Ayah 41:51واذا انعمنا علی الانسان اعرض و نابجانبہ :”نای ینای نایاً“ (ف) دور ہونا۔ یہ فعل لازم ہے، ”بجانیہ“ پر آنے والی ”بائ“ کے ساتھ متعدی ہوگیا ، اس لئے ”نابجانبہ“ کا معنی ہے اپنا پہلو دور کرلیتا ہے۔ پچھلی آیت میں کافر انسان کا قول بیان ہوا ہے، اس آیت میں اس کا حال بیان ہوا ہے۔ اس آیت کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة یونس (12) ، ہود (10، 11) اور سورة زمر (49)۔
Ayah 41:52قل ارء یتم ان کان من عند اللہ ثم کفرتم بہ …: یہ پوری سورت قرآن کریم، توحید و رسالت اور قیامت کے حق ہونے کے دلائل سے بھری ہوئی ہے، جنہیں کفار نہ صرف یہ کہ مانتے نہیں تھے بلکہ سننے پر بھی تیار نہیں تھے۔ جیسا کہ آیت (5) میں گزرا :(وقالوا قلوبنا فی اکنۃ)”اور انہوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں۔“ اور آیت (26) میں ہے :(وقال الذین کفروا لاتسمعوا لھذا القرآن)”اور انا لوگوں نے کہا جنہوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو۔“ تو سورت کے آخر میں بنی ﷺ کو حکم ہوا کہ ان سے کہیں کہ تم جو قرآن کو سننے تک کے لئے تیار نہیں اسے باطل یا جھوٹ کیسے کہہ سکتے ہو ؟ کیونکہ اسے غلط تو تب کہہ سکتے ہو کہ اسے سنو، پھر حق ہو تو قبول کرو، ورنہ دلیل سے اسے باطل قرار دو ، اتنا تم میں حوصلہ نہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں اس کے باطل ہونے کا یقین نہیں، ورنہ ایسی چیز جس کا غلط ہونا بالکل واضح ہو، اس کے سننے پر اتنی شدید پابندی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس سے ظاہر ہے کہ تمہارے ذہن میں ب یھ اس کے حق ہونے کا امکان موجود ہے۔ اسلئے یہ بتاؤ کہ یہ قرآن جسے تم سننے ہی کے روادار نہیں، اگر واقعی اللہ کی طرف سے حق ہوا، پھر سنے سمجھے بغیر تم نے اسے جھٹلا دیا اور اسی حالت میں تمہاری موت آگئی، پھر حشر بپا ہوا تو اس وقت تو تم اتنی دور کی مخالفت میں پڑچکے ہوگے جو بہت دور کی مخالفت ہے، جس سے واپسی تم چاہو گے بھی تو ممکن نہیں۔ پھر جو خواہ مخواہ کی ایسی غلط مخالفت پر ڈٹ جائے، جس سے واپسی ممکن نہ ہو، اس سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے ؟ آیت کا مقصد کفار کو سننے اور سوچنے پر آمادگی کی ترغیب اور اس وقت سے ڈرانا ہے جب ان کی مخالفت کے نقصان کا مداوا نہیں ہو سکے گا۔
Ayah 41:53(1) سنریھم ایتنا فی الافاق و فی انفسھم …:”الفاق“”افق“ کی جمع ہے، کنارے دور وہ جگہ جہاں آسمان و زمین ملتے ہوئے نظر آتے ہیں، افق کہلاتی ہے۔ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک یہ کہ ”انہ“ کی ضمیر سے مراد قرآن اور نبی کریم ﷺ ہیں۔ یعنی ہم انہیں دنیا بھر میں اور خود ان میں اپنی ایسی نشانیاں دکھا دیں گے جن سے ثابت ہوجائے گا کہ آپ ﷺ کی نبوت اور قرآن حق ہے۔ نشانیوں سے مراد ظاہری اسباب کی قلت کے باوجو دسلام کی فتوحات ہیں۔ ”الافاق“ سے مراد مکہ کے گرد و پیش میں اسلام کا غلبہ ہے جو بدر، احد ، خندق اور دوسرے معرکوں کے ساتھ جزیرہ عرب پر اور آخر کار پوری زمین کے مشرقی اور مغربی کنن اورں تک پھیل گیا اور ”انفسھم“ سے مراد مکہ کی فتح ہے جو بجائے خود اسلام کے حق ہونے کی بہت بڑی دلیل تھی، جس کے بعد لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے۔ مطلب یہ کہ عنقریب جب گرد و پیش کے ممالک اور خود ان (قریش) پر فتوحات حاصل ہوں گی جو آپ ﷺ اور خلفائے اسلام کے عہد میں حاصل ہوئیں، تب انہیں یقین حاصل ہوگا کہ قرآن اور پیغمبر حق تھے اور یہ ناحق انہیں جھٹلاتے رہے۔
دوسری تفسیر یہ کہ ”انہ“ کی ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ ہے، مطلب یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کے دلائل پر غور کریں گے، جو تمام آفاق یعنی زمین و آسمان میں پائے جاتے ہیں، مثلاً سورج چاند، نباتات و جمادات و حیوانات وغیرہ اور جو خود ان کی ذات میں پائے جاتے ہیں، مثلاً نطفے سے لے کر پیدائش تک، پھر بچپن سے لے کر موت تک، پھر ان کے وجود کی حیرت انگیز بناوٹ پر، جن کے عجائبات کے متعلق ہر روز نئے سے نئے انکشافات ہوتے رہیں گ ے، تو انہیں یین ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے۔ پہلے مططلب کو ابن جریر طبری نے ترجیح دی ہے، جبکہ دوسرا مطلب بعض تابعین نے اختیار فرمایا ہے۔ دونوں مطلب بیک وقت بھی مراد ہوسکتے ہیں۔
(2) اولم یکف بربک …: یعنی مسلمانوں کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے اگر کوئی کہے کہ اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ کفار قریش پر اور کل عالم پر کیسے ممکن ہے تو اسے کہو، کیا تمہارا رب یہ کام کرنے کے لئے اکیلا کافی نہیں ؟ اس لئے کہ وہ اکیلا ہر چیز اور ہر کام کا نگران اور اس پر شاہد ہے، اسے کسی کی مدد یا مشورے کی کوئی حاجت نہیں۔
Ayah 41:54(1) الا انھم فی مریۃ من لقآء ربھم : یعنی یہ لوگ قرآن اور اللہ کے رسول کو اس لئے جھٹلا رہے ہیں کہ انہیں قیامت کا یقین نہیں، بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔
(2) الا انہ بکل شیء محیط : یعنی وہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے، کوئی چیز اس کے علم اور قدرت سے باہر نہیں، اس لئے وہ اس کی گرفت سے کسی طرح نہیں بچ سکتے۔