41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 41:30

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کے ساتھ خوش ہوجاؤ جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔

(1) ان الذین قالوا … کفار کے برے عقیدہ و عمل کی وجہ سے ان پر جن و انس میں سے شیاطین مسلط کرنے اور ان کے برے انجام کے ذکر کے بعد ایمان اور اس پر استقامت اختیار کرنے والوں کی تائید و نصرت کیلئے فرشتے نازل کرنے کا اور ان کے حسن انجام کا ذکر فرمایا۔ (2) ربنا اللہ : ”ہمارا رب صرف اللہ ہے“ یہ مختصر سا جملہ معانی کا سمندر ہے۔ مبتدا کے بعد خبر معرفہ ہو تو کلام میں حصر پیدا ہوجاتا ہے، کتب بلاغت میں اس کی مشہور مثال ”صدیقی زی ”‘ ہے، یعنی ”میرا دسوت صرف زید ہے۔“ اس لئے ”ربنا اللہ“ کا معنی ہے ”ہمارا رب صرف اللہ ہے۔“ یہ بات دل سے کہہ لینے کے بعد آدمی کسی اور کو داتا ، دستگیر، گنج بخش، غریب نواز، بگڑی بنانے والا اور ڈوبتوں کو پار لگانے والا نہیں مان سکتا۔ پھر اس کی قولی، بدنی اور ملای عبادت، بلکہ پوری زندگی اور موت صرف اللہ کے لئے ہوتی ہے، وہ صرف اسی سے مانگتا اور اسی کے حکم پر چلتا ہے۔ جو وہ کہے کرتا ہے، جس سے روک دے رک جاتا ہے۔ عمل میں کوتاہی ہوسکتی ہے اور گناہ کا ارتکاب بھی ہوسکتا ہے، مگر وہ اسی کے دروازے پر رہتا اور اسی سے معافی مانگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(قل اننی ھدئنی ربی الی صراط مستقیم : دینا قیماً ملۃ ابرھیم حنیفاً الانعام :161 تا 163) ”کہہ دے بیشک مجھے تو میرے رب نے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کردی ہے، جو مضبوط دین ہے ، ابراہیم کی ملت ، جو ایک ہی طرف کا تھا اور مشرکوں سے نہ تھا۔ کہہ دے بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لئے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ کہہ دے کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں، حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے۔“ ”ربنا اللہ“ کہنے کے بعد کسی اور کی عبادت، اس کا دین یا اس کا بتایا ہوا زندگی گزارنے کا طریقہ اختیار کرنے کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ اقبال نے اسی لئے کہا ہے۔ چوں می گویم مسلمانم بلرزم کہ دائم مشکلات لا الہ را ”جب میں کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو لرز جاتا ہوں، کیونکہ میں ”لا الہ“ کی مشکلات کو جانتا ہوں۔“ (3) ثم استقاموا : اس میں سین اور تاء مبلغے کے لئے ہے، یعنی پھر اس پر خوب قائم رہے اور موت تک ڈٹے رہے کوئی خوف یا لالچ انھیں اس عقیدے اور عمل سے نہ پھیر سکا، جیسا کہ فرمایا :(واعبد ربک حتی یاتیکم الیقین) (النحجر : 99) ”اور اپنے رب کی عبادت کر، یہاں تک کہ تیرے پاس یقین آجائے۔ ‘ طبری نے اسود بن ہلال سے روایت کی ہے کہ ابوبکر صدیق ؓ نے یہ آیت پڑھی :(ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا) اور فرمایا :”اس آیت کے متعلق تم کیا کہتے ہو ؟“ لوگوں نے کہا : (قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا من ذنب) ”انہوں نے ”ربنا اللہ“ کہا، پھر گناہ سے بچنے پر ڈٹے رہے۔“ تو انہوں نے فرمایا :(لقد حملتموہ علی غیر المحمل ، قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا ثم لم یلتفتوا الی الہ غیرہ) (طبری :3080)”تم نے اسے اس کے اصل محمل کے غیر پر محمول کیا ہے، مقصد ”قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا“ کا یہ ہے کہ پھر انہوں نے اس کے سوا کسی اور معبود کی طرف جھانک کر نہیں دیکھا۔“ حاکم نے بھی اسے اسود بن ہلال کے طریق سے روایت کیا ہے اور اسے صحیح کہا ہے۔ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ دیکھیے مستدرک حاکم میں ”سورة حم السجدہ“ کی تفسیر۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے، فرماتے ہیں : ”قالوا ربنا اللم ثم استقاموا علی اذا ئرائضہ“ یعنی ”ثم استقاموا“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے فرئاض کی ادائیگی پر خوب قائم رہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ”ثم استقاموا“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ موت تک توحید پر خوب قائم رہ کر رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چلتے رہے اور فرئاض ادا کرتے رہے، اگر کوئی کوتاہی یا گناہ ہوا بھی ہو تو انہوں نے توحید و سنت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ (4) سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہ کا :(یا رسول اللہ ! حدثنی بامر اعتصم بہ قال قل ربی اللہ ثم استقم قال قلت یا رسول اللہ ما خوف ماتحاف علی ؟ قال فاخذ بلستان نفسہ ثم قال ھذا) (مسند احمد : 3313 ء ح : 15325)”یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسا کام بتائیں جسے میں ضمبوطی سے پکڑ لوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :”تو کہہ ، میرا رب صرف اللہ ہے، پھر اس پر خوب قائم رہ۔“ میں نے کہا :”یا رسو ل اللہ چ سب سے خوف ناک چیز جس سے آپ میرے بارے میں ڈرتے ہوں، کیا ہے ؟“ تو آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا :”یہ (زبان)۔“ مسند احمد کے محقق حضرت ا نے اسے صحیح کہا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے، سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا :(یا رسول اللہ ! قل لی فی الاسلام قولاً لا اسال عنہ احداً بعدک و فی حدیث ابی اسامۃ غیرک قال قل امنت باللہ ثم استقم) (مسلم، الایمان، باب جامع اوصاف الاسلام :38) ”یا رسول اللہ ! آپ مجھے اسلام میں ایسی بات بتادیں کہ میں اس کے متعلق آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :”تو کہہ، میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر خوف قائم رہ۔“ اس سے معلوم ہوا کہ ”ربی اللہ“ اور ”امنت باللہ“ کا مفہوم ایک ہے اور یہ جامع کلمہ ہے، جس میں اسلا کے تمام ارکان آگئے ہیں، جیسا کہ امام نووی رحمتہ اللہ کے صحیح مسلم پر باب کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ (5) تنزل علیھم الملٰٓئکۃ … ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو۔ بہت سے مفسرین نے فرمایا کہ ”ربنا اللہ“ کہہ کر استقامت اختیار کرنے والوں پر فرشتوں کا نزول موت کے وقت ہوتا ہے، پھر قبر میں اور آخر میں حشر کے دن ہوگا، حالانکہ آیت کے الفاظ عام ہیں۔ ان حضرت ا کی اس تفسیر کی وجہ یہ ہے کہ دنیا ھ میں ایمان والوں پر فرشتوں کا نزول نظر نہیں آتا، وہ موت کے وقت نظر آنا شروع ہوتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ وہ نظر نہیں آتے، مگر یقینا دنیا میں بھی اہل استقامت پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے، جس سے ان کے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا ہوتا ہے، ایمان اور میدان میں انھیں استقامت اور ثابت قدمی حاصل ہوتی ہے اور وہ ان کے دلوں میں نیکی کی رغبت ، برائی سے نفرت اور بہترین خیالات پیدا ہونے کا باعث بنتے ہیں، جیسا کہ بدر میں رشتے نازل ہوئے، فرمایا : اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممذکم بالف من المٓئکۃ مردفین وما جعلہ اللہ الا بشری و لتظمئن بہ قلوبکم وما النصر الا من عند اللہ ، ان اللہ عزیز حکیم) (الانفال : 9، 10)”جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی کہ بیشک میں ایک ہزار فرشوتں کے ساتھ تمہاری مدد کرنے والا ہوں، جو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں اور اللہ نے اسے نہیں بنایا مگر ایک خوش خبری اور تاکہ اس کے ساتھ تمہارے دل مطمئن ہوں اور مدد نہیں ہے مگر اللہ کے پاس سے۔ بیشک اللہ سب پر غالب ، کمال حکمت والا ہے۔“ اور فرمایا :(اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم فثبتوا الذین امنوا سابقی فی قلوب الذین کفروا الرغب فاضربوا فوق الاعناق و اضربوا منھم کل بنان) (الانفال : 12)”جب تیرا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس تم ان لوگوں کو جمائے رکھو جو ایمان لائے ہیں، عنقریب میں ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے کفر کیا، رعب ڈال دوں گا، پس ان کی گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور ان کے ہر ہر پور پر ضرب لگاؤ۔“ فرشتے ایمان والوں پر اترتے ہیں مگر ایک آدھ استثنائی صورت کے علاوہ رسول کے سوا کسی کو نظر نہیں آتے اور جب تک یہ مادی زندگی ختم نہیں ہوجاتی اور مادیت کے پردے چاک نہیں ہوجاتے تب تک فرشتوں کا نزول اسی صورت میں ہوتا ہے۔ البتہ مرنے کیساتھ ہی جب یہ پردے اور حجاب اٹھ جائیں گے تو فرشتے موت کے وقت، پھر قبر میں، پھر قیامت میں ہر جگہ یقینا انسانوں کو نظر آئیں گے اور ایمان والوں کو ان الفاظ میں تسلی دیں گے جن کا ان آیات میں ذکر ہے۔ دنیا میں اگر فرشتے نظر آنا لگ جائیں تو امتحان کا مقصد فوت ہوجاتا ہے، اس لئے یہاں وہ اسی وقت عام لوگوں کو نظر آتے ہیں جب وہ عذاب لے کر آتے ہیں اور امتحان کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔ دیکھیے سورة حجر کی آیت (8) کی تفسیر۔ فرشتوں کا ایمان والوں پر اترنا ایسے ہی ہے جیسے کفار اور خبیث لوگوں پر شیاطین کا نزول ہے کہ وہ ان کے دلوں میں گندے خیالات اور فاسد عقائد ڈلاتے اور برائی پر ابھارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ھل انبتکم علی من تنزل الشیطن ستنزل علی کل افاک اثیم یلقون السمع واکثرھم کذبون) (الشعرائ : 221 تا 223)”کیا میں تمہیں بتاؤں شیاطین کس پر اترتے ہیں۔ وہ ہر زبردست جھوٹے، سخت گناہگار پر اترتے ہیں۔ وہ سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں اور ان کے اکثر جھوٹے ہیں۔“ اور فرمایا :(وان الشیطین لیوحون الی اولیھم لیجادلوکم) (الاناعم : 121)”اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ضرور باتیں ڈلاتے ہیں، تاکہ وہ تم سے جھگڑاک ریں۔“ اور فرمایا :(واذ زین لھم الشیطن اعمالھم وقال لاغالب لکم الیوم من الناس و انی جار لکم) (الانفال :78)”اور جب شیطان نے ان کے لئیا ن کے اعمال خوش نما بنا دیئے اور کہا آج تم پر لوگوں میں سے کوئی غالب آنے والا نہیں اور یقینا میں تمہارا حمایتی ہوں۔“ (6) الا تخافوا ولا تخرنوا : مفسر عبدالرحمٰن کیلانی لکھتے ہیں :”یعنی جب فرشتے ڈٹ جانے والوں پر نازل ہوتے ہیں تو انھیں یہ تلقین کرتے ہیں یا ان کے دل میں یہ بات ڈلاتے ہیں کہ باطل کی طاقتیں خواہ کتنی ہی چیرہ دست ہوں ان سے خوف زدہ ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور حق پرستی کی وجہ سے جو مظالم تم پر ڈھائے جا رہے ہیں ان پر رنج نہ کرو کیونکہ اللہ نے تمہارے لئے ایسی جنت تیار کر رکھی ہے جس کے مقابل ی میں دنیا کی سب نعمتیں ہیچ ہیں اور موت کے وقت بھی فرشتے ہر مومن سے یہی کلمات کہتے ہیں، اس وقت وہ فرشتوں کو دیکھتا بھی ہے اور ان کی بات سمجھتا بھی ہے، تو اس وقت ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آگے جس منزل کی طرف تم جا رہے ہو اس سے خوف زدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ، کیونکہ ہم تمہارے ولی اور رفیق ہیں۔“ (تیسیرا القرآن) (7) دنیا میں انسانوں کے ساتھ کئی طرح کے فرشتے مقرر ہیں، جن میں کراماً کاتبین بھی ہیں (دیکھیے انفطار :10 تا 12) اور آفات و مصائب سے حفاظت کرنے والے فرشتے بھی۔ (دیکھیے رعد : 11) یہ فرشتے مومن و کافر سب کے ساتھ ہیں، مگر جن فرشتوں کا ان آیات میں ذکر ہے یہ صرف اہل ایمان و استقامت کے ساتھ خاص ہیں، انھی پر اترتے ہیں اور انھی کو حوصلہ دیتے، نیکیوں کی رغبت دلاتے اور خیر کا الہام کرتے ہیں۔
Ayah 41:31

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تمہارے دل چاہیں گے اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔

(1) نحن اولیوکم فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ : دنیا میں دسوتی یہ کہ ہم تمہارے لئے داعئیں کرتے ہیں (دیکھیے مومن : 7) تمہیں نیکی کا الہام کرتے ہیں اور دشمنوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کرتے ہیں اور آخرت میں یہ کہ جب متقی لوگوں کے سوا سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے تو ہماری دوستی تمہارے ساتھ قائم رہے گی، ہم آنے والے ہر مرحلے میں تمہارے ساتھی اور مددگار رہیں گی اور تمہیں حفاظت سے جنت میں پہنچائیں گے۔ فرشتے ہر مومن کو اس کی موت کے وقت یہ بشارت دیتے ہیں۔ (2) ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم ولکم فیھا ماتدعون : ”ماتدعون“ ”’ عا یدعو“ سے باب افتعال ہے، جو تم طلب کرو گے، مانگو گے۔ جنت کی نعمتوں کے لئے دیکھیے سورة سجدہ کی آیت (17) کی تفسیر۔”ماتشھی انفسکم“ (جو تمہارے دل چاہیں گے) سے مراد وہ چیزیں ہیں جو ان کی ذاتی خواہش ہوں گی اور ”ماتدعون“ (جو تم مانگو گے) کا لفظ عام ہے، اس میں ذاتی خواہش کی اشیا بھی شامل ہیں اور وہ بھی جو ان کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ مثال کے طور پر کسی اور کی خاطر طلب کریں گے۔ (ابو السعود)
Ayah 41:32

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

یہ بےحد بخشنے والے، نہایت مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔

نزلاً من غفور رحیم : اس آیت کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة سجدہ کی آیت (19) کی تفسیر۔
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور بات کے اعتبار سے اس سے اچھا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بیشک میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔

(1) من احسن قولاً منن دعا الی اللہ …: پچھلی آیات میں ایمان لا کر اس پر استقامت اختیار کرنے والوں کو فرشتوں کے نزول ، دنیا و آخرت میں ان کی دوستی، جنت میں داخلے اور غفور و رحیم کی مہمانی کی بشارت دے کر ان کے قلبی سکون و اطمینان اور دلی راحت کا سامان فرمایا، اب ایک ایسے کام کا ذکر فرمایا جو ”ربنا اللہ“ کہنے کا فطری تقاضا ہے کہ وہ اس نعمت کو اپنے تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ ان کی کوشش اسے دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچانے کی ہوتی ہے۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ جو نعمت انھیں عطا ہوئی ہے وہ ہر شخص کو عطا ہوجائے۔ یہ کام سر انجام دیتے ہوئے جب وہ تین باتوں کا اہتمام کریں تو بات میں ان سے بہتر اور درجے میں ان سے بلند کوئی نہیں ہوسکتا۔ پہلی بات ”’ عآ الی اللہ“ یعنی وہ صرف اللہ کی طرف بلائیں۔ نہ اپنی ذات کی طرف، نہ کسی شخصیت کی طرف اور نہ کسی قبیلے، جماعت، نسل یا وطن کی طرف، بلکہ ان کی دعوت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف ہو کہ سب اسی کے بندے اور فرمان بردار بن جاؤ، جیسا کہ فرمایا :(قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ انا ومن اثبعنی، وسبحن اللہ وما انا من المشرکین) (یوسف :108)”کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔“ یہ پیغمبروں کا اور ان کے جانشینوں کا کام ہے اور اتنا عظیم کام ہے کہ ان کی دعوت سے جو لوگ راہ ہدایت اختیار کریں گے ان کا اجر ان کے علاوہ انھیں بھی ملے گا۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(من دعا الی ھدی کان لہ من الاخر مثل اجور من تبعہ، لا بعض ذلک من اجورھم شیئاً ومن دعا الی ضلالہ، کان علیہ من الاثم مثل انام من تبعہ لا ینفص ذلک من آثامھم شیئاً) (مسلم، العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ اوسیئۃ…:2683)”جو شخص ہدایت کی کسی بات کی طرف دعوت دے اس کے لئے ان لوگوں کے اجروں جیسا اجر ہوگا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے اجروں میں کوئی کمی نہیں کرے گا اور جو شخص گمراہی کی کسی بات کی طرف دعوت دے اس پر ان لوگوں کے گناہوں جیسا گناہ ہوگا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔“ یہی وجہ ہے کہ پوری امت مل کر بھی رسول کریم ﷺ کے درجے کو نہیں پاسکتی، نہ ہی صحابہ کرام ؓ کے بعد آنے والے ان کے درجے تک پہنچ سکتے ہیں، یہی حال بعد میں دعوت الی اللہ دینے والوں کا ہے۔ پھر بات میں ان سے بہتر کون ہوسکتا ہے جسے ان اعمال کا اجر بھی مل رہا ہو جو اس نے نہیں کئے۔ کوئی شخص خود کتنا بھی عمل کرلے یہ مقام کیسے حاصل کرسکتا ہے ؟ (2) اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت زبان کے ساتھ بھی ہے اور ہاتھ کے ساتھ بھی۔ ہمارے نبی ﷺ کو قرآن کے ساتھ تلوار دے کر بھیجا گیا، آپ کے اصحاب نے آپ کا ساتھ دیا، پھر زبانی دعوت اور جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ اسلام مشرق سے مغرب تک پھیل گیا۔ یہی مناسبت ہے : (ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الذین کلہ، وکفی باللہ شھیداً (الفتح :28) کے بعد :(محمد رسول اللہ ، والذین معہ اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم …) (الفتح :29) میں۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (104، 110)۔ (3) قول میں سب سے بہتر ہونے کے لئے دوسری ضروری بات ”وعمل صالحاً“ ہے یعنی اللہ کی طرف دعوت دینے کے ساتھ وہ خود بھی عمل صالح کریں۔ صالح عمل کا مطلب یہ ہے کہ وہ خلاص اللہ کے لئے ہوا اور رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔ (دیکھیے سورة کہف کی آخری آیت) جو شخص دوسروں کو دعوت دے مگر خود اس کے خلاف عمل کرے اس کے لئے شدید وعید آئی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (44) (4) تیسری بات ”وقال اننی من المسلمین“ یعنی وہ ڈنکے کی چوٹ یہودی، نصرانی، ہندو، سکھ، کمیونسٹ، ڈیموکیرٹ اور لبرل وغیرہ ہونے کے بجائے اپنے مسلم ہونے کا اعلان کرے، اس پر فخر کرے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کرے۔”من المسلمین“ یعنی مسلمانوں کی جماعت کافرد ہونے پر اسے خوشی ہوا ور کسی دین، مذہب، ملت یا معاشرے کو اسلام اور مسلمانوں سے بہتر نہ سمجھے۔ آج کل کے بعض ملحدوں کی طرح نہیں جو مسلمانوں میں پیدا ہوگئے، مگر وہ کفار سے اس قدر مرعوب ہیں کہ بعض اوقات یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ ہم بدقسمتی سے مسلماناوں میں پیدا ہوگئے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ نہ بہ نظم شاعر خوش غزل، نہ بہ نثر ناشر بےبدل بہ غلامی شہ عزوجل و بعاشقی نبی خوشم ”نہ کسی خوب صورت غزل والے شاعر کی نظم پر اور نہ کسی بےمثال نثر لکھنے والے کی نثر پر، بلکہ میں کائنات کے بادشاہ عزو جل کی غلامی پر اور نبی ﷺ کی محبت پر خوش ہوں۔“ عباس بن عبدالمطلب ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا :(ذاق طعم الایمان من ضری باللہ ربا و بالا اسلام دینا و بمحمد رسولاً) (مسلم، الایمان، باب الدلیل علی ان من رضی باللہ ربا …:38) ترمذی :2623)”اس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا جو اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوگیا۔“
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔

(1) ولا تستوی الحسنۃ …: اس آیت میں دعوت کے مخاطب لوگوں کی زیادتی اور برائی کا جواب دینے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ عام طور پر ”ولا السیئۃ“ کے ”لا“ کو زائد کہہ کر ترجمہ کیا جاتا ہے کہ ”نیکی اور برائی برابر نہیں۔“ بعض حضرات اسے زائد برائے تاکید کہہ دیتے ہیں، حالانکہ قرآن مجید کے کسی لفظ بلکہ حرف کو زائد کہنے کے بجائے وہ فائدہ سمجھنے کی کوشش ضروری ہے جس کے لئے وہ لفظ لایا گیا ہے، جو بظاہر زائد ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے اس بات سے کہ بلا ضرورت کوئی لفظ لائے۔ اصل میں یہاں بات بیان ہو رہی ہے کہ نیکی برابر نہیں، نہ اپنی جنس کے افراد کے لحاظ سے، کیونکہ نیکیوں کے بیشمار درجے ہیں، کوئی کمتر درجے کی نیکی، کوئی اس سے برتر اور کوئی سب سے سے برتر ، جیسا کہ حدیث میں ہے : فاذا ناھا اماطۃ الاذی عن الطریق وارفععھا قول لا الہ الا اللہ) (ترمذی، الایمان، باب فی استکمال الایمان…2613)”سب سے کمتر نیکی راستے سے تکلیف وہ چیز ہٹانا اور سب سے اونچی لا الہ الا اللہ کہتا ہے۔”اور نہ ہی ایک نیکی اپنے درجات کے اعتبار سے برابر ہے، مثلاً کسی کے ساتھ حسن سلوک کے کئی درجے ہیں۔ اسی طرح ایک ہی نیکی اپنے کرنے والوں کے مختلف ہونے کے لحاظ سے بھی برابر نہیں، کوئی اسے خلاص نیت سے کرتا ہے اور کوئی ریا سے ، کوئی پوری کوشش سے کرتا ہے، کوئی درمیانی کوشش سے اور کوئی بےدلی سے۔ غرض کوئی بھی نیکی نہ دوسری نیکیوں کے ساتھ برابر ہے، نہ اپنی ذات میں برابر ہے اور نہ کرنے والوں کے لحاظ سے برابر ہے۔ (2) ولا السینۃ : برائی کا بھی یہی حال ہے کہ وہ برابر نہیں۔ زبانی دشمنی اور تیر تلوار کے ساتھ دشمنی میں فرق ہے، ابو طالب اور ابوجہل کے کفر میں فرق ہے۔ اس لئے آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ”اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔“ شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین دونوں کے ترجمہ میں یہ بات محلوظ رکھی گئی ہے۔ (3) اذفح بالتیھی احسن …: یعنی برائی کا جواب صرف یہ نہیں کہ نیکی کے ساتھ دو ، بلکہ اس طریقے سے دو جو سب سے اچھا ہے اور نیکی کا سب سے اونچا درجہ ہے۔ یہ سب سے اچھا طریقہ بعض اوقات اچھی بات اور اچھا لہجہ ہوتا ہے، جیسا کہ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول نقل فرمایا ہے :(امر اللہ المومنین بالصبر عند العضب والحلم والعفو عند الاساء ۃ ، فاذا فعلوا ذلک عصمھم اللہ من الشیطان، وخضع لھم عدوھم، کانہ ولی خمیم) (طبری، 30893 السنن الکبیری للبیہقی :30/8، ح : 13680”اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو غصے کے وقت صبر کا اور بدسلوکی کے وقت حلم اور عفو کا حکم دیا، تو جب وہ ایسا کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں شیطان سے بچائے گا اور ان کا دشمن ان کے لئے زیر ہوجائے گا، گویا کہ وہ دلی دوست ہے۔“ اور بعض اوقات سب سے اچھا طریقہ خوش اخلاقی اور بہترین بات کے ساتھ ساتھ جہاد بالید ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو سب سے بہتر امت قرار دیا (دیکھیے آل عمران، 110) اور جس کی وجہ سے بڑے بڑے دشمن دلی دوست بن جاتے ہیں، جیسے ثمامہ بن اثال، ابوسفیان، صفوان بن امیہ، حارث بن ہشام ؓ اور بیشمار کفار جو جہاد کی برکت سے جگری دوست بن گئے۔ آج بھی جب تک کافر ملکوں کے فرماں رواؤں کی گردنوں کے سریے کاٹ کر انہیں ثمامہ بن اثال ؓ کی طرح مسجد نبوی کے ستون سے باندھ کر اسلام کی تعلیمات کا آنکھوں سے مشاہدہ نہ کروایا جائے ان کا مسلمان ہونا یا دلی دوست بننا مشکل ہے۔ (مزید دیکھیے رعد : 22) مومن نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو ہوتا ہے۔
Ayah 41:35

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر اسی کو جو بہت بڑے نصیب والا ہے۔

(1) وما یلفھا الا الذین صبروا : یعنی برائی کا جواب سب سے اچھے طریقے کے ساتھ دینے کی توفیق انھی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جنہوں نے اس سے پہلے بھی صبر کی عادت اپنئای ہوتی ہے۔ ”صبروا“ مضای کا صیغہ ہے۔ (2) وما یلقھآ الا ذوحظ عظیم : یعنی یہ خبوی کہ برائی کا جواب سب سے اچھے طریقے کے ساتھ دیں، صرف انھی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو بہت بڑے نصیب والے ہوں۔ معلوم ہوا یہ حوصلہ انسان کے بس کی بات نہیں، محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اس لئے اپنی کوشش کے ساتھ ساتھ اسی سے صبر اور حوصلے کی دعا کرنا لازم ہے۔
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ تجھے ابھارہی دے تو اللہ کی پناہ طلب کر، بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

واما ینزغنک من الشیطن نزع … ”نزع“ کا لفظی معنی ”کسی سوئی یا نوک دار چیز کے ساتھ چوکا مارنا“ ہے، مراد شیطان کا غصہ دلا کر برانگیختہ کردینا ہے۔ اس آیت کی تفسیر سورة اعراف (200) اور سورة مومنوں (96 تا 98) میں گزر چکی ہے۔
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے رات اور دن، اور سورج اور چاند ہیں، نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو اور اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انھیں پیدا کیا، اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔

(1) ومن ایتہ الیل و الھار ’ : اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کو سب سے اچھی بات قرار دیا، اب اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کے لئے چند اور چیزیں بطور دلیل ذکر فرمائیں، جن میں سے بعض آسمان سے تعلق رکھتی ہیں اور بعض زمین سے اور واضح فرمایا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ (2) انسان کو نظر آنے والی اشیا میں سے سب سے عظیم اور سب سے روشن چیزیں سورج اور چاند ہیں، اس لئے بہت سے لوگ انھی کو رب تعالیٰ سمجھ بیٹھے۔ بعض نے انھیں اللہ تعالیٰ کا مظہر سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور ان کی پرستش اور انہیں سجدہ کرنے لگے، جیسے صابی اور پارسی لوگ ہیں۔ (ابراہیم ؑ کی قوم شرک کی متعدد صورتوں میں مبتلا تھی ، وہ دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ سورج، چاند اور ستاروں کی بھی پرستش کرتی تھی۔ ابراہیم ؑ نے نہایت حکمت کے ساتھ ان کا بےاختیار ہونا اور رب نہ ہونا واضح فرمایا۔ دیکھیے سورة انعام : 76 تا 82) زیر تفسیر آیات سے ان مشرکین کا رڈ مقصود ہے۔ چناچہ بتلایا کہ رات دن اور سورج چاند اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت کی نشانیوں اور دلیلوں میں سے ہیں۔ سورج اور چاند سے پہلے رات اور دن کا ذکر اس لئے فرمایا ج کہ رات کو سورج کا چھپنا اور چاند کا نکل آنا اور دن کو چاند کا چھپنا اور سورج یا نمودار ہوجانا صاف دلالت کر رہا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی رب یا رب تعالیٰ کا مظہر نہیں کہ اس کی صورت میں وہ خود ظاہر ہو رہا ہے، بلکہ یہ دونوں مجبور اور لاچار پیدا کئیگئے ہیں، جو رب تعالیٰ کے فرمان کے تحت مسخر ہیں اور پانی گردش اور طلوع و غروب میں اس کے حکم کے پابند ہیں۔ اگر یہ خود رب ہوتے تو دن کے وقتک ا سورج رات اور چاند کو نہ آنے دیتا، اسی طرح رات دن کے مقابلے میں ڈٹ جاتی اور اسے قدم نہ رکھنے دیتی، مگر ان سب کا بےاختیار ہو کر گردش کرتے چلے جانا اور ان میں کبھی کسی حادثے کا رونما نہ ہونا اکیلے رب تعالیٰ کے وجود کی دلیل ہے، جو ہر چیز کو اپنی حکمت کے تحت چلا رہا ہے۔ (3) رات دن کے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہونے اور ان آیات کے حوالے کے لئے جن میں اس کی تفصیل ہے، دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آیت (12) کی تفسیر۔ (4) لاتسجدوا للشمس ولا للقمر…: اس سے معلوم ہوا کہ مخلوق کو سجدہ کرنا حرام ہے، سجدہ صرف اللہ کے لئے ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا فرمایا۔ (5) ان کنتم ایاہ تعبدون : کچھ لوگ عقلی ڈھکو سلے گھڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ان چیزوں کو سجدہ نہیں کرتے بلکہ ان کے واسطے سے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں، جیسا کہ مشرکین کہتے تھے۔ (مانعبدھم الا لیقربوناً الی اللہ زلفی) (الزمر : 3)”ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لئے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔“ اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : اگر تم واقعی اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو ان واسطوں کی کیا ضرورت ہے، سیدھے اسی کو سجدہ کیوں نہیں کرتے ؟ ! (6) سجدہ عبادت اور سجدہ تعظیم میں فرق اور سجدہ تعظیم کی حرمت کے لئے دیکھیے سورة بقرہ (34) اور سورة یوسف (100)۔
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پھر اگر وہ تکبر کریں تو وہ (فرشتے) جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ رات اور دن اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ نہیں اکتاتے۔

(1) فان استکبروا :”پھر اگر وہ تکبر کریں“ یعنی یہ سب کچھ سن کر بھی اگر وہ اپنی بات چھوڑنے کو ذلت سمجھیں، سورج چاند اور مخلوق کو سجدہ کرنے پر اڑے رہیں اور اپنی جھوٹی عزت اور بڑائی کی وجہ سے جہالت اور شرک پر اصرار کرتے چلے جائیں۔ (2) یعنی اگر مشرکین اس قدر مغرور اور متکبر ہوگئے ہیں کہ اکیلے اللہ کو سجدہ کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں تو سمجھتے رہیں ، اللہ تعالیٰ ان کا محتاج نہیں۔ اس کی عظمت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ مقرب ترین فرشتے جو اس کے پاس ہیں، اس کا عرش اٹھائے ہوئے ہیں، یا عرش کے اردگرد یا اس کے نیچے عاجزی سے کھڑے ہیں۔ (دیکھیے مومن : 7) جن کے ذریعے سے ساری کائنات کے معاملات کی تدبیر ہو رہی ہے۔ وہ سب دن رات اس کی تسبیح کر رہے ہیں، یعنی اس بات کی شہادت دے رہے ہیں اور اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ ان کا مالک اس سے پاک ہے کہ اس کے رب ہونے میں یا اس کے معبود برحق ہونے میں کوئی اس کا شریک ہو۔ مزید دیکھیے سورة انبیاء (19، 20) اور سورة اعراف (206)۔ اب اگر چند احمق سمجھانے پر نہیں سمجھتے اور ساری کائنات کی شہادت کو رد کر کے اپنی عزت اور بڑائی کے جھوٹے گمان پر اڑے ہوئے ہیں تو وہ اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی بھی ہے۔ (3) جو لوگ عرش الٰہی کے منکر ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو کائنات سے الگ سب سے بلندی پر نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نہ اوپر ہے نہ نیچے، نہ کائنتا کے اندر ہے نہ اس سے باہر، وہ لفظ ”فالذین عندربک“ (وہ فرشتے جو تیرے رب کے پاس ہیں) کی عجیب و غریب تاویلیں کرتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رب تعالیٰ کے ہاں بڑا مقام و متربہ رکھتے ہیں، کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ، مگر رحمٰن کے عرش کو فرشتوں کے اٹھائے ہونے کے صریح الفاظ ان کی ایسی تمام تاویلوں کا تار و پود بکھیر دیتے ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة مومن (7) اور سورة حاقہ (17)۔
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ بیشک تو زمین کو دبی ہوئی (بنجر) دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور پھولتی ہے۔ بیشک وہ جس نے اسے زندہ کیا، یقینا مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، یقینا وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ…: اس آیت کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نحل (65) اور سورة حج (5 تا 7) یہاں بنجر زمین کے لئے ”خاشعۃ“ (دبی ہوئی، عاجز) کا لفظ استعمال ہوا ہے، کیونکہ بات ایک اللہ کو سجدے کی ہو رہی ہے، یعنی خشوع کی ہو رہی ہے، جب کہ سورة حج میں اسی بنجر زمین کے لئے“ ھامدۃ“ (مردہ) کا لفظ استعمال ہوا ہے، کیونکہ وہاں مرنے کے بعد زندگی کی بات ہو رہی ہے۔ (طنطاوی)
Ayah 41:40

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو ہماری آیات کے بارے میں ٹیڑھے چلتے ہیں، وہ ہم پر مخفی نہیں رہتے، تو کیا وہ شخص جو آگ میں پھینکا جائے بہتر ہے، یا جو امن کی حالت میں قیامت کے دن آئے ؟ تم کرو جو چاہو، بیشک وہ اسے جو تم کر رہے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔

آیت 40۔ (1) ان الذین یلحدون فی ایتنا :”یلحدون“ کا مادہ ”لح ”‘ ہے۔ لحد اس قبر کو کہتے ہیں جو نیچے سیدھی کھودنے کے بجائے کچھ نیچے جا کر ایک طرف کھود کر بنائی جاتی ہے۔ ”الحا ”‘ کا معنی ہے سیدھے راستے سے انحراف یعنی ایک طرف کو ہٹ جانا، کج روی اور ٹیڑھا چلنا، یعنی جو لوگ حق سے ہٹ کر ٹیڑھی راہ اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد (ٹیڑھا چلنا) یہ ہے کہ ان کا انکار کر دے، یا ان کا سیدھا ساد اور واضح مطلب لینے کے بجائے غیر متعلق بحثیں کرے اور انھیں غلط مطلب پہنانے کی کوشش کرے۔ جو لوگ مسلمان ہو کر باطل نظریات مثلاً مشرکانہ عقائد، بدعت، انکار حدیث اشتراکیت، سرمایہ داری اور دہریت وغیرہ کے حامی بن جاتے ہیں وہ یہی طرز اختیار کترے ہیں، خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ یہاں آیات الٰہی میں کج روی اختیار کرنے والوں کے لئے وعید آئی ہے اور سورة اعراف کی آیت (180) میں اسمائے الٰہی میں کج روی اختیار کرنے والوں سے علیحدگی کا حکم اور ایسے لوگوں کا انجام بیان فرمایا ہے۔ (2) لایخفون علینا : یہی پہلی شدید و عید ہے جو یہاں آیات الٰہی میں ٹیڑھا چلنے والوں کے لئے آئی ہے کہ یہ لوگ ہم پر مخفی نہیں ہیں، بلکہ ہر لمحے ہماری نگاہ میں ہیں اور ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ ہم اگر ان کے عذاب میں تاخیر کر رہے ہیں اور انھیں مہلت دے رہے ہیں تو اس لئے کہ جلدی تو وہ کرے جسے خطرہ ہو کہ مجرم رو پوش ہوجائے گا اور قابو سے رہے ہیں اور انھیں مہلت دے رہے ہیں تو اس لئے کہ جلدی تو وہ کرے جسے خطرہ ہو کہ مجرم روپوش ہوجائے گا اور قابو سے نکل جائے گا۔ مطلب یہ کہ ہم انھیں اس الحاد کی سزا ضرور دیں گے۔ (3) افمن یلقی فی النار خیر ام من یاتی امنا یوم القیمۃ : یہ دوسری دھمکی ہے کہ آیات الٰہی کا مطلب توڑنے مرڑونے والے اور ان کے بارے میں ٹیڑھے چلنے والے آگ میں پھینکے جائیں گے اور آیات الٰہی میں الحاد سے اجتناب کرنے والے قیامت کے دن امن کی حالت میں آئیں گے۔ تو بتاؤ، جو آگ میں پھینکا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن کی حالت میں آئے گا ؟ (4) اعملوا ما شتم …: یہ تیسری دھمکی ہے، ”کرو جو چاہو“ کا مطلب اپنی مرضی کرنے کی اجازت دینا نہیں بلکہ ڈانٹ ہے کہ اس مہلت میں تم جو چاہو کرلو، پھر اس کی سزا کے لئے ہم جو چاہیں گے کریں گے۔ تمہارے ہر عمل کو ہم خوب دیکھ رہے ہیں، یہ خیال نہ کرنا کہ تم اپنے کسی عمل بد کی سزا سے اس لئے بچ جاؤ گے کہ وہ ہماری نگاہ سے اوجھل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی عظیم فرماں روا اپنے کچھ غلاموں پر ناراض ہو کر شدید غصے سے کہے ، جو چاہو کرو۔
Ayah 41:41

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنھوں نے اس نصیحت کے ساتھ کفر کیا، جب وہ ان کے پاس آئی (وہ بھی ہم پر مخفی نہیں ہیں) اور بلاشبہ یہ یقینا ایک باعزت کتاب ہے۔

(1) ان الذین کفروا بالذکر لما جآء ھم : زمخشری نے فرمایا :”یہ جملہ ”ان الذین یلحدون فی ایتنا“ سے بدل ہے۔“ (کشاف) اس لئے اس کی خبر وہی ہے جو پہلے جملے کی خبر ہے اور وہ ہے ”لایحفون علینا“ اس صورت میں محذوف خبر نکالنے کی ضرورت نہیں، گویا عبارت اس طرح ہوئی کہ ”یقیناً وہ لوگ جو ہماری آیات کے بارے میں ٹیڑھے چلتے ہیں، جنہوں نے اس نصیحت کا اسی وقت انکار کردیا جب وہ ان کے پاس آئی، وہ ہم پر مخفی نہیں ہیں۔“ بعض مفسرین نے فرمایا ”ان الذین کفروا بالذکر لما جآء ھم“ کی خبر محذوف ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں، مقام کی مناسبت سے محذوف خبر ”یحزون علی کفرھم“ یا اس سے ملتی جلتی ہوگی۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اس نصیحت کے ساتھ کفر کیا جب وہ ان کے پاس آئی انھیں ان کے کفر کی جزا دی جائے گی۔ (2) بالذکر“ سے مراد قرآن کریم ہے، جیسا کہ آگے اس کی صفات بیان ہو رہی ہیں۔ (3) لما جآء ھم : یعنی انھوں نے قرآن مجید کی آیات کا نزول ہوتے ہی ان کا انکار کردیا، غور سے سننے اور سوچنے سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ (4) وانہ لکتب عزیز :”عزیز“ کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ یہ سب پر غالب ہے، زبان و بیان میں، دلیل وبرہان میں، علم و حکمت میں، صدق و حقانیت میں، غرض ہر لحاظ سے یہ دوسری ہر کتاب پر غالب اور زبردست ہے، دوسری سب کتب اس کے مقابلے میں زیر ہیں۔”عزیز“ کا دوسرا معنی ہے عدیم النظیر، بےمثال، کیونکہ پوری کائنات اس کی ایک سورت کی مثال لانے سے عاجز ہے۔
Ayah 41:42

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

اس کے پاس باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، ایک کمال حکمت والے، تمام خوبیوں والے کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔

(1) لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ : اس کے پاس نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ باطل آکر اس پر غلبہ نہیں پاسکتا، یعنی باطل کی مجال نہیں کہ کسی پہلو سے آکر اس پر غلبہ پا سکے، نہ کھلم کھلا سامنے آکر اور نہ چوری چھپے پیچھے سے۔ یہ مطلب بھی ہے کہ پہلے کی کوئی کتاب یا تحقیق اس قرآن کی کسی بات کو غلط یا باطل ثابت نہیں کرسکتی اور نہ ہی بعد کی کوئی کتاب یا تحقیق اس کی کسی بات کو غلط ثابت کرسکے گی، اور یہ مطلب بھی ہے کہ اس میں باطل کی آمیزش نہ کوئی کھلم کھلا کرسکتا ہے نہ چوری چھپے، جیسا پہلی کتابوں کے ساتھ ہوا، بلکہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے، فرمایا :(انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون) (الحجر : 9)”بیشک ہم نے یہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔“ (2) تنزیل من حکیم حمید : قرآن مجید کی کوئی بات غلط نہیں ہوسکتی، اس میں کسی باطل کی آمیزش نہیں ہوسکتی اور نہ ہی دلیل میں باطل کسی طرح اس پر غالب آسکتا ہے، کیونکہ یہ حکیم وحمید کی طرف سے تنزیل ہے۔ ”تنزیل“ کے مفہوم کے لئے دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آیت (106) یعنی وہ کتاب اس نے تھوڑی تھوڑی کر کے نازل فرمائی ہے جو کمال حکمت والا ہے، ہر تعریف کا مستحق اور ہر خوبی کا مالک ہے۔”حکیم“ وہ جس کی کسی تدبیر میں خطا نہ ہو اور ”حمی“ وہ جس کے کسی فعل کی مذمت نہ ہو سکے۔
Ayah 41:43

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

تجھے نہیں کہا جائے گا مگر وہی جو ان رسولوں سے کہا گیا جو تجھ سے پہلے تھے اور بیشک تیرا رب یقینا بڑی بخشش والا اور بہت دردناک عذاب والا ہے۔

(1) ما یقال لک الا ما قد قیل للرسل…: اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اگر کفار مکہ آپ کو جادوگر، شاعر، کاہن، دیوانہ، کذاب، متکبر یا اس قسم کے دوسرے ناموں سے یاد کر کے آپ کو ایذا دیتے ہیں تو آپ اطمینان رکھیں، ان کے رکھے ہوئے ناموں میں سے کوئی ایسی چیز نہیں جس کا طعنہ آپ سے پہلے رسولوں کو نہ مل چکا ہو، نہ آپ پہلے رسول ہیں جسے جھٹلایا گیا ہو اور نہ پہلے شخص ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی خاطر تکلیف اٹھانا پڑی ہو۔ سورة ذاریات میں فرمایا (کذلک ما الی الذین من قبلھم من رسول الا قالوا ساحر او مجنون اتوا صوا بہ بل ھم قوم طاعون) (الذریات :52، 53)”اسی طرح ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے، کوئی رسول نہیں آیا مگر انہوں نے کہا یہ جادوگر ہے، یا دیوانہ۔ کیا انہوں نے ایک دوسرے کو اس (بات) کی وصیت کی ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ (خود ہی) سرکش لوگ ہیں۔ کفار کی ایسی تمام باتوں پر رسولوں نے صبر کیا اور پوری ہمت سے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہے، یہی فریضہ آپ کا ہے فرمایا کفار کی ایسی تمام باتوں پر رسولوں نے صبر کیا اور پوری ہمت سے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہے، یہی فریضہ آپ کا ہے ، فرمایا کفار کی ایسی تمام باتوں پر رسولوں نے صبر کیا اور پوری ہمت سے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہے، یہی فریضہ آپ کا ہے فرمایا کفار کی ایسی تمام باتوں پر رسولوں نے صبر کیا اور پوری ہمت سے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہے، یہی فریضہ آپ کا ہے : فرمایا (فاصبر کما صبر اولوا العزم من الرسل ولا تستعجل لھم) (الاحقاف : 35) ”پس صبر کر جس طرح پختہ ارادے والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لئے جلدی کا مطالبہ نہ کر۔“ (2) ان ربک لذو مغفرۃ و ذو عقاب الیم : یعنی اتنی ایذا اور بد زبانی کے باوجود اگر یہ لوگ توبہ کر کے ایمان نے آئیں تو تیرا رب بڑی مغرفت والا ہے (مغفرۃ کی تنوین تعظیم کیلئے ہے) اور اگر اپنے کفر پر اصرار کریں تو وہ نہایت درد ناک عذاب والا بھی ہے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ انھیں ان کی اس بد زبانی کا بدلا دینا آپ کا کام نہیں ہے، یہ بتلا اختیار اور ہماری مرضی ہے کہ ہم انھیں ایمان کی توفیق سے نواز کر بخش دیں یا انھیں کفر پر رہنے دیں اور عذاب الیم چکھائیں، جیسا کہ فرمایا :(لیس لک من الامر شیء او یتوب علیھم او یعدبھم فانھم ظلمون) (آل عمران :128)”تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں، یا وہ ان پر مہربانی فرمائے یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلاشبہ وہ ظالم ہیں۔“
Ayah 41:44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بنا دیتے تو یقینا وہ کہتے اس کی آیات کھول کر کیوں نہ بیان کی گئیں، کیا عجمی زبان اور عربی (رسول) ؟ کہہ دے یہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہدایت اور شفا ہے اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ ان کے حق میں اندھا ہونے کا باعث ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں بہت دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے۔

(1) ولو جعلنہ قرانا اعجینا …: سورت کے شروع میں ذکر فرمایا کہ ”رحمان و رحیم کی طرف سے یہ ایسی کتاب نازل کی گئی ہے جس کی آیات کھول کر بیان کی گئی ہیں، جو عربی قرآن ہے، ان لوگوں کے لئے جو جاتنے ہیں۔“ مشرکین مکہ جو عرب تھے ان کا حق تھا کہ اپنی زبان میں اترنے والی کتاب کو سنتے اور اس پر غور و فکر کرتے، تو اس کے نتیجے میں انھیں ایمان کی دولت بھی نصیب ہوجاتی، مگر انہوں نے اپنی زبان میں ہونے کے باوجود اپنے کانوں، آنکھوں اور دلوں کے دریچے اس کے لئے بند کر یدئے اور کہنے لگے :(قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ و فی اذاننا وقرو من بیناً وبینک حجاب) (حم السجدۃ : 5)”ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں دعوت دیتا ہے اور ہمارے کانوں میں بھاری بوجھ ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے دریمان بھاری پردہ ہے۔“ بلکہ انہوں نے عملاً طے کرلیا کہ یہ عربی قرآن نہ خود سنیں گے اور نہ کسی کو سننے دیں گے، جیسا کہ اسی سورت میں ہے :(وقال الذین کفروا لا تسمعوا لھذا القرآن و الغوا فیہ لعلکم تغلبون) (حم السجدہ : 26)”اور ان لوگوں نے کہا جنہوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔“ اب انھیں قائل کرنے کے لئے ایک صورت رہ جاتی تھی کہ قرآن عربی زبان کے بجائے کسی اور زبان میں اتارا جاتا، جس سے انھیں یقین ہوجائے کہ یہ عبری رسول جو عجمی زبان جانتا ہی نہیں، عجمی قرآن لے کر آیا ہے ، تو یہ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ایسا ہوتا، پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے، بلکہ نہ ماننے کے لئے ایک اور بہانہ پیش کردیتے، کیونکہ جو طے کرچکا ہو کہ میں نے ماننا ہی نہیں اسے منوانے کی کوئی صورت نہیں۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ رحمتہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :”یہ کفار مکہ بھی عجیب شے ہیں، اگر ان کے پاس انھی میں سے ایک آدمی عربی میں قرآن لے کر آیا ہے تو ہتے ہیں کہ ایک عرب کا عربی قرآن پیش کرنا کوئی کمال نہیں، کملا تو اس وقت ہوتا جب یہ شخص کسی عجمی زبان فارسی، رومی یا ترکی میں قرآن پیش کرتا۔ حالانکہ اگر ہم ان کا مطالبہ مان لیتے اور آپ ﷺ پر کسی عجمی زبان میں قرآن نازل کردیتے تو یہی لوگ اس وقت اعترضا کرتے کہ یہ عجیب معاملہ ہے کہ پیغمبر تو عربوں کو دعوت دینے کے لئے بھیجا گیا ہے، لیکن قرآن ایسی زبان میں لے کر آیا ہے جسے عرب سمجھ بھی نہیں سکتے۔“ (اشرف الحواشی) (2) قل ھو للذین امنوا ھدی و شفآء : اس کی تفسیر گزر چکی ہے، دیکھیے سورة یونس (57) اور سورة بنی اسرائیل (82)۔ (3) والذین لایومنون فی اذانھم وقر …: یعنی قرآن اگرچہ رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے، لیکن وہ ان کافروں کے حق میں کانوں کا بوجھ اور آنکھوں کا پردہ ہے۔ اس کی وجہ ان کی اپنی ہٹ دھرمی اور تعصب ہے، اس میں قرآن کا کوئی قصور نہیں ہے، بالکل اسی طرح جیسے سورج روشنی دینے والی چیز ہے، لیکن اس کے طلوع ہوتے ہی چمگادڑ کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ (4) اولئک ینادون من مکان بعید : یہ ایک محاور ہے اور اس شخص کے حق میں استعمال ہوتا ہے جو کوئی بات نہ سمجھتا ہو۔ (قرطبی) یعنی یہ لوگ قرآن کو دل سے سننے کی کوشش نہیں کرتے، صرف اوپر سے دل سے سنتے ہیں، اس لئے اس سے کوئی ہدایت نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی شخص کو دور سے پکارا جائے اور وہ آواز تو محسوس کرے مگر مطلب مراد کچھ نہ سمجھے۔
Ayah 41:45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے طے ہوچکی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کردیا جاتا اور بلاشبہ وہ اس کے متعلق یقینا ایسے شک میں ہیں جو بےچین رکھنے والا ہے۔

(1) لوقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ : اس سے بھی مقصود رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا ہے ، یعنی اس سے پہلے موسیٰ ؑ پر تورات نازل کی گئی، مگر لوگوں نے اس کے ماننے اور نہ ماننے میں اختلاف کیا، اسی طرح اگر یہ کفار مکہ قرآن کی مخالفت کر رہے ہیں تو آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں ؟ (قرطبی) (2) ولولاکلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم : یعنی اگر پہلے یہ طے نہ ہوچکا ہوتا کہ کفار کے اعمال بد پر فوری گرفت کے بجائے دنیا میں ایک وقت تک انھیں مہلت دی جائے گی اور اصل فیصلہ آخرت میں ہوگا، تو ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ دیکھیے سورة ابراہیم (42) ، نحل (61) اور فاطر (45) ”لولا کلمۃ سبقت من ربک“ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ طے نہ کردیا ہوتا کہ ان کفار سے پیدا ہونے والی نسلیں مسلمان ہوں گی، جو سالام کا علم بلند کریں گی تو ان کا قصہ تمام کردیا گیا وہتا، جیسا کہ طائف میں ہونے والی بدسلوکی پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی دل جوئی کے لئے ملک الجبال (پہاڑوں کے فرشتے) کو بھیجا اور اس نے آکر رسول اللہ ﷺ کو پیشکش کی کہ اگر آپ کہیں تو میں ان کفار پر خشبین (دو پہاڑوں) کو ملا دوں۔ (یہ مکہ کے دو پہاڑ ہیں، ایک ابو قبیس ہے اور دوسرا اس کے بالمقابل قعیقعان ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا :(بل ار جو ان یخرج اللہ من اضلابھم من یعبد اللہ وحدہ لا یشرک بہ شیئاً) (بخاری، بدء الخلق، باب اذا قال احد کم امین …3231 عن عائشۃ ؓ)”بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ان لوگوں کو نکالے گا جو اکیلے اللہ عزو جل کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنائیں گے۔“ ”لولا کلمۃ سبقت من ربک“ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ فرعون کے غرق ہونے کے بعد طے کردیا گیا کہ اب پہلی اقوام پر آنے والے عذابوں کے بجائے دنیا میں کفار کو جہاد کے ذریعے سے مسلمانوں کے ہاتھوں سزا دی جائے گی اور آخری فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔ یہ پوری آیت اور اس کی تفسیر سورة ہود کی آیت (110) میں گزر چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ (3) وانھم لفی شک منہ مریب :”شک“ اور ”مریب“ کی لغوی تفسیر لئے دیکھیے سورة ہود (62)۔
Ayah 41:46

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جس نے نیک عمل کیا سو اپنے لیے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہوگی اور تیرا رب اپنے بندوں پر ہرگز کوئی ظلم کرنے والا نہیں۔

(1) من عمل صالحا فلنفسہ ’: اس میں رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے لئے تسلی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ پر اس کا کوئی وبال نہیں۔ جو صالح عمل کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے۔ (2) وما ربک بظلام للعید : اور اللہ بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں کہ کسی کو اس کی نیکی کا بدلا نہ دے، یا ایک کی بدی دوسرے پر ڈال دے۔ (3) یہاں لفظ ”بظلام“ پر ایک مشہور سوال ہے، اس سوال اور اس کے جواب کے لئے دیکھیے سورة آل عمران (182) انفال (51) اور سورة حج (10) کی تفسیر۔
Ayah 41:47

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

اسی کی طرف قیامت کا علم لوٹا یا جاتا ہے اور کسی قسم کے پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتے اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہبچہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ انھیں پکارے گا کہاں ہیں میرے شریک ؟ وہ کہیں گے ہم نے تجھے صاف بتادیا ہے، ہم میں سے کوئی (اس کی) شہادت دینے والا نہیں۔

(1) الیہ یرد علم الساعۃ : پچھلی آیت کے ضمن میں ہر نیک و بدعمل کی جزا کا ذکر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں اکثر لوگ جزا کے بغیر فوت ہوجاتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کا وعدہ فرما رکھا ہے۔ اسی کا نام ہی ”یوم الدین“ (جزا کا دن) ہے، کیونکہ اگر وہ نیک و بد کو جز نہ دے تو یہ ظلم ہے، جب کہ وہ اپنے بندوں پر ذرہ برابر ظلم کرنے والا نہیں۔ کفار چونکہ قیامت قائم ہونے اور اس پر اللہ تعالیٰ کے پوری طرح قادر ہونے کی بات کو دلیل کے ساتھ نہیں جھٹلا سکتے تھے، اس لئے انہوں نے جھٹلانے کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ بار بار پوچھتے، قیامت کب ہوگی ؟ گویا انکی فرمائش پر وہ فوراً قائم نہ ہوئی تو کہہ سکیں گے کہ قیامت ہوتی تو آجاتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ یعنی انسان ، جن اور فرشتے، غرض جس کسی سے قیامت کے متعلق پوچھو وہ بیخبر ہوگا۔ کسی دوسرے پوچھنے کو کہے گا تو وہ بھی بیخبر ہوگا۔ پوچھتے پوچھتے سبھی جس کی طرف لوٹائیں گے کہ وہی بتاسکتا ہے وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، باقی سب بیخبر ہیں۔ مزید دیکھیے سورة نازعات (42 تا 44) ، انعام (59) اور سورة اعراف (187) جبریل ؑ نے انسانی شکل میں آکر نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ قیامت کب ہوگی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :(ما المسؤل عنھا باعلم من السائل) (بخاری، الایمان، باب سوال جبریل النبی ﷺ …: 50)”جس سے اس کے متعلق پوچھا گیا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔“ مطلب یہ ہے کہ تم جس بات کے پیچھے پڑے ہو تمہیں اس سے کچھ حاصل نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم ہی نہیں، اس لئے تم یہ فکر کرو کہ اس دن تمہارا بنے گا کیا اور تم نے اس کے لئے تیاری کیا کی ہے ؟ (2) وما تخرج من ثمرات من اکمامھا :”اکمام“”کم“ (کاف کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، وہ غلاف یا پردہ جس کے اندر شروع میں پھل چھپا ہوتا ہے۔”ثمرات“ جمع ہے اور نکرہ ہے، اس پر ”من“ آنے سے عموم میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ان سب باتوں کو محلوظ رکھ کر ترجمہ کیا گیا ہے ”کسی قسم کے پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتے۔“ مطلب یہ ہے کہ صرف قیامت کا علم ہی نہیں، غیب کے متعلق جتنے بھی امور ہیں ان سب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، کسی نبی، ولی یا فرشتے کو غیب کے معاملات کا علم اسی حد تک ہو ستکا ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ نے اسے خبر دی ہوتی ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (59) اور سورة اعراف (187)۔ (3) وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ : دیکھیے سورة رعد (8) اور سورة فاطر (11)۔ یعنی قیامت کے علاوہ کسی پھل کے اپنے غلامف سے نکلنے یا کسی مادہ کے حاملہ ہونے یا بچہ جننے کے وقت کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں، تو کیا آج تک تم نے اس وجہ سے کسی پھل کے اپنے غلاف سے نکلنے یا کسی مادہ کے حاملہ ہونے یا بچہ جننے سے اور دوسری بیشمار چیزوں کے واقع ہونے سے اس لئے انکار کیا ہے کہ اس کا متعین وقت تمہیں نہیں بتایا گیا، تو قیامت کا انکار صرف اس لئے کیوں کہ تمہیں اس کے بپا ہونے کا وقت نہیں بتایا گیا ! ؟ (4) ویوم ینادیھم این شرکآء ی :”یوم“ فعل محذوف ”اذکر“ کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قیامت کا ذکر کرتے ہئے فرمایا کہ وہ دن یاد کرو جب اللہ تعالیٰ مشرکین کو پکار کر کہے گا، کہاں ہیں میرے شریک ؟”شرکآء ی“ (میرے شریک) سے مراد وہ ہیں جو انہوں نے بنا رکھے تھے، ورنہ اللہ تعالیٰ کا شریک کون ہوسکتا ہے ! ؟ اللہ تعالیٰ کا انہیں یہ کہنا صرف انہیں ذلیل کرنے کے لئے ہوگا، کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں جسے وہ لے آئیں گے۔ (5) قالوا اذنک مامنا من شھید : یعنی وہ اپنے مشرک ہونے کا انکار کردیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تجھے صاف بتادیا ہے کہ ہم میں سے کوئی اس کی شہادت دینے والا نہیں کہ تیرا کوئی شریک ہے، یعنی ہم نے تیرے ساتھ کبھی شرک کیا ہی نہیں۔ (دیکھیے انعام : 22 تا 24) حقیقت یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ کبھی اپنے مشرک ہونے سے انکار کریں گے، کبھی بےاختیار اس کا اقرار کریں گے، پھر انکار کریں گے۔ (دیکھیے مومن : 73، 74) پھر شہادتیں پیش ہونے پر اقرار کے سوا کچھ چارہ نہ ہوگا۔
Ayah 41:48

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور ان سے غائب ہوجائیں گے وہ جنھیں وہ اس سے پہلے پکارتے تھے اور سمجھ لیں گے کہ ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔

(1) وضل عنھم ما کانوا یدعون من قبل : یعنی پریشانی کے عالم میں وہ چ اورں طرف نظر دوڑائیں گے کہ عمر بھر جنہیں پکارتے رہے ، شاید ان میں سے کوئی مدد کو آجائے، انہیں عذاب سے چھڑا لے، یا اس میں کچھ کمی ہی کروا دے، مگر کوئی مددگار نظر نہیں آئے گا۔ (2) وظنوا ما لہم من محیص :”حاص یحیص حیضاً“ (ض) بھاگنا۔ ”محیص“ مصدر میمی ہے یا ظرف۔ مصدر کا معنی ہوگا بھاگنے کی کوئی صورت اور ظرف کا معنی ہے بھاگنے کی کوئی جگہ۔”ظن“ کا لفظ گمان کے علاوہ یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔ (دیکھیے بقرہ : 46) یہاں بھی ”ظنوا“ یقین کے معنی میں ہے، کیونکہ قیامت کے دن تمام حقیقتیں کھل کر سامنے آجائیں گی اور کسی کو کوئی شک باقین ہیں رہے گا، حتیٰ کہ کفار خود کو یقین ہوجانے کا اقرار کریں گے، فرمایا (ربنا ابصرنا و سمعنا فارجعنا نعمل صالحاً انا موقنون) (السجدۃ : 12)”اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سن لیا، پس ہمیں واپس بھیج کہ ہم نیک عمل کریں، بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں۔“ اور دیکھیے سورة مریم (38) ، سورة ق (22) اور سورة انعام (30)۔ مطلب یہ ہے کہ کفار کے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں میں سے کوئی انہیں نہیں آئے گا اور انہیں یقین ہوجائے گا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھاگ نکلنے کی کوئی جگہ ہے نہ اس کی کوئی صورت۔
Ayah 41:49

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان بھلائی مانگنے سے نہیں اکتاتا اور اگر اسے کوئی برائی آپہنچے تو بہت مایوس، نہایت ناامید ہوتا ہے۔

(1) لایسم الانسان …: یہاں سے انسانی طبیعت پر کفر و شرک اور قیامت کے انکار کا ایک بہت برا اثر ذکر فرمایا۔”الانسان“ سے مراد عام انسان ہے جو ایمان و یقین کی دولت سے خالی ہو، اس میں طبعی طور پر یہ کمزوری رکھی گئی ہے۔ توحید و رسالت اور آخرت پر ایمان کے بعد اس کی اس کمزوری کا علاج ہوجاتا ہے اور ایمان جس قدر قوی ہوتا ہے اتنا ہی وہ اس کمزوری سے پاک ہوتا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(ان الانسان خلق ھلوعا اذا مسئلہ الشر جزوعا واذا مسہ الخیر موعا الا المصلین الذین ھم علی صلاتھم دآئمون … اولئک فی جنت مکرمون) (المعارج : 19 تا 35)”بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔ سوائے نماز ادا کرنے والوں کے۔ وہ جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں … یہی لوگ جنتوں میں عزت دیئے جانے والے ہیں۔“ مزید دیکھیے سورة ہود (9 تا 11) کی تفسیر۔ (2) من دعآء الخیر :”الخیر“ سے مراد دنیوی بھلائی ہے جس میں مال، اولاد ، عزت، صحت اور قوت سبھی کچھ شامل ہے۔ ”’ عآئ“ سے مراد خیر کی طلب ہے، یعنی انسان دنیوی بھلائی کی طلب سے نہ اکتاتا ہے اور نہ تھکتا ہے، خواہ اسے اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ نے سنا، آپ فرما رہے تھے :(لوکان لابن آدم و ادیان من مال لابتغنی ثالثاً ، ولا یملاً جوف ابن آدم الا التراب ، ویتوب اللہ علی من تاب) (بخاری الرفاق، باب مایتقی من فتنۃ المال :6336)”اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ کوئی تیسری تلاش کرے گا اور ابن آدم کے پیٹ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھرتی اور اللہ اس پر پھر مہربان ہوجاتا ہے جو واپس پلٹ آئے۔“ (3) وان مسہ الشرفیوس قنوط :”مس یمس“ (س) چھونا۔ ”فیوس“ ”یس یس یاسا“ (س، ح) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت ناامید۔ ”قنوط“ ”قنط یقنط قنوطاً“ (س، ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت ناامید۔ بعض مفسرین نے فرمایا ”فیوس“ اور ”قنوط“ دونوں کا معنی ایک ہے، تاکید کے لئے ”فیوس“ کے بعد ”قنوط“ لایا گیا ہے اور بعض نے فرمایا، دونوں کے معنی میں فرق ہے۔ ابوحیان نے فرمایا :”یاس“ دل کی حالت ہے کہ آدمی کا دل خیر کی امید سے خالی ہوجائے اور ”قنوط“ یہ ہے کہ نا امیدی کے آثار اس کے چہرے اور بدن پر بھی ظاہر ہوجائیں۔“ ظاہر ہے یہ فرق اس وقت ہے جب یہ دونوں لفظ اکٹھے آئیں، ورنہ یاس اور قنوط دونوں میں قل بی اور بدنی ہر طرح کی نا امیدی مراد ہوتی ہے، جیسا کہ ایمان و اسلام کا معاملہ ہے۔”مس“ (چھونے) کے لفظ سے معلوم ہوا کہ کافر اتنا بےحوصلہ ہوتا ہے کہ برائی چھو جانے ہی سے آخری حد تک امید توڑ بیٹھتا ہے۔ مومن ایسا نہیں ہوتا، یہ صرف کافر کا حال ہے، جیسا کہ فرمایا :(انہ لا یا یس من روح اللہ الا القوم الکفرون) (یوسف : 88) ”بیشک حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔“
Ayah 41:50

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور یقینا اگر ہم اسے کسی تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہو، اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں تو ضرور ہی کہے گا یہ میرا حق ہے اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر واقعی مجھے اپنے رب کی طرف واپس لے جایا گیا تو یقینا میرے لیے اس کے پاس ضرور بھلائی ہے۔ پس ہم یقینا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ضرور بتائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا اور یقینا ہم انھیں ایک سخت عذاب میں سے ضرور چکھائیں گے۔

(1) ولئن اذقنہ رحمۃ منا …: یعنی ایک طرف وہ نا امیدی کہ شر کے چھو جانے ہی سے آخری حد تک ناامید ہوتا ہے، دوسری طرف یہ احسان فراموشی کہ مصیبت کے بعد کسی رحمت کا ذائقہ چکھتے ہی پھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے لاتعلق ہوجاتا ہے، حالانکہ نہ وہ شر اور مصیبت دائمی تھی نہ اس دنیوی نعمت کو دوام ہے۔ پھر یہ نعمت اس کی محنت کا نتیجہ نہیں کہ اس پر پھول جائے، بلکہ یہ محض ہماری عطا ہے۔ ”رحمتہ منا“ کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (9، 10) کی تفسیر۔ (2) لیقولن ھذا لی : یعنی کافر آدمی دنیوی نعمت کا ذائقہ چکھتے ہی تین کفریہ باتیں کہے گا، اس کے دل میں یہی باتیں ہوں گی اور زبان سے بھی یہی کہے گا۔ پہلی بات یہ کہ یہ نعمت میری جدوجہد کا نتیجہ اور میرا حق ہے، جیسا کہ فرعون کے لوگ کہتے تھے (دیکھیے اعراف : 130، 131) اور جیسا کہ ق اورن نے کہا تھا) (دیکھیے قصص : 78) حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صریح ناشکری اور احسان فراموشی ہے۔ (3) وما اظن الساعۃ قآئمۃ ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنیٰ : ان دونوں باتوں کی تفصیل سورة کہف کی آیت (36) کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔