44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 44:1–3

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

اس بیان کرنے والی کتاب کی قسم !

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

بیشک ہم نے اسے ایک بہت برکت والی رات میں اتارا، بیشک ہم ڈرانے والے تھے۔

(1) حم والکتب المبین انا انزلنہ : اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مبین کی قسم کھا کر فرمایا کہ یقیناً ہم نے ہی اسے نازل فرمایا ہے۔ یعنی یہ کتاب مبین خود اس بات کی شاہد ہے کہ یہ محمد ﷺ یا کسی اور کی تصنیف نہیں، بلکہ اسے ہم نے ہی نازل کیا ہے۔ اگر کوئی اسے مخلوق کی تصنیف کہتا ہے تو وہ اس کی ایک سورت کی مثل ہی تصنیف کر کے لے آئے۔ (2) فی لیلۃ مبرکۃ : کتاب کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ رات بڑی خیر و برکت والی ہے جس میں ہم نے اسے نازل فرمایا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دیا کہ وہ مبارک رات لیلتہ القدر ہے، جیسا کہ سورة قدر میں ہے :(انا انزلنہ فی لیلۃ القدر) (القدر : 1) ”بلاشبہ ہم نے اسے قدر کی رات میں اتارا۔“ اور وہ ماہ رمضان میں ہے جیسا کہ فرمایا :(شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن) (البقرۃ : 185)”رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔“ کتاب اتارنے سے مراد اتارنے کی ابتدا ہے جو غار حرا میں ماہ رمضان کی اس مبارک رات میں ہوئی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ رات نصف شعبان کی رات ہے، مگر یہ بات سراسر غلط ہے، کیونکہ یہ قرآن مجید کے صریح خلاف ہے۔ قاضی ابوبکر بن العربی نے ”احکام القرآن“ میں لکھا ہے کہ نصف شعبان کی رات سے متعلق کوئی روایت قابل اعتماد نہیں، نہ اس کی فضیلت کے بارے میں اور نہ اس بارے میں کہ اس رات قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ مفسر شنقیطی نے فرمایا :”ابن العربی کے علاوہ دوسرے محققین کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ ایسیر وایات کی کوئی بنیاد نہیں، نہ ان میں سے کسی کی سند صحیح ہے۔“ (3) ”لیلۃ مبرکۃ“ کی برکات کی تفصیل سورة قدر میں ملاحظہ فرمائیں۔ (4) انا کنا منذرین : یعنی ہم نے یہ کتاب اس لئے نازل کی کہ بندوں کو اچھے اور برے کاموں سے آگاہ کردیا جائے اور نافرمانی کی صورت میں انھیں ان کے انجام بد سے ڈرا دیا جائے، تاکہ ان کے پاس یہ عذر باقی نہ رہے کہ میں خبر دار نہیں کیا گیا۔ یہاں صرف ڈرانے کا ذکر فرمایا بشارت کا نہیں، کیونکہ اکثر لوگوں کے حسب حال یہی ہوتا ہے۔ ویسے ڈرانے کے ضمن میں بشارت بھی ہوتی ہے، اس شخص کے لئے جو ڈر جائے۔
Ayah 44:4

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اسی میں ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

فیما یفرق کل امر حکیم :”فرق“ کا معنی فیصلہ ہے، اسی لئے قرآن کو ”فرقان“ کہا جاتا ہے۔”حکیم“ کے مفہوم میں دو باتیں شامل ہیں، ایک یہ کہ وہ حکم حکمت اور دانائی پر مبنی ہوتا ہے، اس میں کسی غلطی یا خامی کا امکان نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ وہ حکم محکم اور پختہ ہوتا ہے جسے کوئی بدلن ہیں سکتا۔ یعنی ہم نے اسے خصا طور پر اس بابرکت رات میں اس لئے نازل کیا کہ یہ قرآن ایک امر حکیم ہے اور اسی رات میں ہر امر حکیم کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ سورة قدر میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ (تنزل الملئکۃ والروح فیھا باذن ربھم من کل امر) (القدر : 3)”اس میں فرشتے اور روح (جبریل امین) اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے متعلق اترتے ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ایسی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ آئندہ سال سے متعلق افراد و اقوام کی قسمتوں کے تمام فیصلے فرشتوں کے حوالے کردیتے ہیں، مثلاً زندگی ، موت، بیماری ، رزق، عروج و زوال اور ہدیات و گمراہی وغیرہ، پھر وہ ان پر عمل درآمد کرتے رہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا :(انک شلتری الرجل یمشی فی الاسواق، وقد وقع اسمہ فی الموتی ثم قرآء :(انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ انا کنا منذرین فیھا یفرق کل امر حکیم) (الذدخان : 303) یعنی لیلۃ القدر ففقی تلک الیلۃ یفرق امر الدنیا الی مثلھا من قابل) (مستدرک حاکم، تفسیر سورة الدخان : 2/338، ح : 3688)”تم آدمی کو بازاروں میں چلتا پھرتا دیکھتے ہو، حالانکہ اس کا نام مردوں میں درج ہوچکا ہوتا ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی : (انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ انا کنا منذرین فیھا یشرق کل امر حکیم) کہ اس سے مراد لیلتہ القدر ہے، اس رات میں دنیا کے معاملات کا آئندہ سال کی اسی رات تک فیصلہ کردیا جاتا ہے۔“ حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح کہا اور بیہقی نے ”شعب الایمان“ میں اسے حاکم سے روایت کیا ہے اور اس کے محقق نے کہاک کہ اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں۔
Ayah 44:5

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

ہماری طرف سے حکم کی وجہ سے۔ بیشک ہم ہی بھیجنے والے تھے۔

(1) امراً من عندناً : یعنی یہ سارے فیصلے ہمارے حکم سے ہوتے ہیں۔ مراد ان فیصلوں کی اہمیت اور عظمت پر متنبہ کرنا ہے کہ وہ فیصلے کسی معمولی ہستی کے نہیں ہوتے، بلکہ کائنات کے مالک کی طرف سے صادر ہوتے ہیں۔ (2) انا کنا مرسلین : یعنی ہم یہ کتاب نازل کرتے وقت رسول کو بھیجنے والے تھے۔
Ayah 44:6

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

تیرے رب کی رحمت کے باعث، یقینا وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

6(1) رحمۃ من ربک یہ ”مرسلین“ کا مفعول لہ ہے۔ یعنی ہم تیرے رب کی رحمت کی وجہ سے رسول کو بھی جنے والے اور کتاب کو نازل کرنے والے تھے۔”اپنی رحمت“ کے بجائے ”تیرے رب کی رحمت“ کا لفظ رسول اللہ ﷺ کے شرف کے اظہار کیلئے ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ صرف آپ ﷺ ہی کا نہیں بلکہ کل کائنات کا رب ہے، جیسا کہ آگے یہ بات ابھی رہی ہے۔ (رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین)”آسمانوں اور زمین اور ان چیزوں کا رب جو ان دونوں کے درمیان ہیں، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔“”رحمتہ من ربک“ میں لفظ ”رب“ کا مطلب یہ ہے کہ بندوں پر یہ رحمت ہمارے رب ہونے کا تقاضا ہے، کیونکہ ”رب“ کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے جسم کی پرورش کا انتظام کیا جائے اور ان کی روحانی پرورش کا انتظام نہ کیا جائے، بلکہ انہیں گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دیا جائے۔ (2) انہ ھو السمیع العلیم :”ان“ پہلے جملے کی علت بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے، یعنی ہم نے رسول اس لئے بھیجا کہ تیرا رب خوب سننے اور جاننے والا تھا کہ کس طرح مشرکین بتوں اور باطل معبودوں کی پرستش کر رہے ہیں، کفر کے امام لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور طاقتور کمزوروں پر ظلم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کے تمام اقوال و افعال اور نیتوں کو جانتا تھا اور سن رہا تھا، اس لئے اس نے ان کی اصلاح کے لئے رسولوں کو بھیجا۔
Ayah 44:7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین اور ان چیزوں کا رب جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔

رب السموت والارض وما بینھما …: پچھلی آیت میں رسول اللہ ﷺ سے خطاب تھا۔ کفار مکہ یہ اقرار کرتے تھے کہ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا رب اللہ تعالیٰ ہے، اس لئے اب ان سے دوبارہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ کائنات میں موجود ساری مخلوق کی ربوبیت اور پرورش کی ذمہ دار صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو پھر تمہیں یہ بھی یقین کرلینا چاہیے کہ یہ رسول فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی نے تمہاری ہدایت کے لئے بھیجا ہے، کیونکہ وہ صرف تمہاری جسمانی پرورش ہی کا ذمہ دار نہیں بلکہ تمہاری روحانی پرورش اور تمہیں سیدھا راستہ بتانا بھی اسی کے ذمے ہے۔
Ayah 44:8

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔

(1) لا الہ الا ہو : یہ پچھلی آیت کا نتیجہ ہے کہ جب آسمان و زمین اور ساری کائنات کا مالک اور رب اللہ تعالیٰ ہے تو پھر معبود بھی وہی ہے۔ (2) یحی ویمیت ربکم و رب ابائکم الاولین : یہ دونوں جملے اللہ تعالیٰ کے معبود واحد ہونے کی مزید تاکید کے لئے بیان فرمائے کہ معبود اسی کو مانو جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور جو تمہارا اور تمہارے پہلے آباء کا رب ہے۔
Ayah 44:9

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں۔

بل ھو فی شک یلعبون : اس مختصر سے فقرے میں ایک بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دہریے ہوں یا مشرکین ، ان سب پر وقتاً فوقتاً ایسی ساعتیں آتی رہتی ہیں جب ان کا دل اندر سے کہتا ہے کہ جو کچھ تم سمجھے بیٹھے ہو اس میں کہیں نہ کہیں جھول موجود ہے۔ دہریہ اپنے انکار خدا میں بظاہر کتنا ہی سخت ہو، کسی نہ کسی وقت اس کا دل یہ شہادت دے گزرتا ہے کہ خاک کے ایک ذرے سے لے کر کہکشاؤں تک اور گھسا کی ایک پتی سے لے کر انسان کی تخلیق تک ، یہ حیرت انگیز اور حکمت سے لبریز نظام کسی صانع حکیم کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ اسی طرح ایک مشرک انسان اپنے شرک میں خواہ کتنا ہی گہرا ڈوبا ہوا ہو، کبھی نہ کبھی اس کا دل بھی پکار اٹھتا ہے کہ جنہیں میں معبود بنائے بیٹھا ہوں یہ خدا نہیں ہوسکتے۔ لیکن اس قلبی شہادت کا نتیجہ نہ تو یہ ہوتا ہے کہ انھیں خدا کے وجود اور اس کی توحید کا یقین حاصل ہوجائے اور نہ یہی ہوتا ہے کہ انھیں اپنے شرک اور اپنی دہریت میں کامل یقین اور اطمینان حاصل رہے۔ اس کے بجائے اس کا دین درحقیقت شک پر قائم ہوتا ہے، خواہ اس میں یقین کی کتنی ہی شدت وہ دکھا رہے ہوں۔ اب رہا یہ سوال کہ پھر وہ سنجیدگی کے ساتھ حقیقت کی جستجو کیوں نہیں کرتے کہ شک کی بےچینی سے نکل کر یقین و اطمینان کے سکون سے بہرہ ور ہو سکیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دین کے معاملے میں سنجیدگی ہی سے تو وہ محروم ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں اصل اہمیت صرف دنیا کی کمائی اور اس کے عیش کی ہوتی ہے، جس کی فکر ہیں وہ اپنے دل و دماغ اور جسم کی طاری طاقتیں خرچ کر ڈالتے ہیں۔ رہے دین کے مسائل، تو وہ حقیقت میں ان کے لئے ایک کھیل، ایک تفریح اور ایک ذہنی عیاشی کے سوا کچھ نہیں ہوتے، جن پر وہ سنجیدگی کے ساتھ چند لمحے بھی صرف نہیں کرسکتے ، مذہبی مراسم ہیں تو تفریح کے طور پر ادا کئے جا رہے ہیں، انکار و دہریت کی بحثیں ہیں تو تفریح کے طور پر کی جا رہی ہیں۔ دنیا کے مشاغل سے اتنی فرصت کسے ہے کہ بیٹھ کر یہ سوچے کہ کہیں ہم حق سے منحرف تو نہیں ہیں اور اگر حق سے منحرف ہیں تو اس کا انجام کیا ہے۔ (تفہیم القرآن بادنیٰ تصرف)
Ayahs 44:10–11

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

سو انتظار کر جس دن آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ دردناک عذاب ہے۔

فازتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین…: اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دلائی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ پریشان نہ ہوں، بلکہ اس دن کا انتظار کریں جس میں آسمان کی جانب سے ایک واضح دھواں ان لوگوں کو ڈھانپ لے گا جو نہایت تکلیف دہ عذاب ہوگا۔ واضح ہونے اور ڈھانپ لینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خییالی دھواں نہیں ہوگا بلکہ حقیقی ہوگا اور سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ”یوم“ سے مراد وہ وقت ہے جس میں دھواں رہا، کیونکہ وہ دھواں ایک دن تو نہیں رہا، بلکہ کئی دن اور مہینے رہا۔ اس دھوئیں سے کیا مراد ہے ؟ ظاہر ہے اس سے قیامت کے دن کا دھواں مراد نہیں ہوسکتا، کیونکہ ان آیات میں کفار کو اسے دور کرنے کی دعا کے بعد اسے کچھ دور کرنے اور ان کے دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کا ذکر ہے، جب کہ قیامت کے دن کا عذاب کسی صورت دور ہونے والا نہیں۔ اس لئے اس سے مراد ایسا دھواں ہے جو جلدی دنیا میں انھیں ڈھانپنے والا ہے۔ اس دھوئیں کے متعلق دو قول ہیں، عبداللہ بن مسعود ؓ نہایت جزم کے ساتھ اسے اس قحط کے نتیجے میں پھیلنے والا دھواں قرار دیتے ہیں جو ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ کی بد دعا سے مکہ میں واقع ہوا۔ چناچہ وہ فرماتے ہیں :(انما کان ھذا لان قریشاً لما استعضوا علی النبی ﷺ دعا علیھم بسنین کسنی یوسف، فاضابھم قحط وجھد حتی اکلوا العظام ، فجعل الرجل ینظر الی السمآء فیری ما بینہ وبینھا کھیئۃ الدخان من الجھد ، فانزل اللہ تعالیٰ۔ (فارتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین یغشی الناس ھذا عذاب الیم) فال فاتی رسول اللہ ﷺ فقیل یا رسول اللہ ! استسق اللہ لمضر، فانھا قد ھلکت قال لمضر ؟ انک لجزی، فاستفی فسقوا قنزلت (انکم عآئدون) فلما اصابتھم منتقبون) (قال یعبی یوم بدر) (بخاری، التفسیر، سورة الدخان :3821)”اس کی وجہ یہ تھی کہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ کے خلاف سخت سرکشی کی تو آپ ﷺ نے ان پر قحط سالیوں کی بد دعا کی، جیسے یوسف ؑ کے قحط کے سال تھے۔ تو انھیں قحط اور بھوک نے آلیا، حتیٰ کہ وہ ہڈیاں کھا گئے۔ آدمی آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی وجہ سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں سا نظر آتا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری :(فارتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین یغشی الناس، ھذا عذاب الیم) (الدخان :11, 10)”سو انتظار کر جس دن آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔ جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ درد ناک عذاب ہے۔“ تو ایک وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے کہا :”یا رسول اللہ ! مضر (قبیلے) کے لئے بارش کی دعا کریں، کیونکہ وہ تو ہلاک ہوگئے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :”مضر کے لئے (وہ تو سخت کافر و مشرک ہیں ؟) تو بڑا جرأت والا ہے۔“ خیر، آپ ﷺ نے بارش کے لئے دعا کردی اور ان پر بارش ہوگئی تو یہ آیت اتری :(انکم عآئدون) (الدخان :10) ”بیشک تم دوبارہ وہی کچھ کرنے والے ہو۔“ پھر جب انہیں خوش حالی ملی تو وہ اپنی پہلی حلات کی طرف پلٹ گئے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :(یوم نبطش البطشۃ الکبریٰ ، انا منتقمون) (الدخان :16)”جس دن ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے، بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں۔“ ابن مسعود ؓ نے فرمایا :”اس سے مراد یوم بدر ہے۔“ ابن مسعود ؓ کی تفسیر کو امام طبری اور بہت سے مفسرین نے راجح قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق یہ عذاب گزر چکا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے قریب نکلے گا۔ حذیفہ بن اسید غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آپ سے میں کسی بات کا ذکر کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ آگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا :(ماتذاکرون ؟ قالوا تذکر الساعۃ، قال انھا لن تقوم حتی ترون قبلھا عشر آیات فذکر الدخان والدجال والدابۃ و طلوع الشمس من معربھا و نزول عیسیٰ ابن مریم ﷺ و یاجوج و ماجوج و ثلاثہ خسوف، خسف بالمشرق و خسف بالمغرب وخشف بجریرۃ العرب وآخر ذلک نار تخرج من الیمن تطرد الناس الی محشرھم) (مسلم ، الفتن و اشراط الساعۃ ، باب فی الایات التی تکون قبل الساعۃ :2901) ”تم کس بات کا ذکر کر رہے ہو ؟“ ہم نے کہا :”ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :”وہ اس وقت تک قائم نہیں ہوگی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو۔“ تو آپ ﷺ نے ان نشانیوں کا ذکر فرمایا، (جو یہ ہیں) دھواں، دجال، دابہ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عیسیٰ ابن مریم ﷺ کا نزول، یاجوج و ماجوج، تین خسف (زمین میں دھنس جانا) ایک خسف مشرق میں، ایک خسف مغرب میں اور ایک خسف جزیرہ عرب میں اور ان سب کے آخر میں ایک آگ ہوگی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ان کے حشر کے مقام کی طرف ہانک کرلے جائے گی۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (بادروا بالاعمال ستا، طلوع الشمس من مغربھا اوالدخان او الدجال او الدابہ او خاصۃ احدکم او امر العامۃ) (مسلم، الفش و اشراط الساعۃ باب فی بقیۃ من احادیث الدجال :2938)”چھ چیزیں ظاہر ہونے سے پہلے اعمال میں جلدی کرلو، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یا دھواں یا دجال یا دابہ یا تم میں سے کسی پر انفرادی عذاب یا سب پر اجتماعی عذاب۔“ ابن کثیررحمتہ اللہ نے اس دوسرے قول کو ترجیح دی ہے کہ اس دخان سے مراد قیامت کے قریب نمودار ہونیو الا دھواں ہے، جس کا ابھی انتظار ہے، مگر ابن مسعود ؓ کی بات ہی صحیح ہے، کیونکہ آیات میں اس دھوئیں کا ذکر ہے جو تھوڑا سا دور کیا جائے گا اور اس میں کفار کے لئے ایمان لانے کا موقع ہوگا، جب کہ قیامت کے قریب والی نشانیوں کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، جیسا کہ فرمایا :(یوم یاتی بعض ایت ربک لاینفع نفساً ایمانھالم تکن امنت من قبل او کسبت فی ایمانھا خیراً) (الانعام :158)”جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔“ عبداللہ بن مسعود ؓ نے یہ بات بھی بطور دلیل پیش فرمائی کہ بھلا قیامت کا عذا بھی دور ہوسکتا ہے ! ؟
Ayah 44:12

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہم سے یہ عذاب دور کر دے، بیشک ہم ایمان لانے والے ہیں۔

ربنا اکشف عنا العذاب انا مومنون : یعنی کفار عذاب دیکھ کر یہ بات کہیں گے، جیسا کہ فرعون کی قوم ہر عذاب آنے پر یہی وعدہ کرتی رہی۔
Ayahs 44:13–14

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

ان کے لیے نصیحت کہاں ؟ حالانکہ یقینا ان کے پاس بیان کرنے والا رسول آ چکا۔

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر انھوں نے اس سے منہ پھیرلیا اور انھوں نے کہا سکھلایا ہوا ہے، دیوانہ ہے۔

انی لھم الذکری وقد جآء ھم رسول مبین …: یعنی انھیں دھوئیں کے عذاب کی دلیل سے نصیحت کیسے ہوگی جب کہ ان کے پاس اس سے بہت ہی بڑی دلیل پہلے آچکی اور وہ ہے رسول مبین، جس کا رسول ہونا بالکل واضح ہے اور جس نے ہر بات کھول کر بیان کردی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے منہ موڑ لیا اور کہنے لگے کہ یہ کسیک ا سکھایا ہوا ہے، دیوانہ ہے۔”ثم“ (پھر) کا لفظ ان کے حال پر تعجب کے اظہار کے لئے ہے کہ رسول مبین کا آنا اس قدر واضح اور روشن نشانی تھی کہ اسے نہ ماننے کی گنجائش ہی نہ تھی، پھر بھی انہوں نے اس پر معلم اور مجنون کا بہتان لگا کر ایمان لانے سے اناکر کردیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے کلام مختصر کردیا ہے، ورنہ یہ ایک شخص یا ایک مجلس کی بات نہیں بلکہ کسی شخص نے معلم کہا اور کسی نے مجنون، کسی مجلس میں ایک تہمت جڑی گئی تو کسی میں دوسری۔ کفار رسول اللہ ﷺ پر یہ تہمت لگاتے تھے کہ کوئی آدمی آپ کو یہ قرآن سکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا۔ (دیکھیے نحل :103۔ فرقان : 4 تا 6) انھیں اس شخص کو دیوانہ کہتے ہوئے حیا نہیں آتی تھی جو اس سے پہلے چالیس برس ان میں رہا اور وہ اسے صادق اور امین کہتے رہے۔ پھر وہ ایسیک تاب لے کر آیا جس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کا جواب لانے سے بھی وہ عاجز رہے اور رہیں گے۔ بھلا دیوانے ایسے ہوتے ہیں ! ؟
Ayah 44:15

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

بیشک ہم یہ عذاب تھوڑی دیر کے لیے دور کرنے والے ہیں، بیشک تم دوبارہ وہی کچھ کرنے والے ہو۔

انا کاشفوا العذاب قلیلاً …: یعنی ہم تمہارے رسول کی دعا سے عذاب کو تھوڑی مدت کے لئے ہٹانے والے ہیں، تاکہ تمہارے ایمان لانے کے وعدے کی حقیقت سامنے آجائے اور تم پر حجت پوری ہوجائے، اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ عذاب ہٹنے پر تم دوبارہ وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے تھے۔
Ayah 44:16

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے، بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں۔

یوم نبطش البطشۃ الکبری انا منقمون :”ان“ علت بیان کرنے کے لئے ہے۔ یعنی یہ قحط کا عذاب تو ہم نے ہٹا لیا مگر قیامت کے دن جب ہم تمہیں بڑی گرفت میں پکڑیں گے تو وہ کسی صورت دور نہیں ہوگی، ، کیونکہ ہم انتقام لے رہے ہوں گے۔ دنیا کی گرفت تمہیں کفر سے واپس لانے کے لئے تھی، اس لئے اس کے بعد تمہیں رجوع کا موقع ملتا تھا، جیسا کہ فرمایا :(ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون) (السجدۃ : 21) ”اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔“ لیکن قیامت کے دن کی بڑی گرفت انتقام کے لئے ہوگی، اس کے بعد تمہیں مہلت نہیں ملے گی۔ طبری نے اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا :(قال ابن مسعود البطشۃ الکبری“ یوم بدر، وانا اقولھی یوم القیامۃ) (الطبری : 28/21 ح :31338)”ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ”البطشۃ الکبری“ (بڑی پکڑ) یوم بدر ہے اور میں کہتا ہوں کہ وہ قیامت کا دن ہے۔“ ابن کثیر رحمتہ اللہ نے اس قول کی سند کو صحیح کہا ہے۔ ان کی تفسیر کے محقق دکتور حکمت بن بشیر نے بھی اس قول کی سند کو صحیح کہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ابن عباس ؓ کی بات قوی ہے۔
Ayah 44:17

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور بلا شبہ یقینا ہم نے اس سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمایا اور ان کے پاس ایک بہت باعزت رسول آیا۔

(1) ولقد فتنا قبلھم قوم فرعون : یعنی ان کفار مکہ سے پہلے ہم نے فرعون کی قوم کو آزمایا، کبھی وسعت اور فراخی دے کر اور کبھی کوئی عذاب بھیج کر۔ ان کا بھی یہی حال تھا کہ جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے، یہ ہمارے ہنر کا کمال ہے اور جب ان پر عذاب آتا تو اے موسیٰ ؑ کی نحوست قرار دیتے، مگر پھر انھی سے درخواست کرتے کہ اپنے رب سے دعا کر، اگر اس نے یہ عذاب ہم سے ہٹا دیا تو ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ مگر جب ان کی دعا سے وہ عذاب دور ہوتا تو فوراً عہد توڑ ڈالتے۔ آخر انجام ان کا یہ ہوا کہ موسیٰ ؑ کی بد دعا سے ہم نے انھیں سمندر میں غرق کردیا۔ (دیکھیے اعراف :130 تا 136) مقصود ان آیات سے رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور کفار کو عبرت دلانا ہے۔ (2) وجآء ھم رسول کریم :”کریم“ کا لفظ کسی بھی چیز میں سے اعلیٰ درجے کی چیز پر بولا جاتا ہے۔ موسیٰ ؑ کو کریم اس لئے فرمایا کہ وہ حسب نسب میں ان سب سے اونچے اور اخلاق وصفات میں نہایت بلند تھے اور اللہ کے ہاں اتنے عالی مرتبے والے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان سے کلام فرمایا۔
Ayah 44:18

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

یہ کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو، بیشک میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔

(1) ان ادوا الی عباد اللہ …: یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ موسیٰ ؑ کے جو اقوال یہاں نقل ہوئے ہیں وہ ایک وقت کے نہیں بلکہ کئی سالوں میں مختلف مواقع پر انہوں نے فرعون اور اس کے درباریوں سے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ چند فقروں میں بیان کیا گیا ہے۔ (2) ان اذوا الی عباد اللہ : اس جملے کی تفسیر دو طرح سے ہوسکتی ہے، ایک یہ کہ ”عباد اللہ“ کا لفظ ”اذوا الی“ کا مفعول بہ ہے، یعنی موسیٰ ؑ نے ان سے کہا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو۔”عباد اللہ“ (اللہ کے بندوں) سے مراد بنی اسرائیل ہیں، جنہیں فرعون نے غلام بنا رکھا تھا۔ موسیٰ ؑ کی بعثت کا مقصد فرعون اور اس کی قوم کو سالام کی دعوت کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات دلانا بھی تھا۔ اس تفسیر کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے :(فاتیہ فقولا انا رسولاً ربک فارسل معنا بنی اسرآئیل ، ولا تعذبھم) (طہ :38)”تو اس کے پاس جاؤ اور کہو بیشک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، پس تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انھیں عذاب نہ دے۔“ یہاں بنی اسرائیل کو ”عباد اللہ“ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور غلام ہیں، تمہیں کوئی حق نہیں کہ انھیں غلام بنا کر رکھو۔ یہی بات جنگ قادسیہ کے موقع پر ربعی بن عامر ؓ نے ایرانیوں کے سردار رستم سے کہی تھی، جب اس نے ان سے پوچھا :(ماجآء بکم ؟)”تمہیں کیا چیز لے کر آئی ہے ؟“ تو انہوں نے جواب میں جو تقریر کی اس کے ند جملے یہ ہیں :(اللہ ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادۃ العباد الی عبادۃ اللہ و من صیق الدنیا الی سع تھا ومن جور الاذبان الی عدل الاسلام) (البدایۃ والھایۃ :38/8، سن 13 ہجری کے واقعات)”اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھیجا ہے تاکہ ہم جسے وہ چاہے اسے بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی کی طرف اور دنیا کی تنگی سے نکال کر اس کی وسعت کی طرف اور تمام دینوں کے ظلم و جور سے نکال کر اسلام کے عدل کی طرف لے آئیں۔“ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”عباد اللہ“ سے پہلے حرف ندا ”یا“ محذوف ہے اور وہ منادیٰ مضاف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور ”اذوالی“ کا مفعول محذوف ہے :”ای ادوا الی ماوجب علیکم یا عباد اللہ !“”یعنی اے اللہ کے بندو ! جو حقوق تم پر واجب ہیں وہ مجھے ادا کرو۔“ یعنی مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو۔ اس تفسیر کے مطابق ”عباد اللہ“ سے مراد قبطی ہیں۔ یہ تفسیر بھی درست ہے، بعد کا جملہ ”انی لکم رسول امین“ اس تفسیر سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ حرف ندا کا حذف کلام عرب میں عام ہے، جیسا کہ عزیز مصر نے کہا تھا :(یوسف اعرض عن ھذا) (یوسف :29)”ای یا یوسف ! اغرض عن ھذا“ یعنی اے یوسف ! اس معاملے سے درگزر کر۔ (3) انی لکم رسول امین : یہ پہلے جملے کی علت ہے، یعنی میرے حقوق جو تم پر واجب ہیں ادا کرو، کیونکہ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں، تمہیں اللہ کا پیغام ٹھیک ٹھیک کسی کمی یا زیادتی کے بغیر پہنچاتا ہوں۔ یہ الفاظ اس وقت کے ہیں جب موسیٰ ؑ نے شروع میں اپنی دعوت پیش فرمائی۔
Ayah 44:19

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، بیشک میں تمہارے پاس واضح دلیل لانے والا ہوں۔

(1) وان لاتعلوا علی اللہ : اور اللہ کے سامنے اونچے مت بنو، اس کے مقابلے میں سرکشی مت کرو۔ یعنی تمہارا مجھ پر ایمان نہ لانا دراصل اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی ہے، کیونکہ مجھے بھیجنے والا وہ ہے اور جو کچھ میں نے تمہیں کہا ہے وہ میری بات نہیں بلکہ اللہ کی بات ہے جو میں پوری امانت کے ساتھ تمہیں پہنچا رہا ہوں۔ دوسری بات یہ کہ کسی دوسرے کے غلام کو اپنا غلام بنا لینا بہت بڑی سرکشی ہے جو تم نے اللہ کے بندوں کو اپنا غلام بنا کر اس کے مقابلے میں اختیار کر رکھی ہے، اس لئے یہ سرکشی چھوڑ کر انھیں آزاد کر دو۔ (2) انی اتیکم بسلطن نبی ن : یعنی اگر تمہیں شک ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نہیں بھیجا تو میں اللہ کی طرف سے اپنے رسول ہونے کی واضح دلیل پیش کرنے والا ہوں جس سے تمہیں میری رسالت میں کوئی شب باقی نہیں رہے گا۔”بسلطن مبین“ اگرچہ نکرہ ہے مگر اسم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مراد صرف ایک دلیل نہیں بلکہ عصائے موسیٰ سے لے کر وہ تمام معجزے ہیں جو موسیٰ ؑ پہلی مرتبہ فرعون کے پاس آنے سے لے کر مصر میں قیام کے آخری وقت تک دکھاتے رہے۔
Ayah 44:20

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور بیشک میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ پکڑتا ہوں، اس سے کہ تم مجھے سنگسار کردو۔

وانی عذت بربی و ربکم ان ترجمون، یہ اس وقت کی بات ہے جب موسیٰ کی دعوت اندر ہی اندر دور تک پھیل گئی، حتیٰ کہ فرعون کی قوم کے کئی آدمی بھی پوشیدہ طور پر ان پر ایمان لے آئے، اس وقت فرعون نے موسیٰ ؑ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ جب موسیٰ ؑ کو معلوم ہوا کہ فرعونیوں کا ارادہ انھیں سنگسار کر کے بدترین طریقے سیق تل کرنے کا ہے، تو اس وقت موسیٰ ؑ نے کہا کہ میں اس بات سے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ پکڑتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو، کیونکہ وہ میرا ہی نہیں تمہارا بھی مالک ہے، تم اس سے زبردست ہو کر مجھے رجم نہیں کرسکتے۔ سورة مومن (27, 26) میں فرعون کے قتل کے اعلان اور موسیٰ علیہ کی دعا اور اللہ کی پناہ میں جانے کا مفصل ذکر ہے۔
Ayah 44:21

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ سے الگ رہو۔

وان لم تومنوا لی فاعترلون : یعنی اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ، مجھے ایذا نہ پہنچاؤ اور بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ جانے سے نہ روکو۔
Ayah 44:22

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

آخر اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک یہ مجرم لوگ ہیں۔

فدعا ربہ ان ھولآ قوم مجرمون، یہاں ایک لمبا قصہ حذف کردیا گیا ہے جو کئی سال تک موسیٰ ؑ کی دعوت، ہر طرح کی آزمائشوں کے باوجود فرعون کی سرکشی، بنی اسرائیل پر بےپناہ مظالم اور ان کے بےمثال صبر پر مشتمل ہے۔ ”فدعا ربہ“ کے ساتھ اس قصے کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ جب انہوں نے تمام معجزے دیکھنے، ہر بار ایمان لانے کا عہد کرنے اور اسے توڑ دینے کے بعد صاف لفظوں میں کہہ دیا :(مھما تاتنا بہ من ایۃ لتسحرنا بھا، فما نحن لک بمومنین) (الاعراف :132)”تو ہمارے پاس جو نشانی بھی لے آئے، تاکہ ہم پر اس کے ساتھ جادو کرے تو ہم تیری بات ہرگز ماننے والے نہیں۔“ تو ان کے ایمان لانے سے پوری طرح مایوس ہونے کے بعد نوح ؑ کی طرح موسیٰ ؑ نے بھی ان کے خلاف اپنے رب سے دعا کی کہ یہ لوگ مجرم ہیں، کسی طرح ماننے والے نہیں۔ سورة یونس میں ہے :(وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ و اموالا فی الحیوۃ الدنیا ، ربنا لیصلوا عن سبیلک ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم) (یونس : 88) ”اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب ! بیشک تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں بہت سی زینت اور اموال عطا کئے ہیں، اے ہمارے رب ! تاکہ وہ تیرے راستے سے گمراہ کریں، اے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔“
Ayah 44:23

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

پس میرے بندوں کو رات کے کسی حصے میں لے جا، بیشک تم پیچھا کیے جانے والے ہو۔

(1) فاسر بعبادی لیلاً …: موسیٰ ؑ کی دعا قبول ہوئی اور حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جاؤ، تاکہ فرعون کو فوری خبر نہ ہو سکے اور یاد رکھو ! تمہارا تعاقب کیا جائے گا، اس لئے تمہیں ہجرت کا یہ سفر پوری احتیاط کے ساتھ ہوشیار رہ کر کرنا ہوگا۔ (2) ”بعبادی“ (میرے بندوں) سے مراد بنی اسرائیل ہیں اور ان کے ساتھ قبطیوں کے وہ لوگ بھی جو ایمان لا چکے تھے۔ اس واقعہ کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة شعراء (52 تا 68) ، یونس (88 تا 92) اور سورة طہ (77)۔
Ayah 44:24

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور سمندر کو اپنے حال پر ٹھہرا ہو اچھوڑ دے، بیشک وہ ایسا لشکر ہیں جو غرق کیے جانے والے ہیں۔

واترک البحر رھواً …:”رھاء یرھو، رھواً“ (ن)”البحر“ سمندر کا ساکن ہونا۔”رھا الرجل رھوا“ جب آدمی دونوں ٹانگیں کھول لے اور انھیں الگ الگ کرلے۔ یہاں اس قصے کا وہ حصہ حذف کردیا ہے۔ جس میں ذکر ہے کہ بنی اسرائیل سمندر پر پہنچے تو پیچھے سے فرعون بھی پہنچ گیا، بنی اسرائیل سخت خوف زدہ ہوگئے کہ اب دوبارہ پکڑے جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو وحی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مار۔ انہوں نے ایسا کیا تو سمندر پھٹ گیا اور پانی کا ہر حصہ اپنی جگہ ایک بڑے پہاڑ کی شکل میں کھڑا ہوگیا۔ موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل خیریت سے گزر گئے تو موسیٰ ؑ کو حکم ہوا :(واثرک البحر رھواً)”اور سمندمر کو اپنے حال پر ٹھہرا ہوا چھوڑ دے۔“ دیکھیے سورة شعراء (52 تا 68) سمندر سے پار ہونے پر موسیٰ ؑ کو حکم ہوا کہ سمندر کو اسی حلات میں ٹھہرا ہوا چھوڑ دیں کہ اس میں الگ الگ راستے کھلے ہوں، تعاقب کی فکر مت کریں، اس لشکر کو اسی سمندر میں غرق کیا جانا ہے۔
Ayahs 44:25–28

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

کتنے ہی وہ چھوڑ گئے باغات اور چشمے۔

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیتیاں اور عمدہ مقام۔

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور خوش حالی، جن میں وہ مزے اڑانے والے تھے۔

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

اسی طرح ہوا اور ہم نے ان کا وارث اور لوگوں کو بنادیا۔

کم ترکوا من جنت وعیون…: ان آیات کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة شعراء کی آیات کی (55 تا 59) کی تفسیر۔
Ayah 44:29

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پھر نہ ان پر آسمان و زمین روئے اور نہ وہ مہلت پانے والے ہوئے۔

(1) فما بکت علیھم السمآء والارض : اس آیت کی تفسیر میں تین قول ہیں، تینوں میں سے جو بھی مراد لے لیں درست ہے۔ ایک یہ کہ ”السمآئ“ سے پہلے لفظ ”اھل“ محذوف ہے، جیسے یوسف ؑ کے بھائیوں نے والد کو جا کر بتایا کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، جس کی وجہ سے عزیز مصر نے اسے اپنے پاس روک لیا ہے۔ پھر یقین دلانے کے لئے کہا :(وسئل القریۃ التی کنا فیھا والعیر التی اقبلنا فیھا) (یوسف :82)”اور آپ اس بستی سے پوچھ لیں جن میں ہم تھے اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے ہیں۔“ مطلب یہ ہے کہ اس بستی والوں سے پوچھ لیں۔ اسی طرح یہاں مطلب یہ ہے کہ نہ ان پر آسمان والے روئے اور نہ زمین والے ، بلکہ ہر ایک نے اطمینان کا سانس لیا اور ہر ظالم حکمران ٹولے کا یہی حشر ہوتا ہے۔ دوسرا قول یہ کہ اس سے مراد ان ک تحقیر اور ان کا مذاق اڑانا ہے۔ عرب کے ہاں جب کوئی بڑا آدمی فوت ہوتا تو وہ اس کی موت کو بہت بڑا حادثہ بتانے کے لئے کہتے کہ اس پر آسمان رویا، زمین روئی اور پہاڑ لرز اٹھے۔ مطلب یہ کہ اتنی شان و شوکت والے اور خدائی کا ڈنکا بجانے والے مرے تو ان لوگوں کی طرح جن کی نہ کوئی حیثیت ہوتی ہے اور نہ کسی کو ان کے مرنے کے پروا ہوتی ہے۔ تیسرا قول یہ کہ آیت کے ظاہر الفاظ کے مطابق آسمان و زمین نیک لوگوں کے مرنے پر روتے ہیں، مگر ان کے مرنے پر نہ آسمان رویا نہ زمین۔ یہ معنی بھی کچھ بعید نہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے ڈر سے پتھروں سے نہریں پھوٹنے، ان کے پھٹ جانے اور اللہ کے خوف سے گر پڑنے کا ذکر فرمایا ہے (دیکھیے بقرہ : 74) اور جس طرح کھجور کے درخت کا تنا (حنانہ) رسول اللہ ﷺ کے اسے چھوڑ کر منبر پر خطبہ دینے کے وقت رویا تھا۔ (2) وما کانوا منظرین : اور نہ وہ مہلت پانے والے ہوں کہ توبہ کرلیتے، بلکہ آن کی آن میں ڈبو دیئے گئے۔
Ayah 44:30

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ذلیل کرنے والے عذاب سے نجات دی۔

ولقد نجینا بنی اسرآئیل من العذاب المھین : موسیٰ ؑ کے واقعہ میں فرعون اور آل فرعون کو غرق کرنے کا ذکر کرنے کے بعد بنی اسرائیل پر انے انعامات کا ذکر فرمایا۔ اس میں قریش کے جباروں کو فرعون اور آل فرعون کے انجام سے ڈرایا گیا ہے اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گی ہے کہ نہ کفر کے یہ سردار فرعون جیسی قوت و شوکت کے مالک ہیں نہ مسلمان بنی اسرائیل جتنے مظلوم اور بےبس۔ تو جب فرعون کی قوت و شوکت کا یہ حال ہوا تو یہ بےچارے کیا حیثیت رکھتے ہیں اور جب بنی اسرائیل جیسے بےبس اور مظلوم ظلم سے نجات پاسکتے ہیں تو مسلمانوں کو بھی اس کی امید رکھنی چاہیے۔ ”لام“ اور ”قد“ تاکید کے لئے قسم کا مفہوم رکھتے ہیں۔ یقین دلانے کے لئے قسم کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب کوئی کسی بات کا منکر ہو، یہاں یہ بات اتنی تاکید کے ساتھ اس لئے فرمائی کہ ماننے میں نہیں آتا کہ ظلم میں اس قدر جکڑی ہوئی قوم جن کے لڑکے ذبح کئے جا رہے ہوں، لڑکیوں کو زندہ رکھ کر ان سے ہر خدمت لی جا رہی ہو اور وہ اف تک نہ کرسکتے ہوں اور دنیا میں کہیں سے انھیں مدد مل سکتی ہو نہ کوئی ان کے حق میں آواز اٹھانے والا ہو، انھیں بھی اتنی ذلت سے نجات مل سکتی ہے ؟ فرمایا، ہاں، ہاں ! ایسا ہوا ہے اور یقینا ہوا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو ذلیل کرنے والے عذاب سے نجات دی۔
Ayah 44:31

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

فرعون سے، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں میں سے ایک سرکش شخص تھا۔

(1) من فرعون : وہ عذاب کیا تھاڈ وہ فرعون تھا، اس کی ذات ہی بنی اسرائیل کے لئے مجسمہ عذاب تھی۔ (2) انہ کان عالیاً من المسرفین : اس کی سرکشی اور زیادتی کے لئے دیکھیے سورة قصص کی آیت (4) کی تفسیر۔
Ayah 44:32

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور بلا شبہ یقینا ہم نے انھیں علم کی بنا پر جہانوں سے چن لیا۔

(1) ولقد اخترنھم ”اخترنا“”ختاریختار اختیاراً“ (افتعال) سے جمع متکلم ماضی معلوم ہے۔ یہاں بھی ”لقد“ لانے کا مقصد یہی ہے کہ اتنی پسی ہوئی قوم کو یکایک تمام دنیا پر برتری کیسے مل سکتی ہے ؟ فرمایا قسم ہے کہ ہم نے انھیں تمام جہانوں پر چن لیا، پھر ہمارے چنے ہوؤں کو برتری کیوں حاصل نہ ہوگی،۔ (2) علی علم : یعنی ہم نے بلا وجہ ان کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ہمیں ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کا علم تھا اور ہم ان کی خامیوں اور کمزوریوں سے بھی واقف تھے۔ اس علم ہی کی بنا پر ہم نے ان کے زمانے کی تمام قوموں میں سے ان کا انتخاب کیا۔ (3) علی العلمین :”العلمین“ سے مراد ان کے زمانے کے جہان ہیں ، کل جہان نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے امت محمد ﷺ کو (کنتم خیراً امۃ) (آل عمران : 110) کہہ کر تمام امتوں سے بہتر قرار دیا ہے، کیونکہ ”کان“ استمرار پر دلالت کر رہا ہے۔ ہاں بعض جزوی فضائل بنی اسرائیل میں ایسے ہیں جو انھی کی خصوصیت ہیں، مثلاً اتنے انبیاء کا ان میں مبعوث ہونا مگر مجموعی اور کلی لحاظ سے امت محمد (ﷺ) افضل ہے۔
Ayah 44:33

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ہم نے انھیں وہ نشانیاں دیں جن میں واضح آزمائش تھی۔

واتینھم من الایت …:”بلوٓئ“ کا معنی آزمائش ہے، یہ لفظ مصیبت اور انعام دونوں معنوں میں آتا ہے کیونکہ آزمائش دونوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہاں مراد ان پر کئے جانے والے احسانات ہیں، جن میں آزادی صحرا میں کھانے پینے اور دھوپ سے بچنے کی تمام ضرورتوں کا انتظام اور پھر ارض مقدس کی تولیت کا شرف سب چیزیں شامل ہیں۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (49)۔
Ayah 44:34

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ یقینا کہتے ہیں۔

ان ھولاء لیقولون : یہاں موسیٰ ؑ کا قصہ ختم ہوا جو جملہ معترضہ کے طور پر درمیان میں آگیا تھا اور دوبارہ سلسلہ کلام کفار قریش کے ساتھ جوڑ دیا یا، جوپ ہلے سے چلا آرہا تھا اور کفار سے فرمایا تھا :(لا الہ الا ھو یحی ویمیت ربکم و رب ابائکم الاولین بل ھم فی شک یلعبون) (الدخان :9, 8)”اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔ بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں۔“ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے زندگی بخشنے اور موت دینے کو قیامت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کفار شک میں ہی پڑے ہوئے ہیں۔ فرعون کی سرکشی اور غرقابی کے ذکر کے بعد کفار قریش کا ذکر ”ھولآئ“ (یہ لوگ) کہہ کر حقارت کے ساتھ فرمایا کہ فرعون جیسے قوت و شوکت اور رعب و دبدبے والے منکروں کا انجام سن چکے ، اب ان لوگوں کی بات سنو جو اس کے مقابلے میں کچھ قوت نہیں رکھتے، یہ بھی ہمارے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کو ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ کہتے ہیں۔
Ayah 44:35

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

کہ ہماری اس پہلی موت کے سوا کوئی (موت) نہیں اور نہ ہم کبھی دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں۔

(ان ھی الا موتتنا الاولی وما نحن بمنشرین : کہتے یہ ہیں کہ پہلی دفعہ ہم مریں گے تو قصہ ختم، پھر کوئی زندگی نہیں اور نہ ہمیں اٹھایا جائے گا۔
Ayah 44:36

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ، اگر تم سچے ہو۔

فاتوا با بآئنا ان کنتم صدقین : یعنی ہم نے آج تک کسی فوت شدہ کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا، اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ دوسری زندگی ہے تو ہمارے آبا و اجداد کو قبروں سے اٹھا لاؤ، اگر تم سچے ہو، ورنہ ہم تمہیں جھوٹا سمجھیں گے۔ وہ اپنی اس دلیل کو بہت مضبوط سمجھتے تھے ! حالانکہ یہ کئی وجہوں سے بالکل فضول ہے، کیونکہ انھیں یہ کس نے کہا کہ وہ اسی دنیا میں آئے گی ؟ وہ تو ایک نئی دنیا ہوگی، جس میں تمام مردے بیک وقت اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر انھیں یہ کس نے کہا ہے کہ مردوں کا زندہ کرنا پیغمبر کے اختیار میں ہے ؟ اس کا کام تو صرف پیغام پہنچانا ہے، مردے زندہ کرنا یا معجزوں کے مطالبے پورے کرنا نہیں اور تیسری وجہ یہ ہے کہ قیامت کا ایک وقت مقرر ہے جسے صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے وہ اسی وقت آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔ اب قیامت سے پہلے قیامت کا مطالبہ کون سی دانش مندی ہیڈ اگر کسی کو آئندہ ہونے والے کسی کام کی اطلاع دی جائے تو کیا یہ کہہ کر اسے جھٹلایا جاسکتا ہے کہ یہ کام فوراً کر کے دکھاؤ، اگر ابھی نہیں ہوتا تو کبھی بھی نہیں ہوگا۔ ظاہر ہے یہ نہایت بےعقلی کی بات ہے۔
Ayah 44:37

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

کیا یہ لوگ بہتر ہیں، یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ؟ ہم نے انھیں ہلاک کردیا، بیشک وہ مجرم تھے۔

(1) اھم خیرام قوم تبع :، تبع یمن کے قبیلہ حمیز ہ کے بادشاہوں کا لقب تھا، جیسے کرسیٰ ایران کے بادشاہوں کا، قیصر روم کے بادشاہوں کا، فرعون مصر کے بادشاہوں کا اور نجاشی حبشہ کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا۔ یہ حمیز کا بادشاہ تبع مومن تھا اور اس کی قوم کافر تھی، اس لئے اس کی قوم کی مذمت کی ہے، اس کی نہیں۔ (2) والذین من قبلھم : پہلے لوگوں سے مراد عاد وثمود، قوم ابراہیم، قوم لوط ، اصحاب مدین اور قوم فرعون وغیرہ ہے۔ (3) اھلکتھم انھم کانوا مجرمین : یہ کفار کے اعتراض کا تاریخ سے جواب ہے کہ جو شخص یا قوم آخرت کا انکار کرے گی اسے کوئی چیز مجرم بننے سے روک نہیں سکتی، کیونکہ اسے باز پرس کی فکر ہی نہیں ہوتی، وہ اپنی خواہشات کے پیچھے بےلگام دوڑے چلے جاتے ہیں۔ پھر ان کی سرکشی، ظلم و زیادتی اور حد سے بڑھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انھیں حرف غلط کی طرح مٹا دیا جاتا ہے۔ رہی یہ بات کہ ”یہ لوگ بہتر ہیں یا قوم تبع اور اس سے پہلے کے لوگ“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کفار مکہ تو اس خوش حالی اور قوت و شوکت کو پہنچ ہی نہیں سکے جو تبع کی قوم اور اس سے پہلے کی اقوام کو حاصل رہی ہے، جب ان کی خوش حالی انھیں اس زوال سے نہیں بچا کسی جو قیامت کے انکار کی وجہ سے ان پر آیا تو ان بےچاروں کی کیا حیثیت ہے۔
Ayahs 44:38–39

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیلتے ہوئے نہیں بنایا۔

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ہم نے ان دونوں کو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔

وما خلقنا السموت والارض …: یہ منکرین قیامت کے اعتراض کا عقلی جواب ہے کہ اگر سب لوگوں کو زندہ کر کے ان سے باز پرس کا اور نیک و بد کی جزا و سزا کا کوئی دن نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنی عظیم کائنات محض کھیلنے کیلئے بنائی ہے، اس کا کوئی مقصد نہیں، اس کے ہاں نیک و بد اور ظالم و مظلوم برابر ہیں، نہ اس کے ہاں عدل ہے نہ حکمت۔ فرمایا ایسا نہیں ہے، ہم نے آسمان و زمین کو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور قیامت قائم کرنا ہماری حکمت اور عدل کا تقاضا ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے، اس لئے آخرت کی تیاری سے غافل ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے، دیکھیے سورة انبیاء (16 تا 18) مومنوں (115، 116) اور سورة قیامہ (36 تا 40)
Ayah 44:40

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

یقینا فیصلے کا دن ان سب کا مقرر وقت ہے۔

ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین : یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ ”ہمارے باپ دادا کو لے آیا اگر تم سچے ہو۔“ فرمایا ، موت کے بعد زندگی کوئی کھیل نہیں کہ جب کوئی اس کا مطالبہ کرے اسے کوئی مردہ زندہ کر کے دکھا دیا جائے۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک وقت مقرر فرما رکھا ہے جس میں وہ سب کو جمع کر کے ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔