45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 45:1
حم : حروف مقطعات کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔
Ayah 45:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم : اس آیت میں وہ باتیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ یہ کتاب محمد ﷺ کی تصنیف نہیں بلکہ یہ آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتدریج نازل کی گئی ہے، کیونکہ ”تنزیل“ کے مفہوم میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنا بھی ہے۔ دوسری یہ کہ اسے نازل کرنے والی کوئی معمولی ہستی نہیں کہ چاہو تو اس کی بات مان لو، چاہو تو نہ مانو، بلکہ اسے نازل کرنے والا وہ ہے جو سب پر غالب ہے، کوئی اس کے حکم سے سرتابین ہیں کرسکتا اور اگر کرتا ہے تو اس کی سزا سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ وہ کمال حکمت والا ہے، اس کے کسی کام میں غلطی نہیں نکالی جاسکتی۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة زمر اور سورة مومن کی ابتداء۔
Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بلا شبہ آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔

ان فی السموت ولارض لایت للمومنین : سورة بقرہ (164) میں ”ان فی خلق السموت والارض“ فرمایا، جبکہ یہاں ”ان فی السموت والارض“ فرمایا، تو یہ اس سے عام ہے، کیونکہ اس میں آسمان و زمین ک پیدائش بھی شامل ہے اور ان کی ذات بھی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں اور ان کے بعد مذکور چیزوں میں کس چیز کی نشانیاں ہیں ؟ جواب یہ ہے کہ یہ بات معلوم تھی کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی توحید کو اور قیامت کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھے، کچھ دہریے بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کے وجود ہی کو نہیں مانتے تھے، جیسا کہ اسی سورت کی آیت (24) میں آرہا ہے :(وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا ومایھلکنا الا الدھر)”اور انہوں نے کہا ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی (زندگی) نہیں ، ہم (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں زمانے کے سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا۔“ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود، اپنی توحید اور قیامت پر دلالت کرنے والی بہت سی نشانیوں کا ذکر فرمایا۔ جن میں سب سے پہلے آسمان و زمین کا ذکر فرمایا کہ ان کے وجود میں ایمان والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں، کیونکہ نشانیوں کا فائدہ انھی کو ہوتا ہے جو ماننے کے لئے تیار ہوں، غفلت میں پڑے ہوئے لوگ اور ہٹ دھرم لوگ ، جنہوں نے طے کر رکھا ہے کہ ماننا ہی نہیں ان کے لئے ان نشانیوں کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ رہی یہ بات کہ آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور قیامت کی نشانیاں کس طرح ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کائنات اور اس کا نظام شاہد ہے کہ یہ سب کچھ خودبخود نہیں بن گیا، بلکہ اسے کسی بنانے والے نے بنایا ہے اور وہ ایک ہی ہے، کیونکہ اس میں الگ الگ خداؤں کی خدائی چلنے کی گنجائش ہی نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(لوکان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا) (الانبیائ : 22)”اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔ اس آیت کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔ آسمان و زمین کا وجود اس بات کی بھی شہادت دے رہا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے بےمقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ اس سنے یہ سب کچھ انسان کیف ائدے کے لئے پیدا کیا ہیا ور قیامت کے دن ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزا دی جائے گی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :(ان فی خلق السموت والارض و اختلاف الیل و النھار لایت الاولی الالباب الذین یذکرون اللہ قیماً وقعوداً و علی جنوبھم ویتفکرون فی خلق السموت والارض، ربنا ما خلقت ھذا باطلاً ، سبحنک فقنا عذاب النار) (آل عمران :191, 190)”بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں عقلوں والوں کے لئے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔ وہ لوگ جو ہمارے رب ! تو نے یہ بےمقصد پیدا نہیں کیا تو پاک ہے ، سو ہمیں آگ کے عذبا سے بچا۔“ اور جیسا کہ اسی سورت میں آگے آرہا ہے :(وخلق اللہ السموت والارض بالحق و لتجری کل نفس بما کسبت وھم لاظلمون) (الجاثیہ :22) ”اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلا دیا جائے جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہارے پیدا کرنے میں اور ان جاندار چیزوں میں جنھیں وہ پھیلاتا ہے، ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔

(1) وفی خلقکم ومایبث من دآبۃ : یعنی جو لوگ انسان کی پیدائش میں اور خشکی اور سمندر میں پھیلائی ہوئی جاندار مخلوقات میں، جن کا شمار نہیں، غور کریں گے انھیں بیشمار ایسی نشانیاں ملیں گی جنہیں دیکھ کر کوئی شبہ باقی نہیں رہے گا کہ یقیناً یہ سب کچھ ایک ہی خلاق ومالک کا بنایا ہوا ہے اور وہی اسے چلا رہا ہے اور سب کچھ بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا ، بلکہ یقیناً ایک دن ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزا ملنے والی ہے۔ (2) ایت لقوم یوقنون : یعنی جو لوگ شک کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے رہنے کا یا انکار کا فیصلہ کرچکے ہوں ان کی بات دوسری ہے، مگر جو لوگ بات ثابت ہوجانے پر یقین کرنے والے ہیں ان کے لئے انسان کی پیدائش میں اور زمین میں پھیلی ہوئی بیشمار جاندار مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور قیامت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات اور دن کے بدلنے میں اور اس رزق میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیا اور ہواؤں کے پھیرنے میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔

(1) اختلاف الیل والھار : اس میں دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن کا آنا بھی شامل ہے، رات کا دن سے لمبا ہونا اور دن کا رات سے لمبا ہونا بھی اور سارا سال ہر روز طلوع و غروب کی جگہوں کا مختلف ہونا بھی۔ (2) وما انزل اللہ من السمآء من رزق…: یہاں آسمان سے نازل کی جانے والی چیز کے لئے ”مائ“ (پانی) کے بجائے ”رزق“ کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ آسمان سے بارش کے علاوہ بھی بہت کچھ اترتا ہے جس سے تمام جانداروں کے رزق کا اہتمام ہوتا ہے۔ مثلاً سورج اور چاند کی کرنیں اور روشنی، ہوائیں اور بہت سی چیزیں جو نظر نہیں آتیں م گر موجود ہیں اور اوپر کی جابن سے نازل ہوتی ہیں۔ (3) وتضریف الریح : ہواؤں کی تقسیم بھی کئی طرح کی ہے، مثلاً مشرقی، مغربی، جنوبی یا شمالی یا ان ا کے درمیان کی وہائیں، ٹھنڈی یا گرم یا معتدل ہوائیں، بار آور یا عقیم ہوائیں اور فائدہ پہنچانے والی یا نقصان پہنچانے والی ہوائیں وغیرہ۔ یاد رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی جن نشانیوں کا ذکر ہوا ہے سورة بقرہ (164) میں یہی نشانیاں زیادہ تفصیل کیساتھ بیان ہوئی ہے۔ (4) ایت لقوم یعقلون : مفسر قالی نے فرمایا :”منصف لوگ جب آسمان و زمین کو دیکھیں گے تو ایمان لے آئیں گے کہ یقینا انھیں ایک بنانے والا ہے، اس سلئے وہاں فرمایا :(لایت للمومنین) (الجاثیہ : 3)”ایمان والوں کے لئے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔“ پھر جب اپنی پیدائش اور دوسرے جانداروں میں غور کریں گے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوگا اور وہ یقین کرلیں گے اس لئے وہاں فرمایا :(ایت لقوم یوقنون) (الجاثیہ : 3)”ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔“ پھر دوسری تمام مخلوقات پر غور و فکر کریں گے تو بہت اچھی طرح سمجھ جائیں گے، اسلئے یہاں فرمایا :(ایت لقوم یعقلون)”ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔“ (نظم الدرر)
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیات ہیں، ہم انھیں تجھ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

(1) تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق : یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں جو ہم تمجھے حق کے ساتھ پڑھ کر سنا رہے ہیں، ان میں کوئی بات باطل نہیں، نہ ان میں کوئی جھوٹ ہے نہ جادو اور نہ یہ محض خیالی باتیں ہیں۔ (2) فبای حدیث بعد اللہ وایتہ یومنون : یہاں ایک لمبی بات کو مختصر فرما دیا ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ کی آیات سن کر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ کے بعد کون سی ہستی ہے اور اس کی آیات کے بعد کون سی بات ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے ؟
Ayah 45:7

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

بڑی ہلاکت ہے ہر سخت جھوٹے، گناہ گار کے لیے۔

(1) ویل لکل افالیہ اثیم : آیات سن کر ان کا اثر قبول کرنے کے لحاظ سے لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ اس سے پہلے ان لوگوں کا ذکر تھا جو ایمان و یقین اور عقل سے بہرہ ور ہوتے ہیں، اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو تکبر کی وجہ سے اللہ کی آیات کے انکار پر اصرار کرنے والے ہیں۔ (2) ”ویل“ کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (79) ”افک“ بدترین جھوٹ، بہتان،”افاک“ مبالغے کا صیغہ ہے سخت جھوٹا۔ ”اثیم“ سخت گناہگار۔ یعنی ہر ایسے انسان کے لئے بہت بڑی ہلاکت اور بربادی ہے جو قول میں سخت جھوٹا اور فعل میں سخت گناہگار ہے۔
Ayah 45:8

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

جو اللہ کی آیات سنتا ہے، جبکہ اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں، پھر وہ تکبر کرتے ہوئے اڑا رہتا ہے، گویا اس نے وہ نہیں سنیں، سو اسے دردناک عذاب کی بشارت دے دے۔

(1) یسمع ایت اللہ تتلی علیہ … : جو اللہ کی آیات سنتا ہے، جو اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں، پھر تکبر کرتے ہوئے اپنے کفر و شرک کپر ڈٹا رہتا ہے جیسے اس نے انھیں سنا ہی نہیں، سوا اسے درج ناک عذاب کی بشارت دے دے۔ (2) ثم یصر مستکبراً : یہاں ”ثم“ کا لفظ اظہار تعجب کیلئے ہے کہ اگر اس نے اللہ کی آیات نہ سنی ہوتیں تو الگ بات تھی، تعجب اس بات پر ہے کہ اللہ کی آیات اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں پھر وہ تکبر کرتے ہوئے کفر پر اصرار کرتا ہے، حالانکہ انسان کو تکبر زیب ہی نہیں دیتا، کیونکہ بڑائی تو صرف اللہ کی شان ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سورة انعام کے شروع میں فرمایا۔ (الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت ولنور، ثم الذین کفروا برہیم یعدلون) (الانعام)”سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیروں اور روشنی کو بنایا، پھر (بھی) وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، اپنے رب کے ساتھ برابر ٹھہراتے ہیں۔“ (3) فبشرہ بعذاب الیم : بشارت خوش خبری کو کہتے ہیں، یعنی خشوع کی وہ خبر جس کے آثار بشرہ پر ظاہر ہوجائیں۔ یہاں یہ لفظ تہکم یعنی استہزا کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس آیت میں عذاب الیم کا ذکر فرمایا، اگلی آیت میں عذاب مہین کا اور اس سے اگلی آیت میں عذاب عظیمک ا۔ اس آیت میں کفر پر اصرار اور استکبار کی مناسبت سے عذاب الیم کیب شارت سنائی ہے۔
Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب وہ ہماری آیات میں سے کوئی چیز معلوم کرلیتا ہے تو اسے مذاق بنا لیتا ہے، یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔

(1) واذا علم من ایتنا شیئاً اتخذھا ھزوا :”اتخذھا“ میں ضمیر ”ھا“ ”شیئاً“ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے، کیونکہ ”شیئاً“ کا لفظ اگرچہ مذکر ہے مگر اس سے مراد کوئی ”آیۃ“ (آیت) ہے، اس لئے ضمیر مونث ”ھا“ استعمال فرمائی ہے اور ”ایتنا“ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ ہماری آیات میں سے کوئی آیت معلوم کرلیتا ہے (جسے وہ صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا یا جس کا مطلب الٹا نکال لیتا ہے) تو اسے مذاق بنا لیتا ہے۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ جب وہ ہماری آیات میں سے کوئی آیت معلوم کرلیتا ہے تو صرف اس کا مذاق اڑانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ہماری تمام آیات کو مذاق بنا لیتا ہے۔ مثلاً جب اس کے ہاتھ قرآن مجید کی کوئی ایسی بات آتی ہے جس کا مطلب توڑ مروڑ کر اس کا مذاق اڑا سکتا ہے تو تمام آیات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے کہ قرآن کی سبھی آیات ایسی ہیں۔ یہ اس کے بدترین ”افاک“ و ”اثیم“ ہونے کا بیان ہے کہ آیات الٰہی سن کر وہ کفر پر اصرار ہی نہیں کرتا بلکہ ناحق ان کا مذاق بھی اڑاتا ہے اور اتنا کہ انھیں مذاق بنا لیتا ہے۔ (2) اولئک لہم عذاب مھین : آیات الٰہی کی اہانت کے بدلے میں ان کے لئے ذل یل کرنے والا عذاب ہے۔ اس آیت میں آیات سے استہزاء اور ان کی توہین کی مناسبت سے ان کے لئے عذاب مہین کی خبر دی۔
Ayah 45:10

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے آگے جہنم ہے اور نہ وہ ان کے کچھ بھی کام آئے گا جو انھوں نے کمایا اور نہ وہ جو انھوں نے اللہ کے سوا حمایتی بنائے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

(1) من ورآئھم جھنم :”ورائ“ کا معنی ”پیچھے“ بھی ہے اور ”آگے“ بھی۔ دیکھیے کہف : 79) کیونکہ یہ لفظ اس چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو نگاہ سے اوجھل ہو۔ یعنی جہنم ان کے تعاقب میں ہے، یا جہنم ان کے آگے تیار ہے۔ دونوں معنی درست ہیں۔ (2) ولا یغنی عنھم ما کسبوا شیئاً : یعنی نہ ان کا مال ان کے کام آئے گا، نہ ان کی آل اولاد (دیکھیے آل عمران : 10) اور نہ ان کے اچھے اعمال، کیونکہ انہوں نے دنیا میں اگر کچھ اچھے اعمال کئے بھی ہوں گے تو صرف دنیا کی نیت سے کئے جانے کی وجہ سے آخرت میں کام نہیں آسکیں گے، بلکہ برباد ہوجائیں گے۔ مزید دیکھیے سورة فرقان (23) اور سورة کہف (103 تا 106)۔ (3) ولا مااتخذوا من دون اللہ اولیآء …: یعنی ان کے وہ داتا و دستگیر جنہیں وہ قیامت کے دن عذاب سے بچانے کی امید پر پکارتے رہے اور ان کی پجا کرتے رہے، وہ ان کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ظلم عظیم ہے، فرمایا : (ان الشرک لظلم عظیم) (لقمان : 13)”بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔“ اسی مناسبت سے ان کے لئے عذاب عظیم سنایا۔
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ سراسر ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے عذاب میں سے دردناک عذاب ہے۔

(1) ھذا ھدی : یعنی یہ قرآن سرا سر ہدایت ہے۔ ”ھدی“ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، جیسے ”زید عدل“ کا مطلب یہ ہے کہ زید اتنا عادل ہے کہ سراپا عدل ہے۔ (ھذا ھدی ‘ کے معنی کی ایک تعبیر یہ ہے کہ ”یہ قرآن ہدایت میں کامل ہے۔“ زمخشری نے فرمایا :”ھذا ھدی“ کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن ہدایت میں کامل ہے، جیسے تم کہتے ہو ”زید رجل“ یعنی ”زید رجولیت میں کامل ہے۔“ (2) والذین کفروا بایت ربھم …:”رجز“ کا لفظ عذاب کی سخت ترین صورتوں پر بولا جاتا ہے۔
Ayah 45:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہاری خاطر سمندر کو مسخر کردیا، تاکہ جہاز اس میں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ تم اس کا کچھ فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔

(1) اللہ الذی سخرلکم البحر …: اس سے پہلی آیات میں کائنات کی تخلیق اور اس میں موجود بہت سی چیزوں کا ذکر اس لحاظ سے ہوا ہے کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور قیامت پر دلالت کرتی ہیں۔ یہاں سے سمندر کی تسخیر اور دوسری چیزوں کا اس لحاظ سے ذکر شروع ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں، جن کا شکر اس پر واجب ہے، مگر انہوں نے اسے چھوڑ کر ایسی ہستیوں کو اپنا داتا و دستگیر، مشکل کشا اور حاجت روا بنا رکھا ہے جن کا ان نعمتوں میں کوئی دخل نہیں اور اس طرح وہ یہ تمام نعمتیں عطا کرنے والے کے شکر کے بجائے اس کی نعمتوں کا صاف انکار اور ناشکری کر رہے ہیں۔ (2) لفظ ”اللہ“ مبتدا اور ”الذی سخرلکم البحر…“ اس کی خبر ہے ، جو معرفہ ہے، اس سے کلام میں حصر پیدا ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہاری خاطر سمندر کو مسخر کر رکھا ہے۔ اس آیت کی مزید تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نحل کی آیت (14) کی تفسیر۔
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور اس نے تمہاری خاطر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے مسخر کردیا، بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔

(1) وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعاً منہ : پچھلی آیت اور اس آیت میں ”شخرلکم“ کا ”لام“ انتفاع کے لئے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اور آسمان و زمین میں موجود ہر چیز کو تمہارے فائدے کے لئے مسخر اور اپنا تابع فرمان بنادیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے یہ سب کچھ تمہارے تابع فرمان بنادیا ہے۔ آسمان و زمین، سورج چاند اور سمندر تو بہت دور کی بات ہے انسان کا اپنا سانس اور دل کی دھڑکن اس کے اپنے تابع فرمان نہیں، پھر اس کا تسخیر کائنات کا دعویٰ دیوانے کی بڑ کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔ لفظ ”جمیعا منہ“ اس بات کی تصریح کے لئے ہے کہ ان تمام چیزوں کو تمہارے فائدے کے لئے کام میں لگا دینا صرف اس کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات متعدد مقامات پر فرمائی ہے کہ اس نے زمین و آسمان کی ہر چیز کو انسان کے فائدے کے لئے مسخر کر رکھا ہے۔ دیکھیے سورة حج (65) اور سورة لقمان (20)۔ (2) ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون : یعنی جو بھی اپنے آپ کو ضد اور ہٹ دھرمی سے الگ کر کے غور و فکر سے کام لے گا وہ یہ دیکھ کر یہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا تو صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کا شکر کرے گا اور اس اکیلے کی عبادت کرے گا۔
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

ان لوگوں سے جو ایمان لائے کہہ دے کہ وہ ان لوگوں کو معاف کردیں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے، تاکہ وہ کچھ لوگوں کو اس کا بدلہ دے جو وہ کماتے رہے تھے۔

(1) قل للذین امنوا یغفروا للذین لایرجون :”رجا برجو رجآئ“ (ي) کا معنی امید کرنا ہے۔ اس کے ضمن میں خوف بھی ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ امید پوری نہ ہو۔ غرض اس کے معنی امید اور خوف دونوں کر لئے جاتے ہیں۔ (2)”ایام اللہ“ (اللہ کے دنوں) سے مراد کسی قوم کے یادگار تاریخی دن ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو خاص سزا دیتا ہے، یا اپنے فرماں بردار بندوں کو خاص انعام و اکرام سے نوازتا ہے۔ بعض اوقات ایسا ایک ہی دن کچھ لوگوں کے لئے سزا اور کچھ لوگوں کے لئے عطا کا دن ہوتا ہے، جیسے آل فرعون کا غرق ہونا ان کے لئے سزا کا دن تھا اور بنی اسرائیل کے لئے نجات کچھ لوگوں کے لئے عطا کا دن ہوتا ہے، جیسے آل فرعون کا غرق ہونا ان کے لئے سزا کا دن تھا اور بنی اسرائیل کے لئے نجات کا۔ صحیح مسلم میں ابی بن کعب ؓ سے مروی لمبی حدیث ہے، جس کے شروع میں ہے :(سمعت رسول اللہ ﷺ یقول انہ بینما موسیٰ ؑ فی قومہ یذکر ھم بایام اللہ، وایام اللہ نعما وہ بلاوہ) (مسلم الفضائل، باب من فضائل الخضر ﷺ 182/2380)”میں نے رسول الل ہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے : ”ایک دفعہ موسیٰ ؑ اپنی قوم میں انھیں اللہ کے ایام کے ساتھ نصیحت کر رہے تھے اور ایام اللہ سے مراد اس کی نعمتیں اور اس کی مصیبتیں ہیں۔“ لہذا ”جو لوگ اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے“ یا ”جو لوگ اللہ کے دنوں کا خوف نہیں رکھتے“ سے مراد کفار ہیں جو اسک ی رحمت سے مایوس اور اس کی گرفت سے بےخوف ہیں۔ مومن تو ہر وقت اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے غضب سے ڈرتے رہتے ہیں۔ (3) یعنی ایمان والوں سے کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ کے دنوں سے بےخوف لوگ یعنی کفار ان پر جو زیادتی کریں یا تکلیف پہنچائیں تو اس کے بدلے کی فکر کے بجائے ان سے درگزر کریں اور انہیں معاف کردیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ حکم مکہ معظمہ میں دیا گیا تھا جب کفار کے مقابلے میں تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں تھی، بعد میں جب قتال کی اجازت مل گئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور بعض نے فرمایا کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہے، کیونکہ زیادتی برداشت کرنے کی تلقین اب بھی باقی ہے۔ رہی اسلام کی بنا پر کفار سے جنگ، تو اس کا معاملہ دوسرا ہے۔ یہی بات درست معلوم ہوتی ہے، کیونکہ ہجرت اور کفار سے لڑائی کی اجازت کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہی حکم دیا جیسا کہ فرمایا :(لتبلون فی اموالکم وانفسکم ولتسمعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوا ذی کثیراً وان تصبروا وتتقوا فان ذلک من عزم الامور) (آل عمران :186) ”یقیناً تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور یقیناً تم ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا، ضرور بہت سی ایذا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور متقی بنو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔“ خود رسول اللہ ﷺ نے مدینہ جا کر بھی جب آپ کے پاس قوت و سلطنت موجود تھی، کبھی اپنی ذات پر ہونے والی کسی زیادتی کا اتنقام نہیں لیا۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : (ما انتقم رسول اللہ ﷺ لنفسہ فی شی یوتی الیہ حتی ینتھک من حرمات اللہ فینتقم اللہ) (بخاری، الحدود، باب کم التعزیر والادب ؟ 6853)”رسولا اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لئے کسی چیز کا انتقام نہیں لیا، جس کا آپ سے معاملہ کیا گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو چاک کیا جاتا تو آپ ﷺ اللہ کے لئے انتقام لیتے تھے۔“ (4) لیجزی قوماً بما کانوا یکسبون :”قوماً“ سے مراد کافر ہوں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں سے کہہ دے کر ان لوگوں کی زیادتی اور اذیت رسانی کو معاف کردیں جو اللہ کی گرفت کے ایام کی توقع نہیں رکھتے، تاکہ بجائے اس کے کہ وہ ان سے بدلا لیں خود اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کا بدلا دے جو وہ کماتے رہے تھے۔ ”قوما“ نکرہ ہے، اس لئے ترجمہ ”کچھ لوگوں کو“ کیا گیا ہے۔ اور اگر ”قوماً“ سے مراد مومن ہوں تو مطلب ہوگا کہ ایمان والوں سے کہہ دے کہ وہ ان لوگوں کی زیادتی اور تکلیف کو معاف کردیں جو اللہ کی گرفت کے ایام کی توقع نہیں رکھتے، تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں اس صبر اور عفو و درگزر کا بدلا عطا فرمائے جو وہ کفار کی اذیت رسانی کے مقابل ی میں کرتے رہے تھے۔
Ayah 45:15

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جس نے کوئی نیک عمل کیا تو وہ اسی کے لیے ہے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہے، پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

من عمل صالحاً فلنفسہ…: اس آیت کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة حم سجدہ کی آیت (46) کی تفسیر۔
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور بلا شبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکم اور نبوت دی اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور انھیں جہانوں پر فضیلت بخشی۔

(1) ولقد اتینا بنی اسرآئیل الکتب …: پچھلی آیات ”اللہ الذی سخرلکم البحر“ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چند نعمتوں کا ذکر فرمایا جو اس نے تمام انسانوں پر فرمائی ہیں، تاکہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور کفر و شرک سے اجتناب کریں اور اس آیت میں ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو اس نے خصوصاً بنی اسرائیل پر کیں۔”الکتب“ سے مراد کوئی ایک کتاب نہیں بلکہ جنس کتاب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں بہت سے صاحب کتاب انبیاء مبعوث فرمائے۔ تو رات، انجیل اور زبور تو عام معروف ہیں، ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس نے انھیں کتنی کتابیں عطا فرمائیں۔ (2) والحکم :”الحکم“ کا معنی فیصلہ اور قوت فیصلہ ہے۔ یہاں مراد یہ ہے ک ہم نے بنی اسرائیل کو آزادی اور حکومت بخشی، جس میں وہ اپنے فیصلے خود کرسکتے تھے، کیونکہ اپنی حکومت کے بغیر اسلام پر پوری طرح عمل ہو نہیں سکتا۔ موسیٰ ؑ نے فرعون سے نجات اور آزادی ملنے پر بنی اسرائیل کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بادشاہ بنادیا، کیونکہ آزادق کم کا ہر فرد ہی بادشاہ ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ جعل فیکم انبیآء وجعلکم ملواک ، واتکم مالم یوت احداً من العلمین) (المائدہ : 20)”اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب اس نے تم میں انبیاء بنائے اور تمہیں بادشاہ بنادیا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔“ بعد میں داؤد ؑ سلیمان ؑ اور دوسرے اسرائیلی حکمرانوں کی حکومتیں بھی انھیں اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اس ”الحکم“ میں شامل ہیں۔ (2) ”والنبوۃ : بنی اسرائیل میں جتنے نبی مبعوث ہوئے کسی اور قوم میں اتنے زیادہ نبیوں کے آنے کا کہیں ذکر نہیں۔ (4) ورزقنھم من الطیبت : ان طیبات میں صحرا کے اندر کھانے کے لئے من وسلویٰ ، پینے کیلئے بارہ چشمے اور بادلوں کا سایہ بھی شامل ہے اور بعد میں شام و مصر کی زرخیز و بابرکت زمین کی حکومت اور وہاں سے حاصل ہونے والی بیشمار نعمتیں بھی شامل ہیں۔ (5) وفضلنھم علی العلمین : اس کیو ضاحت کے لئے دیکھیے سورة بقرہ (47) اور سورة دخان (32)۔
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور انھیں (دین کے) معاملے میں واضح احکام عطا کیے، پھر انھوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا، آپس میں ضد کی وجہ سے، بیشک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

(1) واتینم بینت من الامر : یعنی ہم نے انھیں دنی کے بارے میں واضح احکام دیئے، جن میں کوئی ابہام یا پیچیدگی نہیں تھی، نہ ان سے اختلاف یا ان سے فرار کی کوئی صورت تھی۔ (2) فما اختلفوا الا من بعد ماجآء ھم العلم…: یعنی ان میں جو اختلاف رونما ہوا وہ جہل یا ناواقفیت کی بنا پر نہ تھا، بلکہ دیکھیے سورة یونس (93) اور سورة شوریٰ (15) کی تفسیر۔ اس آیت میں ہماری امت کے لئے بھی زبردست تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کی طرف سے آنے والے علم یعنی قرآن و سنت کیے ساتھ وہی برتاؤ کیا جو یہود و نصاریٰ نے کیا تھا تو ان کا انجام بھی انہی جیسا ہوگا۔
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے تجھے (دین کے) معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی پر چل اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چل جو نہیں جانتے۔

(1) ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر :”شریعۃ“ کا معنی صاف راستہ اور واضح طریقہ ہے۔”الامر“ سے مراد ”امر دین“ ہے۔ یعنی بنی اسرائیل جب اپنی سرکشی، ضد اور عناد کی وجہ سے دین کے واضح احکام پر قائم نہ رہے بلکہ بہت سے گمراہ فرقوں میں بٹ گئے اور واضح اور صحیح دین کی دعوت دینے والوں سے عداوت اور گمراہی میں اس حد تک بڑھ گئے کہا نہوں نے مسیح ؑ جیسے برگزیدہ پیغمبر کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہ کیا، بلکہ اپنے گمان میں انھیں صلیب پر چڑھا کر دم لیا۔ جب وہ سرکشی کی اس حد تک آپہنچے تو اس فضیلت سے محروم کردیئے گئے جو انھیں دنیا کی امامت کی صورت میں حاصل تھی۔ پھر اے محمد ! ہم نے تجھے اس امر (یعنی دین) کے واضح راستے اور طریقے پر لگا دیا اور وہ خدمت جو پہلے پیغمبروں کے سپرد تھی وہ آپ کے سپرد کردی۔ (2) فاتبعھا ولا تتبع اھوآء الذین لایعلمون : اس لئے آپ ہمارے مقرر کردہ طریقے پر چلیں اور ہمارے نازل کردہ احکام کی پیروی کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں جو نہیں جانتے، یعنی وحی الٰہی کا علم نہیں رکھتے، یا عمل کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتے، کیونکہ وہ ابھی انھی لوگوں میں شامل ہیں جو نہیں جانتے۔ ان سے مراد اہل کتاب اور مشرکین عرب ہیں۔ صرف اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کی تاکید اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمائی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة مائدہ (48 تا 50) اور سورة اعراف (3)۔
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

بلاشبہ وہ اللہ کے مقابلے میں ہرگز تیرے کسی کام نہ آئیں گے اور یقینا ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں اور اللہ متقی لوگوں کا دوست ہے۔

(1) انھم لن یغنوا عنک من اللہ شیائً :(ان“ تعلیل یعنی کسی بات کی وجہ بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ پچھلی آیت میں فرمایا کہ آپ اللہ کی نازل کردہ شریعت کی پیروی کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو نہیں جانتے۔ اب فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ انہیں خوش کرنے کے لئے ان کی خواہشات کے پیچھے چلیں گے اور دین میں کسی قسم کا رد و بدل کریں گے تو اپنے اللہ کو ناراض کرلیں گے، پھر یہ لوگ آپ کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کسی طرح نہ بچا سکیں گے۔ (2) وان الظلمین بعضھم اولیآء بعض …: یہ ایسے لوگوں کی خواہشات کی پیروی سے منع کرنے کی دوسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی متقی لوگوں کا کام ہے اور اس کے غیر کی خواہشات کی پیروی ظالموں کا کام ہے، کیونکہ ظلم کسی کا حق دوسرے کو دینے کا نام ہے اور وہ اللہ کا حق دوسروں کو دے رہے ہیں۔ ایسے ظالم لوگ اپنے دنیوی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے دوست اور ان کے کہنے پر چلنے والے ہوتے ہیں۔ (دیکھیے عنکبوت : 25) جب کہ متقی اللہ تعالیٰ کے دوست اور وہ ان کا دوست ہے۔ (دیکھیے بقرہ : 257) اب اگر آپ نے اللہ کی شریعت کے بجائے کسی اور کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ دوستی کا رشتہ اپنے مالک سے توڑ کر ظالموں کیساتھ جوڑ لیں گے، پھر اس سے بڑھ کر خسارا کیا ہوگا ؟
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ لوگوں کے لیے سمجھ کی باتیں ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں ہدایت اور رحمت ہے۔

(1) ھذا بصآئر للناس :”بصآئر“ ”بصیرۃ“ کی جمع ہے۔ سمجھ میں آنے والی بات۔”للناس“ کا لفظ عام ہے جس میں مسلم و کافر سب شامل ہیں۔ یعنی قرآ کریم کی باتیں ایسی ہیں جو سب لوگوں کی سمجھ میں آنے والی ہیں اور انھیں ان کے نفع و نقصان سے آگاہ کرنے والی ہیں، خواہ وہ انھیں مانیں یا نہ مانیں۔ (2) وھدی و رحمۃ لقوم یوقنون : یعنی اگرچہ قرآن کی باتیں ایسی ہیں جو سب لوگوں کی سمجھ میں آنے والی ہیں مگر اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو اس پر یقین رکھتے ہوں اور انھی کے لئے یہ ہدایت و رحمت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ونزل من القرآن ماھو شفآء ورحمۃ للمومنین ولا یزید الظلمین الا خساراً) (بنی اسرائیل : 82) ’ اور ہم قرآن میں سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لئے سراسر شفا اور رحمت ہے اور وہ ظالموں کو خسارے کے سوا کسی چیز میں زیادہ نہیں کرتا۔“
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

یا وہ لوگ جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا، انھوں نے گمان کرلیا ہے کہ ہم انھیں ان لوگوں کی طرح کردیں گے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ؟ ان کا جینا اور ان کا مرنا برابر ہوگا ؟ برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں۔

(1) ام حسب الذین اجترحوا السیات…: توحید کی دعوت کے بعد یہاں سے آخرت پر کلام شروع وہ رہا ہے اور یہ آیت آخرت کے حق ہونے کے دلیل ہے۔ تفسیر کے لئے دیکھیے سورة ص (28) اور سورة قلم (34 تا 38)۔ (2) سوآء محیاھم ومملتھم …: یعنی کفار زندگی میں اپنی مرضی کرتے رہے اور بےلگام ہو کر پانی خواہشات پوری کرتے رہے، جس کے نتیجے میں انہوں نے زمین میں فساد برپا کئے رکھا اور لوگوں پر اور اپنی جانوں پر بےحساب ظلم کرتے رہے، جب کہ مومن اپنی خواہشات کو روک کر رب تعالیٰ کے احکام کے پابند رہے۔ اب اگر مرنے کے بعد بھی کفار کو ان کے جرائم کی سزا اور ایمان والوں کو ان کے اعمال صالحہ کی جزا نہ ملے تو یہ اللہ تعالیٰ کی صفت عدل اور صفت حکمت دونوں کے خلاف ہے۔ جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں وہ ایمان و کفر ، نیکی و بدی اور ظلم و عدل کو برابر قرار دے رہے ہیں جو ان کا بہت بڑا فیصلہ ہے۔
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

وخلق اللہ السموت والارض بالحق …: یہ آخرت کے حق ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ص (27) کی تفسیر۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

پھر کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو بنا لیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کردیا اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔ پھر اللہ کے بعد اسے کون ہدایت دے، تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

(1) افرئیت من اتخذ الھہ ھولہ : سلسلہ کلام سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ آخرت کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے نفس کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں۔ آخرت کا عقیدہ ان کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ ہوتا ہے، اس لئے وہ آخرت کا انکار کردیتے ہیں، پھر ان کے دل میں جو آتا ہے کرتے چلے جاتے ہیں۔ جس طرح ایک مومن اپنے رب کو اپنا معبود مانتا ہے، اسی کے حکم پر چلتا ہے، اس کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام سمجھتا ہے۔ اسی طرح آخرت کے منکروں کا معبود ان کے نفس کی خواہش ہی ہوتا ہے، وہ جو چاہے ان کے لئے حلال اور جو نہ چاہے ان کے ہاں حرام ہوتا ہے۔ پھر جب وہ آخرت کی باز پرس سے بےفکر ہوجاتے ہیں تو ان کی گمراہی بڑھتی ہی جاتی ہے، نہ کوئی چیز انہیں برائی سے روکنے والی ہوتی ہے نہ نیکی پر مائل کرنے والی۔ (2) تفسیر قرطبی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں بھی ”ھوی“ (خواہش نفس) کا ذکر فرمایا ہے، مذمت ہی کے طور پر فرمایا ہے، مثلاً فرمایا :(ولکنہ اخلد الی الارض واتبع ھوبہ فمثلہ کمثل الکلب) (الاعراف :186) ”مگر وہ زمین کی طرف چمٹ گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا ، تو اس کی مثال کتے کی مثال کی طرح ہے۔“ اور فرمایا (ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا واثبع ھوبہ کان افرہ فرطاً) (الکھف : 28)”اور اس شخص کا کہنا مت مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام ہمیشہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔“ اور فرمایا :(بل اثبع الذین ظلموآ آھوآء ھم بغیر علم فمن یھدی من اضل اللہ) (الروم : 29)”بلکہ وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا وہ جانے بغیر اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے ، پھر اسے کون راہ پر لائے جسے اللہ نے گمراہ کردیا ہو۔“ اور فرمایا :(ومن اضل ممن اتبع ھوبہ بغیر ھدی من اللہ) (القصص : 50)”اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدیات کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔“ اور فرمایا :(ولا تتبع الھوی فیصلک عن سبیل اللہ) (ص : 26) ”اور خواہش کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔“ اور فرمایا :(وما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھویٰ فان الجنۃھی الماوی) (النازعات :31, 30)”اور باوجود اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اس نے نفس کو خواہش سے روک لیا۔ تو بیشک جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔“ (3) ”افرئیت من اتخذالھہ ھولہ“ کی مزید تشریح کے لئے دیکھیے سورة فرقان (43) کی تفسیر۔ (4) واضلہ اللہ علی علم : اس کی تفسیر دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ ازل سے اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ راہ راست پر آنے والا نہیں بلکہ اپنی خواہش نفس ہی کو اپنا معبود بنانے والا اور آخرت کے انکار پر اصرار کرنے والا ہے، اس لئے اس نے اپنے علم کی بنا پر اسے گمراہی میں پھینک دیا۔ دوسری یہ کہ وہ یہ جاننے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے اور قیامت یقیناً قائم ہونے والی ہے فسق و فجور کی آزادی کے لئے قیامت کے انکار پر اڑ گیا۔ (دیکھیے قیامہ : 1 تا 6) تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسے گمراہی میں پھینک دیا، جیسا کہ فرمایا :(ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدی و یتبع غیر سبیل المومنین نولہ ماتولی و نصلہ جھنم وسآء ت مصیراً) (النسائ : 115)”اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے، اس کے بعد کہ اس کے لئے ہدایت خوب واضح ہوچکی اور مومنوں کے راستے کے سوا (کسی اور) کی پیروی کرے، ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرح وہ پھرے گا اور ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بری لوٹنے کی جگہ ہے۔“ (5) وختم علی سمعہ وقلبہ : اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (7) کی تفسیر۔ (6) فمن یھدیہ من بعد اللہ :”ای من بعد ما اضلہ اللہ“ یعنی جب اللہ تعالیٰ ہی نے اسے گمراہ کردیا تو اب کون اسے ہدایت دے گا۔ (5) افلا تذکرون :”تذکرون“ اصل میں ”تذکرون“ ہے، ایک تاء تخفیف کے لئے حذف کردی ہے۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور انھوں نے کہا ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی (زندگی) نہیں، ہم (یہیں) جیتے اور مرتے ہیں اور ہمیں زمانے کے سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا، حالانکہ انھیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں، وہ محض گمان کر رہے ہیں۔

(1) وقالوا ماھی الاحیاتنا الدنیا نموت و نحیا : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة مومنون (37) ، یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنے کے بجائے کہ ”نحیا و نموت“ (ہم جیتے ہیں اور مرتے ہیں) یہ کیوں کہا :(نموت و نحیا) ”ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں ؟“ اس کا جواب کئی طرح سے ہے، ایک تو یہ کہ ”واؤ“ میں ترتیب ضروری نہیں ہوتی اور یہاں ان کی بات نقل کرتے ہوئے کلام کے حسن کے لئے ایسا کیا گیا ہے، کیونکہ ”ماھی الاحیاتنا الدنیا“ کے بعد ”نموت و نحیا“ جیسے جملے میں جو حسن اور موافقت ہے وہ ”نحیا و نموت“ میں نہیں۔ دوسرا جواب یہ کہ ”نموت ونحیا“ کا مطلب یہ ہے کہ ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولادیں رہتی ہیں، یا ہم میں سے کچھ مرجاتے ہیں کچھ جیتے رہتے ہیں اور تیسرا جواب یہ کہ ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولادیں رہتی ہیں، یا ہم میں سے کچھ مرجاتے ہیں کچھ جیتے رہتے ہیں اور تیسرا جواب یہ کہ ”نموت“ کا مطلب ہے کہ پہلے ہم عدم اور متو کی حالت میں ہوتے ہیں اور ”نحیا“ کا مطلب ہے کہ پھر ہم دنیا کی حیات کی حالت میں آجاتے ہیں، سو زندگی ہے تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے، اس کے بعد اور کوئی زندگی نہیں۔ (2) وما یھلکنا الا الدھر : ان کی اس بات سے ظاہر ہے کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ انھیں ہلاک کرنے والا کوئی ہے اور ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے، کیونکہ وہی پوری کائنات کا خلاق ومالک اور مدبر ہے، مگر چونکہ ان کی بےقید خواہشات کی راہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے سامنے پیش ہونے کا عقیدہ زبردست رکاوٹ ہے، اس لئے انہوں نے آخرت کی زندگی ہی کا انکار کردیا اور یہ ماننے کے بجائے کہ موت و حیات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، وہ جب چاہے پہلے کی طرح انھیں دوبارہ زندہ کرسکتا ہے اور کرے گا، یہ کہہ دیاک ہ زمانے کے سوا کوئی نہیں جو ہمیں ہلاک کرے، بس یہ دن رات کی گردش ہی ہے جو ہمیں فنا کردیتی ہے۔ درحقیقت یہ ان کا اپنے آپ کو فریب دینا ہے، کیونکہ زمانہ اور دن رات کی گردش اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کرسکتے، ان کی ڈور تو ایک مالک کے ہاتھ میں ہے جو اللہ تعالیٰ ہے، جس کا نام وہ نہیں لینا چاہتے، اس کے بجائیز مانے کا نام لیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ہمارے زمانے کے ملحد مسلمان ہیں جو خود بدکردار ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی حدود کو وحشیانہ سزائیں قرار دیتے ہیں، مگر کھل کر یہ کہہ نہیں سکتے، اس لئے مولوی کو گالی دیتے ہیں کہ مولوی لوگوں کو وحشیانہ سزائیں دلانا چات ہے ہیں۔ چوروں کے ہاتھ کٹوانا، زانی کو درے مروانا اور قاتل کو قتل کروانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ بےچارے مولوی کا اس میں کیا قصور ہے ؟ اس نے تو وہ حکم سنایا جو اس کے مالک نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے۔ اسی طرح وہ مشرک اپنی ہلاکت اور فنا کا باعث زمانے کو ق رار دے رہے ہیں، حالانکہ بےچارہ زمانہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند ہے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے زمانے کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(قال اللہ عزوجل یو ذنبی ابن آدم یسب الدھر و انا الدھر، بیدی الامر، اقلب اللیل والنھار) (بخاری، التفسیر، سورة الجاثیہ :3826)”اللہ عزوجل نے فرمایا، ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، وہ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ زمان ہتو میں ہوں، تمام معاملہ میرے ہاتھ میں ہے، دن رات کو الٹ پلٹ میں کرتا ہوں۔“ اور ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا :(لاتسبوا الدھر فان اللہ ھو الدھر) (مسلم الالفاظ من الادب وغیرھا، باب النھی عن سب الدھر :2236/5”زمانے کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے۔“ ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(قال اللہ عزو جل یوذنبی ابن آدم یقول یا خیبۃ الدھر ! فلا یقولن اخذکم یا خیۃ الدھر ! فبانی انا الدھر اقلب لیلۃ ونھار ، فاذا شئت قبضتھما) (مسلم ، الالفاظ من الادب وغیرہ ھاء باب النھی عن سب الدھر :2236/3)”اللہ عزو جل نے فرمایا، ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے۔ کہتا ہے، ہائے زمانے کی ناکامی ! سو تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ ہائے زمانے کی ناکامی ! کیونکہ میں ہی تو زمانہ ہوں۔ اس کے رات دن کو الٹ پلٹ میں کرتا ہوں، پھر جب چاہں گا دونوں کو قبض کرلوں گا۔“ ابن کثیر رحمتہ اللہ لکھتے ہیں :”شافعی، ابوعبیدہ اور کئی اور ائمہ رحمتہ اللہ نے ”لاتسبوالدھر فان اللہ ھو الدھر“ (زمانے کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے) کی تفسیر میں فرمایا :”عرب اپنی جاہلیت میں جب انھیں کوئی شدت یا بلایا تکلیف پہنچی تو کہتے تھے :”یا خبیۃ الدھر !“ (ہائے زمانے کی ناکامی !) چناچہ وہ ان کاموں کو زمانے کی طرف منسوب کرتے اور اسے برا بھلا کہتے، حالانکہ وہ سب کام کرنے والا تو اللہ تعالیٰ تھا، تو گویا انہوں نے اللہ تعالیٰ ہی کو برا بھلا کہا، کیونکہ حقیقی فاعل وہی ہے۔ اس لئے اس اعتبار سے زمانے کو برا بھلا کہنے سے منع فرما دیا، کیونکہ وہ جسے مراد لے رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہے۔“ اس کی یہ شرح سب سے اچھی ہے اور یہی مراد ہے۔ (واللہ اعلم) اور ابن حزم اور ان کے طریقے پر چلتے ہوئے جن لوگوں نے اس حدیث کو لے کر اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ”الدھر“ (زمانہ) کو شمار کیا ہے انہوں نے غلطی کی ہے۔“ (ابن کثیر) (3) ومالھم بذلک من علم ان ھم الایظنون : ینی وہ یہ بات کہ ”اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں“ اور یہ کہ ”انسان کو فوت کرنے والا اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ زمانہ ہی اسے ہلاک کرتا ہے“ کسی علم کی بنا پر نہیں کہہ رہے ، بلکہ صرف گمان کی بنا پر کہہ رہے ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ”ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہے یا نہیں اور ہم نہیں جانتے کہ روح کیسے نکلتی ہے اور ہمیں کون ہلاک کرتا ہے۔“ کیونکہ جب وہ آئندہ ہونے والی کسی بات کا علم ہی نہیں رکھتے تو وہ یہ بات یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ دراصل ان کی خواہش یہ ہے کہ نہ موت کے بعد کوئی زندگی ہو اور نہ ان سے کوئی پوچھنے والا ہو کہ تم نے کیا کیا، تاکہ وہ اپنی من مانی کرتے رہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی خواہش نفس ہی کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور جانتے بوجھتے ہوئے اپنے مالک سے اور قیامت کے دن کی باز پرس سے آنکھیں اور کان بند کر رکھے ہیں۔
Ayah 45:25

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کی دلیل اس کے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ کہتے ہیں ہمارے باپ دادا کو لے آؤ، اگر تم سچے ہو۔

(1) واذا تتلی علیھم ایتنا …: یہ کفار کی سب سے وزنی دلیل تھی جو وہ آخرت کی نفی کے لئے پیغمبروں کے سامنے پیش کرتے تھے کہ ”اگر تم اپنے اس عقیدہ میں سچے ہو کہ مرنے کے بعد ہم پھر جی اٹھیں گے تو ہمارے آبا و اجداد میں سے کسی کو لے آؤ۔“ حالانکہ قیامت سے پہلے فرداً فرداً اس دنیا میں زندہ ہو کر واپس آنے کو قرآن نے محال اور ناممکن بنایا ہے، جبکہ قیامت کے دن دوبارہ زندگی کے امکان پر عقلی دلائل قائم کئے ہیں جو اٹل اور ناقابل انکار ہیں۔ رہا آخرت پر ایمان تو اس کا انحصار سراسر انبیاء ؑ کی تصدیق پر ہے۔ اس آیت کی مفصل تفسیر سورة دخان کی آیت (36) کے تحت گزر چکی ہے۔ (2) ما کان حجتھم الا ان قالوا…: ظاہر ہے کہ ان کا یہ کہنا کہ ”اگر تم سچے ہو کہ قیامت آئے گی تو ابھی ہمارے آبادؤ اجداد کو زندہ کر کے لاؤ“ کوئی حجت یا دلیل نہیں، بلکہ نہایت فضول بات ہے، جیسا کہ سورة دخان (36) میں تفصیل گزری۔ یہاں اسے حجت کہا گیا تو یہ واضح کرنے کے لئے کہ ان کے پاس کوئی حجت ہے ہی نہیں، کیونکہ اپنے گمان میں وہ جسے حجت سمجھ رہے ہیں فی الواقع اس کا حجت اور دلیل سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ اسے ان کی حجت کہنے میں ان سے تہکم اور استہزا بھی مراد ہے کہ ان عقل مندوں کی حجت اور دلیل اس طرح کی ہوتی ہے۔
Ayah 45:26

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

کہہ دے اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر تمہیں موت دیتا ہے، پھر تمہیں قیامت کے دن کی طرف (لے جا کر) جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(1) قل اللہ یجینکم ثم یمیتکم : یہ ان کی مزعومہ حجت کا جواب ہے کہ تم اپنے اختیار سے اتفاقاً پیدا نہیں ہوگئے، نہ تمہاری موت تمہارے اختیار سے یا اتفاقاً واقع ہوتی ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ ہے جو تمہیں زندگی بخشتا ہے اور تمہیں موت دیتا ہے۔ پھر جب چاہے گا دوبارہ زندہ کر دے گا، اس میں تمہارا کوئی اختیار یا عمل دخل نہیں ہوگا۔ (2) ثم یجمعکم الی یوم القیمۃ…: یعنی تمہیں الگ الگ زندہ نہیں کرے گا کہ کچھ لوگوں کو ایک وقت زندہ کیا، دوسروں کو کسی اور وقت اور باقی کو کسی تیسرے وقت، بلکہ سب اگلے پچھلوں کو قیامت کے دن تک لے جا کر ایک ہی وقت میں جمع کر دے گا۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (28)۔ (3) لاریب فیہ ولکن اکثر الناس لایعلمون : یعنی قیامت واقع ہونے میں تو کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ اس کا انکار اس لئے کرتے ہیں کہ وہ جاہل ہیں۔ وہ حقیقت کو نہ جانتے ہیں نہ جاننا چاہتے ہیں اور اپنی خواہش کے خلاف نہ کسی کی بات سنتے ہیں نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(وقالوا لوکنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحب السعیر) (الملک : 10)”اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے، یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔“
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے خسارہ پائیں گے۔

(1) واللہ ملک السموت والارض : پچھلی آیت میں پہلی دفعہ زندگی بخشنے اور موت دینے کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا، اس آئی میں آسمان و زمین یعنی ساری کائنات کے اکیلے مالک ہونے کو قیامت کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ملکیت میں جو چاہے کرسکتا ہے۔ وہ ساری کائنات بنا سکتا ہے، اسے فنا بھی کرسکتا ہے اور پھر دوبارہ بھی بنا سکتا ہے۔ اس کے بعد قیامت کے کچھ احوال ذکر فرمائے۔ (2) ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یخسر المبطلون : جس طرح کوئی تاجر اپنے سرمائے کے ذریعے سے نفع حاصل کرنے کے لئے محنت کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کو زندگی، صحت اور عقل کا سرمایہ عطا فرما کر آخرت کی کامیابی کا نفع حاصل کرنے کے لئے محنت کرنے کا حکم دیا۔ اہل باطل یعنی کفار نے اپنے اس عزیز سرمائے کے ذریعے سے نفع حاصل کرنے کے بجائے اسے اللہ کے ساتھ شرک، اس کی نافرمانی اور قیامت کا انکار کرنے میں صرف کردیا اور صریح خسارے میں رہے۔ اس خسارے کا پوری طرح اظہار اس وقت ہوگا جب قیامت قائم ہوگی، کیونکہ دنیا میں تو اس خسارے کی تلافی کا پھر بھی موقع موجود ہے مگر اس وقت بازار عمل میں واپس جانے کی اجازت ہی نہیں ہوگی کہ وہ اپنے خسارے کی تلافی کرسکیں۔ خسارے کی مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة عصر کی تفسیر۔
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گری ہوئی دیکھے گا، ہر امت اپنے اعمال نامہ کی طرف بلائی جائے گی، آج تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

(1) وتری کل امۃ جاثیہ :”جاثیۃ“ ”جثا یجثو جثواً“ (ن) یا ”جثی یمحشی جیاً“ (ض) سے اسم فاعل ہے، گھنٹوں کے بل گری ہوئی۔ یعنی میدان حشر کا ایسا ہول اور رعب ہوگا کہ ہر امت شدید خوف زدہ ہو کر گھنٹوں کے بل گری ہوئی ہوگی۔ نیک ہوں یا بد، سب خوف و دہشت کے ساتھ اسی حالت میں فیصلے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ اس وقت بڑے سے بڑے متکبر کی بھی ساری شیخی اور اکڑ ختم ہوجائے گی۔ (2) کل امۃ تدعی الی کتبھا :”کتاب“ سے مراد کتاب اعمال ہے، جس میں ان کی زندگی کی ساری رو داد حرف بحرف لکھی ہوگی، جیسا کہ فرمایا (ووضع الکتب فتری المجرمین مشفقین ممافیہ ویقولون یویلتنا مال ھذا الکتب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا) (الکھف : 39)”اور کتاب رکھی جائے گی، پس تو مجرموں کو دیکھے گا کہ اس سے ڈرنے والے ہوں گے جو اس میں ہوگا اور کہیں گے ہائے ہماری بربادی ! اس کتاب کو کیا ہے، نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑتی ہے اور نہ بڑی مگر اس نے اسے ضبط کر رکھا ہے۔“ بعض نے فرمایا : اس کتاب سے مراد وہ کتاب ہے جو ہر امت کی طرف ان کے پیغمبر کے ذریعے سی بھیجی گئی، یعنی ہر امت کو اس کی کتاب کی طرف بلایا جائے گا، تاکہ وہ دیکھے کہ اس نے اس پر کہاں تک عمل کیا اور اس کے مطابق اسے جزا دی جائے۔ سیاق کی مناسبت سے پہلا معنی زیادہ درست ہے۔ مزید دیکھیے سورة بنی اسرائیل (13، 14) (3) الیوم تجرون ما کنتم تعملون : اس سے پہلے کچھ ال فاظ محذوف ہیں :”ای یقال لھم“ یعنی ان سے یہ بات کی جائے گی۔
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب ہے جو تم پر حق کے ساتھ بولتی ہے، بیشک ہم لکھواتے جاتے تھے، جو تم عمل کرتے تھے۔

1 ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق : اس میں ”ینطق“ کا لفظ قابل توجہ ہے، کیونکہ کتاب تو پڑھی جاتی کہ یہ استعارہ نہیں بلکہ حقیقت ہے اور وہ کتاب فی الواقع بولے گی۔ اللہ تعالیٰ کی شان تو بہت ہی بلند ہے اور قیامت کا معاملہ دنیا سے بہت مختلف ہے، مگر اب انسان نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل سے ایسی ایسی چیزیں ایجاد کرلی ہیں جو وہ سب کچھ دکھا اور سنا دیتی ہیں جو انسان کرتا ہے یا بولتا ہے۔ البتہ وہ کسی کی نیت کو سامنے نہیں لا سکتیں، مگر اللہ تعالیٰ کی تیار کروائی ہوئی ہو کتاب لوگوں کے افعال، اقوال، احوال اور نیتیں سب کچھ سامنے لے آئے گی۔ (2) انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملوکن : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اس دن وہ کتاب اتنی مدت بعد کیسے بول کر بتائے گی ؟ انہوں نے تو وہ اعمال دنیا میں کئے تھے جو دنیا کے ساتھ ہی ختم ہوگئے۔ فرمایا اس لئے کہ تم جو کچھ کیا کرتے تھے ہم فرشتوں کے ذریعے سے لکھوال یا کرتے تھے، تاہ وہ سند رہیں اور قیامت کے دن تم پر حجت قائم ہو سکے، ورنہ ہمیں تو ہر چیز کا پہلے ہی سے علم ہے۔
Ayah 45:30

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

پھر جو لوگ تو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے سو انھیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یہی واضح کامیابی ہے۔

(1) فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت : یہاں بشارت کا ذکر پہلے فرمایا، کیونکہ اس سے بشارت میں مزید خوشی شامل ہوئی ہے۔ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جو خلاص اللہ تعالیٰ کے لئے کیا گیا ہو ، ہر قسم کے شرک حتی کہ ریا سے بھی پاک ہو اور سنت کے مطابق ہو۔ مزید دیکھیے سورة کہف کی آخری آیت۔ (2) فیدخلھم ربھم فی رحمتہ : انھیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔”ربھم“ کے لفظ میں ان کے ساتھ اپنے تعلق اور اپنی محبت کا اظہار ہے اور ”اپنی رحمت“ سے مراد جنت ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :(قال اللہ تبارک و تعالیٰ للجنۃ انت رحمتی ارحم بک من اشاء من عبادی وقال للنار انما انت عذاب اعذب بک من اشاء من عبادی) (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(وتقول ھل من مزید، 3850)”اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت سے فرمایا، تو میری رحمت ہے، میں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے سے رحم کروں گا اور آگ سے فرمایا : تو محض عذاب ہے، میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا تیرے ذریعے سے عذاب دوں گا۔“ (3) ذلک ھوالفوز المبین : جیسا کہ فرمایا :(فمن زحزح عن النار و ادخل الجنۃ فقد قال، وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور) (آل عمران :185)”پھر جو شخص آگ سے دور کردیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔“
Ayah 45:31

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور رہے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو کیا میری آیات تمہارے سامنے نہ پڑھی جاتی تھیں ؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔

(1) واما الذین کفروا افلم تکن ایتی تتلی علیکم :”واما الذین کفروا“ کے بعد کچھ الفاظ محذوف ہیں۔ کیونکہ ”اما الذین کفروا“ جملہ خبر یہ کا ایک حصہ ہے اور ”افلم تکن ایتی تتلی علیکم“ افلم تکن…‘ ذ سے سمجھ میں آرہے ہیں، جو اس طرح کے ہوسکتے ہیں : ”واما الذین کفروا قیدخلھم فی عذابہ و یقول افلم تکن ایاتی تتلی علیکم“”یعنی رہے کافر تو وہ انھیں اپنے عذاب میں داخل کرے گا اور فرمائے گا، تو کیا میری آیات تمہارے سامنے پڑھی نہ جاتی تھی ؟“ (واللہ اعلم) مطلب یہ ہے کہ جہنم کے عذاب کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کا اعتاب اور اس کی ڈانٹ بھی سنیں گے جو اپنی جگہ بہت بڑا عذاب ہے۔ (2) فاستکبر تم وکنتم قوما مجرمین : قرآن میں ”مجرم“ کا لفظ ”مسلم“ کے مقابلے میں آیا ہے، جیسا کہ فرمایا :(افنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون) (القلم :36, 35)”تو کیا ہم فرماں برداروں کو جرم کرنے والوں کی طرح کردیں گے ؟ کیا ہ تمہیں، تم کیسے فیصلے کرتے ہو ؟“ یعنی تم نے میری آیات سننے کے باوجود اپنے آپ کو میرا تابع فرمان بنانے سے بڑا اور اونچا سمجھا اور مسلم بننے کے بجائے مجرم بننے پر اڑے رہے، جب کہ یہ بات مجھے کسی طرح گواران ہیں۔ مزید دیکھیے سورة جاثیہ (7 تا 11) اور سورة اعراف (36، 40) کی تفسیر۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قال اللہ تعالیٰ الکبریاء ردائی والعظمۃ ازاری فمن نازعنی واحد منھما قذفنہ فی النار) (ابوداؤد، اللیاس، باب ماجاء فی الکبر :3090 وقال الالبانی صحیح)”اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عظمت میری ازار ہے تو جو کوئی ان میں سے ایک بھی مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے آگ میں پھینکوں گا۔“ اور عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لایدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال حبۃ من خردل من کبر، ولا یدل النار من کان فی قلبہ مثقال حبۃ من خردل من ایمان) (ابن ماجہ، المقدمۃ، باب فی الایمان :59، قال الالبانی صحیح)”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانا کے برابر ایمان ہوگا۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے کبر کی وضاحت خود فرمائی کہ وہ خوبصورت کپڑے یا خوبصورت جوتے پہننے کا نام نہیں، بلکہ فرمایا :(الکبر بطر الحق وعمط الناس کا (مسلم، الایمان، باب تحریم الکبرو بیانہ : 91)”تکبر حق سے انکار کردینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“
Ayah 45:32

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے اور جو قیامت ہے اس میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے، ہم تو محض معمولی سا گمان کرتے ہیں اور ہم ہرگز پورا یقین کرنے والے نہیں۔

(1) واذا قیل ان وعد اللہ حق والساعۃ…: اللہ تعالیٰ کفار کے جرائم بیان کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ جب تم سے کہا جاتا تھا کہ یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم یہ کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے اور انکار کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ؟ جیسے فرعون نے موسیٰ ؑ کی دعوت کا انکار کرتے ہوئے ہا تھا :”وما رب العلمین) (الشعرائ : 22)”اور رب العالمین کیا چیز ہے ؟“ یہ جھٹلانے کا بدترین انداز ہے جس میں انکار کے ساتھ استہزا بھی شامل ہے۔ (2) ان نظن الاظناً : یہاں ایک سوال ہے کہ اس جملیک ا لفظی معنی ہے ”ہم نہیں گمان کرتے مگر گمان کرنا“ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے ”ان ناکل الا اکلا“ ”ہم نہیں کھاتے مگر کھانا۔“ ظاہر ہے اس سے کوئی مفید مطلب بات حاصل نہیں ہوتی۔ جواب اس کا یہ کہ ”ظنا“ پر تنوین تقلیل و تحقیر کے لئے ہے، یعنی ہم گمان نہیں کرتے مگر ہلکا اور معمولی سا گمان، یعنی پیغمبروں کے وعظ اور لوگوں کے کہنے کی وجہ سے ہمیں اس کا معمولی سا گمان نہیں کرتے مگر ہلکا اور معمولی سا گمان، یعنی پیغمبروں کے وعظ اور لوگوں کے کہنے کی وجہ سے ہمیں اس کا معمولی سا گمان ہوتا ہے جس کی کچھ حیثیت نہیں۔ واضح رہے کہ قرآن مجید میں بعض مقامات پر ظن یقین کے معنی میں آیا ہے، مگر یہاں شک کے معنی میں ہے، کیونکہ وہ یقین کے مقابلے میں آرہا ہے۔ (3) وما نحن بمستیقین :”بائ“ یہاں نفی کی تاکید کے لئے ہے اور ”مستفین“ میں سین اور تاء مبالغہ کے لئے ہے۔ یعنی ہم پورا یقین کرنے والے ہرگز نہیں ہیں، کبھی معمولی سا گمان یا دھندلا سا خیال آجائے تو وہ الگ بات ہے۔ (4) اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، یوم آخرت اور تقدیر میں سے کسی چیز میں شک ہو (گو انکار نہ بھی ہو) تو وہ کافر ہے۔ ایمان نام ہی یقین یعنی زوال شک کا ہے، کیونکہ انسان کو اللہ کے احکام کا پابند بنانے والی چیز ہے ہی یقین۔ آگے یقین کے درجات مختلف ہوسکتے ہیں اور ایمان میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ ابراہیم ؑ کے چار پرندوں والے واقعہ سے ظاہر ہے۔
Ayah 45:33

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور ان کے لیے ان اعمال کی برائیاں ظاہر ہوجائیں گی جو انھوں نے کیے اور انھیں وہ چیز گھیر لے گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

وبدالھم سیات ماعملوا…: یعنی ان کے سامنے ان کے اعمال کے برے نتائج ظاہر ہوجائیں گے اور وہی قیامت اور جہنم جن کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، وہ انھیں اپنے گھیرے میں گھیر لیں گے۔
Ayah 45:34

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسے تم نے اپنے اس دن کے ملنے کو بھلادیا اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔

وقیل الیوم ننسکم کما نسیتم لقآء یومکم ھذا…: اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة اعراف (51) کی تفسیر۔
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ بیشک تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا، سو آج نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔

ولا ھم یستعتبون : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نحل (84) کی تفسیر۔