Ayah 41:1حم : حروف مقطعات کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Ayah 41:2(1) تنزیل من الرحمٰن الرحیم : ”تنزیل“ کا معنی ”تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنا“ ہے۔ قرآن مجید کو ایک ہی دفعہ نازل کرنے کے بجائے تئیس (23) برس میں نازل کرنے کی حکمتوں کے لئے دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آیت (106) کی تفسیر۔”الرحمٰن الرحیم“ کا مفوہم اور باہمی فرق سورة فاتحہ کی تفسیر میں دیکھیے۔ کفار قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب نہیں مانتے تھے، بلکہ اسے رسول اللہ ﷺ کا خود ساختہ کلام کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یقین دلانے کے لئے یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہے، اس بات کو متعدد مقامات پر مختلف انداز سے بیان فرمایا۔ پچھلی سورت میں یہ با ت اپنی صفات ”عزیز وعلیم“ کے ذکر کے ساتھ بیان فرمائی، یہاں ”رحمان و رحیم“ کے ساتھ ذکر فرمائی۔
(2) ”الرحمٰن الرحیم“ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ ساری مخلوق محتاج ہے، جس کی ہر ضرورت پوری کرنے والا رحمان و رحیم ہے۔ وہ سب ضعیف اور بیمار ہیں، ان کی غذا اور ہر ضرورت کا اہتمام اور ان کی بیماریوں اور کمزوریوں کا مداوا وہی کرتا ہے جو رحمان ہے، جس کی رحمت کی کوئی حد نہیں اور رحیم بھی ہے کہ اس کی رحمت دائمی ہے، جسے کبھی زوال نہیں۔ اس نے رحم کرتے ہوئے یہ کتاب نازل فرمائی ہے، تاکہ لوگ ضلالت کی تاریکیوں سے ہدیات کی روشنی میں آجائیں اور دنیا اور آخرت دونوں میں اس بہت بڑی ہلاکت سے بچ جائیں جو مشرکین کا مقدر ہے، جس کا ذکر آیت (6) میں آرہا ہے۔ کتاب کا اترنا اس کی صفت رحمت کا اظہار ہے۔ دیکھیے سورة انعام (157) اور سورة عنکبوت (51)۔
Ayah 41:3(1) کتب فضلت ایتہ : ”فضلت“ کا کچھب یان سورة ہود کی پہلی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہمارے استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں :”یعنی ان میں مختلف مضامین عقائد، حرام و حلال، گزشتہ اقوام کے واقعات اور مثالیں وغیرہ کھول کھول کر واضح انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔“ (اشرف الحواشی) یہ ”کتب“ کی پہلی صفت ہے۔
(2) قراناً عریباً : یہ دوسری صفت ہے۔ تفسیر کیلئے دیکھیے سورة یوسف (2) اور سورة شعراء (195)
(3) لقوم یعلمون : یہ تیسری صفت ہے۔ ”لقوم“ کا لام ”تنزیل“ کے متعلق بھی ہوسکتا ہے اور ”فضلت“ کے بھی۔ یعنی یہ کتاب ان لوگوں کے لئے نازل کی گئی ہے اور انھی کے لئے اس کی آیات کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں جو جانتے ہیں، یا جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔ گویا یہ ان کے لئے ہے ہی نہیں جو علم کے بجائے اپنی خواہش نفس یا آباد اکابر کی تقلید کے پیروکار ہیں، کیونکہ ان کا عناد اور تعصب انہیں سوچنے سمجھنے حتیٰ کہ سننے کی بھی اجازت نہیں دیتا (دیکھیے حم السجدہ : 26) اور نہ سننا اور نہ سمجھنا ہی لوگوں کو جہنم میں لے جائے گا، جیسا کہ سورة ملک میں ہے :(وقالوا لوکنا نسمع او نعقل ماکنا فی اصحب السعیر) (الملک : 10)”اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔“ یہی بات متعدد آیات میں بیان فرمائی، فرمایا :(وتلک الامثال نصربھا للناس ، وما یعقلھا الا العلمون) (العنکبوت : 73)”اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں اور انہیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔“ اور فرمایا :(بل ھو ایت بینت فی صدور الذین اوتوا العلم) (العنکبوت : 79)”بلکہ یہ تو اضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا ہے۔“ اور فرمایا :(ان فی ذلک لایت للعلمین) (الروم : 22)”بیشک اس میں جاننے والوں کے لئے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔“ اور فرمایا :(انا انزلنہ قرء نا عربیا لعلکم تعقلون) (یوسف : 2)”بیشک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تاکہ تم سمجھو۔“
Ayah 41:4(1) بشیراً و نذیراً : یہ چوتھی اور پانچویں صفت ہے کہ یہ کتاب ایمان لانے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں جہاں میں بہترین انجام کی بشارت دیتی ہے اور جھٹلانے والوں کو دنیا اور آخرت کے بدترین انجام سے ڈراتی ہے۔
(2) فاعرض اکثرھم فھم لایستعون : قرآن مجید کی صفات بیان کرنے کے بعد اس پر لوگوں کا ردعمل بیان فرمایا کہ ان میں سے اکثر نے منہ موڑ لیا، سو وہ سنتے ہی نہیں۔ اکثر سے مراد یہاں کفار ہیں۔ نہ سننے سے مراد یہ ہے کہ وہ سرے سے سنتے ہیں ہیں، بلکہ مجلس سے اٹھ جاتے ہیں (دیکھیے ص : 6) یا کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں اور کپڑے اوڑھ لیتے ہیں۔ (دیکھیے نوح : 7) یا شور و غل ڈال کر نہ خود سنتے ہیں نہ کسی کو سننے دیتے ہیں، جیسا کہ اسی سورة حم السجدہ کی آیت (26) میں ہے اور نہ سننے سے مراد یہ بھی ہے کہ وہ اسے قبول نہیں کرتے، کیونکہ جب ماننا ہی نہیں تو سننا نہ سننا برابر ہے، جیسا کہ فرمایا :(ولقد ذرانا لجھنم کثیراً من الجن والانس، لھم قلوب لایفقون بھا ، ولھم اعین لایبصرون بھا، ولھم اذان نے بہت سے جن اور انسان جہنم ہی کے لئے پیدا کئے ہیں، ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں، بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں، یہی ہیں جو بالکل بیخبر ہیں۔“ اور اسی سورت کی اگلی آیت (وقالوا قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ و فی اذاننا وقر ومن بیننا و بینک حجاب فاعمل اننا عملون) (حم السجدۃ : 5) ”اور انہوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اور ہمارے کانوں میں ایک بوجھ ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک حجاب ہے، پس تو عمل کرے، بیشک ہم بھی عمل کرنے والے ہیں۔“
(3) قرآن مجید نے لوگوں کی اکثریت کے متعلق فرمایا :(اکثرھم لایومنون) (البقرہ : 100)”ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔“ اور فرمایا :(اکثرھم لایعلمون) (الانعام : 38)”ان کے اکثر نہیں جانتے۔“ اور فرمایا :(اکثرھم یجھلون) (الانعام : 111)”ان کے اکثر جہالت برتتے ہیں۔“ اور فرمایا :(ولا تجد اکثرھم شکرین) (الاعراف : 18)”اور تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔“ اور فرمایا :(وان وجدنآ اکثرھم لفسقین) (الاعراف : 102)”اور بیشک ہم نے ان کے اکثر کو فاسق ہی پایا۔“ اور فرمایا :”وما یتبع اکثرھم الا شناً) (یونس : 36)”اور ان کے اکثر پیروی نہیں کرتے مگر ایک گمان کی۔“ اور فرمایا :(ولکن اکثرھم لایشکرون) (یونس : 60) ”اور لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔“ اور فرمایا :(وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون) (یوسف : 106) ”اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، مگر اس حال میں کہ وہ شریک بنانے والے ہوتے ہیں۔“ اور فرمایا :(ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرھم مومنین) (الشعرائ : 8)”بیشک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔“ جب کہ ایمان والوں اور شکر گزار بندوں کے متعلق فرمایا کہ وہ بہت تھوڑے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(الا الذین امنوا و عملوا الصلحت وقلیل ماھم) (ص : 37)”مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور یہ لوگ بہت ہی کم ہے۔“ اور فرمایا :(وقلیل من عبادی الشکور) (سبا : 13)”اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔“
ان آیات سے کفار کے رائج کردہ نظام جمہوریت کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے، جس کی بنیاد ہی عوام کی اکثریت پر ہے، وہ مسلم ہوں یا کافر، متقی ہوں یا فاسق۔ پھر اس اکثریت کو دستور اور قانون سازی کا بھی اختیار ہے، خواہ وہ اللہ کے دین کے مطابق ہو یا اس سے متصادم۔ اس لئے دنیا بھر کے کفار تمام مسلمان ملکوں میں جمہوریت رائج کرنے کے لئے اپنی پوری کوشش استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اسی کے ذریعے سے وہ ان ملکوں میں اللہ اور اس کے رسول کے احاکم کو نافذ ہونے سے روک سکتے ہیں اور اپنا دخل جاری رکھ سکتے ہیں۔
Ayah 41:5(1) وقالوا قلوبنا فی اکنۃ …”اکنۃ“”کنان“ کی جمع ہے، پردہ جیسا کہ ”غطاء“ کی جمع ”اغطیۃ“ ہے۔ ترکش یعنی تیروں کا تھیلا جس میں تیر چھپے ہوتے ہیں ”کنانۃ“ کہلاتا ہے۔”وقر“ کا اصل معنی ”بوجھ“ ہے، مراد بہرا پن ہے۔
(2) فرمایا ، کفار کا آیات الٰہی سے اعراض اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ صرف یہ نہیں کہ وہ سنتے نہیں یا منہ موڑ کر چلے جاتے ہیں ، بلکہ ان کی نفرت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ انہوں نے واشگاف الفاظ میں اس کا اظہار کیا اور اس کی تنی وجہیں بیان کیں۔ پہلی یہ کہ تم ہمیں جس بات کی طرف دعوت دیتے ہو ہمارے دل اس سے بھاری پردوں میں محفوظ ہیں۔ (اکنۃ کی تنوین تعظیم کے لئے ہے) وہ دعوت ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں۔ دوسری یہ کہ ہمارے کانوں میں بھاری بوجھ ہے۔ (وقر کی تنوین تعظیم کے لئے ہے) وہ تمہاری بات سننے سے شدید بہرے ہیں اور تیسری یہ کہ ہمارے اور تمہارے درمیان بھاری پردہ ہے۔ غرض ہماری آنکھیں یا کان یا دل تمہاری کوئی بھی بات سننے یا سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔ کفار نے یہ بات اپنی خوبی کے طور پرب یان کی۔
سورة بقرہ میں ہے : (وقالوا قلوبنا غلف ، بل لعنھم اللہ بکفرھم فقلیلاً ما یومنون) (البقرۃ : 88)”اور انہوں نے کہا ہمارے دل غلاف میں (محفوظ) ہیں، بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی، پس وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔“
(3) ومن بیننا وبینک حجاب : بقاعی نے اس ”من“ سے تبعیض کا مفہوم اخذ کیا ہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کے بعض معاملات میں ایک پردہ ہے، یعنی ایک دوسرے کے دنیوی معاملات تو ہم دیکھتے، سنتے اور سمجھتے ہیں، مگر دین کے معاملات میں ہمارے اور تمہارے درمیان بھاری پردہ ہے، لہٰذا تم اپنے دین پر عمل کرو اور ہم اپنے دین پر عمل کرنے والے ہیں۔
(4) دوسری جگہ فرمایا کہ ان کے دلوں، آنکھوں اور کانوں پر یہ پردے ہم نے ڈالے ہیں اور اس کی وجہ خود ان کا اعراض اور گریز ہے، جیسا کہ فرمایا :(ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ فاعرض عنھا ونسی ما قدمت یدہ، انا جعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوۃ و فی اذاتنھم وقراً وان تدعھم الی الھدی فلن یھتدوا اذا ابداً) (الکھف : 58)”اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی تو اس نے ان سے منہ پھیرلیا اور اسے بھول گیا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے بنا دیئے ہیں، اس سے کہ اسے سمجھے اور ان کے کانوں میں بوجھ رکھ دیا ہے اور اگر تو انہیں سیدھی راہ کی طرف بلائے تو اس وقت وہ ہرگز کبھی راہ پر نہ آئیں گے۔“ اور ضد اور عناد کی وجہ سے مخالفت پر ڈٹ جانے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے، فرمایا :(ومن یشاق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی و یتبغ غیر سبیل المومنین نولہ ما تولی ونضلہ جھنم وسآء ت بصیراً (النسائ : 115)”اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے، اس کے بعد کہ اس کے لئے ہدایت خوب واضح ہوچکی اور مومنوں کے راستے کے سوا (کسی اور) کی پیروی کرے ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا اور ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بری لوٹنے کی جگہ ہے“ اور فرمایا :(فلما زاغوا اراغ اللہ قلوبھم) (الصف : 5) ”پھر جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیئے۔“
(5) فاعمل اننا عملون : بار بار دعوت اور نصیحت سے امید ہوتی ہے کہ شاید کسی وقت ہی اثر کر جائے۔ اس لئے کفار نے رسول اللہ ﷺ کو پوری طرح مایوس کرنے کے لئے یہ جملہ کہا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ کفار کو ”لکم دینکم ولی دین“ (تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین ہے) کہہ کر اس بات سے پوری طرح مایوس کردیں کہ آپ ان کے معبودوں کی کبھی کسی صورت میں بھی عبادت کرسکتے ہیں۔ (دیکھیے کافرون : 6)
Ayahs 41:6–7(1) قل انما انا بشر مثلکم : یعنی مجھ سے تمہاری اس قدر دوری کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ نہ تو میں فرشتہ یا جن یا نظر نہ آنے والی کوئی اور مخلوق ہوں کہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی پردہ جس کی وجہ سے تم مجھے دیکھ نہ سکو یا میری بات سن نہ سکو، بلکہ میں ایک بشر ہی ہوں جو تم میں پیدا ہوا، پلا بڑھا اور نبوت سے سرفراز ہوا۔ نہ یہ بات ہے کہ میری زبان تم سے مختلف ہے۔ بلکہ تمہاری طرح عرب ہوں، کھانے پینے، سونے جاگنے، تندرستی ، بیماری، شادی، غمی اور آل اولاد ، غرض تمام انسانی صفات میں تمہارے جیسا ہوں، پھر مجھ سے یہ اجتناب اور ایسی دوری کیوں ؟
(2) یوحی الی انما الھکم الہ واحد : دوری کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ میں پانی کوئی ذاتی بات تمہارے سامنے پیش کر کے اسے منوانا چاہتا ہوں۔ ایسا بھی نہیں، بلکہ میں تمہارے پاس وحی الٰہی کی بات لے کر آیا ہوں اور یہی میرا امتیاز ہے، اور یہ بھی نہیں کہ وہ وحی الٰہی کوئی پیچیدہ یا عقل میں نہ آنے والی ہو، یا اس کے تم سے بیشمار مطالبات ہوں جنہیں پورا کرنے سے تم قاصر ہو، بلکہ وہ صاف ، سچی اور عقل کے عین مطابق ہے اور وہ ہے صرف ایک مختصر سی بات کہ تمہاری عبادت کا حق دار صرف ایک معبود ہے۔ ایسی واضح اور مختصر بات نہ سننے یا نہ سمجھنے کا اور اس کے کہنے والے کو نہ دیکھنے کا تمہارے پاس کوئی عذر نہیں ، تمہیں روکنے والی چیز صرف تمہارا کفر پر اصرار ہے۔ سو اسے چھوڑو، تاکہ تم بھی وہ حقیقت سمجھ سکو جو تمہارے جیسا ایک بشر ہو کر میں سمجھتا ہوں اور تمہیں سمجھا رہا ہوں، لہٰذا اپنا رخ اپنے واحد معبود کی طرف بالکل سیدھا کرلو۔
(3) فاستقیموآ الیہ : استقامت کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة ہود (112)۔ یعنی جب تمہاری عبادت کا حق دار صرف ایک معبود ہے تو تمام معبود ان باطلہ سے منہ پھیر کر اپنا رخ پوری طرح اس کی طرف سیدھا کرلو اور صرف اسی کی عبادت کرو، جیسا کہ خلیل اللہ ؑ نے کہا تھا :(انی وجھت وجھی للذی فطر السموت والارض حنیفاً وما انا من المشرکین) (الانعام : 89)”بیشک میں نے اپنا چہرہ اس کی طرف متوجہ کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، ایک (اللہ کی) طرف ہو کر اور میں مشرکوں سے نہیں۔“
(4) واستغفروہ : یعنی اس سے پہلے اس کی جو ناشکری اور اس کیساتھ شرک کرتے رہے ہو اس کی اس سے معانی مانگو اور اس کا حق ادا کرنے میں جو کوتاہی پہلے ہوئی یا آئندہ ہوگی سب کی بخشش کی دعا کرتے رہو۔
(5) آیت کی جو تفسیر اوپر بیان کی گئی ہے یہ بقاعی اور کچھ اور مفسرین کے مطابق ہے۔ ایک اور تفسیر یہ ہے ”میں تو تمہارے جیسا ایک انسان ہوں، تمہارے کانوں اور آنکھوں کو کھولنا اور دلوں کے پردے ادور کرنا نہ میرے اختیار میں ہے اور نہ ہی میں اس کا مکلف ہوں، میری ذمہ داری، وہ وحی الٰہی تم تک پہنچا دینا ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے میری طرف کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ تمہارا سچا معبود بس ایک ہے۔ سو اس کی طرف پوری طرح سیدھے ہوجاؤ اور پانی گزشتہ اور موجودہ نافرمانیوں اور لغزشوں کی اس سے معافی مانگو۔“ (ابن عاشور) یہ تفسیر بھی بہت عمدہ ہے۔
(6) و ویل للمشرکین الذین لایوتون الزکوۃ : یعنی جو لوگ اللہ واحد اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے ان کے لئے بہت بڑی ہلاکت ہے۔ اگرچہ ان کی ہلاکت کے بیشمار اسباب ہیں، مگر یہاں ان میں سے تین بنیادی اسباب ذکر فرمائے، کیوں کہ سعادت کے بنیادی اسباب بھی تین ہیں، یعنی اللہ کا حق ادا کرنا، مخلوق کا حق ادا کرنا اور آخرت کا یقین رکھ کر اپنے اعمال کی کجواب دہی کے لئے تیار رکھنا۔ جس طرح سب سے اونچے اعمال یہ ہیں اسی طرح سب سے بڑی خست اور کمینگی بھی ان کا ادا نہ کرنا ہے۔ فرمایا، ان لوگوں کے لئے بہت بڑی ہلاکت ہے جو مشرک ہیں، اپنے مالک کے غدار ہیں، اللہ کی طرف سے مخلوق کے لئے عائد ہونے والا کم از کم فریضہ بھی ادا نہیں کرتے اور آخرت کے سرے ہی سے منکر ہیں جس میں حساب ہوگا اور جس کے بعد زندگی دائمی اور ابدی ہے۔
(7) یہاں ایک سوال ہے کہ یہ سورت مکی ہے، جب کہ زکوۃ مدینہ میں فرض ہوئی۔ اس کے جواب میں بعض مفسرین نے فرمایا کہ زکوۃ کا لفظی معنی پاکیزگی ہے، اس لئے یہاں توحید کے اقرار کے ساتھ نفس کی پاکیزگی مراد ہے کہ مشرک کلمہ توحید کے ساتھ اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے۔ مگر اس میں یہ اشکال ہے کہ اگر آیت کے الفاظ ”لایاتون الزکاۃ“ ہوتے تو اس معنی کی گنجائش تھی ”لایوتون“ میں اس کی گنجائش مشکل ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے ”وہ زکوۃ نہیں دیتے۔“ اس لئے طبری اور اکثر مفسرین رحمتہ اللہ نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے کہ وہ زکوۃ نہیں دیتے۔ رہا یہ سوال کہ مکہ میں تو زکوۃ فرض ہی نہیں ہوئی تھی، تو جواب اس کا یہ ہے کہ اگرچہ زکوۃ کا نصاب اور دورانیہ مدینہ میں مقرر ہوا مگر اصل زکوۃ اور اللہ کی راہمیں خرچ کرنا ابتدائے اسلام ہی میں فرض تھا۔ ہرقل نے جب ابوسفیان سے پوچھا کہ وہ نبی تمہیں کیا حکم دیتا ہے تو انہوں نے کہا تھا :(یامرنا بالصلاۃ والزکاۃ والصلۃ والعقاف) (بخاری، الزکوۃ، باب وجوب الزکوۃ ، قبل ح :1395 تعلیقاً)”وہ نبی ہمیں نماز، زکوۃ صلہ رحمی اور پاک دانی کا حکم دیتا ہے۔“ اور ظاہر ہے کہ ابوسفیان نے وہی احاکم ذکر کئے جو مکہ میں اس نے سنے۔ علاوہ ازیں مکی سورتوں میں جا بجا صدقے، زکوۃ اور کھیتی میں سے حق ادا کرنے کا ذکر ہے، جیسا کہ فرمایا :(واتواحقہ یوم حصادہ) (لانعام :171)”اور اس کا حق اس کی کٹائی کے دن ادا کرو۔“ اور فرمایا :(وسیحبنھا الاتقی الذی یوتی مالہ یتزکی) (اللیل 1818)”اور عنقریب اس سے وہ بڑا پرہیز گار دور رکھا جائے گا۔ جو اپنا مال (اس لئے) دیتا ہے کہ پاک ہوجائے۔“ اور فرمایا :(والذین فی اموالھم حق مغلوم للسآئل و المحروم) (المعارج :25, 23) ”اور وہ جن کے مالوں میں ایک مقرر حصہ ہے۔ سوال کرنے والے کے لئے اور (اس کے لئے) جسے نہیں دیا جاتا۔“ اور فرمایا : (والذین یوتون ما اتوا و قلوبھم وجلۃ انھم الی ربھم رجعون) (المومنون :60) ”اور وہ کہ انہوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں ہا ن کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں کہ یقیناً وہ اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔“ اور یہ تمام آیات مکی سورتوں کی ہیں۔ سورة مزمل ابتدا میں اترنے والی مکی سورت ہے، اس کی آخری آیت میں اس کا صراحتاً ذکر ہے۔
معلوم ہوا کہ کفار توحید و رسالت پر ایمان کے علاوہ زکوۃ اور دوسرے احکام پر عمل کے بھی مکلف ہیں اور ان کی عدم ادائیگی پر بھی ان کو عذاب ہوگا۔ رہی یہ بات کہ ان کی نماز اور زکوۃ تو ایمان لانے کے بعد ہی معتبر ہوگی، پہلے اس کا فائدہ ہی نہیں، تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہیں نماز یا زکوۃ کا حکم نہیں، جیسا کہ نماز اسی وقت درست ہوگی جب وضو ہوگا، مگر اس ک یہ مطلب نہیں کہ جب تک وضو نہ ہو نماز کا حکم ہی نہیں۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة مدثر (39 تا 48) کی تفسیر۔
Ayah 41:8ان الذین اھنوا و عملوا الصلحت …”ممنون“ ”من یمن منا“ (ن) ”الحبل“ رسی کو کاٹ دینا۔ کفار کے ساتھ ہی ایمان اور عمل صالح والوں کا انجام ذکر فرمایا کہ ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی قطع نہیں کیا جائے گا۔ مراد جنت اور اس کی نعمتیں ہیں جو کبھی ختم یا کم ہونے والی نہیں، بلکہ دائمی اور ہر دن زیادہ ہونے والی ہیں، جیسا کہ فرمایا :(لانقطوعۃ ولا ممنوعۃ) (الواقعۃ : 33)”(جنت کے پھل) نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان سے کوئی روک ٹوک ہوگی۔“ اور فرمایا :(عطآء غیر مجذوذ) (ھود : 108)”ایسا عطیہ جو قطع کیا جانے والا نہیں۔“ اور فرمایا :(ان ھذا ھذا رزقنا باللہ من نفاذ) (ص : 53) ”بلاشبہ یقیناً یہ ہمارا رزق ہے، جس کے لئے کسی صورت ختم ہونا نہیں ہے۔“
بعض مفسرین نے اس لفظ کو ”من یمن منا“ (احسان جتانا) سے قرار دے کر مطلب یہ کیا ہے کہ جنت کی نعمتوں کا ان پر احسان نہیں جتایا جائے گا۔ مگر ابن کثیر ؒ نے فرمایا کہ یہ معنی درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو احسان جتلاتا ہے اور جتلائے گا اور یہ اس کا حق ہے، کیونکہ ایمان کی ہدایت اور توفیق اس نے عطا فرمائی، فرمایا :(بل اللہ یمن علیکم ان ھذبکم للایامان ان کنتم صدقین) (الحجرات :18)”کہہ دے مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو، بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کے لئے ہدایت دی، اگر تم سچے ہو۔“ اور جنتی کہں ی گے :(فمن اللہ علینا ووقلنا عذاب السموم) (الطور : 28)”پھر اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں زہریلی لو کے عذاب سے بچا لیا۔“
Ayah 41:9(1) قل ابنکم لتکفرون …: مشرکین کا آخرت کا انکار ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے اس پر قادر ہونے، بلکہ ہر چیز پر قادر ہونے کے دلائل کا ذکر شروع فرمایا اور دلیل میں ان چیزوں کے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا جو ان کی آنکھوں کے سامنے تھیں اور جن کا خلاق وہ خود اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے۔ بات کا آغاز ہمزہ استفہام، ”ان“ اور لام کی تاکید کے ساتھ ہوا ہے۔ اس میں ان کے شرک پر تعجب اور ڈانٹ بھی ہے اور اس بات کا اظہار بھی کہ یقیناً تم شرک کی کمینی حرکت کرتے ہو، حالانکہ کوئی عقل مند سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی انسان زمین و آسمان کے خالق کے ساتھ کفر کرے گا اور اس کے ساتھ شریک بنئاے گا۔ تعجب اور ڈانٹ کے ساتھ ساتھ زمین و آسمان کی تخلیق کی تاریخ بھی بیان فرما دی ہے۔ ہمزہ استفہام اور تاکید کے دونوں حرفوں کو محلوظ رکھ کر ترجمہ کیا گیا ہے۔”کہہ کیا بیشک تم واقعی اس کا انکار کرتے ہو…“
(2) لتکفرون : یہاں ماضی کا صیغہ ”کفرتم“ (تم نے انکار کیا) لانے کے بجائے فعل مضارع ”لتکفرون“ کا لفظ اس لئے استعمال فرمایا کہ صرف یہ نہیں کہ تم اس سے پہلے کفر کر بیٹھے جو کر بیٹھے، بلکہ اتنے دلائل دیکھ اور سن کر بھی کفر سے باز نہیں آئے، بلکہ کفر کرتے ہی چلے جاتے ہو۔
(3) بالذی خلق الارض فی یومین : جب زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اس وقت سورج کا وجود ہی نہیں تھا جس سے دن رات وجود میں آتے ہیں، تو پھر دونوں سے کیا مراد ہے ؟ اس کے لئے دیکھیے سورة اعراف کی آیت (54) کی تفسیر۔
Ayah 41:10(1) وجعل فیھا واسی :”رواسی“ کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حجر (19) اور سورة انبیائ (31)
(2) من فوقھا : اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پورے کے پورے زمین کے اندر گاڑ دینے کے بجائے ان کا ایک حصہ زمین کے اوپر رکھا۔ اس میں بیشمار حکمتیں اور آدمی کے لئے فائدے ہیں، کیونکہ اگر پہاڑ پورے ہی زمین کے اندر ہوتے تو آدمی برف کے ان ذخیروں سے فیض یاب نہ ہو ستکا جو پہاڑ محفوظ رکھتے ہیں اور نہ ہی جنگلوں اور دریاؤں کے یہ سلسلے ہوتے۔ اس کے علاوہ بیشمار سونے، چاندی اور دوسری دھاتوں، گیسوں اور ہیرے جواہرات سے محروم رہتا جو وہ پہاڑوں کے زمین سے اوپر ہونے کی وجہ سے نکلتا ہے۔
(3) وبرک فیھا : یعنی اس میں خیر کی بیشمار اشیاء کے خزانے رکھ دیئے، جن میں درخت اور پودے بھی شامل ہیں۔ مٹی، پتھر، دھاتیں، گیسیں اور دوسرے وہ بیشمار عناصر بھی جو زمین میں موجود ہیں۔ چرند پرند، درندے اور آبی جانور بھی، پوری زمین کو گ ھیرے ہوئے ہوا بھی اور اس کے تقریباً ستر (70) فیصد حصے پر مشتمل پانی بھی، جن پر زندگی کا دار و مدار ہے اور جن پر ہز اورں لاکھوں سال گزرنے کے باوجود کوئی کمی نہیں آئی، بلکہ ہر دن نئی سے نئی برکت کا ظہور ہوتا ہے۔ بتاؤ، اللہ کے سوا کون ہے جس نے ان میں سے ایک چیز ہی پیدا کی ہو، جس کی وجہ سے تم نے اسے اپنا حاجت روا اور خدا بنا لیا ؟
(4) وقدر فیھا اقواتھا : ”اقوات“ ”قوت“ کی جمع ہے، غذا، خوراک اور روزی، زمین کی غذاؤں سے مراد اس میں رہنے والی تمام مخلوقات کی غذائیں ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لئے اس کے حسب حال اس کی ضرورت کے مطابق پورے اندازے کے ساتھ رکھ دیں، کسی مخلوق کی غذا کی کمی کا سوال ہی پیدذا نہیں ہوتا۔ دیکھیے سورة حجر (19 تا 21)۔
(5) فی اربعۃ ایام : یہاں ایک سوال ہے کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش چھ دنوں میں ہوئی ہے۔ (دیکھیے اعراف : 54۔ یونس : 3۔ ہود : 7۔ فرقان : 59۔ سجدہ : 4۔ ق : 38۔ حدید : 4) جب کہ ان آیات سے ان کی پیدائش آٹھ دنوں میں ظاہر ہو رہی ہے، اس لئے کہ پہلے زمین کو دو دنوں میں پیدا کرنے کا ذکر فرمایا، پھر چار دنوں میں اس کے اوپر پہاڑ گاڑنے اور اس میں غذائیں رکھنے کا ذکر فرمایا، اس کے بعد والی آیات میں دو دنوں میں آسمانوں کو پورا کرنے کا ذکر فرمایا، تو یہ کل آٹھ دن بنتے ہیں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ زیر تفسیر آیت میں مذکور ”اربعۃ ایام“ (چار دند) میں پہلے دو دن بھی شامل ہیں، یعنی زمین کی پیدائش اور اس میں پہاڑ گاڑنے اور غذائیں رکھنے کا کام کل چار دن میں ہوا۔ اس کے بعد دو دونوں میں آسمانوں کی پیدائش کا کام پورا ہوا، یہ کل چھ دن بنتے ہیں۔ مفسر شنقیطی نے فرمایا :”اس آیت کی یہ تفسیر جو ہم نے کی ہے اس کے علاوہ کوئی تفسیر کسی طرح بھی درست نہیں۔“
(6) سوآء للسآئلین : یعنی اللہ تعالیٰ نے روزی کا سوال کرنے والوں کے لئے، خواہ وہ زبان حال سے مانگیں یا زبان قال سے ان کی خوراکیں پورے اندازے کے ساتھ زمین میں رکھ دی ہیں اور اس کا اندازہ کبھی غلط نہیں ہوسکتا۔ مزید دیکھیے سورة ابراہیم کی آیت (34) :(واتکم من کل ماسا لتموہ) کی تفسیر۔ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اپنی ہر ضرورت کا سوال اللہ تعالیٰ سے کر رہی ہے اور وہ ہر لمحے اسے پورا کر رہا ہے، جیسا کہ فرمایا :(یسئلہ من فی السموت والارض کل یوم ھو فی شان) (الرحمٰن : 29)”اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“
Ayah 41:11(1) ثم استوی الی السمآء …”استوی“ کے بعد ”الی“ ہو تو اس کا معنی قصد کرنا ہوتا ہے۔ یعنی پھر اللہ نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی، وہ اس وقت دھوئیں کی صورت میں تھا، تو اسے یعنی آسمان اور زمین دونوں سے کہا ”ائتیا (آجاؤ) یعنی میرے حکم کی اطاعت کرو، خوشی سے کرو یا مجبوری سے، ہر حال میں کرنا پڑے گی۔
(2) قالتآ اتینا طآئعین : ان دونوں نے کہا، ہم خوشی سے حضار ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کائنات میں جو چیزیں طبعی طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتی ہیں، مثلاً فرشتے اس کے حکم کے بغیر کوئی بات کرتے ہیں نہ کوئی کام، اسی طرح سورج، چاند ستارے ، بادل ہوائیں، سمندر، نباتات اور حیوانات و جمادات، غرض ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چل رہی ہے ، ذرہ برابر ادھر ادھر نہیں ہوتی، تو یہ سب چیزیں مجبور ہو کر نہیں بلکہ اپنی رضا اور خوش دلی سے مالک کے حکم پر چل رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت ہی اسلام (فرما برداری اور اطاعت) بنائی ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے رب کے احکام سننے، سمجھنے، ان کا جواب دینے اور ان پر عمل کرنے کی پوری سمجھ رکھتی ہے، خواہ ہم اسے ”لایعقل“ (بےسمجھ) خیال کرتے رہیں، کیونکہ لفظ ”طآئعین“ (جمع مذکر سالم) عربی لغت میں ذوی العقول کے لئے آتا ہے، یہ لاگ بات ہے کہ ہم ان کی گفتگو یا تسبیخ نہ سمجھ سکیں ، مزید دیکھیے۔ سورة نبی اسرائیل (44)۔
Ayah 41:12(1) فقضھن سبع سموات فی یومین : یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان کو جو دخان کی صورت میں تھا، وہ دونوں میں پورے سات آسمان بنادیا۔
(2) و اوحی فی کل سمآء امرھا : یعنی کائنات کے اس نظام میں ہر آسمان کی اور اس میں رہنے والی ہر مخلوق کی جو ذمہ داری تھی وہ اس کی طرف وحی فرما دی کہ تمہیں یہ کام کرنا ہے اور اس طرح کرنا ہے۔
(3) و زینا السمآء الدنیا بمصابیح و حفظاً :”حفظاً“ (حفظنا ھا“ کا مفعول مطلق ہے جو یہاں مقدر ہے، اور اس کا عطف لفظ مقدر ”زینۃ“ پر ہے جو ”زینا السمآء الدنیا“ کا مفعول مطلق ہے۔ گویا اصل جملہ یہ تھا :”وزینا السماء الدنیا بمصابیح زینۃ وحفناھا بھا حفظا“ لفظ ”زینا“ کی دلالت کی وجہ سے ”زینۃ“ کو حذف کردیا اور ”حفظا“ کی دلالت کی وجہ سے ”حفناھا“ کو حذف کردیا۔ اس طرح نہایت خوب صورتی کے ساتھ ایک لمبی بات مختصر لفظوں میں سمیٹ دی۔ یہ قرآن کی بلاغت ہے اور اسے احتباک کہتے ہیں۔ (بقاعی) ”حفظاً“ کے مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا گیا ہے ”خوب محفوظ کردیا۔“ اس زینت و حفاظت کی تفصیل کیلئے ملاحظہ فرمائیں سورة حجر (16 تا 18) ، صافات (6 تا 10) اور سورة ملک (5)۔ یہاں یہ بات محلوظ رہے کہ ان آیات میں اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر غائب کے صیغے ”بالذی خلق الارض“ کے ساتھ کیا ہے،”زینا السمآئ“ میں متکلم کے صیغے کے ساتھ اور ”ذلک تقدیر العزیز العلیم“ میں پھر غائب کے ساتھ فرمایا ہے، اسے التفات کہتے ہیں، اس سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے اور کئی حکمتیں بھی ملحوظ ہوتی ہیں۔
(4) ذلک تقدیر العزیز العلیم، یہ سب اس ہستی کا اندازہ اور مقرر کردہ نظام ہے جو عزت و علم کے ساتھ پوری طرح موصوف ہے۔ وہ سب پر غالب ہے، کوئی اس پر غالب نہیں، وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ گزشتہ ، موجودہ یا آئندہ کوئی بھی چیز اس سے مخفی نہیں، اس لئے کے اس نظام میں کوئی غلطی، کوئی حادثہ نہیں اور کسی اور کا اس نظام میں ذرہ برابر دخل نہیں۔ سلسلہ کلام ”قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین“ سے شروع ہوا تھا اور ”ذلک تقدیر العزیز العلیم“ پر ختم ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پوری کائنات جس سے نچھ دن میں پیدا فرمائی، اس میں موجود ہر چیز حتیٰ کہ تمہیں اور ان چیزوں کو بھی پیدا کیا جنہیں تم نے معبود بنا رکھا ہے، کیا تم اس عظیم ہستی کے ساتھ کفر کرتے ہو اور اس کے ساتھ شریک بناتے ہو جس نے یہ سب کچھ کیا ہے ؟
Ayah 41:13فان اعرضوا فقل انذرتکم …:”ضعقۃ ‘ کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة رعد (13) سورت کی ابتدائی آیات (4، 5) میں اللہ کی کتاب سے اکثر لوگوں کے اعراض کا ذکر فرمایا، اس کے بعد چھ دنوں میں زمین و آسمان کی تخلیق کی تفصیل بیان فرمائی، اب فرمایا کہ اگر یہ لوگ اب بھی نہ مانیں کہ معبود برحق صرف ایک ہے، جس نے یہ زمین و آسمان اور ساری کائنات بنائی ہے اور اس حقیقت سے اعراض پر اڑے رہیں، تو ان سے کہہ دیں کہ تم سے پہلی بھی کئی اقوا منے یہ روش اختیار کی جو تم اختیار کر رہے ہو۔ سو میں تمہیں اس جیسے عذاب اور کڑکنے والی بجلی سے ڈرتا ا ہوں جو تم سے پہلی اقوام عادہ ثمود پر گری تھی۔ عاد وثمود کے تعارف کے لئے دیکھیے سورة اعراف (65 تا 79)۔
Ayah 41:14(1) اذ جآء نھم الرسل من بین ایدیھم ومن خلفھم : دونوں قوموں کی طرف آنے والے دو رسولوں ہود اور صالح ؑ کے لئے جمع کا لفظ استعمال فرمایا ہے، یا مراد دونوں پیغمبروں میں سے ہر ایک کے ساتھ پیغام حق پہنچانے والے مومن بھی ہیں، جنہوں نے ہر طرح اور ہر جانب سے آکر انہیں اللہ کا پیغام پہنچایا۔ آگے پیچھے سے مراد ہر طرف سے اور ہر طرح سے آکر سمجھانا ہے، جیسا کہ ابلیس نے کہا تھا : ثم لاتینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم و عن ایمانھم و عن شمآئلھم ولا تجداکثرھم شکرین) (الاعراف :18) ”پھر میں ہر صورت ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی دائیں طرفوں سے اور ان کی بائیں طرفوں سے ائٓوں گا اور تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔“
(2) الا تعبدوا الا اللہ :”الا“ ان لا“ ہے، اس میں ”ان“ تفسیر یہ ہے، یعنی تمام رسولوں کی دعوت یہ تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو۔
(3) قالوا لو شآء ربنا لانزل ملئکۃ … : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة ابراہیم (9، 10) اور سورة بنی اسرائیل (94، 95)۔
Ayah 41:15(1) فاما عاد فاستکبروا فی الارض …: اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ایسے لمبے قد، جسمانی قوت اور دنیوی ترقی کے اسباب عطا فرمائے تھے کہ اس کے فرمان کے مطابق اس جیسی کوئی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی، فرمایا :(الم ترکیف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد) (الفجر : 6 تا 8)”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کس طرح کیا۔ (وہ عاد) جو ارم (قبیلہ کے لوگ) تھے، ستونوں والے۔ وہ کہ ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا کیا گیا۔“ اور فرمایا :(اتنبنون بکل ریح ایۃ تعبثون وتتخدون مصانع لعلکم تخلدون واذا بطثثم بطثثم جبارین) (الشعراء :128 تا 130)”کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو ؟ اس حال میں کہ لاحاصل کام کرتے ہو۔ اور بڑی بڑی عمارتیں بناتے ہو، شاید کہ تم ہمیشہ رہو گے۔ اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بےرحم ہو کر پکڑتے ہو۔“ جب ہود ؑ نے انہیں توحید کی دعوت دی تو انہوں نے یہ جان لینے کے باوجود کہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں، محض اپنی بڑائی اور سرداری کے گمان میں انہیں جھٹلا دیا، کیونکہ انہیں رسول ماننے کی صورت میں ان کی اطاعت اختیار کرنا پڑتی تھی، جس کے لئے وہ تیار نہ تھے۔
(2) وقالوا من اشذمنا قوۃ : جب ہود ؑ نے انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگے کہ ہم سے زیادہ قوت والا کون ہے جس سے ہم خوف کھائیں ؟ ہم آنے والا ہر عذاب ہٹا سکتے ہیں۔ آج کل بھی ملحد لوگ آسمانی آفات کے متعلق کہتے ہیں کہ ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔ شاہ عبدالقاد ر لکھتے ہیں :”شاہ عبد القادر لکھتے ہیں :”ان کے جسم بڑے بڑے ہوتے تھے، بدن کی قوت پر غرور آیا، غرور کا دم بھرنا اللہ کے ہاں وبال لاتا ہے۔“ (موضح)
(3) اولم یروا ان اللہ الذی خلقھم …:”او لم یروا“ کا معنی ”اولم یعلموا“ ہے، یہ رؤیت علمی ہے۔ یعنی کیا انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ کتنی قوت والے سہی، اس اللہ سے زیادہ قوت والے نہیں ہوسکتے جس نے انہیں پیدا کیا ؟ یقینا انھیں یہ معلوم تھا، استفہام انکاری ہے۔
(4) وکانوا بایتنا یجحدون :”جحو ”‘ کا معنی ”جاننے کے باوجود انکار کرنا“ ہے۔ یعنی دل میں ان کا حق ہونا سمجھتے تھے، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے انکار کرتے چلے جاتے تھے۔ آیات سے مراد انبیاء پر نازل ہونے والی آیات بھی ہیں، ان کے معجزات بھی اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کی پھیلی ہوئی بیشمار نشانیاں بھی۔
Ayah 41:16(1) فارسلنا علیھم ریحاً صرصراً :”صرصراً“ ”صر“ (صاد پر کسرہ) سے ہے، سردی کی شدت جو بدن سیکڑ کر رکھ دے، یعنی شدید ٹھنڈی ہوا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(کمثل ریح فیھا صر) (آل عمران :118)
”اس ہوا کی مثال جیسی ہے جس میں سخت سرد ہے۔“ یا ”صرۃ“ سے ہے، جس کا معنی ”خوفناک چیخ“ ہے۔ جیسا کہ فرمایا :
فاقبلت امراتہ فی صرۃ) (الذاریات : 29)”تو اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی۔“ یہاں دونوں معنی اکٹھے ملحوظ ہیں کہ وہ ہوا نہایت ٹھنڈی اور خوفناک چیخ جیسی آواز والی تھی۔ ”صرصراً“ میں حروف مکرر ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ہے۔ یعنی ہم نے ان پر نہایت خوفناک آواز والی شدید ٹھنڈی تیز و تند آندھی بھیجی اور اسی ہوا کو جو ان کی زندگی کے قیام اور دل کی راحت کا باعث تھی اور جسے وہ بالکل معمولی اور بےضرر سمجھتے تھے، ان کی ہلاکت کا سامان بنادیا اور ان کی کوئی قوت انہیں بچا نہ کسی۔
(2) فی ایام نحسات :”نحسات“ ”نحس“ (نون کے فتحہ اور حاء کے سکون کے ساتھ) کی جمع ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :(فی یوم نحس مستمر) (القمر : 19) ”ایسے دن میں جو دائمی نحوست والا تھا۔“”نحس“ اور ”منحوس“ (بدقسمتی والا)”سع ”‘ (خوش قستمی والا) کی ضد ہے۔ فی الحقیقت اپنی ذات میں کوئی چیز منحوس نہیں۔ یہ صرف اضافی چیز ہے، یعنی ایک ہی شے کسی کے حق میں خوش قسمتی کا باعث ہوتی ہے اور کسی کے حق میں بدقسمتی کا، جیسا کہ آندھی کے یہ ایام قوم عاد کے حق میں منڈحوس تھے مگر ہود ؑ اور ایمان والوں کے لئے ان دنوں سے زیادہ خوش قسمتی والا دن اور کون سا ہوگا۔ اس آندھی کی تفصیل کیلئے دیکھیے سورة اعراف (72) ، قمر (18 تا 20) ، ذاریات (41، 42) اور سورة حاقہ (6 تا 8) ، بعض مسلمان کہلانے والے بھی بعض دنوں کو منحوس سمجھتے ہیں، جیسے دس محرم، کیونکہ اس میں حسین ؓ شہید ہوئے، حالانکہ اس دس محرم کو موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کو نجات حاصل ہوئی، جس کی خوشی میں رسول اللہ ﷺ روزہ رکھتے تھے۔ بعض لوگ صفر کے کچھ دنوں کو منحوس سمجھتے ہیں، حالانکہ ایسا عقیدہ باطل ہے۔
(3) لندیقھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا : یہ ذلت و رسوائی ان کے غرور اور تکبر کا جواب تھا کہ وہی زمین جس پر وہ بڑے بنے ہوئے تھے اسی پر ان کے بےجان لاشے کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح گرے پڑے تھے۔
(4) ولعذاب الاخرۃ اخزی …: یقینا آخرت کا عذاب زیادہ رسوائی والا ہے، اس لئے کہ وہ تمام پہلے اور پچھلے لوگوں کے سامنے ہوگا، پھر دنیا میں تو ظاہری اسباب کے ساتھ شاید کوئی مدد کے لئے پہنچ جائے، وہاں اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر دنیا کی رسوائی تو ایک وقت تک ہے، جب کہ وہاں کی رسوائی ہمیشہ کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھے۔ آمین !
Ayah 41:17(1) واما ثمود فھدینھم …: قوم مثود کے تعارف کے لئے دیکھیے سورة اعراف (73 تا 79)۔ ہدایت کی تفسیر کے لئے سورة فاتحہ کی آیت :(اھدنا الصراط المستقیم) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ یعنی ہم نے انہیں راہ حق دکھا دیا، مگر انہوں نے ہدایت قبول کرنے کے بجائے اندھا اور گمراہ رہنے کو ترجیح دی۔
(2) فاخذثھم صعقہ العذاب الھون…”الھون“ اور ”الھوان“ معنی ذلت، یہ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے۔ ثمود پر آنے والے عذاب کو کہیں ”الرجفۃ“ (زلزلہ) کہا گیا ہے، کہیں ”الضیحۃ“ (سخت چیخ) یہاں اسے بجلی کی کڑک کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ایک سخت چیخ تھی جس میں بجلی کی کڑک اور شعلہ تھا، ساتھ ہی شدید زلزلہ تھا جس سے ان کے جگر پھٹ گئے اور سب کے سب ہلاک ہوگئے۔ یہ ذلت کا عذاب ان کے اعمال بد کام انجام تھا۔
Ayah 41:18ونجینا الذین امنوا …: یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب قدرت ہے کہ اتنے شدید عذاب : زلزلے، خوف ناک چیخ اور بجلیاں چمکنے اور گرن کے باوجود کسی مسلمان کا بال تک بیکا نہیں ہوا، وہ سب اللہ کے فضل سے صحیح سلامت رہے۔
Ayah 41:19(1) ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار : لفظ ”یوم“ ”اذکر“ کا مفعول ہے جو یہاں مقدر ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ واؤ کا عطف کس پر ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس سے پہلے انبیاء کو جھٹلانے والے منکرین پر دنیا میں آنے والے عذابوں کا ذکر فرمایا تھا، اب آخرت میں ان کے ہونے والے حال کا ذکر فرمایا۔ چناچہ آخرت کا حال یاد دلانے والے اس جملے کا عطف اس مقدر جملے پر ہے جس میں ان پر دنیا میں آن والے عذاب یاد دلائے گئے ہیں۔ گویا اصل عبارت یہ تھی ”اذکر ایام اعداء اللہ فی الدنیا فی انزال العذاب لھم واذکر یوم یحشرون الی النار۔“ یعنی ”انہیں اللہ کے دشمنوں پر دنیا میں آنے والے عذابوں کی یاد دہانی کرو اور انہیں وہ دن یاد دلا جب وہ آگ کی طرف اکٹھے کئے جائیں گے۔“ آیات کی ابتداء میں آنے والی واؤ عاطفہ کی مناسبت ہر جگہ ”نظم الدرر فی تناسب الآیات والسور“ کے مصنف نے نہایت عمدہ بیان فرمائی ہے۔ میں نے اختصار کے پیش نظر صرف چند ایک مقامات پر اس کا ذکر کیا ہے، اصحاب ذوق اصل کتاب سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
(2) فھم یوزعون :”وزع یزع“ کا اصل معنی روکنا، ترتیب دینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا اور انہیں اس طرح اکٹھا کیا جائے گا کہ آگے والوں کو آگے جانے سے اور پیچھے والوں کو پیچھے جانے سے روک کر اکٹھا کرلیا جائے گا، پھر ان کی الگ الگ ترتیب لگائی جائے گی، ان کے جرائم کے مطابق ان کی ٹولیاں بنائی جائیں گی اور انہیں دھکیل کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ یکھیے سورة حم السجدہ (19) اور سورة صافات (22 تا 26)۔
Ayah 41:20حتی اذ ما جآء وھا شھدا علیھم سمعھم …زمخشری نے فرمایا :”اذا“ کے بعد لفظ ”ما“ اس کی تاکید کے لئے ہے، تاکید کا مطلب یہ ہے کہ آگ کے پاس پہنچنے کا وقت ہی ان پر شہادت کا وقت ہوگا، یہ نہیں کہ کچھ وقت شہادت سے خالی ہو۔“ (کشاف) اس لئے میں نے ”اذاما“ کا ترجمہ ”جوں ہی“ کیا ہے۔ یعنی آگ کے پاس پہنچنے پر جب وہ اپنے جرائم سے انکار کریں گے تو فوراً ہی ان کے کان، آنکھیں اور چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ اس کی تفصیل سورة یٰسین کی آیت (65) ، (الیوم نختم علی افواھھم) میں گزر چکی ہے۔
Ayah 41:21(1) وقالوا لجلودھم لم شھدثم علینا : اپنے چمڑوں سے یہ بات وہ پوچھنے کے لئے نہیں بلکہ تعجب کے اظہار اور ملامت کے لئے کہیں گے کہ تمہی کو بچانے کے لئے تو ہم اللہ تعالیٰ سے جھوٹ بول رہے تھے اور تمہی ہمارے خلاف شہادت دے رہے ہو۔
(2) قالوا انطفنا اللہ الذی انطق کل شیء : اعضا ان کے تعجب اور ملامت دونوں کا جواب دیں گے۔ تعجب کا جواب تو یہ دیں گے کہ ہمارا بولناک کوئی تعجب کی بات نہیں، زبان بولتی تھی تو اللہ کے حکم سے اور اس کے گویائی عطا کرنے سے بولتی تھی ، اسی طرح ہر بولنے والی چیز اسی کے حکم سے بولتی ہے، تو اب اس نے ہمیں بلوا دیا تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے ؟
(3) وھو خلقکم اول مرۃ والیہ ترجعون : یہ چمڑوں کا کلام بھی ہوسکتا ہے اور آخرت کے منکروں سے اللہ تعالیٰ کا خطاب بھی ہوسکتا ہے۔
Ayah 41:22(1) وما کنتم تستترون ان یشھدعلیکم …: یہ ان کی ملامت کا جواب ہے کہ تم گناہ کا کام کرتے ہوئے لوگوں سے چھپنے اور پردہ کرنے کا تو پورا اہتمام کرتے تھے، مگر تمہیں اس بات کا خوف نہ تھا کہ تمہارے کان، آنکھیں اور چمڑے ہی تمہارے خلاف تمہارے اعمال بد کی شہادت دیں گے۔ اگر تمہیں اس بات کا خوف ہوتا تو تم برے اعمال کر ہی نہیں سکتے تھے، کیونکہ انھی اعضا کے ساتھ ہی تو تم نے اللہ کی نافرمانی کرنا تھی۔
(2) ولکن ظننتم ان اللہ لایعلم…: یعنی بات صرف اتنی نہ تھی کہ تمہیں یقین نہ تھا کہ قیامت قائم ہوسکتی ہے اور تمہارے اعضا تمہارے خلاف گواہی دے سکتے ہیں، بلکہ اصل بات یہ تھی کہ تم اللہ تعالیٰ کے علم کے بھی منکر تھے ، تم نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے اعمال کو جانتا ہی نہیں۔ ورنہ اگر تمہیں یقین ہوتا کہ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے، تمہاری ہر بات سن رہا ہے اور تمہارے ہر حال کا علم رکھتا ہے تو تم گناہ پر اتنے دلیر نہ ہوتے۔ مشرکین قریش کی اس نادانی کا ذکر عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا ہے : وہ فرماتے ہیں :(اجتمع عند البیت قرشیان وثقفی ، اوتقصیان و قرشی کثیرۃ شحم بطونھم قلیلۃ فقہ قلوبھم فقال احدھم اترون ان اللہ یسمع مانقول ؟ قال الاخر یسمع ان جھرنا ولا یسمع ان اخفینا ، وقال الاخر ان کان یسمع اذا جھرنا فانہ یسمع اذا اخفینا، فانزل اللہ عزوجل :(وما کنتم تستترون ان یشھد علیکم شبعکم ولا ابصارکم ولا جلودکم ولکن ظننتم ان اللہ لایعلم کثیراً مما تعملون) (بخاری، التفسیر، سورة حم، السجدۃ، باب : (وذلکم ظنکم الذی…):3818)”بیت اللہ کے پاس دو قریشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی جمع ہوئے، جن کے پیٹ کی چربی بہت تھی، (مگر) دلوں کی سمجھ بہت کم تھی۔ تو ان میں سے ایک نے کہا :”کیا تمہارا خیال ہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ سن رہا ہے ؟“ دوسرے نے کہا :”اگر ہم اونچی آواز سے کہیں تو وہ سنتا ہے اور اگر آہستہ کہیں تو نہیں سنتا۔“ ایک اور بولا : ”اگر وہ اس وقت سننا ہے جب ہم اونچی آواز سے بات کریں تو یقیناً وہ اس وقت بھی سنتا ہے جب ہم آہستہ بات کریں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی :”اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہارے چمڑے اور لیکن تم نے گمان کیا کہ بیشک اللہ بہت سے کام، جو تم کرتے ہو، نہیں جانتا۔“
یاد رہے کہ اس بات کا مطلب کہ یہ آیت فلاں موقع پر اتری، یہ ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بھی انھی دنوں میں ہوا، یا رسول اللہ ﷺ نے فلاں موقع پر یہ آیت پڑھی، یا یہ کہ وہ آیت اس واقعہ پر بھی منطبق ہوتی ہے، جیسا کہ اصول تفسیر میں واضح کیا گیا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ آیات کا سیاق تو قیامت کے دن کے متعلق ہے۔
Ayah 41:23وذلکم ظنکم الذی ظنتم بربکم …”ذلکم“ کی خبر ”ظنکم“ معرفہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”یہی تمہارا گمان تھا“ کیا گیا ہے۔“ ارذی یردی“ (افعال) ہلاک کرنا۔ یعنی تمہارے اسی باطل گمان اور غلط عقیدے نے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہوتا، تمہیں ہلاک کردیا، کیونکہ اس سے تم اس کی نافرمانی پر دلیر ہوگئے اور خسارا پانے والوں میں سے ہوگئے۔
یاد رہے کہ گمراہی کے اسباب میں سے بہت بڑا سبب صحیح غور و فکر نہ کرنا اور محض گمان کے پیچھے چلتے رہنا ہے۔ مشرکین کی اصل گمرایہ بھی یہی تھی، جیسا کہ فرمایا :(ان یبتعون الا الظن) (الانعام : 116) ”وہ تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے۔“ اور فرمایا :(یظنون باللہ غیر الحق ظن الجاھلیۃ) (آل عمران : 153) ”وہ اللہ کیب ارے میں ناحق جاہلیت کا گمان کر رہے تھے۔“
Ayah 41:24فان یصبروا فالنار مثوی لھم …: یعنی دنیا میں کئی مصیبتیں صبر کرنے سے ٹل جاتی ہیں یا آسان ہو منتیں جتنی چاہیں کریں کوئی قبول نہیں ہوگی۔
Ayah 41:25(1) وقیضنا لھم قرنآء … :’ قرنآئ“ ”قرین“ کی جمع ہے، ساتھ رہنے والا۔ ”القیض“ انڈے کے چھلکے کو کہتے ہیں۔ یعنی جس طرح چھلکا انڈے کے ساتھ پیوست ہوتا ہے اسی طرح ہم نے ایسے برے لوگ ان مشرکین کے ساتھ لگا دیئے جو ان کے ساتھ اس طرح چمٹے رہتے ہیں جس طرح انڈے کا چھلکا چمٹا رہتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اگر انسان برا ہو تو اسے ساتھی بھی برے میسر آتے ہیں، جو اسے سبز باغ دکھاتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان برائیوں میں مگن ہوجاتا ہے اور آٰخر کار خود کو اپنے ساتھیوں سمیت لے ڈوبتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة زخرف (36) اور سورة ق (23 تا 29)
(2) فزینوا لھم مابین ایدیھم …:”مابین ایدیھم“ سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ دنیا میں کر رہے تھے اور ”وما خلفھم“ سے مراد وہ اعمال بد ہیں جو اس سے پہلے کرچکے تھے۔ یعنی وہ برے ساتھی ان کے لئے ان کے موجودہ اور گزشتہ تمام برے اعمال کو خوش نما بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ انھی پر جمے رہتے ہیں اور ان لوگوں میں شامل ہوجاتے ہیں جن کے اعمال بد کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان صادق آتا ہے : لافلن جھنم من الجنۃ و الناس اجمعین) (ھود : 119) ”میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضرور ہی بھروں گا۔“
بعض مفسرین نے ”ما بین ایدیھم“ سے مراد دنیا اور ”وما خلقھم“ سے مراد آخرت لی ہے۔ یعنی ان کے برے ساتھی آخرت کے متعلق بھی انہیں خوش گمانی میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اول تو وہ ہوگی ہی نہیں اور اگر ہوئی بھی تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا ہے وہاں بھی نوازے گا۔ مزید دیکھیے سورة مریم (77)۔
Ayah 41:26(1) وقال الذین کفروا ولا تسمعوا …: کفار قرآن کی تاثیر سے واقف تھے کہ جو شخص عناد سے خالی ہو کر اسے سن لے وہ یقیناً اس سے متاثر ہوتا ہے۔ چناچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ نہ خود قرآن سنو، نہ کسی کو سننے دو۔ یہ ان کا واضح اعتراف شکست تھا، وہ اس جیسی ایک سورت بھی بنا کر نہ لاسکے تو حق یہ تھا کہ اس پر ایمان لے آتے ، مگر وہ اس کی مخالفت پر ڈٹ گئے اور ہر طریقے سے لوگوں کو اس سے روکنے کی کوشش کرنے لگے۔
(2) لھذا القرآن : یعنی پہلی کتابیں پڑھنے سننے پر کوئی پابندی نہیں، کیونکہ اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ قرآن جو محمد (ﷺ) لے کر آئے ہیں، یہ مت سنو، کیونکہ یہ دلوں کو کھینچتا ہے۔
(3) والغوا فیہ :”الغوا“”لغی یلغی“ (س، ف) بغیر سوچے سمجھے بولنا، شور مچانا۔ یعنی اگر کبھی سننے کا اتفاق ہو تو اس میں شور ڈال دو ، تاکہ تم غالب رہو۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ مان رہے تھے کہ اگر نبی ﷺ یا مسلمان قرآن سنانے میں کامیاب ہوگئے تو وہی غالب رہیں گے۔ عربی مقولہ ہے : ”والفضل ماشھدت بہ الاعداء“ ”اصل برتری وہ ہے جس کی شہادت دشمن دیں۔“ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے کفار کی اس بات کے برعکس فرمایا :(واذا قری القرآن فاستمعوا لہ و انصتوا لعلکم ترحمون) (الاعراف :203)”اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسیک ان لگاک ر سنو اور چپ رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ یعنی جعلی غلبے کے بجائے حقیقی رحمت کے طلب گار بنو۔
(4) کفار کی یہ بدتمیزی صرف اس وقت نہیں تھی جب رسول اللہ ﷺ انہیں قرآن سنانے کی کوشش کرتے، بلکہ جب آپ ﷺ اپنے ساتھیوں کو قرآن سنا رہے ہوتے، یا انھیں نماز پڑھاتے ہوئے بلند آواز سے قرأت کرتے تو وہ اس وقت بھی بد زبانی اور گالی گلوچ شروع کردیتے، جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :(ولا تجھر بصلاتک و لاتخافت بھا وابتع بین ذلک سبیلاً) (بنی اسرائیل : 110)”اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھ اور نہ اسے پست کر اور اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کر۔“ تفصیل کیلئے دیکھیے سورة نبی اسرائیل کی اسی آیت کی تفسیر۔
Ayah 41:27فلنذیقن الذین کفروا عذاباً شدیداً : چونکہ یہ ان کا صریح ظلم اور عناد تھا اور ان کی ہدایت کی امید ہی نہ تھی، اس لئے عبرت ناک سزا اور عذاب کے سوا ان کی کوئی جز نہ تھی۔ ”فلنذیقن“ کی فاء تعلیل کے لئے ہے یعنی ان کے قرآن سننے سے روکنے کی وجہ سے ہم انہیں شدید عذاب چکھائیں گے۔
(2) ”فلنعذبن“ (ہم انھیں ضرور عذاب دیں گے) کے بجائے ”فلنذیقن“ (ہم انھیں ضرور چکھائیں گے) کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ جو چیز چکھی جاتی ہے وہ معمولی سی زبان پر لگتی ہے، تو جس کا معمولی سا لگنا اتنا سخت ہوگا وہ پورا عذاب کس قدر سخت ہوگا۔
(3) ولنجزینتھم اسوا الذی کانوا یعملون : کفار نے اگرچہ بیشمار گنا ہ کئے ہوں گے، مثلاً چوری، زنا وغیرہ مگر ان کے سب سے برے اعمال کفر و شرک اور دوسروں کو ایمان سے روکنا تھے۔ چناچہ انہیں ملنے والی سزا کفر و شرک اور ایمان سے روکنے کے پیمانے کے مطابق ہوگی، جس کے مقابلے میں دوسرے گناہوں کی سزا کی کچھ حقیقت نہیں ہوگی۔
Ayah 41:28(1) ذلک جزآء اعدآء اللہ النار…: اللہ کے دشمنوں کی یہی جزاء یعنی آگ ہے، جنہوں نے کفر و شرک کیا، زبان اور ہاتھ کو ہر طرح سے اس کی کتاب سننے سے روکا، اس کے نبی اور ایمان والوں کا مقابلہ کا، ان سے جنگ کی اور دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
(2) بایتنا یجحدون : یعنی اس جزا کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ ہماری آیات حق ہیں، پھر جان بوجھ کر ضد اور عناد کی وجہ سے ان کا انکار کرتے تھے، پھر اللہ ایسے دشمنوں کو سزا دینے میں کیوں کمی کرے گا ؟”جحو ”‘ کا معنی جانتے ہوئے انکار کرنا ہے۔
Ayah 41:29(1) وقال الذین کفروا ربنا ارنا…: اس سے پہلے آیت (25) (وقیضنا لھم قرنآء …) میں کفار کے اعمال بد کی وجہ سے ان پر جن و انس کے وہ قرین مسلط کرنے کا ذکر ہے جو ان کے لئے ان کے برے اعمال خوش نما بنا کر پیش کرتے رہے، حتیٰ کہا ان پر جہنمی ہونے کا ٹھپا پکا ہوگیا۔ اب جہنم میں کفار کی اپنے ان دوستوں کے متعلق خواہش اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کا ذکر ہے۔
(2) کفار یہ بات جہنم میں جانے کے بعد کہیں گے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مضای کا صیغہ ”قال“ استعمال فرمایا : کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بات اتنی یقینی ہے کہ سمجھو یہ کام ہوچکا۔
(3) قیامت کے دن جہنمی اپنے گمراہ کرنے والے جن و انس میں سے شیاطین دوستوں پر سخت ناراض ہوں گے اور ان کی خواہش ہوگی کہ انہیں زیادہ سے زیادہ عذاب ہو۔“ ارنا“ کا لفظی معنی اگرچہ ”ہمیں دکھا“ ہے، مگر مراد یہ ہے کہ پروردگار ! تو انھیں ہمارے حوالے کر، تاکہ ہم انھیں اپنے قدموں کے نیچے روندیں، تاکہ وہ سب سے نیچے لوگوں میں شامل ہوں۔ ہر کافر خود گمراہ ہونے کے ساتھ دوسروں کو گمراہ کرنے کا مجرم بھی ہے۔ کفار کی یہ خواہش پوری ہوگی یا نہیں، اس کے لئے دیکھیے سورة اعراف (38، 39) اور سورة ص (55 تا 61)۔
(4) اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن صرف ایمان والوں کی دوستی باقی رہیگ ی، دوسرے سب ایک دوسرے میں سے دشمن ہوجائیں گے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (166، 167) اور سورة زخرف (68)۔