Ayahs 42:1–2حم عسق : یہ حروف مقطعات ہیں، ان کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Ayah 42:3(1) کذلک یوحی الیک :”کذلک“ (اسی طرح) سے مراد ایک تو وہ مضامین و معانی ہیں جو اس قرآن یا اس سورت میں ہیں، یعنی آپ کی طرف توحید، آخرت، نبوت اور دوسرے عقائد و اعمال اور واقعات پر مشتمل جو وحی کی گئی ہے۔ یہ کوئی نرالی نہیں کہ کفار کو اس پر تعجب ہو رہا ہے، بلکہ ایسے ہی مضامین کی وحی اللہ تعالیٰ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے پیغمبروں کی طرف کرتا چلا آیا ہے۔ بعض وقتی احکام میں فرق ہوسکتا ہے، مگر اصل دعوت جس کے لئے آپ کو اور پہلے تمام پیغمبروں کو مبعوث کیا گیا ایک ہی ہے، جیسا کہ فرمایا :(وما ارسلنا من قبلک من رسول الا لوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) (الانبیائ : 25َ)”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الانبیاء اخوہ لعلات، امھاتھم شتی و دینھم واحد) (بخاری، احادیث الانبیائ، باب قول اللہ تعالیٰٓ :(واذکر فی الکتاب مریم…):3773)”انبیاء علاتی (مختلف ماؤں سے پیدا ہونے والے) بھائی ہیں، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“ اور ”کذلک“ (اسی طرح) سے مراد وحی کرنے کا طریقہ بھی ہے، یعنی جس طرح یہ سورت یا یہ کتاب آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح آپ سے پہلے پیغمبروں کی طسرف بھی وحی کرتا چلا آیا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنی رسالت کے لئے چن لیتا ہے، پھر اس کے ساتھ وحی کی ان صورتوں میں سے کسی صورت کے ساتھ کلام کرتا ہے جو اس نے اس سورت کے آخر میں کسی بھی بشر کے ساتھ کلام کرنے کی بیان فرمائی ہیں۔ (دیکھیے شوریٰ : 51، 52) کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کیوں نازل نہیں کی، یا مجھ سے کلام کیوں نہیں فرمایا۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ حارث بن ہشام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا :”یا رسول اللہ ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے ؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(احیاناً یاتینی مثل صلصلۃ الجرس وھو اشدہ علی فیفصم عنی وقد و عیت عنہ ما قال، واحیاناً یتمسل لی الملک رجلاً فیکلمنی فاعی مایقول فالت عائشۃ ؓ ولقد رائیۃ ینزل علیہ الوحی فی الیوم الشدید البرد، فیقصم عنہ و ان جبینہ لیتفصد عرقاً) (بخاری) بدء الوحی الی الرسول ﷺ (باب : 2)”میرے پاس وحی کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح آتی ہے جو مجھ پر وحی کی سب سے زیادہ سخت صورت ہے، پھر وہ مجھ سے اس حال میں ختم ہوتی ہے کہ جو کچھ مجھے کہا ہے وہ میں یاد کرچکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ ایک آدمی کی شکل میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے ، تو جو کچھ وہ کہتا ہے میں یاد کرلیتا ہوں۔“ عائشہ ؓ نے فرمایا :”میں نے آپ کو سخت سردی والے دن میں آپ پر وحی اترنے کی حالت میں دیکھا کہ وہ کیفیت آپ سے ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پسینے سے ٹپک رہی ہوتی تھی۔“
(2) والی الذین من قبلک : اس تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نساء کی آیات (163 تا 165)۔
(3) اللہ العزیز الحکیم : سورة نساء کی آیات، جن کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے، ان میں پیغمبروں کی طرف وحی کا ذکر فرما کر بات کا خاتمہ اپنے ہمیشہ سے عزیز و حکیم ہونے کے ساتھ کیا، چناچہ فرمایا :(وکان اللہ عزیزاً حکیماً) (النسائ : 165)”اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ قرآن مجید میں جہاں جہاں وحی نازل کرنے کا ذکر ہے اس کے بعد مقام کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کے بعض اسماء وصفات کا ذکر بھی ہے۔ کتاب اللہ نازل کرنے کے ساتھ عزیز و حکیم کے ذکر کی مناسبت کے لئے دیکھیے سورة زمر کی پہلی آیت کی تفسیر، ساتھ سورة مومن کی پہلی آیت کی تفسیر بھی ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 42:4(1) لہ ما فی السموت وما فی الارض : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اگر محمد (ﷺ) پر یہ کتاب پہلے پیغمبروں کی طرح نازل ہوئی ہے تو ہوتی رہے، ہم پر کیوں لازم ہے کہ ہم اس کے احکام کی پابندی کریں اور اپنی مرضی پر عمل نہ کریں ؟ فرمایا : اس لئے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، خود تم بھی اس کی ملکیت ہو۔ بھلا وہ مالک برداشت کرسکتا ہے کہ اس کی ملکیت میں کسی اور کی خدائی چلے اور اس کا مملوک ہو کر کوئی اپنی مرضی کرتا پھرے اور اس کے بھیجے ہوئے احکام پر عمل نہ کرے۔ مزید دیکھیے آیت الکرسی یعنی سورة بقرہ کی آیت (255) میں اس جملے کی تفسیر۔
(2) وھو العلی العظیم : بےحد بلندی اور بےانتہا عظمت والا صرف وہی ہے (العلی العظیم خبر پر الف لام آنے سے قصر پیدا ہوگیا کہ وہی علی و عظیم ہے) تو وہ کیسے گوارا کرسکتا ہے کہ اس کی بنائی ہوئی مخلوق اس کے مقابلے میں بےحد پست اور بےانتہا حقیر ہو کر اس کے احکام نہ مانے۔
Ayah 42:5(1) تکاد السموت یتفطرن من فوقھن :”وھو العلی العظیم“ کے بعد یہ فرمانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے علی و عظیم ہونے کی وجہ سے اس کے رعب اور لجال کا یہ عالم ہے کہ آسمان اس کی ہیبت و قوت بردشات نہ کرتے ہوئے پھٹ جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت وہیبت کا آسمانوں پر جو اثر ہے اس کا کچھ اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے جو ابو ذر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(انی اری ما لا ترون واسمع ما لا تسمعون اطب السمآء و حق لھا ان تئط ما فیھا موضع اربع اضابع الا وملک واضح جبھنہ ساجد اللہ، واللہ ! لو تعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلاً ولیکیتم کثیراً وما تلدذتم بالنساء علی الفرش ولخرجنم الی اصعدات تج اور ن الی اللہ) (ترمذی، الزھد، باب فی قول النبی ﷺ لو تعلمون… 2312 وحسبنہ الترمذی و قال البانی حسن)”میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کا حق ہے کہ چر چرائے، اس میں چار انگلیوں کی جگہ نہیں مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھ کر اللہ کے لئے سجدے میں ہے۔ اللہ کی قسمچ اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ، اور تم بستروں پر عورتوں سے لذت حاصل نہ کرو اور تم اللہ کی طرف گڑ گڑاتے ہوئے بیابانوں کی طرف نکل جاؤ۔“ اور ایک مطلب یہ ہے کہ اس عزیز و حکیم اور علی و عظیم مالک کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لانے اور اس اکیلے کی عبادت کے بجائے کسی مخلوق کو جس کے اختیار میں کچھ بھی نہیں، مشکل کشا، حاجت روا، داتا، دستگیر، غریب نواز، بگڑی بنانے والا اور ڈوبتے ہوئے کو پار لگانے والا مان لینا، یا اسے اللہ تعالیٰ کی بیوی یا بیٹا یا اس کے ذاتی نور کا ٹکڑا قرار دے کر اس کی عبادت اور اس سے مانگنا شروع کردینا کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ اتنی خوفناک بات ہے کہ قریب ہے یہ بات کہنے پر آسمان اپنے اوپر سے گرپڑیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ڈھے کر گرپڑیں۔ سورة مریم کی آیات (88 تا 95) میں یہ بات تفصیل سے بیان ہوئی ہے، وہ آیات مع تفسیر ملاحظہ فرما لیں۔
(2) من فوقھن : آسمانوں کے انپے اوپر سے پھٹنے کا مطلب یہ ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اپنے اوپر کی جانب سے پھٹ جائیں۔ چناچہ سب سے اوپر والا آسمان پھٹ کر نیچے والے آسمان پر گرے، وہ اس سے نچلے پر گرے، اس طرح تمام آسمان پھٹیں اور نیچے والوں کے اوپر گرجائیں۔ آسمانوں کے اپنے اوپر سے پھٹنے کی وجہ وہاں بیشمار فرشتوں کا سجدہ ریز ہونا اور عرش الٰہی کے قریب ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کی ہیبت کے آثار کا بہت زیادہ ہونا ہے۔
(3) والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم : تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کو ہر عیب اور ہر کمی سے پاک قرار دینا اور حمد سے مراد اسے ہر خوبی کا مالک قرار دینا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی توحید ہے اور اس کی طرف منسوب کئے جانے والے تمام عیوب میں سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ کوئی اس کا شریک ہے یا اس کی اولاد بیوی ہے۔ سب سے بڑا عیب اس لئے کہ یہ مان لینے کی صورت میں اس کا محتاج اور عاجز ہونا ثابت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے لئے گالی قرار دیا۔ فرشتے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی صفات جمال و جلال اور صفات کمال کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔
(4) ویستغفرون لمن فی الارض : اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ ”لمن فی الارض“ سے مراد مومن ہیں اور فرشتے زمین والوں میں سے صرف ایمان والوں کے لئے استغفار کرت ہیں، کیونکہ دوسری جگہ فرمایا :(الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمد ربھم و یومنون بہ ویستغفرون للذین امنوا، ربنا وسعت کل شیء رحمۃ و علما فاغفر للذین تابوا و اتبعوا سبیلک وقھم عذاب الجحیم) (المومن : 8)”وہ (فرشتے) جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے اردگرد ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو ایمان لائے، اے ہمارے رب ! تو نے ہر چیز کو رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے، تو ان لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے اور انہیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا۔“ مگر بعض مفسرین نے فرمایا :”آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ (فرشتے ان لوگوں کے لئے استغفار کرتے ہیں جو زمین میں ہیں) اس میں مومن و کافر دونوں شامل ہیں اور فرشتوں کے مسلم و کافر سب کے لئے استغفار کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام زمین والوں کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں، خواہ مومن ہوں یا کافر کہ اے اللہ ! ان کے لئے ایسے اسباب مہیا فرما جن کی بدولت ان سے عذاب ٹلے، کافر ہیں تو ایمان لائیں، فاسق ہیں تو توبہ کریں، تاکہ ان کی بخشش ہوجائے۔“ قرطبی نے اس بات کو راجح قرار دیا ہے۔
اس تفسیر پر ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور ایمان کو مشرکین کے لئے استغفار سے منع فرمایا ہے، آپ استغافر کا کوئی بھی معنی کرلیں فرشتوں کا کفار و مشرکین کے لئے استغافر ممکن ہی نہیں، کیونکہ وہ اپنے رب کے کسی حکم کی نافرمانی کرتے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا :(لایعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یومرون) (التحریم : 6)”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انہیں حکم دے اور وہ کرتے ہیں جو حکم دیئے جاتے ہیں۔“ اس سوال کا جواب اسی آیت میں موجود ہے جس میں مشرکین کے لئے استغفار سے منع کیا گیا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ماتبین لھم نھم اصحب الجحیم) (التوبۃ : 113)”اس نبی اور ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لئے بخشش کی داع کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لئے صاف ظاہر ہوگا کہ یقینا وہ جہنمی ہیں۔“ معلوم ہوا مشرکین کے لئے استغفار اس وقت منع ہے جب ان کا جہنمی ہونا واضح اور یقینی ہوجائے اور ظاہر ہے کہ کسی کے جہنمی ہونے کا یقین اس کے کفر پر مرنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ جب تک کوئی زندہ ہے کسی وقت بھی اسے ایمان کی توفیق عطا ہوسکتی ہے اور یہ علم کہ کس نے کفر پر مرنا ہے کسی انسان، جن یا فرشتے کو نہیں، اس لئے کفار کے لئے ہدایت کی دعا کرنا، جس سے ان کی بخشش ہوجائے، جائز بلکہ سنت ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ طفیل بن عمرو دسوی ؓ اور ان کے ساتھی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے :”یا رسول اللہ چ دوس قبیلے نے نافرمانی کی ہے اور ایمان لانے سے اناکر کردیا ہے، آپ ان پر بد دعا کریں۔“ لوگوں نے کہا : ”’ وس قبیلہ ہلاک ہوگیا۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اللھم اھد دوساً وائت بھم) (بخاری، الجھاد، باب الدعاء للمشرکین بالھدی لیتالفھم :2938)”اے اللہ ! دوس قبیلے کو ہدایت دے اور انھیں لے آ۔“
(5) اس آیت سے فرشتوں کی صاف دلی اور زمین والوں کے لئے خیر خواہی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھی انسانوں کے باپ کو سجدے کے حکم سے انکار پر ابلیس معلون ٹھہرا تھا، جب کہ اللہ کے حکم سے فرشتوں نے سجدہ بھی کیا اور ان کے حق میں دعائیں بھی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ (وہ متکبر تھا ملعون ٹھہرا، یہ متواضع تھے مقرب ٹھہرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی ہی صاف دلی عطا فرمائے اور ہماری طرف سے فرشتوں کو بہتر بد لا عطا فرمائے۔ (آمین)
(6) الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم : خبر ”الغفور الرحیم“ پر الف لام اور ضمیر فصل ”ھو“ سے قصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے ، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے،”سن لو ! بیشک اللہ تعالیٰ ہی بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ یعنی کسی اور میں یہ صفات نہیں ہیں۔ اس میں مشرکین کو تنبیہ ہے کہ بخشنے والا اور رحم کرنے اولا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اگر یہ بات فرشتوں کے اختیار میں ہوتی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی درخواست کیوں کرتے ؟
Ayah 42:6(1) والذین اتخذوا من دونہ اولیآء اللہ …: اس جملے میں مشرکین کے لئے بہت شدید ڈانٹ اور دھمکی ہے کہ اوپر آیات میں جس اللہ کا ذکر ہوا، جو عزیز و حکیم اور علی و عظیم ہے، جس کی ہیبت سے آسمان پھٹنے کے قریب رہتے ہیں اور جس کی تسبیح و حمد تمام فرشتے کرتے ہیں، جن لوگوں نے اس اللہ کے سوا کسی قسم کے کار ساز بنائے، جو ان کے خیال میں فوق الفطرت طریقے سے ان کی حاجتیں و مرادیں برلاتے اور ان کی دستگیری و فریاد رسی کرتے ہیں، ان کے ایک ایک عمل کو نص
دیکھ رہا ہے وہ سب اس کے پاس محفوظ ہیں اور بہت جلد وہ انھیں ان کا بدلا دے گا۔
(2) وما انت علیھم بوکیل ”مآئ“ نافیہ کی تاکید ”بوکیل“ کی باء کے ساتھ ہو رہی ہے اور ”بوکیل“ کی تنوین تنکیر کے لئے ہے، اس لئے ترجمہ ”تو ہرگز ان کا کوئی ذمہ دار نہیں“ کیا گیا ہے۔”وکل یکل“ (ض) سپرد کرنا۔”وکیل“ جس کے سپرد کوئی کام کردیا جائے، ذمہ دار، یعنی ان کفار و مشرکین کی نگرانی اور ان کے اعمال کی جزا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، آپ انھیں ہدایت دینے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس لئے آپ کو زیادہ پریشان یا غمزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، جیسا کہ فرمایا :(انما انت نذیر واللہ علی کل شیء وکیل) (ھود : 12) ”تو تو صرف ڈرانے والا ہے اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔ ‘ ‘ مزید دیکھیے سورة یونس (99، 100) اور سورة انعام (35)۔
Ayah 42:7(1) وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیناً : قرآن عربی زبان میں نازل کرنے کی چند حکمتوں کیے جاننے کے لئے دیکھیں سورة یوسف کی آیت (2) کی تفسیر۔
(2) لتنذر ام القریٰ ومن حولھا :”ام القریٓ“ کا معنی بستیوں کی ماں یا بستیوں کی جڑ یا اصل ہے، یعنی بستیوں کا مرکز۔ مراد مکہ معظمہ ہے، کیونکہ زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے سب سے پہلا گھر یہیں تعمیر ہوا، جسے تمام دنیا کی ہدایت کا مرکز قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا :(ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبرکا وھدی للعلمین) (آل عمران : 96)”بیشک پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا، یقیناً وہی ہے جو مکہ میں ہے، بہت بابرکت اور جہانوں کے لئے ہدایت ہے۔“ تمام دنیا کے لوگوں کے لئے اس شہر میں موجود بیت اللہ کا حج صاحب استطاعت لوگوں پر فرض کیا یا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے تمام روئے زمین سے بہتر قرار دیا۔ عبداللہ بن عدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ”حزورۃ“ (شہر مکہ کی ایک جگہ) پر کھڑے دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا :(واللہ ! انک الخیر ارض اللہ واحب ارض اللہ الی اللہ ولولا انی اخرجت منک ما خرجت) (ترمذی، المناقب، باب فی فضل مکۃ : 3925 وقال الالبانی صحیح)”اللہ کی قسم چ یقیناً تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر اور اللہ کی زمین میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور اگر مجھے اس سے نکالا نہ جاتا تو میں نہ نکلتا۔“ آپ ﷺ پر وحی کی ابتدا یہاں سے ہوئی اور آپ کی دعوت کا آغاز یہیں سے ہوا۔
(3) یہاں ایک سوال ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو کل عالم اور تمام روئے زمین کے لئے ڈرانے والے تھے، پھر یہاں آپ کے بھیجنے کا مقصد صرف مکہ اور اس کے اردگرد کو کیوں بتایا گیا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اول تو ”من حولھا“ میں پوری زمین شامل ہے، مکہ پوری زمین کا مرکز ہے، سب اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور اس کے حج کے لیء جاتے ہیں۔ اگر ”من حولھا“ سیق ریب قریب اردگرد کی بستیاں مراد کی جائیں تب بھی آپ کو مکہ اور اس کے اردگرد ڈرانے کیلئے بھیجنے کی بات کا مقصد یہ نہیں کہ آپ دوسری اقوام کی طرف مبعوث نہیں، جیسا کہ فرمایا :(وانذر عشیرتک الاقربین) (الشعرائ :213)”اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا۔“ سب جانتے اور مانتے ہیں کہ اس کا مقصد یہ نہیں کہ آپ صرف قریبی رشتہ داروں کے لئے مبعوث ہوئے تھے ، ورنہ اہل مکہ و مدینہ کو دعوت دینے کی کیا ضرورت تھی ؟ ا سی طرح نبی ﷺ کو ام القریٰ اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو ڈرانے کے لئے بھیجنے کا مقصد آپ ﷺ کی دعوت کو یہاں تک محدود کرنا نہیں۔ اس بات کا ذکر کہ آپ ﷺ کی بعثت تمام جن و انس کے لئے اور قیامت تک کیلئے ہے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (19) ، اعراف (158) ، فرقان (1) ، احقاف (29 تا 32) اور سورة سبا (28)۔
(4) وتنذر یوم الجمع :”انذر ینذر“ (ڈرانا) کے دو مفعول ہوتے ہیں، کیونکہ ڈرانے میں دو چیزیں محلوظ ہوتیہیں، ایک یہ کہ کسے ڈرایا جا رہا ہے اور دوسری یہ کہ اسے کس چیز سے ڈرایا جا رہا ہے۔ اس آیت میں ”لتنر ام القریٰ ومن حولھا“ اور ”وتنذر یوم الجمع“ دو جملے ہیں، دونوں میں ”تنذر“ کے دو دو معفول ہیں۔ پہلے جملے میں پہلا مضمون ذکر فرمایا اور دوسرا حذف کردیا، جو آیت کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے :”ای لتذر ام القریٰ ومن حولھا العذاب“”یعنی تاکہ قوم القریٰ اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو عذاب سے ڈرا دے۔“ دوسرے جملہ میں پہلا مفعول حذف کردیا اور دوسرا ذکر فرمایا۔”ای لتنذر ام القری ومن حولھا یوم الجمع“”یعنی تاکہ تو ام القریٰ اور اس کے اردگرد کی بستیوں کو یوم الجمع سے ڈرا دے۔“
مطلب یہ ہے کہ اسی طرح ہم نے تیری طرف عربی قرآن وحی کیا ، تاکہ تو بستیوں کے مرکز اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو گزشتہ اقوام پر آنے والے عذاب سے ڈرائے اور تاکہ تو ام القریٰ اور اس کے اردگرد کی بستیوں کو گزشتہ اقوام جیسے عذاب کے ساتھ ساتھ یوم الجمع سے بھی ڈرائے۔ اتنی لمبی بات کو ان مختصر الفاظ میں سمیٹ دیا :(لتنذر ام القریٰ ومن حولھا وتنذر یوم الجمع) اسے احتباک کہتے ہیں اور اس سے کلام میں اختصار، جامعیت اور حسن پیدا ہوتا ہے۔
(5) ”یوم الجمع“ قیامت کے دن کو کہتے ہیں، کیونکہ اس دن سب پہلے پچھلے جمع ہوں گے، جیسا کہ فرمایا :(یوم یجمعکم لیوم الجمع ذلک یوم التغابن) (التغابن : 9)”جس دن وہ تمہیں جمع کرنے کے دن کے لئے جمع کرے گا، وہی ہار جیت کا دن ہے۔“
(6) لاریب فیہ :”جس میں کوئی شک نہیں“ کیونکہ یہ بات فطرت میں رکھ دی گئی ہے کہ مالک اپنے غلاموں کو کسی کام پر مقرر کر، پھر وہ ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کریں تو ضروری ہے کہ وہ کسی دن انھیں اکٹھا کر کے مظلوم کو ظالم سے انصاف دلائے، اگر ایسا نہیں کرے گا تو بےانصاف شمار ہوگا۔ تو احکم الحاکمین کے سب کو جمع کرنے کے دن میں کیا شک ہوسکتا ہے ؟ رہی یہ بات کہ کچھ لوگ اس میں شک کرتے ہیں، تو ان کے شک کو کالعدم قرار دیا کہ اس کا کچھ اعتبار نہیں۔
(7) فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر : یہ ”یوم الجمع“ کا انجام ہے کہ ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک گروہ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائے گا۔
Ayah 42:8(1) ولو شآء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فریق جنتی اور ایک جہنمی کیوں بنایا، سبھی کو ایک جیسا کیوں نہیں بنادیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا تو جس طرح اس نے کائنات کی تمام چیزوں کو بےاختیار بنایا ہے وہ جن وانس کو بھی کسی قسم کا اختیار نہ دیتا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو وہ سب دین حق پر ہوتے، مگر اس نے انہیں اختیار اور ارادہ میں آزادی دے کر پیدا فرمایا، تاکہ ان کا امحتان ہو اور اس کی صفات رحمت، غضب اور عدل کا ظہور ہو۔ یہ اس کی مشینت ہے، جس میں بیشمار حکمتیں ہیں، جنہیں پوری طرح وہی جانتا ہے، انسان چاہے بھی تو ان کی تہ تک نہیں پہنچ سکتا، وہ اتنا ہی جان سکتا ہے جتنا پروردگار چاہے۔
(2) ولکن یدخل من یشآء فی رحمتہ : نیکی و بدی کی تمیز اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی آزادی دینے کے بعد وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، مگر اس کی یہ مشینت اندھی نہیں کہ اس کا کوئی قاعدہ نہ ہو، بلکہ اس سے اگلے جملے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کے حق دار بنتے ہیں اور وہ کون ہیں جو اس سے محروم رہتے ہیں۔
(3) والظلمون مالھم من ولی ولا نصیر : قرآن مجید کی اصطلاح میں ”ظلم“ اور ”ظالمین“ کا لفظ شرک اور مشرکین کے لئے استعمال ہوتا ہے (دیکھیے انعام : 82) اور ”قسط“ اور ”عدل“ کا لفظ توحید کیلئے آیا ہے، کیونکہ سب سے بڑا ظلم شرک ہے اور سب سے بڑا عدل توحید ہے، جیسا کہ فرمایا :(شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو و المئکۃ و اولو العلم قآئما بالقسط) (آل عمران :18)”اللہ نے گواہی دی کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔“ ارادہ و عمل کا اختیار ملنے کے بعد جن لوگوں نے اپنی جان پر ظلم کیا، اپنے خالق ومالک اور رازق کو اکیلا معبود بنانے اور اسی کی عبادت پر قائم رہنے کے بجائے غیروں ک و معبود بنایا، جن کے اختیار میں کچھ بھی نہیں، تو ان کا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔ معلوم ہوا ایسے لوگ اللہ کی رحمت میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ انہیں اپنی رحمت میں داخل کرنا اللہ تعالیٰ کے عدل اور مشیت کے خلاف ہے اور وہ خود بھی اللہ کی رحمت سے ناامید ہیں، ورنہ کبھی غیروں کی طرف نہ جاتے، جیسا کہ فرمایا :(اولئک یسوا من رحمتی) (العنکبو : 23)”وہ میری رحمت سے ناامید ہوچکے ہیں۔“ یہی بات نہایت وضاحت کے ساتھ سورة دہر (29، 30) میں بیان فرمائی گئی ہے۔ ہاں جو لوگ ایمان لائیا ور اس میں ظلم عظیم یعنی شرک کی آمیزش نہیں کی وہی اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہوں گے اور وہی اس کی امید رکھ سکتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(اولئک یرجون رحمت اللہ) (البقرۃ :218)”وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔“
(4) اس آیت میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی بھی دی گی ہے کہ اگر کچھ لوگ حق واضح ہونے کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے اور کفر و شرک پر اڑے رہتے ہیں تو آپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا، مگر یہ جبر ہوتا جو اللہ تعالیٰ کی مشیت نہیں۔ اس نے اپنی حکمت اور مشیت کے تحت انسان کو اختیار دے رکھا یہ، جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر کرے، اس لئے لوگوں میں یہ اختلاف ہمیشہ رہے گا۔ یہ مضمون متعدد آیات میں بیان ہوا ہے، دیکھیے سورة یونس (99، 100) ، ہود (118، 119) اور سورة سجدہ (13)۔
Ayah 42:9ام اثخذوا من دونہ اولیآء …: پچھلی آیت میں جو فرمایا کہ ظالموں کے لئے نہ ولی (دوست) ہے نہ کوئی مددگار، یہ اس کی تفصیل ہے کہ آیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر کوئی اولیاء کار ساز اور دوست بنا رکھے ہیں۔ سو اصل دوست جو فی الواقع کارسازی اور مدد کرسکتا ہے وہ تو صرف اللہ ہے۔ ساتھ ہی اس کی دو زبردست دلیلیں بیان فرمائیں کہ وہی مردوں کو زندگی بخشا ہے اور بخشے گا اور وہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، کیونکہ اس کا حق وہی رکھتا ہے جس میں یہ صفات ہوں۔ پھر اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ ایسی ہستیوں کو الویاء اور کار ساز بنا لیا جائے جو کسی کو زندگی بخشا تو درکنار خود مرنے والے ہیں۔ پھر اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ ایسی ہستیوں کو اولیاء اور کار ساز بنا لیا جائے جو کسی کو زندگی بخشا تو درکنار خود مرنے والے ہیں۔ فرمایا :(اموات غیر احیآء وما یشعرون ایان یبعثون) (النحل : 21)”مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے۔“ ہر چیز پر قدرت تو بہت دور، ایک ذرے کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دیکھیے سورة سبا (22)۔
Ayah 42:1010(1) وما اختلقتم فیہ من شیء …: یہ آیت اگرچہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے مگر یہ بات رسول اللہ ﷺ کی زبان سے کہلوائی گئی ہے، جیسا کہ سورة فاتحہ بندوں کی زبانی کہلوائی گئی ہ۔
(2) اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک اور ولی و کار ساز ہے۔ موت و حیات اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، ان صفات سے خود بخود وہ بات ثابت ہو رہی ہے جو اس آیت میں فرمائی ہے کہ جب مالک وہ ہے تو حاکم بھی وہی ہے اور انسانوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا فیصلہ بھی اسی کا کام ہے۔ وہ اختلاف عقیدہ میں ہو یا عمل میں، عبادات میں ہو یا معاملات میں، نیکی و بدی قرار دینے میں ہو یا حلال و حرام ٹھہرانے میں، غرض ہر بات میں فیصلہ اسی کا چلے گا۔ کسی اور کو یہ حق دینا کہ وہ شریعت سازی کرے یا حلال و حرام کا فیصلہ کرے درحقیقت اس کی عبادت اور اسے اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا ہے، فرمایا :(ان الحکم الا للہ ، امر الا تعبدوا الا ایاہ) (یوسف : 30)”حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت مت کرو۔“ مزید دیکھیے سورة یوسف (67) ، انعام (57) ، مائدہ (44) ، کہف (26) اور سورة قصص (70، 88)
رسول اللہ ﷺ ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سے اور اس کے حکم کے تحت کرتے، اس لئے آپ ﷺ کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر تنازع کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کرنے کو ایمان کی شرط قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا (فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ و الرسول ان کنتم تومنون بالل والیوم الاخر) (النسائ : 59)”پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے رسول اللہ اور رسول کی طرف لٹواؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو۔“ اور فرمایا :(فلا و ربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرماً مما قضیت و یسلموا تسلیماً (النسائ : 65) ”پس نہیں ! تیرے رب کی قسم ہے ! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑجائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کرلیں، پوری طرح تسلیم کرنا۔“
(3) یہود و نصاریٰ نے اپنے احبارو رہبان کو حلال و حرام کے فیصلے کا اختیار دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے اپنے احبارو رہبان کو ”ارباباً من دون اللہ“ بنا لیا۔ دیکھیے سورة توبہ (31) کی تفسیر۔
(4) یہود و نصاریٰ نے ایک مدت تک حلال و حرام قرار دینے کا اختیار آسمانی شریعت کیب جائے اپنے احبارو رہبان کو دیئے رکھا، آخر کار انہوں نے یہ تکلف بھی برطرف کیا اور پانی آسمانی کتاب یا احبارو رہبان کے بجائے جمہوریت کے نام پر یہ اختیار خود سنبھال لیا کہ عوام کی اکثریت جو فیصلہ کرے وہ حق ہے، ان کے منتخب نمائندے اپنی اکثریت کسی چیز کو حلال کہہ رہی ہے تو وہ حلال ہے، کچھ دن بعد اکثریت اگر حرام کہہ دے تو وہ حرام ہے۔ اب تو رات کی ہر قید جو طبیعتوں پر گراں تھی توڑ دی گئی، باہمی رضا سے زنا جائز قرار دیا گیا، رجم کو کالعدم کردیا گیا، قوم لوط کا عمل جائز قرار دیا گیا، قتل اور قطع اعضا میں قصاص ختم کردیا گیا اور سود حلال ٹھہرا۔ غرض جمہوریت کے نام پر ایک نئی شریعت ایجاد کی گئی جس کا رب، رسول اور شریعت سب کچھ انسان قرار پائے اس طرح بندوں کو مالک کی گدی پر بٹھا دیا گیا۔
(5) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا :(لتبعن سنن من کان قبلکم شبراً شبراً وذراعاً ذراعاً ، حتی لود خلوا حجر، ضب تبعتموھم ، قلنا یا رسول اللہ ! الیھود والنصاری ؟ قال فمن ؟) (بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب قول النبی ﷺ :”لتبعن سنن من کان قبلکم :“ 8320، عن ابی سعید الخدری ؓ ”تم ہر صورت اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چل پڑو گے، جیسے بالشت بالشت کے ساتھ اور ہاتھ ہاتھ کے ساتھ برابر ہوتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے تو تم ان کی پیروی کرو گے۔“ ہم نے کہا :”یا رسول اللہ ! یہود و نصاریٰ کے طریقوں پر ؟“ آپ نے فرمایا :”تو اور کون ؟“
مسلمان خیر القرون میں اور اس کے کچھ عرصہ بعد تک صرف اور صرف قرآن و سنت پر کار بند رہے، یہ اسلام کی ترقی و عروج کا دور ہے، پھر بعض ائمہ کی تقلید شروع ہوئی اور ان کے نام پر ایس گروہ بندی اور فرقہ سازی ہوئی کہ بعض لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے امام کا قول اللہ اور اس کے رسول کے صریح خلاف ہے، اپنے امام کے قول پر اڑ گئے۔ احبارو رہبان کو ارباب بنانے کا نقشہ اہل کتاب کی طرح الہ اسلام میں بھی نظر آنے لگا، حتیٰ کہ یہ دین حق کئی مذہبوں میں تقسیم ہوگیا۔ ہر کسی کی مساجد الگ، عدالتیں اور قاضی الگ ہوگئے، امت کی وحدت جو صرف کتاب و سنت کو حاکم ماننے سے حاصل ہوتی تھی پارہ پارہ ہوگئی، مسلمانوں کی توانائیاں کفار کے ساتھ جہاد اور اس کی تیاری کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف صرف ہونے لگیں۔ یہی لوگ حاکم تھے یہی قاضی، اصلاح کی آوازیں اٹھتی رہیں، مگر بےسود، چناچہ کچھ مدت تک تو کتاب و سنت سے انحراف کے باوجود الگ الگ سلطنتوں کی شکل میں مسلمانوں کی حکمرانی کا سلسلہ چلتا رہا، پھر باہمی فساد اور ترک جہاد کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چار ملکوں کے سوا تمام مسلم ممالک نصرانی یا کمیوسنٹ کفار کے قبضے میں چلے گئے، جنہوں نے جبراً ان ممالک میں اپنے کفر یہ احکام نافذ کردیے، پھر نہ کتاب و سنت کے احکام باقی رہے نہ ائمہ کے مذاہب۔ ہر جگہ کفار کا حکم چلنے لگا اور بنی اسرائیل کی طرح مسلمانوں پر بھی اللہ کے عذاب کا کوڑا کفار کی غلامی کی صورت میں برسنے لگا۔ مسلمان آزادی حاصل کرنے کے لئے مسلسل جدوجہد اور دعائیں کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کی آزادی کے لئے جدوجہد اور کفار کی باہمی جنگ عظیم کے نتیجے میں بہت سے مسلم ممالک کو آزادی ملی۔ اس کے بعد جہاد کے نتیجے میں بہت سے ممالک کمیونسٹوں کے تسلط سے بھی آزاد ہوئے، مگر تمام ممالک میں برسر اقتدار طبقے نے کفر کا وہی نظام حکومت برقرار رکھا جو کفار کے زمانے میں تھا ، جس میں فیصلہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق نہیں بلکہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق ہوتا ہے۔ اس طرح مسلمانوں کے اہل کتاب کے نقش قدم پر چلنے کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کا دین صرف نماز روزے وغیرہ کے لئے باقی رہ گیا، گھروں، باز اورں، عدالتوں اور حکومت کے ایوانوں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو جلا وطن کر کے اس کی جگہ جمہوریت کے بت کی پرستش شروع کر ید گئی۔ البتہ بعض ملکوں میں یہ تکلف کیا گیا کہ اس کا نام اسلامی جمہوریت رکھ دیا گیا، حالانکہ اسلام میں حکم اللہ کا ہوتا ہے اور جمہوریت میں بندوں کا، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے شربا کو سالامی شربا اور سود کو سالامی سود کہہ کر حلال کرلیا جائے، جیسا کہ یہ ظلم بھی اس سے پہلے مسلمان اپنی جانوں پر کرچکے ہیں۔ ان کے بہت سے برسر اقتدار طبقوں نے ان علماء کے اقوال کو اپنی مملکتوں میں نافذ کیا جنہوں نے صرف انگور اور کھجور کی شراب کو حرام قرار دے کر دوسرے تمام نشہ آور مشروبات پینے پر حد ختم کردی، خواہ ان سے نشہ بھی آجائے۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی عظیم سلطنتیں شراب کے سمندر میں غرق ہوگئیں کہ حکمران بھی پیتے تھے اور رعایا بھی اور جائز سمجھ کر پیتے تھے۔ اسی طرح سود کی بہت سی قسموں کو جائز قرار دے کر اسلامی سود رائج ہونے کے نتیجے میں طمع و ہوس کے طوفان نے ہمدردی و ایثار کا سلسلہ ختم کردیا اور حرام ہوس زر نے مسلمانوں کو آخرت سے غافل کردیا۔
حقیقت یہ ہے ہ اب بھی دنیا اور آخرت دونوں میں مسلمانوں کی نجاتا سی میں ہے کہ وہ دوبارہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی طرف واپس پلٹیں اور اپنی پوری زندگی میں اس کی اطاعت اختیار کریں۔ ان شاء اللہ وہ وقت آنے والا ہے جب دوبارہ خلافت علیم نہاج النبوۃ قائم ہوگی، جس میں اللہ کی زمین پر صرف اللہ کا حکم چلے گا۔ یہ رسول صادق ﷺ کی پیش گوئی ہے اور ہر صورت پوری ہوگی۔ ہمارا کام جدوجہد ہے، اللہ چاہے گا تو ہم اپنی آنکھوں سے وہ مبارک دن دیکھیں گے، ورنہ ہمارے بعد آنے والے اسے ضرور دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ان بندوں میں شامل فرمائے جو قیامت تک دین حق قائم رکھنے کے لئے لڑتے رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لن یبرح ھذا الذین قائماً یقاتل علیہ عصابۃ من المسلمین حتی تقوم الساعۃ) (مسلم ، الامارۃ باب قولہ ﷺ :”لا تزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق…“:1922 عن جابر بن سمرۃ ؓ ”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس پر لڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔“
(6) فحکمۃ الی اللہ : ہر جھگڑے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہونے میں شرعی احکام کا فیصلہ بھی شامل ہے، جیسا کہ اوپر گزرا اور یہ بھی کہ دنیا میں لوگوں کے درمیان جتنے جھگڑے ہیں ان کا واضح فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔ دنیا میں کفار اپنے آپ کو حق پر کہتے رہیں، مگر وہاں انبیاء اور ان کے متبعین کا حق پر ہونا اور کفار کا باطل پر ہونا سب کے سامنے واضح ہو کر آجائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(قل اللھم فاطر السموت ولارض علم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فی ماکانوا فیہ یختلفون) (الزمر : 36) ”تو کہہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! ہر چھپی اور کھلی کو جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔“
(7) ذلکم اللہ ربی : یعنی وہی اللہ جس کی چند صفات اوپر کی آیات میں بیان ہوئی، جنہیں تم بھی مانتے ہو، جو مختصراً یہ ہیں کہ وہ عزیز و حکیم ہے، علی وعظیم ہے، غفور و رحیم ہے، حقیقی ولی ہے، مردوں کو زندہ کرنے والا اور ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، تمام اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے، وہی اللہ میرا رب ہے، ان میں سے ایک بھی صفت جب کسی اور میں پائی ہی نہیں جاتی تو میں کسی اور کو اپنا رب کیسے مان لوں ؟
(8) علیک توکلت“ (اسی پر میں نے بھروسہ کیا) فعل ماضی ہے اور ”والیہ انیب“ (اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں) فعل مضارع ہے، جس میں استمرار اور ہمیشگی پائی جاتی ہے۔ ”علیہ“ اور ”الیہ“ پہلے آنے سے قصر کا معنی پیدا ہوا، اس لئے ترجمہ ”اسی پر“ اور ”اسی کی طرف“ کیا گیا ہے۔ یعنی میں شروع سے اسی پر بھروسہ کرچکا اور اب ہر بات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، ہر مسئلے کا حکم اسی سے لیتا ہوں، ہر جھگڑے کا فیصلہ اسی سے کر واتا ہوں اور ہر گناہ پر اسی سے معافی مانگتا ہوں اور اسی کو حق سمجھتا ہوں۔