46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 46:1
حم : حروف مقطعات کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Ayah 46:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

تنزیل الکتب من اللہ…: اس آیت کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة زمر، سورة مومن اور سورة جاثیہ کی ابتدائی آیات کی تفسیر۔
Ayah 46:3

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان دونوں کے درمیان ہے حق اور مقررہ میعاد ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس چیز سے جس سے وہ ڈرائے گئے، منہ پھیرنے والے ہیں۔

(1) ماخلقنا السموت والارض وما بینھمآ الا بالحق، قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں سب سے اہم مضمون توحید اور آخرت ہیں۔ ان دونوں کو دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کے لئے ”تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم“ کو بطور تمہید ذکر فرمایا۔ اس کے بعد ایک متفق علیہ بات کا ذکر فرمایا کہ یہ سب مانتے ہیں کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ تسلیم کرلینے کے بعد اس کا ئنات کے متعلق کوئی بھی بات اسی کی معتبر ہوگی جس نے اسے بنایا ہے۔ چناچہ اس کا فرمان ہے کہ ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو حق ہی کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ ان میں سے کوئی چیز باطل نہیں کہ اس میں کوئی خامی یا غلطی ہو یا وہ بےمقصد ہو یا محض کیھل کے لئے بنائی گئی ہو، بلکہ ان کے پیدا کرنے میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ قرآن مجید نے آسمان و زمین کی پیدائش میں ملحوظ بہت سی حکمتیں بیان فرمائی۔ الا ھو الرحمٰن الرحیم ان فی خلق السموت والارض و اختلاف ال یل و النھار والفلک التی تجزی فی البحر و تصریف الریح والسحاب المسخربین السمآء والارض لایت لقوم یعقلون) (البقرہ : 163، 163)”اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیا اور اس میں ہرق سم کے جانور پھیلا دیئے اور ہواؤں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیا ہوا ہے، ان لوگوں کے لئے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔“ یعنی یہ حقیقت کہ معبود برحق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے، عقل والوں کو زمین و آسمان کی پیدائش اور ان دونوں میں پائی جانے والی مذکورہ اشیاء پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت بار بار دہرائی ہے کہ عبادت کا حق دار ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ اس بات پر ہوتا ہے کہ پیدا کرنے والا کون ہے ؟ جو پیدا کرنے والا ہے سچا معبود ہے، جو کچھ پیدا ہی نہیں کرسکتا وہ معبود بھی نہیں ہوسکتا۔ خلاق ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے اکیلے مستحق عبادت ہونے کی متعدد آیات میں سے چند آیات ملاحظہ فرمائیں، سورة بقرہ (21، 22) ، اعراف (91) ، ہود (7) رعد (16) ، سورنحل (3 تا 20) (ان آیات میں ”خلق“ کے بار بار دہرانے کو ملحوظ رکھیں) ، سورة حج (73) ، فرقان (2، 3) اور سورة اعلیٰ (1، 2)۔ زمین و آسمان کی پیدائش میں ایک حکمت ان کی اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قدرت کے کمال پر دلالت ہے۔ جیسا کہ فرمایا (اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلھن یتنزل الامر بینھن لتعلموا ان اللہ علی کل شیء قدیر، و ان اللہ قد احاط بکل شیء علماً) (الطلاق : 12)”اللہ ہی جس نے سات آسمان پیدا کئے اور زمین سے بھی ان کی مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ اللہ نے یقیناً ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔“ سورة طلاق کی اس آیت میں ”لتعلموآئ“ (تاکہ تم جان لو) کا ”لام“ ”خلق سبع سموت“ کے متعلق ہے۔ آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کرنے میں ایک حکمت مخلوق کی آزمائش ہے کہ ان میں سے عمل کے لحاظ سے بہتر کون ہے، جیسا کہ فرمایا :(وھو الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام وکان عرشہ علی المآء لیبلوکم ایکم احسن عملاً (ھود : 8) ”اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کوئی عمل میں زیادہ اچھا ہے۔“ یہی بات سورة کہف (7) اور سورة ملک (2، 3) میں فرمائی۔ اسی کی وضاحت سورة ذاریات میں فرمائی :(وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون ماارید منھم من رزق وما ارید ان یطمعون) (الذاریات :56، 58)”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔ نہ میں ان سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔“ حق کے ساتھ پیدا کرنے میں ایک حکمت ان کی اس حکمت ان کی اس بات پر دلالت ہے کہ ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا ملے گی، جیسا کہ فرمایا :(وللہ ما فی السموت وما فی الارض لیجزی الذین اسمآء وابما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی) (النجم : 3)”اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے ، تاکہ وہ ان لوگوں کو جنہوں نے برائی کی اس کا بدلا دے جو انہوں نے کیا اور ان لوگوں کو جنہوں نے بھلائی کی بھلائی کے ساتھ بدلا دے۔“ اس کی وضاحت سورة یونس کی آیت (4) سے بھی ہوتی ہے۔ کفار چونکہ سمجھتے تھے کہ آسمان و زمین کی پیدائش کا کوئی مقصد نہیں، نہ اللہ کی طرف سے ان پر کوئی ذمہ داری عائد ہوئی ہے، نہ حساب ہوگا اور نہ جزا و سزا کا کوئی م عاملہ ہے۔ ان کے مطابق تو زمین و آسمان کا یہ سلسلہ باطل اور بےمقصد ہو، اس لئے اللہ تعالیٰ نے کفار کی اس بات کی سخت تردید فرمائی، فرمایا :(وما خلقنا السمآء والارض وما بینھا باطلاً ذلک ظن الذین کفروا ، فویل للذین کفروا من النار) (ص : 28) ”اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو بےکار پیدا نہیں کیا۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا، سو ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر کیا آگ کی صورت میں بڑی ہلاکت ہے۔“ یہی بات سورة مومنون (115، 116) ، آل عمران (190، 191) اور سورة دخان (38، 39) میں بیان ہوئی ہے۔ (2) واجل مسمی : یعنی ہم نے کائنات کا یہ نظام دائمی اور ابدین ہیں بنایا، بلکہ اس کا ایک وقت مقرر ہے ، جس کے بعد ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلا ملے گا۔ (3) والذین کفروا عمآ انذروا معرضون :”انذاز“ کا معنی آگاہ کرنا ہے جس کے ساتھ ڈرانا بھی ہو۔ یعنی اگرچہ کفار کو آگاہ کردیا گیا کہ زمین و آسمان کی پیدائش بےمقصد نہیں، نہ یہ سل سلہ دائمی ہے بلکہ یہ تمہاری آزمائش کے لئے ہے اور ایک مقرر وقت پر تم سب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جاؤ گے، اس کے باوجود جس آخرت اور جس اخروی عذاب سے انھیں ڈرایا گیا وہ اس سے منہ پھیرنے والے ہیں، نہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور نہ اس سے بچنے کی تیاری کرتے ہیں۔
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

کہہ دے کیا تم نے دیکھا جن چیزوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، مجھے دکھاؤ انھوں نے زمین میں سے کون سی چیز پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ لاؤ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب، یا علم کی کوئی نقل شدہ بات، اگر تم سچے ہو۔

(1) قل ارء یتم ماتدعون من دون اللہ …: جیسا کہ پچھلی آیت کی تفسیر میں تفصیل سیب یان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اکیلے معبود ہونے کی اور اس کے سوا تمام معبودوں کے باطل ہونے کی سب سے بڑی اور واضح دلیل اس کا ئنات کو پیدا کرنا ہے۔ یہ عقلی دلیل ہے جسے کوئی صاحب عقل رد نہیں کرسکتا، کفار کی اس کے جواب سے بےبسی واضح کرنے کے لئے اسے مناظرانہ انداز میں پیش کرنے کا حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ مجھے بتاؤ کہ اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم پکارتے ہو، ذرا مجھے دکھاؤ زمین کی وہ کون سی چیز ہے جو انہوں نے پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے تو وہ دکھاؤ ؟ ظاہر ہے وہ ایسی کوئی چیز دکھا ہی نہیں سکتے، تو پھر کسی اور معبود کی عبادت کیوں کرتے ہیں۔ یہاں ایک لمبی بات کو مختصر کردیا ہے، اصل یہ تھا کہ مجھے دکھاؤ کہ زمین و آسمان کی کون سی چیز ہے جو پوری کی پوری انہوں نے پیدا کی ہو، یا زمین و آسمان کی کوئی چیز دکھاؤ جو پوری نہ سہی اس کے بنانے یا چلانے میں ان کا کچھ حصہ ہی ہو۔ پہلے جملے میں سے صرف زھین کا ذکر فرمایا آسمان کو حذف کردیا، دوسرے جملے میں آسمانوں کا ذکر فرمایا زمین کو حذف کردیا۔ یہ بات خودبخود سمجھ میں آرہی ہے کہ دونوں جملوں میں دونوں مراد ہیں، اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہاں لکھا ہے کہ آیت میں زمین کی کسی چیز کو پیدا کرنے کی نفی اور آسمانوں کی چیز میں شرکت کی نفی اس لئے فرمائی ہے کہ بظاہر زمین کی بعض اشیاء میں ان کی شرکت ہے جو آسمانوں میں بظاہر بھی نہیں۔ مگر یہ درست نہیں، کیونکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں زمین و آسمان دونوں کی کسی چیز میں ان کی شرکت کی نفی فرمائی ہے۔ اس لئے وہی تفسیر درست ہے جو اوپر کی گئی ہے۔ دیکھیے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :(قل ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ ولا یملکون مثقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض وما لھم فیھما من شرک ومالہ منھم من ظہیر) (سبا : 22) ”کہہ دے پکارو ان کو جنہیں تم نے اللہ کے سوا گمان کر رکھا ہے، وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کے مالک ہیں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کوئی حصہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مددگار ہے۔“ (2) ایتونی بکتب من قبل ھذا او اثرۃ من علم …:”اثرۃ“ اثر ، یاتر، ائرا و آثارۃ وانزہ“ (ض ، ن) الحدیث“ بات کو نقل کرنا۔ ”مانور“ بمعنی ”منقول۔“۔”اثرۃ من علم“ نقل شدہ یا پہلے لوگوں کا باقی ماندہ علم۔ یہ شرک کی تردید کی نقلی دلیل ہے، یعنی شرک کی عقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے تو کوئی معتبر نقلی دلیل ہی لے آؤ۔ قرآن سے پہلے کی کسی آسمانی کتاب مثلاً تورات یا انجیل وغیرہ سے شرک کا ثبوت لے آؤ، جو کسی قابل اعتماد طریقے سے ہم تک پہنچتی ہو، کیونکہ اس کے بغیر اس کا آسمانی کتاب ہونا ثابت ہی نہیں ہوتا۔ یا پہلے انبیاء کی احادیث میں سے منقول کوئی حدیث لے آؤ، جو محض ظن و تحمین سے مقنول نہ ہو بلکہ اس سے علم و یقین حاصل ہوتا ہو۔ اس طرح کہ وہ صحیح سند یا تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہو، کیونکہ وہم و گمان پر مبنی چیز کو علم نہیں کہا جاتا، جیسا کہ فرمایا :(وما لھم بہ من علم، ان یتبعون الا الظن ، وان الظن لایغنی من الحق شیئاً) (النجم :28)”حالانکہ انہیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بیشک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔“ مگر تمہیں ایسی کوئی معتبر قدیم آسمانی کتاب یا کسی نبی کی حدیث نہیں ملے گی جس میں شرک کا شائبہ تک موجود ہو، کیونکہ ہر رسول نے توحید ہی کی تعلیم دی، فرمایا :(ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولاً ان اعبدواللہ واجتنبوا الطاغوت) (النحل : 36)”اور بلا شبہ یقناً ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔“ اور فرمایا :(وما ارسلنا من قبلک من رسول ٍ الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) (الانبیائ : 25)”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میری سوا کوئی مبعود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ بعض اہل علم نے فرمایا کہ ”اگر یہاں کتاب سے مراد کتاب الٰہی اور بقیہ علم سے مراد انبیاء و صلحاء کا چھوڑا ہوا علم نہ بھی لیا جائے تو دنیا کی کسی علمی کتاب اور دینی یا دنیوی علوم کے کسی ماہر کی تحقیقات میں بھی آج تک اس امر کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے کہ زمین یا آسمان کی فلاں چیز کو خدا کے سوا فلاں بزر گیا دیوتا نے پیدا کیا ہے، یا انسان جن نعمتوں سے اس کائنات میں متمتع ہو رہا ہے ان میں سے فلاں نعمت خدا کے بجائے فلاں معبود کی آفریدہ ہے۔“ مگر یہ بات کلی طور پر درست نہیں، کیونکہ کئی دہریہ سائنسدان اپنی تحقیق کے ذریعے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کائنات خود بخود پیدا ہوئی اور خود بخود ہی چل رہی ہے۔ زمانے کو خلاق ومالک قرار دینے والے لوگ اپنی اس جہالت کو تحقیق ہی کہتے ہیں۔ اس لئے کتاب سے مراد آسمانی کتاب ہی لینا چاہیے، کیونکہ دوسری آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کتاب سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے، جیسا کہ فرمایا :(قل ارئیتم شرکآء کم الذین تدعون من دون اللہ اورنی ماذا خلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت ، ام اتینھم کتباً فھم علی بینت منہ ، بل ان یعدالظلمون بعضھم بعضاً الا غروراً) (فاطر : 30) ”کہہ دے کیا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟ مجھے دکھاؤ زمین میں سے انہوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے، یا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی کسی دلیل پر قائم ہیں ؟ بلکہ ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کو دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتے۔“ ان آیات سے معلوم ہوا کہ دین میں دل یل کے طور پر آسمانی کتاب پیش کی جاسکتی ہے یا آسمانی وحی پر مشتمل احادیث، ان کے علاوہ کسی کی تصنیف کو یا اس کے اقوال کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 46:5

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بیخبر ہیں۔

ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ …: یہ استفہام انکار کے لئے ہے، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کو پکارے جو قیامت کے دن تک ان کی دعا قبول نہیں کرسکتے، کیونکہ ان کے پاس یہ اختیار ہی نہیں، بلکہ انھیں ان کے پکارنے کی خبر ہی نہیں۔ عام طور پر ان سے مراد پتھر اور بت لئے جاتے ہیں، مگر لفظ ”من“ ذوی العقول کے لئے آتا ہے، اس لئے اس سے مراد وہ سب ہستیاں ہیں جنہیں لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، جن میں انسان، جن، فرشتے، نبی، ولی نیک، بد، زندہ، مردہ سب شامل ہیں۔ رہے پتھر، بت اور قبریں وغیرہ تو انہیں پکارتے اور پوجتے وقت بھی مشرکین دراصل ان بتوں یا قبروں کے بجائے ان ہستیوں ہی کو پکار رہے ہوتے ہیں جن کے وہ بت یا قبریں ہیں، ورنہ انھیں بت بنانے کی ضرورت کیا تھی، کسی بھی پتھر کی پوجا کرلیتے۔ چناچہ مشرکین عرب نے عین کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل علیہا اسلام کی صورتیں بنا کر رکھی ہوئی تھیں، جنھیں فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے حکم سے کعبہ سے نکالا گیا۔ (دیکھیے بخاری :4288) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کئیو بھی کسی کی پکار نہ سننا ہے نہ اس کی مدد کو پہنچ سکتا ہے۔ قرآن مجید نے یہ بات بار بار دہرائی ہے، فرمایا :(والذین تدعون من دونہ مایملکون من قطمیر ان تدعوھم لایسمعوا دعآء کم ولو سمعوا ما استجابوا لکم ، ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم، ولاینبتک مثل خبیر) (فاطر : 13، 13)”اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں۔ اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن لیں تو تمہاری درخواست قبول نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کردیں گے اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔“ اور فرمایا :(ان الذین تدعون من دون اللہ عبادا مثالکم فاد عوھم فلیتجیوا الکم ان کنتم صدقین) (الاعراف : 193)”بیشک جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو۔“ اور فرمایا :(لہ دعوہ الحق والذین یدعون من دونہ لایستجییبون لھم بشیء الا کباسط کفیہ الی المآء لیبلغ فاہ وما ھو ببالغہ، وما دعآء الکفرین الا فی ضلل) (الرعد : 13)”برحق پکارنا صرف اسی کے لئے ہے اور نج کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی دعا کچھ بھی قبول نہیں کرتے، مگر اس شخص کی طرح جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلانے والا ہے، تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ اس تک ہرگز پہنچنے والا نہیں اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر ہے بےسود۔ ”قارئین ”لایستجیب“ کا مفہوم سمجھنے کیلئے تھوڑی زحمت کر کے ان مذکورہ بالا مقامات کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔
Ayah 46:6

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے۔

واذا حشر الناس کانوا لہم اعدآئ…: یعنی قیامت کے دن جب انہیں بتایا جائے گا کہ یہ لوگ تمہیں پکارتے رہے اور تم سے فریاد کرتے رہے تو وہ صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں اس بات کی کوئی خبر نہیں کہ یہ ہمیں گے اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تم اور تمہارے شری کبھی ، پھر ہم ان کے دریمان علیحدگی کردیں گے اور ان کے شریک کہیں گے تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ سو اللہ ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان کافی گواہ ہے کہ بیشک ہم تمہاری عبادت سے یقینا بیخبر تھے۔“ اور دیکھیے سورة قصص (63) اور سورة نحل (86) مسیح ؑ بھی اپنی عبادت کرنے والوں سے اپنے بیخبر ہونے کی صراحت فرما دیں گے۔ (دیکھیے مائدہ : 116 ، 117) اور فرشتے بھی۔ (دیکھیے فرقان : 17، 18۔ سبا : 40، 41) بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی بھی پوجا کی گئی وہ پوجا کرنے اور پکارنے والوں کے شدید مخالف اور دشمن بن جائیں گے۔ دیکھیے سورة مریم (81، 82)۔
Ayah 46:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا حق کے بارے میں، جب وہ ان کے پاس آیا، کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔

واذا تتلی علیھم ایتنا بینت …: قرآن پر ایمان نہ لانے کے لئے وہ جو بہانے کرتے تھے ان کا ذکر ہو سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے) مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واذا تتلی علیھم ایتنا بینت قال الذین کفروا اللحق لما جآء ھم ھذا سخرمبین)”اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا حق کے بارے میں، جب وہ ان کے پاس آیا، کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اختصار کے بجائے تین باتوں ”قال الذین کفوا“ ، ”للحق“ اور ”لما جآء ھم“ کی صراحت فرمائی۔ (قال الذین کفروا“ کا مقصد یہ ہے کہ ان کے جھٹلانے کا اصل باعث ان کا فکر و انکار ہے، جب کوئی طے کرلے کہ ماننا ہی نہیں تو بڑی سے بڑی دلیل بھی اس کے لئے بےکار ہے، جیسا کہ فرمایا :(ان الذین کفروا سوآء علیھم ، انذرتھم ام لم تنذرھم لایومنون) (البقرہ : 6)”بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ان پر برابر ہے، خواہ تو نے انھیں ڈرایا ہو یا انہیں نہ ڈرایا ہو ایمان نہیں لائیں گے۔“ ”للحق“ کہہ کر آیات بینات کی عظمت و اہمیت اور کفار کی بدنصیبی نمایاں فرمائی کہ دیکھو وہ اس چیز کو جادو کہہ رہے ہیں جو حق ہے، جب کہ جادو سراسر باطل ہوتا ہے اور ”لما جآء ھم“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کے پاس حق نہ آتا تو انہیں معذور سمجھا جاتا، حق آنے کے بعد اسے جادو کہنا بہت بڑی جرأت ہے۔“ واذا تتلی علیھم“ اور ہی انہیں جھٹلا دیتے ہیں اور جب جھٹلانے کے لئے کوئی معقول وجہ نہیں پاتے تو اس کی شدت تاثیر کی وجہ سے اسے جادو کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں، حالانکہ کہاں جادو اور کہاں یہ پاکیزہ اور عظیم الشان کلام، جس کی ایک سورت کی مثال وہ نہ لاسکے نہ لاسکتے ہیں اور کہاں نجس اور پلید جادوگر اور کہاں محمد رسول اللہ ﷺ جیسا پاک باز اور صادق و امین انسان، جس کی پاک بازی اور صدق و امانت کا انھیں نبوت سے چالیس برس پہلے کا بھی تجربہ تھا۔
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے، کہہ دے اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم میرے لیے اللہ کے مقابلے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے، وہ ان باتوں کو زیادہ جاننے والا ہے جن میں تم مشغول ہوتے ہو، وہی میرے درمیان اور تمہارے درمیان گواہ کے طور پر کافی ہے اور وہی بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

(1) ام یقولون افتربہ : یہ ایمان نہ لانے کا ایک اور بہانہ ہے۔ ”واؤ“ کے ساتھ عطف کے بجائے حرف قرآن خود تصنیف کیا ہے اور جھوٹ باندھتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ حالانکہ اس میں وہ اپنی ہی بات کی نفی کر رہے ہیں، کیونکہ اگر یہ جادو ہے تو آپ ﷺ کا اپنا کلام نہیں اور اگر آپ ﷺ کا کلام ہے تو جادو نہیں۔ (2) قل ان افترینہ فلا تملکون لی من اللہ شیئاً :”ان افتریتہ“ کا جواب محذوف ہے جو ”فلاتملکون لی“ سے سمجھ میں آرہا ہے :”ای ان افتریتہ عاقبنی اللہ علی الا فتراء فلا تملکون لی من اللہ شیئاً“ یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر میں نے جھوٹ گھڑنے کا جرم کیا ہے تو یقینا اللہ تعالیٰ مجھے جھوٹ گھڑنے کی سزا دے گا، پھر تم اللہ تعالیٰ سے چھوڑانے کے لئے میرے کسی کام نہ آؤ گے۔“ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ولو تقول علینا بغض الا قاویل لا حدنا منہ بالیمین ، ثم لقطعنا بنہ الوتین فما منکم من احدعنہ حجزین) (الحاقہۃ :33 تا 38)”اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔ تو یقیناً ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ پھر یقیناً ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔“ (3) ھم اعلم بما تقیضون فیہ…: یعنی جب تم اس حد تک آگئے کہ اس کلام کو افترا اور انسانی کلام کہنے لگے جس کی چھٹوی سے چھوٹی سورت کی مثال لانے سے بھی تم قاصر رہے اور سب کے سامنے واضح ہوگیا کہ وہ انسان کا کلام نہیں اور نہ کوئی انسان ایسا کلام کرسکتا ہے تو اب تم سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں، میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں وہ ان باتوں کو خوب جانتا ہے جو تم بناتے رہتے ہو۔ کبھی اسے جادو کہتے ہو، کبھی کہانت، کبھی شعر اور کبھی خود تصنیف کر کے اللہ تعالیٰ پر باندھا ہوا طوفان۔ وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہے، کیونکہ وہ ہم دونوں کی ہر بات سے واقف اور ہر موقع کا گواہ ہے۔ (4) وھو الغفور الرحیم : اس جملے کی مناسبت اس مقام پر دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ تمہارا قرآن کو افترا اور نبی کو مفتری کہنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ غفور و رحیم نہ ہوتا، بلکہ کوئی بےرحم اور سخت گیر مالک ہوتا تو تمہیں ایک سانس کی مہلت بھی نہ ملتی۔ یہ اس کی مغفرت اور رحمت ہی ہے کہ ایسی گستاخیوں کے باوجود وہ تمہیں فوراً نہیں پکڑتا، بلکہ مہلت دیتا ہے کہ تم کسی وقت ہی پلٹ ائٓو۔ دوسری مناسبت یہ ترغیب ہے کہ اب بھی اس ہٹ دھرمی سے باز آجاؤ تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت تمہارا معاف کر دے گا۔”الغفور الرحیم“ ضمیر ”ھو“ کی خبر ہے، جس پر الف لام آنے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ہے۔ یعنی غفور و رحیم بس وہی ہے اور کوئی ہے ہی نہیں جو تمہارے گناہوں پر پردہ ڈال دے اور تم پر بےحد رحم کرنے والا ہو پھر اس سے بھاگ کر کہاں جاؤ گے ؟
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ (یہ کہ) تمہارے ساتھ (کیا) ، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے اور میں تو بس واضح ڈرانے والا ہوں۔

(1) قل ما کنت بداعً من الرسل :”یدع یبدع بدعا“ (ف) ”الشیء“ کسی چیز کو ایجاد کرنا، کسی پہلی مثال کے بغیر بنانا۔ سورة بقرہ (117) اور سورة انعام (101) میں ”بدیح السموت والارض“ اسی سے ہے۔ ”بدع یبدع یدعاً و بداعۃ وبدوعۃ“ (ک) نیا ہونا، جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو۔”بدعا“ صفت مشبہ فعل لازم سے بمعنی اسم فاعل ہے۔ جیسے ”خف“ بمعنی خفیف ہے، یا فعل متعدی سے بمعنی اسم مفعول ہے، جیسے ”حب“ بمعنی محبوب ہے۔ ”بدعا من الرسل“ نیا یا انوکھا رسول۔ کفار ایمان نہ لانے کے لئے جو بہانے اور اعتراض کرتے تھے ان میں سے چند کا ذکر اور ان کا جواب پچھلی وہ آیات میں گزرا۔ اس آیت میں ان کے بہت سے اعتراضات کا صرف جواب ذکر کیا گیا ہے، اعتراضات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کیونکہ وہ خود بخود جواب سے سمجھ میں آرہے ہیں۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کا ذکر صراحت کے ساتھ بھی موجود ہے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ ہمارے جیسا ایک بشر رسول کیسے بن گیا، جو ہماری طرح کھاتا پیتا، باز اورں میں چلتا پھرتا اور بیوی بچے رکھتا ہے۔ ایک اعتراض یہ کرتے کہ توحید کی جو تعلیم یہ نبی پیش کرتا ہے ہم نے اپنے آباؤ اجداد میں نہیں سنی۔ (دیکھیے ص : 4 تا 8۔ فرقان : 7) ایک یہ کہ اگر یہ رسول ہے تو ہمارے مطالبے کے مطابق معجزے کیوں پیش نہیں کرتا، مثلاً پہاڑ ہٹا دے، دریا بہا دے، سونے کا مکان بنا لے، آسمان پر چڑھ جائے اور وہاں سے کتاب لا کر دکھائے وغیرہ۔ (دیکھیے نبی اسرائیل : 90 تا 93) اور ایک یہ کہ غیب کی خبریں مہارے مطالبے کے مطابق کیوں نہیں بتاتا، کم از کم یہ ہی بتادے کہ قیامت کب ہوگی۔ دیکھیے اعراف : 187) اللہ تعالیٰ نے ان سب کے جواب میں یہ کہعنے کا حکم دیا کہ میں کوئی پہلا رسول نہیں جو بشر ہو، مجھ سے پہلے تمام رسول بشر ہی تھے، وہ کھاتے پیتے، باز اورں میں چلتے پھرتے اور بیوی بچوں والے تھے۔ ان پر انسانی عوارض آتے تھے، سب کی تعلیم توحید تھی، وہ خدائی اختیارات نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی وہ اپنی مرضی سے معجزے پیش کرسکتے تھے۔ پھر اگر وہ سب جن میں تمہارے جد امجد ابراہیم اور اسماعیل ؑ اور بنی اسرائیل کے بہت سے انبیاء شامل ہیں، رسول اور نبی ہوسکتے ہیں اور تم انھیں نبی مانتے ہو تو میرا رسول ہونا کون سی انوکھی بات ہے ؟ (2) وما ادری مایفعل فی ولابکم : یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ یہ ہمیں ہمارے مطالبے کے مطابق غیب کی خبریں کیوں نہیں دیتا۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ میں خود کچھ بھی نہیں جانتا، نہ یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا، تو میں تمہیں اپنے پاس سے تمہاری طلب کردہ باتیں کیسے بتاسکتا ہوں ؟“ ”مایفعل“ فعل مجہول اس لئے لایا گیا تاکہ فاعل عام رہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کیا کرے گا اور لوگ کیا کریں گے۔ پھر یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ کس وقت کیا جائے گا، تاکہ عام رہے کہ ہمارے ساتھ دنیا میں کیا کیا جائے گا اور آخرت میں کیا کیا جائے گا۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ رسول اللہ ﷺ یقینا جانتے تھے کہ دنیا اور آخرت میں آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا اور آپ پر ایمان لانے والوں یا نہ لانے والوں کے ساتھ کیا کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے گئے اور صحابہ کرام کے تمام گناہ معاف کر کے انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا اور کفار وم نافقین کو جہنم کا عذاب دیا جائے گا۔ (دیکھیے فتح : 1 تا 6) دنیا میں بھی آپ کو اور ایمان والوں کو عزت و غلبہ اور کفار کو لذت و رسوائی ملے گی اور آپ کا دین تمام دینوں پر غالب آئے گا۔ دیکھیے سورة مجادلہ (21) ، فتح (28) صف (8، 9) اور دوسری متعدد آیات۔ پھر یہ کہنے کا حکم کیوں دیا کہ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ اہل علم نے اس سوال کے مختلف جواب دیئے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اجمالی طور پر تو یہ جانتے تھے مگر تفصیلی طور پر آپ کو معلوم نہ تھا کہ آپ کے ساتھ یا آپ کے مخاطبین کے ساتھ دنیا یا آخرت میں کیا ہوگا۔ ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ پہلے آپ کو یہ معلوم نہ تھا بعد میں معلوم ہوگیا ، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب اس آیت کے جملہ ”وما ادری مایفعل، بی ولابکم“ میں اور اگلے جملے ”ان اتبع الا مایوحی الی“ میں موجود ہے۔ (3) ان اتبع الا مایوحی الی : یعنی میں خود آئندہ کی کوئی بات نہیں جانتا، نہ یہ کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ یعنی میں صرف اتنا بتاسکتا ہوں جو تجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اور واقعی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آئندہ ہونے والی جو بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی وہ آپ جان گئے اور جو نہیں بتائی وہ آپ کو معلوم نہیں ہوئی۔ اس کی دلیل سینکڑوں واقعات ہیں، مثلاً واقعہ افک ، بئر معونہ کے شہداء اور آپ ﷺ کا چند کفار کا نام لے کر ایک ماہ تک قنوت میں ان پر لعنت کرنا، مگر اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ یہ آپ کے اختیار میں نہیں اور پھر ان سب کا مسلمان ہوجانا وغیرہ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة نمل کی آیت (65) (قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ) کی تفسیر۔ سورة اعراف میں فرمایا :(قل لا املک لنفسی نفعاً ولاضراً الا ما شآء اللہ ولوکنت اغلم الغیب لاستکثرت من الخیر، وما مسنی السوٓء ان انا الا نذیر و بشیر لقوم یومنون) (الاعراف : 188) ”کہہ دے میں اپنی جان کے لئے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔“ اسی طرح آخرت کے متعلق جو بات بتائی وہ آپ جان گئے جو نہیں بتائی وہ نہیں جانتے تھے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے کہ میں عرش کے نیچے سجدے میں گر جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے وہ تعریفیں الہام کرے گا جو اب مجھے یاد نہیں۔ (دیکھیے بخاری، التوحید، باب کلام الرب، عزوجل یوم القیامۃ مع الانبیاء و غیر ھم :801) الغرض، رسول اللہ ﷺ اوپر ہلے تمام انبیاء عہلیہ السلام کو آئندہ کی کسی بات کا نہ اجمالی علم تھا اور نہ تفصیلی، صرف ان باتوں کا علم تھا جو اللہ تعالیٰ نے انھیں بتائیں، خواہ اجمالاً بتائیں یا تفصیلاً۔ یوسف اور یعقوب ؑ کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ دیکھیے سورة یوسف کی آیت (94) کی تفسیر۔ اسی طرح ابراہیم ؑ کی زندگی کے تمام واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ پیغمبر کو آنے والے واقعات کا صرف اتنا علم ہوتا ہے جتنا اسے بتادیا جائے۔ اگر کہا جائے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوتے ہیں تو ابراہیم ؑ کے آگے میں پھینکے جانے، بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم ہجرت میں بیوی کی عزت خطرے میں پڑنے، بیوی بچے کو بےآب وگیاہ وادی میں چھوڑنے، غرض کسی بھی امحتان میں سرخرو ہونے کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی۔ خلاصہ یہ کہ آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اے نبی ! کہہ دے نہ میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا، مجھے تو صرف اس بات کا پتا چلتا ہے اور میں اسی کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے، اس کے سوا میں اپنے یا تمہارے متعلق آئندہ کی کوئی بات نہیں جانتا۔ اس لئے مجھ سے قیامت کے وقت یا آئندہ کی دوسری کسی بات کے متعلق بتانے کا مطالبہ مت کرو، کیونکہ وہ یہ میرے دائرہ اختیار میں نہیں ہیں۔ (4) وما انا الا نذیر مبین : یعنی میرا کام یہ نہیں کہ میں تمہیں بتاؤں کہ قیامت کب آئے گی، یا اپنے پاس سے تمہیں آئندہ کی خبریں بتاؤں۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ میں اللہ کا عذاب آنے سے پہلے تمہیں اس سے واضح طور پر ڈرا دوں۔ (5) مفسر علی بن احمد مہائمی نے اپنی تفسیر ”تبصیر الرحمان“ میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے نہایت عمدہ الفاظ میں بحث کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے، وہ لکھتے ہیں :”قل ما کنت بدعا من الرسل) (اتیکم بالمواخذہ الاخروبۃ (3) من ابن لی تعیین و فتھا مع انی (ما ادری ما یفعل بی ولابکم) فیما لم یوح الی والوحی ببعض الامور لایستلزم العلم بالبافی ولم بکن لی ان اضم الی الوحی کذباً من عندی (ان اتبع) فی تقریر الامور لایسلزم العلیم بالبافی ولم یکن لی ان اضم الی الوحی کذباً من عندی (ان اثبع) فی تقریر الامور الغیثۃ (الا ما یوحی الی و) مع ذلک لا یفوض الی شیء مما یو، ی الی من تعذیب من لا یومن بی بل (ما انا الا نذیر) (عنہ (مبین) لہ بالدلائل القطعیۃ“”(کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں) کہ تم پر آخرت کا عذاب لے آؤں (اور) میں اس کے وقت کی تعیین کیسے کرسکتا ہوں جب کہ (میں جانتا ہی نہیں کہ میرے ساتھ کیا جئاے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا جائے گا) ان معاملات میں جن کی میری طرف وحی نہیں کی گئی اور بعض معاملات کے وحی کئے جانے سے لازم نہیں آتا کہ مجھے تمام معاملات کا بھی علم ہوگیا اور یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کہ باقی معاملات میں وحی کے ساتھ اپنے پاس سے جھوٹ ملا دوں۔ (میں پیروی نہیں کرتا) غیبی معاملات بیان کرنے میں (مگر اسی کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور) اس کے ساتھ یہ کہ مجھے جو وحی کی جاتی ہے اس میں مجھ پر ایمان نہ لانے والوں کو عذاب دینے میں کسی چیز کا معاملہ میرے سپرد نہیں کیا جاتا، بلکہ (میں نہیں ہوں مگر ڈرانے ولا) اس کی طرف سے (بالکل واضح) جو اپنے ڈرانے کو قطعی دلائل کے ساتھ واضح کر کے بیان کرنے والا ہوں۔“
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر یہ اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کردیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والے نے اس جیسے (قرآن) کی شہادت دی، پھر وہ ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا (تو تمہارا انجام کیا ہوگا) بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(1) قل ارء یتم ان اکن من عند اللہ …:”ارء یتم“ کا لفظ معنی ہے ”کیا تم نے دیکھا۔“ اہل عرب اسے ”اخیرونی“ (مجھے بتاؤ) کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ یعنی کیا تم نے دیکھا ؟ اگر دیکھا ہے تو مجھے بتاؤ۔ شھد شاھد من بنی اسرآئیل علی مثلہ“ میں ”اس جیسے کی شہادت“ سے مراد یہ ہے کہ اگر بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والے نے اس کی شہادت دی ہو۔ کیونکہ بعض اوقات کسی چیز کی مثل سے مراد خود وہ چیز ہوتی ہے، جیسے کہتے ہیں ”مثلک لا یفعل ھذا“ (تیرے جیسا یہ کام نہیں کرتا“ یعنی توبہ یہ کام نہیں کرتا۔ اس لئے آگے ”فامن و استکبرتم“ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس جیسے پر ایمان لایا، بلکہ اس کا مطلب ہے ”پھر وہ اس پر ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا۔ ”لفظ“ مثل کو خود کسی کی ذات کے لئے استعمال کرنے کی ایک مثال ایک تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :(اومن کان میتاً فاحینہ و جعلنا لہ نوراً یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منھا) (الانعام : 122)”ای کمن خو (نفسہ) فی الظلمات“ یہاں ”اس شخص کی طرح ہے جس کی مثل اندھیروں میں ہے“ سے مراد ہے ”اس شخص کی طرح ہے جو (خود) اندھیروں میں ہے۔“ اسی طرح :(فان امنوا بمثل فا امنتم بہ فقد اھتدوا) (البقرۃ :138) (پس اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے) سے مراد یہ ہے کہ ”اگر وہ اس چیز پر ایمان لے آئیں جس پر تم ایمان لائے ہو…۔“ (اضواء البیان) مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة شوریٰ کی آیت (11):(لیس کمثلہ شیء) کی تفسیر۔ اس آیت میں ”ان کان من عند اللہ“ سے لے کر ”واستکبرتم“ تک شرط ہے، جس کی جزا محذوف ہے اور وہ بعد والے جملے ”ان اللہ لایھدی القوم الظلمین“ سے ظاہر ہو رہی ہے :”ای فمن اظلم منکم“ ”تو تم سے بڑھ کر ظالم کون ہے۔“ اس کی تائید سورة حم السجدہ (52) سے بھی ہوتی ہے۔ قرآ ن کو جھٹلانے کے لئے کفار کے مختلف اعتراضات اور ان کے جوابات ذکر کرنے کے بعد اب انہیں اس پر ایمان نہ لانے کے انجام بد سے ڈرایا جا رہا ہے کہ یہ بتاؤ کہ اگر یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم اس کا انکار کرو، حالانکہ بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والا بھی اس کے حق ہونے کی شہادت دے چکا ہو، پھر وہ خود بھی اس پر ایمان لے آیا ہو مگر (تم یہ جان لینے کے باوجود کہ یہ حق ہے) محض تکبر اور جھوٹی بڑائی قائم رکھنے کے لئے اسے ماننے سے انکار کر دو (تویقینا تم ظالم ہوگئیا ور اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت کی توفیقف نہیں دے گا) کیونکہ جو لوگ تکبر کرتے ہوئے حق سے انکار کردیں ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ بھی سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق نہیں دیتا۔ (2) اس آیت میں ”شھد شاھد من بنی اسرآئیل“ سے کون مراد ہے ؟ مفسرین کے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ سب سے مشہور قول یہ ہے کہ اس سے مراد عبداللہ بن سلام ؓ ہیں۔ اس کی دلیل سعد بن ابی وقاص ؓ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں۔ (ما سبمعت النبی ﷺ بقول لاحدیمشی علی الارض انہ من اھل الجنۃ الا نعبد اللہ بن سلام قال وفیہ نزلت ھذہ الآبۃ (وشھد شاھدً من بنی اسرآئیل علی مثلہ) (بخاری : مناقب الانصار، مناقب عبداللہ بن سلام : 3812)”میں نے نبی ﷺ کو عبد اللہ بن سالم کے سوا کسی ایسے شخص کے بارے میں جو زمین پر چل پھر رہا ہو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ وہ جنتیوں میں سے ہے۔“ سعد ؓ نے فرمایا کہ انھی کے بارے میں یہ آیت اتری :(وشھد شاھد من بنی اسرآئیل علی مثلہ) (الاحفاف : 11)”اور بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والے نے اس جیسے (قرآن) کی شہادت دی۔“ مگر اس میں یہ اشکال ہے کہ یہ سورت مکی ہے جب کہ بتاتے ہیں کہ بیشک سورت مکی ہے مگر یہ آیت مدنی ہوسکتی ہے، یا ہوسکتا ہے کہ مکہ میں پہلے ہی بنی اسرائیل میں سے عبداللہ بن سلام ؓ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے بنی اسرائیل میں سے رسول اللہ ﷺ کے حق ہونے کی شہادت دی اور آپ پر ایمان لائے۔ کیونکہ اصول تفسیر میں یہ بات طے ہے کہ بعض اوقات صحابہ کرام ؓ یہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت فلاں مسئلے یا فلاں شخص کے بارے میں اتری، حالانکہا ن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ آیت اس شخص یا اس مسئلے پر منطبق ہوتی اور صادق آتی ہے۔ دوسرا اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد موسیٰ ؑ یا بقول بعض عیسیٰ ؑ ہیں، کیونکہ انہوں نحے رسول اللہ ں کے حق ہونے کی شہادت تورات اور انجیل میں دی۔ خصوصاً عیسیٰ ؑ نے آپ ﷺ کا نام لے کر آپ کی آمد کی بشارت دی اور آپ پر ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے آپ کی تصدیق کی، فرمایا :(واذ قال عیسیٰ ابن مریم یبنی اسرآئیل الی رسول اللہ الیکم مصدقاً لما بین یدی من الثوریۃ و مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد) (الصف : 6)”اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے نبی اسرائیلچ بلا شبہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تو رات کی صورت میں ہے اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں، جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد۔“ تورات و انجیل میں تحریف کے باوجود اب بھی ان میں ایسی آیات موجود ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ کی آمد کی بشارت دی گی ہے اور آپ کی تصدیق کی گی ہے۔ مزید دیکھیے سورة صف (6) اور سورة اعراف (157) کی تفسیر۔ چوتھا قول جو زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے، یہ ہے کہ مشرکین مکہ کا تجارت کے سلسلیمیں مدینہ، خیبر اور شام میں آنا جانا عام تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے سوروہ قریش میں بھی ذکر فرمایا ہے۔ انس فروں میں ان کی ملاقات اہل کتاب یہود و نصاریٰ سے بھی ہوتی تھی اور وہ ان سے نبی ﷺ کے متعلق پوچھتے تھے اور ان میں سے منصف لوگ حق بات کی شہادت سے گریز نہیں کرتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مکی سورتوں میں بھی اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اہل کتاب کے اہل علم بھی اس پیغمبر ﷺ اور اس کی کتاب کی تصدیق کرتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں، اسلئے ”شھد شاھد من بنی اسرائیل“ میں لفظ ”شاھد“ جیسا کہ حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ نے فرمایا اسم جنس ہے اور اس سے مراد ان تمام لوگوں میں سے کوئی بھی شخص ہوسکتا ہے جس نے آپ ﷺ کے مکہ میں موجود ہونے کے وقت آپ کے سچا نبی ہونے کی شہادت دی ، جیسا کہ نجاشی ؓ کا آپ پر ایمان لانا اور آپ کے حق ہونے کی شہادت دینا سب کو معلوم ہے، اگرچہم دینہ میں ایمان لانے والے اسرائیلی صحابہ بھی اس سے باہر نہیں ہیں۔ اب مکی سورتوں کی وہ آیات ملاحظہ فرمائیں جن میں اہل کتاب کی شہادت کو بطور تائید ذکر کیا گیا ہے۔”قل کفی باللہ شھیداً بینی وبینکم ومن عندہ علم الکتب) (الرعد : 33)”کہہ دے میرے درمیان اور تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔“ اور فرمایا :(ان الذین اوتوا العلم من قبلہ اذا یتلی علیھم یحزون للاذقان سجداً ویقولون سبحن ربنا ان کان وعد ربنا لمفعولاً (بنی اسرائیل :108، 108) ، ”بیشک جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا، جب ان کے سامنے اسے پڑھا جاتا ہے وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ کرتے ہوئے گرجاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے ، بیشک ہمارے رب کا وعدہ یقینا ہمیشہ پورا کیا ہوا ہے۔“ اور فرمایا (واذا یتلی علیھم قالوا امنا بہ انہ الحق من ربنا انا کنا من قبلہ مسلمین) (القصص : 53)”اور جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، یقینا یہی ہمارے رب کی طرف سے حق ہے۔ بیشک ہم اس سے پہلے فرماں بردار تھے۔“ اور فرمایا :(اولم یکن لھم ایۃ ان یعلمہ علموآ بنی اسرائیل) (الشعرائ : 198)”اور کیا ان کے لئے یہ ایک نشانی نہ تھی کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں۔“
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ان لوگوں سے کہا جو ایمان لائے اگر یہ کچھ بھی بہتر ہوتا تو یہ ہم سے پہلے اس کی طرف نہ آتے اور جب انھوں نے اس سے ہدایت نہیں پائی تو ـضرور کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔

(1) وقال الذین کفروا للذین امنوا لو کان خیراً …:”للذین امنوا“ میں ”لام“ کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے مخاطب ہو کر کہا، بلکہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں کہا۔ پچھلی آیت میں مشرکین کے ایمان نہ لانے کا باعث ان کا تکبر ذکر فرمایا تھا، اب ان کے تکبر اور خود پسندی کی ایک مثال ذکر فرمائی جس کی بنا پر وہ ایمان کی نعمت سے محروم رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دنیا کی نعمتوں پر اس قدر مغرور ہیں کہ اس کی ہر نعمت کا مستحق صرف اپنے آپ ہی کو سمجھتے ہیں۔ بلال، عمار، عبداللہ بن مسعود، سمیہ اور زنیرہ ؓ جیسے مکسی ن اور ضعیف مسلمانوں کو وہ اللہ تعالیٰ کے کسی انعام کے قابل ہی نہیں سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے اسلام کے ہر خیر سے خالی ہونے کی دلیل یہ تصنیف کی کہ اگر اسلام میں کوئی خوبی ہوتی تو یہ لوگ ہم سے اس لئے انہوں نے اسلام کے ہر خیر سے خالی ہونے کی دلیل یہ تصنیف کی کہ اگر سالام میں کوئی خوبی ہوتی تو یہ لوگ ہم سے پہلے اس کی طرف نہ آتے۔ رسول اللہ ﷺ نے تکبر کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی :(الکبر بطر الحق و عمط الناس کا پہلے اس کی طرف نہ آتے۔ رسول اللہ ﷺ نے تکبر کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی :(الکبر بطر الحق و غمط الناس) (مسلم، الایمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : 91)”تکبر حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔“ مشرکین مسلمانوں کو کس قدر حقیر جانتے تھے، اس کا اندازہ اس آیت سے ہوتا ہے :(وذلک فتنا بعضھم ببعض لیقولوا اھولآء من اللہ علیھم من بینا) (الانعام : 53)”اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کی بعض کے ساتھ آزمائش کی ہے، تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے ؟“ نوح ؑ کی قوم کے سرداروں کا انداز تحقیر ملاحظہ فرمائیں، انہوں نے نوح ؑ سے کہا :(مانریک الا بشراً مثلنا وما نریک اتبعک الا الذین ھم اراذلنا بادی الزای ، وما نری لکم علینا من فضل بل نظلکم کذبین) (ھود : 28)”ہم تجھے نہیں دیکھتے مگر اپنے جیسا ایک بشر اور ہم تجھے نہیں دیکھتے کہ ان لوگوں کے سوا کسی نے تیری پیروی کی ہو جو ہمارے سب سے رذیل ہیں، سطحی رائے کے ساتھ اور تمہارے لئے اپنے آپ پر کوئی برتری نہیں دیکھتے، بلکہ ہم تمہیں جھوٹے گمان کرتے ہیں۔“ (2) وذا لم یھتدوابہ فسیقولون…: کفار کے جن اقوال کا یہاں ذکر ہوا ان سب کا مقصد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کو جھٹلاتا تھا، مثلاً یہ کہنا کہ یہ سحر ہے، افترا ہے، اس میں کوئی خیر نہیں وغیرہ۔ فرمایا، جب وہ اس قرآن کے ذریعے سے سیدھا راستہ حاصل نہ کرسکے تو وہ یہی کہتے رہیں گے کہ یہ قدیم جھوٹ ہے۔ یعنی اگر وہ ضد اور عناد پر اڑے رہے تو کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے اور نہ کوئی عقل یا نقلی دلیل تسلیم کریں گے، بلکہ ان کے سامنے پہلے انبیاء اور اہل علم کی شہادت پیش کی گئی تو وہ تمام پیغمبروں اور کتابوں کو بھی یہ کہہ کر رد کردیں گے کہ یہ قدیم جھوٹ ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ ان کے اس رویے کے باعث صرف ان کا کفر اور تکبر ہے، جب تک وہ اس پر قائم رہیں گے یہی بات کہتے رہیں گے، جیسا کہ فرمایا :(وقال الذین کفروا ان ھذا الا افک اقتربہ و اعانہ علیہ قوم اخرون ، فقد جآء و ظلماً و زوراً وقالوا اساطیر الاولین اکتبھا فھی تملی علیہ بکرۃ واصیلا (الفرقان : 503) ”اور ان لوگوں نے کہا جنہوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر ایک جھوٹ، جو اس نے گھڑ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی مدد کی، سو بلاشبہ وہ بھاری ظلم اور سخت جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔ اور انہوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، جو اس نے لکھوالی ہیں، تو ووہ پہلے اور پچھلے پہر اس پر پڑھی جاتی ہیں۔“
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی اور یہ ایک تصدیق کرنے والی کتاب عربی زبان میں ہے، تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے ظلم کیا اور نیکی کرنے والوں کے لیے بشارت ہو۔

(1) ومن قبلہ کتب موسیٰ اماماً و رحمۃ :”کتب موسیٰ“ کا عطف ”شاھد“ پر ہے اور ”قبلہ“ کی ضمیر اس ”شاھد“ کی طرف جا رہی ہے :”ای شھد شاھد من بنی اسرائیل علی مثلہ و شھد من قبلہ تکاب موسیٰ علیہ مثلہ“ یعنی بنی اسرائیل کے ایک شہادت دینے والے نے اس کی شہادت دی اور اس سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب نے بھی اس کے حق ہونے کی شہادت دی جو لوگوں کی پیشوائی کرنے والی تھی۔ لوگ اس کی پیروی اور اس کے احکام پر عمل کرتے تھے (دیکھیے مائدہ : 44) اور وہ لوگوں کے لئے سراسر رحمت تھی۔ (2) اکثر مفسرین نے ”قبلہ“ کی ضمیر کا مرجع قرآن کو قرار دیا ہے، یعنی اس قرآن سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی، لیکن مجھے وہ ترکیب بہتر ملعوم ہوتی ہے جو اوپر ذکر ہوئی۔ (3) وھذا کتب مصدق لسانا عربیناً : اور یہ کتاب یعنی قرآن موسیٰ ؑ کی کتاب کی تصدیق کرتی ہے، یعنی یہ عین ان پیش گوئیوں کے مطاق ہے جو تورتا میں کی گئی تھیں، جس سے اس کی تصدیق ہوتی ہے اور دونوں کی بنیادی تعلیم بھی یک ہے۔ حالانکہ وہ عبرانی زبان میں تھی اور یہ عربی زبان میں ہے اور ایسے شخص پر نازل ہوئی جو عبرانی جانتا ہی نہیں بلکہ امی ہے، عربی بھی نہیں پڑھ سکتا۔ یہ دلیل ہے کہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں جو تمام زبانیں پیدا کرنے والا اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ (4) لینذر الذین ظلموا …: تاکہ یہ ان لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائے جنہوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کر کے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا ہے اور نیک عمل کرنے والوں کے لئے عظیم خوش خبری ہو۔
Ayahs 46:13–14

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہ لوگ جنت والے ہیں، ہمیشہ اس میں رہنے والے، اس کے بدلے کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا…: ان آیات کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حم سجدہ (30، 31) کی تفسیر۔