Ayah 43:1حم : حروف مقطعات کی بحث کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (1) کی تفسیر۔
Ayah 43:2والکتب المبین : قسم اس بات کا یقین دلانے کے لئے اٹھائی جاتی ہے جو اس کے جواب میں کہی جاتی ہے پھر بعض اوقات کسی چیز کی قسم اس کی عظمت کے پیش نظر کھائی جاتی ہے، تاکہ مخاطب کو بات کا یقین آجائے، مثلاً اللہ تعالیٰ کی قسم اور بعض اوقات قسم جواب قسم کی دلیل ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی اکثر قسمیں ایسی ہی ہیں۔ ”الکتب“ پر الف لام عہد کے لئے ہے ، اس لئے ترجمہ ”اس کتاب کی قسم“ کیا گیا ہے۔ یہاں قرآن مجید کی صفت ”المبین“ کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ اسے عربی قرآن بنا کر نازل کرنے والے ہم ہیں۔ اس کا ہر بات کو اتنے عمدہ طریقے سے کھول کر بیان کرنا شاہد ہے کہ یہ کسی انسان یا دوسری مخلوق کا کلام نہیں بلکہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔
Ayah 43:3انا جعلنہ قرانا عربینا…: اس آیت میں یہ یقین دلانے کے ساتھ کہ اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا ہے، اسے عربی قرآن بنا کر نازل کرنے کی حکمت بیان فرمائی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة یوسف کی آیت (2) کی تفسیر۔
Ayah 43:4(1) وانہ فی ام الکتب :”ام الکتب“ کا معنی ہے ”کتاب کا اصل۔“ اکثر مفسرین نے اس سے مراد لوح محفوظ لیا ہے، جہاں سے تمام آسانی کتابیں نازل ہوئی ہیں، جیسا کہ فرمایا (بل ھو قرآن مجید فی لوح محفوظ) (البروح :22, 21)”بلکہ وہ ایک بڑی شان والا قرآن ہے۔ اس تخی میں (لکھا ہوا) ہے جس کی حفاظت کی گئی ہے۔“ اور فرمایا :(انہ لقرآن کریم فی کتب مکنون لایمسہ الا المطھرون تنزیل من رب العلمین) (الواقعہ :88 تا 80)”کہ بلاشبہ یہ یقیناً ایک باعزت پڑھی جانے والی چیز ہے۔ ایک ایسی کتاب میں جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔ اسے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا مگر جو بہت پاک کئے ہوئے ہیں۔ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔“
بعض مفسرین نے فرمایا کہ ”ام الکتب“ سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم ہے جو ہر آسمانی کتاب کا اصل ہے۔ لوح محفوظ کا اصل قرآن ایک کمال حکمت والے، سب کچھ جاننے والے کے پاس سے عطا کیا جاتا ہے۔“
(2) لدینا لعلی حکیم :”لذی“ اور ”عند“ دونوں کا معنی ”کسی کے پاس“ ہونا ہے۔ مگر ”لدی“ خاص قرب کے لئے ہے اور ”عند“ عام کے لئے۔ چناچہ ”المال عند زید“ (مال زید کے پاس ہے) اس مال کیلئے بھی آتا ہے جو اس کے پاس حاضر ہو اور اس مال کے لئے بھی جو اس کے خزانے میں ہو، جبکہ ”المال لدی زید“ صرف اس مال کے لئے آتا ہے جو اس کے پاس حاضر ہو۔ (تفسیر ثنائی)”لعلی“ یعنی یہ قرآن ہمارے علم میں (یا لوح محفوظ میں) ہمارے پاس یعنی ہمارے خاص قرب میں بہت بلند مرتبے والا ہے، ملاء اعلیٰ میں اس کا بہت اونچا مقام ہے، تمام کتابوں اور تمام علوم سے برتر اور بلند ہے۔ ”حکیم“ یعنی کمال حکمت اور دانئای کی باتوں سے بھرا ہوا ہے، اس کی ہر بات دانائی پر مشتمل اور صحیح عقل کے عین مطابق ہے۔ ”حکیم“ کا معنی محکم بھی ہے، یعنی یہ قرآن ایسا مضبوط و محکم ہے کہ نہ اس میں کسی طرح باطل کی آمیزش ہوسکتی ہے نہ باطل اس کے مقابلے میں ٹھہر سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ، تنزیل من حکیم حمید) (حم السجدۃ : 32)”اس کے پاس باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کیپ یچھے سے، ایک کمال حکمت والے، تمام خوبیوں الے کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔“ مزید دیکھیے سورة ہود (1) مراد اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قرآن کی قدر و منلزت ذہن نشین کروانا ہے، تاکہ کوئی شخص اسے معمولی سمجھ کر اس پر ایمان لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم نہ رہے۔ اسی بلند متر بےکا اظہار ”انہ لقران کریم“ اور ”بل ھو قرآن مجید“ کے الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة واقعہ (77) اور سورة بروج (21)۔
Ayah 43:5(1) افنضرب عنکم الذکر صفحاً :”ضرب“ کا صلہ جب ”عن“ آئے تو اس کا معنی ”صرف عنہ“ عنکم الذکر صفحاً“ کی کئی ترکیبیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ یہ مصدر مفعول مطلق ہے تاکید کے لئے، کیونکہ ”افنضرب عنکم“ کا معنی بھی اعراض کرنا ہے اور ”صفحاً“ کا بھی یہی معنی ہے۔ گویا یہ مصدر مفعول مطلق فعل کے ہم معنی لفظ کے ساتھ ہے، جیسے ”فعدث جلوساً) ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ ”کیا ہم یہ نصیحت تم سے ہٹا لیں، بالکل ہٹا لینا ؟“ اور ایک یہ کہ ”صفحاً“ مفعول لہ یا حال ہے، یعنی ”کیا ہم تم سے یہ نصیحت اپنے اعراض کی وجہ سے یا اعراض کرتے ہوئے ہٹالیں ؟“
(2) ان کنتم قوماً مسرفین :”ان“ سے پہلے لام جارہ محذوف ہے اور ”کنتم“ میں استمرار ہے :”ای لان کنتم“ ”اس لئے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ چلے آئے ہو۔“ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اتنا بلند متربہ قرآن تمہاری زبان میں تمہارے سمجھانے کے لئے نازل کیا، مگر تم زیادتی اور اسراف پر ڈٹے رہے اور مسلسل انکار کرتے رہے، تو کیا تمہارے اس مسلسل اسراف و انکار کی وجہ سے ہم اعراض کرتے ہوئے تم سے سے اسے نصیحت کو ہٹا لیں اور تمہیں سمجھانا چھوڑ دیں ڈ یعنی ہم ایسا نہیں کریں گے اور نہ یہ ہماری رحمت کا تقاضا ہے، کیونکہ تمہارا اسراف اور گمراہی تو قرآن اتارے جانے کا اصل سبب ہے۔ چناچہ ان کے انکار کے باوجود قرآن تئیس برس تک اترتا رہا، بیشمار سعید روحیں اس پر ایمان لائیں اور جو کفر پر ڈٹے رہے ان پر حجت قائم ہوگئی اور ان کی پشتوں سے بھی لاتعداد لوگ اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے۔
Ayahs 43:6–7وکم ارسلنا من نبی فی الاولین …: اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی ہے اور جھٹلانے والوں کے لئے تنبیہ۔ یعنی آپ پہلے نبی نہیں جسے جھٹلایا گیا ہو اور جس کا مذاق اڑایا گیا ہو اور نہ یہ پہلے مذاق اڑانے والے ہیں ، بلکہ آپ سے پہلے لوگوں میں ہم کتنے ہی نبی بھیجے، ان کا حال بھی یہی تھا کہا ن کے پاس جو نبی آتا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، مگر نہ ہم نے نصیحت کا سلسلہ ترک کیا اور نہ پیغمبروں کا سلسلہ بند کیا، تو ان کے مسرف و منکر ہونے کی وجہ سے ہم انہیں نصیحت کرنا کیوں چھوڑیں گے ؟
Ayah 43:8(1) فاھلکنا اشد منھم بطشاً : یعنی ان کفار کی کیا حیثیت ہے، جو لوگ قوت اور گرفتمیں ان سے کہیں زیادہ تھے ہم نے انھیں ہلاک کردیا۔ اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو انھیں بھی اپنا انجام سوچ لینا چاہیے۔”ان کنتم قوماً مسرفین“ میں جن قریش مکہ کو مخاطب کیا تھا اب ”اشدمنھم بطشاً“ میں ان کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ ہے۔ یہ التفات ہے، مقصود ناراضی کا اظہار ہے۔
2۔ ومضی مثل الاولین : یعنی قرآن میں ایسے پہلے لوگوں کی مثال گزر چکی ہے۔ مثل کا معنی صفت اور حال بھی ہوتا ہے، یعنی پہلے لوگوں کا حال گزر چکا ہے، جیسے قوم نوح اور عاد وثمود وغیرہ۔ مضی یمضی کا معنی ہے جاری ہونا، یعنی پہلے لوگوں کی مثال چل پڑی اور ان کے قصے مشہور ہوگئے، جنہیں لوگ نسل در نسل بیان کرتے چلے آئے۔
Ayah 43:91۔ ولئن سالتہم من خلق السموات والارض : یہاں سے کفار کے قول و فعل کا تضاد واضح کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہو کر پیش ہونے کو ناممکن قرار دیتے ہیں، حالانکہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ یقیناً کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ تو پھر یہ کیا ستم ہے کہ یہ لوگ اس ذات کے ساتھ جس نے آسمان و زمین اور پوری کائنات کو پیدا کیا، ایسی ہستیوں کو شریک کر رہے ہیں جنہوں نے ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا۔ پھر ظاہر ہے کہ یہ بات کہ آسمانوں اور زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، پہلے رسولوں کے بتانے ہی سے لوگوں کو معلوم ہوئی۔ اہل عرب کو بھی اس بات کا علم ابراہیم اور اسماعیل ؑ کے بتانے سے ہوا، کیونکہ عوام الناس اتنی اہلیت ہی نہیں رکھتے کہ کائنات کی حقیقتیں خود معلوم کرسکیں، تو جب پہلے رسولوں کو مانتے ہیں تو انہی کی تعلیم لے کر آنے والے اس پیغمبر پر کیوں ایمان نہیں لاتے، ایک طرف تو یہ اللہ تعالیٰ کو اس وقت آسمان و زمین پیدا کرنے پر قادر مانتے ہیں جب ان کا وجود ہی نہیں تھا تو دوسری طرف اسے اتنا بےبس قرار دیتے ہیں کہ وہ اس چیز کو دوبارہ نہیں بنا سکتا جو اس نے پہلے بنائی تھی۔
2۔ لیقولن خلقہن العزیز العلیم : مشرکین عرب کی طرف سے اس سوال کا جواب کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا۔ یہی تھا کہ انہیں اللہ نے پیدا کیا ہے، جیسا کہ سورة لقمان 25 اور سورة زمر 38 میں فرمایا : ولئن سالتہم من خلق السموات والارض لیقولن اللہ۔ اور بلا شبہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ یہاں اسی بات کو ان الفاظ میں ادا فرمایا کہ وہ کہیں گے کہ انہیں اسی عزیز و حلیم نے پیدا کیا ہے۔ کیونکہ ان کے اس اعتراف کا کہ انہیں اللہ نے پیدا کیا۔ لازمی تقاضا ہے کہ وہ یہ اعتراف بھی کریں گے کہ وہ عزیز و حلیم ہے، کیونکہ کامل غلبے اور کمال علم کے بغیر آسمان و زمین کا پیدا کرنا ممکن نہیں۔
Ayah 43:101۔ الذی جعل لکم الارض مہدا : یہاں سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے اپنے احسانات گنوانے شروع فرمائے۔ چناچہ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ان کا قول نہیں، ورنہ الفاظ یہ ہوتے : الذی جعل لنا الارض مہدا۔ وہ جس نے ہمارے لیے زمین کو بچھونا بنادیا۔
(2) ”مھداً“ کا معنی بچھونا بھی ہے اور بچے کا گہوارہ بھی، یعنی جس طرح آدمی بچھونے میں آرام سے لیٹا ہوتا ہے ایسے ہی تمہارے لئے اس عظیم الشان کرے کو آرام کی جگہ بنادیا، جو فضا میں معلق ہے، جو ایک طرف اپنے محور پر ایک ہزار (1000) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے اور دوسری طرف چھیاسٹھ ہزار چھ سو (666000) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں ہے، جس کے پیٹ میں پتھروں تک کو پگھلا دینے والی اور شدید زلزلے پیدا کرنے والی آگ موجود ہے، جو کبھی کبھی اتٓش فشانوں کی شکل میں لاوا نگل کر تمہیں بھی اپنے وجود سے آگاہ کرتی ہے ، مگر اس کے باوجود تمہارے مالک نے پہاڑوں کے ساتھ اسے ایسا متوازن اور پرسکون بنادیا ہے کہ تم آرام سے اس پر چلتے پھرتے، سوتے اور آرام کرتے ہو۔ تمہیں معمولی جھٹکا بھی نہیں لیتا اور احساس تک نہیں ہوتا کہ تم بندوق کی گولی سے بھی تیز رفتار گاڑی پر سوار ہو۔ ہاں کبھی کبھی اس کی کوئی ہلکی سی جھرجھری زلزلے کی شکل میں تمہیں آگاہ کرتی ہے کہ کتنی خوفناک بلا کر اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تابع فرمان کر رکھا ہے۔ مزید دیکھیے سورة حجر (19) ، رعد (3) اور سورة نحل (15)۔
(3) وجعل لم فیھا سبلاً لعلکم تھتدون : اللہ تعالیٰ نے یہاں زمین میں راستے بنانے کو اپنا احسان قرار دیا۔ پہاڑوں کے اندر درے اور میدانوں اور پہاڑوں میں دریاؤں کے کنارے وہ قدرتی راستے ہیں جن کی مدد سے انسان ساری زمین پر پھیلا ہے اور ایک دوسرے کے پاس آمد و رفت رکھتا ہے۔ ان کے علاوہ صحراؤں اور میدانوں میں امتیازی نشانات آدمی کو راستے مقرر کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر پہاڑ ٹھوس دیوار کی شکل میں ہوتے یا میدانوں اور صحراؤں میں راستوں کی علامات نہ ہوتیں تو آدمی جہاں پیدا ہوا تھا وہیں مقید ہو کر رہ جاتا۔ مزید دیکھیے سورة نحل (15۔ 16)
Ayah 43:11(1) والذین نزل من السمآء مآء بقدر، اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة مومنون کی آیت (18) کی تفسیر۔
(2) فانشرنا بہ بلدۃ میتاً : ”والذی نزل من السمآء مآء بقدر“ میں اپنا ذکر غائب کے صیغے سے کیا اور ”فانشرنا بہ“ میں جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمایا، اس سے مقصود اپنی شنہشاہی اور عظمت کا اظہار ہے کہ ہم ہیں جو بارش کے ساتھ مردہ شہر کو زندہ کردیتے ہیں، کسی دوسرے میں نہ یہ طاقت ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اس میں شریک ہے۔
(3) کذلک تحرجون : بارش کیساتھ مردہ زمین زندہ کردینے کو قیامت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا کہ جس طرح ہم مردہ زمین کو بارش کے ساتھ زندہ اور آباد کردیتے ہیں ایسے ہی تمہیں زندہ کر کے قبروں سے نکال کھڑا کریں گے۔ مزید دیکھیے سورة نحل (65) ، حج (5، 6) ، روم (50) ، فاطر (9) اور سورة یٰسین (33، 34)۔
Ayah 43:12(1) والذی خلق الازواج کلھا : تفسیر کے لئے دیکھیے سورة یٰسین کی آیت (36) کی تفسیر۔
(2) وجعل لکم من الفلک و الانعام ما ترکبون : اس سے پہلے زمین میں راستے بنانے کا ذکر فرمایا ہے جن کے ذریعے سے لوگ مختلف جگہوں کی طرف اپنی ضروریات کے لئے سفرک رتے ہیں، اب یہ نعمت یاد دلائیک ہ شہروں، میدانوں ، صحراؤں اور پہاڑوں میں سفر کے لئے اللہ تعالیٰ نے چوپائے پیدا فرمائے اور سمندروں میں قریب و دور سفروں کیلئے کشتیاں اور بڑے بڑے جہاز بنائے۔ بقاعی نے ”خلق الازواج کلھا“ کے ساتھ چوپاؤں اور کشتیوں کے ذکر کی بھی ایک مناسبت ذکر فرمائی ہے کہ ”الازواج“ سے ذہن مختلف جوڑوں کی طرف منتقل ہوتا ہے، مثلاً نر اور مادہ، اس لئے یہ واضح کرنے کے لئے کہ ”الازواج“ سے مراد صرف جوڑے ہی نہیں بلکہ وہ تمام اصناف ہیں جن کیا کید وسرے سے مناسبت یا موافقت یا مخالفت ہوتی ہے، جیسے زمین و آسمان، شب و روز، نیک و بد اور جنت و جہنم وغیرہ، اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں اور کشتیوں کا ذکر فرمایا کہ دونوں کی بناوٹ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے، مگر مقصود دونوں سے ایک ہے ”ماترکبون“ یعنی انسان کے لئے بحر و بر میں سواری مہیا کرنا۔
Ayahs 43:13–14(1) لتستوا علی ظھورہ……: انسان جب گھوڑوں ، گدھوں، خچروں، اونٹوں یا کشتیوں پر سوار ہوتا ہے اور جم کر بیٹھ جاتا ہے تو عام عادت بن جانے کی وجہ سے اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سواریوں کو تابع کردیئے جانے کی کتنی بڑی نعمت عطا ہوئی ہے۔ ذرا کسی شیر یا چیتے یا کسی اور جنگلی جانور پر اس طرح جم کر بیٹھے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر ہوگی۔ یہی حال سمندر میں پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان بحری جہازوں پر سکون و اطمینان کے ساتھ سواری کا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے کشتیوں اور چوپاؤں میں سے تمہارے لئے سواریاں بنائیں، تاکہ ان کی پشتوں پر جم کر بیٹھو، پھر جب ان پر جم کر بیٹھ جاؤ تو اپنے رب کی انھیں تمہارے لئے مسخر کرنے کی نعمت یاد کرو۔
(2) وتقولوا سبحن الذی سخرلناھذا…: اور دل میں یاد کرنے کے ساتھ زبان سے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح ان الفاظ میں ب یان کرو، تاکہ تمہیں احساس رہے اور اقرار بھی ہوتا رہے اور اقرار بھی ہوتا رہے کہ ان سواریوں کو قابو میں لانا کبھی ہمارے بس کی بات نہ تھی اور یہ تھی اور یہ بھی کہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ان سواریوں کی محتاجی ہم مجبور بندوں کی ضرورت ہے۔ ہمارا مالک ہر قسم کے احتیاج اور مجبوری سے پاک ہے۔ اگر انسان سوچے تو سواریوں سے پہلے زمین کی پشت بھی چوپاؤں اور کشتیوں کی پشت کی طرح ہے، جس پر سوار وہ زمانے کے حوادث اور تھپیڑوں کے درمیان جم کر محو سفر ہے۔ سو ہماری ابتدا ہمارے رب کی طرف سے ہوئی، اس نے زندگی بسر کرنے کے لئے زمین کی پشت کو ہمارے لئے بچھونا بنادیا، پھر اس نے چوپاؤں اور کشتیوں کی پشت کو ہمارے لئے جائے سکون بنادیا، اب ساری عمر ہم ان پر سکون و اطمینان کیساتھ سوار ہوتے رہتے ہیں۔
(3) وانا الی ربنا لمنقلبون : اور یہ بات یقینی ہے کہ ہم دنیا کی زندگی کا سفر پورا کرنے کے بعد اپنے رب کی طرف واپس پلٹنے والے ہیں۔ ابن کثیر رحمتہ اللہ نے فرمایا :”اس میں دنیا کے سفر سے آخرت کے سفر کی طرف تنبیہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیوی زاد سے آخرت کے زاد کی طرف تنبیہ فرمائی، فرمایا :(وترودوا فان خیر الزاد التقویٰ) (البقرہ :198) ”اور زاداہ نے لو کہ بیشک زاد راہ کی سب سے بہتر خوبی (سوال سے) بچنا ہے۔“ اور دنیوی لباس کے ساتھ آخرت کے لباس کی طرف تنبیہ فرمائی ہے، فرمایا :(وریشآء و لیاس التقویٰ ، ذلک خیر) (الاعراف : 26) ”اور زینت بھی اور تقویٰ کا لباس !ٖ وہ سب سے بہتر ہے۔“
(4) علی ظھورہ“ میں ”ہ“ ضمیر ”ما ترکبون“ میں اسم موصول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اگرچہ اس کے معنی میں عموم ہے، مگر لفظ واحد ہونے کی وجہ سے ضمیر واحد لائی گئی ہے۔
(5) یہ دعا سواری پر سوار ہونے کے بعد کی ہے، سوار ہوتے وقت ”بسم اللہ“ پڑھنا چاہیے، جیسا کہ نوح ؑ نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار ہونے والوں کو فرمایا تھا :(وقال ارکبوا فیھا بسم اللہ مجرلھا ومرسھا ان ربی لغفور رحیم) (ھود : 31) ”اور اس نے کہا اس میں سوار ہوجاؤ، اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا اللہ ہی کے نام کے ساتھ ہے، بیشک میرا رب یقیناً بےحد بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔“
علی ازدی کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے انھیں سکھایا کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر کی طرف نکلتے ہوئے سواری پر جم کر بیٹھ جاتے تو تین دفعہ ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر کہتے :(سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون، اللھم انا نسالک فی سفرنا ھذا البر والتقوی ومن العمل ما ترضی ، اللھم ھون علینا سفرنا ھذا و اطوعنا بعدہ اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفہ فی الاھل، اللھم انی اعوذ بک من وعناہ الشعر، وکابۃ المنتظر وسوہ المنقلب فی المال والاھل)”پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لئے تابع کردیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کر دے اور اس کی دوسری کو ہم سے لپیٹ دے۔ اے اللہ ! تو ہی سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں جانشین ہے۔ اے اللہ ! میں سفر کی مشقت اور غم ناک منظر دیکھنے سے اور مال اور اہل میں ناکام لوٹنے کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اور جب سفر سے واپس لوٹتے تو یہی الفاظ کہتے اور یہ الفاظ مزید کہتے :(ائبون تائبون عابدون لربنا حامدون) (مسلم، الحج، باب استحباب الذکر اذا ر کب دابتہ …:1332)”ہم واپس لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اپنے رب ہی کی حمد کرنے والے ہیں۔“ کتب احادیث میں سفر کی اور دعائیں بھی مذکور ہیں۔
Ayah 43:15(1) وجعلوا لہ من عبادہ جزئاً : اس آیت کا تعلق آیت (9):(ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن خلقھن العزیز العلیم) کے ساتھ ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مشرکین کی جہالت پر تعجب دلاتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ دیکھو یہ لوگ مانتے ہیں کہ آسمان و زمین کا خلاق اور ان کی ہر چیز کا مدبر اللہ تعالیٰ ہے، جو مخلوق سے جدا ہے اور کسی طرح محتاج نہیں، پھر اس کے لئے شریک اور اس کی اولاد بناتے ہیں۔ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جو آسمان و زمین کو پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہ مدد کے لئے یا دل لگانے کے لئے کسی کا محتاج نہیں، کیونکہ یہ دونوں نقص کی علامتیں ہیں۔ پھر ظلم دیکھو کہ عباد (غلاموں) کو اولاد قرار دے رہے ہیں، جب کہ اولاد غلام ہو ہی نہیں سکتی، کیونکہ وہ تو باپ کا جزو ہوتی ہے۔ جب کوئی اللہ کا جزو ثابت ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کا اس کا محتاج ہونا بھی ثابت ہوگیا۔ ”عبادہ“ میں فرشتے، جن اور انسان سبھی داخل ہیں۔ یہود و نصاریٰ نے عزیز و مسیح کو ابن اللہ قرار دیا، تو کچھ نام نہاد مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کو اللہ کے نور کا ٹکڑا قرار دیا اور بعض نے کہا کہ پنج تن اللہ کے نور سے پیدا ہوئے ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ کی آیت (30) کی تفسیر۔ مشرکین فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ انہوں نے ان کے بت عورتوں کی شکل میں بنا رکھے تھے۔ یہی دیویاں تھیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔
(2) ان الانسان لکفور مبین : صریح ناشکرا اس لئے کہ جس پروردگار نے اسے پیدا کیا، زمین و آسمان اور کل کائنات پیدا فرمائی، اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کو ایک مان کر اس اکیلے کی بندگی کرنے کے بجائے اس نے اس کے بندوں کو اس کی اولاد قرار دے کر صفات ہی میں نہیں اس کی ذات میں بھی شریک ٹھہرا دیا۔
Ayah 43:16ام اتخذ بما یخلق بنت…: ان کی ناشکری کی انتہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ٹھہرائی تو بیٹیاں جو بیٹوں سے کم تر ہوتی ہیں، جب کہ اپنے لئے وہ بیٹوں کے خواہشمند ہیں۔”ام“ (یا) سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے، یعنی (کیا اسے زبردستی لڑکیاں دے دی گئی ہیں جنھیں وہ ہٹا نہیں سکا) یا خود ہی اپنی ساری قدرت و اختیار کے باوجود لڑکیاں لینے پر راضی ہوگیا اور تمہیں بیٹے دینے کے لئے چن لیا ، حالانکہ کم تر چیز پر تو کوئی بیوقوف ہی راضی ہوتا ہے۔ سوچو ! تم اللہ کی کتنی بڑی گستاخی کر رہے ہو۔
Ayah 43:17واذا بشر احدھم بما ضرب للرحمٰن مثلاً …: کتنی بڑی ناشکری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے وہ چیز لگا دی جس سے وہ خود شدید نفرت اور کراہت کرتے ہیں۔ بیٹیوں سے ان کی نفرت کی مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة نحل کی آیات (58، 59) کی تفسیر۔”ظل وجھہ مسوداً“ (اس کا منہ سارا دن سیاہ رہتا ہے) اس لئے فرمایا کہ چہرے کی سیاہی دن کو نظر آتی ہے ، ورنہ چہرہ تو رات کو بھی سیاہ رہتا ہے۔
Ayah 43:18(1) اومن ینشوا فی الحلیۃ…: اس آیت میں دو جہوں سے لڑکیوں کا لڑکوں سے کم تر ہونا بیان فرمایا جب کہ مرد کو اس کی ضرورت نہیں، اس کا حسن ویسے ہی کامل ہے۔ دوسری یہ کہ مرد مضبوط، دلیر اور شجاع ہوتا ہے جو خم ٹھونک کر دشمن کے مقابلے میں اترتا ہے، جب کہ عورت نرم و نازک اور کمزور ہوتی ہے جس کی بہادری یہ ہے کہ جب بس نہ چلے تو رہ کر دکھا دے۔ فرمایا ایسی کمزور جنس کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیتے ہو اور لڑکے جو مرد میدان اور صاحب عزم و ہمت ہوتے ہیں اپنے لئے پسند کرتے ہو۔
(2) اس آیت سے عورتوں کے لئے زیور کا جواز ثابت ہوتا ہے، اس لئے ان کے لئے سونا اور ریشم پہننا حلال کردیا یا جو مردوں کے لئے حرام ہے اور یہ بھی کہ مردوں کو نسوانی آرائش اختیار کرنے سے اجتناب لازم ہے۔ دونوں مسئلوں کی احادیث معروف ہیں۔
Ayah 43:19(1) وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبدالرحمٰن اناثاً : فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دینے میں جو صریح شرک ہے اور عبودیت اور ولدیت کسی صورت جمع نہیں ہوسکتیں۔ دوسرا ظلم یہ کہ فرشتے جو تذکیر و تانیث سے بلندو برتر ہیں اور جن کی پیدائشی ہی انسانوں سے مختلف ہے ، انھیں اتنا گرایا کہ ان کے لئے برتر جنس مرد کے بجائے کمزور جنس عورت ہونا تجویز کیا۔ جھوٹے اور بہتان باز لوگوں کا جھوٹ ایسے ہی تناقص سے ظاہر ہوا کرتا ہے۔
(2) اشھدوا خلقھم : اس کے دو معانی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا، کیا اس وقت یہ لوگ حاضر تھے کہ انھیں ان کا مونث ہونا معلوم ہوگیا۔ دوسرا یہ کہ کیا انھوں نے ان کے جسم کی ساخت کو دیکھا ہے کہ انھیں عورت قرار دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تو پھر ان کے پاس اس دعویٰ کی کیا دلیل ہے ؟
(3) ستکتب شھادتھم ویسئلون : یعنی یہ جو فرشتوں کے عورت ذات ہونے کی جھوٹی شہادت دے رہے ہیں اسے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا جائے گا اور قیامت کے دن ان سے ان کی جھوٹی شہادت کے متعلق باز پرس کی جائے گی۔
(4) شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”یہ جو فرمایا کہ بندے رحمان کے ہیں یعنی بیٹیاں نہیں اور معلوم ہوا کہ فرشتے اگرچہ نہ مرد نہ عورت مگر ان کے لئے الفاظ مردوں والے بولنے چاہئیں۔“ (موضح)
Ayah 43:20(1) وقالوا لوشآء الرحمٰن ماعبدنھم : یہ اپنی گمراہی اور مشرکانہ گستاخی پر کفار مکہ کا ایک اور استدلال تھا، یعنی وہ اپنے آپ کو مجرم سمجھنے کے بجائے سارا الزام تقدیر الٰہی پر دھرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی یہ مشیت تھی اور اس نے ہماری قسمت میں لکھ دیا تھا کہ ہم فرشتوں کو دیویاں سمجھ کر ان کی پرستش کریں۔ تقدیر لاٰہی سے اس قسم کا غلط استدلال باطل پرستوں کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے اور آج بھی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی پسند دوسری چیز ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتا جیسے یہ مشرک کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر شرک سے روکنے کی کیا ضرورت تھی۔ (ابن کثیر) مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة انعام (148) اور سورة نحل (35) کی تفسیر۔
(2) مالھم بذلک من علم : یعنی وہ تقدیر کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کو غلط معنی پہناتے ہیں۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”یعنی یہ توچ ہے کہ بن چاہے خدا کے کوئی چیز نہیں، پر اس کا بہتر ہونا نہیں نکلتا۔ اس نے قوت (خوراک) بھی پیدا کیا ور زہر بھی، پر زہر کون کھاتا ہے۔“ (موضح)
(3) ان ھو الا یخرصون : یعنی جہالت کی وجہ سے ایسی باتیں بناتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔
Ayah 43:21ام اتینھم کتباً من قبلہ …:”ام“ سے پہلے ہمزہ استفہام پر مشتمل کوئی جملہ ہوتا ہے جو بعض اوقات مذکور اور بعض اوقات محذوف ہوتا ہے۔ یہاں ذکر یہ ہو رہا ہے کہ مشرکین نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بٹیٹیاں قرار دے کر انھیں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا رد فرمایا۔ ظاہر ہے فرشتوں کے مونث ہونے کا علم یا تو مشاہدے سے ہوسکتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے بتانے سے، جو اس کی نازل کردہ کسی کتاب میں موجود ہو۔”اشھدوا خلقھم“ (کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے) میں پہلی صورت کا رد اور ان کے مشاہدے کی نفی ہے، یعنی انھوں نے ان کی پیدائش کو نہیں دیکھا کہ وہ مذکر ہیں یا مونث اور ”ام اتینھم کتباً من قبلہ“ (یا کیا ہم نے انھیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے) میں دوسری صورت کا رد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس فرشتوں کے مونث ہونے کی اور ان کی پرستش کی کوئی نقلی دلیل بھی نہیں ہے۔ کسی آسمانی کتاب میں انھیں یہ لکھا ہوا نہیں ملے گا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں یا اس کی بادشاہت میں ان کا کوئی حصہ ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر دہرائی ہے۔ دیکھیے سورة روم (35) ، فاطر (40) ، صافات (156، 157، احقاف (4) ، نمل (64) ، حج (8) اور انعام (48)۔
Ayah 43:22بل قالوآ انا وجدنا ابآء نا علی امۃ…: یعنی ایسا نہیں کہ ان کے پاس اپنی گمراہی کے لئے اللہ تعالیٰ کی کسی کتاب کی کوئی دلیل یا سند موجود ہے، بلکہ ان کی دلیل اور سند یہی ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی راہ پر پایا ہے اور ہم انھی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں۔ اس کی ہم معنی آیت کے لئے دیکھیے سورة ذاریات (52، 53)۔ باطل اور ناحق باتوں (شرک و بدعت اور رسوم) میں بڑوں اور بزرگوں کی پیروی کو دلیل بنانا وہ گمراہی ہے جو قدیم زمانے سے چلی آئی ہے اور کفار کا شیوہ رہا ہے کہ وہ انیاء کے مقابلے میں اس کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں، قرآن نے متعدد آیات میں ان کی مذمت فرمائی ہے۔ معلوم ہوا کہ جس بات میں اللہ اور رسول کی کوئی سند نہ ہو اس میں باپ دادا یا کسی امام، مرشد یا بزرگ کی تقلید کرنا اور یہ کہنا کہ ہمارے بزرگ چونکہ ایسے ہی کرتے چلے آئخے ہیں، لہٰذا ہم بھی اسی راہ پر چلیں گے، سراسر باطل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مقلدین کی یہ تقلید صرف دین کے معاملے میں ہتوی ہے، اگر انھیں اپنے باپ دادا کے کسی دنیوی کاروبار میں روپے پیسے کا نقصان نظر آئے تو کبھی ان کی پیروی نہیں کریں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک دین اور آخرت کا خسارہ کچھ خسارہ ہی نہیں، ورنہ وہ کبھی ایسا نہ کریں۔
Ayah 43:23(1) وکذلک ما ارسلنا من قبلک فی قریۃ…: اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اس سفاہت و حماقت میں یہی لوگ مبتلا نہیں، بلکہ ان سے پہلے لوگ بھی اپنے رسولوں کو یہی کہتے چلے آئے ہیں، اس لئے آپ ان کی باتوں پر صبر کریں۔
(2) مفسر کیلانی لکھتے ہیں :”اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تقلید ابٓاء کے سب سے زیادہ موید اور اس پر اصرار کرنے والے کھاتے پیتے یعنی آسودہ حال اور چودھری قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ رسول کی بات مان لیں تو انھیں اپنی اس چودھراہٹ کے منصب سے نیچے اتر کر عام لوگوں کی صف میں شامل ہونا اور رسول کا مطیع بن کر رہنا پڑتا ہے اور اس کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ رسول ان کے کسب معاش کے طریقوں پر بھی کئی طرح کی پابندیاں لگاتا ہے، مال و دولت کمانے پر بھی اور اس کے خرچ کرنے پر بھی۔ اگر وہ یہ پابندیاں قبول کرلیں تو ان کی آسودہ حلای ہی خطرے میں پڑجاتی ہے۔ لہٰذا وہ اپنی عاقبت اس میں سمجھتے ہیں کہ تقلید آباء پر ڈٹ جائیں اور عوام کو اپنے ساتھ ملائے رکھیں۔“ (تیسیرا القرآن)
Ayah 43:24(1) قل اولو جئتکم باھدی مما وجدثم علیہ ابآء کم : یعنی پہلے آنے والے رسول نے کہا کہ کیا اگر میں تمہارے پاس اس سے زیادہ سیدھا راستہ لے آؤں تو پھر بھی تم میری بات نہ مانو گے اور اسی ڈگر پر چلتے رہو گے ؟۔
(2) قالوا انا بما ارسلتم بہ کفرون : یعنی انہوں نے کہا کہ اگر تم ہمارے آباء سے زیادہ سیدھا راستہ لے آؤ تب بھی یقینا ہم اس سے منکر ہیں جو دے کر تم بھیجے گئے ہو تمہارے لائے ہوئے حق کو بھی ہم نہیں مانتے۔
Ayah 43:25فانتقمنا منھم فانظر کیف …: یعنی جب وہ ضد اور عناد میں اس حد تک پہنچ گئے کہ رسولوں کی بات حق بھی ہے تو ہم ماننے والے نہیں، تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پھر دیکھو ان جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
Ayahs 43:26–27(1) واذ قال ابراہیم لابیہ وقومہ…: یہاں ابراہیم ؑ کے قصے کی مناسبت یہ ہے کہ قریش اور قوم عرب سے کہا جا رہا ہے کہ تمہارے پیشوا اور جد امجد نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تھی، تم بھی ایسا ہی کرو۔
(2) اننی برآء مما تعبدون…:”برآئ“ مصدر ہے، واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر ر مونث کے لئے یہی لفظ استعمال ہوتا ہے ، جو ”بری“ کے معنی میں ہے، مگر اس میں مبالغہ ہے، جیسے ”زید عادل“ میں وہ زور نہیں جو ”اتنا عادل ہے کہ سراپا عدل ہے) میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ میں تمہارے تمام معبودوں سے سراپا برأت ہوں، دل ، زبان اور عمل کے ساتھ۔ غرض ہر طرح سے ان سے برأت کا اعلان کرتا ہوں، سوائے اس معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا۔
(3) الا الذی فطرنی : اپنے اس کلام میں ابراہیم ؑ نے صرف اللہ واحد کی عبادت کی دلیل بھی بیان فرمائی ہے۔ وہ ہے :
(الا الذی فطرنی)”جس نے مجھے پیدا کیا۔“ یعنی عبادت اسی کا حق ہے جو پیدا کرنے والا ہے۔ یہاں ابراہیم ؑ کے اللہ کے سوا تمام معبودوں سیا علن برأت کا ذکر ہے، دوسرے مقامات پر برأت کے علاوہ ان سے عداوت کا بھی اعلان ہے اور تقریباً ہر جگہ اللہ تعالیٰ کے خلاق ہونے کی صفت کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔ (دیکھیے شعراء 75 تا 78۔ انعام : 78۔ 79) سورة ممتحنہ (4) میں باطل معبودوں کے ساتھ ان کے پجاریوں سے بھی برأت و انکار کے علاوہ کھلم کھلا بغض و عداوت کا اعلان ہے، جب تک وہ اکیلے اللہ پر ایمان نہ لائیں۔
(4) فانہ سیھدین : سورة شعراء میں ابراہیم ؑ کا قول ہے :(الذی خلقنی فھو یھدین) (الشعراء :88)”وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا (اور اس پر چلاتا) ہے۔“ یہاں فرمایا :(فانہ سیھدین) یعنی جس نے مجھے پیدا کیا آئندہ بھی وہی مجھے سیدھی راہ پر چلاتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچائے گا۔ یعنی ہدایت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے جس کے ہاتھ میں خلق ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (77) ، شعراء (79) اور سورة صافات (99)۔
Ayah 43:281 وجعلھا کلمۃ :’ جعلھا“ میں ضمیر ”ھا ‘ سے مراد کلمہ توحی ”لا الہ الا اللہ“ ہے، کیونکہ ”اثنی برآء مما تعبدون“ کا خلاصہ ”لا الہ“ ہے اور ”الا الذی فطرنی“ کا خلاصہ“ الا اللہ“ ہے۔
(ہ) باقیہ فی عقبہ :”جعلھا“ میں ضمیر فاعل سے مراد ابراہیم ؑ بھی ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے اس کلمہ کو پانی اولاد میں باقی رہنے والا بنادیا۔ دو طرح سے، ایک تو انہوں نے اپنی اولاد کو اور ان کی اولاد نے پانی اولاد کو اس کی وصیت کی، جیسا کہ فرمایا :(ووضی بھا ابرھم بنیہ و یعقوب ، یبنی ان اللہ اصطفی لکم الذین فلا ت موتن الا وانثم مسلمون) (البقرۃ : 122)”اور اسی کی وصیت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو کی اور یعقوب نے بھی کہ اے میرے بیٹو ! بیشک اللہ نے تمہارے لئے یہ دین چن لیا ہے، تو تم ہرگز فوت نہ ہونا مگر اس کی اولاد میں سے ایک امت مسلم یعنی اللہ کی فرماں بردار رہے، وہ بت پرستی سے بچے رہیں، ایمان اور عمل صالح پر قائم رہیں اور ان میں انبیاء و رسل اور اس کلمے کی دعوت دینے والے موجود رہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واذا بتلی ابراھم ربہ بکلمت فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماماً قال ومن ذریتی قال لا ینال عھدی الظلمین) (البقرہ :123)”اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں کے ساتھ آزمایا تو اس نے انھیں پورا کردیا۔ فرمایا بیشک میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ کہا اور میری اولاد میں سے بھی ؟ فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔“ اور ابراہیم ؑ نے دعا کی۔ (واجنبنی و بنی ان نعبد الاصنام) (ابراہیم : 35)”اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔“ اور دعا کی : (رب اجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی) (ابراہیم : 30) ”اے میرے رب ! مجھ نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی۔“ اور ابراہیم اور اسماعیل ؑ نے دعا کی :(ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنآ امۃ مسلمۃ لک) (البقرۃ : 128)”اے ہمارے رب ! اور ہمیں اپنے لئے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لئے فرماں بردار بنا۔“ اور یہ دعا بھی کی :(ربنا وابعث فیھم رسولاً منھم یتلوا علیھم ایتک ویعلمھم الکتب والحکمۃ ویرکیھم) (البقرۃ : 129)”اے ہمارے رب ! اور ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انھیں کتاب و حکمت سکھائے اور انھیں پاک کرے۔“
اور اگر ”جعلھا“ میں ضمیر فاعل سے مراد اللہ تعالیٰ ہو تو مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کلمے کو ابراہیم ؑ کی اولاد میں باقی رہنے والا بنادیا اور ان میں ہمیشہ اس کلمے پر ایمان رکھنے والے اور اس کی دعوت دینے والے موجود رہے اور رہیں گے۔ چناچہ ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کی دعا قبول فرما کر مکہ میں محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(انا دعوۃ ابی ابراہیم) (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ، ح : 1536)”میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔“ اسی طرح ان کی اولاد میں اسحاق، یعقوب اور بہت سے انبیاء (علیہم السلام) مبعوث فرمائے، فرمایا :(3 وھبنا لہ اسحاق و یعقوب و جعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتب) (العنکبو :28)”اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کئے اور اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔“
(3) لعلھم یرجعون : یعنی اگر ان میں سے کچھ لوگ گمراہ ہو کر شرک کرنے لگیں تو توحید پرستوں کی دعوت پر اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ آئیں۔ اس میں مکہ والوں کو تنبیہ ہے کہ نبی کریم ﷺ وہی کلمہ لے کر آئے ہیں جو ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد میں باقی چھوڑا تھا، اس لئے تم ان کی دعوت قبول کرلو اور شرک سے باز آجاؤ۔ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ ابراہیم ؑ کی ساری اولاد ایمان والی نہیں ہوئی بلکہ ان میں نیک و بد ہر قسم کے لوگ رہے ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (124) ، صافات (113) نسائ، (54، 55) اور سورة حدید (26) اگلی آیت میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔
Ayah 43:29(بل متعت ھولآء و ابآء ھم …: یہ اس سوال کا جواب ہے کہ ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد میں جو کملہ اس لئے چھوڑا تھا کہ شرک میں گرفتار واپس پلٹ آئیں تو کیا وہ واپس پلٹے ؟ فرمایا نہیں، وہ سب لوگ واپس نہیں پلٹے، بلکہ ان لوگوں یعنی قریش اور ان کے آباء کو ان کے کفر و شرک پر فوراً پکڑنے کے بجائے میں نے واپس پلٹنے کے لئے ملہت دی اور دنیا کا ساز و سامان اور مال و متاع کچھ وقت تک رہنے اور فائدہ اٹھانے کے لئے دیا، مگر وہ ان دنیوی لذتوں ہی کو اپنا مقصد سمجھ بیٹھنے اور ان میں ایسے بدمست ہوئے کہ ابراہیم ؑ کی راہ کو بھول گئے، حتیٰ کہا ن کے پاس یہ حق اور رسول مبین آگیا۔ ”الحق“ سے مراد قرآن ہے اور ”رسول مبین“ کا معنی کھول کر بیان کرنے والا رسول بھی ہے اور واضح رسول بھی، یعنی جس کا رسول برحق ہونا بالکل واضح ہے۔
Ayah 43:30ولما جآء ھم الحق قالوا ھذا سحر…: جب ان کے پاس حق یعنی قرآن آیا تو کہنے لگے : یہ جادو ہے اور ہم اسے انہیں مانتے۔ قرآن مجید کی دلوں پر زبردست تاثیر کا جب وہ کوئی توڑ نہ کرسکے، جس کی وجہ سے اس پر ایمان لانے والا اپنے رشتہ داروں کو تو چھوڑ سکتا تھا مگر ایمان سے کبھی پیچھے نہ ہٹتا تھا اور نہ ہی وہ اس پر ایمان لانے والوں کو روک سکے، تو بجائے اس کے کہ اس پر ایمان لے آتے اسے جادو کہہ کر جھٹلا دیا کہ یہ سب اثر جادو کا ہے۔ حالانکہ ظالم جانتے تھے کہ کہاں جادو جیسی پلید چیز اور جادوگروں جیسے خبیث لوگ اور کہاں اللہ کا پاکیزہ کلام اور رسول اللہ ﷺ جیسا پاکیزہ اور بلند اخلاق والا شخص۔ محض عناد اور ضد کی وجہ سے انہوں نے یہ بات کہی۔
Ayah 43:31وقالوا لو لا نزل ھذا القرآن…: پچھلی ایٓ میں ان کے قرآن پر طعن کا ذکر تھا تو اس آیت میں قرآن لانے والے پر اعتراض کا ذکر ہے۔ کفار پہلے تو کسی بشر کا رسول ہونا ہی ماننے کے لئے تیار نہ تھے، ان کا مطالبہ تھا کہ رسول فرشتہ ہونا چاہیے۔ جب ناقابل تردید دلائل سے انھیں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام رسول بشر ہی بھیجے ہیں، تمہارے جد امجد ابراہیم و اسماعیل ؓ اور دوسرے پیغمبر، مثلاً موسیٰ ؑ سب بشر ہی تھے، تو فرشتہ رسول کا مطالبہ چھوڑ کر یہ مطالبہ داغ دیا کہ یہ قرآن دو بستیوں میں سے کسی عظیم آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ دو بستیوں سے مراد مکہ اور طائف ہیں ، کیونکہ ان کی مرکزی بستیاں یہ دو ہی تھیں۔ ”عظیم“ سے مراد دنیاوی مال و دولت اور جاہ مرتبہ کے لحاظ سے عظیم ہے۔ مفسرین مکہ کے ان عظیم آدمیوں میں سے ولید بن مغیرہ یا عتبہ بن ربیعہ کا اور طائف کے عظماء میں سے عروہ بن مسعود، حبیب بن عمر یا کنانہ بن عبد یالیل یا اس قبیل کے دوسرے لوگوں کا ذکر کرتے ہیں۔ کفار کے خیال میں مال کی کثرت اور قوم کے سردار ہونے کی وجہ سے یہ لوگ نبوت کے حق دار تھے۔ محمد ﷺ مال و جاہ کی کمی کی وجہ سے اس کے اہل نہیں تھے، کیونکہ آپ کے پاس دولت کی کثرت تھی نہ کسی قبیلے کی سرداری۔ یہ کفار کی جہالت اور سخت نادانی تھی کہ انہوں نے نبوت کے منصب کے لئے مال و جاہ کو شرط قرار دیا۔
Ayah 43:32(1) اھم یقسمون رحمت ربک : یہا ن کے اعترضا کا جواب ہے۔”رحمت“ کا لفظ اگرچہ عام ہے، جس میں ہر رحمت شامل ہے، مگر یہاں اس سے مراد نبوت و رسالت ہے، کیونکہ ان کا اعترضا اسی پر تھا۔”رحمت ربک“ (تیرے رب کی رحمت) کے الفاظ میں رسول اللہ ﷺ کو مخطاب کرنے میں آپ ﷺ کی شان کی بلندی کا اظہار ہو رہا ہے۔ یعنی کیا تیرے رب کی رحمت نبوت و رسالت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے کہ جسے چاہیں دیں اور جسے چاہیں نہ دیں ؟ نہیں، یہ اختیار اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی جانتا ہے کہ یہ رحمت کسے عطا کرنی ہے۔ یہ جاہل اپنی حیثیت کو بھول کر اس قدر دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں کہا ن کا ہر شخص چاہتا ہے کہ اللہ کی کتاب اسی کو دی جائے، فرمایا :(بل یرید کل امری منھم ان یونی صحفاً منشرۃ) (المدثر : 52)”بلکہ ان میں سے ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دیئے جائیں۔“ حتیٰ کہ انہوں نے ایمان لانے کی شرط ہی نبوت دیا جانا ٹھہرائی، فرمایا :(واذا جآء تھم ایۃ قالوا لن لومن حتی نونی مثل ما اوتی رسل اللہ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ سیصیب الذین اجرموا صغار عند اللہ و عذاب شدیداً بما کانوا یمکرون) (الانعام : 123)”اور جب ان کی اس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا۔ اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔ عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے جرم کیے، اللہ کے ہاں بڑی ذلت پہنچے گی اور بہت سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ فریب کیا کرتے تھے۔“
خلاصہ یہ کہ تیرے رب کی رحمت کی تقسیم اس کے پاس ہے اور وہی جانتا ہے کہ کون اس کے قابل ہے۔ یہ کافر دنیا کے مال و جاہ کی وجہ سے ان لوگوں کو رسالت کے قابل سمجھ رہے ہیں جو اللہ کے ہاں ایک تنکے کا وزن نہیں رکھتے اور مال نہ ہونے کی وجہ سے اس شخص کو نبوت کے لئے نا الہ قرار دے رہے ہیں جو سب سے زیادہ پاکیزہ قلب و نفس والا، خاندانی شرافت میں سب سے بلند اور انسانی خوبیوں میں سب سے ممتاز ہے۔
(2) نحن قسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا : یعنی نبوت و رسالت تو بہت ہی بلند چیز ہے، ہم نے تو دنیا میں ان کی روزی کی تقسیم کا اختیار بھی ان کو یا کسی دوسرے کو نہیں دیا، بلکہ اسے خود تقسیم کیا ہے، حالانکہ وہ ہمارے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں، تو قرآن نازل کرنے کا اختیار انھیں کیسے دے سکتے ہیں ! ؟
(2) ورفعنا بعضہم فوق بعض درجت : اس مختصر سے جملے میں اللہ تعالیٰ نے کئی حقیقتیں بیان فرما دی ہیں۔ پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے صلاحیتوں اور روزیوں کی تقسیم میں برابری نہیں رکھی، بلکہ ان میں دجات رکھے ہیں، کسی کو غنی بنادیا کسی کو فقیر، کوئی ذہین ہے کوئی کند ذہن، کوئی بیوقوف ہے کوئی عقل مند اور کوئی اس سے بڑھ کر عقل مند ، کوئی طاقتور ہے کوئی کمزور، کوئی خادم ہے کوئی مخدوم، کوئی مالک ہے کوئی مملوک، کوئی اندھا ہے کوئی بیا ن، کوئی باعزت ہے کوئی ذلیل اور کوئی حاکم کوئی محکوم۔ کمیونسٹوں کا نعرہ کہ ہم تمام لوگوں میں دلوت کی مساوات پیدا کریں گے، سخت دھوکا تھا۔ یہ اللہ کے فیصلے کے خلاف ہے، نہ ایسا ہوسکتا ہے نہ کمیونسٹوں سے ہوسکا۔ رزق اور اللہ تعالیٰ کی دوسری عنایتوں کی عطا میں یکسانیت کے بجائے درجات کی کمی بیشی ناقابل تردید حقیقت ہے۔ دنیا میں اس کا مقصد آزمائش ہے۔ (دیکھیے انعام : 165) درجات کا یہ فرق آخرت میں اس یس بھی زیادہ ہوگا۔ دیکھیے سورة نحل (71) ، بنی اسرائیل (21) اور سورة روم (28)۔
دوسری حقیقت یہ کہ وہ کمی بیشی اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے، کسی دوسرے کا اس میں کوئی دخل نہیں اور اللہ تعالیٰ نے جسے جس درجے میں رکھا ہے اس پر قناعت کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ کسی کو خوبصورت بنایا بدصورت ، قوی بنایا یا ضعیف عقل مند بنایا بےوقوف، آنکھیں عطا کردیں یا نابیان کردیا، ہر ایک کو اسی طرح رہنا پڑے گا جس طرح خلاق عالم نے اس کے لئے طے کردیا ہے۔
(4) لیتخذ بعضھم بعضاً سخریاً :(اتخذ فلان فلانا سخریاً“ یعنی فلاں نے فلاں کو اپنا تابع بنالیا، یا اپنے کام یا خدمت میں لگا لیا۔ یہ تیسری حقیقت ہے کسی مال دار کا مال یا دنیوی عزہ جاہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر خوش ہے اور نہ ہی کسی فقیر کا فقر اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے، بلکہ درجات کا یہ تفاوت نص
نے اس لئے کھا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کی ضرورت رہے اور وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو دنیا کا نظام معطل ہوجائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے ایک شخص کو مال نہیں دیا، مگر اسے کسی کام کی صلاحیت اور قوت بخش دی، دوسرے کو کمزور بنادیا جو خود نہ کام کرسکتا ہے نہ محنت، مگر اسے دولت بخش دی جس کے ساتھ وہ ان لوگوں کو مزدور رکھ سکتا ہے جن کے پاس مال نہیں۔ اسی طرح کسی کے پاس ایک ہنر ہے دوسرے کے پاس دوسرا، دونوں ایک دوسرے سے کام لیتے ہیں۔ ان میں ضروری نہیں کہ کام لینے والا متر بے میں بھی اس سے اونچا ہو جس سے کام لے رہا ہے۔ کتنے ہی ڈاکٹر، انجینئر اور دوسرے کمالات کے مالک ان لوگوں کے پاس ملازمت کر رہے ہیں جو مطلق جاہل ہیں۔ یہاں کوئی بڑے سے بڑا ایسا نہیں جو چھوٹے سے چھوٹے کا محتاج نہ ہو، حتی کہ بادشاہ بھی حجام، باورچی اور دوسرے خدمت گاروں کا محتاج ہے اور خدمت گار اس کے محتاج ہیں، اسی سے نظام عالم چل رہا ہے۔ اگر سب برابر ہوجائیں تو وہ ایک قدم نہیں چل سکتا۔
(5) ورحمت ربک خیر مما یجمعون :”رحمت ربک“ کے متعلق دو قول ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد نبوت ہے، یعنی نبوت و رسالت کا شرف تو دنیوی مال و جاہ اور ساز و سامان سے کہیں اعلیٰ ہے۔ جب دنیا کی دلوت اس نے ان کی تقسیم پر نہیں رکھی تو رسالت ان کی تجویز پر کیسے دے گا ! ؟ دوسرا یہ کہ اس سے مراد آخرت کی وہ نعمتیں ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لئے تیار کر رکھی ہیں، یعنی یہ لوگ دنیا کے جس فانی مال و متاع اور عزہ جاہ کو سمیٹنے کی تگ و دو میں دن رتا لگے ہوئے ہیں، ت یرے رب کی رحمت یعنی آخرت کی دائمی نعمتیں ان سے بدرجہا بہتر ہیں۔
Ayahs 43:33–35(1) ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ…:”سفاً“”سقف“ کی جمع ہے، چھتیں۔ ”معارج“ (سیڑھیاں)”معرج“ یا ”معراج“ کی جمع ہے، جیسے ”مقاتح“ اور مفاتیح“ ”مفتاح“ کی جمع ہیں۔ ”سرراً“ ”سریر“ کی جمع ہے، چار پائیاں ، تخت۔ ”ازخرفاً“ کا معنی سونا ہے، جیسا کہ کفار نے نبی ﷺ سے کہا تھا :(اویکون لک بیت من اخرف) (بنی اسرائیل : 93)”یا تیرے لئے سونے ایک گھر ہو۔“ اس کا معنی زینت و آرائش بھی ہے، جیسا کہ فرمایا :(حتی اذا اخذت الارض زخرفھا وازینت) (یونس : 23)”یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی آرائش حاصل کرلی اور خوب مزین ہوگئی۔“”زخرفاً“ منصوب ہونے کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ یہ اصل میں ”سقفاً من فضۃ ومن زخرف“ ہے، حرف جار حذف ہونے کی وجہ سے منصبو ہوگیا ، یعنی ”ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سونے کی۔“ دوسری وجہ یہ کہ یہ ”لجعلنا“ کے مفعول ”سقفاً“ پر عطف ہے، یعنی ”لجعلنا لبیوتھم سقفا من فضۃ و لجعلنا لھم زخرفاً“ کہ ”ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور ہم ان کے لئے سونا مہیا کردیتے۔“ ”اوان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا“ میں ”ان“ نافیہ ہے اور ”لما“ بمعنی ’ الا ‘ ہے جیسے فرمایا :(ان کل نفس لما علیھا حافظ) (الطارق : و)”نہیں کوئی جان مگر اس کے اوپر ایک حفاظت کرنے والا ہے۔“
(2) آیات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب ”ورحمت ربک خیر مما یجمعون“ (اور تیرے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں) میں آخرت کی عظمت و شان اور دنیا کی حقارت بیان فرمائی تو ساتھ ہی بیان فرمایا کہ اس سے نزدیک دنیا و بالکل ہی حقیر اور بےقدر و قیمت ہے، اس کے ہاں کوئی قیمت ہے تو صرف آخرت کی، اس لئے اس نے آخرت کی نعمتیں صرف مسلمانوں کے لئے خاص کر رکھی ہیں، کفار کا ان میں کوئی حصہ نہیں۔ دنیا کی نعمتوں میں اس نے مومن و کافر سب کو شریک رکھا ہے اور دونوں کو ان نعمتوں میں شریک رکھنے کی حکمت بیان فرمائی کہ اگر ہمیں یہ بات ناپسند نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی امت یعنی سبھی کافر ہوجائیں گے تو ہم دنیا کی زیب و زینت کی تمام اشیاء کفار کو دے دیتے، لیکن چونکہ ہمیں معلوم ہے کہ لوگوں کے دلوں میں دنیوی زیب و زینت کی شدید رغبت اور محت موجود ہے، اگر ہم نے یہ سبھی کچھ کفار کو دے دیا تو دنیا کی رغبت کے نتیجے میں سبھی لوگ کافر ہوجائیں گے۔ (جب کہ یہ بات ہماری رحمت کو منظور نہیں) اس لئے ہم نے کافر و مومن دونوں میں غنی بھی رکھے ہیں، فقر بھی اور دنیا کی زندگی کے ساز و سامان میں دونوں کو شریک رکھا ہے۔ آیت کے آخری جملوں (وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا و الاخرۃ عند ربک للمتقین) (اور یہ سب کچھ دنیا کی زندگی کے سامان کے سوا کچھ نہیں اور آخرت تیرے رب کے ہاں متقی لوگوں کے لئے ہے) میں بیان فرمایا کہ آخرت صرف ایمان والوں کے لئے ہے۔ یہی مضمون سورة اعراف (32) میں بیان ہوا ہے۔ سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (لو کانت الدنیا تعدل عند اللہ جناح یعوضۃ ماسقی کافرا منھا شربۃ مائ) (ترمذی، الزھد، باب ماجدء فی ھوان الدنیا علی اللہ مرد جل : 2320)”اگر دنیا اللہ کے ہاں مچھر کے ایک پر کے برابر ہوتی تو وہ اس میں سے کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ پینے کو نہ دیتا۔“
Ayah 43:36(1) ومن یعش عن ذکر الرحمٰن : زمخشری نے فرمایا،”غشی یعشی“ (ع) جب نظر میں خرابی آجائے اور ”غشا یعشو“ (ن) جب اس شخص کی طرف دیکھے جس کی نظر خراب ہے، حالانکہ اس میں کوئی خرابی نہ ہو۔ دونوں میں ہے، اس کی طرف سے آئی ہوئی نصیحت بھی اور یہ قرآن بھی۔ دنیا کی زیب و زینت میں ہمہ تن مشغول ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اللہ کے ذکر سے غافل ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے فرشتے اس سے نفرت کرتے ہیں اور شیطان اس سے چمٹ جاتے ہیں، جو اسے ہر برائی میں مبتلا کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(یایھا الذین امنوا لاتلھکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ ومن یفعل ذلک فاؤلئک ھم الخسرون) (المنافقون : 9)”اے لوگو جو ایمان لائے ہوچ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔“ اور جو شخص خواہش نفس پر قابو رکھ کر دنیا کے فتنوں سے بچے اور اللہ کے ذکر پر دوام کرے تو شیطان اس سے دور ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ فرشتہ مقرر کردیتے ہیں جو اس کی مدد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر سے جان بوجھ کر غفلت کے لئے اندھا بننے کا لفظ استعمال فرمایا اور لفظ ”الرحمٰن“ اس لئے ذکر فرمایا کہ انسان کے لائق نہیں کہ اس بےحد رحم والے کے ذکر سے غفلت کرے۔
(2) نقیض لہ شیطناً فھولہ قرین : اس کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة حم السجدہ (25)۔ ”شیطناً“ نکرہ ہے، کوئی نہ کوئی شیطان، وہ انسانوں میں سے ہو یا ابلیس کی اولاد میں سے۔ شیطان مقرر کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی، حالانکہ یہ انسان کے اللہ کے ذکر سے غافل ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے، کیونکہ ہر کام کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور تمام امور اسی کی طرف لوٹتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(والی اللہ ترجع الامور) (البقرۃ : 210)”اور سب کام اللہ ہی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔“
Ayah 43:37(1) وانھم لیصدونھم عن السبیل :”انھم“ میں ضمیر شیاطین کی طرف اور ”لیصدونھم“ میں ضمیر ”ھم“ رحمان کے ذکر سے غفلت کرنے والوں کی طرف جا رہی ہے، حالانکہ پچھلی آیت میں دونوں کا ذکر واحد کی ضمیر کے ساتھ آیا ہے، لیکن وہاں بھی لفظ ”من“ واحد ہونے کے باوجود معنی کے لحاظ سے جمع ہے۔ یعنی اس کی یاد سے جان بوجھ کر غفلت کرنے والوں کو کوئی نہ کوئی شیطانی چمٹ جاتے ہیں، خواہ انسانی شیطان ہوں یا ابلیس کی اولاد، وہ ان کے لئے گناہوں کو خوبصورت کر کے دکھاتے ہیں، ان کی نفسانی خواہشات کو ابھارتے اور انہیں اللہ کی نافرمانی میں مشغول کردیتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں صراط مستقیم سے بالکل روک دیتے ہیں اور جہنم میں پہنچا کر چھوڑتے ہیں۔
(2) ویحسبون انھم مھتدون : یعنی راہ راست سے رک جانے والے وہ غافل سراسر گمراہ ہونے کے باوجود اپنے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے گمراہ کرنے والے شیاطین کے متعلق سمجھتے ہیں کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں، اس لئے آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے چلتے چلے جاتے ہیں۔