Ayah 42:16(1) والذین یحآجون فی اللہ من بعد …:”’ احضۃ“ ”’ حص یدحص دحضا ودخوضا (ف)”حضت الحجۃ“ دلیل باطل ہونا اور ”’ حضت الرجل“ پاؤں کا پھسل جانا۔ ”حجۃ“ کا معنی جھگڑا بھی ہے اور دلیل بھی۔ پچھلی آیت میں فرمایا :(لاحجۃ بیننا وبینکم) کہ ”ہمارے درمیان اور تمہارے دریمان کوئی جھگڑا نہیں، کیونکہ جو بات حق تھی وہ ہم نے تمہیں پہنچا دی، اب جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں، اس آیت میں فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کی بات قبول کرلی گی، اس کا حق ہونا واضح ہوگیا ، حتیٰ کہ بہت سے سمجھ دار لوگ اسے قبول کرچکے اور بہ سے دل میں تسلیم کرچکے ہیں تو لوگ اب بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں خواہ مخواہ جھگڑ رہے ہیں اور اپنے خیال میں بڑی مضبوط دلیلیں لا رہے ہیں کبھی اس کی توحید میں بحث کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(اجعل الالھۃ الھا واحدا) (ص : 5) ”کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا ؟“ کبھی اس کی دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کے بارے میں جھگڑتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(من یحی العظام وھی ربیم) (یٰسین : 88) کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جب کہ وہ بوسیدہ ہوں گی ؟“ کبھی اس کے انسان کو رسول بنا کر بھیجن کے بارے میں جھگڑتے ہیں، فرمایا :(وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام و یمشی فی الاسواق) (الفرقان : 8)”اور انہوں نے کہا اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور باز اورں میں چلتا پھرتا ہے۔“ کبھی اس کے شرکاء بنانے کے جوا ز میں اپنے معبودوں کو اللہ کے ہاں سفارشی اور اس کیق ریب کرنے والے قرار دیتے ہیں، فرمایا :(ھولاء شفعآؤنا عند اللہ) (یونس : 18) ”یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفاشریہیں۔“ اور فرمایا :(مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی) (الزمر : 3)”ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لئے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔“ ان کی مزعومہ یہ اور اس جیسی سب دلیلیں اللہ تعالیٰ کے ہاں باطل اور بےکار ہیں، انھیں اس جھگڑے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
(2) وعلیھم غضب : ”غضب“ پر تنوین تعظیم کی ہے، یعنی ان پر بھاری غضب ہے۔
(3) ولھم عذاب شدید : جس کا دنیا میں مظاہرہ اہل مکہ پر مسلط خوف، قحط، جنگ بدر اور دوسرے معرکوں م یں ہوا اور جس کی شدت قیامت کے دن نعمان بن بشیر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے قنل فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا :(ان اھون اھل النار عذاباً یوم القیامۃ الرجل توضع فی اخمص قدمیہ جمرۃ یغلی منھا دماغہ) (بخاری، الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار :6561)”قیامت کے دن آگ والوں میں سب سے ہلکے عذاب والا شخص وہ ہوگا جس کے دونوں پاؤں کے تلوؤں میں ایک انگارا رکھا جائے گا، جس سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔“
Ayah 42:17(1) اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان :”الکتب“ میں الف لام جنس کا ہو تو مراد تمام روحانی کتابیں ہیں اور اگر عہد کا ہو تو مراد یہ کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ یعنی کیا جانتے بھی ہو کہ جس اللہ کے بارے میں تم جھگڑ رہے ہو وہ کون ہے اور اس کی صفات اور اس کے احکام کیسے معلوم ہوسکتے ہیں ؟ فرمایا اللہ وہی ہے جس نے یہ کتاب یعنی قرآن مجید حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے، اس کی ہر بات حق ہے، اس میں باطل کی آمیزش ہو ہی نہیں سکتی، جیسا کہ فرمایا :(لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) (حم السجدۃ : 32)”اس کے پا باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔“ اور اسی نے میزان اتارا ہے جس کے ساتھ لوگ اپنے تمام معاملات میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرسکیں۔”المیزان“ ستے مراد اکثر مفسرین نے عدل و انصاف لیا ہے، بعض نے اس سے مراد دین حق اور بعض نے جزا و سزا کا قانون لیا ہے۔ ان میں سے جو بھی مراد لیں بات ایک ہی ہے اور اس میزان سے مراد اللہ کے دین اور اس کی شریعت پر مشتمل یہ کتاب ہی ہے جو خلاق و مخلوق کے درمیان معاملات اور مخلوق کے باہمی معاملات اور تمام تنازعات کے لئے میزان ہے، جو ہر بات ترازو کی طرح تول کر صحیح یا غلط اور حق باطل کا فیصلہ کر یدتی ہے۔ اوپر فرمایا تھا :(وامرت لاعدل بینکم) (الشوری : 15) (اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں) اور اس آیت میں بتادیا کہ اس کتاب پاک کی صورت میں میزان آگئی ہے، جس کے ساتھ وہ عدل قائم کیا جائے گا۔ یہ کتاب دوسرے معاملات کی طرح پہلی کتابوں کے لئے بھی میزان اور ان کی نگران ہے کہ ان میں کون سی باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور کون سی ملا دی گئی ہیں، جیسا کہ فرمایا :(وانزلنا الیک الکتب بالحق مصدقاً لما بین یدیہ من الکتب و مھیمناً علیہ) (المائدۃ : 38)”اور ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ بھیجی، اس حال میں کہ اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو کتابوں میں سے اس سے پہلے ہے اور اس پر محافظ ہے۔“
(2) یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں ”الکتب“ اور ”المیزان“ کے درمیان واؤ عطف ہے جو مغایرت کے لئے ہوتی ہے، جس سے ظاہر ہے کہ کتاب اور میزان الگ الگ چیزیں ہیں، اب اگر میزان سے مراد کتاب ہی ہو تو مغایرت ختم ہوجاتی ہے، اسی طرح اگر میزان سے مراد عدل و انصاف لیں تب بھی کتاب اور میزان کے درمیان مغایرت نہیں رہتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں عین عدل و انصاف ہیں ؟ جو اب اس کا یہ ہے کہ ایک ہی چیز کا ذکر جب اس کی مختلف صفات کے ساتھ کیا جائے تو اس کا عطف خود اس پر ہوسکتا ہے، کیونکہ صفات کے تغایر کو ذوات کے تغایر کی طرح قرار دے لیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثالوں میں سے ایک مثال یہ ہے :(سبح اسم ربک الاعلی الذی خلق فسوی والذی قدر فھدی والذی اخرج المرعی) (الاعلی : 1 تا 13) ان آیات میں ”الذی“ (وہ ذات) کو عطف کے ساتھ الگ الگ بیان کیا گیا ہے، حالانکہ وہ ایک ہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہر جملے میں وہ الگ الگ صفت کے ساتھ مذکور ہے۔ کلام عرب میں سے اس کی مثال یہ شعر ہے۔
الی الملک الفرم وابن الھمام ولیت الکتیبۃ فی المردحم (اضواء البیان)
(3) وما یدریک لعل الساعۃ قریب : اور تجھے کیا چیز آگاہ کرتی ہے شاید کہ وہ قیامت بالکل نزدیک ہو اور جو سانس تم لے رہی ہو یہی آخری ہو، اسلئے اس فکر میں مت پڑو کہ وہ کب ہے، بلکہ یہ فکر کرو کہ تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے۔ انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ بادیہ والوں میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا :(یا رسول اللہ ! متی الساعۃ قائمۃ ؟ قال ویلک وما اعددت لھا ؟ قال ما اعددت لھا الا انی احب اللہ و رسولہ، قال انک مع من احبیت ففلنا و نحن کذلک ؟ قال نعم ، ففرحنا یومئذ فرحاً شدیداً فمر غلام للمغیرۃ و کان من افرانی فقال ان اخر ھذا فلن یدرکہ الھرم حتی تقوم الساعۃ بخاری، الادب، باب ماجائ، فی قول الرجل وبلک، 6168)”یا رسول اللہ چ قیامت کب قائم ہونے والی ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”افسوس تم پر ! تم نے اس کے لئے تیاری کیا کی ہے ؟“ اس نے کہا :”میں نے اس کے لئے اس کے سوا کوئی تیاری نہیں کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ ‘ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تم یقیناً اس کے ساتھ ہوگے جس سے تمہیں محبت ہوگی۔“ تو ہم نے کہا :”اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”ہاں !“ تو ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے۔ مغیرہ کا ایک غلام وہاں سے گزرا، وہ میرا ہم عمر تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا :”اگر اس کی عمر دراز ہوئی تو اسے سخت بڑھاپا آنے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔“ مراد اس وقت موجود لوگوں کی قیامت ہے۔ حدیث میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ہر آدمی کی موت کو اس کے لئے قیامت قرار دیا، کیونکہ اس کے ساتھ اس کے لئے عمل کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔
(4) یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ ”الساعۃ“ مونث ہے، اس کی خبر ”قریب“ مذکر ہے، حالانکہ دونوں میں مطابقت ہونی چاہیے ؟ جواب کے لئے دیکھیے سورة اعراف کی آیت (56) :(ان رحمت اللہ قریب من المحسنین) کی تفسیر۔
Ayah 42:18(1) یستعجل بھا الذین لایومنون بھا :”استعجال“ کا معنی ہے کسی چیز کے وقت سے پہلے اس کے لانے کا مطالبہ۔ رسول اللہ ﷺ قیامت سے اور اس کیق ریب ہونے سے ڈراتے تو کفار اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ کرتے۔ مقصد ان کا صرف قیامت کا انکار اور اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا کہ جب وہ ان کے مطالبے پر فوراً بپا نہیں ہوگیو تو وہ اسے جھٹلائیں گے اور اس کا مذاق اڑائیں گے کہ اگر قیامت ہوتی تو ہمارے مطالبے پر آجاتی، حالانکہ وہ ان کی فرمائش پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ وقت پر آئے گی جس کا اس کے سوا کسی کو علم نہیں۔ اس آیت میں ان کی اس جرأت کی وجہ بیان فرمائی کہ ان کے اس مطالبے کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتے جس میں اعمال کی باز پرس ہوگی۔ اگر انھیں اس بات کا یقین ہوتا تو وہ کبھی اس کے لئے جلدی نہ مچاتے، بلکہ اس کی تیاری کی فکر کرتے۔
(2) والذین امنوا مشفقون منھا…: یعنی منکرین قیامت کے برعکس جو لوگ اس پر یقین و ایمان رکھتے ہیں وہ ہر وقت اس بات سے سخت ڈرتے رہتے ہیں کہ کب موت آکر عمل کی مہلت ختم کر دے، پھر قیامت کبریٰ باپ ہونے پر حساب کے وقت ان کا کیا حال ہو۔ (دیکھیے انبیائ : 49۔ نور : 37۔ دہر : 7) کیونکہ انھیں یقین ہے کہ وہ ہو کر رہنے والی ہے۔
(3) الا ان الذین یم اورن فی الساعۃ لفی ضلل بعید :”یم اورن“ کا معنی ”شک کرتے ہیں“ بھی ہے اور ”جھگڑتے ہیں“ بھی۔ یعنی قیامت کا یقین ہو تو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور حق واضح ہونے پر اسے قبول بھی کرلیتا ہے، مگر جب سے اس کے آنے ہی میں شک ہو اور وہ اس کے متعلق جھگڑا کرتا رہتا ہو وہ ایمان لانے اور نیک اعمال اختیار کرنے کو بےکار سمجھے گا اور محاسبے کا خوف نہ ہونے کی وجہ سے ہر گناہ پر دلیر ہوگا اور بڑے سے بڑے ظلم سے بھی گریز نہیں کرے گا، ایسے لوگ راہ حق سے بہت دور جا چکے ہیں، جہاں سے ان کی واپسی ممکن نہیں۔ ”ضلل بعید“ میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ سیدھے راستے سے اتنے دور جا چکے ہیں کہ ان کی آنکھیں یا مت کے دن ہی کھلیں گی، جب واپس پلٹنا ممکن نہیں ہوگا۔ دیکھیے سورة سبا (51 تا 54)۔
Ayah 42:19(1) اللہ لطیف بعبادہ :”لطیف“ ایسی چیز جو گرفت میں نہ آسکے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ”لطیف“ اس لحاظ سے ہے کہ وہ باریک سے باریک چیز کی خبر رکھنے والا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی تدبیر نہایت باریک ہوتی ہے جو نظر نہیں آتی۔ اس لحاظ سے اس کا معنی طف و کرم کرنے والا بھی ہے کہ وہ ایسے باریک طریقے سے مہربانی فرماتا ہے کہ نظر ہی نہیں آتا کہ یہ کیسے ہوگئی۔ (مفردات) گویا ”لطیف“ میں دو صفتیں جمع ہیں، ایک نہایت باریک بین اور دوسری نہایت مہربانی والا۔ ان کے ضمن میں کمال علم بھی ہے جس کے بغیر باریک بینی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بندوں پر لطیف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے ان کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی مادی یا روحانی ضرورت پوشیدہ نہیں اور وہ اپنی کمال مہربانی اور باریک طریقوں سے ایسے انتظام فرماتا ہے کہ ہر بندے کی بلکہ ہر مخلوق کی ضرورت جو اس کے حسب حال ہو، پوری ہو اور اسے خبر بھی نہ ہو کہ وہ کیسے پوری ہوگئی۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ ”بعبادہ“ کا لفظ اگرچہ عام ہے مگر اس سے مراد یہاں اللہ کے مومن بندے ہیں اور بعض نے فرمایا کہ ”بعبادہ“ میں مومن و کافر دونوں شامل ہیں، دنیا میں دونوں اس کے لطف عام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، البتہ آخرت میں اس کا لطف و کرم مومنوں کیلئے خاص ہوگا۔
(2) یرزق من یشآء : اسی لئے ان میں سے بیشمار لوگوں کو جھٹلانے اور مذاق اڑانے کے باوجود بھوکا نہیں مارتا، بلکہ ان کی تمام ضرورتیں اپنے لطف و کرم سے پوری کرتا ہے۔ مگر جسے چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور جس کی روزی کا دفتر بند کرنا چاہتا ہے کہ کردیتا ہے۔ یہ بات یہاں ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ اکثر لوگ رزق کے پیچھے رزاق کو بھول جاتے ہیں۔
(3) وھو القوی : یعنی وہ جو کرنا چاہیے، جسے جتنا رزق دینا چاہے اس کی پوری قوت رکھتا ہے، کسی کام میں کسیک ا محتاج نہیں۔
(4) العزیز : یعنی دوسرے تمام معاملات کی طرح رزق کے معاملے میں بھی کسی کا اس پر زور نہیں کہ وہ دینا چاہے تو کوئی اسے روک سکے، یا نہ دینا چاہے تو کوئی اس سے لے سکے۔ خبر ”القوی العزیز“ پر الف لام سے قصر پیدا ہوگیا ہے، یعنی دونوں صفتیں صرف اس میں ہیں، کسی اور میں نہیں، جیسا کہ فرمایا :(اللھم لا مابع لما اعطیت ، ولا معطی لما منعت) (بخاری ، القدر باب لامانع لما اعطی اللہ، 6625) ”اے اللہ ! تو جو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک دے وہ کوئی دینے والا نہیں۔“
Ayah 42:20(1) من کان یرید حرث الاخرۃ…: اللہ تعالیٰ نے دنیا کو آدمی کے لئے کھیت بنایا ہے ، وہ اس میں جو بوئے گا وہی کاٹے گا اور جس چیز کا ارادہ کرے گا وہی ملے گی۔ اسی طرح اس نے دنیا کو تجارت کی جگہ بنایا ہے، اگر خیر کا سودا کرے گا تو نفع میں خیر ملے گی، اگر شر کا سودا کرے گا تو نتیجہ میں شر پائے گا۔ اسی طرح دنیا کو آخرت کا راستہ بنایا ہے، اگر خیر کے راستے پر چلے گا توم نزل مراد پالے گا اور ہمیشہ کی جنت میں پہنچ جائے گا، اگر شر کے راستے پر چلے گا تو ہمیشہ کے عذاب اور انفسھم و اموالھم با ن لھم الجنۃ) (التوبۃ : 111)”بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لئے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لئے جنت ہے۔“ اور فرمایا :(ومن الناس من یشری نفسہ ابتغآء مرضات اللہ) (البقرۃ :208) ”اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو اللہ کی رضا مندی تلاش کرنے کے لئے اپنی جان بیچ دیتا ہے۔“ اور فرمایا :(اولئک الذین اشتروا الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ) (البقرہ : 86) ”یہی لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے خریدی۔“
(2) پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے رزق کا قانون بیان فرمایا کہ وہ سب کے لئے یکساں نہیں، وہ جسے چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے دیتا ہے اور اس میں اس کی بیشمار حکمتیں ہیں۔ (دیکھیے زخرف : 32) اس آیت میں فرمایا کہ آدمی کی کوشش اور نیت کے مختلف ہونے کے لحاظ سے بھی اسے ملنے والا رزق مختلف ہے۔
(3) آخرت کی کھیتی کا ارادہ رکھنے والے کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ اسے دنیا میں کچھ نہیں ملے گا۔ دنیا تو نیک ہو یا بد ہر ایک کو تھوڑی یا زیادہ ملنی ہی ملنی ہے، آخرت کے متعلق بشارت دی کہ ہم اس کے لئے اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے، کیونکہ اس کی نیت اور کوشش اسی کی ہے۔ اضافہ یہ ہے کہ دنیا میں اسے مزید نیکیوں کی توفیق دیں گے اور آخرت میں ایک نیکی کو دس گنا سے ہز اورں لاکھوں تک بلکہ شمارے بھی زیادہ بڑھائیں گے اور دائمی نعمتیں عطا کریں گے، جیسا کہ فرمایا :(ومن اراد الاخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مومن فاؤلئک کان سعیھم مشکوراً (بنی اسرائیل : 19) ”اور جس نے آخرت کا ارادہ کیا اور اس کے لئے کوشش کی جو اس کے لائق کوشش ہے، جب کہ وہ مومن ہو تو یہی لوگ ہیں جن کی کوشش ہمیشہ سے قدر کی ہوئی ہے۔“
(4) ومن کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا …:”منھا“ میں ”من“ تبعیض کے لئے ہے۔ یعنی جو شخص دنیا کی کھیتی کا ارادہ کرے گا اور دنیا ہی کے لئے کوشش اور محنت کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے وہ نہیں ملے گا جو وہ چاہتا ہے بلکہ ہم اسے اس میں سے کچھ حصہ ہی دیں گے، دوسرا یہ کہ وہ حصہ بھی ہم دنیا ہی میں دے دیں گے، آخرت میں اس کیلئے کوئی حصہ نہیں، کیونکہ آخرت کی نیت سے اس نے کچھ کیا ہی نہیں۔ یہی بات ایک اور آیت میں یوں بیان فرمائی :(من کان یرید العاجلہ عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نریدثم جعلنا لہ جھنم یصلھا مذموماً مدحوراً) (بنی اسرائیل : 18) ”جو شخص اس جلدی والی صدنیا) کا ارادہ رکھتا ہو ہم اس کو اس میں جلدی دے دیں گے جو چاہیں گے، جس کے لئے چاہیں گے، پھر ہم نے اس کے لئے جہنم بنا رکھی ہے، اس میں داخل ہوگا، مذمت کیا ہوا، دھتکارا وہا۔“ اور فرمایا :(فمن الناس من یقول ربنا اتنا فی الدینا وما لہ فی الاخرۃ من خلاق) (البقرۃ : 200) ”پھر لوگوں میں سے کوئی تو وہ ہے جو کہتا ہے اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں دے دے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔“
Ayah 42:21(1) ام لھم شرکوآء شرعوا لھم …: ظاہر ہے اس آیت میں شرکوآء“ سے مراد وہ شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے یا جن کی نذر و نیاز چڑھاتے اور پوجا باٹ کرتے ہیں، کیونکہ وہ دین کا کوئی طریقہ مقرر کرسکتے ہیں نہ حلال و حرام قرار دینے میں ان کا کوئی دخل ہے اور نہ وہ کوئی قانون یا ضابطہ مقرر کرسکتے ہیں۔ لامحالہ اس سے مراد کوئی انسان یا انسانوں کی کوئی جماعت ہی ہے جنہوں نے اللہ کی شریعت کے مقابلے میں اپنی شریعت چلا رکھی ہو ، حرام و حلال قرار دینے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہوں اور لوگوں کے لئے ایسے نظام اور قانون مقرر کرتے ہوں جو اللہ تعالیٰ کی شریعت کے خلاف ہوں، پھر انھیں لوگوں میں رائج اور نافذ بھی کرتے ہوں۔ ایسے لوگ پارلیمنٹ یا ایوانوں کے ممبر بھی ہوس کتے ہیں ، خود سر حکمران بھی ، آستانوں اور مز اورں کے مجاور اور متولی بھی اور گمراہ قسم کے فلسفی اور مصنف بھی۔ علاوہ ازیں یہ شرکاء ایسے صالح اور متقی ائمہ بھی ہوسکتے ہیں جو اللہ کے مقابلے میں قانون سازی کا سوچ بھی نہ سکتے ہوں مگر لوگوں نے ان کے نام پر قرآن و سنت کے بالمقابل شریعت سازی کر کے انہیں اللہ کا شریک بنا رکھا ہو۔ شرک کسی بھی طرح کا ہو ظلم عظیم ہے، خواہ شرک فی العبادۃ ہو یا شرک فی الحکم۔ جس طرح وہ شخص مشرک ہے جو اللہ کے سوا کسی کی پوجا کرتا ہے، اس کی نذر و نیاز دیتا ہے، مصیبت کے وقت اسے پکارتا ہے، اسے حاجت روایا مشکل کشا سمجھتا ہے، خواہ کسی زندہ کی پوجا کرے یا مردہ کی جن کی کرے یا انسان یا فرشتے کی، قبر کی پوجا کرے بابت کی، اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں زندگی کا نظام بنانے کا یا قانون بنانے کا یا حلال و حرام قرار دینے کا اختیار دیتا ہے وہ بھی مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کسی قسم کا بھی شریک بنانے کی اجازت نہیں دی۔
(2) ولو لا کلمۃ الفضل لقضی بینھم : یعنی یہ شرک اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی ایسی جسارت ہے کہ اگر لوگوں کو مہلت دینے کا فیصلہ نہ ہوتا اور یہ طے نہ کردیا گیا ہوتا کہ فیصلے قیامت کے دن ہوں گے تو دنیا ہی میں ان لوگوں پر عذاب آجاتا جو اللہ کے دین کے مقابلے میں اپنی شریعت اور قانون بناتے ہیں، یا ایسی شریعت کو قبول کر کے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔
(3) وان الظلمین لھم عذاب الیم :”الظلمین“ میں الف لام عہد کا ہے، یعنی ان ظالموں کے لئے عذاب الیم ہے جو شرک کے ظلم عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں اور وہ عذاب الیم جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے اور جنت ان پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے۔ جیسا کہ فرمایا :(انہ من یشرک باللہ فقدم حرم اللہ علیہ الجنۃ وماولہ النار، وما للظلمین من انصار) (المائد 821)”بیشک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقیناً اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لئے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔“
Ayah 42:22(1) تری الظلمین مشفقین مما کسبوا…:”الظلمین“ سے یہاں بھی وہی ظالم یعنی کافر و مشرک مراد ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے، کیونکہ اسم معروف باللام ہو کر دوبارہ آئے تو اس سے پہلا ہی مراد ہوتا ہے اور اس لئے کہ ان کے مقابلے میں ایمان اور عمل صالح والے لوگوں کا ذکر آرہا ہے، یعنی ”والذین امنوا و عملوا الصلحت …“ اس آیت میں قیامت کے دن ان مشرکین کی حلات کا نقشہ کھینچا ہے۔ عذاب سے پہلے اس کا شدید خوف بجائے خود ایک بڑا عذاب ہے، پھر ہر حال میں ان کے کفر و شرک کا وبال ان پر آکر رہنے والا ہے، خواہ ڈریں یا نہ ڈریں۔ دنیا میں کفار قیامت سے بےخوف تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے، جیسا کہ پیچھے گزرا ہے، (یستعجل بھا الذین لایومنون بھا) (الشوریٰ :18)”اسے وہ لوگ جلدی مانگتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے“ تو قیامت کے دن وہی کافر سخت خوف زدہ ہوں گے۔ ان کے برعکس ایمان والے دنیا میں قیامت سے سخت خوف زدہ رہتے تھے، جیسا کہ پہلے گزرا ہے :(والذین امنوا مشفقون منھا) (الشوریٰ :18)”اور وہ لوگ جو ایمان لائے، وہ اس (قیامت) سے ڈرنے والے ہیں“ سو اب وہ جنتوں کے باغوں میں بےخوف ہوں گے۔
(2) والذین امنوا و عملوا اصلحت فی روضت الجنت…:”روضۃ ‘ کا معنی ہے ”الموضع النزہ الکثیر ، الخصرۃ“ کہ نہایت صاف ستھری اور بہت سرسبز جگہ۔ ”روضت الجنت“ سے ظاہر ہے کہ جنتیں بھی بہت سی ہیں اور روضات بھی بہت سے ہیں۔ یعنی (ممون کسی درجے کے بھی ہوں جنت میں ہوں گے، مگر) ایمان اور عمل صالح والے جنت کے بھی پاکیزہ ترین اور سب سے سرسبز مقامات میں ہوں گے۔ جن میں سب سے علای مقام رسول کریم ﷺ کا ہوگا، جیسا کہ سمرہ بن جندب ؓ نے آپ ﷺ سے ایک طویل خواب روایت کیا ہے، جس میں ہے کہ دو فرشتوں نے پہلے آپ ﷺ کو مختلف گناہوں کے عذاب کا منظر دکھایا، اس کے بعد ان دونوں نے آپ ﷺ کو آگے چلنے کے لئے کہا، آپ ﷺ نے فرمایا :(فانطلقنا حتی انتھینا الی روضۃ خضراء فیھا شجرۃ عظیمۃ ، وفی اصلھا شیخ وصبیان واذا رجل قریب من الشجرۃ بین یدیہ نار یوقدھا فصعدا بی فی الشجرۃ واد خلانی دار لم قط احسن منھا، فیھا رجال شیوخ وشباب ، و نساء وصیبان ثم اخر جانی منھا فصعدا بی الشجرۃ فاد خلانی داراھی احسن و افضل، فیھا شیوخ و شباب، فقلت طوفتمانی اللیلۃ، فاخبرانی عما رایت ؟ قالا نعم، (فذکر الحدیث حتی قال) والشیخ فی اضل الشجرۃ ابراہیم ؑ و الصبیان حولہ فاولاد الناس، والذی یوقد النار مالک خازن النار، والدار، الاولی التی دخلت ، دار عامۃ الممنین ، واما ھذہ الدار، فدار الھشدائ، وانا جبریل و ھذا میکائیل، فارفع راسک ، فرفعت راسی ، فاذا فوقی مثل السحاب، قالا ذالک منزلک ، قلت دعانی ادخل منزلی، قالا انہ بقی لک عمر لم تستکملہ، فلواستکملت اتیت منزلک) (بخاری، الجنائر، باب ماقبل فی اولاد المشرکین :1386)”پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم ایک سرسبز روضہ (باغ) میں پہنچے جس میں ایک بہت بڑا درخت تھا، اس کی جڑ (تنے) کے پاس ایک بزرگ اور کچھ بچے تھے اور اس درخت کے قریب ایک آدمی تھا جس کے سامنے آگ تھی، جسے وہ بھڑکا رہا تھا، پھر وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھ گئے اور مجھے ایک ایسے گھر کے اندر لے گئے جس سے خوبصورت گھر میں نے نہیں دیکھا، اس میں کچھ بزرگ اور جوا ن آدمی اور عورتیں اور بچے تھے، پھر انہوں نے مجھے اس گھر سے نکالا اور مجھے لے کر اس درخت کے اور اوپر چڑھے اور ایک گھر کے اندر لے گئے جو پہلے سے زیادہ خوبصورت اور برتر تھا، اس میں کچھ بزرگ تھے اور کچھ جوان۔ میں نے کہا : ”تم دونوں نے آج رات مجھے خوب گھمایا ہے۔ اب جو کچھ میں نے دیکھا ہے مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟“ تو انہوں نے کہا :”ہاں، ٹھیک ہے (پھر انہوں نے عذاب والے مناظر کی حقیقت بتانے کے بعد کہا) اور درخت کی جڑ کے پاس جو بزرگ تھے وہ ابراہیم ؑ تھے اور ان کے اردگرد بچے لوگوں کی اولاد تھے اور جو آگ بھڑکا رہا تھا وہ آگ کا خازن مالک تھا اور پہلا گھر جس میں آپ داخل ہوئے عام ایمان والوں کا گھر تھا۔ رہا یہ گھر تو یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبریل ہوں اور یہ مکائیل ہے، اب سر اٹھاؤ !“ میں نے سر اٹھایا تو اچانک میرے اوپر بادل کی طرح کی چیز تھی۔ دونوں نے کہا :”وہ تمہارا گھر ہے۔“ میں نے کہا :”مجھے چھوڑو میں اپنے گھر جاؤں۔“ انہوں نے کہا :”آپ کی کچھ عمر باقی ہے جو آپ نے پوری نہیں کی، اگر پوری کرلو گے تو اپنے گھر میں آجاؤ گے۔“ اس حدیث سے ”روضت الجنت“ کا مفہوم بھی اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے اور یہ بھی کہ ”روضت الجنت“ میں سب سے اعلیٰ ”روضہ الجنۃ“ ہمارے نبی کریم ﷺ کے لئے خاص ہے۔
(3) ان آیات میں متعدد وجہوں سے مومنوں ک وملنے والے ثواب کی عظمت بیان کی گئی ہے، ایک یہ کہ وہ ”روضت الجنت“ میں ہوں گے۔ دوسری یہ کہ ”لھم مایشآء ون“ یعنی انھیں وہاں جو چاہیں گے ملے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انھیں حاصل ہونے والی نعمتوں کی انتہا نہیں ہوگی، کیونکہ آدمی ہر نعمت کے بعد اس سے اعلیٰ نعمت کا خواہشمند ہوتا ہے۔ تیسری ”عند ربھم“ کہ ان کی رہئاش گاہیں ان کے رب کے پڑوس میں ہوں گی۔ یہ وہ چیز ہے جس کی دعا فرعون کی بیوی نے کی تھی۔ (رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ) (التحریم : 11)”اے میرے رب ! میرے لئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا۔“ چوتھی یہ کہ انھیں عطا ہونے والی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ نے فضل کبیر قرار دیا ہے، فرمایا :(ذلک ھو الفضل الکبیر) پھر جسے اللہ تعالیٰ اکبر اور کبیر قرار دے اس کی عظمت کا کیا ٹھکانا ہوگا۔ پانچویں وجہ سے انھیں ملنے والے ثواب کی عظمت کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
(4) ذلک ھو الفضل الکبیر : اس سے معلوم ہوا کہ جنت محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، اس پر کسی کا حق واجب نہیں۔
Ayah 42:23(1) ذلک الذی یبشر اللہ عبادہ …: یہ پانچویں وجہ ہے۔”ذلک“ اسم اشارہ بعید اس ثواب کی عظمت کے بیان کے لئے ہے۔ جنتوں کے باغوں اور ان کی نعمتوں کی طرف اشارہ کر کے ان کی طرف دوبارہ توجہ دلانے سے مقصود ان کی عظمت کا اظہار ہے اور ساتھ ہی ایمان اور عمل صالح کا ذکر اس لئے ہے کہ اتنی بڑی نعمتوں کے حصول کے لئے ایمان اور عمل صالح ضروری ہے۔
(2) قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی :”قرب یقرب قربا و قربانا و قرباناً“ (س ، ک) قریب ہونا۔ ”قربی“ اور ”قرابۃ“ بھی مصدر ہیں، جیسے ”بشری“ اور ”رجعی“ ہیں۔ ان کا معنی رشتہ داری اور قرابت ہے۔ رشتہ دار اور قرابت دار کے لئے ”ذوالقربی“ (قرابت والا) کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(وات ذالقربی حقہ) (بنی اسرائیل : 26)”اور رشتہ دار کو اس کا حق دے۔“ ”فی القربی“ میں ”فی“ تعلیل کے لئے ہے : ای من اجل القربی یعنی رشتہ داری کی وجہ سے ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(عذبت امراۃ فی ھرۃ حبس تھا حتی مانت جوعا ، قدخلت فیھا النار) (بخاری، المساقاۃ، باب فضل سقی المائ، 2365)”ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ اس نے اسے باندھ کر رکھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرگئی، تو اس کی وجہ سے وہ آگ میں داخل ہوگئی۔“ یعنی آپ کہہ دیں کہ میں اس تبلیغ دین پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، سوائے رشتہ داری کی وجہ سے دوستی کے کچھ نہ سہی، کم از کم میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت اور رشتہ داری ہے اس کی وجہ سے میرا حق ہے کہ مجھ سے دوستی رکھو، اس حق کا ماطلبہ میں تم سے ضرور کرتا ہوں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ تم میری بات مان لیتے، اگر نہیں مانتے تو سارے عرب میں سب سے بڑھ کر دشمین تو نہ کرو۔ کم از کم اس قرابت کا تو خیال رکھو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔ جیسا کہ ابو طالب اگرچہ ایمان نہیں لایا مگر وہ قرابت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی حمایت اور آپ ﷺ کا دفاع کرتا رہا۔
آیت کا یہی مطلب ترجمان القرآن ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا ہے۔ چناچہ طاؤس فرماتے ہیں کہ ان بع اس ؓ سے ”الا المودۃ فی القربی“ کے متعلق سوال کیا گیا تو سعید بن جبیر کہنے لگے کہ اس سے مراد ”قربی آل محمد ﷺ“ (آل محمد ﷺ کی قرابت) ہے، تو ابن عباس ؓ نے فرمایا :(عجلت ، ان النبی ﷺ لم یکن یطن من قریش الا کان لہ فیھم قرابۃ فقال الا ان تصلوا مابینی وبینکم من القرابۃ) (بخاری التفسیر، باب قولہ (الا المودۃ فی القربی):7818)”تم نے جلدی کی، قریش کا کوئی خاندان ایسا نہ تھا جس میں نبی ﷺ کی قربات اور رشتہ داری نہ ہ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :”(میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا) مگر یہ کہ تم اس رشتہ داری کو ملاؤ جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔ ‘
(3) بعض لوگ خصوصاً شیعہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ آپ کہہ دیں کہ میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا مگر قرابت والوں سے دوستی کا ، یعنی میں تم سے اس پر اس کے سوا کچھ نہیں مانگتا کہ تم میرے قربات داروں سے دوستی رکھو۔ نبی کریم ﷺ کے مومن قرابت داروں سے دوسی اپنی جگہ مسلمہ ہے، جو دوسرے دلائل سے ثابت ہے، مگر اس آیت کا وہ مطلب ہرگز نہیں جو ان لوگوں نے بیان کیا ہے، کیونکہ ”القربیٰ“ کا معنی رشتہ داری ہے، رشتہ دار نہیں۔ رشتہ داروں کے لئے ذوی القربی“ کا لفظ آتا ہے۔ اگر ”القربی“ کا معنی رشتہ دار ہو بھی تو آیت کے الفاظ یہ ہونے چاہئیں :”الا مودۃ القربی“ ”مگر رشتہ داروں کی دوستی کا۔“ جب کہ الفاظ ہیں :(الا المودۃ فی القربی) ان الفاظ کا وہ معنی ہو ہی نہیں سکتا جو یہ حضرات بیان کرتے ہیں۔ پھر دیکھیں کہ آپ ﷺ یہ سوال کن لوگوں سے کر رہے ہیں، ظاہر ہے کفار سے کر رہے ہیں جو آپ کے شدید مخالف تھے، جو آپ سے بھی دوستی کے روا دار نہیں تھے، آیا ممکن بھی ہے کہ آپ ان سے کہیں کہ میرے رشتہ داروں سے دوستی کرو۔ اگر مان بھی لیں کہ آپ ان سے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ دوستی کا سوال کر رہے ہیں تو وہ رشتے ہر کون سے ہیں ؟ کیا آپ ﷺ اپنے پورے قبیلہ قریش کے ساتھ دوستی کا سوال کر رہے ہیں یا اپنے قریب ترین خاندان بنو عبدالمطلب کے ساتھ ؟ دونوں میں مخلص مسلمانوں کے علاوہ ابوجہل اور ابولہب جیسے آپ کے بدترین دشمن بھی موجود تھے جن کے ساتھ دوستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر اس سے مراد علی و فاطمہ اور حسن و حسین ؓ ہیں، جیسا کہ شیعہ حضرات کہتے ہیں، تو یہ سورت مکی ہے اور مکہ میں فاطمہ اور علی ؓ کا نکاح تک نہیں ہوا تھا اور نہ ہی حسن و حسین ؓ پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا اس سے یہ لوگ مراد ہو ہی نہیں سکتے۔
(4) بعض مفسرین نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ کہنا کہ میں تم سے صرف رشتہ داری کی وجہ سے دوسی کا سوال کرتا ہوں، یہ دین کی تبلیغ کی اجرت یا مزدوری نہیں جو آپ ان سے مانگ رہے ہیں، بلکہ آپ اپنے اس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو تمام دنیا کے ہاں مسلم ہے، خواہ آپ تبلیغ کریں یا نہ کریں۔ غرض اس آیت میں بھی وہی بات بیان ہوئی ہے جو تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوم سے کہی کہ میں تم سے اس تبلیغ دین پر کسی قسم کی مزدوری کا سوال نہیں کرتا، کیونکہ میری مزدوری صرف اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ جیسا کہ سورة شعراء میں ہے :(وما اسلم علیہ من اجر، ان اجری الا علی رب العلمین) (الشعرائ : 109) ”اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔“ (قواعد نحو میں یہ بات ان الفاظ میں بیان کی جائے گی کہ یہاں استثناء متصل نہیں منقطع ہے، یعنی صلہ رحمی کے سوال کا تبلیغ دین پر اجرت سے کوئی تعلق نہیں۔ کتنی معمولی ہو، ہم اس کے لئے اس کے حسن وخ وبی میں اضافہ کردیں گے۔ یہ اضافہ کئی طرح سے ہے، ایک تو وہ جتنی نیکی بھی ملیں گے جس سے اس کی نیکی میں اضافہ ہ گا۔ تیسرا اللہ تعالیٰ ہر نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا بلکہ شمار سے زیادہ تک بڑھا دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(وان تک حسنۃ یضعفھا ویوت من لدنہ اجراً عظیماً) (النسائ : 30)”اگر ایک نیکی ہوگی تو وہ اسے کئی گنا کر دے گا اور اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔“ چوتھا یہ کہ نیکیوں کے ساتھ گناہ معاف ہوتے ہیں، فرمایا :(ان الحسنت یذھبن السیات) (ھود : 113)”بیشک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“
(6) ان اللہ غفور شکور :”ان“ تعلیل کے لئے آتا ہے، یعنی نیکی کرنے والا کی نیکی میں ہم اضافہ اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ گناہوں پر بہت پردہ ڈالنے والا اور نیک عمل کی بےحد قدر کرنے والا ہے۔
Ayah 42:24(1) ام یقولون افتری علی اللہ کذباً :”ام“ کے لفظ سے پہلے ایک جملہ ظاہر یا مقدر ہوتا ہے جو ہمزہ استفہام سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنے کے بعد کہ تمہیں دین کی دعوت دینے سے مقصود سراسر تمہارا فائدہ اور تمہاری نجات ہے، اس میں تم سے میری کوئی ذاتی غرض نہیں، نہ ہی میں اس پر تم سے کسی مزدوری کا سوال کرتا ہوں۔ ہاں یہ ضرور کہتا ہوں کہ کم از کم رشتہ داری کی وجہ سے میرا دوستی کا حق تو ادا کرو۔ اس سے آگے اس مفہوم کی عبارت مقدر مانی جائے گی کہ آیا وہ یہ دعوت قبول کرتے ہوئے آپ پر ایمان لاتے ہیں ”ام یقولون افتری“ یا ضد اور عناد پر قائم رہ کر یہی بات کہے جاتے ہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے۔
(2) فان یشاء اللہ یختم علی قلیک : مفسرین نے اس کی تفسیر کئی طرح سے کی ہے، زیادہ واضح دو تفسیریں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ ابن کثیر رحمتہ اللہ نے فرمایا :”اگر تو نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہو، جیسا کہ یہ جاہل کہہ رہے ہیں تو اگر وہ چاہے تو ”یختم علی قلیک“ وہ تیرے دل پر مہر لگا دے اور جتنا قرآن تجھے عطا کیا ہے وہ تجھ سے سلب کرلے، جیسا کہ اس کا ارشاد ہے :(ولو تقول علینا بعض الا قاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین فما منکم من احد عنہ حجرین) (الحاقہ :33 تا 38)”اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا تو یقینا ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔“ یعنی ہم اس سے شدید ترین انتقام لیں اور کوئی شخص اسے بچا نہ سکے۔ (ابن کثیر) مزید تفصیل سورة حاقہ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ مفسر قاسمی نے فرمایا :”یہ قرآنی آیات کی تفسیر قرآن کی آیات کے ساتھ ہے، جہاں ممکن ہو یہ تفسیر سب سے بہتر ہتوی ہے، کیونکہ قرآنی آیات ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں۔ اس مفہوم کے مطابق آیت کا مآل جیسا کہ ابو السعود نے وضاحت فرمائی کفار کی بات کی تردید ہے، یعنی اگر آپ ﷺ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑتے تو اللہ آپ کو ہر حال میں اس سے روک دیتا اور آپ کے دل پر ایسی مہر لگاتا کہ نہ آپ کی زبان پر وحی کا کوئی لفظ آتا اور نہ آپ کے دل میں اس کا کوئی مفہوم آتا، جب ایسا نہیں ہوا بلکہ وحی تواتر کے ساتھ جاری رہی تو ثابت ہوگیا کہ وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔“
دوسری تفسیر مفسر شہاب کے الفاظ میں یہ ہے :”اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو تیرے دل پر مہر لگا دے ، جیسے اس نے ان (بہتان لگانے والے کافروں) کے لدوں پر مہر لگا دی ہے۔ اس میں آپ ﷺ کو تسلی دلائی ہے اور آپ پر اپنا احسان و اکرام یاد دلایا ہے (کہ اس نے آپ کے دل پر مہر نہیں لگائی) تاکہ آپ اس کی وجہ سے شکر ادا کریں اور ان لوگوں کے حال پر ترس کھائیں جن کے دل پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی اور وہ اپنے رب کے غضب کے حق دار بن گئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا وہ کبھی یہ جرأت نہ کرتے کہ آپ پر یہ بہتان باندھیں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اگر ان پر گمراہی کی مہر نہ لگ گئی ہوتی تو وہ یہ محال بات کہنے کی جرأت نہ کرتے۔“ (منقول از قاسمی)
(3) ویمح اللہ الباطل …:”یمح“ اصل میں ”یمحو“ ہے۔ اس کا عطف ”یختم“ پر نہیں اور نہ ہی حالت جزم میں ہونے کی وجہ سے اس کی ”واؤ“ گری ہے، بلکہ یہ نیا جملہ ہے اور رفعی حا لات میں ہونے کی وجہ سے ”واؤ“ اپنی جگہ قائم ہے۔ صحابہ کرام ؓ کے رسم الخط میں یہاں ”واؤ“ نہیں لکھی گئی، کیونکہ بعض مقامات پر پڑھنے میں جو حروف نہیں آتے تھے انہوں نے وہ لکھنے میں بھی حذف کردیئے ہیں، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت (11): (ویدع الانسان بالشر دعآء ہ بالخیر) اور سورة علق کی آیت (18) (سندع الربانیۃ) میں ”واؤ“ نہیں لکھی گیئ۔ مسلمانوں نے بعد میں قرآن مجید کے لئے اسی رسم الخط کو محفوظ رکھا۔ بعض اہل علم نے ”یمح“ کی واؤ حذف کرنے میں یہ نکتہ نکالا ہے کہ باطل کو مٹانے اور محو کرنے میں مبالغے کے اظہار کے لئے ”یمحو“ کی ”واؤ“ کو بھی محو کردیا ہے۔
(4) یعنی اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو اپنے کلمات کے ساتھ ثابت کردیتا ہے، تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ اللہ پر جھوٹ گھڑیں اور اللہ تعالیٰ اسے نہ مٹائے، بلکہ آپ کو ہر قدم پر اپنی فتح و نصتر کے ساتھ نوازتا جائے۔ یہ دلیل ہے کہ آپ حق لے کر آئے ہیں اور وہ شخص بدترین بہتان باز ہے جو کہتا ہے کہ آپ نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے۔
(5) انہ علیم بذات الصدور : یعنی اسے سینوں میں چھپی ہوئی نیتوں اور ارادوں کا خوب علم ہے، وہ اپنی رسالت کے ساتھ کبھی بھی بدطینت و جھوٹ گھڑنے والوں کو نہیں نوازتا، جیسا کہ فرمایا :(اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ) (الانعام : 123)”اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“ اس نے اپنے کامل علم ہی کی بنا پر آپ کو اس منصب کے لئے منتخب فرمایا ہے۔
Ayah 42:25(1) وھو الذی یقبل الثوبۃ عن عبادہ : پچھلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے، اب اپنی توبہ قبول کرنے کی صفت فرمئای کہ توبہ قبول کرنا اور گناہوں سے درگزر کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی شان ہے (دیکھیے توبہ : 104) اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کیونکہ اگر وہ چاہے تو مجرم کے معافی ماگننے پر بھی اسے معاف نہ کرے۔ مقصود انھیں توبہ کی ترغیب دلانا اور کفر پر اصرار کے انجام بد سے ڈرانا ہے۔ کفر سے توبہ اسلامق بول کرنے سے ہوتی ہے اور گناہ سے توبہ میں تین چیزیں شامل ہیں، ایک پچھلے گناہ پر ندامت، دوسرا اسے ترک کردینا، تیسرا آئندہ دو گناہ نہ کرنے کا عزم اور اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حق سے ہے تو حسب استطاعت اسے ادا کردینا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنا۔ اگر آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کا عزم نہ ہو تو توبہ کا کچھ مطلب نہیں۔ ایک فارسی شاعر نے کہا ہے۔
سجہ در کف ، توبہ برلب، دل پر از ذوق گناہ معصیت را خندہ مے آیدز استغفار ما
”ہاتھ میں تسبیح ہے، زبان پر توبہ اور دل گناہ کی لذت سے بھرا ہوا ہے، گناہ کو ہمارے استغفار پر ہنسی آتی ہے۔“
(2) عن عبادہ : اس میں توبہ قبول کرنے کی ایک وجہ بیان فرمئای ہے کہ گناہ کر کے توبہ کرنے والے اس کے اپنے بندے ہیں اور وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (37) ، آل عمران (135) اور سورة نسائ (110)
(3) ویعفوا عن السیات : توبہ مستقبل کیلئے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گزشتہ معاف کردی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسا کریم ہے کہ توبہ پر گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے، بلکہ سورة فرقان کی آیت (70) کے مطابق توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ بندے کی توبہ پر اللہ تعالیٰ کس قدر ہوتا ہے، اس کی تفصیل انس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا :(للہ اشد فرحا بتوبۃ عبدہ حین یتوب الیہ من احدکم کان علی راحلتہ بارض فلاۃ فانفلت منہ، وعلیھا، طعامہ و شرابہ فابس منھا، فنی شجرۃ فاضطجع فی ظلھا قد ابس من راحلتہ فبینا ھو جذلک اذا ھو بھا قائمۃ عندہ فاخذ بخطامھا تم قال من شدۃ الفرح اللھم انت عبدی واناربک اخطا من شدۃ الفرح) (مسلم، التوبۃ باب فی الحض علی التوبۃ و الفرح بھا :2888”یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر، جب وہ اس کی طرف توبہ کرتا ہے، اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا تم میں سے کوئی شخص خوش ہوتا ہے، جو کسی بیابان میں اپنی اونٹنی پر سوار تھا تو وہ اس سے چھوٹ کر نکل گئی، اس کا کھانا اور پانی بھی اسی پر تھا۔ تو وہ اس سے ناامید ہوگیا اور ایک درخت کے پاس جا کر اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ حال اس کا یہ تھا کہ وہ اپنی اونٹنی سے مایوس ہوچکا تھا، وہ اسی حالت میں تھا کہ اچانک اس نے اسے دیکھا کہ اونٹنی اس کے پاس کھڑی تھی، چناچہ اس نے اس کی مہار پکڑ لی، پھر شدید خوشی میں کہنے لگا :”اے اللہ ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب۔“ خوشی کی شدت سے غلطی کر بیٹھا۔“
(4) اللہ تعالیٰ اتنا مہربان ہے کہ بعض اوقات توبہ کے بغیر بھی گناہ معاف فرما دیتا ہے، جیسا کہ ہجرت کے بعد پہلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، حج مبرور کے بعد پہلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں، شہادت فی سبیل اللہ سے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور نیکیوں کی کثرت سے گناہ مٹ جاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(ان الحسنت یذھبن السیات) (ھود : 113)”بیشک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“ اور کبیرہ گناہوں کے اجتناب سے صغیرہ گناہ خود بخود معاف ہوجاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کبیرہ گناہ کے مرتکب مومن کو، اگر وہ توبہ نہ کرے تو کافر یا ابدی جہنمی قرار دیتے ہیں، ان کی بات درست نہیں۔
(5) ویعلم ماتفعلون : اس جملے میں بشارت بھی ہے اور نذرات بھی۔ عمل کا داور م دار دل کی حلات پر ہے، اگر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے اخلاص سے توبہ کی گئی ہے تو نص
اسے جانتا ہے اور اسے قبولیت سے نوازے گا اور اگر توبہ اپنے کسی دنیوی مقصد کے لئے کی گئی ہو، مثلاً ریا کے طور پر یا آئندہ توڑ ڈالنے کے ارادے سے، یا کسی دنیوی فائدے کے لئے مثلاً صحت و قوت کے لئے زنا، سگریٹ یا شراب کو ترک کیا گیا ہے تو وہ اسے بھی جانتا ہے۔
Ayah 42:26(1) ویستجیب الذین امنوا و عملوا الصلحت : اجابت کا معنی قبول کرنا ہے اور استجابت میں ”سین“ مبالغے کے لئے ہے۔ یہ لفظ کسی حکم پر بہت جلد عمل کرنے یا کسی دعوت پر بہت جلد ی لبیک کہنے یا کسی دعا کو بہت جلدی قبول کرنے کیلئے آتا ہے۔ (ابن عاشور) یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دعا بہت جلد اور خوشی سے قبول فرماتا ہے جو ایمان اور عمل صالح سے متصف ہوتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ : 186، 218) ان معنوں میں کفار کی دعا قبول ہوتی ہی نہیں ، جیسا کہ فرمایا :(وما دعآء الکفرین الا فی ضلل) (الرعد : 13)”اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بےسود۔“ ہاں ، رسی دراز کرنے کے لئے اور حجت تمام کرنے کے لئے کفار کی بھی دعائیں قبول ہوتی ہیں، مگر وہ استجابت نہیں استدراج ہے اور ناراضی کی علامت ہے، جیسا کہ ابلیس نے آدم ؑ اور ان کی اولاد کو گمراہ کرنے کے لئے مہلت ماگنی تو اسے دے دی گئی۔
(2) ویریدھم من فضلہ : اس میں دو چیزیں شامل ہیں، ایک یہ کہ صالح اعمال والے مومن اپنی دعا اور عمل صالح سے جو امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں وہ بھی دیتا ہے اور ان کی امید سے کہیں زیادہ بھی عطا فرماتا ہے۔ اسی طرح ان کا ہر عمل قبول بھی کرتا ہے اور اسے دس گنا سے سات سو گنا تک یا بلا حساب تک بڑھا بھی دیتا ہے۔ دوسری یہ کہ انھیں اپنے فضل سے مزید وہ کچھ بھی عطا کرتا ہے جس کی درخواست انہوں نے نہیں کی ہوتی، کیونکہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور ان کی ضروریات سے پوری طرح آگاہ ہے۔
(3) والکفرون لھم عذاب شدید : یہ قرآن مجید عا عام طریقہ ہے کہ ترغیب کے ساتھ ترہیب بھی ہوتی ہے۔ یعنی جو لوگ توبہ کے بجائے کفر پر اصرار کرتے اور اسی حالت میں مرجاتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے۔
Ayah 42:27(1) ولوبسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض : یہ ایک سوال کا جواب ہے جو یہاں ذہن میں پیدا ہوسکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کی دعا بہت جلدی قبول فرماتا ہے تو یہ لوگ تو رزق کی فراخی کی دعا بھی کرتے ہیں، اس کے باوجود ان پر زق کی تنگی کیوں ہے ؟ ابتدائے اسلام میں ایمان والوں پر رزق کی بہت تنگی آئی ، خصوصاً جب کفار نے ان کے ساتھ میل جول اور خریدو فروخت، غرض تمام چیزوں کا بائیکاٹ کردیا۔ جواب یہ دیا گیا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ جتنا رزق مانگیں انھیں اتنا ہی دے دیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کا رزق ان کی مصلحت کے مطابق ایک اندازے کے ساتھ جتنا چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ اگر وہ ان کے تقاضے کے مطابق ان کے لئے رزق فراخ کردیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہوجاتے، کیونکہ عام طور پر آدمی جب غنی ہوتا ہے تو نص کو بھول جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(کلا ان الانسان لیطغی ان راہ استغنی) (العلق :806)”ہرگز نہیں، بیشک انسان یقیناً حد سے نکل جاتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی ہوگیا ہے۔”اور مال و دلوت کی کثرت اسے لوگوں پر یزادتی پر ابھارتی ہے۔ ق اورن اور فرعون کا حال دیکھ لو ! اگر ان کے پاس ، اتنی دلوت نہ ہوتی تو اس طرح برباد نہ ہوتے۔ اس لئے مومنوں کے حق میں خیر یہی ہے کہ ان کا رزق زیادہ فراخ نہ کیا جائے، اگر چہ اس کے خیر ہونے کا پورا ادراک انھیں دیر سے یعنی قیامت کے دن ہوگا۔ اس کے علاوہ مال کی کمی کا مومن کا ایک اورف ائدہ بھی ہے کہ اسے عمل صالح کے لئے فراغت حاصل رہتی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ دنیا کمانے میں مشغول رہ کر آخرت کی تیاری سے غافل نہیں ہوتا، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ابو عبیدہ ؓ بحرین سے جزیے کا مال لے کر آئے تو انصار صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شامل ہوئے اور بعد میں آپ کے سامنے آبیٹھے، آپ ﷺ انھیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا :(اظنکم قد سمعنم ان ابا عبیدہ قد جاء بشیء ؟ قالوا اجل یا رسول اللہ ! قال فابشروا واملوا ما بسرکم ، فو اللہ لا الفقر، اخشی علیکم ولکن اخشی علیکم ان تبسط علیکم الدنیا کما بست علی من کان قبلکم ، فتنافسوھا کما تنافسوھا وتھلککم کما اھلکتھم) (بخاری، الجزیۃ والموادعۃ، باب الجزیۃ والمودۃ مع اھل الذمۃ والحرب :3158)”میرا خیال ہے تم نے سنا ہے کہ ابو عبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں ؟“ انہوں نے کہا : ”جی ہاں : یا رسول اللہ !“ آپ ﷺ نے فرمایا :”تو خوش ہوجاؤ اور خوش کرنے والی چیزوں کی امید رکھو، پس اللہ کی قسم ! میں تم پر فقیری سے تو ڈرتا ہی نہیں، بلکہ تم پر اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا فراخ کردی جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فراخ کردی گئی، تو تم ایک دوسرے سے زیادہ اس میں رغبت کرنے لگو، جیسا کہ انہوں نے ایک دوسرے سے بڑھ کر اس میں رغبت کی اور وہ ت میں اسی طرح ہلاک کر دے جس طرح اس نے انھیں ہلاک کردیا۔“
(2) ”ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض“ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنا احسان بھی جتلایا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ لوگ زمین میں سرکشی کریں گے ان کا رزق فراخ کردیتا ، جیسا کہ اس نے فرعون کا رزق یہ جاننے کے باوجود فراخ کردیا۔ چناچہ اگر اسے ملک مصر نہ ملتا تو وہ کبھی خدائی کا دعویٰ نہ کرتا۔ لہٰذا رزق کی تنگی بھی اہل ایمان کے لئے ایک انعام ہے جس کا شکر ان پر واجب ہے۔
(3) آیت کے الفاظ ”ولوبسط اللہ الرزق لعبادہ“ مومن و کافر دونوں کے لئے عام ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تکوینی تدبیر کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ دنیا میں نص
نے مومن ہوں یا کافر سب کا رزق برابر نہیں رکھا، کسی کا زیادہ ہے کسی کا کم، تاکہ لوگ ایک دوسرے کے محتاج رہیں اور ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ (دیکھیے زخرف : 32) اسی طرح اس نے کسی کو ایک حد سے زیادہ رزق نہیں دیا، ورنہ لوگ زیادہ روزی پا کر زمین میں سرکشی اور فساد کرتے ہیں ان کا فساد اس فساد کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا جو وہ اپنی مرضی کے مطابق مال ملنے کی صورت میں برپا کرتے۔ اب اگر کوئی فساد فی الارض کرتا ہے تو وہ ایک حد سے نہیں بڑھ سکتا۔ کوئی کتنا بھی بڑا باغی ہو سب اپنی حد میں رہنے پر مجبور ہیں۔
(4) ولکن ینزل بقدر ما یشآئ : اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة حجر (21) ، رعد (8) اور سورة قمر (49) کی تفسیر۔
(5) انہ بعبادہ خبیر بصیر : اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آیت (30) کی تفسیر۔
Ayah 42:28(1) وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا :”الغیث“ وہ بارش جو خشک سالی کے بعد آئے کیونکہ اس کے ذریعے سے لاچار اور بےبس انسانوں اور جانوروں کی مدد ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا :(ثم یاتی من بعد ذلک عامر فیہ یغاث الناس) (یوسف : 79)”پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی۔“ یہ بیان کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کی ضرورت سے زیادہ نہیں دیتا، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ان کے تقاضے کے مطابق رزق میں اضافہ ان کی سرکشیا ور نظام عالم کی خرابی کا باعث ہے، یہ ذکر فرمایا کہ اگر انہیں بارش کی ضرورت ہو، جس پر تمام جان داروں کی زندگی کا دار و مدار ہے، خواہ انسان ہوں یا حیوان، چرند پرند ہوں یا درندے یا حشرات الارض ہوں تو وہ انہیں اپنی رحمت سے ضرور نوازتا ہے۔ چناچہ فرمایا ، اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے۔
(2) من بعد ما قنطوا :”قنوط“ کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حم السجدہ کی آیت (49) کی تفسیر۔ اس کے بعد کہ وہ ناامید ہوچکے ہوتے ہیں اور اس نا امیدی کے آثار ان کے چہروں پر ظاہر ہوچکے ہوتے ہیں، یعنی وہ ایک مدت کی قحط سالی کی وجہ سے بارش برسنے سے ناامید ہوچکے ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ماہ پرستوں کا رد بھی ہے جن کا کہنا ہے کہ دنیا میں اسباب کے مطابق سب کچھ خود بخود ہو رہا ہے، نہ اس کائنات کا کوئی پیدا کرنے والا ہے اور نہ کوئی اسے اپنی مرضی کے مطابق چلانے والا ہے۔ رد اس طرح ہے کہ ان لوگوں کے کہنے کے مطابق طبعی طور پر سورج کی تپش کے ساتھ سمندر سے بخارات اٹھتے ہیں جو بادلوں کی صورت اختیار کرتے اور زمین پر برستے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر ایک زمین، ایک سمندر، ایک سورج اور تمام اسباب یکساں ہونے کے باوجود ہر جگہ ایک جیسی بارش کیوں نہیں ہوتی ؟ یقینا یہ سب کچھ ان تمام چیزوں کے مالک کے اختیار میں ہے وہ جہاں چاہتا ہے سالہا سال تک قحط اور خشک سالی مسلط کردیتا ہے، پھر جب چاہتا ہے دوبارہ بارش کا سلسلہ شروع فرما دیتا ہے۔
(3) ویشر رحمتہ : یعنی بارش کی صورت میں اپنی رحمت میدانوں، پہاڑوں، جنگلوں اور سمندروں میں ہر جگہ پھیلا دیتا ہے، ہوا کے کاندھے پر سوار اتنے وزنی بادلوں سے زمین کو بھر دینے والی بارش برساتا ہے، جنہیں پوری مخلوق بھی اٹھانا چاہے تو نہ اٹھا سکے اور سب مل کر اس زمین پر چھڑکاؤ ہی کرنا چاہیں تو نہ کرسکیں۔ پھر ہر طرف ندی نالے، تالاب، سبزہ، پودے، درخت، کھیت، مینڈک، جھینگر، حشرات الارض اور دوسرے جاندارپ ھیل جاتے ہیں۔ اس بارش کے ساتھ اتنی سخت زمین سے، جو کدالوں کے ساتھ کھودنی مشکل ہوتی ہے، ریشم سے نرم کونپلیں نکال دیتا ہے اور اس بارش کے ساتھ درختوں کے سخت تنوں سے ، جنہیں تراشنے والے اوزار مشکل سے تراش سکیں، پرندوں کی زبانوں سے بھی نازک شگوفے نکال دیتا ہے، پھر سک قدر جاہل اور فریب خوردہ ہیں وہ لوگ جو مردوں کے قبروں سے زندہ ہونے کو نہیں مانتے۔ (بقاعی)
(4) وھو الولی الحمید : یعنی کائنات کے تمام معاملات کا متولی اور ذمہ دار وہی ہے اور ہر خوبی کا مالک بھی وہی ہے۔
Ayah 42:29(1) ومن ایتہ خلق السموت والارض : اس کی تفسیر متعدد مقامات پر گزر چکی ہے۔
(2) وما بث فیھما من دآبۃ :”’ آبۃ“ ”’ دب بدب دبا و دبیبا“ (ض) سے اسم فاعل ہے۔ یہ لفظ ”’ اب“ کا مونث ہے، مگر مذکر و مونث دونوں کے لئے استعمال ہتا ہے۔ جمع ”’ واب“ ہے، کیونکہ اس میں تاء وحدت کے لئے ہے، یعنی چلنے والا جانور خواہ سانپ کی طرح پیٹ کے بل چلے یا دو یا چار ٹانگوں پر چلے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واللہ خلق کل دآبۃ من مآء فمنھم من یمشی علی بطنہ ومنھم من یمشی علی رجلین ومنھم من یمشی علی اربح، یخلق اللہ مایشآء ان اللہ علی کل شیء قدیر) (النور : 75) ”اور اللہ نے ہر چلنے والا (جاندار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دوپ اؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو چار پر چلتا ہے، اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، یقینا اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔“ یہ آیت دلیل ہے کہ ”آبۃ“ سے مراد جانور ہیں فرشتے نہیں۔
زمین میں پھیلائے ہوئے مختلف جانوروں کا مشاہدہ تو ہر آدمی کرتا رہتا ہے، اس آیت میں زمین و آسمان دونوں میں پھیلائے ہوئے جانوروں کا ذکر فرمایا۔ اس لئے بعض مفسرین نے یہ خیال فرما کر کہ آسمانوں میں جانوروں کے وجود کا صراحت کے ساتھ قرآن و حدیث میں ذکر نہیں اس کی مختلف تاویلیں فرمئای ہیں۔ چناچہ بعض نے فرمایا : اس سے مراد زمین کے جانور ہی ہیں، کیونکہ وہ زمین و آسمان کے اندر ہی ہیں۔ بعض نے فرمایا، اس سے مراد آسمانوں کے فرشتے ہیں، کیونکہ وہ اڑنے کے ساتھ ساتھ چل بھی سکتے ہیں، مگر ان تاویلوں کی ضرورت تب ہے جب آسمانوں میں جانوروں کا وجود ناممکن ہو۔ جب اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اللہ کی نشانیوں میں سے وہ جانور بھی ہیں جو اس نے زمین و آسمان میں پھیلا دیئے ہیں تو ہمیں یہ بات ماننے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے کہ آسمانوں میں بھی جانور موجود ہیں، خصوصاً جنت میں جہاں ہر نعمت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ میں بہتر جانتا ہے کہ وہاں کتنی قسم کے خبوصورت سے خبوصورت جانور موجود ہیں۔
(3) وھو علی جمعھم اذا یشآء قدیر : جس طرح زمین و آسمان کے جانوروں کو پیدا کرنا اور پھیلانا اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے اسی طرح انھیں جمع کرنے پر قدرت بھی بہ بڑی نشانی ہے۔ انسان کا حال تو یہ ہے کہ وہ پرندوں کے ایک جھنڈ کے بکھرنے والے پرندوں کو جمع نہیں کرسکتا، نہ شہد کے کسی چھتے سے بکھرنے والی مکھیوں کو جمع کرسکتا ہے، حتیٰ کہ اپنے ہم سبق ساتھیوں کو اکٹھا نہیں کرسکتا، خواہ وہ زندہ ہی ہوں۔ یہ رب تعالیٰ ہی ہے جو تمام جانوروں کو، زندہ ہوں یا مردہ جمع کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ چناچہ قیامت کے دن وہ انسانوں کے ساتھ جانوروں کو بھی دوبارہ زندہ فرمائے گا، فرمایا :(یوم یجمعکم لیوم الجمع ذلک یوم التغابن) (التغابن : 9) ”جس دن وہ تمہیں جمع کرنے کے دن کے لئے جمع کرے گا۔ وہی ہار جیت کا دن ہے۔“