Ayah 42:11(1) فاطر السموت والارض …: یہ اللہ ہی کو رب ماننے، اسی پر توکل اور اسی کی طرف رجوع کی مزید دلیلیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہی کسی نمونے اور مادے کے بغیر آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ جب کہ تمہارے بنائے ہوئے معبودوں نے نہ ایک ذرہ پیدا کیا نہ کرسکتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورة حج (73)۔
(2) جعل لکم من انفسکم ازواجاً …: آسمان و زمین کو پیدا کرنے کے بعد اس نے تمہارے لئے خود تمہی میں سے تمہارے جوڑے بنائے، تاکہ تمہاری نسل جاری ہو اور مسلسل چلتی رہے۔ اپنی جنس سے جوڑے بنانے سے جو باہمی انس حاصل ہوتا ہے وہ کسی اور جنس سے جوڑا بنانے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ ابن عاشور نے فرمایا کہ عربوں میں جننیوں وغیرہ سے نکاح کی جتنی داستانیں مشہور ہیں سب جھوٹی اور خود ساختہ ہیں، کچھ لوگوں کے تخیل نے انھیں ایسا دکھایا، ورنہ حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں اور تمہاری ضروریات کے لئے جو پاؤں کے جوڑے بنئاے، تاکہ وہ بڑھتے پھیلتے رہیں اور تم ان سے اپنی ضروریات پوری کرتے رہو۔
(3) یذروکم فیہ : یعنی جوڑے اس لئے بنائے تاکہ توالدو تناسل کا سلسلہ قائم رہے اور تمہاری نسل پھلتی پھولتی اور پھیلتی رہے۔
(4) لیس کمثلہ شیء : انسانوں کے درمیان اگرچہ رنگوں اور زبانوں کا اختلاف پایا جاتا ہے اور ہر انسان دوسرے سے الگ تشخص رکھتا ہے، اس کے باوجود وہ بہت سی چیزوں میں ایک دوسرے کے مشابہ اور ایک دوسرے کے مثل ہیں۔ چو پاؤں اور دوسرے حیوانات کا بھی یہی حال ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کا امتیاز ہے کہ کوئی چیز اس کی ذات یا صفات کی مثل کسی طرح بھی نہیں۔
(5) لیس کمثلہ شیء ، اپنے سلسلہ ازدواج اور سلسلہ توالدو تناسل کو دیکھ کر یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ اللہ تعالیٰ بھی تمہاری طرح ہے۔ نہیں، خلاق و مخلوق ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں، نہ ذات میں، نہ صفات میں اور نہ افعال و حقوق میں۔ اس کا کوئی جوڑا نہیں اور نہ کسی کی اولاد ہے، نہ کوئی اس کی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کا شریک و ہمسر ہے۔ مزید دیکھیے سورة اخلاص۔
(6) لیس کمثلہ شیء“ پر ایک مشہور سوال ہے کہ جب کہنا یہ مقصود ہے کہ اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں تو ”لیس مثلہ شیئ“ کافی تھا،”کاف“ لانے کی کیا ضرورت تھی ؟”کاف“ لانے سے تو بظاہر ایسا معنی پیدا ہو رہا ہے جو محال ہے، کیونکہ ’ لیس کمثلہ شیء“ کا ترجمہ ہوگا ”اس کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں“ جب کہ اس ترجمے سے دو محال باتیں لازم آتی ہیں، پہلی یہ کہ اللہ کی مثل کوئی ہے جب کہ یہ محال ہے۔ دوسری یہ کہ اس کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں، حالانکہ جب وہ اللہ کی مثل ہے تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ اس جیسا ہے ، تبھی وہ اس کی مثل ہے۔ اس سوال کا حل اہل علم نے مختلف طریقوں سے کیا ہے، ایک یہ ہے کہ اس میں ”کاف“ زائد ہے۔ زائد کا یہ مقصد نہیں کہ بےفائدہ ہے، بلکہ وہ ”مثل“ کی تاکید اور اس میں مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے۔ گویا یہ بات کہ ”اللہ تعالیٰ جیسی کوئی چیز نہیں“ دو دفعہ کہی گئی ہے، ایک ”کاف“ کے ساتھ اور ایک ”مثل“ کے ساتھ، مگر مثلیث کے معنی میں یہ مبالغہ محل نظر ہے۔
دوسرا حل یہ ہے کہ عرب کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے ”مثل“ کا لفظ کسی جیسے کے لئے نہیں بلکہ اس کی ذات اور شخصیت کے لئے استعمال کرتے ہیں، مثلاً ”مثلی لایکذب“ سے مراد یہ نہیں کہ میرے جیسا شخص جھوٹ نہیں بولتا، بلکہ یہ ہے کہ ”میں جھوٹ نہیں بولتا۔“ اسی طرح ”مثلہ لایعبوبہ“ کا معنی یہ نہیں کہ اس جیسے شخص کی پروا نہیں کی جاتی، بلکہ مراد یہ ہے کہ ”اس کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔“ اسی طرح ”لیس کمثلہ شیء“ کا معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کی ذات جیسی کوئی چیز نہیں۔“ یہاں ”کاف“ کا اضافہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اگر ”کاف“ نہ لایا جاتا تو عربی محاورہ ذہن میں آنے سے خیال ایک غلط مفہوم کی طرف جاسکتا تھا، جیسے ”مثلہ لایعبوبہ“ کا معنی ہے کہ فلاں شخص کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ اسی طرح ”کاف“ کے بغیر ”لس مثلہ شیء“ کا معنی یہ ہوسکتا تھا کہ (معاذ اللہ) اس کی ذات کوئی شے نہیں، یا اس کی کچھ حیثیت نہیں۔ اب ”لیس کمثلہ شیء“ کہنے سے یہ اندیشہ دور ہوگیا اور بات صاف ہوگئی کہ اس کی ذات جیسی کوئی چیز نہیں۔ طبری ، بقاعی، ابن ہشام اور بہت سے ائمہ نے یہاں ”مثل“ کو شخص، ذات یا نفسک ا ہم معنی قرار دے کر اس کے شواہد پیش فرمائے ہیں۔ یہ حل معنوی طور پر بہت مضبوط ہے۔
تیسرا حل یہ ہے کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ”مثل“ کا لفظ صفت شان کے معنی میں آیا ہے، جیسے یہ آیت :(مثل الجنۃ التی وعد المتقون فیھا انھر من مآء غیر اسن) (محمد : 15)”اس جنت کی صفت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جو بگڑنے والا نہیں۔“ اسی طرح یہ آیت :(ولہ المثل الاعلیٰ فی السموت والارض) (الروم : 28) ”اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی صفت (شان) اسی کی ہے۔“ الاعلیٰ فی السموات والارض) (الروم : 28) ”اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی صفت (شان) اسی کی ہے۔“ اس لئے ”لیس کمثلہ شیء“ کا معنی یہ ہے کہ ”اللہ کی صفت جیسی کوئی چیز نہیں۔“ یہ حل سمجھنے میں سب سے آسان ہے، معنوی طور پر بالکل درست ہے اور ائمہ تفسیر سے منقول ہے۔ سیاق کے لحاظ سے بھی بہت مناسب ہے، کیونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات بیان فرمائی گئی ہیں، پھر فرمایا کہ اس کی صفت جیسی کوئی چیز نہیں۔
(7) وھو السمیع البصیر :”السمیع البصیر“ ”ھو“ مبتدا کی خبر ہے۔ خبر پر الف لام لانے سے قصر کا مفہوم پیدا ہوگیا ، اسلئے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ یہ ”لیس کمثلہ شیء“ (اس کی ذات وصفات جیسی کوئی چیز نہیں) سے پیدا ہونے والے ایک سوال کا جواب ہے کہ ”لیس کمثلہ شیء“ کے باوجود یہ کیا بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سمیع وبصیر ہے اور انسان بھی سمیع وبصیر ہے، جیسا کہ فرمایا : (فجعلنہ سمیعاً بصیراً) (الدھر : 2) ”سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنادیا۔“ بلکہ سمع و بصر انسان کے علاوہ جانوروں میں بھی موجود ہیں اور حنا نہ کے واقعہ سے معلوم ہتا ہے کہ جمادات بھی سمع و بصر سے بےبہرہ نہیں ہیں، تو اللہ تعالیٰ بےمثل کیسے ہوا ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کامل اور اصل سمیع وبصیر صرف اللہ تعالیٰ ہے، کسی اور میں پائی جانے والی یہ صفات اللہ تعالیٰ کی صفات سے کچھ مشابہت نہیں رکھتیں اور نہ ان کے مقابلے میں کوئی حقیقت رکھتی ہیں۔
دوسرا حل یہ ہے کہ عرب کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے ”مثل“ کا لفظ کسی جیسے کے لئے نہیں بلکہ اس کی ذات اور شخصیت کے لئے استعمال کرتے ہیں، مثلاً ”مثلی لا یکذب“ سے مراد یہ نہیں کہ میرے جیسا شخص جھوٹ نہیں بولتا، بلکہ یہ ہے کہ ”میں جھوٹ نہیں بولتا۔“ اسی طرح ”مثلہ لایعبوبہ“ کا معنی یہ نہیں کہ اسے جیسے شخص کی پروا نہیں کی جاتی، بلکہ مراد یہ ہے کہ ”اس کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔“ اسی طرح ”لیس کمثلہ شیء“ کا معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کی ذات جیسی کوئی چیز نہیں۔“ یہاں ”کاف“ کا اضافہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اگر ”کاف“ نہ لایا جاتا تو عربی محاورہ ذہن میں آنے سے خیال ایک غلط مفہوم کی طرف جاسکتا تھا، جیسے ”مثلہ لایعبوبہ“ کا معنی ہے کہ فلاں شخص کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ اسی طرح ”کاف“ کے بغیر ”لیس مثلہ شیء“ کا معنی یہ ہوسکتا تھا کہ (معاذ اللہ) اس کی ذات کوئی شے نہیں، یا اس کی کچھ حیثیت نہیں۔ اب ”لیس کمثلہ شیء“ کہنے سے یہ اندیشہ دور ہوگیا اور بات صاف ہوگئی کہ اس کی ذات جیسی کوئی چیز نہیں۔ طبری ، بقاعی، ابن ہشام اور بہت سے ائمہ نے یہاں ”مثل“ کو شخص، ذات یا نفس کا ہم معنی قرار دے کر اس کے شواہد پیش فرمائے ہیں۔ یہ حل معنوی طور پر بہت مضبوط ہے۔
تیسرا حل یہ ہے کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ”مثل“ کا لفظ صفت شان کے معنی میں آیا ہے، جیسے یہ آیت :(مثل الجنۃ التی وعد المتقون فیھآ انھر من مآء غیر اسن) (محمد : 15)”اس جنت کی صفت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جو بگڑنے والا نہیں۔“ اسی طرح یہ آیت :(ولہ المثل الاعلیٰ فی السموت والارض) (الروم : 28)”اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی صفت (شان) اسی کی ہے۔“ اس لئے ”لیس کمثلہ شیء“ کا معنی یہ ہے کہ ”اللہ کی صفت جیسی کوئی چیز نہیں۔“ یہ حل سمجھنے میں سب سی آسان ہے، معنوی طور پر بالکل درست ہے اور ائمہ تفسیر سے منقول ہے۔ سیاق کے لحاظ سے بھی بہت مناسب ہے، کیونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات بیان فرمائی گی ہیں، پھر فرمایا کہ اس کی صفت جیسی کوئی چیز نہیں۔
(7) وھو السمیع البصیر :”السمیع البصیر“”ھو“ مبتدا کی خبر پر الف لام لانے سے قصرہ کا مفہوم پیدا ہوگیا ، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ یہ ”لیس کمثلہ شیء“ (اس کی ذات وصفات جیسی کوئی چیز نہیں) سے پیدا ہونے والے ایک سوال کا جواب ہے کہ ”لیس کمثلہ شیء“ کے باوجود یہ کیا بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سمیع وبصیر ہے اور انسان بھی سمیع وبصیر ہے، جیسا کہ فرمایا :(فجعلنہ سمیعاً بصیراً) (الدھر : 2) ”سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنادیا۔“ بلکہ سمع و بصر انسان کے علاوہ جانوروں میں بھی موجود ہیں اور حنانہ کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جمادات بھی سمع و بصر سے بےبہرہ نہیں ہیں، تو اللہ تعالیٰ بےمثل کیسے ہوا ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کامل اور اصل سمیع وبصیر صرف اللہ تعالیٰ ہے، کسی اور میں پایء جانے والی یہ صفات اللہ تعالیٰ کی صفات سے کچھ مشابہت نہیں رکھتیں اور نہ ان کے مقابلے میں کوئی حقیقت رکھتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق بہت سے لوگوں کو ایسے اشکالات پیدا ہوئے کہ بیشمار مخلوق گمراہ ہوگئی، انہوں نے دیکھا کہ وہی ال فاظ اللہ تعالیٰ کے متعلق آرہے ہیں اور وہی مخلوق کے متعلق، مثلاً اللہ تعالیٰ کے متعلق آیا ہے :(ثم استوی علی العرش) (الاعراف : 53) (پھر وہ عرش پر بلند ہوا) اور مخلوق کے متعلق الفاظ ہیں :(لتستوا علی ظھورہ) (الزخرف :13) (تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو) اور یہ الفاظ :(فاذا استویت انت و من معک علی الفلک) (المومنون :28)) (پھر جب تو اور جو تیرے ساتھ ہیں، کشتی پر چڑھ جاؤ۔) اللہ تعالیٰ کے فرمان :(ید اللہ فوق ایدیھم) (الفتح : 10) (اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے) میں لفظ ”ید“ اللہ تعالیٰ اور بندوں دونوں کے لئے آیا ہے، یہی حال سمیع وبصیر کا ہے۔ اب کچھ لوگ اس وجہ سے گمراہ ہوگئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مشابہ قرار دیا۔ اس کے استواء اس کے ید، اس کے سمع و بصر اور اس کی دوسری صفات کو مخلوق کے ساتواء اس کے ید، اس کے سمع و بصر اور اس کی دوسری صفات کی طرح سمجھ بیٹھے، ان لوگوں کو ”مشبہہ“ کہتے ہیں اور کچھ اس وجہ سے گمراہ ہوگئے کہا نہوں نے یہ کہہ کر کہ اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں، اس کی ان صفات کا بھی انکار کردیا جو اس نے خود اپنی بیان فرمایء ہیں۔ انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ نہ عرش پر مستوی ہے، نہ اس کا ہاتھ ہے، نہ اس کا سمع و بصر ہے، نہ وہ کلام کرتا ہے، کیونکہ اگر ہم اس کے لئے یہ چیزیں تسلیم کریں تو وہ مخلوق جیسا ٹھہرتا ہے۔ ان منکرین صفات کو ”معطلہ“ کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تشبیہ و تعطیل دونوں سے بلندو برتر ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی صفات کا مسئلہ انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے، اس میں کوئی پیچیدگی یا اشکال باقی نہیں رہنے دیا۔ خلاصہ اس کا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہ آیات صفات میں حق دو چیزوں سے مرکب ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی صفات کی مشابہت سے پاک سمجھا جائے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنی جو بھی صفت بیان فرمائی ہے، یا اس کے رسول ﷺ نے اس کی جو بھی صفت بیان فرمائی ہے اس پر مکمل ایمان رکھا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت اس سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا، جیسا کہ فرمایا :(قلء انتم اعلم ام اللہ) (البقرہ : 130)”کیا تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ ؟“ اور اللہ تعالیٰ کے بعد رسول اللہ ﷺ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم رکھنے والا کوئی نہیں۔ آپ ﷺ کے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی) (النجم : 303)”اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔“ اب جو شخص کسی ایسی صفت کی نفی کرے جو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے لئے بیان فرمائی ہے، یا اس کے رسول ﷺ نے بیان فرمائی ہے، یہ کہہ کر یہ صفت اللہ تعالیٰ کے لائق نہیں، تو وہ اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول سے بھی زیادہ علم رکھنے والا سمجھتا ہے کہ اللہ کی شان کے لائق کون سی بات ہے اور کون سی نہیں۔ اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ ہیں وہ بھی ملحد اور گمراہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور یہ اللہ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مشابہ سمجھتا ہے۔ ہاں جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیء ان تمام صفات کو مانتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لئے باین کی ہیں، یا اس کے رسول نے اس کے لئے بیان کی ہیں اور ساتھ ہی اللہ عزو جل اور اس کی صفات کو مخلوق کی مشابہت سے پاک قرار دیات ہے، یہ صحیح مومن ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کمال پر بھی ایمان رکھتا ہے اور اس کی مخلوق کی مشابہت سے پاک ہونے پر بھی ایمان رکھتا ہے۔ زیر تفسیر آیت :(لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر) نے اس حقیقت کو خوب واضح فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سمع و بصر کی صفات بھی روکتا ہے اور کوئی چیز اس کی مثلا ور مشابہ بھی نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ”وھو العلی العظیم“ کے بجائے ”وھو السمیع البصیر“ اس لئے فرمایا کہ سمع و بصر کی دونوں صفات تمامح یوانات میں بھی پائی جاتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ دونوں صفات رکھتا ہے لیکن اس کی ان صفات کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور مخلوق کی صفات میں کوئی مماثلت نہیں، اس لئے ”وھو السمیع البصیر“ کا لفظ ”لیس کمثلہ شیء“ کہنے کے بعد ارشاد فرمایا۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا اس لئے انکار کیا ہے کہ صفات کے لئے وہی الفاظ مخلوق پر بھی آئے ہیں، انھیں لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کے وجود اور اس کی حیات کا بھی انکار کردیں، کیونکہ مخلوق کی بھی ذات ہے ، وہ بھی وجود رکھتی ہے اور اس میں بھی حیات پائی جاتی ہے، مگر جس طرح خلاق اور مخلوق میں کوئی مماثلت نہیں اور دونوں کی ذات، وجود اور حیات میں کوئی مماثلت نہیں، اسی طرح خلاق و مخلوق کی کسی صفت میں بھی کوئی مماثلت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کامل اور حقیقی ہیں۔ مخلوق کی صفات اگرچہ ان کے حسب حال موجود ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی صفات کے مقابلے میں کالعدم ہیں، جیسا کہ فرمایا :(وھو السمیع البصیر) وہی سمیع وبصیر ہے اور کوئی نہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی انسان کو سمیع وبصیر بتایا ہے۔
اس کی تھوڑی سی تفصیل سنیے، متکلمین اللہ تعالیٰ کی بیشمار صفات میں سے سات صفات کو صفات معانی کہتے ہیں، وہ ہیں حیات، قدرت ، ارادہ علم، سمع، بصر اور کلام۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت حیات خود بیان فرمائی، فرمایا :(ھو الحی لا الہ الا ھو) (المومن : 65)”وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اور فرمایا :(و توکل علی الحی الذی لایموت) (العرفان : 58)”اور اس زندہ پر بھروسہ کر جو نہیں مرے گا۔“ اور دوسری بہت سی آیات۔ مخلوق کی صفت بھی حیات بیان فرمائی، فرمایا :(وسلم علیہ یوم ولد و یوم یموت و یوم یبعث حیاً (مریم : 15)”اور سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائے گا۔“ اور فرمایا :(وجعلنا من المآء کل شیء حی) (الانبیائ : 30)”اور ہم نے اپنی سے ہر زندہ چیز بنائی۔“ اور فرمایا :(یخرج الحی من المیت و یخرج المیت من الحی) (الروم : 19) ”وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔“ یہاں دیکھیے ”ھو الحی“ (صرف وہ زندہ ہے) کہنے کے باوجود مخلوق کی حیات کا بھی ذکر فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقی اور کامل حیات صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، مخلوق کو بھی اس کے حساب حال ایک طرح کی حیات حاصل ہے، مگر خالق و مخلوق کی حیات میں اتنی ہی منافات ہے جتنی دونوں کی ذات میں ہے، خالق والی حیات کا ایک شمہ بھی مخلوق کو حاصل نہیں۔
دوسری صفت قدرت ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ صفت خود بیان فرمائی ہے، فرمایا :(واللہ علی کل شیء قدیر) (البقرۃ :283)”اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ مخلوق کے متعلق بھی یہ لفظ استعمال فرمایا :(الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیھم) (المائدۃ : 37)”مگر جو لوگ اس سے پہلے توبہ کرلیں کہ تم ان پر قابو پاؤ۔“ اللہ تعالیٰ کی قدرت حقیقی، کامل اور اس کی شان کے لائق ہے، جبکہ مخلوق کی قدرت صرف اس کے حساب حال ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مخلوق کی قدرت میں اتنی منافات ہے جتنی دووں کی ذات میں ہے۔
تیسری صفت ارادہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا :(فعال لمایرید) (ھود : 108) ”کر گزرنے والا ہے جو چاہتا ہے۔“ اور فرمایا :(انما امرہ اذا اراد شیاً ان یقول لہ کن فیکون) (یٰسین : 82) ”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہوجا“ تو وہ ہوجاتی ہے۔“ اور فرمایا :(یرید اللہ یکم الیسر ولا یرید بکم العسر) (البقرہ :185) ”اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔“ اور دوسری آیات۔ مخلوق کے ارادے کا بھی ذکر کیا، فرمایا :(تریدون عرض الدنیا) (الانفال :88)”تم دنیا کا سامان چاہتے ہو۔“ اور فرمایا :(ان یریدون الا فراراً) (الاحزاب : 13)”وہ بھاگنے کے سوا کچھ چاہتے ہی نہیں۔“ اور فرمایا (یریدون لیطفوا نور اللہ) (الصف : 8) ”وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں۔“ اور دوسری آیات۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا ارادہ حقیقی کامل اور اس کی ذات کے لائق ہے، جبکہ مخلوق کا ارادہ اس کے حسب حال ہے۔ دونوں کے ارادوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا دونوں کی ذات میں ہے۔
چوتھی صفت علم ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا :(واللہ بکمل شیء علیم) (البقرہ : 282) ”اور اللہ ہر چیز کو شہادت دیتا ہے اس کے متعلق جو اس نے تیری طرف نازل کیا ہے کہ اس نے اسے اپنے علم سے نازل کیا ہے۔“ اور مخلوق کے متعلق فرمایا :(وانہ لذوعلم لما علمنہ) (یوسف : 68) ”اور بلاشبہ وہ یقیناً بڑے علم والا تھا، اس وجہ سے کہ ہم علم اس کے حال کے مناسب ہے۔ خلاق و مخلوق کے علم میں اتنی ہی منافات ہے جتنی خالق و مخلوق کی ذات میں ہے۔
پانچویں اور چھٹی صفت سمع و بصر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا :(لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر) (الشوریٰ : 11)”اس کی ثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ اور فرمایا :(وان اللہ سمیع بصیر) (الحج : 61) ”اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ اور مخلوق کے متعلق فرمایا : (ان خلقنا الانسان من طفۃ امشاج ، نبتلیہ فجعلنہ سمیعاً بصیراً) (الدھر : 2)”بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا، ہم اسے آزماتے ہیں، سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنادیا۔“ اور فرمایا :(اسمع بھم وابصر یوم یاتوتنا) (مریم : 38) ”کس قدر سننے والے ہوں گے وہ اور کس در دیکھنے والے جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے۔“ اور اس جیسی آیات۔ تو اللہ عزو جل کے سمع و بصر حقیقی، کامل اور اس کی شان کے لائق ہیں اور مخلوق کے سمع و بصر ان کے حال کے مناسب ہیں۔ جس طرح خالق و مخلوق کی ذات میں کوئی مماثلت نہیں، ان کے سمع و بصر میں بھی کوئی مماثلت نہیں۔
ساتویں صفت کلام ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا :(وکلم اللہ موسیٰ تکلیماً) (النسائ : 163) ”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔“ اور فرمایا :(الی اصطنیتک علی الناس برسلتی و بکلامی) (الاعراف : 133)”بیشک میں نے تجھے اپنے پیغامات اور اپنے کالم کے ساتھ لوگوں پر چن لیا ہے۔“ اور فرمایا :(فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ) (التوبۃ : 6)”تو اسے پناہ دے دے، یاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔“ اور مخلوق کے متعلق فرمایا۔ (فلما کلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امین) (یوسف : 53) ”پھر جب اس نے اس سے بات کی تو کہا بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانت دار ہے۔“ اور فرمایا :(الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم) (یٰسین : 65) ”آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی تک گود میں بچہ ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ کا کلام حقیقی، کامل اور اس کی شان کے لائق ہے اور مخلوق کی صفت بھی کلام ہے جو اس کے حسب حلا ہے اور خلاق و مخلوق کے کلام میں اتنی ہی منافات ہے جتنی ان دونوں کی ذات میں ہے۔ اہل علم یہ بحث تفصیل سے پڑھنا چاہیں تو مفسر شنقیطی کی ”اضواء البیان“ میں سورة اعراف کی آیت (54) :(ثم استوی علی العرش) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
تعجب ہوتا ہے کہ اتنی واضح بات بڑے بڑے مفسر اور مصنف نہیں سمجھ سکے۔ وہ جہاں ”استواء علی العرش“ کا لفظ آئے گا اس کا اناکر کرتے ہوئے کہیں گے اس سے مراد حکومت کرنا ہے، سمع و بصر آئے گا تو کہیں گے اس سے مراد علم ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی محبت، رضا ، غضب، انتقام، اس کے نزول اور دوسری صفات کا مطلب کچھ اور ہی بیان کرتے ہوئے اصل صفات کا انکار کردیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ سلف صالحین اور محمد ثین ہی اس مقام پر سلامت رہے ہیں، ان کی ترجمانی امام مالک ؒ نے فرمائی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا :”الاستواء معلوم والکیف مجھول والسوال عنہ بدعۃ“ (اللہ تعالیٰ) کا عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے اور یہ بات کہ کیسے مستوی ہے، کسی کو معلوم نہیں اور یہ پوچھنا کہ کیسے مستوی ہے بدعت ہے۔“ بالکل اسی طرح ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ سمیع ہے، بصیر ہے، اس کے ہاتھ ہیں، آنکھیں ہیں، چہرہ ہے، وہ محبت کرتا ہے، ناراض ہوتا ہے، کلام کرتا ہے، ہنستا ہے، اترتا ہے اور قیامت کے دن زمین پر آئے گا، مگر ہمیں ان صفات کی کیفیت معلوم نہیں، نہ ہم عاجز مخلوق اس بےنہایت خلاق کی ذات یا صفات کی حقیقت یا کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ ہم اس کی ان تمام صفات کو انھی الفاظ و معانی میں مانتے ہیں جو خود اس نے یا اس کے نبی مکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں اور ان تمام لوگوں کی باتوں سے بری ہونے کا اعلان کرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفات نہیں ہیں، یا کہتے ہیں کہ مخلوق جیسی ہیں، یا کہتے ہیں کہ ہمیں ان صفات کے معنی ہی کا علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر استقامت عطا فرمائے۔ (آمین)
Ayah 42:12(1) لہ مقالید السموت والارض : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة زمر (63)۔
(2) یبسط الرزق لمن یشآء و یقدر : اس کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة عنکبوت (62)۔
Ayah 42:13(1) شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحاً : سورت کے شروع میں جو بات فرمائی :(کذلک یوحی الیک و الی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم) (اسی طرح وحی کرتا ہے تیری طرف اور ان لوگوں کی طرف جو تجھ سے پہلے تھے، وہ اللہ جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے) یہاں سے وہی بات مزید تفصیل کے ساتھ بیان ہو رہی ہے۔ ”لکم“ سے خطاب ہماری امت کو ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کوئی اجنبی یا انوکھا دین مقرر نہیں فرمایا، یہ وہی دین ہے جو اس نے پہلے تمام انبیاء کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا دین ایک ہے اور وہ ہے اسلام جیسا کہ فرمایا :(ان الذین عند اللہ الاسلام) (آل عمران : 19) ”بیشک دین اللہ کے نزدیک واحد کی عبادت و اطاعت ہے۔ تمام انبیاء و رسل کی طرف اسی ایک دین کی وحی کی گئی ہے۔ ، فرمایا :(وما ارسلنا من قبلک من رسول اللا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) (النبیائ : 25)”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ سورة انعام میں توحید کی تاکید اور شرک کا رد کرنے کے بعد نوح اور ابراہیم ؑ سمیت اٹھارہ پیغمبروں کا ذکر ان کا نام لے کر فرمایا، پھر ان کے آباء اولاد اور بھائیوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر یہ لوگ شرک کرتے تو ان کا وہ سب کچھ ضائع ہوجاتا جو وہ کرتے رہے تھے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو ان کے طریقے پر چلنے کا حکم دیا اور فرمایا : (اولئک الذین ھدی اللہ فیھا لھم اقتدہ) (الانعام : 90) ”یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔“
(2) دین کن چیزوں کا نام ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وما امروآ الا لیعبدواللہ مخلصین لہ الدین ، حنفآء ویقیموا الصلوۃ ویوتوا الزکوۃ و ذلک دین القیمۃ) (البینۃ : 5)”اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس حال میں کہ اس کے لئے دین کو خالص کرنے والے، ایک طرف ہونے والے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں اور یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اخلاص کیساتھ اللہ واحد کی عبادت کرنا، نماز قائم کرنا اور زکوۃ دینا دین ہے، جس کا پہلی امتوں کو بھی حکم تھا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی مشہور حدیث جبریل میں رسول اللہ ﷺ نے اسلام، ایمان اور احسان کی تفصیل فرمائی، پھر قیامت اور اس کی چند علامات کا ذکر فرمایا، جب جبریل ؑ چلے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :(فانہ جبریل اتاکم یعلمکم دینکم) (مسلم، الایمان، باب بیان الایمان والاسلام …8 بخاری : 50)”وہ جبریل ؑ تھے، تمہارے پاس آئے تھے، تمہیں تمہارا دین سکھا رہے تھے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کے پانچوں ارکان دین ہیں، اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں، ان کے رسولوں، اس کی کتاب، یوم آخرت اور تقدیر پر ایمان دین ہے، علم میں اخلاص اور احسان دین ہے، قیامت کے معاملات کی فکر دین ہے۔ پھر جب ایمان دین ہے تو ایمان میں شامل وہ تمام چیزیں بھی دین ہیں جنہیں قرآن مجید یا حدیث میں ایمان یا ایمان کی شاخ قرار دیا گیا ہے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ نے باب امور الایمان“ میں قرآن مجید کی دو آیات نقل فرمائی ہیں، ایک سورة بقرہ کی آیت :(لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب و لکن البرمن امن باللہ والیوم الاخر والملئکۃ و الکتب والنبین ، واتی المال علی حبہ ذوی القربی والیتی والمسکین و ابن السبیل، والسآئلین و فی الرقاب ، واقامم الصلوۃ واتی الزکوۃ والموفون بعھد ھم اذا عھدوا والصبرین فی الباسآء والصرآء وحین الباس اولئک الذین صدقوا، واولئک ھم المنتقون) (البقرۃ : 188) ”نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو اور لیکن اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قربات والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے اور جو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں جب عہد کریں اور خصوصاً جو تنگی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جنہوں نے سچ کہا اور یہی بچنے والے ہیں۔“ اور سورة مومنوں کی ابتدائی آیات :(قد افلح المومنون الذین ھم فی صلاتھم خشعون والذین ھم عن الغومعرضون والذین ھم للزکوۃ فعلون والذین ھم لفروجھم حفظون الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین فمن ابتغی ورآء ذلک فاولئک ھم العدون والذین ھم لامتھم وعھدھم راعون والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اولئک ھم الوارثون الذین یرثون الفردوس، ھم فیھا خلدون) (المومنون : 1 تا 11) ”یقینا کامیاب ہوگئے مومن۔ وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں اور وہی جو لغو کاموں سے منہ موڑنے والے ہیں۔ اور وہی لوگ جو (ہر عمل) پاک ہونے ہی کے لئے کرنے والے ہیں۔ اور وہی جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں، یا ان (عورتوں) پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں تو بلاشبہ وہ ملامت کئے ہوئے نہیں ہیں۔ پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں اور وہی جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والیہیں اور وہی جو اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ اس کے بعد یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الایمان بضع وستون شعبۃ ، والحیاء شعبۃ من الایمان) (بخاری، الایمان، بابا مور الایمان : 9۔ مسلم : 35)”ایمان کے ساٹھ (60) سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کا جزو ہے۔“ اس کے بعد مختلف ابواب میں امور دین کا بیان فرمایا ہے۔
خلاصہ یہ کہ تمام انبیائک ا اصل دین ایک ہے، البتہ کسی عمل کی ادائیگی کی کیفیت میں فرق ہو ستکا ہے۔ مثلاً نماز ہر امت پر فرض تھی، اس کے اوقات اور رکعات کی تعداد وغیرہ میں فرق ہوسکتا ہے۔ روزہ سب فرض تھا، مگر اس کی کیفیت میں اختلاف معلوم ہے۔ زکوۃ ہر امت پر فرض تھی، مگر اس کے نصاب اور مقدار وغیرہ میں فرق ہو ستکا ہے۔ اسی طرح مختلف اقوام اور اوقات کے لحاظ سے بعض اشیاء کی تحلیل و تحریم میں اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق نسخ ہوسکتا ہے، تبدیلی ہوسکتی ہے اور ہوتی ہے۔ بعض امتوں میں کئی معاملات میں تخفیف اور بعض میں سختی ہوسکتی ہے، مگر اصل دین ایک ہے۔ یہی مطلب ہے اس حدیث کا جو اس سورت کی تیسری آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے :(الانبیاء اخوۃ لعلات) (بخاری : 3773)”انبیاء علاتی (مختلف ماؤں سے پیدا ہونے والے) بھائی ہیں۔“ یہاں تک کہ خاتم النبین ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے اپنا دین مکمل فرما دیا، فرمایا : (الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا) (المائدۃ : 3)”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا۔“
(3) والذین اوحینا الیک وما وضینا بہ …: اگرچہ تمام انبیاء کا دین ایک تھا، مگر یہاں صرف پانچ پیغمبروں کا ذکر فرمایا اور ان کی ترتیب بھی ان کے زمانے کے حساب سے نہیں رکھی۔ مفسرین فرماتے ہیں تمام انبیاء کا نام لینا تو ممکن نہ تھا اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی (دیکھیے مومن : 78) اس لئے ہر مقام پر اس کے مناسب انبیاء کا ذکر فرمایا۔ یہاں پہلے دو رسولوں کا ذکر فرمایا جن میں سے نوح ؑ زمین والوں کی طرف سب سے پہلے رسول تھے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے۔ (دیکھے بخاری :3330) اس سے پہلے آدم ؑ بیشک نبی تھے، مگر انھیں کسی امت کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے رسول کے ساتھ ہی سب سے آخری نبی ﷺ کا ذکر کیا گیا، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ دین پہلے رسول سے آخری رسول تک ایک ہی ہے۔ اس کے بعد تین جلیل القدر رسولوں کا ذکر فرمایا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کے وقت آسمانی مذاہب میں سے انھی تینوں کے پیروکار ہونے کے مدعی تمام دنیا میں پائے جاتے تھے۔ عرب کے مشرکین ابراہیمی ہونے کے دعوے دار تھے، یہودی موسیٰ ؑ اور نصرانی عیسیٰ ؑ کے امتی کہلاتے تھے۔ ان کے علاوہ کسی پیغمبر کی طرف منسوب کوئی قابل ذکر قوم نہ تھی۔ اس لئے فرمایا کہ ان سب کا دین ایک ہے، جو محمد ﷺ لے کر آئے ہیں۔ سورة احزاب میں بھی ان پانچ انبیاء کا ذکر ایک آیت میں آیا ہے۔ دیکھیے سورة احزاب (7)۔
(4) ان اقیموا الدین : یعنی اللہ تعالیٰ نے ان تمام پیغمبروں کو حکم دیا کہ دین قائم کرو دین قائم کرنے میں خود اس پر عمل کرنا بھی شامل ہے، اس کی دعوت و تبلیغ بھی اور عملاً اسے نافذ کرنا بھی۔ دعوت کے ساتھ ساتھ حسب استطاعت کفار سے جنگ کا بھی حکم دیا، اس وقت تک کہ وہ کلمہ پڑھیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ سورة توبہ میں مشرکین کے متعلق حکم دیا کہ انھیں چار ماہ تک مکہ میں آنے جانے کی اجازت ہے، فرمایا :(فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث و جدثموھم وخذوھم واحضروھم واقعدوالھم کل مرصد فان تابوا و اقاموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ فخلوا سبیلھم ، ان اللہ غفور رحیم) (التوبۃ : 5)”پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لئے ہر گھات کی جگہ بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوان لا الہ الا اللہ وان محمداً رسول اللہ ، ویقیمو الصلاۃ و یوتوا الزکاۃ فاذا فعلوا ذلک عصموا منی دماء ھم و اموالھم الا بحق الاسلام، وجسابھم علی اللہ) (بخاری، الایمان، باب (فان تابوا و اقاموا الصلاۃ …): 25)”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں، تو جب وہ ایسا کریں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اموال محفوظ کرلئے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“
اہل کتاب میں سے جو لوگ دین حق قبول نہیں کرتے ان سے جزیہ وصول کرنے تک لڑتے رہنے کا حکم دیا، فرمایا :(قاتلوا الذین لایومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولایحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولایدینون دین الحق من الذین اوتوا الکتب حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوھم صغرون) (التوبۃ : 29) ”لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ساتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔“ ظاہر ہے دین کا قیام اور اس پر پوری طرح عمل اسی وقت ہوسکتا ہے جب وہ دوسرے تمام ادیان پر غالب ہو، جیسا کہ فرمایا :(ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ، وکفی باللہ شھیداً) (الفتح : 28) ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے اور اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے۔“
دین اسلام میں نماز پڑھنا اور اپنی زکوۃ دے دینا کافی نہیں، اللہ کی زمین پر اس کا نظام قائم کرنا بھی ضروری ہے کہ شخص مسجد میں آکر نماز پڑھے اور زکوۃ ادا کرے، فرمایا :(ولینصرن اللہ من ینصرہ، ان اللہ لقوی عزیز الذین ان مکنھم فی الارض اقاموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ وامروا بالمعروف ونھوا عن المنکر، وللہ عاقبۃ الامور) (الحج : 30، 31)”اور یقیناً اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا، بیشک اللہ یقیناً بہت قوت والا ، سب پر غالب ہے۔ وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔“ اسلام کا بہت بڑا حصہ وہ ہے جس پر عمل اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب حکومت کی باگ ڈور ایمان والوں کے ہاتھ میں ہو، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل کرنے کا مقصد بیان فرمایا :(انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتخکم بین الناس بما اربک اللہ) (النسائ : 105)”بیشک ہے۔”ظاہر ہے لوگوں کے درمیان اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ تبھی ہو سکے گا جب اس کے مطابق فیصلہ کرنے والوں کی حکومت ہوگی، کفار کی سلطنت میں نماز کا وہ نظام جس میں ہر مسلم حتیٰ کہ منافقین بھی مسجد میں آکر نماز پڑھتے ہیں، خواہ سست کھڑے ہو کر پڑھیں یاد کھاوے کے لئے پڑھیں، قائم ہو ہی نہیں سکتا۔ (دیکھیے نسائ : 143) زکوۃ کی تحصیل (توبہ : 103) اور جاری رکھنے والوں کے خلاف اعلان جنگ اسی وقت عمل میں آسکتا ہے کہ ملک کی حکومت اور معیشت ایمان والوں کے ہاتھ میں ہو۔ کتاب اللہ میں قتل اور جراحات کے قصاص کا حکم (بقرہ :178۔ مائدہ : 45) چوری پر ہاتھ کاٹنے کا حکم (مائدہ : 38) اور زنا اور قذف پر حد جاری کرنے کا حکم (نور : 2 تا 4) مسلم حکام کو دیا گیا ہے، کفار کی عدالت اور ان کی پولیس کو نہیں دیا گیا کہ وہ کفار کی حکومت میں رہ کر ان کی فوج میں بھرتی ہو کر کفر کی خاطر لڑیں گے اور کفار سے جزیہ لینے کا حکم (توبہ : 29) اس مفرضوے کے ساتھ نہیں دیا گیا کہ مسلمان کفار کے محکوم رہ کر ان سے جزیہ وصول کریں گے۔ اسلامی احکام کا یہ نقشہ صرف مدینہ میں جا کر ہی پیش نہیں ہوا، مکی سورتوں میں بھی یہی بات سمجھائی گی ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (80، 81) ، قصص (85) ، روم (1 تا 7) ، صفاتا (171 تا 173) ، ص (11) ، قمر (43 تا 45) اور سورة مزمل (20)
رسول اللہ ﷺ کی زندگی اقامت دین کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے دین قائم کرنے کے لئے دعوت و تبلیغ اور تولار دونوں سے پورے عرب کو حلقہ بگوش اسلام کیا اور ایسی حکومت قائم کردی جو اللہ تعالیٰ کے پورے دین پر عمل کی ضامن تھی۔ آپ ﷺ کے بعد خل فائے اسلام نے اس فریضہ کی تکمیل کی، حتیٰ کہ اللہ کا دین زمین کے مشرق و مغرب میں قائم ہوگیا۔ پھر مسلمان اپنی نا اہلی اور کتاب اللہ کے تقاضوں کو نہ سمجھنے یا جان بوجھ کر اسے پس پشت پھینک کر جہاد ترک کردینے کے نتیجے میں کفار کے محکوم ہوگئے۔ اب ان میں سے کسی کے ہاتھ میں اسلام کی دوچار چیزیں ہیں اور کسی کے ہاتھ میں پانچ دس یا کم و بیش۔ ان کی باقی ساری زندگی کفر کے نظام کی پابند ہے اور افسوس یہ کہ وہ اس پر قانع ہیں اور کفر کے نظام کے پرزے بن چکے ہیں اور ان کے بہت سے لوگ دین اسلام کے غلبے سے مایوس ہو کر جمہوریت اور کفر کے دوسرے نظاموں کو توڑنے کی کوشش کے بجائے انھیں اسلام ثابت کرنے کی جدوجہد میں لگ گئے ہیں۔ ہاں ! رسول اللہ ں کی بشارت کے مطابق ایک مجاہدین کی جماعت ”طائفہ منصورہ“ باقی ہے اور ہمیشہ رہے گی، جو کبھی کفر کی بالا دستی قبول نہیں کرے گی اور دین کے غلبہ کے لئے زبانی کلامی فلسفوں کے بجائے دعوت کے ساتھ ساتھ قتال کا فریضہ بھی سرانجام دیتی رہے گی اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے بہرہ یاب رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس مبارک میں شامل فرما دے۔ (آمین)
(5) ولا تنفرقوا فیہ : دین میں جدا جدا ہونے کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اہل کتاب کی طرح بعض باتوں میں کتاب اللہ پر عمل کیا جائے اورب عض میں کتاب اللہ کے بجائے اپنی مرضی پر عمل کیا جائے، جیسا کہ اہل کتاب کے متعلق فرمایا :(افتومنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض) (البقر 1: 85)”پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟“ ایک صورت یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جو بات ثابت نہیں اسے دین بنا لیا جائے۔ اس یب دعت کہتے ہیں۔ سنت ہمیشہ ایک ہوگی، کیونکہ جس کی سنت ہے وہ ایک ہے، جبکہ بدعات کا شمار نہیں ہوگا، کیونکہ انہیں ایجاد کرنے والوں کا شمار نہیں ہوسکتا۔ پھر جب آدمی اصل سنت سے بہکتا ہے تو ایک بدعت پر نہیں رہتا بلکہ بدعات اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنا الگ فرقہ بنا لیتا ہے۔ اسے معلوم ہو بھی جائے کہ اس کی یا اس کے فرقے یا پیشوا کی فلاں بات کتاب اللہ یا حدیث رسول ﷺ کے خلفا ہے پھر بھی وہ اپنے دھڑے کی غلط بات پر اڑا رہے گا، حق کی طرف رجوع نہیں کرے گا اور اپنی یا اپنے امام کی بات کو کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کے تابع کرنے کے بجائے آیات و احادیث کے معانی میں تحریف کر کے انھیں اپنے مطابق ثابت کرے گا۔ نام اس کا تاویل رکھے گا اور کہے گا کہ ہر وہ آیت یا حدیث جو ہمارے فرقے کے بزرگوں کے خلاف ہے اس کی تاویل ہوگی یا وہ منسوخ ہے۔ حالانکہ وہ آیت یا حدیث اس کے بزرگوں کے خلاف نہیں، کیونکہ وہ تو ان بزرگوں سے بہت پہلے نازل ہوچکی ہیں، بلکہ اس کے بزرگوں کی بات آیت یاح دیث کے خلاف ہے کہ انھیں اس کا علم نہیں ہوسکا، یا ان کے ذہن میں نہیں رہی۔ معاویہ بن ابوسفیان ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا :(الا ان من قبلکم من اھل الکتاب افترقوا علی ثنتین وسبعین ملۃ ان ھذہ الملۃ ستفترق علی ثلاث وسبعین ثنتان وسبعون فی النار واحدۃ فی الجنۃ وھی الجماعۃ وانہ سیخرج من من امتی اقوا متجازی بھم تلک الاھواء کما یتجاری الکلب لصاحبہ لایتقی منہ عرق ولا مفصل الادخلہ) (ابوداؤد، السنۃ باب شرح السنۃ :3598)”سنو ! تم سے پہلے اہل کتاب کے لوگ بہتر (72) ملتوں میں جدا جدا ہوگئے اور یہ ملت تہتر (73) ملتوں میں جدا جدا ہوجائے گی، بہتر (72) آگ میں اور ایک جنت میں ہوگی اور وہی ”الجماعتہ“ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ میری امت میں کئی اقوام نکلیں ی جن میں یہ خواہشات (بدعات) اس طرح سرایت کر جائیں گی جیسے کتے کے ہلکاؤ کی بیماری اس کے مریض میں سریات کر جاتی ہے، نہ اس کی کوئی رگ باقی رہتی ہے اور نہ کوئی جوڑ مگر وہ اس میں داخل ہوجاتی ہے۔“ مزید دیکھیے سورة انعام کی آیت (159) :(ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعاً) کی تفسیر۔
(6) کبر علی المشرکین ماتدعوھم الیہ، وہ بات جس کی دعوت آپ مشرکین کو دیتے ہیں وہ ان پر بہت بھاری ہے، مراد اس سے ایک اللہ کی عبادت کی دعوت ہے۔ کفار پر یہ دعوت اس قدر بھاری ہے کہ اس کا ماننا تو درکنار وہ اس کا سننا بھی بردشات نہیں کرتے، فرمایا :(واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لایومنون بالاخرۃ واذا ذکر الذین من دونہ اذا ھم یستبشرون) (الزمر : 35)”اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہوجاتے ہیں۔“ وہ اس مجلس سے اٹھ جاتے ہیں جس میں ایک معبود کی بات ہو، فرمایا :(اجعل الالھتہ الھا فاحدا ان ھذا لشی حجاب وانلطلق الملاء منھم ان امثوا واصبروا علی الھیتکم ان ھذا لشی یراد) (ص : 605) ”کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالاڈ بلاشبہ یہ یقیناً بہت عجیب بات ہے۔ اور ان کے سرکردہ لوگ چل کھڑے ہوئے کہ چلو اور پانے معبودوں پر ڈٹے رہو، یقیناً یہ تو ایسی بات ہے جس کا ارادہ کیا جاتا ہے۔“ مزید تفصیل کے لئے مذکورہ بالا آیات کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔
(7) اللہ یجتی الیہ من یشآء : ”یجتی“ ”حبی یحبی، جیابۃ“ (ض) سے باب افتعال ہے، جس کا معنی ”کھینچ کرلے جانا“ ہے، جیسا کہ فرمایا :(اولم نمکن لھم حرماً امنا یحییٰ الیہ ثمرت کل شیء) (القصص : 58)”اور کیا ہم نے انہیں ایک با امن حرم میں جگہ نہیں دی ؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔“ باب افتعال کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہوگیا ، یعنی مشرکین پر یہ دعوت جتنی بھی بھاری ہو وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ اسے پھیلنے اور غالب آنے سے روک سکیں گے۔ نہیں ایسا نہیں ہوگا، مشرکین کی ناگواری کے باوجود یہ دین حق تمام دینوں پر غالب آکر رہے گا، جیسا کہ فرمایا (ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون) (التربۃ : 33)”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرک لوگ برا جانیں۔“ یہی لوگ جن پر ایک اللہ کی طرف دعوت بھاری گزر رہی ہے ان میں سے اور ان کی اولادوں میں سے اللہ جسے چاہے گا چن لے گا اور اپنی طرف کھینچ کرلے جائے گا اور واقعی ایسا ہی ہوا، ابوجہل کا بیٹا عکرمہ اور بھائی حارث بن ہشام مسلمان ہوگئے، ابوسفیان خود اور اس کے بیٹے مسلمان ہوگئے، ولید کا بیٹا خالد مسلمان ہوگیا۔ غرض جو ضد پر اڑ گئے ان کا اللہ تعالیٰ نے صفایا کردیا اور جن کی طبیعت میں ضد اور عناد کے بجائے انابت اور حق کی طرف رجوع تھا وہ اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق سے حلقہ بگوش اسلام ہوگئے اور رسول اللہ ں کی زندگی ہی میں پورے جزیرہ عرب سے شرک اور مشرکین کا خاتمہ ہوگیا۔
(8) ویھدی الیہ من ینیب : اس میں اللہ تعالیٰ کے ہدایت دینے کا قانون بیان ہوا ہے کہ وہ اندھے کی لاٹھی کی طرح نہیں، بلکہ وہ انھی کو ہدایت دیتا ہے جن میں قبول حق کی استعداد اور خواہش ہوتی ہے اور اس بات کا علم بھی اسی کو ہے کہ انابت کس میں موجود ہے، جیسا کہ فرمایا :(انک لاتھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشآء وھو اعلم بالمھتدین) (القصص : 56) ”بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“
Ayah 42:14(1) وما تفرقوا الامن بعد ماجآء ھم العلم : یعنی ان کے فرقوں میں بٹ جانے کا باعث یہ نہیں تھا کہ انھیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا علم نہیں تھا اور لاعلمی کی وجہ سے انہوں نے اپنے اپنے الگ مذاہب اور مکاتب فکر بنا لئے۔ بلکہ یہ تفرقہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم آجانے کے بعد پیدا ہوا۔
(2) بعیابینھم یعنی الگ الگ گروہ اور فرقے بنانے کا باعث ان کا باہمی حسد، ضد اور عناد تھا، جس کی وجہ سے اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے انہوں نے اپنے اپنے قیاس و آراء کی بنیاد پر الگ الگ فرقے بنائے اور تکاب اللہ میں تحریف تک سے گریز نہ کیا، حتیٰ کہ نوبت باہمی اختلاف سے بڑھ کر ایک دوسرے کی مخالفت اور پھر جنگ وجدل تک پہنچ گئی۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (213) کی تفسیر۔
(3) ولو لا کلمۃ سبقت من ربک …: اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حم سجدہ (45) کی تفسیر۔
(4) وان الذین اور ثوا الکتب من بعدھم …: یعنی شروع میں فرقے بنانے والوں نے علم ہونے کے باوجود حق سے انحراف کیا اور اللہ کی کتاب میں ایسی لفظی و معنوی تحریفیں کیں کہ بعد میں آنے والے لوگ، جو اس کتاب کے وارث بننے کے قابل تو نہ تھے مگر انھیں اس کا وارث بنادیا گیا، وہ اس کتاب میں کی گئی لفظی اور معنوی تحریفات کی وجہ سے اس کی حقانیت کے متعلق ایسے شک میں مبتلا ہوگئے جو انھیں شدید مضطرب اور بےچین رکھتا تھا۔ انھیں اپنی کتابوں کے الہامی ہونے کا یقین باقی نہ رہا، بلکہ وہ کسی دلیل وبرہان کے بغیر محض آنکھیں بند کر کے آباد اکابر کی تقلید کرتے چلے گئے۔
(5) مفسر عبدالرحمٰن کیلانی لکھتے ہیں :”ان وارثوں کے اپنی الہامی کتابوں کے بارے میں شک میں پڑنے کی کئی وجوہ تھیں، جن میں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں کی اصل زبان اور اصل عبارت کو محفوظ رکھ کر آنے والی نسلوں تک نہ پہنچایا گیا، صرف تراجم سے کام لیا جانے لگا اور ان تراجم کو ہی الہامی کتاب سمجھا جانے لگا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ بزرگوں کے اقوال اور الحاقی مضامین ان میں شامل کردیئے گئے، حتیٰ کہ ان دونوں قسم کی عبارتوں میں تمیز کرنا مشکل ہوگیا اور تیسری وجہ یہ تھی کہ ان کی تاریخی سند بھی ضائع کردی گئی (بلکہ سند رکھی ہی نہیں گئی)۔ ان سب باتوں کا اثر یہ ہوا کہ بعد میں آنے والے علماء خود اس کتاب سے شک میں پڑگئے کہ کون سا حصہ درست اور الہامی ہے اور کون سی عبارت بزرگوں کے اقوال وغیرہ ہیں اور کسی بات کا فیصلہ کرنے میں یہی شک و شبہ انھیں اضطراب میں ڈالے رکھتا تھا۔“ (تیسیرالقرآن)
Ayah 42:15(1) فلذلک فادع : مفسر ابن کثیر ؒ نے فرمایا :”یہ آیت کریمہ دس جملوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر متعلق ہے، پہلے لانے سے اس میں اختصاص پیدا ہو یا، یعنی لوگوں کو کسی اور نہیں بلکہ دین کے اسی طریقے کی دعوت دیں جو اس نے وحی کے ذریعے سے تمام انبیاء کے لئے مقرر فرمایا ہے اور وہ ہے ایک اللہ کی عبادت۔ اس کے دین کو قائم کرنا اور اس میں جدا جدا نہ ہوجانا، بلکہ اکٹھے ہو کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا۔
(2) واستقم کما امرت : دوسروں کو دعوت کے لئے خود اس پر عمل اور استقامت ضروری ہے، اس لئے اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کا حکم دیا۔ (واستقم“ اور ”کما امرت“ کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة ہود (112)
(3) ولا تتبع اھوآء ھم : یعنی آپ اس کی پیروی کریں جس کا اللہ کی طرف سے آپ کو حکم دیا گیا ہے، اس کے سوا جو کچھ ہے محض خواہشات ہیں۔ اس لئے ان لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یا ان سے صلح کی خاطر ان کی خواہشات کی پیروی مت کریں اور نہ دین میں کسی قسم کی مداہنت سے کام لیں۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (145) اور سورة مائدہ (49)۔
(4) وقل امنت بما انزل اللہ من کتب : اہل کتاب چونکہ کسی آسمانی کتاب کو مانتے اور کسی کو نہیں مانتے تھے، اسی طرح اپنی کتاب کے بھی بعض حصوں کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے۔ (دیکھیے بقرہ : 85) حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہر کتاب اور اس کی ہر بات پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس لئے فرمایا، ان سے کہہ دیں کہ میں فرقہ پرستوں کی طرح نہیں جو مرضی کی بات مانتے ہیں دوسری نہیں، بلکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہر کتاب پر ایمان رکھتا ہوں، وہ خواہ کوئی ہو۔ میں پہلے انبیاء کی تکیذب کے لئے نہیں ب ل کہ ان کی تصدیق کے لئے آیا ہوں۔ تم پر بھی لازم ہے کہ تمہاری کتابوں میں میری اور قرآن کی جو تصدیق موجود ہے اس پر بھی ایمان لاؤ، تاکہ تمہارا ایمان بھی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر کتاب پر ہ۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (136) (لاتفرق بین احد منھم) کی تفسیر۔
(5) وامرت لاعدل بینکم : عدل کا معنی انصاف اور برابری ہے، اس کے مقابلے میں ظلم ہے۔ یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان عدل کروں، تمام لوگوں کو انصاف مہیا کروں، دنیا میں جو ظلم و زیادتی ہو رہی ہے اس کا خاتمہ کروں اور فیصلہ کرتے ہوئے اپنے پرائے میں فرق نہ کروں، بلکہ سب کو برابر رکھوں۔ اسی طرح چھوٹے و بڑے، کمزور و طاقتور اور امیر و غریب کے درمیان فرق نہ کروں۔ اس جملے میں اس غلبہ و اقتدار کی طرف بھی اشارہ ہے جو مدینہ جا کر حاصل ہونے والا تھا، کیونکہ بےاختیار شخص کیا عدل کرے گا اور اس کے پاس عدل طلب کرنے کے لئے کون جائے گا۔
(6) اللہ ربنا و ربکم : تمام بندوں میں عدل کا حکم اس لئے ہے کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور وہی تمہارا رب ہے، ہم تم سب اس کے بندے ہیں۔ سو عدل کا حکم بھی سب کے لئے ہے، خواہ اپنا ہو یا پرایا، ضعیف ہو یا شریف، حکمران ہو یا رعایا۔
(7) لنا اعمالنا ولکم اعمالکم : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک اظہار برأت ، جیسے فرمایا :(لکم دینکم ولی دین) (الکافرون : 6)”تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین ہے۔“ اور جیسا کہ سورة انعام (135) ، ہود (93، 121) اور سورة زمر (39) میں اظہار برأت فرمایا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اچھے یا برے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں، نہ ہمارے اچھے اعمال تمہیں دیئے جائیں گے اور نہ تمہارے اچھے اعمال ہمیں دیئے جائیں گے۔ اسی طرح نہ تم ہمارے بد اعمال میں پکڑے جاؤ گے اور نہ ہم تمہارے بد اعمال میں پکڑے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا : (فانما علیہ ماحمل وعلیکم ماحملتم) (النور : 53) ’ تو اس کے ذمے صرف وہی ہے جو اس پر بوجھ ڈال اگیا ہے اور تمہارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا۔“ مزید دیکھیے سورة بقرہ (139) ، یونس (41) ، ہود (35) اور قصص (55)۔
(8) لاحجۃ بیننا وبینکم : یعنی جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں، جو بات حق تھی وہ ہم نے دلائل کے ساتھ واضح کردی، ہمیں تمہارے باطل پر اور اپنے حق پر ہونے کا پورا یقین ہے۔ تم اپنی بات پر اڑے ہوئے ہو، اس لئے جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں، تم جھگڑو بھی تو ہم جھگڑنے کے لئے تیار نہیں، اب تلوار کے ساتھ فیصلہ باقی رہ جاتا ہے، وہ اپنے وقت پر ہوجائے گا۔
(9) اللہ یجمع بیننا : باطل پر جمے رہنے اور اس پر ناحق جھگڑا کرنے سے ڈراتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں جمع کرے گا، کیا تمہیں اس بات سے خوف نہیں آتا کہ ناحق جھگڑے کا وہاں کیا جواب دو گے ؟
(10) والیہ المصیر : اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے، وہاں پورا انصاف ہوجائے گا۔