42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 42:30

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور جو بھی تمہیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ بہت سی چیزوں سے در گزر کرجاتا ہے۔

(1) وما اصابکم من نصیبہ فما کسبت ایدیکم :: اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور نشانیوں کا تذکرہ ہو رہا ہے اس سلسلے میں لوگوں کے بارش سے ناامید ہونے کے بعد بارش برسانے کا ذکر ہوا ہے۔ اس پر سوال ہوسکتا تھا ہ اللہ تعالیٰ اس قدر مہربان ہے تو وہ بارش روک کیوں دیتا ہے ؟ فرمایا، تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمہاری کمائی کا نتیجہ ہے۔ وہ گناہ بھی ہوسکتے ہیں اور اونچی شان والے حضرات پر اللہ تعالیٰ کے جس قدر انعامات ہیں ان کا حق ادا کرنے میں کسی طرح کی کمی تھی۔ اس لئے پیغمبر بھی اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ::(واللہ انی لاستغفر اللہ واتوب الیہ فی الیوم اکثر من سبعین مرۃ) (بخاری، الدعوات، باب استغفار النبی ﷺ فی ال یوم واللیلۃ :6308)”اللہ کی قسم ! میں دن میں ستر (70) بارے زیادہ اللہ سے استغفار اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔“ انسان پر آنے والی ان مصیبتوں کا انجام مومن و کافر کے حق میں ایک جیسا نہیں ہوتا، بلکہ وہ کافر کے لئے عذاب ہوتی ہیں، جیسا کہ فرمایا :(ولنذیفنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون) (السجدۃ : 21)”اور یقیناً ہم انہیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔“ اور مومن کے ل ئے گناہوں کی معافی، اجر اور درجات کی بلندی کا باعث بنتی ہیں۔ ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(مایصیب المسلم من نصب، ولا وصب ولا ھم ، ولا حزن، ولا ادی، ولا عم ، حتی الشوکۃ یشاکھا، الا کفر اللہ بھما من خطاباہ) (بخاری، المضری، باب ما جاء فی کفارۃ المرض :05631، 5636)”مومن کو جو بھی دکھ یا چوٹ یا فکر یا حزن یا تکلیف یا غم پہنچتا ہے ، حتی کہ کانٹا بھی جو اسے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے کچھ گناہ دور فرما دیتا ہے۔“ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ بچے اور دیوانے پر آنے والی مصیبتیں بھی کیا ان کے اعمال کا نتیجہ ہیں ؟ جواب یہ ہے کہ آیت میں خطاب ان لوگوں سے ہے جو مکلف ہیں، بچے اور دیوانے مکلف ہی نہیں، نہ ان پر آنے والی مصیبتیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت آتی ہیں، جسے وہی بہتر جانتا ہے۔ بیماری اور مصیبت کے اجر اور درجات کی بلندی کا باعث بننے کی دلیل قرآن مجید کی آیات، مثلاً سورة توبہ کی آیت (120) کے علاوہ بہت سی احادیث بھی ہیں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، آپ ﷺ بخار میں تپ رہے تھے۔ میں نے کہا :”یا رسول اللہ ! آپ کو بہت سخت بخار ہوتا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :(اجل، انی اوعک کما یوعک رجلان منکم ، قلت ذلک بان لک اجرین ؟ قال اجل ذلک کذلک ، مامن مسلم بصییہ اذی، شوکۃ فما فوقھا الا کفر اللہ بھا سیاتہ، کما تحط الشجرۃ ورقھا) (بخاری، المضریٰ ، باب اشد الناس، بلاء الانبیاء ثم الامثل فالا مثل :5678)”ہاں، مجھے اتنا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے۔“ میں نے کہا :”یہ اس لئے کہ آپ کو دو اجر ملتے ہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”ہاں ! یہی بات ہے، جس مسلم کو بھی کوئی تکلیف پہنچے، کاٹنا ہو یا اس سے اوپر، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کی برائیاں گرا دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔“ (2) ویعفوا عن کثیر : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نحل (61) اور سورة فاطر (45) کی تفسیر۔
Ayah 42:31

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور نہ تم زمین میں (اللہ کو) کسی صورت عاجز کرنے والے ہو اور نہ اللہ کے علاوہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد گار۔

وما انتم بمعجزین فی الارض …: اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نور (57) اور سورة عنکبوت (22) کی تفسیر۔
Ayah 42:32

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں سے سمندر میں چلنے والے جہاز ہیں، جو پہاڑوں جیسے ہیں۔

ومن ایتہ الجوار فی البحر کالا غلام :”الجوار“”جاریۃ“ (چلنے والی) کی جمع ہے، یعنی کشتی یا بحری جہاز، جیسا کہ فرمایا :(انا لما طغا المآء حملنکم فی الجاریۃ) (الحاقۃ : 11)”بیشک ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کر گیا تمہیں کشتی میں سوار کیا۔“ (الاغلام“ ”علم“ کی جمع ہے، پہاڑ۔ اصل میں کوئی نشان جس سے کسی چیز کا علم ہو، مثلاً جھنڈا وغیرہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے سمندر میں چلنے والے بحری جہاز بھی ہیں جو پہاڑوں کی طرح بلند ہیں اور دور سے نظر آتے ہیں۔ پانی میں مخصوص حجم اور وزن والی چیز کو اٹھائے رکھنے کی خاصیت اللہ واحد کی پیدا کردہ ہے، جس کی وجہ سے وہ ہز اورں لاکھوں ٹن کے بحری جہازوں کو اپنے سینے پر اٹھائے رکھتا ہے، جن سے تم بیشمار منافع حاصل کرتے ہو۔ یہاں جہازوں کے لئے ”الفلک“ کے بجائے ”الجوار“ کے لفظ کے ساتھ اس نعمت کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ ان جہازوں کو پانی میں ڈوبنے سے بچائے رکھنے کے ساتھ انھیں پانی میں چلانے کی نعمت پر بھی غور کرو، اگر یہ نعمت نہ ہوتی تو جس طرح خشک زمین پر کھڑی عمارتیں اگرچہ زمین میں نہیں دھنستیں، مگر جتنی بھی تیز ہوا آجائے ایک انچ بھی ادھر سے ادھر نہیں ہوتیں، اسی طرح یہ جہاز بھی پانی پر کھڑی رہتے۔ تو کوئی اور ہے تو لاؤ جو کہے کہ میں نے سمندر کو پیدا کیا ، یا پانی میں یہ تاثیر رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید و قدرت کی اس نشانی اور عظیم نعمت کا متعدد مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة یٰسین پانی میں یہ تاثیر رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید و قدرت کی اس نشانی اور عظیم نعمت کا متعدد مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة یٰسین (41 تا 4 ر) ، بقرہ (164) ، نحل (14) اور سورة فاطر (12)
Ayahs 42:33–34

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر وہ چاہے ہوا کو ٹھہرا دے تو وہ اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ بیشک اس میں ہر ایسے شخص کے لیے یقینا کئی نشانیاں ہیں جو بہت صبر کرنے والا، بہت شکر کرنے والا ہے۔

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا وہ انھیں اس کی وجہ سے ہلاک کر دے جو انھوں نے کمایا اور (چاہے تو) بہت سے لوگوں سے درگزر کردے۔

(1) ان یشا یسکن الریح …:”رواکد“”رکد یرکد رکوداً“ (ن) سے اسم فاعل ”راکدۃ“ کی جمع ہے۔ نزول قرآن کے وقت سمندر میں بادبانی کشتیاں اور جہاز چلتے تھے ، جن کے چلنے نہ چلنے کا اور سست یا تیز رفتار سے چلنے کا دار و مدار ہوا پر ہوتا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمندروں میں جہازوں کو چلانے والی ہواؤں کی تین حالتیں بیان فرمائی ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو ساکن کر دے اور جہاز جہاں کھڑے ہیں وہیں کھڑے رہ جائیں، پھر اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو اس ہوا کو چلا دے ؟ (2) او یو بفھن بما کسبوا : اس کا عطف ”یسکن الریح“ پر ہے، گویا عبارت اس طرح ہے :”ان یشا یکسن الریح او ان یشاء یوبقھن بما کسبوا“ یعنی ”اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کر دے یا اگر وہ چاہے تو ان کے اعمال بد کی وجہ سے تند و تیز طوفانی ہوا کے ساتھ انہیں ہلاک کر دے۔“ یہ ہوا کی دوسری حالت ہے، تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ایک اور آیت میں ہے، فرمایا :(حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم بریح طیبۃ و فرحوا بھا جآء تھا ریح عاصف) (یونس : 122)”یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انہیں لے کر عمدہ ہوا کے ساتھ چل پڑتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں تو ان (کشتیوں) پر سخت تیز ہوا آجاتی ہے۔“ (3) ویعف عن کثیر : اس کا عطف بھی ”یکسن الریح“ پر ہے : ”ای وان یشاء یغف عن کثیر فلا یعاقبھم باسکان الریح او بار سلھا عاصفۃ“ یہ تیسری حالت ہے، یعنی اگر وہ چاہے تو بہت سے لوگوں سے درگزر کر دے، پھر نہ ہوا روک کر انھیں سزا دے اور نہ ہی تند و تیز طوفان کے ساتھ انھیں ہلاک کرے، بلکہ انھیں سلامتی کے ساتھ منزل مقصود پر پہنچا دے۔ ”یکسن“ ، ”یوبقھن“ اور ”یعف“ تینوں ”ان یشآئ“ شرط کی جزا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں۔ (4) ان آیات میں جہاں مشرکین کے لئے اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان ہوئے ہیں وہیں مادہ پرست کمیونسٹوں اور دہریوں کا رد بھی ہے، کیونکہ ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہوا نہ اپنی مرضی سے چلتی ہے اور نہ ٹھہرتی ہے ، نہ اپنی مرضی سے باد موافق ہو کر چلتی ہے اور نہ ہی تند و تیز آندھی کی شکل اختیار کرتی ہے، بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔ اگر ہوا کا چلنا اس کا طبعی فعل ہوتا تو جس طرح آگ جلاتی ہے اور برف ٹھنڈی ہوتی ہے ہوا بھی یا ساکن رہتی اور کبھی نہ چلتی یا چلتی رہتی اور ہمیشہ تند و تیز آندھی کی صورت اختیار کئے رکھتی۔ معلوم ہوا کہ ہوا کا چلنا خود اس کا فعل نہیں بلکہ یہ اس مالک و مختار کے ہاتھ میں ہے جس نے اسے پیدا فرمایا۔ (5) ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اتنی واضح اور عظیم نشانیوں کے باوجود مشرک اور دہریے ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے ؟ جواب کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة لقمان کی آیت (31) کی تفسیر۔ (6) یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ آج کل جہاز ہوا سے نہیں چلتے بلکہ انجنوں کی طاقت سے چلتے ہیں، پھر ہوا کے رکنے سے ان پر کیا اثر ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انجن بھی عقب میں ہوا کے ساتھ پانی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے جہازوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ”الریح“ کا لفظ اس ریح کو بھی شامل ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان انجنوں میں ایسی خرابی پیدا کر دے کہ وہ ایک ہی جگہ کھڑے رہ جائیں۔ (تفسیر ثنائی، بتصرف)
Ayah 42:35

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور (تاکہ) وہ لوگ جو ہماری آیات میں جھگڑتے ہیں، جان لیں کہ ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔

ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا …: یہاں سوال ہے کہ ”یعلم“ پر نصب کیوں ہے اور ”واؤ“ کے ساتھ عطف کس پر ڈالا گیا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس جملے کا عطف ایک محذوف جملے پر ہے، جس میں اس بات کی علت بیان کی گئی ہے کہ ہوائیں جہازوں کے لئے کبھی موافق، کبھی شدید ترین مخالف اور کبھی ساکن کیوں ہوتی ہیں اور ”یعلم“ پر نصب ”لام کی“ کی وجہ سے آیا ہے جس کے بعد ”ان“ ناصبہ مقدر ہوتا ہے۔ گویا پوری عبارت اس طرح ہے :”اللہ فعل ذلک لیعتبر المومنون و لیعلم الذین یجادلون فی آیاتنا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے کشتیوں اور ہواؤں کا یہ معاملہ اس لئے ذکر فرمایا ہے تاکہ مومن اس سے عبرت حاصل کریں اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلانے کے لئے جھگڑا کرتے ہیں وہ جان لیں کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بھاگ کر جانے کی کوئی جگہ نہیں۔ ہوسکتا ہے یہ جاننے کے بعد وہ اللہ کی آیات پر ایمان لے آئیں۔ بعض مفسرین نے محذوف جملے کے لئے اس سے مختلف الفاظ بھی ذکر فرمائے ہیں، مقصد سب کا یہی ہے کہ ”ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا“ میں گزشتہ چیزوں کی علت بیان ہوئی ہے۔ لعت والے جملے کے حذف کی قرآن مجید میں کئی مثالیں ملتی ہیں، جیسے فرمایا :(ولنجعلہ ایۃ للناس) (مریم : 21)”اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے بہت بڑی نشانی بنائیں۔ ”اور جیسے فرمایا :(وخلق اللہ السموت والارض بالحق و لتجری کل نفس بما کسبت) (الجائبۃ : 22)”اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلا دیا جائے جو اس نے کمایا۔“
Ayah 42:36

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

پس تمہیں جو بھی چیز دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا معمولی سامان ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔

(1) فما اوتیتم من شیء فمتاع الحیوۃ الدنیا :”متاع“ وہ چیز جس سے فائدہ اٹھایا جائے، برتنے کی چیز جو جلدی ختم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قدرت و سلطنت کے دلائل مثلاً بندوں کے لئے بارش برسانے انھیں حسب حکمت رزق عطا فرمانے، آسمان و زمین کو پیدا کرنے، ان میں بیشمار جان داروں کو پھیلانے، سمندروں میں پہاڑوں جیسے بلند جہازوں کے چلنے اور انھیں پیش آنے والے احوال ذکر کرنے کے بعد دنیا کی زندگی کے ساز و سامان کے بےوقعت اور عارضی ہونے کا ذکر فرمایا، کیونکہ دنیا کی زیب و زینت ہی انسان کو دلائل پر غور و فکر کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ جب وہ اس کی حقیقت سے آگاہ ہوگا اور وہ اس کی نگاہ میں حقیر ہوگی تو اسے آخرت کی طرف توجہ کا موقع ملے گا اور وہ دلائل پر غور بھی کرے گا۔ (2) دنیا میں انسان کو جو چیز بھی دی گی ہے، وہ خواہ کتنی زیادہ ہو یا کتنی قیمتی ہو، اس میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس پر انسان پھول جائے اور آخرت سے بےپروا ہوجائے، کیونکہ ایک تو وہ بہت تھوڑی مدت کے لئے اس کے استعملا میں آتی ہے، پھر وہ سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ یہاں سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ملکیت میں خواہ کتنی لمبی چوڑی جائیداد یا دولت ہو عملاً اس کے استعمال میں اس کا معمولی سا حصہ ہی آتا ہے۔ اے انسان تیرے لئے اس لمبی چوڑی جائیداد میں سے وہی ہے (ما اکلت فافنیت او لبست فابلیت) (مسلم، الزھد و الرقائق، باب :2958)”جو تو نے کھالیا اور فنا کردیا یا جو مزید دیکھیے سورة رعد (26)۔ (3) وما عند اللہ خیر وابقی : جو دولت و نعمت اللہ کے پاس ہے وہ ہر لحاظ سے دنیا کے ساز و سامان سے بہتر بھی ہے اور پائیدار اور لازوال بھی۔ (4) للذین امنواو علی ربھم یتوکلون : یہاں سے ان لوگوں کی صفات بیان فرمائیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں ملنے والی نعمتوں کے حق دار ہوں گے۔ ان میں سب سے پہلی صفت ”امنوا“ ماضی کے صیغے کے ساتھ ہے اور ”یتوکلون“ مضارع کے صیغے کے ساتھ مطلب یہ ہے کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر ایمان لا چکے اور ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، اس کی تقدیر اور اس کے روز جزا پر پورا یقین آچکا ، اب ان کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں ہمیشہ صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، کسی اور سے انھیں نہ نفع کی امید ہے نہ کسی نقصان کا خوف۔ ”یتوکلون“ مضارع کا صیغہ ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے۔
Ayah 42:37

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو بڑے گناہوں سے اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں اور جب بھی غصے ہوتے ہیں وہ معاف کردیتے ہیں۔

(1) والذین یجتبون کبیر الاثم والفواحش : ایمان و توکل کے بعد پہلے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جن سے اجتناب ضروری ہے، وہ ہیں کبائر و فواحش اور غضب۔ ”کبائر“ کی تعریف کے لئے دیکھیے سورة نساء کی آیت (31)۔ ”الفواحش“ (فاحشۃ“ کی جمع ہے، کوئی بھی قول یا فعل جس کی قباحت حد سے بڑھی ہوئی ہو، مثلاً زنا، قوم لوط کا عمل اور شدید بخل وغیرہ۔ (دیکھیے سورة بقر :268) آیت میں ”کبائر“ کا لفظ عام ہے، جس میں فواحش بھی آجاتے ہیں، مگر ”فواحش“ کا ذکر ان سے نفرت دلانے کے لئے خاص طور پر الگ بھی فرمایا۔ شیخ عبدالرحمان السعدی نے فرمایا کہ فواحش ان بڑے گناہوں کو کہتے ہیں جنکی رغبت انسانی طبیعت میں پائی جاتی ہو۔ مزید دیکھیے سورة بنی اسرائیل (32)۔ (2) واذا ما غضبوا ھم یغفرون : غصے کی حالت میں معاف کردینے کا ذکر خاص طور پر فرمایا، کیونکہ یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں جو نہایت مضبوط ارادے کے مالک ہوں، کیونکہ عموماً غصے میں آدمی عقل و ہوش سے عاری ہوجاتا ہے۔ اس حال میں اپنے آپ پر قابو رکھنا آدمی کی کمال عقل اور ضبط نفس کی دلیل ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، (لیس الشدید بالصرعۃ انما الشدید الذی یملک نفسہ عند الغضب) (بخاری، الادب، باب العذر من الغضب : 6113)”پہلوان وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے، پہلوان صرف وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“ نبی کریم ﷺ میں عفو و درگزر کی خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ (دیکھیے آل عمران : 159) عائشہ ؓ فرماتی ہیں : (ما انتقم رسول اللہ ﷺ لنفسہ فی شیء یوتی الیہ حتی ینتھک من حرمات اللہ فیتقم للہ) (بخاری، الحدود، باب کما لتغریر والادب ؟:6853)”رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کیلئے کسی معاملے کا اتنقام نہیں لیا جو آپ سے کیا گیا۔ ہاں چ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں میں سے کسی کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کی خاطر انتقام لیتے۔“ مزید دیکھیے سورة آل عمران (133، 134) خلفائے رشایدن میں بھی یہ وصف بدرجہ کمال موجود تھا، جیسا کہ ان کی سیرت سے ظاہر ہے۔
Ayah 42:38

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی واقع ہوتی ہے وہ بدلہ لیتے ہیں۔

(1) والذین استجابوا لربھم : واجب الاجتناب چیزوں کے بعد ان اوصاف کا ذکر فرمایا جن سے آراستہ ہونا ضروری ہے۔ وہ چار ہیں، جن پر عمل اتحاد امت کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔ اجابت اور اسجابت دونوں کا معنی ”قبول کرنا“ ہے۔ مگر استجابت میں حروف زائد ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا رب انھیں جس کام کے لئے بلاتا ہے وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، نہ دیر کرتے ہیں نہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ ان کے رب کا ان سے تقاضا بھی یہی ہے۔ دیکھیے سورة انفال (24)۔ (2) واقاموا الصلوۃ : ان چار اوصاف میں سے سبسے پہلے نماز قائم کرنے کا ذکر فرمایا، کیونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد سب سے پہلا اور سب سے اہم فریضہ یہی نماز قائم کرنا ہے جو سب کے سامنے مسلم و کافر کے درمیان خط امتیاز کھینچ دیتا ہے۔ دیکھیے سورة توبہ (5، 11) (3) وامرھم شوریٰ بینھم :”شار یشور شوراً“ (ن) ”واشتار العسل“ چھتے سے شہد نکالنا۔ مشورے کو مشورہ اور شوریٰ اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ بہت سے لوگوں کی رائے حاصل کرنے کا نام ہے۔ یہ دوسرا وصف ہے۔ وہ کام جن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے واضح احکام موجود ہیں ان میں مشورے کی ضرورت ہے نہ اجازت کی، ان میں استجابت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ان کے علاوہ مسلمانوں کے ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ تمام لوگوں کی بہتر سے بہتر رائے سے آگاہ ہو کر بہترین بات تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی شخص اپنے آپ کو عقل کل نہیں سمجھتا کہ اپنی رائے کو حرف آخر قرار دے کر اس پر اصرار کرے اور فرعون کی طرح کہے : ماریکم الا ما اری وما اھدیکم الا سبیل الرشاد) (المومن : 29) ”میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود رائے رکھتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی کا راستہ ہی بتارہا ہوں۔“ کیونکہ یہ رویہ کوئی متکبر شخص ہی اختیار کرتا ہے جو دوسروں کو اور ان کی رائے کو کوئی وزن نہ دے، مومن کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(تلک الدار الاخرۃ نجعلھا للذین لایریدون علوا فی الارض ولا فساداً) (القصص : 83)”یہ آخری گھر، ہم اسے ان لوگوں کے لئے بناتے ہیں جو نہ زمین میں کسی طرح اونچا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ کسی فساد کا۔“ مومن ہمیشہ خئاف رہتا ہے کہ اس سے فہم کی غلطی ہوجائے یا لاعلمی کی وجہ سے یا شیطان یا نفسکے دخل سے غلط فیصلہ کر بیٹھے، اس لئے وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے مشورہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو بھی اپنے صحابہ سے مشورے کا حکم دیا اور آپ ﷺ نے ہمیشہ ان امور میں صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صریح حکم نہیں تھا۔ (4) آج کل بہت سے لوگ ”شوریٰ“ سے مراد جمہویرت اور ووٹ لیتے ہیں، حالانکہ مشورہ تو خلیفہ بھی کرتا ہے، بادشاہ بھی، جیسے ملکہ سبا نے کیا اور چھوٹے سے چھوٹے کنبے کا سربراہ بھی، کیونکہ اس کے بغیر کوئی کام درست طریقے سے چل ہی نہیں سکتا۔ اگر نہ کرنا چاہے تو جمہوری وزیر اعظم بھی مشورے کے بجائے اپنی پارٹی کے ارکان کو اپنی استبدادی رائے پر مجبور کرسکتا ہے، جیسا کہ ہم اپنے ملک میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ مشورے اور جمہوریت کے فرق کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة آل عمران کی آیت (159) (وشاورھم فی الامر) کی تفسیر۔ سورة نمل کی آیت (32) کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔ (5) ومما رزقنھم ینفقون : یہ تیسرا وصف ہے۔ تفصیل کیلئے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (3) کی تفسیر۔
Ayah 42:39

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز قائم کی اور ان کا کام آپس میں مشورہ کرنا ہے اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

والذین اذا اصابھم البغی …: یہ چوتھا وصف ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے ان کا وصف غصے کے وقت معاف کردینا ذکر فرمایا ہے اور یہاں انتقام کو ان کی خوبی قرار دیا ہے، تطبیق کیا ہے ؟ اس کا بہترین جواب مشہور تابعی ابراہیم نخعی نے دیا ہے، انہوں نے صحابہ کرام ؓ کا طرز عمل بیان کرتے ہئے فرمایا :”کان المومنون یکرھون ان یستدلوا و کانوا اذا قدروا عفواً (ابن کثیر بحوالہ ابن ابی حاتم : 18386 وقال حکمت بن بشیر مسندہ صحیح)”مومن یہ بات ناپسند کرتے تھے کہ ذلت قبول کریں، مگر جب قدرت پاتے تو معاف کردیتے تھے۔“ خلاصہ یہ ہے کہ اگر معاف کرنا مجرم کے جرم سے باز آنے کا باعث ہو تو عضو افضل ہے، لیکن اگر معاف کرنے سے اس کی سرکشی میں اور جرم پر جرأت میں اضافہ ہو تو اتنقام لینا چاہیے۔ دلیل اس کی لفظ ”البغی“ (سرکشی) ہے۔ ایک شاعر نے کہا ہے۔ اذا انت اکرمت الکریم ملکتہ وان انت اکرمت اللئیم تمردا ”جب تم کسی معزز آدمی کی عزت کرو گے تو اس کے مالک بن جاؤ گے اور اگر تم کمینے کی عزت کرو گے تو وہ سرکش ہوجائے گا۔“ ابن کثیر نے فرمایا : یعنی ان میں اس شخص سے اتنقام لینے کی قوت ہوتی ہے جو ان پر ظلم اور زیادتی کرے، نہ وہ عاجز ہوتے ہیں نہ ذلیل ، بلکہ جو سرکشی کرے اس سے انتقام کی قدرت رکھتے ہیں، اس کے باوجود جب قابو پالیتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں، جیسا کہ یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں سے کہا :(لاتثریب علیکم الیوم ، یغفر اللہ لکم) (یوسف : 92) ”آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں بخشے۔“ حالانکہ وہ ان کے مواخذے پر اور اس سلوک کا بدلا لینے پر پوری قدرت رکھتے تھے جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا اور جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر ان لوگوں سے فرمایا : جنہوں نے آپ سے دشمین کی انتہا کردی تھی اور جن کی گردنیں آپ کے ایک اشارے سے تن سے جدا ہوسکتی تھیں۔ (لاتثریب علیکم الیوم) (السنن الکبری للسائی :11298) اور جیسا کہ آپ ﷺ نے ان اسی (80) آدمیوں کو ماف کردیا جو کوہ تنعیم سے آپ پر حملہ آور ہونے کے لئے اترے تھے۔ جب آپ ﷺ نے ان پر قابو پا لیا تو قدرت کے باوجود ان پر احسان فرما دیا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے غورث بن حارث کو معاف کردیا، جس نے آپ کو اچانک قتل کرنے کا ارادہ کیا، جب آپ ﷺ سوئے ہوئے تھے تو اس نے آپ کی تلوار میان سے نکالی لی، آپ بیدار ہوئے تو وہ ننگی اس کے ہاتھ میںھی۔ آپ ﷺ نے اسے جھڑکا تو اس نے نیچے رکھ دی، رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو بلا کر ساری بات بتائی اور اسے معاف کردیا۔ (دیکھیے بخاری 4136) اسی طرح لبیدبن اعصم کو معاف کردیا جس نے آپ پر جادو کیا تھا، اس سے باز پرس بھی نہیں فرمائی۔ (دیکھیے بخاری :5765) اسی طرح اس یہودی عورت زینب کو معاف فرما دیا جو خیبر کے یہودی مرحب کی بہن تھی، جسے محمد بن مسلمہ ؓ نے قتل کیا تھا، جس نے خیبر کے موقع پر بکری کے بازو میں زہر ملا دیا تھا، بکری کے اس بازو نے آپ کو اس کی اطلاع دے دی، آپ ﷺ نے اس عورت کو بلایا تو اس نے اعتراف کرلیا۔ آپ نے اس سے کہا کہ تمہیں اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ اس نے کہا، میرا ارادہ یہ تھا کہ اگر آپ نبی ہوئے تو یہ آپ کو نقصان نہیں دے گی اور اگر نبی نہ ہوئے تو ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ آپ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا، مگر جب اس زہر کی وجہ سے بشربن براء ؓ فوت ہوگئے تو آپ ﷺ نے ان کے قصاص میں اسے قتل کردیا۔ (دیکھیے بخاری :3169، ابو داؤد، 4509، 4511) ایسی احادیث اور بھی بہت ہیں۔ (وللہ الحمد) یہ تمام واقعات بخاری و مسلم دونوں میں یا ان میں سے ایک میں موجود ہیں۔
Ayah 42:40

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور کسی برائی کا بدلہ اس کی مثل ایک برائی ہے، پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بیشک وہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔

(1) وجزوا سیئۃ سیئۃ مثلھا : سرکشی کرنے والوں سے انتقام کا ذکر مدح کے انداز میں کرنے پر خطرہ تھا کہ انتقام میں حد سے تجاوز نہ ہوجائے اس لئے اس آیت میں کئی طرح سے زیادتی سے باز رکھنے کا اہتمام فرمایا، سب سے پہلے تو یہ کہہ کر ”جزوا سیئہ سیئۃ“ (برائی کا بدلا برائی ہے) حالانکہ بدلا تو برائی نہیں، مگر دونوں کی صورت ایک ہونے کی وجہ سے بدلے پر بھی ”سیئۃ“ کا لفظ بولا۔ پھر یہ پابندی لگائی کہ انتقام زیادتی کے عین برابر ہو، اس سے زیادہ نہ ہو ، جیسا کہ فرمایا :(فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل مااعتدی علیکم) (البقرۃ :193)”پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو، اس کی مثل جو اس نے تم پر زیادتی کی ہے۔“ اور فرمایا :(وان عاقبتم فعاقیوا بمثل ماعوقبتم بہ) (النحل :126)”اور اگر تم بدلا تو اتنا ہی بدلا لو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی ہے۔“ (2) وجزوا سیئہ سیئۃ مثلھا“ سے جو احکام حاصل ہوتے ہیں ان میں سے چند کے لئے دیکھیے سورة نحل کی آیت (26) کی تفسیر۔ (3) فمن عطا و اصلح فاجرہ علی اللہ : ظاہر ہے انتقام لیتے ہوئے اس زیادتی سے ذرہ برابر اضافہ نہ ہونے دینا جو کی گئی ہے محال نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے، اسلئے آخر میں پھر عفو و اصلاح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس کا اجر اپنے ذمے لیا۔ فاجرہ علی اللہ (تو اس کا اجر اللہ پر ہے) اس جملے میں اجر کی جو عظمت بیان ہوئی ہے وہ کسی بھی تفصیل سے اس طرح بیان نہیں ہوسکتی۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ روسل اللہ ﷺ نے فرمایا :(ما نقصت صدقہ من مال وما زاد اللہ عندا بعفو الا عزا وما تواضع احد للہ الا رفعہ اللہ) (مسلم، البر وا لصلۃ باب استحباب العفو و التواضح :2588)”صدقہ کسی مال میں کمی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ معاف کردینے کی وجہ سے بندے کی عزت ہی میں اضافہ کرتا ہے اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر نیچا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اونچا کردیتا ہے۔“ حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ نے یہاں فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ کا بہت عمدہ کلام نقل فرمایا ہے، جس میں انہوں نے دو آیات کے حوالے سے اور طبعی و عقلی حوالے سے عفو کی فضیلت بیان کی ہے۔ انہوں نے فرمایا :”جب کوئی شخص تمہارے پاس کسی شخص کی شکایت لے کر آئے تو اسے کہو، میرے بھائی ! اسے معاف کر دو ، کیونکہ عفو تقویٰ کے زیادہ قریب ہے، جیسا کہ فرمایا :(وان تعفوا اقرب للتقویٰ) (البقرۃ :238)”اور یہ (بات) کہ تم معاف کر دو تقویٰ کے زیادہق ریب ہے۔“ اگر وہ کہے میرا دل معاف کرنے کو برداشت نہیں کرتا، میں تو انتقام لوں گا، جیسے مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو اسے کہو، اگر تم اچھے طریقے سے انتقام لے سکتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ عفو کی طرف پلٹ آؤ، یہ بہت وسعت والا دروازہ ہے، کیونکہ جو معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، فرمایا :(فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ) (الشوریٰ :30)”پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔“ اور معاف کردینے والا رات سکون سے بستر پر سو جاتا ہے، جبکہ انتقام لینے والا مختلف معاملات کی وجہ سے پہلو بدلتا رہتا ہے۔“ (ابن ابی حاتم :3280/10 ح 18388، قال المحقق سندہ صحیح) (4) انہ لایحب الظلمین : سب سے پہلے تو ظالم وہ ہے جو ظلم کرنے میں پہل کرتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(المستبان ما قالا فعلی البادی مالم یعتد المظلوم) (مسلم، البروالصلۃ ، باب النھی عن السباب :2588)”گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ بھی کہیں وہ پہل کرنے والے پر ہے، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔“ پھر مظلوم اگر انتقام میں حد سے بڑھ جائے تو ظالم شمار ہوگا اور اللہ تعالیٰ سے محروم ہوگا۔ (5) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بدلے کے تین مرتاب بیان فرمائے ہیں، عدل، فضل اور ظلم۔ عدل کا مرتبہ ”جزؤا سیئۃ سیئۃ مثلھا“ میں بیان ہوا ہے کہ بدلے میں نہ زیادتی ہو نہ کمی، جان کے بدلے جان، ہر عضو کے بدلے اس کے برابر عضو، اسی طرح مال پر زیادتی کا معاملہ ہے۔ فضل کا مرتبہ زیادتی کرنے والے سے عفو اور اس کی اصلاح ہے۔ ”فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ“ اس جملے میں عفو کی ترغیب ہے کہ جس طرح تم اللہ تعالیٰ سے معافی کے خواہشمند اور امید وار ہو اسی طرح تم بھی عفو و درگزر سے کام لو، فرمایا :(ولیغفوا ولیضفحوا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم) (النور : 22) ”اور لازم ہے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخشے۔“ اگر عفو سے مجرم کی اصلاح نہیں ہوتی بلکہ اس کی سرکشی میں اضافہ ہوتا ہے تو مصلحت عفو نہیں انتقام ہے اور ظلم کا مرتبہ یہ ہے کہ اس پر جتنی زیادتی کی گئی تھی اس سے بڑھ کر زیادتی کرے۔ پہلے مظلوم تھا اب ظالم بن جائے گا اور اللہ کی محبت سے محروم ہوجائے گا۔ (سعدی)
Ayah 42:41

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور بیشک جو شخص اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لے لے تو یہ وہ لوگ ہیں جن پر کوئی راستہ نہیں۔

ولمن انتصر بعدظلمہ…: یعنی مظلوم ظالم سے بدلا لے لے تو اس پر کوئی مواخذہ یا ملامت نہیں، کیونکہ اس نے اپنا حق لیا ہے ، کوئی زیادتی نہیں کی، بشرطیکہ اتنا ہی بدلا لے جتنا اس پر ظلم ہوا ہے۔
Ayah 42:42

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

راستہ تو انھی پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں حق کے بغیر سرکشی کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔

انما السبیل علی الذین یظلمون الناس …: یعنی مواخذہ اور ملامت ان لوگوں پر ہے جو ظلم کی ابتداء کرتے ہیں، لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو پر دست درازی کرتے ہیں اور اگر بدلا لیں تو بدلا لینے میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ اس طرح زمین میں سرکشی اور تکبر سے فساد پھیلاتے ہیں، جس کا انھیں کوئی حق نہیں۔ ان لوگوں کے لئے سخت درد پہنچانے والا عذاب ہے۔
Ayah 42:43

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور بلاشبہ جو شخص صبر کرے اور معاف کردے تو بیشک یہ یقینا بڑی ہمت کے کاموں سے ہے۔

ولمن صبرو غفر ان ذلک لمن عزم الامور :”عزم“ کا معنی ہے کسی کام کا پختہ ارادہ کرلینا، اسے اپنے آپ پر واجب کرلینا کہ میں یہ کام ضرور کروں گا۔”عزم“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے جو اپنے موصوف کی طرف مضاف ہے : ای الامور المعزومہ“ یعنی یہ کام ان امور میں سے ہے جن کا بڑی ہمت سے عزم کیا جاتا ہے۔ یقینا جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے، جب کہ معاف کرنے میں ظلم اور سرکشی کی حوصلہ افزائی نہ ہو تو یہ بڑی اہمت کا کام ہے جو ہر عقل مند کو اپنے آپ پر واجب کرلینا چاہیے۔ مزید دیکھیے سورة لقمان (17)۔
Ayah 42:44

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جسے اللہ گمراہ کر دے، پھر اس کے بعد اس کا کوئی مددگار نہیں اور تو ظالموں کو دیکھے گا کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے کیا واپس جانے کی طرف کوئی راستہ ہے۔

(1) ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ : یعنی جس شخص کی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ حال ہو کہ نہ وہ عفو و درگزر کا اعلیٰ درجہ اختیار کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو اور نہ کم از کم عدل و انصاف سے کام لینے پر تیار تو ظاہر ہے کہ وہ خیر سے محروم اور محض شر ہے، ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ بھی خیر کی توفیق نہیں دیتا، بلکہ گمراہی میں دھکیل دیتا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے پھر اس کا کوئی مددگار نہیں جو اسے ہدایت پر لے آئے۔ مزید دیکھیے سورة اعراف (178، 186) اور سورة کہف (17)۔ (2) وتری الظلمین : اور تو ان ظالموں کو دیکھے گا جو عذاب دیکھنے سے پہلے ظلم و فساد اور زمین میں سرکشی سے باز آنے پر کسی طرح تیار نہیں تھے، اس لئے یہ ظالم نہ اپنے مالک کی گرفت سے ڈرتے تھے اور نہ انھیں حساب کتاب کا کوئی خوف تھا۔ ”الظلمین“ سے مراد یہاں کفار و مشرکین ہیں، کیونکہ قرآن کی اصطلاح میں انھی کے لئے یہ لفظ آتا ہے۔ یہاں اس کی دلیل ایک تو یہ ہے کہ آگے ان کے متعلق فرمایا :(الا ان الظلمین فی عذاب مقیم) (الشوری : 35)”سن لو ! بیشک ظالم لوگ ہمیشہ رہنے والے عذاب میں ہوں گے۔“ اور یہ بات طے شدہ ہے کہ دائمی عذاب کفار و مشرکین ہی کو ہوگا۔ دوسری دلیل یہ کہ ان کے قول کے مقابلے میں مومنون کا قول ذکر فرمایا :(وقال الذین امنوا ان الخسرین الذین خسروآ انفسھم واھلیھم یوم القیمۃ) (الشوری : 35)”اور وہ لوگ جو ایمان لائے ، کہیں گے اصل خسارے والے تو وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں گنوا دیا۔“ (3) لما راو العذاب یقولون…: وہی متکبر اور ظالم لوگ جو پہلے نہ رب تعالیٰ سے ڈرتے تھے اور نہ اس کے عذاب یا حساب کتاب سے ڈرتے تھے، جب عذاب دیکھیں گے تو ان کی ساری اکڑ ختم ہوجائے گی اور کہیں گے، کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے کہ ہم دنیا میں جا کر اپنی کوتاہی کی تلافی کرلیں ؟ مزید دیکھیے سورة انعام (27، 28) اور سورة اعراف (53)۔
Ayah 42:45

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تو انھیں دیکھے گا کہ وہ اس (آگ) پر پیش کیے جائیں گے، ذلت سے جھکے ہوئے، چھپی آنکھ سے دیکھ رہے ہوں گے اور وہ لوگ جو ایمان لائے، کہیں گے اصل خسارے والے تو وہ ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں گنوا دیا۔ سن لو ! بیشک ظالم لوگ ہمیشہ رہنے والے عذاب میں ہوں گے۔

(1) وترھم یعرضون علیھا خشعین من الذل ینظرون…: آگ پر حاضری کے وقت ان کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے کہ وہ ذلت سے سر جھکائے ہوئے چھپی آنکھ سے دیکھ رہے ہوں گے، جیسے کسی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر تلوار سے مارنے لگیں تو وہ ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلیتا ہے، پھر کبھی کبھی تھوڑی سی آنکھ کھول کر دیکھتا ہے کہ تلوار کب اس پر گرتی ہے۔ خوف کے مارے پوری طرح آنکھیں کھول کر دیکھنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ (2) وقال الذین امنو ان الخسرین…: ای کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة زمر کی آیت (15) کی تفسیر۔ (3) الا ان الظلمین فی عذاب مقیم : یہ ایمان وا اوں کے کالم کا آخری حصہ بھی ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی۔ دائمی عذاب میں رہنے والے ظالم کافر و مشرک ہی ہیں، فرمایا :(انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وما ومہ النار وما للظلمین من انصار) (المائدۃ : 82)”بیشک حقیقت یہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لئے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔“
Ayah 42:46

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور ان کے لیے کوئی حمایتی نہیں ہوں گے جو اللہ کے سوا ان کی مدد کریں۔ اور جسے اللہ گمراہ کردے، پھر اس کے لیے کوئی بھی راستہ نہیں۔

(1) وماکان لھم من اولیآء …: اس آیت میں مشرکوں کا رد ہے جو اپنے بنائے ہوئے داتاؤں اور مشکل کشاؤں کے بارے میں عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ان کے حمایتی اور مددگار ہیں، سختی اور مصیبت کے وقت ان کے کام آئیں گے اور انھیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس امید پر یہ ان کی عبادت کرتے اور انھیں پکارتے ہیں، حالانکہ یہ اعتقاد سراسر گمراہی ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اس کے لئے کوئی بھی راستہ نہیں۔
Ayah 42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

اپنے رب کی دعوت قبول کرو، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی اللہ کی طرف سے کوئی صورت نہیں، اس دن نہ تمہارے لیے کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تمہارے لیے انکار کی کوئی صورت ہوگی۔

(1) استجیبوا لربکم من قبل …:”مرد“”رد یردر داً“ (ن) سے مصدر میمی بھی ہوسکتا ہے۔ ظرف زمان بھی اور ظرف مجکان بھی، ہاٹنے یا ٹالنے کی کوئی صورت یا کوئی وقت یا کوئی جگہ۔ اس جملے میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کو جلد از جلد قبول کرنے کی تاکید کئی طرح سے فرمائی ہے۔ سب سے پہلے ”اجیبوا“ کے بجائے ”استجیبوا“ کے لفظ کے ساتھ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے اسی سورت کی آیت (38) کی تفسیر۔ پھر اپنی ربوبیت کے احسان کی یاد دہانی کے ساتھ اور آخر میں اس دن سے ڈرانے کے ساتھ جس کے آنے کے بعد نہ اس کے ٹالے جانے کی کوئی صورت ہے، نہ وہ کسی وقت ٹالا جاسکے گا اور نہ کسی مقام پر ٹلے گا۔ (2) لا مرد لہ من اللہ : اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ اس کے آنے کے بعد اللہ کی طرف سے اسے ہٹانے کی کوئی صورت نہیں، یعنی اللہ تعالیٰ اسے کسی صورت نہیں ہٹائے گا۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے آنے کے بعد کوئی ایسی ہستی نہیں جو اسے ہٹا سکے۔ (3) ومالکم من نکیر : ”نکیر“ مصدر ہو تو اس کا معنی انکار بھی ہے اور نکرہ (اجنبی اور بےپہچان) ہونا بھی اور اگر ”قعیل“ بمعنی اسم فاعل ہو یعنی ”منکر“ تو معنی ”بدلنے والا“ ہوگا۔ یعنی قیامت کے دن تم اپنے جرائم کا کسی طرح انکار نہیں کرسکو گے، بلکہ نامہ اعمال اور فرشتوں کی شہادتوں حتیٰ کہ اپنے اعضا کی گواہی کی وجہ سے تمہارے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔”مالکم من نکیر“ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ تمہیں جو سزا دی جائے گی تم اس پر کوئی احتجاج نہیں کرسکو گے، نہ کوئی انکار کہ ہم یہ سزا قبول نہیں کرتے، نہ ہی تم یا کوئی اور اس حالت کو بدلنے والا ہوگا جس میں تم مبتلا ہوگے اور یہ بھی نہیں ہوگا کہ تمہاری پہچان نہ ہو سکے اور تم اجنبی اور غیر معروف بن کر چھوٹ جاؤ یا بھیس بدل کر چھپ جاؤ۔
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگران بنا کر نہیں بھیجا، تیرے ذمے پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں اور بیشک ہم، جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھاتے ہیں وہ اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر انھیں اس کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو بیشک انسان بہت ناشکرا ہے۔

(1) فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم حفیظاً : پچھلی آیت میں کفار کو مخاطب کر کے فرمایا تھا ہ قیامت کے دن سے پہلے جلد از جلد اپنے رب کی دعوت قبول کرلو، اب ان کے کفر پر اصرار کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آپ ﷺ کو مخطاب کر کے فرمایا کہ اگر یہ آپ کی دعوت سے منہ موڑیں تو ہم نے آپ کو ان کا نگران اور ذمہ دار نہیں بنایا کہ ہر حال میں انھیں منوا کر چھوڑیں اور نہ آپ سے اس بات کی باز پرس ہوگی کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لائے۔ (2) ان علیک الا ابلغ : آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے (جو آپ سر انجام دے چکے ہیں۔) ان الفاظ میں نبی ﷺ کے لئے سند موجود ہے کہ آپ نے پیغام واقعی پہنچا دیا ہے اور آپ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوچکے ہیں۔ (3) وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمتہ فرح بھا : اس آیت میں آپ کو تسلی دلائی ہے کہ ان کفار کا صرف آپ کے ساتھ یہ سلوک نہیں بلکہ ان کا ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کی تمام نعمتیں خواہ کتنی بڑی ہوں آخرت کے مقابلے میں چکھنے سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔ پھر ”رحمتہ“ پر تنوین بھی تنکیر اور تقلیل کے لئے ہے۔ فرمایا، انسان ایسا کم ظرف ہے کہ جب ہم اسے تھوڑی سی رحمت چکھا بھی دیتے ہیں تو یہ پھول جاتا ہے اور آپے سے باہر ہوجاتا ہے، ہمیں بھول کر اپنے آپ ہی کو سب کچھ لیتا ہے۔ یہاں نعمت چکھانے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی ہے، کیونکہ نعمت صرف اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، کسی کے استحقاق کی وجہ سے اسے نہیں ملتی اور لفظ ”اذا“ (جب) استعمال فرمایا، کیونکہ دنیا میں رحمت ہر انسان کو ملتی ہے۔ (4) وان تصبھم سیئۃ بما قدمت ایدیھم/: اور اگر انھیں ان کے اپنے اعمال کے نتیجے میں کوئی برائی یا مصیبت آپہنچے تو یقینا انسان بہت ناشکرا ہے، پھر اسے ہماری کوئی نعمت یاد نہیں رہتی، بلکہ اس ایک مصیبت کی وجہ سے ہماری تمام نعمتوں کا صاف انکار کردیتا ہے۔ جس طرح خاوند ساری عمر بیوی پر احسان کرے، پھر اس سے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہوجائے تو کہتی ہے :(مارایت منک خیرا قط) (بخاری، الایمان، باب کفران العشیر و کفر دون کفر :29) ”میں نے تم سے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔“ یہاں برائی کی نسبت اللہ کی طرف نہیں فرمائی، حالانکہ سبھی کچھ اللہ کی طرف سے ہے، کیونکہ اس کا باعث ان کے اعمال بد بنتے ہیں اور ”ان“ (اگر) کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس میں مصیبت پہنچنے یا نہ پہنچنے دونوں کا امکان ہے، کیونکہ رحمت کے مقابلے میں انسان پر آنے والی مصیبتیں بہت کم ہیں۔ (5) اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو کفار کے آپ کی دعوت سے اعراض سے بھی بڑی بات کے ارتکاب کا ذکر کر کے عمل دلائی ہے کہ جن کا مالک کے ساتھ یہ حال ہے وہ آپ سے کیا کچھ نہیں کریں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر یہود کے موسیٰ ؑ کے ساتھ سلوک کا ذکر کر کے آپ ﷺ کو تسلی دلائی ہے۔ دیکھیے سورة نسائ (153)۔ (6) یہاں ”الانسان“ سے بعض مفسرین نے کافر انسان مرادلیا ہے، کیونکہ مومن ایسا نہیں ہوتا اور بعض نے فرمایا، مطلب یہ ہے ہ انسان پیدائشی طور پر ایسا ہی ہے، مگر ایمان اور عمل صالح میں یج سے جیسے ترقی ہوتی ہے آدمی اس خصلت سے چھٹکارا حاصل کرتا جاتا ہے، ایمان کے کمال کے ساتھ وہ پوری طرح اس سے پاک ہوجاتا ہے اور مصیبت پر صبر اور نعمت پر شکر اس کی طبیعت بن جاتے ہیں، جو دونوں اس کے حق میں خیر ہی ہوتے ہیں، مگر کافر کا حال وہی رہتا ہے۔ اسی طرح کمزور ایمان کی حالت میں بھی اس بدخصلت کا اثر بای رہتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(ان الانسان خلق ھلوعا ً اذا منہ الشر جزوعا واذا مسہ الخیر منوعا الا المصلین …اولئک فی جنت مکرمون) (المعارج :19 تا 35) ”بیشک انسان تھڑدلا پیدا کیا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ اور جب اسے خیر پہنچتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔ سوائے نماز ادا کرنے والوں کے … یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔“ یہ دوسرا قول بہتر معلوم ہوتا ہے۔
Ayahs 42:49–50

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے۔

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا انھیں ملا کر بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے، یقینا وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

(1) للہ ملک السموت والارض ، یخلق ما یشآء : اس سے پہلی آیت میں انسان کا ذکر فرمایا کہ اگر اسے اس کے اپنے اعمال بد کے نتیجے میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو انسان بہت ناشکرا ہے، وہ فوراً اللہ تعالیٰ کا شکوہ شروع کردیتا ہے کہ اس نے مجھ سے نعمت چھین لی اور مجھ پر ظلم کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ اس کی طرف ظلم کی نسبت سے بڑا ظلم کوئی نہیں، کیونکہ ایک تو انسان کو پہنچنے والی مصیبت اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، دوسرے اللہ تعالیٰ آسمان و زمین یعنی پوری کائنات اور اس میں موجود ہر نعمت کا بادشاہ اور مالک ہے۔ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اپنی جو نعمت جسے چاہے دیتا ہے، جسے چاہے نہیں دیتا یا چھین لیتا ہے۔ بندے پر اس کے اعمال کے نتیجے میں جو مصیبت آئی ہے زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کوئی نعمت نہیں دی، یا آئندہ کے لئے روک لی ہے، مثلاً صحت، دولت یا ایمان وغیرہ۔ ظلم تو تب ہوتا جب وہ اس کی ملکیت والی کوئی چیز اسے نہ دیتا یا اس سے لے لیتا۔ جب ہر چیز اس کی ملکیت ہے تو اس کی مرضی، جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے، کسی کے پاس شکوے اور ناشکری کا کیا موقع ہے۔ ایمان کی نعمت سے نوازنا بھی اس کی مرضی پر موقوف ہے، وہ چاہتا تو سب کو یہ نعمت دے دیتا مگر یہ نعمت بھی وہ اسی کو یدتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھ لینے سے تقدیر کے بہت سے مسئلے حل ہوجاتے ہیں اور آدمی اللہ تعالیٰ کے شکوے، اس کی ناشکری اور اسے ظالم کہنے سے بچ جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(ولو شآء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ ولکن یدخل من یشآء فی رحمتہ ، والظلمون مالھم من ولی ولا نصیر) (الشوری : 8)”اور اگر اللہ چاہتا تو انھیں ایک ہیا مت بنا دیتا اور لیکن وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو ظالم ہیں ان کے لئے نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔“ (2) یھب لمن یشآء اناثاً …: یہ اس بات کی مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے دیتا ہے اور جو چاہے دیتا ہے، چناچہ وہ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے، یا لڑکے لڑکیاں دونوں عطا کردیتا ہے اور جسے چاہے مرد ہو یا عورت عقیم (بانجھ) بنا دیتا ہے، کسی کو اس پر اعتراض یا شکوے کا کوئی حق نہیں۔ (3) انہ علیم قدیر : مخلوق کو نعمت عطا کرنے میں یہ تفاوت اندھی تقسیم نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ وہ ہر چیز کا علم اور پوری قدرت رکھنے والا ہے، اس کا ہر فعل اس کے علم و قدرت کے تحت ہے اور اسی علم و قدرت کے ساتھ اس نے بعض کو اولاد سے محروم رکھا، کسی کو ہدایت سے اور کسی کو لڑکی یا لڑکے یا دونوں کی نعمت سے نواز دیا، کسی کو ہدیات کے تمام مرتبوں سے اونچے متر بےنبوت سے نواز دیا، جس کا ذکر اگلی آیتمیں ہے اور یہ سب کچھ اس کی مشیت کے تحت ہے، فرمایا :(اللہ یجتبی الیہ من یشآء ویھدی الیہ من ینیب) (الشوریٰ)”اللہ اپنی طرف چن لیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف راستہ اسے دیتا ہے جو رجوع کرے۔“ (4) اس آیت میں یہ حقیقت واشگاف الفاظ میں بیان کردی گئی ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہی دنیا کے نام نہاد بادشاہوں جباروں اور سرداروں کے حوالے نہیں کردی گئی اور نہ ہی اس میں کسی نبی یا ولی، داتا ، دستگیر یا دیوی دیوتا کا کوئی حصہ ہے، اس کا مالک اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ کتنے جابر بادشاہ اور سپہ سالار، کتنے انبیاء و اولیاء اور کتنے ماہر ڈاکٹر اور حکیم اولاد سے محروم ہے، کتنے لڑکے کو ترستے رہے اور کتنے لڑکی کی خواہش دل میں لئے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اگر مشرکین اس حقیقت کو سمجھ لیں تو کبھی شرک کی حماقت نہ کریں۔ (5) ’ یھب لمن یشآء اناثاً“ میں لڑکیوں کو اللہ تعالیٰ کا عطیہ قرار دیا ہے۔ جو لوگ لڑکیوں کو نحوست یا عار کا باعث سمجھتے ہیں۔ انھیں ان الفاظ پر غور کرنا چاہیے اور کسی ایسے جوڑے کے احساسات معلوم کرنے چاہئیں جنھیں لڑکی بھی عطا نہیں ہوئی۔
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یا یہ کہ وہ کوئی رسول بھیجے، پھر اپنے حکم کے ساتھ وحی کرے جو چاہے، بیشک وہ بےحد بلند، کمال حکمت والا ہے۔

(1) وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ : کفار کا کہنا تھا :(لولا یکلمنا اللہ) (البقرۃ :118)”اللہ ہم سے (خود) کلام کیوں نہیں کرتا ؟“ بلکہ ان کی خواہش تھی کہ جس طرح نبی ﷺ کو کتاب عطا ہوئی ہم میں سے ہر ایک کو اسی طرح کتاب ملے، جیسا کہ فرمایا :(بل یرید کل امری منھم ان یوتی صحفاً منشرۃ) (المدثر : 52)”بلکہ ان میں سے ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دیئے جائیں۔“ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک سے کلام نہیں کرتا ، بلکہ وہ اس کے لئے فرشتوں اور انسانوں میں سے انتخابات کرتا ہے، فرمایا :(اللہ یصطفی من الملٓئکۃ رسلاً و من الناس) (الحج :85)”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی۔“ اس نعمت سے بھی وہ جسے چاہتا ہے نوازتا ہے، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے یہ نعمت کیوں نہیں ملی۔ اس آیت میں فرمایا کہ وہ اپنے ان چنے ہوئے بندوں کے ساتھ بھی آمنے سامنے کلام نہیں کرتا اور نہ ہی یہ بات دنیا میں کسی بشر کے لئے ممکن ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندوں کے ساتھ بھی آمنے سامنے کلام نہیں کرتا اور نہ ہی یہ بات دنیا میں کسی بشر کے لئے ممکن ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (حجابہ النور و فی روایۃ ابی بکر النار، لو کشفہ لا حرفت سبحات وجھہ ما انتھی الیہ بصرہ من خلفہ) (مسلم الایمان، باب فی قولہ ؑ ”ان اللہ لا ینام“ …: 189) ”اللہ تعالیٰ کا حجاب ”نور“ ہے۔“ ابوبکر کی روایت میں ہے کہ ”نار“ ہے ”اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعائیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے اس کی مخلوق کو جلا دیں۔ ”ہاں آخرت میں ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة قیامہ (22، 23)۔ (2) الا وحیاً : فرمایا اللہ تعالیٰ انسانوں سے ان تین طریقوں کے علاوہ کلام نہیں کرتا، ایک وحی کے ذریعے سے، یعنی یہ کہ وہ اپنے بندے کے دل میں کسی واسطے کے بغیر کوئی بات ڈلا دے جس سے اسے یقین ہوجائے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، خواہ بیداری کی حالت میں ہو یا نیند میں، کیونکہ انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ دیکھیے سورة صافات (102)۔ (3) او من ورآی حجاب : یا یہ کہ وہ پردے کیپ یچھے سے کلام کرے، جیسے اس نے موسیٰ ؑ سے کلام کیا، مگر جب انہوں نے دیکھنے کی درخواست کی تو وہ قبول نہیں ہوئی۔ (4) اویرسل رسولاً : یا اللہ تعالیٰ کوئی فرشتہ بھیج کر جو بات پہنچانا چاہے پہنچا دے، جیسے جبریل ؑ یا دوسرے فرشتوں کے ذریعے سے آپ کے پاس وحی آتی تھی۔ (5) انہ علی حکیم : یعنی وہ اس سے بہت بلند ہے کہ کسی بشر سے رو در رو کلام کرے، یا ہر ایک اس کے کلام کا شرف حاصل کرسکے اور وہ کمال حکمت والا ہے، جس کے تحت وہ ہر بشر سے کلام نہیں کرتا۔
Ayah 42:52

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے اور لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنادیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھا تے ہیں اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

(1) وکذلک اوحیناً الیک روحاً من امرنا :(روحاً) سے مراد وحی ہے، خواہ قرآن کی صورت میں ہو یا سنت کی صورت میں، کیونکہ وہ دونوں وحی ہیں، جیسا کہ فرمایا :(وما ینطق عن الھویٰ ان ھوالا وحی یوحی) (النجم : 102)”اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔“ اسے ”روح“ اس لئے کہا گیا ہے کہ حقیقی زندگی اسی کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے، دل کی زندگی بھی اور آخرت کی زندگی بھی، جیسے فرمایا :(ینزل الملئکۃ بالروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ) (النحل : 2)”وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔“ (2) ماکنت تدری ما الکتب ولا الایمان : اس فرمان میں ایک تو نعمت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ علم عطا فرمایا جو آپ پہلے نہیں جانتے تھے۔ دوسرا یہ آپ کے نبی برحق ہونے کی دلیل ہے کہ امی ہونے اور کتاب و ایمان کا علم نہ رکھنے کے باوجود آپ کا قرآن کریم جیسی عظیم کتاب لانا محض اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کی وحی ہی کے ذریعے سے ہوسکتا ہے۔ (2) یہاں ایک سوال ہے کہ اس بات میں تو کوئی اشکال نہیں کہ آپ ﷺ کو اس سے پہلے کتاب کا علم نہ تھا، مگر یہ بات قابل غور ہے کہ آپ کو ایمان کا علم بھی نہیں تھا، کیونکہ انبیاء ؑ کا نبوت ملنے سے پہلے کم از کم اللہ تعالیٰ اور اس کی وحدانیت پر ایمان تو ہوتا ہے، جیساک ہ صحیح بخاری وغیرہ میں آپ ﷺ کے غار حرا میں جا کر عبادت کرنے کا ذکر موجود ہے۔ جوابا س کا یہ کہ آپ ہی نہیں سارے عرب امی ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے اور یہ بھی مانتے تھے کہ وہی زمین و آسمان کا خلاق ہے اور پوری کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے، مگر وہ شرک کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انبیاء کی فطرت نہایت سلیم ہوتی ہے اور ہمارے نبی ﷺ کا بھی اللہ پر ایمان تھا۔ نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ سے شرک یا کبائر کا ارتکاب نہیں ہوا، مگر یہ ایمان اجمالی تھا۔ تفصیل کے ساتھ ایمان جو حدیث جبریل کے مطابق اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں ، یوم آخرت اور تقدیر پر ایمان کا نام ہے، اس کی تفصیلات آپ کو وحی کے بعد ہی معلوم ہوئیں۔ اس کے علاوہ جب لفظ ایمان اکیلا بولا جائے تو اس میں تصدیق ، قول اور عمل تینوں چیزیں شامل ہوتی ہیں، جیسا کہ وفد عبدالقیس کی مشہور وحدیث میں ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ کی آیت (143) :(وما کان اللہ لیصیع ایمانکم) میں نماز کو ایمان قرار دیا اور جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الایمان بصع و سبعون او بضع وستون شعبۃ فافضلھا قول لا الہ الا اللہ و اذناھا اماطۃ الاذی غن الظرین) (مسلم الایمان، باب بیان عدد شعب الایمان …35)”ایمان کی ستر (70) یا (فرمایا) ساٹھ (60) سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل ”لا الہ الا اللہ“ کہنا ہے اور سب سے کم راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا ہے۔“ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز، زکوۃ ، حج اور دوسری ایمانیات کی تفصیلات وحی الٰہی سے پہلے نہیں جانتے تھے۔ (4) یہاں جو فرمایا کہ آپ ﷺ ان معاملات کو نہیں جانتے تھے، حتیٰ ہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی اور کتاب اللہ کے ذریعے سے آپ کو ہدایت کا نور عظیم عطا فرمایا، یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر بیان فرمائی ہے، جیسے فرمایا :(وانزل اللہ علیک الکتب و الحکمۃ و علم مالم تکن تعلم) (النسائ : 113) ”اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور تجھے وہ کچھ سکھایا جو تو نہیں جانتا تھا۔“ اور فرمایا :(وان کنت من قبلہ لمن الغفلین) (یوسف : 3)”اور بیشک تو اس سے پہلے یقینا بیخبروں سے تھا۔“ اور فرمایا :(وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب و لا تخطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلون) (العنکبوت :38)”اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے لوگ ضرور شک کرتے۔“ اور فرمایا :(وما کنت ترجوان ان یلقی الیک الکتب الا رحمۃ من ربک) (القصص : 86)”اور تو امیدنہ رکھتا تھا کہ تیری طرف کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے لوگ ضرور شک کرتے۔“ اور تو امیدن ہ رکھتا تھا کہ تیری طرف کتاب نازل کی جائے گی مگر تیرے رب کی طرف سے رحمت کی وجہ سے (یہ نازل ہوئی۔)“ اور فرمایا :(تلک من انبآء الغیب نوجیھآء الیک ماکنت تعلمھا انت ولاقومک من قبل ھذا) (ھود :39)”یہ غیب کی خبروں سے ہے جنہیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا، اور نہ تیری قوم۔“ ان آیات کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ (5) ولکن جعلنہ نوراً ”نوراً“ میں تنوین تعظیم کے لئے ہے اور ”جعلنہ“ میں ”ہ“ ضمیر وحی الٰہی کی طرف جا رہی ہے جس کا ذکر ”روحاً من امرنا“ میں ہے۔ یعنی ہم نے اس وحی کو جو قرآن اور سنت کی صورت میں ہے، عظیم نور بنادیا۔ نور اس لئے فرمایا کہ اس کیساتھ حق روشن ہوتا ہے اور جہالت، شک اور شرک کے اندھیرے دور ہوتے ہیں۔ (6) نھدی بہ من نشآء من عبادناً : یعنی ہم نے اس وحی کو ایسا نور بنایا جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو متعدد مقامات پر نور ہدایت قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورة نساء (174) ، اعراف (157) ، مائدہ (15، 16) اور سورة تغابن (8) (7) ونک لتھدی الی صراط مستقیم : ہدایت اور صراط مستقیم کی تفسیر کے لئے سورة فاتحہ کا مطالعہ فرمائیں۔
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

اس اللہ کے راستے کی طرف کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے، سن لو ! تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔

(1) صراط اللہ الذی لہ ما فی السموت و ما فی الارض : یعنی سیدھا راستہ وہ ہے جس پر چل کر انسان زمین و آسمان کے مالک اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے اور وہ صرف وحی الٰہی کے ذریعے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے سوا جتنے راستے ہیں سب شیطان کے راستے ہیں، جو اللہ تعالیٰ سے ہٹے ہوئے ہیں۔ (دیکھیے سورة نحل (9)۔ (2) الا الی اللہ تصیر الامور : یعنی دنیا اور آخرت کے تمام امور کی تدبیر اللہ ہی کی طرف لوٹتی ہے، بظاہر کسی کام کی تدبیر کوئی کر رہا ہو، ظاہر میں لوگ اسے کسی کا کارنامہ سمجھیں، مگر حقیقت میں تمام امور کی تدبیر اللہ ہی کا کام ہے۔ دیکھیے سورة یونس (3، 31) ، رعد (2) اور سجدہ (5)۔ ”تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں“ میں یہ بھی شامل ہے کہ قیامت کے دن بندوں کے نیک و بد تمام کام اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے ، وہی ان کا فیصلہ فرمائے گا اور نیکوں کو ثواب اور بدوں کو عذاب دے گا۔ (اللھم احشرنا فی زمرۃ الصالحین)