47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 47:1

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا، اس نے ان کے اعمال برباد کردیے۔

(1) الذین کفروا و صدوا عن سبیل اللہ …: چونکہ اس سورت کا اکثر حصہ مشرکین کے خلاف جنگ کے لئے ابھارنے پر مشتمل ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورت کا آغاز کفار پر اپنے غصب اور ایمان والوں پر اپنی رحمت کے اظہار کے ساتھ کیا ہے، تاکہ ان کے کفر اور اللہ کی راہ سے روکنے کے جرم کی بنا پر مسلمانوں کو ان سے لڑنے کی ترغیب دی جاسکے۔ چناچہ اس تمہید کے بعد فرمایا :(فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب) (محمد : 3)”تو جب تم ان لوگوں سے ملو جنہوں نے کفر کیا تو خوب گردنیں مارنا ہے۔“ (2) صدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالھم :”صدوا“ ”صد یصد“ (ن) لازم بھی آتا ہے ”اعراض کرنا“ اس کی بات تو ”الذین کفروا“ میں آگئی، بلکہ کفر اعراض سے زیادہ سخت ہے۔ اس لئے مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا اور دوسرے لوگوں کو بھی اللہ کے راستے یعنی اسلام قبول کرنے سے روکا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال ضائع اور برباد کردیے۔ یعنی کافر رہتے ہوئے ان لوگوں نے جو بظاہر اچھے کام کئے تھے، جیسے صدقہ و خیرات ، مہمان نوازی، صلہ رحمی، خانہ کعبہ کی مرمت اور اس کا حج، مظلوم کی مدد وغیرہ، ان پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کو کوئی اجر نہیں ملے گا کیونکہ ایمان کے بغیر کسی عمل کی کوئی قیمت نہیں۔ مزید دیکھیے سورة فرقان (23) کی تفسیر۔ کافروں کے اعال برباد کرن کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وہ تمام اعمال یعنی سازشیں اور منصوبے ناکام کردیئے جو وہ اسلام کو نیچا دکھانے کے لئے کام میں لاتے تھے۔ (3) صدوا عن سبیل اللہ : اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی کسی کو زبردست ی ایمان لانے سے روک دے۔ دوسری یہ کہ وہ ایمان لانے والوں پر ایسا ظلم و ستم ڈھائے کہ ان کے لئے ایمان پر قائم رہنا مشکل ہوجائے اور ان کی حالت زار دیکھ کر ایمان لانے کا ارادہ رکھنے والے ایمان لانے کی جرأت نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لفظ ”فتنہ“ استعمال فرمایا ہے۔ تیسری یہ کہ وہ مختلف طریقوں سے اسلام کے خلاف لوگوں کو ورغلائے اور ان کے دلوں میں ایسے وسوسے ڈالے کہ وہ دین اسلام سے بدظن ہوجائیں۔ چوتھی یہ کہ ہر کافر اپنے بچوں اور زیر کفالت لوگوں کی تربیت کفر پر کرتا ہے جس سے ان کے لئے دین حق قبول کرنا مشکل ہوتا ہے، اس طرح وہ اللہ کے راستی سے روکنے کا مجرم بنتا ہے۔ اللہ کے راستے سے رونے کی ان تمام صورتوں کو ختم کرنے کے لئے کفار سے لڑنے کا حکم دیا۔
Ayah 47:2

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر نازل کیا گیا اور وہی ان کے رب کی طرف سے حق ہے، اس نے ان سے ان کی برائیاں دور کردیں اور ان کا حال درست کردیا۔

(1) والذین امنوا وعملوا الصلحت …:”امنوا“ میں اگرچہ عمل صالح بھی شامل ہے، کیونکہ عمل بھی ایمان کا جزو ہے، مگر اس کی اہیمت کا احساس دلانے کے لئے اسے علیحدہ بھی ذکر فرمایا۔ دیکھیے سورة عصر کی تفسیر۔ اسی طرح ”امنوا“ میں اگرچہ دوسری ایمانیات کے ساتھ محمد ﷺ اور آپ پر نازل شدہ وحی پر ایمان بھی شامل ہے مگر اس کا شرف نمایاں کرنے کے لئے اس کا الگ بھی ذکر فرمایا۔ خصوصاً اس لئے کہ مدینہ میں کچھ ایسے یہود موجود تھے جو ایمان بالغیب کی تمام جزئیات ایمان رکھتے تھے اور نیک اعمال بھی بجا لاتے تھے مگر نبی کریم ﷺ کو نبی ماننے کے باوجود یہ کہہ کر ایمان لانے سے انکار کردیتے تھے کہ آپ امیوں کے نبی ہیں۔ اب بھی کئی لوگ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی رہے یا نصرانی یا مسلمان، اگر اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اچھے عمل کرتے ہیں تو سب ٹھیک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اب ایمان وہی معتبر ہوگا جس میں ہمارے نبی محمد ﷺ پر ایمان اور آپ کی اطاعت کا عہد شامل ہو۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(والذین محمد ﷺ پر ایمان اور آپ کی اطاعت کا عہد شامل ہو۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(والذی نفس محمد بیدہ ! لایسمع بی احد من ھذہ الامۃ یھودی ولا نصرانی ثم یموت ولم یومن بالذی ارسلنک بہ الا کان من اصحاب النار) ((مسلم، الایمان، باب و جوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ :153)”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے ! اس امت میں سے کوئی بھی شخص، یہودی ہو یا نصرانی جو میرے بارے میں سنخ، پھر اس حال میں فوت ہو کہ مجھے جو کچھ دے کر بھیجا گیا ہے اس پر ایمان نہ لایا ہو تو وہ آگ والوں میں سے ہوگا۔“ مزید دیکھیے سورة سبا (28)۔ (2) وھو الحق من ربھم :”الحق“ جو واقع میں ثابت ہوا اور کسی چیز کے اصل کے عین مطابق ہو۔”الحق“ خبر پر اف لام لانے سے حصر پیدا ہوگیا۔”والذین امنوا وعملوا الصلحت و امنوا بما نزل علی محمد“ مبتدا ہے اور ”کفر عنھم سیاتھم واصلح بالھم“ اس کی خبر ہے اور ”وھو الحق من ربھم“ درمیان میں جملہ معترضہ ہے جو محمد ﷺ پر نازل شدہ وحی پر ایمان کی مزید تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی محمد ﷺ پر نالز کردہ وحی ہی کامل حق ہے جو رب تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔ (3) کفر عنھم سیاتھم : ایمان اور عمل صالح کی بدولت اللہ تعالیٰ پہلے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں :(فلما جعل اللہ الاسلام فی قلبی اتیت النبی ﷺ فقلت ابسط یمینک فلا بابع قسط بمنہ قال فقیصت بدی ، قال مالک یا عمروا ؟ قال فلت اردت ان اشترط قال تشترط بمادا ؟ قلت ان یغفرلی قال اما علمت ان الاسلام یھدم ماکان قبلہ ؟ وان الھجرۃ تھدم ماکان قبلھا ؟ وان الحج یھدم مان کان قبلہ ؟) (مسلم، الایمان، باب کون السلام یھدم ماقبلہ…:121)”جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کا خیال ڈالا تو میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا :”اپنا دائیاں ہاتھ آگے بڑھئایں تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔“ آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھیا ا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :”یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا :”کیا تمہیں معلمو نہیں کہ اسلام اسے مٹا دیتا ہے جو اس سے پہلے ہو اور ہجرت اسے مٹا دیتی ہے جو اس سے پہلے ہو اور حج اسے مٹا دیتا ہے جو اسے پہلے ہو۔“ (4) واصلح بالھم : طبری نے فرمایا :”بال“ مصدر کی طرح ہے، جیسا کہ ”شان“ ہے، اس سے کوئی فعل نہیں بنایا جاتا۔ ضرورت شعری کے بغیر عرب اس کی جمع استعمال نہیں کرتے، اگر جمع بنائیں تو ”بالات“ بناتے ہیں۔“ شہاب نے فرمایا :(بال) حال اور شان کے معنی میں ہوتا ہے بعض اوقات کسی عظیم معاملے کے ساتھ خاص ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(کل امر ذی بال) (ابن ماجہ :1893)”ہر بڑی شان والا کام۔“ اور کبھی دلی خیال کے لئے آتا ہے۔ مجاز اول کو بھی کہہ لیاج اتا ہے۔“ اگر یہاں اس کی یہ تفسیر کی جائے تو یہ بھی اچھی تفسیر ہے۔ سفاقسمی نے اس کی تفسیر فکر (سوچ) کے ساتھ کی ہے، کیونکہ جب دل اور سوچ درست ہوجائیں تو عقیدہ اور عمل سب درست ہوجاتے ہیں۔“ (تفسیری قاسمی) مطلب یہ ہے کہ کفار کے اعمال کو اللہ تعالیٰ ضائع اور برباد کردیتا ہے، اس کے برعکس ایمان اور عمل صالح والوں کے گناہ معاف کردیتا ہے۔ ان کا حال درست کردیتا ہے اور ان کے دل اور سوچ کی اصلاح کردیتا ہے اور انہیں شرک کے بجائے توحید کی، نافرمانی کے بجائے اتباع سنت کی اور گناہوں کے بجائے اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازتا ہے، حتیٰ ہ ان کے گزشتہ گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ دیکھیے سورة فرقان (70)۔
Ayah 47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی اور بیشک جو لوگ ایمان لائے وہ اپنے رب کی طرف سے حق کے پیچھے چلے۔ اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کے حالات بیان کرتا ہے۔

(1) ذلک بان الذین کفروا اثبعوا الباطل …: یعنی کفار کے اعمال برباد کرنے اور ایمان والوں کے گناہ دور کرنے اور ان کا حال دسرت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کفار نے باطل کی پیروی اختیار کی اور اس کے پیچھے چل پڑے، جبکہ ایمان والے اس حق پر چلتے رہے جو ان کا اپنا طے کردہ نہیں تھا، بلکہ ان کے رب کی طرف سے نازل کیا ہوا تھا۔ دونوں کے راستے مختلف تھے، اس لئے ان کا انجام بھی مختلف ہوا۔ (2) کذلک یطرب اللہ الناس امثالھم ”امثال“ ”مثل“ کی جمع ہے، اس کا معنی مثال بھی ہے اور کسی چیز کا حال اور وصف بھی، جیسا کہ آگے آرہا ہے : فرمایا :(مثل الجنۃ التی وعد المتقون ، فیھا انھر من مآء غیر اسن) (محمد : 15)”اس جنت کا حال اور وصف جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جو بگڑنے والا نہیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے ہی سب لوگوں کے احوال بیان فرماتا ہے۔
Ayah 47:4

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

تو جب تم ان لوگوں سے ملو جنھوں نے کفر کیا تو گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب انھیں خوب قتل کرچکو تو (ان کو) مضبوط باندھ لو، پھر بعد میں یا تو احسان کرنا ہے اور یا فدیہ لے لینا، یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے، (بات) یہی ہے۔ اور اگر اللہ چاہے تو ضرور ان سے انتقام لے لے اور لیکن تاکہ تم میں سے بعض کو بعض کے ساتھ آزمائے۔ اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل کردیے گئے تو وہ ہرگز ان کے اعمال ضائع نہیں کرے گا۔

(1) فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب :”فاذا“ میں فاء کا تعلق پہلے کلام سے ہے کہ جب کفار باطل کے پیرو کار اور مومن حق کے پیروکار ہیں تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ حق کے پیروکار باطل کے پیرو کار کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ زمین میں فساد پھیلاتے پھریں، لہٰذا جب تم (میدان جنگ میں) ان لوگوں سے ملو جنہوں نے کفر کیا تو ان کی گردنیں خوب اڑاؤ۔ (2) فاذا لقیتم“ کا لفظی معنی اگرچہ ”جب تم ملو“ ہے، مگر اس سے مراد یہ ہے کہ جب تمہارا ان سے مقابلہ ہو۔ یہ مطلب نہیں کہ جب کوئی کافر سامنے آجائے تو اسے قتل کر دو ، کیونکہ قرآن مجید اور کلام عرب میں ”لقاء عدو“ سے مراد دشمن سے مقابلہ لیا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(یایھا الذین امنوآ اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا و اذاکرو اللہ کثیرا لعلکم تفلحون) (الانفال : 35)”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو جمے رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔“ (3) ”فضرب الرقاب“ اصل میں ”فاضربوا الرقاب ضرباً“ ہے، فعل امر ”فاضربوا“ کو حذف کر کے مفعول مطلق ”ضرباً کو اس کے قائم مقام کردیا اور اسے مفعول بہ ”الرقاب“ کی طرف مضاف کردیا۔ اس سے اختصار کے علاوہ وہ کلام میں ہیبت اور زور بھی پیدا ہوگیا کہ کفار سے مقابلے یک صورت میں بس ایک ہی کام ہے اور وہ ہے گردنیں مارنا۔”ضرب“ کا میں ہیبت اور زور بھی پیدا ہوگیا کہ کفار سے مقابلے کی صورت میں بس ایک ہی کام ہے اور وہ ہے گردنیں مارنا۔”ضرب“ کا لفظ عربی زبان میں تلوار کی کاٹ کے لئے استعمال ہوتا ہے، نیزے کے لئے ”طعن“ اور تیر کے لئے ”رمی کا لفظ آتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ قوت و شجاعت اور ہیبت کا مظاہرہ آمنے سامنے تیغ زنی میں ہے، خصوصاً جب تلوار گردن پر پڑے ، اس لئے ”فضرب الرقاب“ فرمایا، کیونکہ جو زور بیان اس لفظ میں ہے کسی اور میں نہیں۔ ورنہ مراد کسی بھی طریقے سے قتل کرنا ہے، تلوار سے ہو یا تیرے یا نیزے سے یا کسی جدید اسلحہ سے اور اس اسلحے کی چوٹ خواہ گردن پر پڑے یا جسم کے کسی اور حصے پر۔ یا بلا اسلحہ یہ دشمن کو قتل کردیا جائے، خواہ گلا گھونٹ کر، مکا مار کر یا جسم کے کسی نازک حصے پر چوٹ مار کر، غرض مقصد دشمن کو کسی یا بلا اسلحہ ہی دشمن کو قتل کردیا جائے، خواہ گلا گھونٹ کر، مکا مار کر یا جسم کے کسی نازک حصے پر چوٹ مار کر، غرض مقصد ، دشمن کو کسی بھی طریقے سے قتل کر نا ہے۔ (4) حتی اذا اثخنتموھم فشدوالوثاق :”اثخن یثخن اثخاناً“ (افعال) قتل اور خون ریزی میں مبالغہ کرنا۔ ”شد یشد شداً“ (ن) ”الشیئ“ کسی چیز کو بانادھنا ”شد العقدہ او الوثاق“ گرہ یا رسی کو مضبوطی سے باندھنا۔ ”الوثاق“ رسی وغیرہ جس کے ساتھ باندھا جائے۔ یعنی جنگ کا اصل ہدف دشمن کی جنگی قوت کو توڑنا ہے، اس لئے جنگ کی ابتدا ہی میں دشمن کے آدمیوں کو گرفتار کرنے میں نہیں لگ جانا چاہیے، بلکہ زیادہ سے زیادہ خونریزی اور قتل کے بعد جب ان اکا اچھی طرح قلع قمع ہو اجئے اور لڑائی اختتام کو پہنچ چکی ہو تو پھر بچے کھچے لوگوں کو قیدی بنانا چاہیے، تاکہ ان میں دوبارہ مقابلے کی سکت باقی نہ رہے۔ جنگ بدر میں مسلمانوں نے دشمن کو اچھی طرح تہ تیغ کرنے سے پہلے ہی اس کے آدمیوں کو قیدی بنایا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :(ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ واللہ عزیز حکیم) (الانفال :68)”کبھی کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں قیدی ہوں، یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون بہا لے، تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ (5) فاما منا بعدواما فدآء :”منا ‘ اور ”فدآئ“ مفعول مطلق ہیں جن کا فعل حذف کردیا گیا ہے اور تنوین تنکیر کے لئے ہے۔”ای اما تمنون علیھم منا بعد ذلک و اما تفادونھم فدائ“ ”یعنی اس کے بعد یا تو ان پر احسان کر دو ، کسی طرح احسان کرنا یا ان سے فدیہ لے لو، کسی طرح فدیہ لینا۔“ کسی طرح احسان کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ انہیں ق تل نہ کیا جائے، بلکہ ان کی جان بخشی کر کے انہیں لونڈی وغ لام بنا کر مسلمان افراد کے حوالے کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دائمی قید یا قتل کے مقابل ی میں غلام بنا لینا کوئی کم احسان نہیں، خصوصاً اسلام میں لونڈی و غلام سے جس حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے اس کے ہوتے ہوئے دائمی قید یا قتل کے مقابلے میں یہ بہت بڑی نعمت ہے، کیونکہ بہت سے کاموں کے کفارے کی صورت میں اور مکاتبت یعنی کمائی کر کے اپنی قیمت ادا کرنے کی صورت میں ان کی آزادی کے مواقع موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین ؓ سے مفتوح لوگوں کو لونڈی و غلام بنانا تو اتر سے ثابت ہے اور قرآن مجید میں متعدد مقامات پر لونڈیوں اور غلاموں کا ذکر موجود ہے۔ دیکھیے سورة نسائ (3، 24، 36) ، مومنون (5، 6) ، احزاب (50) ، نحل (71) ، روم (28) ، نور (31 تا 33، 58) اور دوسری متعدد آیات۔ ان آیات و احادیث اور خلفائے راشدین کے عمل کے ہوتے ہوئے اسلام میں غلامی سے انکار کوئی ملحد ہی کرسکتا ہے، یا کوئی جاہل جسے کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کا علم نہ ہو۔ قیدیوں پر کسی طرح احسان کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ انہیں بلا معاوضہ رہا کردیا جائے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ایسا کرنا مصلحت کا تقاضا ہو، مثلاً امید ہو کہ وہ مسلمان ہوجائیں گے، یا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگرمیوں سے باز آجائیں گے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے نجد کے سردار ثمامہ بن اثال ؓ کو بلا معاوضہ رہا کردیا۔ (دیکھیے بخاری : 4372) جنگ حنین کے کئی ہزارق یدیوں کو احسان فرما کر رہا کردیا۔ (دیکھیے بخاری : 4318، 4319) صلح حدیبیہ کے موقع پر اسی (80) آدمی تنعیم کی طرف سے آئے اور فجر کی نماز کے قریب انہوں نے آپ ﷺ پر شب خون مارنے کا ارادہ کیا، مگر وہ سب کے سب پکڑ لئے گئے، پھر آپ نے سب کو چھوڑ دیا، تاکہ یہ معاملہ لڑائی کا باعث نہ بن جائے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی :(وھو الذی کف ایدیھم عنکم و ایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیم) (الفتح : 27)”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمہیں ان پر فتح دے دی۔“ (دیکھیے مسلم، الجھاد، باب قول اللہ تعالیٰ :(وھو الذی کف ایدیھم عنکم) (1808) فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے چند آدمیوں کو مستثنیٰ کر کے تمام اہل مکہ کو بطور احسان معاف فرما دیا۔ غزوہ بنی مصطلق کے بعد جب اس قبیلے کے قیدی لائے گئے اور لوگوں میں تقسیم کردیئے گئے، تو اس وقت جویریہ ؓ جس شخص کے حصے میں آئی تھیں اسے ان کا معاوضہ ادا کر کے آپ ﷺ نے خریدا اور آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔ اس پر تمام مسلمانوں نے اپنے حصے کے قیدی یہ کہہ کر رہا کردیئے کہ یہ اب رسول اللہ ﷺ کے سسرالی رشتہ دار بن چکے ہیں۔ (دیکھیے مسند احمد :288/6، ح 26319) قیدیوں کے ساتھ احسان کی ایک صورت یہ ہے کہ ان پر جزیہ لگا کر انھیں مسلمانوں کا ذمی بنا لیا جائے، جیسا کہ فرمایا (حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوھم صغرون) (التوبۃ : 29)”یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔“ قیدیوں پر احسان میں یہ بھی شامل ہے کہ جب تک وہ قید میں رہیں ان سے اچھا سلوک کیا جائے، ان کے کھانے پینے لباس اور صحت وغیرہ کا خیال رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ دیکھیے سورة دہر کی آیت (8) (و یطمعون الطعام علی حبہ مکسی ناً و یتیماً و اسیراً) کی تفسیر۔ ”واما فدآء“ فدیہ لینے کی ایک صورت یہ ہے کہ ان سے کچھ مال لے کر انہیں آزاد کردیا جائے، جیسا کہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لیا گیا۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة انفال (70) کی تفسیر اور فدیے کی ایک صورت یہ ہے کہ رہائی کی شرط کے طور پر کوئی خاص خدمت لینے کے بعد ہی انہیں رہا کیا جائے، مثلاً وہ ان لوگوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں جو ان کے سپرد کئے جائیں اور فدیے کی ایک صورت یہ ہے کہ کفار کے ہاتھوں گرفتار کسی مسلم قیدی کی رہائی کے بدلے میں انہیں رہا کردیا جائے جائیں۔ اور فدیے کی ایک صورت یہ ہے کہ کفار کے ہاتھوں گرفتار کسی مسلم قیدی کی رہائی کے بدلے میں انہیں رہا کردیا جائے جائیں اور فدیے کی ایک صورت یہ ہے کہ کفار کے ہاتھوں گرفتار کسی مسلم قیدی کی رہائی کے بدلے میں انہیں رہا کردیا جائے جیسا کہ سلمہ بن اکوع ؓ نے بیان فرمایا کہ بنو فزارہ پر حلمے میں جو یدی آئے امیر لشکر ابوبکر ؓ نے ان میں سے ایک نہایت حسین لونڈی انھیں زائد عطیہ کے طور پر دی، جب وہ مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے و لونڈی اصرار کے ساتھ ہبہ کے طور پر مانگ لی، انہوں نے وہ آپ ﷺ کو دے دی، تو (فبعث بھا رسول اللہ ﷺ الی اھل مکہ فقدی بھا ناسا من المسلمین کانوا اسروا بمکۃ) (مسلم ، الجھاد والسیر، باب التفیل و فداء السلمین بالا ساری :1855)”رسول اللہ ﷺ نے اس لونڈی کو کچھ مسلمانوں کے فدیے کے طور پر اہل مکہ کی طرف بھیج دیا، جو مکہ میں قید کئے ہوئے تھے۔“ (6) اس آیت کے الفاظ سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ کفار کو قیدی بنا لینے کے بعد احسان یا فدیہ ہی میں سے کوئی ایک صورت اختیار کی جائے گی، انہیں قتل نہیں کیا جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے امیر کو انہیں قتل کرنے کا بھی اختیار ہے، جیسا کہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں میں سے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو قتل کیا۔ بنو قریظہ کے قیدیوں کو، جو سعد بن معاذ ؓ کے فیصلے پر اپنے قلعوں سے نیچے اترے انہیں ق تل کیا۔ فتح مکہ کے دن ابن خطل اور مقیس بن صبابہ کو قتل کیا اور احد کے بعد ابو عزہ شاعر کو قتل کیا۔ رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ عمل کے بعد کسی کو یہ کہنے کا اختیار نہیں کہ کافر کو قید کرنے کے بعد کسی صورت قتل نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ آپ سے بڑھ کر کوئی شخص قرآن مجید کا مطلب نہیں سمجھ سکتا۔ اگر کوئی شخص آیت کے الفاظ پر غور کرے تو خود اس میں قیدیوں کو قتل کرنے کا اختیار موجود ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کو مضبوطی سے باندھنے کے حکم کے بعد فرمایا :(فاما منا بعد و اما فدآء)”منا“ کا معنی انعام و احسان ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک ”المنان“ بھی ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ انعام کرنے والے پر لازم نہیں ہوتا کہ وہ انعام کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو انعام کئے ہیں وہ نہ اللہ پر واجب تھے نہ بندوں کا حق تھے، جسے ادا کرنا اللہ کے ذمے لازم ہ۔ اس لفظ ”منا“ (انعام و احسان) سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا قیدیوں کو زندہ رکھنا ان کی طرف سے قیدیوں کے لئے انعام ہے۔ اگر انہیں قتل کرنے کا اختیار ہی نہ ہو بلکہ انہیں ہر حال میں زندہ رکھنا ان پر واجب ہو تو انہیں چھوڑ دینا ان پر کوئی احسان و انعام نہیں ہوگا، بلکہ انہیں چھوڑ کر ان کا حق ادا کیا جائے گا جو مسلمانوں کے ذمے واجب تھا۔ اس لئے ”منا“ اور ”فادآئ“ کے دو الفاظ میں وہ چ اورں صورتیں آجاتی ہیں جن کا مسلمانوں کے امیر کو اختیار ہے اور وہ ہے قتل کرنا یا غلام بنانا یا بلا معاوضہ چھوڑنا یا فدیہ لے کر چھوڑنا (بقاعی) صحیح بخاری میں ثمامہ بن اثال ؓ کے قول سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قیدی کو چھوڑنا اس کا استحقاق نہیں، اس پر انعام ہے۔ چناچہ اس نے کہا :(ان تقتلنی تقنل ذا دم، وان تنعم تنعم علی شاکر، وان کنت ترید المال فسل منہ ماشئت) (بخاری، المغازی ، باب وفد بنی حنیفۃ…: 8382۔ مسلم : 1863)”(اے محمد !) اگر تم مجھے قتل کرو تو ایک خون والے کو قتل کرو گے اور اگر انعام کرو تو ایک شکر گزار پر انعام کرو گے اور اگر مال چاہتے ہو تو مانگو جتنا چاہتے ہو۔“ (7) حق تصع الحرب اوزاھا :”اوزارھا“”وزر“ کی جم ہے جس کا معنی بوجھ ہے، مراد اس سے لڑائی کے ہتھیار ہیں، کیونکہ جب تک لڑائی باقی رہے ہتھیار اٹھانا پڑتے ہیں جو اٹھانے والوں کے لئے بوجھ ہوتے ہیں، یعنی کفار کی گردنیں مارتے رہو اور ان سے لڑائی جاری رکھو ، حتیٰ کہ لڑائی ختم ہوجائے اور کسی کافر میں مسلمانں کے ساتھ لڑنے کی جرأت اور طاقت نہ رہے۔ یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب مسلمان پوری زمین پر غالب ہوں اور کفار میں ان کے مقابل آنے کی اور ان کے حکم سر پھیرنے کی جرأت و ہمت باقی نہ رہے، جیسا کہ فرمایا :(وقاتلوھم حتی لاتکون فتنہ ویکون الذین کلمہ للہ) (الانفال : 39)”اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لئے ہوجائے۔“ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق کفر و اسلام کا یہ معرکہ قیامت تک جاری رہے گا۔ جابر بن سمرہ ری اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لن یبرح ھذا الذین قائما، یقاتل علیہ عصابۃ من المسلمین حتی تقوم الساعۃ) (مسلم، الامارۃ، باب قولہ ﷺ ”لانزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق …“: 1922)”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس پر لڑتی رہے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔“ (8) ذلک : یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے :”ای الامر ذلک“ یعنی بات یہی ہے وجہ گردنیں مارنے، قید کرنے، احسان کرنے اور فدیہ لینے کی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی، یا یہ فعل محذوف کا مفعول بہ ہے :”ای افعلوا ذلک“ یعنی یہ کام کرو۔ یہ مختصر لفظ گزشتہ پوری تفصیل کو ذہن میں پختہ کرنے اور اس کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ (9) ولو یشآء اللہ لانتصر منھم : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اگر کفار اتنے ہی برے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود انہیں سزا کیوں نہیں دیتا ؟ یعنی اللہ تعالیٰ نے گردنیں مارنے اور دوسری باتوں کا حکم تمہیں دیا ہے، حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ خود کفار سے انتقام لے سکتا ہے۔ اس کے لئے اس کی طرف سے زلزلے کا ایک جھٹکا، بجلی کی ایک کڑک، سیلاب کا ایک ریلا یا آندھی کا ایک جھونکا کافی ہے، جیسا کہ اس نے گزشتہ کئی کافر اقوام کے ساتھ کیا۔ (دیکھیے عنکبوت : 40) لیکن اگر وہ ایسا کرتا تو سب لوگ ہلاکت سے بچنے کے لئے ایمان لے آتے جو جبری اور اضطراری ہوتا، اپنی مرضی اور اختیار سے نہ ہوتا، اس طرح آزمائش اور امتحان کا مقصد فوت ہوجاتا۔ (10) ولکن لیبلوا بعضکم ببعض :”لیبلوا“ فعل محذوف کے متعلق ہے :”ای ولکنہ امرکم بالجھاد لیبلو بعضکم ببعض“ ”یعنی لیکن اس نے تمہیں جہاد کا حکم اس لئے دیا ہے کہ تمہارے بعض کو بعض کے ساتھ آزمائے اور ظاہر ہوجائے کہ کون مخلص مومن ہے اور کون منافق جیسا کہ فرمایا :(ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یعلم اللہ الذین جھدوا منکم ویعلم الصبرین) (آل عمران :132)”یا تم نے گمان کرلیا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو نہیں جانا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا اور تاکہ وہ صبر کرنے والوں ک جان لے۔“ ایمان والوں کو جہاد کا حکم دینے میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار حکمتوں میں سے چند حکمتیں اس آیت میں بیان ہوئی ہیں، فرمایا :(قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم ویخزھم وینصرکم علیھم ویشف صدور قوم مومنین ویذھب غیظ قلوبھم ، ویتوب اللہ علی من یشآئ، واللہ علیم حکیم) (التوبۃ :15, 13)”ان سے لڑو، اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔“ اس کی تفصیل سورة توبہ کی مذکورہ بالا آیات میں ملاحظہ فرمائیں۔ (11) والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم : یعنی شہداء کے اللہ کی راہ میں قتل کئے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی جان سے گئے، انہیں کچھ بھی نہ ملا اور ان کی قربانی سے فائدہ ان لوگوں نے اٹھایا جو اس دنیا میں زندہ رہے۔ فرمایا ایسا ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہیں کرے گا، بلکہ اس سودے کا اصل نفع خود انھی کو حاصل ہوگا۔ مزید دیکھیے سورة توبہ (111) کی تفسیر۔ شہداء کو ملنے والے چند نعمتوں کا ذکر اس آیت کے بعد متصل آیات میں بھی آرہا ہے۔
Ayah 47:5

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

وہ ضرور انھیں راستہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔

سیھدیھم ویصلح بالھم : یعنی اللہ تعالیٰ ان کی محنت ٹھکانے لگائے گا، انہیں جنت کے راستے پر لے جائے گا اور آخرت میں پیش آنے والے تمام مراحل میں ان کی حالت کو درست رکھے گا۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یعفر للشھید کل ذنب الا الذین) (مسلم، الامار 1 ۃ باب من قتل فی سبیل اللہ کفرت خطاباء الا الدین :1886)”قرض کے سوا شہید کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔“ شہادت اور شہداء کے مزید بہت سے فضائل کی تفصیل کے لئے تب احادیث میں سے جہاد کے ابواب ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 47:6

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور انھیں اس جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کروا دی ہے۔

ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم : یعنی اللہ تعالیٰ انہیں اس جنت میں داخل کرے گا جس کی پہچان اس نے قرآن کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی زبانی بہت اچھی طرح کروا دی ہے۔ اس سورت کی آیت (15) میں بھی اس کی کچھ شناخت آرہی ہے۔ جب وہ اس جنت میں جائیں گے تو وہ ان کے لئے اجنبی نہیں ہوگی، بلکہ عین اس وعدے اور شناخت کے مطابق ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے انہیں کروا رکھی ہے۔ ”عرفھا لھم“ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کسی جنتی کو جنت میں اپنے گھر جانے کے لئے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یخلص المومنون من النار، فیحبسون علی قنطرۃ بین الجنجۃ والنار، فیقص لبعضھم من بعض مظالم کانت بینھم فی الدنیا، حتی اذا ھذبوا ونقوا اذن لھم فی دخول الجنۃ فوالذی نفس محمد بیدہ ! لاخذھم اھدی بمنزلہ فی الجنۃ منہ بمنزلہ کان فی الدنیا) (بخاری، الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ :6565)”مومن آگ سے بچ کر نکلیں گے تو انہیں ایک پل پر روک لیا جائے گا جو جنت اور آگ کے درمیان ہے، پھر انہیں ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کا قصاص دلایا جائے گا جو دنیا میں ہوئیں، یہاں تک کہ جب وہ خوب صاف ستھرے ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ سو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے اس میں سے ہر ایک کو جنت میں اپنے گھر کا راستہ اس سے زیادہ معلوم ہوگا جتنا اسے دنیا میں اپنے گھر کا راستہ معلوم تھا۔“
Ayah 47:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔

(1) یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ : اللہ کی مدد کرنے سے مراد اللہ کے دین اور اللہ کے دوستوں کی مدد کرنا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے، اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، جیسا کہ اس سے پہلی آیت میں فرمایا :(ولو یشآء اللہ لانتصرمنھم) (محمد : 3)”اور اگر اللہ چاہے تو ضرور ان سے اتنقام لے لے۔“ اللہ کے دین کی مدد اس کی راہ میں جہاد اور جان و مال کی قربانی سے بھی ہوتی ہے اور اس کے دشمنوں پر دین حق کے دلائل وبراہین قائم کرنے کے ساتھ بھی۔ (2) ینصرکم : اللہ تعالیٰ کی مدد دو طرح سے آتی ہے، ایک یہ کہ وہ ہمیں دنیا میں دشمنوں پر فتح اور غلبہ عطا فرما دے۔ مگر ایسا کبھی ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ وہ ہمیں آخرت عطا فرما دے، خواہ دنیا میں کسی موقع پر شکست سے بھی دوچار ہونا پڑے۔ (3) ویثنت اقدامکم : یعنی وہ تمہیں دین پر قائم رکھے گا کسی شک و شبہ کا شکار نہیں ہونے دے گا، جنگ میں ثابت قدمی عطافرمائے گا کبھی فرار کا خیال تک نہیں آنے دے گا، خواہ دشمن کتنی زیادہ تعداد میں ہوں اور قیامت کے دن ”صراط“ پر تمہارے قدم جمائے رکھے گا اور پھسلنے اور جہنم میں گرنے سے محفوظ رکھے گا ، جب سب لوگ ”اللھم سلم سلم“ (اے اللہ ! سلامت رکھنا، سلامت رکھنا) کہہ رہے ہوں گے۔ (دیکھیے بخاری :6583)
Ayah 47:8

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا سو ان کے لیے ہلاکت ہے اور اس نے ان کے اعمال برباد کردیے۔

(1) والذین کفروا فتعسا لھم واصل اعمالھم :”تعسا“ کا معنی ٹھوکر کھا کر گرنا اور پھر اٹھ نہ سکنا ہے ، یا کسی گڑھے میں گر کر ہلاک ہوجانا ہے۔ (مفردات) گویا اللہ کے دین کی مدد کرنے والوں کے تو اللہ تعالیٰ پاؤں جما دیتا ہے۔ اس کے برعکس منکروں کو منہ کے بل گرا کر ہلاک کر دیاج اتا ہے اور مومنوں کی تو مدد کی جاتی ہے جب کہ کافروں کے تمام اعمال برباد اور ان کے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔ (کیلانی) (2) ”تعسا“ کا فعل ”منع“ اور ”سمع“ دونوں سے آتا ہے۔ ”تعسا“ مصدر مفعول مطلق ہے جس کا فعل حذف ہونا واجب ہے :”ای تعسوا تعساً“ پھر ”تعسوا“ کو حذف کر کے ”تعساً“ مصدر کو اس کے قائم مقام کردیا اور فعل کے فاعل جمع مذکر غائب کی ضمیر کو ظاہر کردیا۔ ابن ہشام نے فرمایا کہ ”لھم“ میں لام تبین کا ہے جو ”تعسا“ کے فاعل کے بیان کے لئے ہے۔ معنی یہی ہے کہ وہ ہلاک ہوئے، بری طرح ہلاک ہونا۔
Ayah 47:9

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ بیشک انھوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی تو اس نے ان کے اعمال ضائع کردیے۔

ذلک بانھم کرھوا ماانزل اللہ …: یعنی اس انجام کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کو ناپسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال برباد کردیے، کیونکہ اعمال کے بار آور ہونے کی شرط ان کا اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق ہونا ہے۔ مزید دیکھیے اسی سورت کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Ayah 47:10

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے ؟ اللہ نے ان پر تباہی ڈال دی اور ان کافروں کے لیے بھی اسی جیسی (سزائیں) ہیں۔

(1) افلم یسیروا فی الارض …: یہ ”فتعسالھم“ ہی کی وضاحت ہے کہ کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر پہلی تباہ شدہ قوموں کے آثار دیکھ کر ان کی ہلاکت کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھاڈ نزول قرآن کے وقت ان میں سے بہت سے آثار موجود تھے اب بھی باقی ہیں۔”افلم یسیروا“ کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة روم (9) اور سورة مومن (21)۔ (2) دمر اللہ علیھم :”’ مر“ ہلاک کردیا۔ ”الدمار“ ہلاکت۔”’ مر“ خود بھی متعددی ہے، اصل میں ”’ مر ھم اللہ“ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا۔ مگر ”علیھم“ لانے سے ہلاک کرنے میں مبالغے کا اظہار مقصود ہے :”ای الفی علیھم الدمار“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر ہلاکت اور تباہی ڈال دی۔ (3) وللکفرین امثالھا :”امثالھا“ میں ضمیر ”ھا“ ”عاقبۃ“ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ”امثال“ کو جمع اس لئے لایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اس جیسے بیشمار عذاب موجود ہیں۔”وللکفرین امثالھا“ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ پہلی قوموں نے پیغمبروں کو جھٹلایا اور سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کے عذاب بھیج کر انہیں تباہ و برباد کردیا اور ان موجودہ کافروں کے لئے بھی سرکشی اختیار کرنے کی صورت میں اس جیسے بیشمار عذاب تیار ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ اقوام پر رسولوں کی نافرمانی کی پاداش میں دنیا میں تباہی اور بربادی نازل کی، جس کا سبب ان کا کفر تھا اور ان کافروں کے لئے دنیا کے علاوہ آخرت میں بھی ایسے کئی عذاب تیار ہیں۔
Ayah 47:11

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ بیشک اللہ ان لوگوں کا مددگار ہے جو ایمان لائے اور اس لیے کہ بیشک جو کافر ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں۔

ذلک بان اللہ مولی الذین امنوا…: یعنی کافروں پر ہلاک نازل کرنے کا باعث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مددگار ہے اور کافروں کا کوئی مددگار نہیں جو انہیں ہلاکت سے بچا سکے۔ جب جنگ احدم میں ابوسفیان نے اپنی عارضی فتح پر مغرور ہو کر نعرہ لگایا :(ان لنا العزی ولا عزی لکم) (ہمارا مددگار عزیٰ ہے اور تمہارا کوئی بھی مددگار نہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے جواب میں یہ کہنے کا حکم دیا :(اللہ مولانا ولی مولی لکم) (بخاری، الجھاد، باب ما بکرہ من التازع…:3039)”اللہ ہمارا مددگار نہیں۔“ یہ جواب اسی آیت سے ماخوذ ہے۔
Ayah 47:12

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

یقینا اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا فائدہ اٹھاتے اور کھاتے ہیں، جس طرح چوپائے کھاتے ہیں اور آگ ان کے لیے رہنے کی جگہ ہے۔

(1) ان اللہ یدخل الذین اناللہ یدخل الذین امنوا…: دنیا میں پہلی قوموں پر آنے والے عذابوں کا اور ایمان والوں کی نصرت کا ذکر فرمانے کے بعد آخرت میں دونوں کا انجام ذکر فرمایا۔ چونکہ مومن اپنے ایمان اور عمل صالح کے تقاضوں کے پابند رہے، انہوں نے دنیا کی نعمتوں اور لذتوں سے فائدہ اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند رہ کر اٹھایا۔ وہی کھایا اور پہنا جو ان کے رب نے ان کے لئے حلال فرمایا، وہ تمام حرام کردہ اشیاء سے بچے۔ شراب ، ریشم اور سونے کے استعمال سے پرہیز کرتے رہے۔ زنا، چوری، دوسرے کا حق کھانے، غرض ہر معصیت سے اجتناب کیا۔ ان کی لذتیں اٹھانے کی بیشمار حسرتیں ان کے دل میں رہ گئیں اور انہوں نے یہاں ایک قیدی کی سی زندگی گزاری، جو صرف انہی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جو انہیں قید کرنے والا مہیا کرے۔ اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ انہیں عظیم الشان باغات میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور فرمائے گا کہ یہاں تمہارے دل کی ہر خواہش اور ہر طلب پوری ہوگی، بلکہ وہ کچھ ملے گا جو نہ تمہاری آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اور اکثر جگہ باغات اور نہروں ہی کا ذکر فرمایا ہے، اسلئے کہ دنیا کے مکانوں اور کوٹھیوں کا ایک حصہ گھر کے چمن پر مشتمل ہوتا ہے، اس لئے کہ پودوں، چشموں اور نہروں سے انسان کو فطری طور پر محبت ہے، مگر اصل مکان ان سے کہیں وسیع، خوبصورت اور قیمتی ہوتا ہے۔ طملب یہ ہے کہ ان مکانات اور ان میں موجود رہنے سہنے، کھانے پینے، بیوی بچوں اور دوسری بیشمار اشیاء کی عظمت و شوکت کا اندازہ ان باغوں اور نہروں سے لگا لو جو بطور چمن ان مکانوں کے ساتھ ہیں۔ (2) والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام : ایمان والوں کے برعکس کفار کھانے پینے اور دنیا کی لذتیں اٹھانے میں کسی پابندی کی پرواہ نہیں کرتے، انہیں حلال و حرام اپنے یا دوسرے کے حق سے کوئی غرض نہیں، وہ خنزیر، مرد اور ہر حرام چیز کھاتے، شراب پیتے، زنا کرتے، غرض دل کا ہرارمان پورا کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مہیا نہ ہوسکنے کی وجہ سے وہ کسی لذت سے فائدہ نہ اٹھا سکیں ، کیونکہ دنیا میں ہر شخص کو اتنا ہی ملتا ہے جو مالک نے لکھ دیا ہے، مگر اپنی حسرتیں پوری کرنے میں وہ کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیتے۔ دنیا ان کے لئے جنت ہے جہاں وہ ہر قید اور پابندی سے آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا حال ہو بہو جانوروں جیسا ہے جو کھانے پینے، رہنے سہنے اور اپنی جنش خواہش کی تکمیل میں کسی قید کے پابند نہیں ہیں، ان میں سے ہر طاقتور کمزور سے اس کا حق بھی چھین لیتا ہے۔ انہیں نہ عاقبت یاد ہے نہ باز پرس کی کوئی فکر ہے۔ (3) والنار شوی لھم : چونکہ انہوں نے اپنے رب سے کفر کیا نہ ایمان لائے نہ عمل صالح کیا، نہ اس کے احاکم کی پابندی کی، اس لئے ان کا مستقل ٹھکانا آگ ہے۔ (4) بعض لوگ اس آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ جانرو کھڑے ہو کر کھاتے پیتے ہیں، اس لئے کھڑے ہو کر کھانا پینا منع ہے، مگر اس مقصد کے لئے اس آیت کے بجائے احادیث سے استدلال کرنا چاہئیا ور اس مسئلے میں اتنی ہی سختی کرنی چاہیے جتنی احادیث سے ثابت ہے، کیونکہ ضرورت کے وقت سنت سے اس کی اجازت بھی ثابت ہے۔ (5) چونکہ جانوروں کی ساری جدوجہد ہی کھانیپ ینے کے لئے ہوتی ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کی مشابہت سے بچنے کے لئے کم کھانے پر زور دیا ہے۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(المومن باکل فی معی واحد والکافر یا کل فی سبعۃ امعار) (بخاری، الاطمعۃ، باب المومن باکل فی معی واحد …: 5393)”مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔“ اور مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ماملاً ادمی وعاء شراً من بطن، بحسب ابن ادم اکلاث یقمن صلبہ ، فان کان لا محالۃ فثلث لطعامہ وثلث لشرابہ وثلث لنفسہ) (ترمذی، الزھد، باب ما جاء فی کراھیۃ کترۃ الاکل :2380، وقال الالبانی صحیح)”کسی آدمی نے پیٹ سے برا برتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں۔ سو اگر کوئی چارہ نہیں تو تیسرا حصہ اس کے کھانے کے لئے، تیسرا اس کے پینے کے لئے اور تیسرا سانس کے لئے ہے۔“ جس طرح شریعت نے ہر بات میں انسانی فطرت کا خیال رکھا ہے اسی طرح یہاں بھی اگر کبھی پیٹ بھر کر کھالے تو اس کی گنجائش ہے، جیسا کہ ابوہریرہ ؓ کا رسول اللہ ﷺ کے بار بار اصرار پر دودھ پینا ہے، حتیٰ کہ انہیں کہنا پڑا کہ اب میرے پیٹ میں اس کی گنجائش نہیں۔ (دیکھیے بخاری، الرقاق، باب کیف کان عیش النبی ﷺ …:6352)
Ayah 47:13

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو تیری اس بستی سے قوت میں زیادہ تھیں جس نے تجھے نکالا، ہم نے انھیں ہلاک کردیا، پھر کوئی ان کا مددگار نہ تھا۔

(1) وکاین من قریۃھی اشد قوۃ…: اس کا عطف ”افلم یسیروا فی الارض فینظروا“ پر ہے، دریمان میں بات سے بات نکلتی گئی ہے، دوبارہ پھر وہی سلسلہ کلام شروع فرمایا ہے۔ اس میں کفار مکہ کے لئے وعید اور رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ اہل مکہ جنہوں نے آپ کو اپنی بستی سے نکلنے پر مجبور کردیا، اپنی قوت و شوکت پر مغرور نہ ہوں اور آپ ان کی قوت دیکھ کر دل برداشتہ نہ ہوں، ان بےچ اورں کی کیا حیثیت ہے۔ ان سے پہلے کتنی ہی بستیاں تھیں جو قوت میں ان سے کہیں زیادہ تھیں، ہم نے انہیں ہلاک کردیا، پھر ان کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ دیکھیے سورة روم (9، 10) اور سورة مومن (21)۔ (2) ”قریہ“ سے مراد قریہ والے ہیں، جیسا کہ یوسف ؑ کے بھائیوں نے اپنے والد ماجد سے کہا :(وسئل القریۃ التی کنا فیھا والعیر التی اقبلنا فیھا) (یوسف : 82)”اور اس بستی سے پوچھ لے جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے ہیں۔“ اس لئے آگے ”اھلکنا ھا“ کے بجائے ”اھلکنھم“ (ہم نے انہیں ہلاک کردیا) فرمایا یعنی اس بستی والوں کو ہلاک کردیا۔ پوری بستی کو نکالنے والا قرار دینے میں ناراضی کا اظہار ہے، کیونکہ کچھ نکالنے والے تھے اور کچھ خاموش رہ کر ان کا ساتھ دینے والے ، جیسا کہ قوم عاد کے متعلق فرمایا :(فکذبوہ فعقروھا) (الشمس :13)”تو انہوں نے اسے جھٹلا دیا، پس اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں۔“ حالانکہ اونٹنی کو کاٹنے والا تو ایک ہی شخص تھا۔ (3) اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ تسلی اس لئے بھی دی کہ آپ ﷺ کہ مکہ سے نکلنے کا شدید رنج اور صدمہ تھا۔ عبداللہ بن عدی بن حمراء الزہری ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ”حزورہ“ مقام پر کھڑے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا :(واللہ ! انک لخیر ارض اللہ واحب ارض اللہ الی اللہ ولو لا انی اخر جت منک ماخر جث) (ترمذی، المناقب، باب فی فضل مکۃ :3925، وقال الالبانی صحیح،)”اللہ کی قسم ! تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمین میں سے اللہ کی ہاں سب سے زیادہ محبوب ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ مجھے تجھ سے نکال دیا گیا تو میں نہ نکلتا۔“
Ayah 47:14

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہے اس شخص کی طرح ہے جس کے لیے اس کے برے اعمال مزین کردیے گئے اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ؟

(1) افمن کان لعی بینۃ من ربہ …: اس آیت میں ممون و کافر کے درمیان ایک اور فرق بیان فرمایا ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کو جنت میں داخل فرمائے گا اور کفر کرنے والوں کا ٹھکانا آگ ہوگا۔”بینۃ من ربہ“ (اپنے رب کی طرف سے دلیل) سے مراد ایک تو انسانی فطرت میں رکھی ہوئی اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی توحید ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب سے حاصل ہونے والی ہدایت اور علم ہے جس کی وجہ سے مومن کو اپنے حق پر ہونے کا پورا یقین ہوتا ہے۔ وہ زندہ رہتا ہے تو اس یقین کے ساتھ کہ میں حق پر ہوں اور دشمن کے مقابلے میں لڑتا اور شہید ہوتا ہے تو اسی یقین کے ساتھ۔ وہ جس راستے پر چل رہا ہے اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے۔ فرمایا گیا یہ شخص اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کیلئے اس کے برے اعمال خوش نما بنا دیئے گئئے ہیں حتی کہ رسول اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنا بھی اسے اچھا کام نظر آتا ہے اور وہ وحی اور ہدایت کے نور سے منہ موڑ کر کفر و شرک اور اندھا دھند اپنی خواہش کی پیروی کی راہ پر چل نکلا ہے جس سے اس کا نور فطرت بھی بجھ چکا ہے ؟ جواب ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ تو ظاہر ہے کہ ان کا انجام بھی کسی صورت ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورة رعد (19) ، سورة ص (28) اور سورة جاثیہ (21)۔ (2) احسن التفاسیر میں ہے :”حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ خلاص اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کے پاس یہ سند (بینہ اور دلیل) ہے کہ انسان کو اور انسان کی سب ضرورتوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو لائق تعظیم و عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک لہ ہے اور جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان کے پاس کوئی شرعی یا عقلی دلیل نہیں ہے۔ بت پرستی جیسی بری چیز کو شیطان نے ان کی نظر میں اچھا کر کے دکھا دیا ہے، اس لئے وہ لوگ اسی شیطانی وسوسے کے سبب اپنی خواہش پر چلتے ہیں۔ اسی کو ”واثبعوا اھوآء ھم“ فرمایا۔“ (مختصراً) (3) ”کمن زین لہ سوء ٓ عملہ“ (اس کے لئے اس کے برے اعمال مزین کردیئے گئے) میں برے اعمال مزین کرنے والے کا ذکر مجہول رکھا ہے، کیونکہ آدمی کے لئے اس کے اعمال کو بد کو مزین کرنے والی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جن میں اس کی خواہش نفس بھی ہے، انسانی اور جنی شیطان بھی اور اس کے اعمال بد کی نحوست بھی۔ فعل مجہول (مزین کردیئے گئے) میں مزین کرنے والی یہ سب اشیاء آجاتی ہیں۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

اس جنت کا حال جس کا وعدہ متقی لوگوں سے کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جو بگڑنے والا نہیں اور کئی نہریں دودھ کی ہیں، جس کا ذائقہ نہیں بدلا اور کئی نہریں شراب کی ہیں، جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے اور کئی نہریں خوب صاف کیے ہوئے شہد کی ہیں اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل اور ان کے رب کی طرف سے بڑی بخشش ہے۔ (کیا یہ متقی لوگ) ان جیسے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں اور جنھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، تو وہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔

(1) مثل الجنۃ التی وعد المثقون…:”مثل“ کا معنی یہاں حال یا صفت ہے۔ اس سے پہلے مومنوں کو جنتوں میں داخل کرنے کا ذکر فرمایا، جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور کفار کا ٹھکانہ آگ بیان فرمایا۔ اب اس جنت اور جہنم کا کچھ مزید حال بیان فرمایا، خصوصاً جنت کی نہروں کا، کیونکہ قرآن مجید میں اکثر جنت کے ساتھ اس کی نہروں کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس آیت میں جنت کی چار قسم کی نہروں کا ذکر فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ جنت کی تمام نہروں کا سرچشمہ عرش کے نیچے جنت الفردوس ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(فاذا سالتم اللہ فسلوہ الفردوس، فانہ اوسط الجنۃ واعلی الجنۃ، وفوقہ عرش الرحمٰن، ومنہ تفجر انھار الجنۃ) (بخاری، التوحید، باب :(و کان عرشہ علی المائ)…: 8323)”تو جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا افضل اور جنت کا سب سے بلند مقام ہے اور اس سے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں“ اور معاویہ بن حیدہ قشیری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :(ان فی الجنۃ بحر الماء وبحر العسل وبحر اللبن وبحر الخمر ثم تشقق الانھار بعد) (ترمذی، صفۃ الجنۃ، باب ما جاء فی صفۃ انھار الجنۃ :2581، وقال الترمذی و الالبانی صحیح)”جنت میں پانی کا سمندر ہے اور شہد کا سمندر ہے اور دودھ کا سمندر ہے اور شراب کا سمندر ہے، پھر بعد میں نہریں پھوٹتی ہیں۔“ (2) فیھا انھر من مآء غیر اسن :”اسن“ ”اسن باسن“ سے اسم فاعل ہے، جس طرح ”امن یامن“ سے ”امن“ اسم فاعل ہے۔ یہ بات ”ضرب“ اور ”نصر“ کے وزن پر بھی آتا ہے :”ای متغیر“ اللون والریح والطمع“”جس کا رنگ، بو اور ذائقہ بدلا ہوا ہو۔“ یعنی جنت میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو ایسا صاف ہے کہ اس کے ذائقے یا رن گیا بو میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی، بخلاف دنیا کے پانی کے جو کچھ عرصہ گزرنے پر اپنے رنگ، ذائقہ اور بو کی صفائی کھو بیٹھتا ہے، اس پر کائی آجاتی ہے گرد و غبار کے ساتھ گندا ہوجاتا ہے اور اس میں پیدا ہونے والے جراثیم اور دوسری چیزیں اسے پینے کے قابل نہیں چھوڑتیں۔ (3) وانھر من لئن لم یتغیر طعمہ : دنیا میں جانوروں کے تھنوں سے جو دودھ نکلتا ہے اس میں کچھ تو تھنوں کی آرائش کی آمیزش ہوجاتی ہے اور کچھ د ہونے والے کے ہاتھوں اور ماحول کے گرد و غبار کی، پھر اگر دودھ کچھ دیر پڑا رہے تو پھٹ جاتا ہے، اس کا ذائقہ ترش اور بدمزہ ہوجاتا ہے اور اس میں سے بدبو آنے لگتی ہے۔ جنت میں دودھ تھنوں سے نہیں نکلے گا بلکہ پانی کی طرح چشموں سے رواں ہوگا اور اپنی اصلی حالت میں بدستور قائم رہے گا، اس کے ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ (4) وانھر من خیر لذۃ للشربین :”لدۃ“”لد“ کی مونث ہے، کیونکہ یہ ”خمر“ کی صفت ہے جو مونث سماعی ہے۔ ”لد“ اور ”لذیذ“ دونوں صفت مشبہ ہیں اور دونوں کا معنی ایک ہے۔ دنیا میں لوگ شراب صرف اس سرور کے لئے پیتے ہیں جو اس کے پینے سے حاصل ہوتا ہے اور وہ اس سرور کی خاطر شراب کی ان تمام قباحتوں کو بردشات کرتے ہیں جو اس میں پائی جاتی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں کہ وہ نہایت بدبو دار ہوتی ہے، تلخ اور بد ذائقہ ہوتی ہے۔ اس کے پینے سے آدمی عقل کھو بیٹھتا ہے، الٹیاں آتی ہیں اور جب نشہ ٹوٹتا ہے تو سر چکرانا اور درد شروع ہوجاتا ہے۔ جنت کی شراب میں دنیا کی شراب کی کوئی خرابی نہیں ہوگی، نہ درد سر، نہ چکر، نہ بدبو اور نہ ذائقے کی تلخی، بلکہ وہ نہایت لذیذ ہوگی اور فرحت و سرور لائے گی، عقل پر پردہ یا کوئی اور خرابی نہیں لائے گی۔ (5) وانھر من عسل مصفی : دنیا کا شہد مکھی کے پیٹ سے نکلات ہے، اسے حاصل کرتے وقت مکھیوں اور اس کے بچوں کے کچھ اجزاء موم، گرد و غبار اور تنکے وغیرہ لازماً شامل ہوجاتا ہیں، پھر دیر تک پڑا رہنے سے کھٹا ہوجاتا ہے، اس میں خمیر پیدا ہوجاتا ہے۔ غرض اس کے پوری طرح صاف ہونے اور رہنے کی کوئی صورت ہی نہیں، جب کہ جنت کی نہروں کا شہد مکھیوں کے پیٹ کا مرہون منت نہیں بلکہ براہ راست شہد کے سمندر سے نکل کر ہر جنتی کے گھر پہنچتا ہے اور ہمیشہ نہایت صاف شفاف اور ہر قسم کی کدورت سے پاک رہتا ہے۔ صاحب احسن التفاسیر لکھتے ہیں :”اگرچہ جنت میں کھانے پینے، پہننے، برتنے کی جتنی چیزیں ہیں ان کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہیں، لیکن جنت کی چیزوں اور دنیا کی چیزوں میں بڑا فرق ہے۔ مثلاً دنیا میں ایسا دودھ کہاں ہے جس کی ہمیشہ نہر بہتی ہو اور پھر دوسرے دن ہی وہ کھٹا نہ ہوجائے۔ وہ شہد کہاں ہے جس کی نہر بہتی ہو اور مکھیوں کی بھنکار اس میں جم جم کر نہ مرے اور ہوا سے خاک اور کوڑا کرکٹ اس پر نہ پڑے۔ وہ شراب کہاں ہے جس کی نہر ہو اور بدبو کے سبب اس نہر کے آس پاس کا راستہ کچھ دنوں میں بند نہ ہوجائے۔“ (6) ولھم فیھا من کل السموت : پینے کی چیزوں کے بعد کھانے کی چیزوں کا اختصار کے ساتھ ذکر فرمایا اور ان میں سے بھی اناج وغیرہ کے بجائے پھلوں کا ذکر فرمایا : کیونکہ جنت کے کھانے بھوک مٹانے کے لئے نہیں بلکہ محض لذت کے لئے ہوں گے، فرمایا :(ان لک الا تجوع فیھا ولا تعری) (طہ :118)”بیشک تیرے لئے یہ ہے کہ تو اس میں نہ بھوکا ہوگا، نہ ننگا ہوگا۔“ اور لذت میں پھولوں کا مقام سب جانتے ہیں۔ (7) ومغفرۃ من ربھم :”مغفر 1“ میں تنوین تعظیم کے لئے ہے، اس لئے ترجمہ ”بڑی یا عظیم مغفرت“ ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت یہ ہوگی کہ انہیں عظیم مغفرت سے نوازا جائے گا۔”غفر یغفر“ کا اصل معنی پردہ ڈالنا ہے یعنی جنت میں ان کے گناہوں پر ان کے رب کی طرف سے ایسا عظیم پردہ ڈالا جائے گا کہ ان کا ذکر تک ان کے سامنے نہیں آئے گا کہ وہ کہیں شرمندہ نہ ہوں۔ (8) کمن ھو خالد فی النار : یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے جو پچھلی آیت :(افمن کان علی بینۃ من ربہ کمن زین لہ سوٓء عملہ واتبعوآ اھوآء ھم) سے سمجھ میں آرہا ہے :”ای افمن ھو من اھل ھذہ الجنۃ کمن ھو خالد فی النار“ ”یعنی تو کیا وہ شخص جو ان اوصاف والی جنت والوں میں سے ہے اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو ہمیشہ آگ میں رہنے والا ہے ؟“ (9) وسقوا مآء حمیماً : اور جنہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ اس سے پہلے جملے ”کمن ھو خالد فی النار“ میں لفظ ”من“ کے مفرد ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ واحد کا صیغہ ”ھو“ استعمال ہوا ہے اور اس جملے میں ”من“ کے معنی کے عام ہونے کو محلوظ رکھتے ہوئے جمع کا صیغہ ”سقوا“ استعمال ہوا ہے۔ (10) فقطع امآء ھم :”قطع یقطع قطعاً“ (ف) کاٹنا۔ ”قطع یقطع تقطیعا“ (تفعیل) میں مبالغہ ہے، ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ ”امعآء“ (معی“ کی جمع ہے جو اصل میں ”معی“ بروزن ”عنب“ ہے۔ یاء پر ضمہ ثقیل ہونے کی وجہ سے گرا دیا، یاء اور نون تنوین دو ساکن جمع ہونے کی وجہ سے یاء کو گرا دیا تو ”معی“ ہوگیا ، جس کا تثنیہ ”معیا“ اور ”معیین“ آتا ہے۔ اس جیسا ایک اور لفظ ”آناء“ ہے جو ”انی“ کی جمع ہے۔ ”آناء اللیل والنھار“”’ ن رات کی گھڑیاں“ یعنی جہنمیوں کو انتہا درجے کا گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔
Ayah 47:16

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تیری طرف کان لگاتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ تیرے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنھیں علم دیا گیا ہے، کہتے ہیں ابھی اس نے کیا کہا تھا ؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے۔

(1) ومنھم من یستیع الیک : مشرکین اور ان کے انجام بد کے ذکر کے بعد اہل کتاب کفار اور کفار کی بدترین قسم منافقین کا ذکر فرمایا جو آپ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے، آپ کی باتیں کان لگا کر سنتے، مگر ماننے کے لئے نہیں، بلکہ اپنی مفید مطلب باتیں ڈھونڈنے کے لئے، جن کے ساتھ وہ لوگوں کو اسلام سے بدظن کرتے۔ چونکہ ان کے دل و دماغ کا کفر حاوی تھا، قیامت پر ایمان وہ نہیں رکھتے تھے، اس لئے ان کے لئے رسول اللہ ﷺ کی باتیں اجنبی تھیں، ان کے دل میں وہ مفہوم بیٹھتا ہی نہیں تھا جو رسول اللہ ﷺ کی زبان سے ادا ہوتا تھا۔ وہ سمجھ ہی نہیں سکتے تھے کہ کوئی شخص ان کے خیال میں موہم آخرت کیلئے اپنی دنیا کا نقصان بھی کرسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کی ساری تگ و دوہی دنیا کے لئے ہو وہ پیغمبروں کی بات سمجھ ہی نہیں سکتا، جیسا کہ شعیب ؑ کی قوم نے کہا تھا :(یشعیب مانفقہ کثیراً مما تقول) (ھود : 91)”اے شعیب ! ہم اس میں سے بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تو کہتا ہے۔“ (2) حتی اذا خرجوا من عندلک قالوا للذین اوتوا العلم…:”اوتوا العلم“ سے مراد صحابہ کرام ؓ ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی ذات وصفات، اپنے پیغمبروں، اپنی کتابوں، اپنے فرشتوں ، یوم آخرت اور تقدیر کے علم اور ان سب پر ایمان کی روشنی عطا فرما رکھی تھی۔ یعنی جب وہ آپ ﷺ کی مجلس سے نلکتے ہیں تو آپ کی باتوں کی تحقیر کرتے ہوئے اور ان کا مذاق اڑاتے ہوئے علم و ایمان سے آراستہ صحابہ کرام ؓ سے کہتے ہیں کہ ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا کہ ابھی ابھی اس نے کیا کہا ہے، کیا آپ لوگوں کی سمجھ میں کچھ آیا ہے ؟ (3) اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم : فرمایا ان کے نہ سمجھنے کی دو وجہیں ہیں، ایک تو یہ کہ ان کے کفر پر اصرار اور عناد کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے، اس لئے وہ سمجھ سکتے ہیں نہیں، جیسا کہ فرمایا :(وقولھم قلوبنا غلف ، بل طبع اللہ علیھا بکفرھم فلا یومنون الا قلیلا) (النسائ : 155)”اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں، بلکہ اللہ نے ان پر ان کے کفر کی وجہ سے مہر کردی تو وہ ایمان نہیں لاتے مگر بہت کم۔“ (4) واتبعوا اھوآء ھم : یہ نہ سمجھنے کی دوسری وجہ ہے کہ وہ کوئی عقل دلیل سننے کے لئے تیار نہیں، بلکہ صرف وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو ان کی خواہش کے مطابق ہوں اور مرضی کے خلاف وہ کوئی پابندی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ جب کسی کی یہ حلات ہوجائے تو فی الواقع اس کی خواہش کے خلاف کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی، نہ ہی وہ اسے ماننے کے لئے تیار ہوتا ہے، خواہ وہ کتنی اچھی ہو۔
Ayah 47:17

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت قبول کی اس نے انھیں ہدایت میں بڑھادیا اور انھیں ان کا تقویٰ عطا کردیا۔

والذین اھتدوا زادھم ھدی…: یعنی وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چل پڑتے ہیں تو وہی باتیں ان کی ہدایت میں اضافے کا باعث بن جاتی ہیں جو منافقین کی سمجھ میں نہیں آتیں اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے انہیں مزید ہدایت عطا فرماتا ہے اور انہیں ان کا موں کی توفیق عطا فرماتا ہے جن کے ذریعے سے وہ جہنم کی آگ سے بچ جاتے ہیں۔