اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لئے کچھ سامان ضرور تیار کرتے اور لیکن اللہ نے ان کا اٹھنا نپاسند کیا تو انہیں روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔“ مزید دیکھیے سورة توبہ (81)۔
(3) شغلتنا اموالنا واھلونا فاستغفرلنا : یعنی یہ اعراب کہیں گے کہ ہمارے مال مویشی اور بیوی بچے ہمارے آپ کے ساتھ چلنے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے، کیونکہ ان یک دیکھ بھال اور حفاظت کرنے والا کوئی نہ تھا، اس لئے ہماری اس کوتاہی پر آپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں معاف فرما دے۔
(4) یقولون بالسنتھم مالیس فی قلوبھم : یعنی یہ لوگ تمہارے مدینہ پہنچنے پر اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہیں گے جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں۔ مال مویشیا ور الہ و عیال کی رکاوٹ ان کا جھوٹا بہانہ ہے۔ اسی طرح ان کا استغفار کے لئے کہنا محض بناوٹ ہے، ورنہ گناہ کا ایسا ہی احساس ہوتا تو ساتھ کیوں نہ جاتے۔ ان کے نہ جانے کا اصل سبب اللہ علام الغیوب نے اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے۔
(5) قل فمن یملک لکم من اللہ شیئاً …: یہ ان کی دونوں باتوں کا جواب ہے، فرمایا تم جو اپنے کہنے کے مطابق اپنے مال و اہل کی دیکھ بھال اور حفاظت کی وجہ سے ساتھ نہیں گئے، بتاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور تمہارے جہاد سے پیچھے رہنے پر گھر میں موجود ہونے کے باوجود تمہارے اموال اور گھر والوں کو تباہ و برباد کر دے تو تمہیں اس سے کون بچا سکتا ہے ؟ یا اگر وہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہے اور تمہارے جہاد پر جانے کے باوجود تمہارے اموال اور گھر والوں کی حافظت کرے اور ان میں برکت اور اضافہ فرما دے تو کون اسے روک سکتا ہے ؟ جب نفع و نقصان کو کوئی روک نہیں سکتا تو اللہ اور سا کے رسول کے حکم کے مقابلے میں ان چیزوں کی پروا کیوں کرتے ہو ؟ اور تم نے جو استغفار کے لئے کہا ہے، اگر تم فی الواقع اپنے کئے پر نادم ہو اور اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرنا چاہیے تو کون اسے روک سکتا ہے ؟ پھر اگر میں تمہارے لئے استغفار نہ بھی کروں تو تمہارا کچھ نقصان نہیں اور اگر تم نادم نہیں ہو، صرف بناوٹ کے طور پر استغفار کے لئے کہہ رہے ہو تو اس صورت میں اگر میں تمہارے لئے استغافر کر بھی دوں اور اللہ تعالیٰ تمہیں معاف نہ کرنا چاہیے، بلکہ سزا دینا چاہے تو کون اسے روک سکتا ہے ؟
(6) بل کان اللہ بما تعملون خبیراً : یعنی بات وہ نہیں جو تم نے سمجھ رکھی ہے کہ ہم زبان سے جو کچھ کہہ دیں گے مان لیا جائے گا اور ہمارے دل کا حال چھپا رہے گا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف موجود وقت ہی میں نہیں بلکہ ہمیشہ سے ان تمام اعمال سے پورا باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ ہمیشگی کا مفہم ”کان“ ادا کر رہا ہے۔ مفسر طبری کے الفاظ ہیں :”بل لم یزل اللہ بما یعملون من خیر و شر خبیراً“”بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کے تمام اچھے اور برے اعمال کی پوری خبر رکھنے والا رہا ہے۔“
Ayah 48:12(1) بل ظنتم ان لن ینقلب الرسول والمومنون…: یعنی تمہارے پیچھے رہنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ تم نے سمجھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان، جو احرام باندھ کر جا رہے ہیں، پورا اسلحہ بھی ساتھ لے کر نہیں جا رہے اور اس دشمن کے پاس جا رہے ہیں جس نے سینکڑوں میل دور سے آکر مدینہ میں ان کے کئی آدمی قتل کردیے اور سخت نقصان پہنچایا، یہ وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے، کوئی بچ کر واپس نہیں آئے گا۔
(2) وزین ذلک فی قلوبکم، یعنی تمہیں اپنے پیچھے رہنے پر کوئی ندامت بھی نہ تھی، بلکہ دل میں خوش تھے کہ ہم نے بہت اچھا کیا کہ ساتھ نہیں گئے۔”یہ بات تمہارے دلوں میں مزین کردی گئی“ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے فعل مجہول ”زین“ کا لفظ استعمال فرمایا۔ مزین کس نے کیا، اس کی صراحت نہیں فرمائی، کیونکہ وہ متعدد چیزیں ہیں، مثلاً دنیا کی مرغوبات، آدمی کا نفس شیطان اور برے ساتھی وغیرہ۔
(3) وکنتم قوماً بوراً :”بوراً“”بائر“ کی جمع ہے جو ”بار یبور بوراً“ (ن) سے اسم فاعل ہے، ہلاک ہونے والے یعنی اصل بات یہ ہے کہ تم شروع سے اپنی نامردی اور بزدلی کی وجہ سے تھے ہی ہلاک ہونیو الے، کیونکہ بہادر مومن تو ایک دفعہ مرتا ہے جبکہ بزدل منافق ہر گھڑی مرتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(یحسبون کل صیحۃ علیھم) (المنفاقون : 3) ”ایسے بزدل ہیں کہ) ہر اونچی آواز کو اپنے آپ پر آنے والی (آفت) ہی سمجھتے ہیں۔“
Ayah 48:13ومن لم یومن باللہ و رسولہ …: اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے متعلق براگمان رکھے، مسلمان ہونے کے باوجود مسلمانوں کے نقصان پر اور اپنی جان بچانے پر خوش ہو وہ مومن نہیں بلکہ کافر اور اللہ تعالیٰ نے ایسے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کلمہ اسلام کہنے اور مسلمانوں کے ساتھ مسلمان بن کر رہنے کی وجہ سے دنیوی احکام میں انہیں مسلمان ہی سمجھا جائے گا، مگر آخرت میں ان کے لئے کھلے کافروں سے بھی سخت عذاب تیار ہے، فرمایا :(ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار) (النسائ : 135)”بیشک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“
Ayah 48:14(1) وللہ ملک السموت والارض : یہ ان پیچھے چھوڑ دیے جانے والے اعراب کو فرمایا جن کا اوپر ذکر ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، اگر تم نے نفاق پر اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد پر جانے سے گریز پر اصرار کیا تو کسی میں طاقت نہیں کہ وہ جو عذاب دینا چاہے اس سے تمہیں بچا سکے، یا اگر وہ تمہاری ندامت اور توبہ کا تمہیں معاف کر دے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
(2) یغفرلمن یشآء و یعذب من یشآئ…: اس میں ان اعراب کو توبہ کی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی طرف پلٹ آنے کی ترغیب دی ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیچھے بیٹھ رہنے سے توبہ کرلو، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے والا اور ان پر رحم کرنے والا ہے اور اس کی یہ صفت آج نہیں بلکہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے۔
(3) ”یغفرلمن یشآء و یعذب من یشآئ“ کی تقسیم سے معلوم ہوا کہ پیچھے رہنے والوں میں سے کچھ ایسے ہوں گے جو نفاق سے توبہ کر کے اخلاص کی نعمت سے سرفراز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت سے فیض یاب ہوں گے اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جو نفاق سے توبہ نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دے گا۔ آگے آیت :(قل للمخلفین من الاعراب…) سے بھی یہ بات واضح ہو رہی ہے۔
Ayah 48:15(1) سیقول المخلفون اذا نطلقتم الی مغانم…: اللہ تعالیٰ نے بیعت رضوان میں شریک صحابہ پر اپنے بہت سے انعامات کے علاوہ، جن کا ذکر آیت (18، 19) میں آرہا ہے، انھیں ایک بہت جلدی حاصل ہونے والی فتح کا وعدہ بھی فرمایا جس میں انھیں بہت سی غنیمتیں حاصل ہوں گی۔ مقصد ان کی اس دل شکنی کا ازالہ تھا جو حدیبیہ کے موقع پر ہوئی، اس کے علاوہ اس اطاعت، وفا داری اور جاں فروشی کا انعام دینا بھی تھا جس کا مظاہرہ انہوں نے اس سارے زوہ کے دوران کیا۔ ان غنیمتوں سے مراد خیبر ہے جسکا فتح کرنا یہودیوں کی مسلسل شرارتوں اور عہد شکنیوں کی وجہ سے نہایت ضروری تھا، مگر قریش کی طرف سے بےفکری ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے خیبر پر چڑھئای کا ارادہ فرمایا۔ اس مہم میں مسلمانوں کی فتح اور بیشمار غنیمتوں کا حصول سب کو صاف نظر آرہا تھا اور ایسے ہی ہوا کہ صلح حدیبیہ کے تین ماہ بعد ہی رسول اللہ ﷺ نے خیبر پر چڑھئای کی اور بڑ آساین سے اسے فتح فرما لیا، بلکہ خیبر کے اردگرد کی یہودیوں کی بہت سی بستیاں بھی کسی خاص مزاحمت کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آگئیں۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی آگاہ فرما دیا کہ جب تم خیبر کی طرف غنیمتیں حاصل کرنے کے لئے روانہ ہوگے تو یہ پیچھے رہنے والے کہیں گے، ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دو۔
(2) یریدون ان یبدلوا کلم اللہ : یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان غنیمتوں کا وعدہ اس درخت کے لئے بیعت کرنے والوں سے کیا تھا اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ غنیمتیں ان لوگوں کو بھی مل جائیں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے کے لئے گھر ہی سے نہیں نکل سکے، بیعت انہوں نے خاک کرنا تھی۔ اب ان کی بات مان لی جائے تو اللہ کی بات تو اپنی جگہ نہ رہی۔
(3) قل لن تتبعونا : آپ ان سے کہیے، تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤ گے، کیونکہ یہ ان لوگوں کا حق ہے جنہوں نے ان وقت رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا جب موت آنکھوں کے سامنے نظر آرہی تھی۔
(4) کذلکم قال اللہ من قبل : یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ پہلے ہی کردیا ہے کہ فتح کے ثمرات کے حق دار بھی صرف وہ ہیں جنہوں نے اس وقت ساتھ دیا جب جان و مال کی بازی لنے کا وقت تھا۔
(5) فسیقولون بل تحسدوننا : فرمایا : یہ لوگ ساتھ جانے کی اجازت نہ ملنے پر کہیں گے، بلکہ تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو کہ ان غنیمتوں کے حصول سے ہماری مالی حالت اچھی نہ ہوجائے۔
(6) بل کانوا لایفقھون الا قلیلاً : فرمایا، مسلمانوں کو ان پر کوئی حسد نہیں اور نہ ان کی پاک فطرت میں اس کی گنجائش ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو خواہ مخواہ مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، اپنے قصور کی سمجھ نہ انھیں پہلے آئی نہ اب تک اسے سمجھ رہے ہیں، (کانوا میں استمرار ہے) کہ جب اس سے پہلے وہ کوئی جانی و مالی خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں ہوتے تو اب آسانی سے ہاتھ آنے والے مال غنیمت میں انہیں کیسے حصے دار بنایا جاسکتا ہے اور جب پہلے ان کے اموال اور گھر والوں نے انہیں گھر سے نکلنے سے روکے رکھا تو اب وہ انہیں نکلنے سے کیوں نہیں روک رہے ؟ بہت کم سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل نہیں سمجھتے۔ قرآن مجید اور کلام عرب میں قلیل کا لفظ مطلق نفی کے لئے عام استعمال ہوا ہے۔