Ayah 43:77ونادوا یملک لیقض علینا ربک …:”قضی علیہ“ کا معنی کا م تمام کرنا، یعنی موت دے دینا ہے، جیسا کہ فرمایا :(فوکرہ موسیٰ فقضی علیہ) (القصص : 15)”تو موسیٰ نے اسے گھونسا مار اتو اس کا کام تمام کردیا۔“”مالک“ جہنم کے خازن (دربان) فرشتے کا نام ہے۔ سمرہ بن جندب ؓ سے مروی طویل حدیث میں ہے کہ خواب میں جبریل اور میاکئیل ؑ نے نبی ﷺ کو بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کروایا اور بعد میں ان کی حقیقت بیان کی۔ اس میں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(فانطلقنا فاتینا علی رجل کر یہ المرآۃ کا کرہ ما انت راء رجلاً مرآۃ فاذا عندہ نار یحشھا ویسعی حولھا، قال قلت لھما ماھذا ؟)”پھر ہم آگے بڑھے تو ایک آدمی کے پاس پہنچے جو دیکھنے میں بہت بدصورت تھا، اتنا جتنا کہ کوئی دیکھنے میں زیادہ سے زیادہ بدصورت ہوسکتا ہے۔ اس کے پاس آگ ہے، وہ اسے بھڑکا رہا ہے اور اس کے اردگرد دوڑ رہا ہے۔“ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے پوچھا :”یہ کون ہے ؟“ حدیث کے آخر میں جب فرشتے نے سب چیزوں کے متعلق بتایا تو کہا (واما الرجل الکریہ المراۃ الذی عند النار یحشھا ویسعی حولھا فانہ مالک خازن بجھنم) (بخاری، التعبیر، باب تعبیر الرویا بعد صلاۃ الصبح :8038)”آگ کے پاس دیکھنے میں جو بدصورت آدمی تم نے دیکھا جو اسے بھڑکا رہا تھا اور اس کے گرد دوڑ رہا تھا وہ جہنم کا خازن مالک ہے۔“ کفار جہنم کے فرشتوں کو اللہ سے ان کے عذاب میں کچھ نہ کچھ تخفیف کرنے کی دعا کے لئے کہیں گے۔ جب اس سے ناامید ہوں گے تو جہنم کے خازن مالک کو آواز دیں گے کہ اپنے رب سے دعا کر کہ ہمیں موت دے د۔ وہ کہے گا تم یہیں رہنے والے ہو۔ غرض وہ اس عذاب سے کسی طرح نجات نہیں پائیں گے۔ دوسری جگہ فرمایا :(والذین کفروا لھم نار جھنم، لایقضی علیھم فیموتوا ولا یخفف عنھم من عذابھا کذلک نجزی کل کفور (فاطر : 36)”اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے جہنم کی آگ ہے، نہ ان کا کام تمام کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں اور نہ ان سے اس کا کچھ عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ایسے ہی ناشکرے کو بدلا دیا کرتے ہیں۔“
Ayah 43:78لقد جئنکم بالحق ولکن اکثرکم…: اس ایٓ میں اللہ تعالیٰ کا خطاب اہل جہنم سے بھی مراد ہوسکتا ہے اور دنیا میں قریش اور دوسرے کفار سے بھی۔ پہلی صورت میں جو فرمایا کہ تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے تھے تو اس لئے کہ ان کے قلیل لوگ حق کو ناپسند کرنے والے نہیں تھے، وہ تو اپنے اکابر و سادات کی اندھا دھند پیروی کرنے کی وجہ سے کفر پر قائم رہنے والے تھے۔ اکثر وہی تھے جو حق کو پہچانتے تھے مگر اپنے مفادات اور خواہشات سے متصادم ہونے کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے تھے۔ دوسری صورت میں دنیا میں کفار کا حال بیان فرمایا کہ ان کے اکثر حق آنے کے بعد اپنی خواہشات کے خلاف ہونے کی وجہ سے اسے ناپسند کرنے والے ہوتے ہیں۔ رہے کم لوگ تو وہ پسند یا ناپسند کی وجہ سے نہیں بلکہ تقلید کی وجہ سے کفر پر جمے رہتے ہیں۔
Ayah 43:79ام ابرموآ امراً فانا مبرمون :”ابرام“ کا معنی کسی چیز کو پختہ اور مضبوط کرنا ہے۔ اصل میں یہ رسی کو مضبوطی کے ساتھ بٹنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے :”ابرم فلان الحبل“ ”فلاں نے رسی کو خوب مضبوط کیا۔“ یعنی یا انہوں نے کسی کام کی پختہ تدبیر اور اس کا پکا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس سے مراد کفار کی خفیہ مجلسوں میں ان کے طے کردہ فیصلے میں جو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کرتے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قید یا قتل کرنے یا مکہ سے نکلنے کا پکا فیصلہ کرلیا۔ (دیکھیے انفال : 30) فرمایا، انہوں نے ایسے کسی کا م کا پختہ ارادہ کرلیا ہے تو ہم بھی پکی تدبیر کرنے والے ہیں۔ پھر سب نے دیکھا کہ وہ کس طرح ناکام و نامراد ہوئے اور اللہ کا دین کس طرح غالب رہا۔
Ayah 43:80(1) ام یحسبون انا لانسمع سرھم ونجولھم : یہاں ”سرھم“ سے مراد وہ باتیں ہیں جو وہ راز کے طور پر ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ طور پر آہستہ آواز میں کرتے ہیں، کیونکہ اگر ”سر“ سے دل میں موجود بات مراد ہو تو وہ سنی تمہیں جاتی، بلکہ اس کا علم ہوتا ہے اور ”نجولھم“ سے مراد ان کی مجلس مشاورت کی باتیں ہیں۔
(2) بلی ورسلنا لدیھم یکتبون : یعنی صرف یہی نہیں کہ ہم سنتے ہیں، بلکہ ہمارے فرشتے ثبوت کے طور پر لکھ بھی لیتے ہیں۔ (دیکھیے ق : 17، 18) یعنی ان کی خفیہ تدبیریں تو ہم سن رہے ہوتے ہیں، پھر وہ ان کی کامیابی کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔
Ayah 43:81قل ان کان للرحمن ولد…: کفار فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا۔ اب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ ان سے کہہ دیں کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ میرا اللہ تعالیٰ کی اولاد نہ ماننا اور جنھیں تم اللہ کی اولاد قرار دیتے ہو ان کی عبادت سے انکار کسی ضد یا ہٹ دھرمی کی بنا پر نہیں، بلکہا س وجہ سے ہے کہ ممکن ہی نہیں کہ اس ذات پاک کی اولاد ہو جس کا نام رحمان ہے۔ تفصیل کے لئے سورة مریم کی آیات (88 تا 98) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو، جیسا کہ کفار کہتے ہیں، تو سب سے پہلے اس اولاد کی عبادت کرنے والا میں ہوں، کیونکہ میرا اس کے ساتھ بندگی کا تعلق سب سے زیادہ ہے، جیسا کہ بادشاہ کے نوکر چاکر بادشاہ کی اولاد کی تعظیم ان کے والد کی تعظیم کی وجہ سے کرتے ہیں، لیکن رحمان کی اولاد ہے ہی نہیں، اس لئے میں اللہ واحد کے سوا کسی کی عبادت کرنے والا نہیں۔
یاد رہے کہ یہ جملہ شرطیہ ہے، اس میں شرط کا وجود بلکہ اس کا امکان بھی ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ناممکن چیز کو بھی بفرض محال شرط کے طور پر ذکر کردیا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(لو اراد اللہ ان یتخذ ولذدا لاصطفی مما یخلق مایشآء سبحنہ ھو اللہ الواحد القھار) (الزمر : 3)”اگر اللہ چاہتا کہ (کسی کو) اولاد بنئاے تو ان میں سے جنھیں وہ پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ضرور چن لیتا، وہ پاک ہے۔ وہ تو اللہ ہے، جو اکیلا ہے، بہت غلبے والا ہے۔“ اور فرمایا :(لوکان فیھمآ الھۃ الا اللہ لفسدتا) (الانبیائ : 22)”اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔
Ayah 43:82سبحن رب المسوت والارض رب العرش عما یصفون : یعنی اولاد ہونا کمزوری، محتاجی اور عجز کی دلیل ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : 111) جب کہ اللہ تعالیٰ عجز اور احتیاج سے پاک ہے۔ وہ آسمانوں کا زمین کا اور عرش کا مالک اور پروردگار اولاد سے اور ان تمام کمزوریوں اور عیبوں سے پاک ہے جو مشرک لوگ اس کے لئے بیان کرتے ہیں۔
Ayah 43:83فذرھم یخوضوا ویلعبوا …: یعنی اگر یہ ہدایت کا راستہ اختیار نہیں کرتے تو انہیں ان کی فضول بحث اور کھیل کود میں لگا رہنے دیں ، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن کو جا ملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس وقت ان پر سب حقیقت کھل جائے گی۔ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے یا موت کا دن یا دنیا میں عذاب کا دن۔
Ayah 43:84(1) وھو الذی فی السمآء الہ …: مشرکوں نے کچھ معبود آسمان میں بنا رکھے تھے، مثلاً فرشتے، سورج، چاند اورب عض ستارے اور کچھ زمین میں، جیسے ابنیائ، الویائ، ان کی قبریں اور بت ، درخت اور پتھر وغیرہ۔ فرمایا، زمین اور آسمان میں الگ الگ معبود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی دونوں کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔ دونوں جگہ اسی کی عبادت ہوتی ہے اور دونوں جگہ عبادت اسی کا حق ہے۔
(2) وھو الحکیم العلیم :”الحکیم“ کمال حکمت والا، جس نے ہر چیز محکم و مضبوط اور حکمت و دانائی کے ساتھ بنائی ہے اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ یہ معبود واحد ہونے کی دلیل ہے کہ کوئی دوسرا نہ حکیم ہے نہ علیم، تو پھر اس کی عبادت کیوں ہو ؟
Ayah 43:85وتبرک الذی لہ ملک السموت والارض …: یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اکیلا معبود ہونے کی دلیل ہے کہ بیشمار خیر و خربی کا مالک ہے وہ کہ آسمانوں میں اور زمین میں ہر جگہ اسی کی بادشاہی ہے۔ قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور تم اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے، نہ کہ کسی اور کی طرف۔ لہٰذا وہی ہے جو تمہیں تمہارے نیک یا بد اعمال کا بدلا دے گا۔
Ayah 43:86(1) ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشفاعۃ …: پچھلی آیت میں ”من دون اللہ“ کے پاس آسمانوں اور زمین کی اور ان کے درمیان کی کسی بھی چیز کی ملک ہونے کی نفی تھی، اس آیت میں ان سے شفاعت کی مل کیت کی بھی نفی فرما دی۔
(2) اس آیت کی دو تفسیریں ہیں، دونوں مراد ہوسکتی ہیں اور یہ قرآن کا اعجاز ہے۔ پہلی یہ کہ مشرکین جن ہستیوں کو یہ سمجھ کر پکارتے ہیں کہ وہ ان کی شفاعت کریں گی ان کے پاس شفاعت کا کوئی اختیار نہیں، مگر وہ لوگ جنہوں نے کلمہ حق یعنی ”لا الہ الا اللہ“ کی شہادت دی اور صرف زبانی نہیں بلکہ وہ اس کا یقین رکھتے تھے، مثلاً فرشتے، عیسیٰ ؑ اور اللہ کے دوسرے مقرب بندے۔ وہ چونکہ حق (توحید) کا یقین رکھ کر اس کی گواہی دیتے تھے اور انہوں نے کبھی لوگوں کو پانی عبادت کا حکم نہیں دیا، اس لئے وہ اللہ کے اذن سے سفارش کرسکیں گے۔ رہے بت اور دوسرے جھوٹے مشکل کشا اور حاجت روا، جن کی مشرکین پوجا کرتے ہیں، وہ تو اپنے آپ کو نہیں بچا سکیں گے بلکہ دوزخ کا ایندھن بنیں گے، کسی کی سفارش کیا کریں گے ؟ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”من شھد بالحق“ سے پہلے لازم جارہ محذوف ہے :”ای الا لمن شھد بالحق“ یعنی سفارش کرنے والوں کو صرف ان لوگوں کے حق میں سفارش کا اختیار دیا جائے گا جنہوں نے حق یعنی کلمہ ”لا الہ الا اللہ“ کی شہادت دی اور صرف زبانی نہیں بلکہ اس کا علم اور یقین بھی رکھتے تھے۔ رہے کفار یا منافقین، تو ان کے حق میں کوی شفاعت نہیں کرے گا۔ شفاعت کی مزید تفصیل کے لئے دیکھیے آیت الکرسی، سورة مریم (87) ، سبا (23) ، نجم (26) اور سورة نبا (38)۔
(3) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شہادت وہی معتبر ہے جو علم کے ساتھ دی جائے۔ دنیا میں اگرچہ ہر اس شخص کو مسلمان تصور کرلیا جاتا ہے جو زبانی کلمہ ”لا الہ الا اللہ“ کی شہادت دے، مگر قیامت کے دن اسی کی شہادت معتبر ہوگی جس نے دل کے یقین کیساتھ یہ شہادت دی ہوگی۔
Ayah 43:87(1) ولئن سالتھم من خلقھم…: اس آیت میں مشرکین کے قول و فعل کا تضاد واضح فرمایا ہے، یعنی جب مانتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے تو پیدا کرنے والے کو چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کیوں کرتے ہیں ؟ مالک کو چھوڑ کر ان کو مشکل کشا اور حاجت روا کیسے مان بیٹھے ہیں جنہوں نے کچھ پیدا ہی نہیں کیا۔
(2) فانی یوفکون : یعنی پھر بہکانے والے انہیں بہکا کر کہاں لے جا رہے ہیں ؟ ایک معنی ”فانی یوفکون“ کا یہ بھی ہے ”من ابن یوفکون“ کہ پھر و کہاں سے بہکائے جاتے ہیں، کون سی دلیل یا کیا سبب ہے جس کی وجہ سے یہ بہکائے جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اصل میں توحید پر ہوتا ہے۔ پھر شیاطین انسان ہوں یا جن اسے توحید سے بہکا کر شرک میں مبتلا کردیتے ہیں۔ اس لئے ایسے لوگوں سے بہت ہوشیار اور خبردار رہنا چاہیے، جیسا کہ عیاض بن حمار المجاشعی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے خطبہ میں فرمایا :(الا ان ربی امرنی ان اعلمکم ما جھلتم ما علمنی یومی ھذا کل مال نحلنہ عبدحلال و انی خلقت عبادی حنفاء کلھم وانھم انتھم الشاطین فاجتلھم عن دینھم و حرمت علیھم ما اخلک لھم و امرتھم ان یشرکوا بی مالم انزل بہ سلطانا) (مسلم ، الجنۃ وصفۃ نعیمھا و اھلھا، باب الصفات التی یعرف بھا فی الدنیا اھل الجنۃ و اھل النار :2865) ”سنو ! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں جن سے تم ناواقف ہو، ان باتوں میں سے جو اس نے مجھے آج سکھائی ہیں۔ (وہ فرماتا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا (وہ اس کے لئے) حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو خنفاء ایک اللہ کی طرف ہوجانے والے) پیدا کیا، ان کے پاس شیاطین آئے تو انہوں نے انھیں ان کے دین سے بہکا دیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لئے حلال کی تھیں اور انہیں حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنائیں جن کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔“
Ayah 43:88وقیلہ یرب ان ھولآء …:”قیل ، قال“ اور ”قول“ تینوں ’ قال یقول“ کے مصدر ہیں، معنی ہے کہنا۔”قتیلہ“ میں ضمیر ”ہ“ رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس آیت کی متعدد تفسیریں کی گئی ہیں، ان میں سب سے واضح تین ہیں۔ پہلی یہ کہ ”وقیلہ یرب“ قسم ہے : ای اقسم بقولہ یا رب“ اور ”ان ھولآء قوم لایومنون“ جواب قسم ہے۔ یہ تفسیر زمخشری نے کی ہے اور ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں رسول کے ”یا رب یا رب“ کہنے کی قسم کھاتا ہوں کہ یقیناً یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائیں گے۔ اگلی آیت میں فرمایا :(فاصفح عنھم و قل سلم) اس لئے ان سے درگزر کر اور کہہ سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ ساری آیت قسم ہے، جواب اس کا محذوف ہے جو قرینے سے معلوم ہو رہا ہے۔ قرینے کے پیش نظر قسم کا جواب حذف کرنا کلام عرب میں عام ہے۔ یعنی میں رسول کے ”اے میرے رب ! یہ تو ایسے لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہی نہیں“ کہنے کی قسم کھاتا ہوں کہ میں ضرور کافروں کے اس رویے کے خلاف اس کی مدد کروں گا۔ قرینہ اگلی آیت ہے کہ پس تو ان سے درگزر کر اور کہہ سلام ہے، کیونکہ وہ بہت جلد جان لیں گے کہ رسول کی مدد کیسے ہوتی ہے اور ان لوگوں سے انتقام کیسے لیا جاتا ہے۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ واؤ بمعنی ”رب“ ہے جو حرف جا رہے،”قیلہ“ اس کے ساتھ مجرور ہے۔ یعنی کئی دفعہ رسول کا حسرت و افسوس کے ساتھ کہنا یہ ہوتا ہے کہ اے میرے رب ! یہ تو ایسے لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہی نہیں۔
ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ”وقیلہ“ میں ”قیل“ کا عطف اوپر گزری ہوئی آیت ”عندہ علم الساعۃ“ میں لفظ ”الساعۃ“ پر ہے، یعنی ”وعندہ علم الساعۃ و علم قیلہ یا رب ھولا قوم لایومنون“ یعنی ”اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور رسول کے اس قول کا بھی کہ اے میرے رب ! یہ تو ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔“ مگر معطوف علیہ اور معطوف کے درمیان اتنا لمبا فاصلہ بعید بات ہے۔
Ayah 43:89فاصفح عنھم وقل سلم…: یعنی آپ کی فریاد ہم نے سن لی، اب ہم جانیں اور وہ، آپ ان سے درگزر کریں اور ان سے برأت اور قطع تعلق کے اظہار کے لئے کہہ دیں کہ سلام ہے۔ چناچہ وہ بہت جلد جان لیں گے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔