43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 43:38

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا اے کاش ! میرے درمیان اور تیرے درمیان دو مشرقوں کا فاصلہ ہوتا، پس وہ برا ساتھی ہے۔

(1) حتی اذا آء نا قال …دنیا میں ہر وقت شیطان کے ساتھ رہنے کے بعد قیامت کے دن اللہ کے ذکر سے اندھا بننے والا انسان جب اپنے قرین کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوگا تو حسرت و فاسوس کے ساتھ اس سے کہے گا، کاش ! میرے اور تیرے درمیان دو مشرقوں کی دوری ہوتی۔ دو مشرقوں سے مراد مشرق و مغرب ہیں۔ دونوں کو ”مشرقین“ کہہ دیا ہے ، جیسے ابوبکر و عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کو ”عمرین“ کہہ دیتے ہیں اور کھجور اور پانی کو ”اسودین“ کہہ دیتے ہیں۔ دو مشرق بھی مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ سردیوں میں سورج طلوع ہونے کی جگہ اور گرمیوں میں طلوع ہونے کی جگہ کے درمیان بہت فاصلہ ہے، جیسا کہ فرمایا (رب المشرقین و رب المغربین) (الرحمان :18)”(وہ) دونوں مشرقوں کا رب ہے اور دونوں مغربوں کا رب۔“ (2) فبئس القرین :”ای بئس القرین انت“ یعنی تو برا ساتھی ہے، جس نے دوست بن کر مجھے خراب و برباد کیا اور ہمیشہ کے عذاب میں پھنسا دیا۔ بعض مفسرین نے اسے اللہ تعالیٰ کا کلام قرار دے کر معانی کیا ہے :’ فبئس القرین ھو“ یعنی پس وہ برا ساتھی ہے۔
Ayah 43:39

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور آج یہ بات تمہیں ہرگز نفع نہ دے گی، جب کہ تم نے ظلم کیا کہ بیشک تم (سب) عذاب میں شریک ہو۔

(ولن ینفعکم الیوم…: دنیا میں اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں گرفتار ہو تو اسے اس بات سے کچھ تسلی ہوتی ہے کہ وہ اکیلا نہیں بلکہ اس کے ساتھ اور لوگ بھی اس مصیبت میں گرفتار ہیں۔ اس کے علاوہ دوستوں کی صحت کے احساس سے بھی تکلیف میں کچھ کمی ہوجاتی ہے، کیونکہ وہ مصیبت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے اور حوصلہ دلاتے ہیں۔ عام مقولہ ہے : ”ہمہ یاراں دوزخ ، ہمہ یاراں بہشت“ کہ دوزخ میں گئے تو سب دوست اکٹھے جائیں گے اور بہشت میں گئے تو بھی اکٹھے جائیں گے۔ قرین کی مناسبت سے فرمایا کہ اگر تم اس بات سے کچھ تسلی حاصل کرنا چاہو کہ میں عذاب میں ہوں تو میرا قرین بھی تو عذاب میں ہے تو تمہارا یہ خیال غلط ہے، جب تم دنیا میں ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں اس بات سے ہرگز کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہ تم عذاب میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو، کیونکہ وہ عذاب ہی اتنا سخت ہے کہ کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہوگا، بلکہ محروم اپنے تمام خویش، و اقارب فدیے میں دے کر اس عذاب سے نجات پانے کی خواہش کرے گا۔ (دیکھیے معارج : 11 تا 14) شاہ عبدالقدر لکھتے ہیں :”یعنی کافر کہیں گے خوب ہوا کہ انہوں نے ہمیں عذاب میں ڈلوایا، یہ بھی نہ بچے، لیکن اس کا کیا فائدہ اگر دوسرا پکڑا گیا۔“ (موضح)۔
Ayah 43:40

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

پھر کیا تو بہروں کو سنائے گا، یا اندھوں کو راہ دکھائے گا اور ان کو جو صاف گمراہی میں پڑے ہیں۔

افانت تسبح الصم …رحمن کے ذکر سے دانستہ آنکھیں بند کرنے کی سزا شیطان کو ایسے لوگوں کا ساتھی بنانے کی صورت میں دی جاتی ہے جو انھیں راہ حق سے اس طرح روکتےیں کہ وہ حق سننے سے بہرے اور اس کی نشانیاں دیکھنے سے اندھے ہوجاتے ہیں۔ اس آیت سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان کافروں کے ایمان نہ لانے پر آپ غمزدہ نہ ہوں، کیونکہ ایسے لوگوں کو راست پر لے آنا آپس کے بس میں نہیں، آپ ان تک اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیں اور ہدایت کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔
Ayahs 43:41–42

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

پس اگر کبھی ہم تجھے لے ہی جائیں تو بیشک ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں۔

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا ہم واقعی تجھے وہ (عذاب) دکھادیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تو بیشک ہم ان پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔

فاما نذھبن بک فانا منھم…: یہ بھی رسول اللہ ﷺ کو ایک اور طرح سے تسلی دلائی ہے کہ یہ کفار جو آپ کی موت کے منتظر ہیں اور ہر وقت آپ کو کسی نہ کسی طرح قتل کرنے کی کوشش اور مشورہ کرتے رہتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ آپ کی موت سے ان کی مشکل ختم ہوجائے گی اور سب کچھ ان کے حق میں ہوجائے گا۔ فرمایا ان کا یہ خیال غلط ہے، کیونکہ اگر ہم آپ کو اپنے پاس لے جائیں تو پھر بھی یہ لوگ سزا سے بچ نہیں سکیں گے، بلکہ ہم ہر حال میں ان سے انتقام لینے والے ہیں، یا آپ کی زندگی میں آپ کو اس سزا کا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تو یہ بھی کچھ بعید نہیں، کیونکہ ہم ان پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، اللہ تعالیٰ نے بدر اور دوسرے معرکوں میں کفار کو ملنے والی سزا آپ ﷺ کو آنکھوں سے دکھا دی۔ مزید دیکھیے سورة مومن (77)
Ayah 43:43

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

پس تو اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھ جو تیری طرف وحی کیا گیا ہے، یقینا تو سیدھے راستے پر ہے۔

فاستمسک بالذی اوحی الیک …: یعنی آپ کو ان کافروں کی مخالفت سے دل برداشت نہیں ہونا چاہیے، آپ کے لئے یہ اطمینان کافی ہے کہ آپ راہ حق پر ہیں، اس لئے نتائج سے بےفکر ہو کر دعوت کا کام جاری رکھیں اور خود اس پر پوری طرح کار بند ہیں۔
Ayah 43:44

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور بلاشبہ وہ یقینا تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ایک نصیحت ہے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔

(1) وانہ لذکر لک و لقومک : ذکر کا معنی نصیحت و یاد دہانی بھی ہے اور عز و شرف اور شہرت و ناموری بھی، یہاں دونوں مراد ہیں۔ یعنی یہ قرآن آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے نصیحت اور یاد دہانی ہے اور آپ کے لئے اور آپ کی قوم قریش اور عرب کے لئے عز و شرف کا باعث بھی ہے۔ یہ عربی زبان میں نازل ہوا اور اس کے اولین مخاطب اور سب سے پہلے عمل کرنے والے قریش اور عرب ہیں۔ جو عجمی قومیں اس پر ایمان لائیں گی انا کو قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے عربی زبان سیکھنا پڑے گی اور عربوں کا شاگرد بننا پڑے گا۔ قریش اور عربوں کے لئے یہ عزو شرف کیا کم ہے کہ بعد میں آنے والے تمام لوگ ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔ زمین کے مشرق و مغرب ان کے جہاد کے ساتھ فتح اور حلقہ بگوش اسلام ہونے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی خلافت ان میں رکھی جب تک انہوں نے دین کو قائم رکھا، کیونکہ قرآن شرف کا باعث اسی کے لئے ہے جو اس پر عمل کرے، اس کے لئے محض عرب یا قریشی ہونا کافی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(والقرآن حجۃ لک او علیک) (مسلم العطھارۃ ، باب فضل الوضو : 223، عن ابی مالک الاشعری ؓ ”قرآن تیرے حق میں حجت ہے یا تیرے خلاف حجت ہے۔“ آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ نیک نامی کی خواہش اچھی چیز ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ اس کا ذکر اپنے نبی محمد ﷺ پر احسان کے طور پر نہ فرماتے اور ابراہیم ؑ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا نہ کرتے :(واجعل لی لسان صدق فی الاخرین) (الشعرائ : 83)”اور پیچھے آنے والوں میں میرے لئے سچی ناموری رکھ۔“ (2) وسوف تسئلون : یعنی قیامت کے دن تم سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے اپنے عز و شرف کا باعث بننے والی نصیحت کی اس کتاب کی کیا قدر کی، اس پر کہاں تک عمل کیا اور اسے تمام اقوام عالم تک پہنچانے کی ذمہ داری کہاں تک ادا کی ؟
Ayah 43:45

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور ان سے پوچھ جنھیں ہم نے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا، کیا ہم نے رحمان کے سوا کوئی معبود بنائے ہیں، جن کی عبادت کی جائے ؟

(1) وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا…: یہاں ایک سوال ہے کہ پہلے رسول تو فوت ہوچکے، ان سے کس طرح پوچھا جاسکتا ہے ؟ جو اب اس کا یہ ہے کہ رسولوں سے پوچھنے سے مراد ان کی کتابوں سے معلوم کرنا ہے، جیسا کہ اللہ کے فرمان :(فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول) (النسائ : 59) (پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لٹواؤ) کا مطلب اب یہ نہیں کہ اگر تمہارا کسی معاملے میں تنازع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کے پاس لے جاؤ، بلکہ یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف رجوع کرو۔ اسی طرح اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تمام رسولوں کی تعلیمات کا مطالعہ کر کے دیکھ لو، کیا کسی میں یہ بات ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحمان کے سوا بھی کوئی ہستیاں مقرر کی ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے اور کیا کسی بھی پیغمبر نے شرک کی اجازت دی ہے ؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہے۔ شرک کے حق میں نہ کوئی عقل دلیل موجود ہے نقلی۔ (دیکھیے احقاف : 4) آیت سے مقصود قریش کو باور کروانا ہے کہ تمام انبیاء اللہ واحد کی عبادت کے داعی تھے، شرک کسی بھی شریعت میں جائز نہیں رہا، جیسا کہ فرمایا :(وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) (الانبیائ : 25)”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ اور جیسا کہ فرمایا :(ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولاً ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت) (النحل : 36)”اور بلاشبہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔“ (2) بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جب آپ کی انبیاء سے ملاقات ہو، جیسے معراج کی رات ہوئی تو آپ ان سے یہ سوال کریں، مگر قرآن یا حدیث میں کہیں ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نے شب معراج یا کسی اور موقع پر کسی پیغمبر سے یہ سوال کیا ہو۔ اگر آیت کا یہ مطلب ہوتا تو آپ ﷺ ان سے ضرور سوال کرتے۔ کسی ضعیف روایت میں اگر آپ ﷺ کے پیغمبروں سے اس سوال کا ذکر مل بھی جائے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
Ayah 43:46

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو اس نے کہا بیشک میں تمام جہانوں کے رب کا بھیجا ہوا ہوں۔

(1) ولقد ارسلنا موسیٰ با یتنا الی فرعون وملائہ : یہاں موسیٰ ؑ کے ذکر کی مناسبت کئی طرح سے ہے، جن میں سے ایک یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے سے پہلے رسولوں سے سوال کا حکم دیا کہ کیا اس نے اپنے سوا کوئی معبود مقرر کئے ہیں جن کی عبادت کی جائے، تو جن رسولوں کی کتابوں یا پیروکاروں سے یہ معلومات حاصل کی جاسکتی تھیں ان میں سب سے پہلے موسیٰ ؑ تھے، کیونکہ ان کی کتاب موجود تھی اور ان کی امت کے لوگ بھی موجود تھے۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرنے والے قوم کے سردار تھے، جو حق واضح ہونے کے باوجود اپنے مال و جاہ کی وجہ سے آپ کو حقیر کہہ کر آپ ﷺ کو رسالت کا اہل ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دلانے کے لئے یہ واقعہ ذکر فرمایا کہ یہی معاملہ موسیٰ ؑ کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کا تھا۔ فرعون نے بھی معجزات دیکھنے اور موسیٰ ؑ کی نبوت دل سے ماننے کے باوجود ملک مصر کا مالک ہونے پر فخر کیا اور موسیٰ ؑ کو ذلیل و حقیر قرار دے کر ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں وہ اللہ کے غضب کا نشانہ بنا اور اپنے لشکروں سمیت سمندر میں غرق کردیا گیا۔ مقصد قریش اور عربوں کو فرعون جیسے برے انجام سے ڈرانا ہے۔ (2) بایتنآ“ میں آیات سے مراد عصا اور ید بیضا ہیں، کیونکہ سب سے پہلے موسیٰ ؑ فرعون کے پاس گئے تو ان کے پاس یہی نشانیاں تھیں۔ (3) فقال الی رسول رب العلمین : موسیٰ ؑ نے وہ نشانیاں پیش کر کے فرعون کو رب ہونے کے دعوے سے منع کیا، اسے تمام پیغمبروں کی طرح توحید کی دعوت دی اور اکیلے رب العالمین پر ایمان لانے کا حکم دیا۔
Ayah 43:47

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

تو جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آیا، اچانک وہ ان کے بارے میں ہنس رہے تھے۔

(فلما جآء ھم بایتنآ اذا ھم منھا یضحکون :”اذا“ اچانک کے معنی میں ہے۔ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جو خود سمجھ میں آرہی ہے کہ جب موسیٰ ؑ نے فرعون اور اس کے سرداروں کو رب العالمین کی توحید اور اپنی رسلات پر ایمان لانے کی دعوت دی تو انہوں نے کوئی نشانی پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ جب انہوں نے ان کے سامنے ہماری عطا کردہ نشانیاں عصا اور ید بیضا پیش کیں تو بجائے اس کے کہ وہ ان پر غور و فکر کرتے اور ایمان لے آتے، فوراً ہی ان پر ہنسنے اور ان کا مذاق اڑانے لگے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے، کیونکہ قریش کے سردار بھی آپ کی پیش کردہ نشانیاں دیکھ کر مذاق اڑاتے تھے، جیسا کہ فرمایا :(بل عجبت ویسخرون واذا ذکروا لایذکرون واذا راوایہ یستخرون) (الصافات : 12 تا 13)”بلکہ تو نے تعجب کیا اور وہ مذاق اڑاتے ہیں اور جب انھیں نصیحت کی جائے وہ قبول نہیں کرتے اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو خوب مذاق اڑاتے ہیں۔“
Ayah 43:48

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور ہم انھیں کوئی نشانی نہیں دکھلاتے تھے مگر وہ اپنے جیسی (پہلی نشانی) سے بڑی ہوتی اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، تاکہ وہ لوٹ آئیں۔

وما نریھم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا…: فرعون اور اس کے سرداروں نے جب موسیٰ ؑ کو جادوگر کہا اور ان کے معجزوں کو جادو قرار دے کر اپنے تمام ماہر جادو گر جمع کر کے ان کا مقبالہ کیا اور صاف شکست کے باوجود اپنے کفر پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر قحط مسلط کردیا۔ اس پر انہوں نے موسیٰ ؑ سے عذاب ہٹانے کی دعا کی درخواست کی اور قحط دور ہونے پر ایمان لانے کا اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا وعدہ کای۔ جب قحط دور ہوا تو وعدے سے مکر گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر یکے بعد دیگرے کئی عذاب بھیجے، جن میں سے ہر ایک پہلے سے بڑی نشانی تھا اور ان عذابوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ کفر و تکبر سے پلٹ آئیں اور ایمان قبول کرلیں۔ تفصیل اس کی سورة اعراف (133) میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 43:49

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور انھوں نے کہا اے جادوگر ! ہمارے لیے اپنے رب سے اس کے ذریعے دعا کر جو اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے، بیشک ہم ضرور ہی سیدھی راہ پر آنے والے ہیں۔

(1) وقالوا یا یہ السحر ادع لنا ربک …: یہاں یہ بات اختصار کے ساتھ ذکر ہوئی ہے، سورة اعراف میں تفصیل کے ساتھ ہے، فرمایا (ولما وقع علیھم الرجز قالوا یموسی ادع لنا ربک بما عھد عندک لئن کشفت عذا الرجز لنومنن لک ولنرسلن معک بنی اسرآئیل (الاعراف : 133)”اور جب ان پر عذاب آتا تو کہتے اے موسیٰ ! اپنے رب سے ہمارے لئے اس عہد کے واسطے سے دعا کر جو اس نے تیرے ہاں دے رکھا ہے، یقینا اگر تو ہم سے یہ عذاب دور کر دے تو ہم ضرور ہی تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو ضروری بھیج دیں گے۔“ (2) یہاں ایک سوال ہے کہ اتنی مشکل گھڑی میں جب وہ عذاب میں گرفتار تھے اور موسیٰ ؑ سے دعا کی درخواست کر رہے تھے اس وقت بھی وہ موسیٰ ؑ کو ”یا یہ السحر“ (اے جادوگر !) کے ساتھ مخاطب کر رہے ہیں، حالانکہ اس وقت تو انہیں کسی اچھے لفظ سے مخاطب کرنا چاہیے تھا۔ پھر موسیٰ ؑ پر صریح بہتان سن کر بھی انہیں کچھ نہیں کہتے، بلکہ ان کے لئے دعا کر کے انھیں عذاب سے نجات دلواتے ہیں۔ مفسرین نے اس کے کئی جواب دیئے ہیں، یہاں ان میں سے دو جواب ذکر کئے جاتے ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا :”ساحر سے مراد عالم ہے، یہی ابن جریر نے فرمایا ہے۔ ان کے زمانے کے علماء جادوگر ہی تھے اور ان کے ہاں جادو بری چیز نہ تھا، اس لئے انہوں نے یہ الفاظ تنقیص کے لئے نہیں کہے، کیونکہ ان کی مجبوری کی حلات اس سے مناسبت نہیں رکھتی، بلکہا ن کے گمان کے مطابق یہ تعظیم کا لفظ تھا۔“ (ابن کثیر) دوسرا جواب یہ ہے کہ انہوں نے خطاب ”یا موسیٰ“ کے الفاظ کے ساتھ ہی کیا تھا، جیسا کہ سورة اعراف کی آیت (134) میں ہے، مگر وہ دل سے انھیں جادوگر سمجھتے تھے اور وہ جادو اور جادوگروں کو مذموم ہی سمجھتے تھے، جیسا کہ اس سے پہلے فرعون اور اس کے درباریوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا :(فقالوا سحر کذاب) (المومن : 27)”تو انہوں نے کہا جادوگر ہے۔ بہت جھوٹا ہے۔“ اب ان کا حال دیکھیے کہ وہی شخص جسے وہ جادوگر سمجھتے تھے نہایت عاجزی کے ساتھ اسی سے دعا کی درخواست کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست کا ذکر فرماتے ہوئے ان کے دل کی حالت کا ذکر اپنے الفاظ میں فرمایا ہے۔ مقصود ان پر طعن ہے کہ جب جادوگر سمجھتے ہو اور ہمیشہ اسے اسی لفظ سے یاد کرتے ہو تو اس سے دعا کی درخواست کیسی ؟ اور اگر مستحاب الدعاء کہتے ہو تو جادوگر کیوں سمجھتے ہو ؟ یہ ایسے ہی ہے کہ قریش جو رسول اللہ ﷺ کو جادو گر کہتے تھے اور آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے تھے، مشکل وقت میں وہ رسول اللہ ﷺ سے دعا کی درخواست بھی کیا کرتے تھے، جیسا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے ان کا حال بیان کیا ہے، فرماتے ہیں :(وان قریشا ابطؤا عن الاسلام فدعا علیھم النبی ﷺ فقال الھھم اعنی علیھم بسبع کسبع یوسف، فاخذتھم سنۃ حتی ھلکوا فیھا، واکلوا المیتۃ والعظام و یری الرجل ما بین السماء والارض کھیئۃ الدخان، فجاء ہ ابوسفیان فقال یا محمدً ! جئت تامرنا بصلۃ الرحیم، و ان قومک قد ھلکوا فاد اللہ) (بخاری، التفسیر، سورة الروم :3883)”قریش نے اسلام قبول کرنے میں دیر کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان پر بد دعا کی :”اے اللہ ! ان کے خلاف یوسف (علیہ اسلام) کے قحط والے سات سالوں جیسے سات سالوں کے ساتھ میری مدد فرما۔“ تو انہیں قحط نے آلیا، یہاں تک کہ وہ اس میں برباد ہوگئے اور مردار اور ہڈیاں کھا گئے اور آدمی کو آسمان و زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا۔ تو آپ ﷺ کے پاس ابوسفیان آیا اور کہنے لگا : ”اے محمد ! آپ ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں اور حال یہ ہے کہ آپ کی قوم برباد ہوگئی ہے، اس لئے اللہ سے دعا کیجیے۔“ اس حدیث میں ہے کہ جب آپ ﷺ کی دعا سے قحط دور ہوا تو پھر منکر ہوگئے۔ مجھے یہ دوسرا جواب بہتر معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 43:50

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

پھر جب ہم ان سے عذاب ہٹالیتے، اچانک وہ عہد توڑ دیتے تھے۔

فلما کشفنا عنھم العذاب اذا ھم ینکثون :”اذا“ مفا جاتیہ ہے، جس کا معنی ”اچانک“ ہے، یعنی عذاب ہٹتے ہی فوراً عہد توڑ دیتے نہ سوچنے کی زحمت کرتے نہ عہد توڑنے میں انہیں کوئی حیا مانع ہوتی تھی۔
Ayah 43:51

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کی، اس نے کہا اے میری قوم ! کیا میرے پاس مصر کی بادشاہی نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے تحت نہیں چل رہیں ؟ تو کیا تم نہیں دیکھتے ؟

(1) ونادی فرعون فی قومہ : فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ ؑ کے معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے، جن سے انھیں ان کی نبوت کا یقین ہوگیا ، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے، بلکہ مقابلے میں جادو گروں کو لے آئے۔ اس میں منہ کی کھائی پھر بھی ایمان نہ لائے ، پھر بطور نشانی کتنے عذاب ان پر آئے جو اس وعدے کے ساتھ موسیٰ ؑ سے دعا کروانے پر دور ہوئے کہ ہم عذاب دور ہونے پر ایمان لے آئیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے ، مگر وہ کسی صورت موسیٰ ؑ کو رسول ماننے پر تیار نہ تھے۔ ادھر انھیں خطرہ تھا کہ عوام ان معجزات کے نتیجے میں ان کی طرف مائل ہوجائیں گے، اس لئے فرعون نے موسیٰ ؑ کے رسالت کے اہل نہ ہونے کے اپنے خیال میں کئی دلائل گھڑے اور ابلاغ کے جتنے وسائل ہوسکتے تھے ان کے ساتھ پوری قوم میں ان کی منادی کروائی ، جیسا کہ اس نے عصائے موسیٰ ؑ کے مقابلے کے لئے تمام شہروں میں آدمی بھیج کر جادو گر اکٹھے کئے تھے، فرمایا :”فارسل فرعون فی المدآئن خشرین) (الشعرائ : 53)”تو فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے بھیج دیئے۔“ (فی قومہ) کے الفاظ اس منادی کی وسعت پر دلالت کر رہے ہیں۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کو یہ قصہ سنانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت کو تسلیم نہ کرنے کے لئے کفار نے جو دلائل تصنیف کئے ہیں وہ سبھی اس سے پہلے فرعون بھی پیش کرچکا ہے۔ وہ دلائل نہ اسے عذاب سے بچا سکے اور نہ ان لوگوں کو کفرپر اصرار کی صورت میں بچا سکیں گے۔ (2) قال یقوم الیس لی ملک مصر و ھذہ الانھر تجزی من تختی : یعنی برتری اور ا فضیلت کا پیمانہ دنیاوی مال و دولت اور حکومت و اقتدار ہے، جو موسیٰ کے پاس نہیں میرے پاس ہے۔ کیا میں مصر کے اقتدار کا مالک نہیں ہوں ؟ دریائے نیل سے نکالی القرآن علی رجل من القریتین عظیم) (الزخرف : 31) کہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی عظیم آدمی پر اترنا چاہیے تھا۔ (3) افلا تبصرون : مصر کے لوگ جو موسیٰ ؑ کے کمالات اور معجزات دیکھ کر متاثر ہو رہے تھے، فرعون انھیں اپنی مادی اور دنیوی شان و شوکت کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ حقیقت میں یہ اس کی شکست خوردگی کی دلیل ہے، کیونکہ یہ سب کچھ تو وہ مدت سے دیکھتے چلے آرہے تھے۔
Ayah 43:52

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں، وہ جو حقیر ہے اور قریب نہیں کہ وہ بات واضح کرے۔

(1) ام انا خیر من ھذا الذی ھو مھین :”مھن یمھن مھانہ“ (ؐ) کے معنی ہیں ”خضر و ضعف“”مھین“ بروزن ”فعیل ‘ حقیر، ضعیف۔ ”ام“ سے پہلے ایک جملہ ہمزہ استفہام پر مشتمل ہوتا ہے، جو یہاں اس مفہوم کا ہوگا کہ ”کیا یہ شخص یعنی موسیٰ ؑ بہتر ہے یا میں بہتر ہوں…؟“”ام“”بل“ کے معنی میں بھی آتا ہے، اس صورت میں معنی یہ ہوگا۔”بلکہ میں بہتر ہوں…۔“ (2) فرعون موسیٰ ؑ کی تحقیر کے لئے زیادہ سے زیادہ جو الفاظ استعمال کرسکتا تھا اس نے وہ کئے۔ ان میں سے لفظ ”ھذا“ بھی حقارت کے اظہار کے لئے ہے، یعنی ”اس شخص سے جو حقیر ہے۔“ وہ موسیٰ ؑ کو اسلئے حقیر کہہ رہا تھا کہ ان کے پاس اس جیسی نہ دولت تھی نہ قوت و سلطنت ، بلکہ وہ اس کی غلام قوم کے ایک فرد تھے اور غلام توحقیر ہی سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ عجیب حقیر شخص تھا جس سے فرعون بھی شدید خوف زدہ تھا، ہر عذاب پر اس کے سامنے دعا کے لئے منت و سماجت کرتا تھا، اپنی ساری شان و شوکت، قوت و اقتدار اور افواج قاہرہ کے باوجود اسے اپنے دربار میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتا تھا، جب کہ اس کے پاس فوج تھی نہ سالحہ، صرف ایک عصا ہاتھ میں لئے جب چاہتا اس کے سر پر پہنچ جاتا اور یہ عجیب حقیر شخص تھا جس کے متعلق وہ اپنے سرداروں سے کہتا تھا :”مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں۔“ (دیکھیے مومن ، 26) حالانکہ کسی نے اسے قتل کرنے سے نہیں روکا تھا اور فرعون میں یہ جرأت نہیں تھی کہ انھیں ہاتھ بھی لگا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا مال یا اقتدار حقارت یا عظمت کا پیمانہ ہے ہی نہیں اور نہ ہی موسیٰ ؑ حقیر تھے، بلکہ وہ ظالم خود ہی حقیر و ذلیل تھا جو دنیا کے عارضی متاع پر مغرور ہو کر حق سے انکار پر اڑا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے کفار بھی دنیا کی دولت نہ ہونے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا ہونا قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ (3) ولا یکاد یبین : بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کا اشارہ اس لکنت کی طرف تھا جو موسیٰ ؑ کی زبان میں پائی جاتی تھی، مگر یہ بات درست نہیں۔ موسیٰ ؑ کی دعا کے بعد وہ لکنت دور ہوگئی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ ! تمہاری دعا قبول کرلی گی ہے۔ (دیکھیے طہ : 36) قرآن مجید میں فرعون کیساتھ موسیٰ ؑ کے کئی مناظرے مذکور ہیں، جن میں انہوں نے نہایت فصیح و بلیغ الفاظ میں اپنا مدعا بیان فرمایا اور ہر موقع پر فرعون کو لاجواب کیا۔ اگر چہ انہوں نے اپنی مدد کے لئے ہارون ؑ کو زیادہ فصیح اللسان ہونے کی وجہ سے مانگ کرلیا تھا، مگر کہیں بھی انھیں اظہار مقصد کے لئے ہارون ؑ کی ضرورت نہیں پڑی۔ رہاف رعون کا ان کے متعلق کہنا کہ ”قریب نہیں کہ وہ اپنی بات واضح کرسکے“ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ کفار و مشرکین کی سمجھ میں پیغمبروں کی بات آتی ہی نہیں، جیسا کہ شعیب ؑ جیسے زبردست خطیب کو ان کی قوم نے کہا :(یشعیب ما نفقہ کثیراً مما تقول وانا لنئک فینا ضعیفاً (ھود : 91)”اے شعیب ! ہم اس میں سے بہت سے باتیں نہیں سمجھتے جو تو کہتا ہے اور بیشک ہم تو تجھے اپنے دریمان بہت کمزور دیکھتے ہیں۔“ فرعون موسیٰ ؑ پر وہی دو طعن کر رہا تھا جو اس سے پہلے شعیب ؑ پر ان کی قوم نے کئے تھے کہ بات سمجھ میں نہ آنا اور ان کی نگاہ میں ان کا حقیر اور ضعیف ہونا۔ ہمارے نبی ﷺ کی بات بھی مشرکین کی سمجھ میں نہیں آتی تھی، نہ ہی وہ اپنے جیسے دلوت مندوں کی موجودگی میں آپ ﷺ کو نبی ماننے کے لئے تیار تھے، فرمایا :(وعجبوا ان جآء ھم منذر منھم وقال الکفرون ھذا سحر کذاب اجعل الا لھۃ الھا واحداً ان ھذا لشیء عجاب وانطلق الملامنھم ان امشوا واصبروا علی الھتکم ان ھذا لشیء یراد ما سمعنا مھدا فی الملکۃ عذاب عندھم خرآئن رحمۃ ربک العزیز الوہاب) (ص : 3 تا 9)”اور انہوں نے اس پر تعجب کیا کہ ان کے معبود بنا ڈالا ؟ بلا شبہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے اور ان کے سرکردہ لوگ چل کھڑے ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، یقینا یہ تو ایسی بات ہے جس کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی، یہ تو محض بنائی ہوئی بات ہے۔ کیا ہمارے درمیان میں سے اسی پر نصیحت نازل کی گئی ہے ؟ بلکہ وہ میری نصیحت سے شک میں ہیں، بلکہ انہوں نے ابھی تک میرا عذاب نہیں چکھا۔ کیا انھی کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں، جو سب پر غالب ہے، بہت عطا کرنے والا ہے۔“
Ayah 43:53

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے، یا اس کے ہمراہ فرشتے مل کر کیوں نہیں آئے ؟

(فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذھب …:”اسورۃ“ ”سوار“ کی جمع ہے، کنگن۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ نہ موسیٰ ؑ سونے کے کنگن پہنیں گے ، نہ ان کے ساتھ فرشتے آئیں گے اور نہ ہمیں ان پر ایمان لانا پڑے گا۔ ہمارے نبی کریم ﷺ پر ایمان لان کے لئے بھی کفار نے دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ سونے کے مکان اور اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو سامنے لانے کی شرط عائد کیھی، فرمایا :(وقالوا لن نومن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعاً اوتکون لک جنۃ من نحیل و عنب فتفجر الانھر خلھا تفجیراً او تسقط السمآء کما زعمت علینا کسفا او تاتی باللہ والملئکۃ قلیلاً اویکون لک بیت من زخرف او ترقی فی السمآئ) (بنی اسرائیل :90 تا 93)”اور انہوں نے کہا ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہ لائیں گے، یہاں تک کہ تو ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کرے۔ یا تیرے لئے کھجوروں اور انگور کا ایک باغ ہو، پس تو اس کے درمیان نہیں جاری کر دے، خوب جاری کرنا۔ یا آسمان کو ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دے ، جیسا کہ تو نے دعویٰ کیا ہے، یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔ یا تیرے لئے سونے کا ایک گھر وہ، یا تو آسمان میں چڑھ جائے۔“ حقیقت یہ ہے کہ تمام انبیاء ﷺ کی دعوت ایک تھی اور سبھی کو دعوت کے سلسلے میں ایک جیسے مراحل سے گزرنا پڑا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے پیغمبروں خصوصاً موسیٰ ؑ کے واقعات بار بار بیان فرمائے ہیں، تاکہ آپ ﷺ کو تسلی ہو اور آپ صبر و استقامت سے کام لیں اور آپ کے زمانے کے کفار کو پہلی کافر اقوام کے انجام سے عبرت ہو اور وہ کفر سے باز آجائیں۔
Ayah 43:54

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بےوزن) کردیا تو انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔

(1) فاستخف قومہ فاطاعوہ : لفظی معنی ہے ”اس نے پانی قوم کو ہلکا (بےوزن) کردیا۔“ یعنی اس نے اپنی قوم کے لوگوں کی رئاے کو کوئی وزن نہ دیا اور نہ ہی انہیں اپنی عقل سے سوچنے سمجھنے کا موقع دیا، بلکہ انھیں مجبور کیا کہ وہ اس کی ہاں میں ہاں ملا لیں۔ (دیکھیے مومن : 29) چناچہ وہ انھیں پھسلانے اور الو بنانے میں کامیاب ہوگیا اور وہ سب اس کے پیچھے لگ گئے۔ (2) انھم کانوا قوماً فسقین :”ان“ تعلیل کے لئے ہوتا ہے، یعنی انہوں نے اس کی اطاعت اس لئے اختیار کی کہ فسق و فجور ان کی سرشت بن چکا تھا۔ وہ گمراہی کے راستے پر ہی چل سکتے تھے، سیدھی راہ پر چلنا ان کے بس کی بات ہی نہ تھی، جیسا کہ فرمایا :(ساصرف عن ایتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق ، وان یروا کل ایۃ لایومنوا بھا و ان یرواسبیل الرشد لایتخذوہ سبیلاً ، وان یرواسبیل الغی یتخذوہ سبیلاً ذلک بانھم کذبوا بایتنا وکانوا عنھا غفلین) (الاعراف : 136)”عنقریب میں اپنی آیات سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں حق کے بغیر بڑے بنتے ہیں اور اگر ہر نشانی دیکھ لیں تو بھی اس پر ایمان نہیں لاتے اور اگر بھلائی کا راستہ دیکھ لیں تو اسے راستہ نہیں بناتے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اسے راستہ بنا لیتے ہیں، یہ اس لئے کہا نہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔“
Ayah 43:55

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

پھر جب انھوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔

فلما اسفونا انتقمنا منھم…: اس ایٓ سے ظاہر ہے کہ غصے ہونا اور انتقام لینا بھی اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، جیسا کہ راضی ہونا اور انعام دینا اس کی صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ بھی انہیں ہلاک کرسکتا تھا، مگر فرعون نے نہروں کے اپنے تحت چلنے پر فخر کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی ہی میں غقر کر کے انتقام لیا۔ عموماً انسان جس چیز پر فخر کرتا ہے اللہ کی طرف سے وہی چیز اس کی ہلاکت کا سامان بن جاتی ہے۔
Ayah 43:56

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

پس ہم نے انھیں پیچھے آنے والوں کے لیے پیش رو اور مثال بنادیا۔

(فجعلنھم سلفاً و مثلاً للاخرین :”سلفاً“ ”سالف“ کی جمع ہے، جیسے ”خادم“ اور ”حارس“ کی جع ”خدم“ اور ”حرس“ ہے۔”سالف“ اسے کہتے ہیں جو وجود میں یا کسی عمل یا کسی جگہ میں دوسرے سے پہلے ہو۔ چونکہ یہاں ذکر انتقام کا آیا ہے، اس لئے ”سلفا“ سے مراد وہ ہیں جو انتقام میں پہلے ہیں، یعنی ان کے بعد والوں کو بھی ان جیسے انتقام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ”مثلاً“ کا معنی مشابہ چیز ہے، مراد عبرت ہے جو اپنے جیسے لوگوں کو دیکھ کرلی جاتی ہے کہ اگر ہم نے ان جیسے عمل جاری رکھے تو ہمارا انجام بھی وہی ہوگا۔“ للاخرین“ وہ لوگ جو اس کلام میں مذکور آل فرعون کے ساتھ آخری مشابہ ہیں۔ مراد رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے والے مشرکین ہیں، کیونکہ بت پرستی اور رسول کو جھٹلانے میں ان کے آخری مشابہ ویہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے انھیں ان آخری مشرکوں کے لئے عبرت بنادیا، اس لئے ان پر لازم ہے کہ ان کے انجام سے نصیحت حاصل کریں۔
Ayah 43:57

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جب ابن مریم کو بطور مثال بیان کیا گیا، اچانک تیری قوم (کے لوگ) اس پر شور مچا رہے تھے۔

ولما ضرب ابن مریم مثلاً …: رسول اللہ ﷺ جس طرح تمام پیغمبروں کا ذکر عزت و اکرام کے ساتھ کرتے تھے، عیسیٰ ؑ کا ذکر بھی ہمیشہ عزت و تکریم کیساتھ کرتے اور ان کی مثال آدم ؑ کے ساتھ دیا کرتے تھے کہ جس طرح ماں باپ کے بغیر آدم ؑ کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عجیب و غریب کرشمہ ہے اسی طرح باپ کے بغیر عیسیٰ ؑ کی پیدائش بھی اس کی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے۔ مدینہ جانے کے بعد وفد نجران کی آمد پر سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون) (آل عمران : 59)”بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مثال کی طرح ہے کہ اسے تھوڑی سی مٹی سے بنایا، پھر اسے فرمایا ہوجا، سو وہ ہوجاتا ہے۔“ پچھلی آیات میں مشرکین مکہ کے فرشتوں کی عبادت پر رد کے بعد فرمایا تھا :(وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا اجعلنا من دون الرحمٰن الھۃ یعبدون) (الزخرف : 35)”اور ان سے پوچھ جنھیں ہم نے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا، کیا ہم نے رحمان کے سوا کوئی معبود بنائے ہیں جن کی عبادت کی جائے ؟“ اس پر مشرکین میں سے کسی نے عیسیٰ ابن مریم ؑ کے معبود ہونے کا اعتراض جڑ دیا۔ ساتھ ہی دوسرے مشرکین نے شور مچانا شروع رک دیا کہ مسیح ؑ کو دیکھو، نصرانی ان کی عبادت کرتے ہیں، پھر بھی مسلمان ان کا نام عزت سے لیتے ہیں۔ ہمارے بتا ور دیوی دیوتا فرشتے ہیں کیا ہمارے معبود فرشتے بہتر ہیں یا نصرانیوں کے معبود عیسیٰ ؑ بہتر ہیں ؟ پھر ان کا نام عزت کے ساتھ کیوں لیا جاتا ہے اور ہمارے بتوں کو برا کیوں کہا جاتا ہے ؟ میں نے بہت غور و فکر اور متعدد تفاسیر کے مطالعہ کے بعد آیات کے الفاظ اور سیاق وسباق کو ملحوظ رکھ کر جو تفسیر سمجھی ہے ذکر کردی ہے۔ (واللہ اعلم) ابن عاشور نے فرمایا :”یہ مقام قرآن مجید کے مشکل ترین مقامات میں سے ہے۔“ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”یعنی قرآن میں ان کا ذکر آوے تو اعتراض کرتے ہیں کہ ان کو بھی خلق پوجتے ہیں، انہیں کیوں خوبی سے یاد کرتے ہو اور ہمارے پوجوں (معبودوں، بتوں) کو برا کہتے ہو۔“ (موضح)۔
Ayah 43:58

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور انھوں نے کہا کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ؟ انھوں نے تیرے لیے یہ (مثال) صرف جھگڑنے ہی کے لیے بیان کی ہے، بلکہ وہ جھگڑالو لوگ ہیں۔

(1) وقالواء الھتنا خیراً ام ھو : اس جملے کی وضاحت اوپر کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہے۔ (2) ماضربوہ لک الا جدلاً بل ھم قوم خصمون : یعنی ان مشرکین نے مسیح ؑ کا ذکر محض جھگڑے کے لئے کیا ہے، ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ مسلمان ان کا عزت و تکریم سے ذکر معبود ہونے کے لحاظ سے نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ ہونے کے لحاظ سے کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں ہی سخت جھگڑالو کہ متکلم کی مراد اپنے پاس سے گھڑ کر جھگڑنا اور شور مچانا شروع کردیتے ہیں۔ (3) اکثر مفسرین نے ان آیات کی شان نزول یہ بیان فرمایء ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :(انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم) (الانبیائ : 98) (بےشک تم اور جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے وہ، جہنم کا ایندھن ہیں) تو عبداللہ بن تو بعری کہنے لگا کہ اللہ کے سوا تو عیسیٰ ابن مریم کی پوجا بھی کی جاتی ہے، اگر وہ جہنم میں گئے تو ہمیں اپنے معبودوں کا جہنم میں جانا بھی منظور ہے۔ یہ سننے ہی مشرکین نے بہت شور مچایا کہ محمد (ﷺ) لا جواب ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :(ان الذین سبقت لھم منا الحسنیٰ اولئک عنھا مبعدون) (الانبیائ : 101)”بیشک وہ لوگ جن کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی طے ہوچکی وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے۔“ اور اس سورت کی آیت (57) نازل ہوئی :(ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومک منہ یصدون)”اور جب ابن مریم کو بطور مثال بیان کیا گیا، اچانک تیری قوم کے لوگ اس پر شور مچا رہے تھے۔“ (”زبعریذ“ زاء کے کسرہ، باء کے فتحہ اور عین کے سکو ن کے ساتھ ہے، راء کے بعد الف مقصورہ ہے، یہ عبداللہ بن زبعری بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔ ؓ یہ تفسیر عبداللہ بن عباس ؓ سے حسن سند کے ساتھ مروی ہے۔ (دیکھیے مشکل الاثار، باب بیان مشکل ماروی عن رسول اللہ ﷺ فی المراد بقول اللہ عزوجل :(انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم) ح 1986 ء مسند احمد میں یہ روایت ابن عباس ؓ سے ان الفاظ میں ہے کہ رسول اللہ ں نے قریش سے کہا :(یامعشر قریش ! انہ لیس احد یعبد من دون اللہ فیہ خیر)”اے جماعت قریش ! حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کی جاتی جس میں کوئی خیر ہو۔“ انہوں نے کہا، ”اے محمد ! کیا تم یہ نہیں کہتے کہ عیسیٰ نبی تھا اور اللہ کے بندوں میں سے نیک بندہ تھا، تو اگر تم سچے ہو تو مسیح اور ان کے معبود ایک جیسے ہوگئے۔“ (یہ کہہ کر انہوں نے شور مچانا شروع کردیا) تو نص نے یہ آیت نازل فرمائی :(ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومک منہ یصدون) (الزخرف :58)”جب ابن مریم کو بطور مثال بیان کیا گیا، اچانک تیری قوم کے لوگ اس پر شور مچا رہے تھے۔“ (مسند احمد :318/1، ح :2923) مسند کے محققین نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ واضح رہے کہ ابن عباس ؓ سے مروی یہ تفسیر اس تفسیر کے خلاف نہیں جو آیات کے سیاق کے لحاظ سے اوپر کی گئی ہے کیونکہ اصول تفسیر میں یہ بات مسلم ہے کہ صحابہ کرام ؓ ”نزلت فی کذا“ (یہ آیت فلاں کے بارے میں نازل ہوئی) ان واقعات کے متعلق بھی فرما دیتے ہیں جن پر کوئی آیت منطبق ہوتی ہو۔ رسول اللہ ﷺ بھی ایسے موقاع پر پہلے اتری ہوئی کوئی آیت پڑھ دیتے تھے۔ ظاہر ہے مشرکین جن کی عادت ہی جھگڑنا اور کج بحثی کرنا تھا، جھگڑنے کا کوئی موقع کم ہی ہاتھ سے جانے دیتے تھے۔ ان مواقع میں سے ایک موقع :(انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم) (الابیائ، 98) کا نزول بھی تھا، اس پر کفار نے جو شور مچایا، آیت :(ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومک منہ یصدون) اس پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے، جیسا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا۔
Ayah 43:59

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنادیا۔

(1) ان ھو الا عبد …: یعنی مسیح ؑ کا اکرام ان کے معبود ہونے کی وجہ سے نہیں، کیونکہ نہ وہ رب تھے نہ رب کے بیٹے، بلکہ صرف عبد بمعنی اللہ کا غلام اور اس کی بندگی کرنے والا ہونے کی وجہ سے ہے۔ یہ قصر قلب ہے یعنی مسیح وہ کچھ نہیں جو نصاریٰ یا دوسرے مشرک کہہ رہے ہیں، بلکہ وہ صرف بندہ ہے جس پر ہم نے انعام کیا ہے۔ (2) انعمنا علیہ : ان انعامات میں سے چند انعامات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة مائدہ کی آیات (110 تا 115) میں اور سورة آل عمران کی آیات (45، 46) میں اور دوسری آیات میں فرمایا ہے۔ (3) وجعلنہ مثلاً بنی اسرآئیل : بنی اسرائیل کے لئے مثال بنانے سے مراد ان کے لئے نمونہ قدرت بنانا ہے کہ انہیں باپ کے بغیر پیدا کیا اور انھیں ایسے معجزات عطا فرمائے جو ان کے زمانے میں کسی کو نہیں ملے، جنہیں دیکھ کر لوگوں کو ان کی نبوت کا یقین ہوتا تھا۔
Ayah 43:60

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ضرور تمہارے عوض فرشتے بنادیں، جو زمین میں جانشین ہوں۔

ولونشآء لجعلنا منکم …: یعنی اس زمین پر انسان باپ اور ماں سے پیدا ہوتے ہیں، عیسیٰ ؑ باپ کے بغیر پیدا ہوئے تو اس سے وہ معبود نہیں بن گئے، بلکہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح مخلوق ہیں، جیسا کہ فرشتے ماں باپ کے بغیر پیدا ہونے اور آسمانوں پر رہنے کے باوجود مخلوق ہیں، معبود نہیں بن گئے۔ بلکہ اگر ہم چاہیں تو تمہاری جگہ ان کو زمین پر لا کر تمہارے جانشین بنادیں، نہ تم انکار کرسکتے ہو نہ انہیں انکار کی مجال ہے، تو وہ معبود کیسے بن گئے۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اگر ہم چاہیں تو تمہیں ہلاک کردیں اور تمہاری جگہ فرشتوں کو لے آئیں جو زمین کو آباد کریں اور ہماری عبادت کریں۔
Ayah 43:61

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور بلاشبہ وہ یقینا قیامت کی ایک نشانی ہے تو تم اس میں ہرگز شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو، یہ سیدھاراستہ ہے۔

(1) وانہ لعلم للساعۃ :”علم“ سے مراد علم کا ذریعہ اور نشانی ہے، یعنی عیسیٰ ؑ کی پیدائش اور پہلی مرتبہ دنیا میں آنا تو خاص بنی اسرائیل کے لئے ایک نشان تھا، دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہوگا۔ ان کے نزول سے لوگ معلوم کریں گے کہ اب قیامت بالکل قریب آلگی ہے۔ ابن کثیر رحتہ اللہ نے فرمایا :”اس سے مراد قیامت سے پہلے ان کا نزول ہے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :(وان من اھل الکتب الالیومنن بہ قبل موتہ ، ویوم القیمۃ یکون علیھم شھیداً) (النسائ : 159)”اور اہل کتاب میں سے کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔“ اس معنی کی تائید دوسری قرأت ”وانہ لعلم للساعۃ“ سے بھی ہوتی ہے، یعنی وہ قیامت واقع ہونے کا ایک نشان اور دلیل ہے۔ مجاہد رحمتہ اللہ نے رمایا،”وانہ لعلم للساعۃ“ یعنی قیامت کی ایک نشانی عیسیٰ ابن مریم ؑ کے عادل و منصف امام بن کر نازل ہونے کی خبر دی۔“ (ابن کثیر) ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(والذی نفسی بیدہ ، لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلاً فیکسر الصلیب، ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ و یقیض المال حتی لا یقبلہ احد ، حتی تکون السجدہ الواحدہ خیراً من الدنیا وما فیھما ثم یقول ابوہریرہ و اقرء و ان شتم :(وان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ ، ویوم القیمۃ یکون علیھم شھیداً) (النسائ : 159) (بخاری، احادیث الانبیاء باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام :338)”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً قریب ہے کہ تم میں ابن مریم ؑ انصاف کرنے والا حاکم بن کر نازل ہو، پھر وہ صلیب توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ ختم کرے گا اور مال عام ہوجائے گا، حتیٰ کہ اسے کوئی قبول نہیں کرے گا، حتیٰ کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔“ پھر ابوہریرہ ؓ فرماتے :”اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو :”اور اہل کتاب میں کوئی نہیں مگر وہ اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔“ سورة نساء کی آیت (158، 159) کی تفسیر پر بھی نگاہ ڈال لیں۔ (2) وانہ لعلم للساعۃ“ کا مطلب یہ بھی ہے کہ عیسیٰ ؑ کا وجود قیامت قائم ہونے کی نشانی اور دلیل ہے، کیونکہ وہ عام دستور کے خلاف باپ کے بغیر پیدا ہوئے، پھر وہ اللہ کے اذن سے مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت کا نشان ہیں کہ وہ قیامت برپا کرنے پر بھی یقینا قادر ہے۔ (3) بعض مفسرین نے ”ہ“ ضمیر سے مراد قرآن لیا ہے۔ ابن عاشور نے فرمایا :”وانہ لعلم الساعۃ“ کا عطف ”وانہ لذکر لک و لقومک“ پر ہے، یعنی یہ قرآن تمہارے لئے قیامت کا علم حاصل ہونے کا ذریعہ ہے، جس سے تمہیں اس کے قیام اور اس میں پیش آنے والے معاملات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔“ ابن کثیر نے قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمتہ اللہ کا یہی قول بیان کیا ہے کہ ”ہ“ ضمیر سے مراد قرآن ہے۔ (4) فلا تمترن بھا …: یعنی قرآن تمہیں قیامت کے وقوع سے آگاہ کرتا ہے، اس لئے تم اس میں ہرگز شک نہ کرو اور میری پیروی کرو، یہ صراط مستقیم ہے جس کی میں تمہیں دعوت دیتا ہوں۔
Ayah 43:62

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور کہیں شیطان تمہیں روک نہ دے، بیشک وہ تمہارے لیے کھلا دشمن ہے۔

(ولا یصدنکم الشیطن…: یعنی دیکھنا شیطان اپنے ہتھکنڈوں کے ساتھ تمہیں قیامت پر ایمان سے روک نہ دے، کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس نے کبھی اپنی عداوت کو چھپایا نہیں، بلکہ ڈنکے کی چوٹ آدم ؑ اور اس کی اولاد کو گمراہ کرتے رہنے کا اعلان کیا، اس لئے تم بھی اسے دشمن سمجھو اور اس سے خبر دار رہو۔ (دیکھیے فاطر : 6۔ کہف : 50) معلوم ہوا جو شخص قیامت کے بارے میں شک کرتا ہے وہ شیطان کے ہتھکے چڑھ چکا ہے۔ شیطان کی بہت بڑی دشمنی اور گمراہ کرنا یہ ہے کہ وہ کسی شخص کو قیامت پر یقین سے محروم کر دے۔ شیطان سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات پر سیدھا چلتا جائے، ادھر ادھر بالکل توجہ نہ دے۔ موسیٰ ؑ کی طرف پہلی وحی میں اللہ تعالیٰ نے انھیں قیامت کے آنے سے آگاہ کرنے کے ساتھ ہی تاکید فرمایء کہ دیکھنا، وہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے تمہیں اس پر ایمان سے روک نہ دیں، ورنہ انجام ہلاکت ہوگا۔ دیکھیے سورة طہ (15، 16)
Ayah 43:63

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ واضح دلیلیں لے کر آیا تو اس نے کہا بیشک میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور تاکہ میں تمہارے لیے بعض وہ باتیں واضح کر دوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو، سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔

(1) ولما جآء عیسیٰ بالبینت :”البینات“”بینۃ“ کی جمع ہے، واضح روشن چیز، یہ مچحذوف موصوف کی صفت ہے جو معجزات بھی ہیں، دلائل بھی اور آیات بھی۔ یعنی جب عیسیٰ ؑ واضح اور روشن معجزات، توحید الٰہی اور پانی رسالت کے واضح دلائل اور اللہ تعالیٰ کی وضاحت اور روشن آیات لے کر آئے۔ (2) قال قد جئتکم بالحکمۃ :”الحکمۃ“ محکم اور پکی بات ، دانائی کی بات جو صحیح عقل کے عین مطابق ہو۔ (3) ولابین لکم بعض الذی تختلقون فیہ …: یعنی جب عیسیٰ ؑ بینات لے کر بنی اسرائیل کے پاس آئے تو انھیں بات ایک ہ میں تمہارے پاس اللہ کی شریعت لے کر آیا ہوں، جو نہایت محکم اور مضبوط ہے اور سراسر دانائی پر مشتمل ہے تاکہ وہ تمہیں سکھاؤں اور تاکہ بعض باتیں جن میں تمہارے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا ہے ان میں محکم اور پختہ بات کے ساتھ حق واضح کر دوں۔ بعض اس لئے فرمایا ج کہ پیغمبر کا کام دینی احکام کی رہنمائی ہے، دنیوی معاملات مثلاً تجارت ، زراعت اور صنعت وغیرہ کو لوگوں کے تجربہ و عقل پر رہنے دیا گیا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(انتم اعلم بامر دنیا کم) (مسلم ، الفضائل، باب وجوب امتال ماقالہ شرعا …: 363 ہ)”اپنا دنیاوی معاملہ تم بہتر جانتے ہو۔“ یا بعض اس لئے فرمایا کہ بعض کا فیصلہ آخری پیغمبر کے آنے پر چھوڑ دیا گیا۔ واضح رہے کہ بنی اسرائیل میں توحید، قیامت اور مختلف اشیاء کی حلت و حرمت کے بارے میں کئی طرح کا اختلاف پیدا ہوگیا تھا، مثلاً ان میں سے کچھ حق پر قائم تھے تو بعض عزیز ؑ کو اللہ کا بیٹا کہنے لگ گئے تھے۔ قیامت کے متعلق انہوں نے ایسے عقائد گھڑ لئے تھے جن سے اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہی کا معاملہ ہی ختم ہوجاتا تھا۔ مثلاً ان کا کہنا :(نحن ابنو اللہ و احباوہ) (المائدۃ :18)”ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔“ یعنی ہم بنی اسرائیل اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں (جس طرح مسلمانوں میں کئی سید بادشاہ اپنے بارے میں باور کرواتے ہیں) اور یہ کہ جنت ہمارا حق ہے، اگر جہنم میں گئے بھی تو چند روز کے لئے جائیں گے۔ کچھ چیزیں ان کی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے ان پر حرام کی گئی تھیں، کچھ ان کے احبارو رہبان نے حرام کردی تھیں۔ عیسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں تمہارے ان اختلافات میں حق واضح کرنے کیلئے آیا ہوں، اس لئے تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
Ayah 43:64

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی میرا رب اور تمہارا رب ہے، پس اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔

(1) ان اللہ ھو ربی وربکم : یہ ہے وہ حکمت جس کے لئے تمام انبیاء مبعوث ہوئے۔”ربی و ربکم“ خبر معرفہ ہونے کی وجہ سے حصر پیدا ہو رہا ہے اور ضمیر فصل ”ھو“ لانے سے تاکید مزید ہوگئی ہے کہم یرا رب اور تمہارا رب صرف اللہ ہے، کوئی فرشتہ یا پیغمبر یا کوئی اور رب نہیں۔ (2) فاعبدوہ : فاء تعلیل کے لئے ہے، یعنی جب ”رب“ (پرورش کرنے والا) صرف اللہ تعالیٰ ہے تو عبادت بھی اسی کی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ عیسیٰ ؑ کا یہ کلام نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ میں خود اللہ ہوں یا اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہوں، اس لئے تم میری عبادت کرو، بلکہ ان کی دعوت وہی تھی جو تمام انبیاء ؑ کی تھی اور جس کی طرف محمد (ﷺ) تمہیں بلا رہے ہیں۔
Ayah 43:65

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

پھر کئی گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، سو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے بڑی ہلاکت ہے۔

(1) فاختلف الاحزاب من بینھم : عیسیٰ ؑ کے اس ارشاد کے باوجود بنی اسرائیل اختلاف سیب از نہیں آئے، بلکہ وہ عیسیٰ ؑ کی ذات کے بارے میں مزید گروہوں میں بٹ گئے۔ بعض نے انھیں سچا رسول تسلیم کرلیا اور بعض نے انھیں جھوٹا اور مکار قرار دیا۔ پھر اناکار کرنے والے کئی اس حد تک جا پہنچے کہ ان کی والدہ پر تہمت لگا کر انھیں ولد الزنا قرار دیا اور اس قدر مخالفت کی کہ اپنے گمان میں صلیب پر چڑھا کر دم لیا۔ اور ایمان لانے والے اگر کچھ راہ راست پر رہے تو بعض نے انھیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بعض نے تین خداؤں میں سے ایک اور بعض نے اللہ ہی قرآن دے لیا اور ہر فرقے نے ایسی ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ بیشمار فرقے وجود میں آکر ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے۔ ”من بینھم“ کا مطلب یہ ہے کہ کہ اختلاف کا باعث بیرونی نہیں تھا بلکہ وہ خود ہی تھے۔ (2) فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم : ظلم کرنے والوں سے مراد وہ گروہ ہیں جنہوں نے انہیں جھوٹا قرار دیا اور وہ بھی جن ہونے ان کی عقیدت میں غلوا اختیار کرتے ہوئے انھیں اللہ کا بیٹا یا خود اللہ قرار دے کر شرک کا ارتکاب کیا۔ ’ یوم الیم“ سے مراد قیامت کا دن ہے۔
Ayah 43:66

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

وہ قیامت کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر اچانک آجائے اور وہ سو چتے بھی نہ ہوں۔

(1) ھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغثہ : یہ اس سوال کا جواب ہے جو پچلھی آیت کے آخری جملے سے پیدا ہوسکتا ہے کہ ظالموں کے لئے ”ویل“ (ہلاکت) کا وہ دن کب ہوگا اور اس عذاب الیم کی کیفیت کیا ہوگی۔ جواب یہ ہے کہ اس کا آنا یقینی ہے ، جلدی آئے یا دیر سے، اس لئے اس کی تیاری کرو، اس بحث میں مت پڑو کہ وہ کب آئے گی۔”بغتہ“ (اچانک) کا مطلب ہی یہ ہے کہ ت میں اس کے آنے کا وقت معلوم نہیں ہوسکتا، کیونکہ جس کے آنے کا وقت معلوم ہوجائے وہ اچانک نہیں ہوتی۔ دیکھیے سورة اعراف (187) اور سورة یٰسین (49، 50)۔ (2) وھو لایشعرون، یہاں ایک سوال ہے کہ ”بغتۃ“ (اچانک) کے لفظ کے بعد ”وھو لایشعرون“ کی کیا ضرورت ہے ؟ جواب یہ ہے کہ بعض اوقات ایسی چیزیں بھی اچانک آجاتی ہیں جن کے متعلق انسان سوچ رہا ہوتا ہے اور ایک جواب پر ہے کہ یہ ”بغتتہ“ کی تاکید ہے۔
Ayah 43:67

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔

(1) الا خلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو : یہ اس دن کے عذاب الیم کی ہولناکی کا کچھ بیان ہے۔ اس دن متقین کے سوا تمام دلی دوستوں کے ایک دوسرے کے دشمن ہوجانے کا خاص طور پر ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ مشرکین نے دنیا میں ایک دوسرے کی دوستی ہی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں ایکا کیا ہوا تھا اور باہمی گٹھ جوڑ ہی کی وجہ سے شرک پر جمے ہوئے تھے۔ یہی دوستی قیامت کے دن دشمنی میں بدل جائے گی اور ہر شخص دور سے کو اپنی بربادی کا باعث قرار دے گا اور کہے گا :(یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلاً) (الفرقان : 28)”ہائے میری بربادی کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کا اپنی قوم سے خطاب نقل فرمایا :(وقال انما اتخثم من دون اللہ اوثاناً مودۃ بینکم فی الحیوۃ الدنیا ثم یوم القیمۃ یکفر بعضکم ببعض ویلمن بعضکم بعضاً ، وماو لکم النار وما لکم من نصرین) (العنکبو : 25)”اور اس نے کہا بات یہی ہے کہ تم نے اللہ کے سوا بت بنائے ہیں، دنیا کی زندگی میں آپ س کی دوستی کی وجہ سے، پھر قیامت کے دن تم میں سے بعض بعض کا انکار کرے گا اور تم میں سے بعض بعض پر لعنت کرے گا اور تمہارا ٹھکانا آگ ہی ہے اور تمہارے لئے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔“ (2) الا المتقین : متقین کی دوستی اس دن بھی قائم رہے گی، کیونکہ اس کا باعث اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز ہے۔ دوسرے تمام دوستوں کی دوستی کا باعث کوئی نہ کوئی دنیوی مفاد ہوتا ہے جس کے ختم ہونے کے ساتھ دوستی بھی ختم ہوجائے گی بلکہ دشمنی میں بدل جائے گی، کیو کہ وہ دوستی ہی اس دن کے عذاب کا باعث بنی۔
Ayah 43:68

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

اے میرے بندو ! آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔

یعباد لاخوف علیکم الیوم…: قیامت کے دن باہمی محبت کرنے والے متقین کو ملنے والی نعمتوں کا ذکر ہے، جن میں سے سب سے پہلی اللہ تعالیٰ کا ”اے میرے بندو !“ کہہ کر محبت سے خطاب ہے، پھر خوف اور غم سے مکمل نجات ہے۔ دیکھیے سورة یونس (62)۔
Ayah 43:69

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور وہ فرماں بردار تھے۔

الذین امنوا بایتنا …: اس میں ان لوگوں کی چند صفات بیان فرمائیں جو قیامت کے دن خوف اور غم سے آزاد ہوں گے۔ آیت کے الفاظ سے یہاں ایمان اور اسلام کا الگ الگ ہونا ظاہر ہے۔ (دیکھیے حجرات : 14) البتہ جب کہیں اکیلے ایمان یا اسلام کا ذکر آئے تو دونوں ایک ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ ہماری آیات پر یقین کے ساتھ ساتھ عمل طور پر بھی پوری طرح تابع فرمان تھے۔
Ayah 43:70

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے۔

(1) ادخلوا الجنۃ انتم وازواجکم :”ازواجکم“ کی تفسیر میں دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جو دنیا میں ان کے ہم مشرب اورس ا تھی رہے۔ دوسری یہ کہ مراد ان کی بیویاں ہیں جنہوں نے نیک اعمال میں ان کا ساتھ دیا تھا۔ دونوں بیک وقت بھی مراد ہوسکتے ہیں، مگر بیویاں مراد لینا زیادہ قریب ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ان کا بار بار ذکر ہے اور ان کے ساتھ مل کر جانے میں جو لذت اور خوشی ہے وہ دوسرے ہم مشرب ساتھیوں کے ساتھ نہیں۔ دیکھیے سورة یٰسین (55، 56) ، دخان (54) ، واقعہ (22، 23) ، رحمان (70 تا 72) ، صافات (48) اور سورة ص (52) ، (2) تحبرون : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة روم کی آیت (15) کی تفسیر۔
Ayah 43:71

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

ان کے گرد سونے کے تھال اور پیالے لے کر پھرا جائے گا اور اس میں وہ چیز ہوگی جس کی دل خواہش کرینگے اور آنکھیں لذت پائیں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو۔

(1) یطاف علیھم بصحاف من ذھب و اکواب : ”صحاف“”صحفۃ“ کی جمع ہے، تھال جو بہت بڑا نہ ہو، رکابیاں۔ ”اکواب“ ”کو ب“ کی جمع ہے، پینے کا برتن جس کی دسوتی نہ ہو، ایسے برتن دستی نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ صاٹف ہوتے ہیں۔ تھالوں میں طرح سرح کے کھانے اور میوے ہوں گے اور پیالوں میں طرح طرح کے پینے کی چیزیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا، ”صحاف“ جمع کثرت ہے اور ”اکواب“ جمع قلت، کیونکہ کھانے کے بتن پینے کے برتنوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ (2) وفیھا ماتشتھیہ الانفس : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حم سجدہ (31) اور سورة سجدہ (17)۔ (3) وتلذالاعین : آنکھوں کی لذت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار جنت کی تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے۔
Ayah 43:72

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

اور یہی وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو، اس کی وجہ سے جو تم عمل کرتے تھے۔

وتلک الجنۃ التی اور تتموھا…: اس آیت کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة اعراف (43) ، مومنوں (10، 11) اور سورة مریم (63)۔
Ayah 43:73

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

تمہارے لیے اس میں بہت سے میوے ہیں، جن سے تم کھاتے ہو۔

(لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون، انسان کی مطلوبہ چیزوں یعنی کھانے پینے، نکاح اور آرام و آسئاش لذت میں انھیں بہت برتری حاصل ہے۔ ”فاکھۃ“ کے لفظ ہی میں لذت کا مفہوم شامل ہے۔ دنیا میں فواکہ جتنے بھی ہوں کم ہیں جبکہ آخرت میں مسلمانوں کے لئے فوا کہ کثیر تعداد میں ہوں گے، جو اتنے وافر ہوں گے کہ وہ ان میں سے کچھ ہی کھا سکیں گے، یعنی ”منھا تاکلون“ ن اور وہ کبھی ختم نہیں ہوں گے، فرمایا :(لامقطوعۃ ولاممنوعۃ) (الواقعہ : 3 و)”جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان سے کوئی روک ٹوک ہوگی۔“
Ayah 43:74

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

بیشک مجرم لوگ جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون : ایمان والوں کا حسن انجام بیان کرنے کے بعد کفار کا انجام بد بیان فرمایا۔ یہاں ”المجرمین“ سے مراد کفار ہیں، کیونکہ ان کا ذکر ”مسلمین“ کے مقابلے میں آیا ہے اور جہنم میں ہمیشہ رہنے والے کفار ہی ہیں۔ سورة مطففین میں بھی کفار کے لئے ”الذین اجرفوا“ کا لفظ استعمال ہوا ہے، فرمایا :(ان الذین اجرموا کانوا من الذین امنوا یضحکون) (المطففین : 29) ”بیشک وہ لوگ جنہوں نے جرم کئے، ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنسا کرتے تھے۔“
Ayah 43:75

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

وہ ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اسی میں ناامید ہوں گے۔

(1) لایفثر عنھم :”فتور“ کسی چیز میں وقفہ یا ٹھہراؤ آنا، یا اس کی قوت یا رفتار میں آہستہ آہستہ کمی آتے جانا، جیسے کہا جاتا ہے :”فترب الحثمی“ بخار میں کمی یا وقفہ آگیا۔“”لایفثر“ (باب تفعیل) کا مطلب یہ ہے کہ ان کے عذاب میں کسی قسم کا وقفہ یا کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ (2) وھم فیہ نبلسون : مصیبت سے نجات کی امید بھی کچھ نہ کچھ راحت کا باعث ہوتی ہے، یہ کہہ کر امید کی بھی نفی فرما دی کہ وہ اسی جہنم میں مایوس اور ناامید ہو کر رہنے والے ہیں۔
Ayah 43:76

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ خود ہی ظالم تھے۔

وما ظلمنھم ولکن کانوا …: یہاں خیال ہوسکتا تھا کہ اتنی بڑی اور دائمی سزا تو ظلم ہے، اس لئے فرمایا کہ ہم نے ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا۔ کیونکہ یہ محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم کیر، بلکہ وہ خود ہی ظلم کرنے والے تھے، حتیٰ کہ یہی ظالم ہونا ان کی صفت اور پہچان بن گیا، کیونکہ ظلم ان کا دائمی عمل اور ان کی عادت اور جبلت بن چکا تھا، ان کی نیت اور ارادہ یہی تھا کہ جب تک رہیں گے اسی پر قائم رہیں گے، اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ کبھی نہ مرتے اور ہمیشہ ظلم و شرک پر جمے رہتے۔ چونکہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اس لئے انھیں ہمیشہ ظلم کی نیت پر ہمیشہ کا عذاب دیا گیا اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ظالم تھے۔