45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 45:36

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس اللہ ہی کے لیے سب تعریف ہے جو آسمانوں کا رب اور زمین کا رب، تمام جہانوں کا رب ہے۔

(1) فللہ الحمد رب السموت و رب الارض …: یہ ان تمام باتوں کا خلاصہ اور نتیجہ ہے جو اس سے پہلے سورت میں بیان ہوئی ہیں۔ جن میں اس اکیلے کا کائنات کو پیدا کرنا، اسے مخسر کرنا، اسے نہایت اعلیٰ انتظام اور عدل کے ساتھ چلانا، مسلمانوں کو دنیا اور آخرت میں اپنے انعامات سے نوازنا، کفار کے آیات الٰہی سے اعرضا کی مذمت، نہایت مضبوط دلائل کے ساتھ ان کے کفر و شرک کی تردید اور آخرت میں انھیں ان کے نہایت برے انجام کی وعید سنانا سب کچھ شامل ہے۔ یہ آیات اور ان میں مذکور حقائق اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام خوبیوں اور صفات کمال کا مالک ہے اور وہ اکیلا تمام نعمتیں عطا فرمانے والا ہے۔ اس بات کو بطور نتیجہ بیان فرمایا۔”فللہ الحمد“ میں ”للہ“ کو پہلے لان سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا اور ”فائ“ کے ساتھ پچھلی ساری سورت کے ساتھ کلام کا تعلق قائم و گیا کہ جب وہ سب کچھ ثابت ہوا جو پہلے مذکور ہے تو ثابت ہوگیا کہ تمام حمد صرف اللہ کے لئے خاص ہے۔ اب ”فللہ الحمد“ سے تین معنی مراد ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ اس میں خبر دی جا رہی ہے کہ تمام حمد اللہ ہی کے لئے ہے، دوسرا یہ کہ حکم دیا جا رہا ہے کہ تم اللہ ہی کی حمد کرو اور تیسرا یہ کہ اس میں حمد کی انشاء ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنی حمد فرما رہا ہے جس کا وہ یقیناً حق دار ہے اور اکیلا حق دار ہے۔ پچھلے کلام کا خلاصہ اور نتیجہ ہونے میں اس آیت کی مثال یہ آیت بھی ہے :(فقطع دابر القوم الذین ظلموا ، والحمد للہ رب العلمین) (الانعام 35)”تو ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔“ (ابن عاشور) (2) رب السموت …: یہاں ”رب السماوات والارض“ بھی کہا جاسکتا تھا، مگر حمد کا مستحق ہونے میں رب ہونے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے اسے تین دفعہ دہرایا :(رب السموت و رب الارض رب العلمین) اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت ہماری حمد کا مستحق ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے، کیونکہ ہمارا وجود، ہماری بقاء ہماری زندگی کا ہر لمحہ اور دنیا اور آخرت میں ہمیں ملنے والی ہر نعمت اسی کا نتیجہ ہے، یہ نہ ہو تو ہمارا وجود تک نہ ہو۔ اس لئے قرآن مجید کی سب سے عظمت والی اور پہلی سورت کی ابتدا اسی کے ساتھ فرمائی :(الحمد للہ رب العلمین) (الفاتحۃ : 1)”سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔“ سورة صافات اور زیر تفسیر سورت کا خاتمہ اس کے ساتھ فرمایا اور جنتیوں کے متعلق بتایا (دعوھم فیھا سبحنک اللھم وتحیتھم فیھا سلم واجردعوھم ان الحمد للہ رب العلمین) (یونس : 10)”ان کی دعا ان میں یہ ہوگی ”پاک ہے تو اے اللہ !“ اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“
Ayah 45:37

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور اسی کے لیے آسمانوں اور زمین میں سب بڑائی ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

(1) ولہ الکبریآ فی السموت والارض : یہ جملہ لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے بندوں کو اپنی حمد کی تلقین و تاکید انھی کیف ائدے کے لئے کی ہے، ورنہ وہ خود نہ ان کی تعریف کا محتاج ہے، نہ اسے اس کی ضرورت ہے اور نہ ان کی تعریف سے اس کی شان میں کوئی اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلے سے اور ہمیشہ ساری بڑائی اور عظمت کا اکیلا مالک ہے۔ کوئی اور اس کی بڑائی میں کیا اضافہ کرے گا۔ (2) وھو العزیز الحکیم : یہ دو صفات اس بات کی دلیل کے طور پر ذکر فرمائیں کہ وہ اکیلا ہر کبریائی اور عظمت کا مالک ہے، کیونکہ وہی عزیز ہے اور وہی حکیم ہے (خبر پر الف لام سے حصر کا معنی پیدا ہو رہا ہے) ، دوسرا کوئی نہ عزیز ہے نہ نہ حکیم تو اس میں کبریئای کیا ہوگی ؟”العزیز“ میں قدرت و اختیار کی ہر صورت آجاتی ہے اور ”الحکیم“ میں علم کا ہر مفہوم آجاتا ہے۔ وہ ”العزیز“ (سب پر غالب) ہے، جو چاہے کرسکتا ہے، کوئی کام ایسا نہیں جو وہ نہ کرسکے اور کوئی ہستی ایسی نہیں جو اسے روک سکے اور وہ ”الحکیم“ (کمال حکمت والا) ہے، جو کرتا ہے عین حکمت اور بالکل درست ہوتا ہے، کوئی اس میں نہ غلطی نکال سکتا ہے نہ اس سے بہتر کی نشان دہی کرسکتا ہے۔