40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 40:1
حم : یہ حروف مقطعات ہیں، تشریح کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔
Ayahs 40:2–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے، جو سب پر غالب، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، بہت سخت سزا والا، بڑے فضل والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

(1) تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم …اس سورت میں توحید، قیامت اور اسلام کے بنیادی عقائد اور کفار کے مسلمانوں کے ساتھ ناحق جھگڑے اور کج بحثی کا ذکر ہے۔ ان دو آیات میں اس کتاب کے نازل کرنے والے کی چھ صفات اس انداز سے بیان کی گئی ہیں کہ اس کتاب پر کفار کے تمام اعتراضات کا جامع جواب آگیا۔ مفسر عبدالرحمٰن کیلانی ؒ لکھتے ہیں :”کفار کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں، بلکہ تمہاری اختراع ہے۔ آغاز ہی میں فرما دیا کہ یہ کتاب کسی کمزور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اس اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جو العزیز ہے، یعنی) کائنات کی ہر چیز پر غالب ہے اور تمہاری معاندانہ کوششوں اور سازشوں کے علی الرغم اپنے کلمہ کو سر بلند اور نفاذ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کی دوسری صفت یہ یہ کہ وہ العلیم ہے، یعنی) ہر چیز کا براہ راست اور پورا پورا علم رکھتا ہے، لہٰذا اس کتاب میں اے کفار مکہ ! جو (احکام اور جو) خبریں بھی دی گئی ہیں سب درست اور یقینی ہیں۔ تیسری صفت (غافر الذنب) یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے فرماں بردار بندوں کے بہت سے گناہ از خود ہی بخشتا رہتا ہے۔ چوتھی صفت (قابل التوب) یہے کہ کافر توبہ کر کے حلقہ اسلام میں داخل ہوجائیں تو ان کی توبہ قبول کر کے ان کے سابقہ گناہوں کو معاف کردینے والا ہے اور اس صفت کا تعلق صرف نو مسلموں سے نہیں بلکہ جو بندہ بھی اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اس کی طرف رجوع کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اس کے گناہ بھی معاف کردیتا ہے۔ پانچویں صفت (شدید العقاب) یہ ہے کہ وہ اپنے باغیوں کو سخت سزا دے کر ان کی اکڑی ہوئی گردنیں توڑ سکتا ہے، خواہ وہ یہ عذاب دنیا میں دے یا آخرت میں اور اس کی چھٹی صفت (ذی الطول) یہ ہے کہ وہ کشادہ دست (کھلے ہاتھ اور بڑے فضل والا) ہے، ہر وقت انعامات کی بارش کرتا رہتا ہے اور اس سے اپنے نافرمانوں کو بھی محروم نہیں فرماتا۔ اتنی صفات بیان کرنے کے بعد ان دو بنیادی جھگڑوں کی حقیقت بیان فرما دی جو رسول اللہ ﷺ اور کفار مکہ کے درمیان چل رہے تھے، ان میں سے پہلا یہ (لا الہ الا ھو) ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، باقی تمام معبود جھوٹے، باطل اور بےکار ہیں اور دوسرا (الیہ المصیر) یہ کہ روز آخرت کا قیام یقینی ہے اور تم سب کو یقینا اللہ کے حضور پیش ہونا ہوگا۔“ (تیسیرا لقرآن) (2) اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات بیان فرماتے ہوئے رحمت و عذاب دونوں پر مشتمل صفات بیان فرمائی ہیں اور یہی اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے، تاکہ امید و خوف دونوں موجود ہیں، جیسا کہ فرمایا :”نبی عبادی الی انا الغفور، الرحیم وان عذابی ھوالعذاب الالیم) (الحجر :50, 39)”میرے بندوں کو خبر دے دے کہ بیشک میں ہی بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہوں۔ اور یہ بھی کہ بیشک میرا عذاب ہی درد ناک عذاب ہے۔“ یاد رہے کہ یہاں رحمت کی صفات عذاب کی صفات سے زیادہ بیان ہوئی ہیں، چناچہ ”شدید العقاب“ سے پہلے بھی رحمت پر مشتمل دو صفات ”غافر الذنب“ اور ”قابل التوب“ ہیں اور بعد میں بھی ”ذی الطول“ ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا :(لما قضی اللہ الخلق کتب فی کتابہ، فھو عندہ فوق العرش ان رحمتی غلبت غضبی) (بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء فی قول اللہ تعالیٰ : (وھو الذی بیدء الخلق…):3193) اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا فرمائی تو اپنی کتاب میں لکھ دیا، چناچہ وہ کتاب عرش کے اوپر اس کے پاس ہے کہ بلاشبہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“
Ayah 40:4

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ کی آیات میں جھگڑا نہیں کرتے مگر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تو ان کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے۔

(1) مایجادل فی ایت اللہ الا الذین کفروا :”کفر“ کا معنی چھپانا بھی ہے اور انکار بھی اور جھگڑے سے مراد کج بحثی کر کے آیات الٰہی کو جھٹلانا اور انہیں رد کرنا ہے، ورنہ جس جدال اور بحث و مناظرے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی آیات کی تصدیق اور حق بات کو ثابت کرنا ہو وہ قابل تعریف ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا :(وجادلھم بالتیھی احسن) (النحل :125)”اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔“ اور نوح ؑ کو ان کی قوم نے کہا :(ینوح قد جدلتنا فاکثرت جدالنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصادقین) (ھود، 32)”اے نوح ! بیشک تو نے ہم سے جھگڑا کیا، پھر ہم سے بہت جھگڑا کیا، پس لے آہم پر جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے، اگر تو بچوں سے ہے۔“ ابراہیم نے اپنے وقت کے بادشاہ کے ساتھ مناظرہ کر کے اسے لاجواب کیا، فرمایا :(الم تر الی الذی حاج ابراہیم فی ربہ) (البقرۃ :285) ”کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔“ ابراہیم ؑ نے سورج، چاند اور ستاروں کی عبادت کرنے والوں کو لا جواب کیا (دیکھیے انعام : 75 تا 83) اور بت پرستوں کو لا جواب کیا۔ (دیکھیے انبیائ : 51 تا 70) یعنی اتنی عظیم کتاب، جس کے اتارنے والے کی صفات کا ذکر اوپر گزرا، کوئی حق بات تسلیم کرنے والا شخص اس کی آیات کو جھٹلانے کے لئے جھگڑا نہیں کرتا، صرف وہی لوگ یہ جرأت کرتے ہیں جو حق کو چھپاتے اور اس کا انکار کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(المراء فی القرآن کفر) (ابوداؤد، الستۃ باب النھی عن الجدال فی القرآن : 7603 عن ابی ہریرہ ؒ)”قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔“ (2) فلا یغررک تقلبھم فی البلاد : یعنی ان لوگوں کی خوش حالی اور ان کا عیش و عشرت کے لئے یا تجارت اور دوسرے کاموں کے لئے مختلف شہروں میں پھرنا دیکھ کر کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ یہ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں، دراصل یہ ان کے لئے مہلت ہے۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (196، 197)۔
Ayah 40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور ان کے بعد بھی کئی جماعتوں نے اور ہر امت نے اپنے رسول کے متعلق ارادہ کیا کہ اسے گرفتار کرلیں اور انھوں نے باطل کے ساتھ جھگڑا کیا، تاکہ اس کے ذریعے حق کو پھسلا دیں، تو میں نے انھیں پکڑ لیا، پھر میری سزا کیسی تھی ؟

(1) کذبت قبلھم قوم نوح …”الاحزاب“ (حزب“ کی جمع ہے، وہ جماعت جو اپنے عقیدے، عمل اور عادت میں ایک جیسی ہو۔ پچھلی آیت کے ساتھ اس کا تعلق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو رد کرنے کے لئے جو لوگ بھی جھگڑ رہے ہیں انہیں پہلی قوموں کا انجام یاد رکھنا چاہیے۔ ان سے پہلے نوح ؑ کی قوم نے اور ان کے بعد عقیدہ، عمل اور عادات میں ان کے ساتھ شامل بہت سی قوموں نے اپنے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ مثلاً عاد، ثمود، اصحاب الایکہ، قوم لوط اور آل فرعون وغیرہ یہ تمام اقوام اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے، آخرت کا انکار کرنے اور اپنے نبی کو جھٹلانے میں ایک جیسی تھیں۔ (2) وھمت کل امۃ برسولھم لیاخذوہ : یعنی ہر امت نے صرف جھٹلانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے پکا ارادہ کرلیا کہ وہ اپنے رسول کو گرفتار کر کے اسے جلا وطن کردیں، یا قتل کردیں، یا قید رکھیں، جیسا کہ نوح ؑ کی قوم نے کہا :(لئن لم تنتہ ینو، لتکونن من المرجومین) (الشعرائ : 116)”اے نوح ! یقینا اگر تو باز نہ آیا تو ہر صورت سنگسار کئے گئے لوگوں سے ہوجائے گا۔“ اور صالح ؑ کی قوم ثمود نے کہاک : (تقاسموا باللہ لتنبینہ واھلہ ثم لنقولن لولیہ ماشھدنا مہلک اھلہ وانا لصدقون) (النمل : 39”آپس میں اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم ضرور ہی اس پر اور اس کے گھر والوں پر رات حملہ کریں گے، پھر ضرور ہی اس کے وارث سے کہہ دیں گے ہم اس کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور بلاشبہ یقینا ہم سچے ہیں۔“ اور لوط ؑ کی قوم نے ان سے کہا (لئن لم تتنہ یلوط لتکونن من المخرجین) (الشعرائ : 168) ”اے لوط ! بیشک اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تو ضرور نکالے ہوئے لوگوں سے ہوجائے گا۔“ اور رسول اللہ ﷺ کے متعلق بھی کفار نے ایسی ہی سازش کی، فرمایا :(واذیمکربک الذین کفروا لیثتوک اویقتلوک اور یخرجوک ویمکرون و یمکر اللہ، واللہ خیر المکدین) (الانفال : 30)”اور جب وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، تیرے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے، تاکہ تجھے قید کردیں، یا تجھے قتل کردیں، یا تجھے نکال دیں اور وہ خفیہ تدبیر کر رہے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔“ (3) وجدلوا بالباطل لیذحضوا بہ الحق :”اذ حض ید حض“ (افعال) کا معین پھسلانا ہے، یہاں مراد حق کو باطل ثابت کرنا ہے، یعنی ان لوگوں نے باطل کے ڈھکو سلوں کے ذریعے سے اپنے رسولوں کے ساتھ ناحق جھگڑا اور کج بحثی کی، تاکہ وہ حق کو غلط ثابت کرسکیں۔ چناچہ کبھی انہوں نے یہ کہا کہ تم کھاتے پیتے ہو اور بشر ہو، پھر کس طرح رسول بن گئے ؟ (دیکھیے نبی اسرائیل : 94) کبھی نبوت کے ثبوت کے لئے بہت سے نا مناسب مطالبات پیش کردیتے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل 90 تا 93) کبھی مسلمانوں کے فقر اور اپنی دولت کو اپنے حق پرہ ونے کی دلیل قرار دیتے۔ دیکھیے سورة سبا (35) اور سورة انعام :(53) (4) فاخذتھم : یعنی جب ان اقوام نے اپنے اپنے پیغمبر کو گرفتار کرنے اور اسے قید یا قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تو میں نے انہیں پکڑ لیا۔ رسول اللہ ﷺ کے متعلق ایسے ارادے کرنے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے ناکام و نامراد کیا اور آپ ﷺ کو بحفاظت مدینہ پہنچا دیا، پھر بدر اور بعد کی جنگوں میں کفر پر ڈٹے رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے پکڑ لیا۔ (5) فکیف کان عقاب :”عقاب“ اصل میں ”عقابی“ ہے،”یائ“ کو آیات کے فواصل کی موافقت کے لئے حذف کردیا اور ”بائ“ پر کسرہ باقی رکھا، تاکہ وہ ”یائ“ کے حذف ہونے پر دلالت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو پہلی اقوام کے انجام سے ڈرایا کہ ان کی تباہ شدہ بستیوں کے آثار کو دیکھو کہ میں نے انہیں پکڑا تو میرا عذاب کیسا رہا ؟
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اس طرح ان لوگوں پر تیرے رب کی بات ثابت ہوگئی جنھوں نے کفر کیا کہ بیشک وہی آگ والے ہیں۔

وکذلک حقت کلمت ربک …اس کی دو تفسیریں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ جس طرح پہلی قوموں پر تیرے رب کے عذاب آنے کی بات ثابت ہوچکی اور وہ تباہ و برباد کردی گئیں، اسی طرح اب جو لوگ کفر کر رہے ہیں ان پر بھی تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ آگ میں جانے والے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان قوموں پر دنیا میں جو عذاب آیا اسی پر بس نہیں، بلکہ ان کے متعلق دنیا کے عذاب کی طرح تیرے رب کی یہ بات بھی طے ہوچکی ہے کہ آخرت میں بھی وہ آگ میں رہنے والے ہیں۔
Ayah 40:7

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

وہ (فرشتے) جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو ایمان لائے، اے ہمارے رب ! تو نے ہر چیز کو رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے، تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے اور انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا۔

الذین یحملون العرش ومن حولہ …پچھلی آیات میں کفار کا انجام بیان فرمایا، جو اللہ کی آیات ٹھکرانے کے لئے فضول جھگڑا اور کج بحثی کرتے ہیں، اب ان کے مقابلے میں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس پر ایمان لاتے اور کج بحثی سے اجتناب کرتے ہیں۔ ان کے حق میں وہ بلند مرتبہ فرشتے استغفار اور دعائیں کرتے ہیں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو عرش کے اردگرد ہیں، وہ سب ”سبحان اللہ وبحمدہ“ اور اس سے ملتے جلتے کلمات کے ساتھ اپنے رب کی حمد اور اس کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں، یعنی اس پاک ذات کی تعریف کرتے ہیں کہ وہ تمام صفات کمال کا مالک ہے اور ہر عیب اور کمی سے پاک ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس میں رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کے لئے تسلی بھی ہے کہ ہٹ دھرمی اور کج بحثی کرنے والے کفار کے رویے سے بددل نہ ہوں، اگر یہ لوگ تم سے دشمنی رکھتے ہیں تو تم سے دوستی رکھنے والے بھی بہت ہیں اور بڑی اونچی شان والے ہیں۔ پھر ایسے پاک باز اور خیر خواہ دوستوں کی موجودگی میں ، جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارے لئے دعائیں اور بخشش کی درخواست کرتے ہیں تمہیں کسی دشمن کی کیا پروا ہے ؟ (2) ویومنون بہ : یہاں ایک سوال ہے کہ یہ بات تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ عرش اٹھانے والے اور دور سے تمام فرشتے اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، پھر ان کے اللہ پر ایمان لانے کا ذکر خاص طور پر کیوں فرمایا ؟ زمخشری نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ ایمان کی فضیلت و شرف کو نمایاں کرنے کیلئے اور اس کی ترغیب دینے کے لئے کیا گیا ہے، جیسا کہ سورة بلد میں مشکل گھاٹی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے گردن چھڑانے اور نیکی کے دوسرے اعمال کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے کا ذکر فرمایا، تاکہ ایمان کی فضیلت ثابت ہو اور واضح ہوجائے کہ کوئی بھی نیکی اسی وقت معتبر ہے جب اس کے ساتھ ایمان ہو۔ (3) عرش اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات میں سے سب سے بڑی مخلوق ہے، کیونکہ وہ تمام زمینوں اور آسمانوں کے اوپر ہے اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، پھر عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کی عظمت کا کیا حال ہوگا ؟ جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :(اذن لی ان احدث عن ملک من ملائکۃ اللہ تعالیٰ من حملۃ العرش، ان مابین شحمۃ اذنہ الی عاتقہ مسیرۃ سبعمائۃ عام) (ابوداؤد، السنۃ ، باب فی الجھمیۃ :3828، وقال الالبانی صحیح)”مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے ان فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے متعلق بیان کروں جو عرش اٹھائے ہوئے ہیں کہ اس کے کان کی کونپل سے اس کے کندھے تک سات سو سال کا فاصلہ ہے۔“ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ سال دنیا والے ہیں یا وہ سال ہیں جن کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے، یا اس سے بھی طویل مدت والے سال مراد ہیں، کیونکہ ہمارے سورج کے دائرے کے باہر وقت کا حساب ہمارے حساب سے نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ افلاک کی وسعت کا کچھ انداز نہیں، جہاں سورج بھی ایک ذرے کی حیثیت رکھتا ہے۔ غرض یہ ان فرشتوں کی عظمت کا محض ایک اندازہ ہے۔ عرش کو اٹھانے والے اتنے عظیم فرشتے اور عرش کے اردگرد موجود اور اس کا طواف کرنے والے فرشتے جب مومنوں کے حق میں استغفار اور دعائیں کر رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کر رہے ہیں، جیسا کہ تمام فرشتوں کے متعلق فرمایا :(بل عباد مکرمون، لایبقونہ بالقول وھم بامرہ یعملون) (الانبیائ :28, 26) ”بلکہ وہ بندے ہیں جنہیں عزت دی گئی۔ وہ بات کرنے میں اس سے پہل نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم کے ساتھ ہی عمل کرتے ہیں۔“ تو اس سے ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ کی بےحد و حساب مہربانی اور رحمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة حاقہ (17) (4) اس آیت میں توبہ کرنے والوں کے لئے صرف عرش اٹھانے والے اور اس کے اردگرد موجود فرشتوں کے استغفار اور دعا کا ذکر ہے، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمام فرشتے ان کے لئے استغفار کرتے ہیں، فرمایا :(تکاد السموت یتفطرن من فوقھن والملٓئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم) (الشوری : 5)”آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو زمین میں ہیں، سن لوچ بیشک اللہ ہی بےحد بخشنے والا ناہیت رحم والا ہے۔“ (5) ربنا وسعت کل شیء رحمۃ وعلماً : یہاں ”یقولون“ (وہ فرشتے کہتے ہیں) محذوف ہے۔ یعنی تسبیح و تحمید کی طرح ایمان والوں کے لئے دعا کرنا بھی ان کے معمولات میں شامل ہے۔ اس سے ایمان کی فضیلت اور ایمان والوں کے باہمی تعلق اور محبت کا اندازہ ہوتا ہے کہ عرش کے پاس رہنے والے فرشتے زمین پر رہنے والے مومنوں کے حق میں دعائیں کرتے ہیں۔ اسی طرح اس سے دعا کا سلیقہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ”ربنا“ (اے ہمارے رب ! اے ہمارے پالنے والے !) کہہ کر پکارتے ہیں، پھر اس سے اس کی رحمت اور اس کے علم کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہیں، یعنی تیری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے (دیکھیے اعراف : 156) اور تیرا علم بھی ہر چیز پر وسیع ہے۔ (دیکھیے انعام :80 طلاق : 12) (6) فاغفر للذین تابوا … اس لئے تو اپنی رحمت اور علم کے تقاضے کے مطابقا ن گناہ گ اورں کو بخش دے جو اپنے گناہوں سے توبہ کریں، ان سے باز آجائیں اور تیرے راستے کی پیروی کریں، تو نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کریں اور جس سے منع کیا ہے اسے چھوڑ دیں اور اے اللہ ! انہیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا لے۔ مزید دیکھیے سورة شوریٰ کی آیت (5) کی تفسیر۔
Ayah 40:8

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! اور انھیں ہمیشہ رہائش والی ان جنتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کو بھی جو ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے لائق ہیں۔ بلاشبہ تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

(1) ربنا و ادخلھم جنت عدن التی وعدتھم : یعنی گناہوں کی مغفرت اور جہنم سے نجات ہی کافی نہیں، بلکہ انہیں دائمی اقامت والی جنتوں میں داخل فرما، جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (194)۔ (2) ومن صلح من ابآئھم وزواجھم وذریتھم : اس آیت میں مذکور وعدے کی تفصیل کیلئے دیکھیے سورة رعد (23) اور سورة طور (21) (3) انک انت العزیز الحکیم : یقینا تو ہی سب پر غالب ہے، جسے تو بخشنا چاہے بخش سکتا ہے، کوئی بھی تیرا ہاتھ پکڑ نہیں سکتا اور تو کمال حکمت والا ہے، اپنی حکمت کے تحت ہی تو نے ایمان والوں کو معاف کرنے اور ان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ان کے والدین اور بیوی بچوں کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
Ayah 40:9

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور انھیں برائیوں سے بچا اور تو جسے اس دن برائیوں سے بچا لے تو یقینا تو نے اس پر مہر بانی فرمائی اور یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔

وقھم السیات :”ق“ ”وفی یقی وقایۃ“ (ض) سے امر کا صیغہ ہے۔”السیات“ (برائیوں) سے مراد برے اعمال و اقوال بھی ہیں اور ان کے برے نتائج بھی۔ یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ سے ایمان والوں کو تمام برائیوں سے بچانے کی بھی دعا کرتے ہیں اور دنیا و آخرت میں ان کے برے نتائج سے محفوظ رکھنے کی بھی۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (185)
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا انھیں پکار کر کہا جائے گا کہ یقینا اللہ کا ناراض ہونا بہت زیادہ تھا تمہارے اپنے آپ پر ناراض ہونے سے، جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے۔

ان الذین کفروا ینادون …:”مقت“ شدید غصے اور ناراضی کو کہتے ہیں۔ ”ینادون“ ”انہیں پکار کر کہا جائے گا“ انہیں کون پکارے گا ؟ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے نہیں کیا۔ ظاہر ہے انہیں یہ کہنے والا اللہ تعالیٰ خود ہوسکتا ہے یا جہنم پر مقرر فرشتے ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں ایمان والوں کے ساتھ فرشتوں کے سلوک کا ذکر گزرا ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کیساتھ ایمان والوں کے لئے استغفار اور وہ دعائیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا ہے۔ اب ایمان والوں کے بعد کفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے سلوک کا ذکر ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے اعمال دیکھیں گے تو اپنے آپ پر شدید غصے ہوں گے، اس وقت فرشتے انہیں پکار کر کہیں گے :(لمقت اللہ اکبر) کہ اب تمہیں جہنم میں جلتے ہوئے اپنے آپ پر جتنا شدید غصے ہوں گے، اس وقت فرشتے انہیں پکار کر کہیں گے :(لمقت اللہ اکبر) کہ اب تمہیں جہنم میں جلتے ہوئے اپنے آپ پر جتنا شدید غصہ آرہا ہے، یقین جانو ! دنیا میں جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ کو تم پر اس سے بھی شدید غصہ آتا تھا۔
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور تو نے ہمیں دو دفعہ زندہ کیا، سو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، تو کیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے ؟

قالوا ربنا امثنا اثنتین…جہنمی لوگ نہایت عاجزی اور ادب کے ساتھ ”ربنا“ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور دو دفعہ زندگی عطا کی، اب ہم اپنے تمام گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے تیرے ساتھ شرک کر کے اور قیامت کا انکار کر کے سخت غلطی کی، تو کیا اس بات کا کوئی امکان ہے کہ اب جب کہ ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے، ہمارا عذر قبول کرلیا جائے اور ہمیں دوبارہ عمل کرنے کے لئے پہلی زندگی کی طرف لوٹا دیا جائے ؟ یہ بات وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے کہیں گے۔ کفار کی اس درخواست اور اس کے جواب کے لئے دیکھیے سورة انعام (27) ، سجدہ (12) ، اور سورة نساء (18) دو موتوں اور دو زندگیوں کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (28) (کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتاً فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم) کی تفسیر۔
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ جب اس اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا یا جاتا تو تم مان لیتے تھے، اب فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے جو بہت بلند، بہت بڑا ہے۔

(1) ذلکم بانہ اذا دعی اللہ وحدہ…یعنی انہیں جواب ملے گا کہ آج تم جس حال میں مبتلا ہو وہ اس لئے ہے کہ دنیا میں جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تو تم نہیں مانتے تھے لیکن جب اس کے ساتھ دوسرے معبود بھی شریک کئے جاتے تو تم مان لیتے تھے۔ اکیلے اللہ کی عبادت تو درکنار، اکیلے اللہ کے ذکر پر ہی تمہارے دل تنگ پڑجاتے تھے اور غیروں کے ذکر پر تمہارے چہرے خوشی سے چمک اٹھتے تھے۔ (دیکھیے زمر : 45) اب اگر تمہیں دوبارہ دنیا میں بھی بھی دیا جائے تو تم وہی کچھ کرو گے جو تم پہلے کرتے رہے، اس لئے تمہارے جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ دیکھیے سورة انعام (28) (2) فالحکم للہ العلی الکبیر : تو اب فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔ آج تمہارے بنائے ہوئے دیوتاؤں، داتاؤں، مشکل کشاؤں اور حاجت رواؤں کا فیصلے میں کوئی دخل نہیں۔ ان ہستیوں کا ”العلی الکبیر“ کے فیصلے میں کیا دخل ہوسکتا ہے جن کا خمیر ہی پستی اور بےبضاعتی سے اٹھایا گیا ہے۔
Ayah 40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے اور اس کے سوا کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا جو رجوع کرے۔

(1) ھو الذی یریکم ایتہ : یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو تمہیں اپنے وجود اور اپنی وحدانیت کی بیشمار نشانیاں دکھاتا ہے، جو اس وقت بھی موجود تھیں جب تمہارے بنائے ہوئے معبودوں کا وجود تک نہ تھا۔ اب بھی کوئی داتا یا دستگیر یہ دعویٰ نہیں کرتا اور نہ کرسکتا ہے کہ یہ سب کچھ اس نے پیدا کیا ہے، یا اس کے پیدا کرنے میں اس کا کوئی حصہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بہت سی نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے، وہ نشانیاں آفاق (کائنات) میں بھی ہیں اور خود انسان کی ذات میں بھی۔ دیکھیے سورة یونس (6) رحم السجدہ (53) ، روم (20 تا 27) بقرہ (164) جاثیہ (35) اور سورة مومن (79، 80)۔ اللہ تعالیٰ کی آیات سے مراد انبیاء ؑ کو عطا کردہ معجزے بھی ہیں اور اس کی قدرت پر دلالت کرنے والے عجیب و غریب واقعات و حوادث بھی، جو وقتاً فوقتاً انسان کے سامنے آتے رہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کے معجزات کے متعلق فرمایا :(ولقد ارینہ ایتنا کلھما قکذب وابی) (طہ : 56)”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے اس (فرعون) کو اپنی تمام آیات (نشانیاں) دکھائیں، پس اس نے جھٹلایا اور انکار کردیا۔“ وینزل لکم من السمآء و رزقاً : یہ کہنے کے بعد کہ وہی ہے جو تمہیں اپنی آیات (نشانیاں) دکھاتا ہے، اپنی ایک عظیم نشانی کا ذکر فرمایا۔”رزقاً“ سے مراد یہاں بارش ہے، کیونکہ وہ انسان کے رزق کا سبب ہے۔ تمام نباتات اسی سے اگتی ہیں، جنہیں کھا کر وہ تمام جانور پلتے ہیں جو انسان کی خوراک ہیں یا اس کے کام آتے ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (22) ، جاثیہ (5) ، ابراہیم (32) ، ق (9 تا 11) اور سورة نحل (10، 11)۔ ومایتذکر الا من ینیب : یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں تو بیشمار ہیں، مگر ان سے نصیحت رجوع کرنے والے ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ اگر آدمی اپنی روزی ہی کو دیکھ لے کہ اسے مہیا کرنے میں قدرت کی کون کون سی چیزیں مصروف عمل ہیں اور کس طرح ایک دوسرے کی موافقت کے ساتھ کام کر رہی ہیں تو کبھی شرک کی جرأت نہ کرے، کیونکہ ان تمام چیزوں کو بنانے اور چلانے والا ایک ہے۔ اگر وہ ایک نہ ہو تو کائنات ایک لمحہ کے لئے بھی باقی نہیں رہ سکتی۔ مگر جو شخص اللہ تعالیٰ سے منہ موڑ لے اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہ کرے، وہ بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی کوئی نصیحت حاصل نہیں کرسکتا، کیونکہ اس کی آنکھوں پر تقلید آباء، تعصب اور عناد کے پردے پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

پس اللہ کو پکا رو، اس حال میں کہ دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہو، اگرچہ کافر برا مانیں۔

فادعواللہ مخلصین لہ الدین :”الدین“ کا معنی عبادت بھی ہے اور اطاعت بھی۔ یعنی جب تمہاری روزی کا مالک وہی ہے تو اپنی عبادت اور اطاعت کو اسی کے لئے خلاص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارو ، اس کی بندگی میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو۔ (2) ولو کرہ الکفرون : یعنی تمہارے اللہ واحد کو پکارنے سے کافر و مشرک ناک بھوں چڑھائیں گے، سو تم ایک اللہ کی عبادت و اطاعت پر قائم رہو، خواہ کافر اسے کتنا ہی ناپسند کریں۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ بہت بلند درجوں والا، عرش کا مالک ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی اتارتا ہے، تاکہ ملاقات کے دن سے ڈرائے۔

(1) رفیع الدرجت ذوالعرش :”الدرجت“ ”درجۃ“ کی جمع ہے، جس کا معنی متربہ بھی ہے اور سیڑھی بھی۔ ”رفیع“”رفع یرفع“ (ف) سے ہے، لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی۔ لازم سے ہوتا تو معنی ”مرتفع الدرجات“ ہے، اس کا اصل ”رفیع درجاتہ“ ہے۔ یعنی وہ بہت بلند مرتاب اور سیڑھیوں والا اور عرش والا ہے، اس کی ذات مخلوق سے جدا عرش کے اوپر ہے۔ فرشتوں کو عرض تک پہنچنے کیلئے بہت سی سیڑھیوں پر چڑھنا پڑتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(سال سآئل بعذاب واقع للکفرین لیس لہ دافع من اللہ ذی المعارج تعرج الملٓئکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ) (المعارج : 1 تا 3)”ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کے متعلق سوال کا جو واقع ہونے والا ہے۔ کف اورں پر، اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔ اللہ کی طرف سے، جو سیڑھیوں والا ہے۔ فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں، (وہ عذاب) ایک ایسے دن میں (ہوگا) جس کا اندازہ پچسا ہزار سال ہے۔“ مزید وضاحت کے لئے دیکھیے سورة معارج کی انھی آیات کی تفسیر۔ ”رفیع الدرجت“ میں ”رفیع“ کو اگر متعدی مانا جائے تو معنی ہوگا، وہ درجوں کو بہت بلند کرنے والا ہے، جیسا کہ فرمایا :”نرفع درجت من نشآء) (یوسف : 86) ”ہم جسے چاہتے ہیں درجوں میں بلند کردیتے ہیں۔“ (2) یلقی الروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ ”الروح“ سے مراد یہاں ”وحی“ ہے، جیسا کہ فرمایا :(ینزل الملئکۃ بالروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ ان انذروآ انہ لا الہ الا الا انا فاثقون) (النحل : 2)”وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے کہ خبردار کر دو کہ حقیقت یہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو مجھ سے ڈرو۔“ مزید تشریح سورة نحل کی اس آیت کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ (3) لینذریوم الثلاق : ”الثلاق“ (لفی یلقی“ (ع) سے باب تفاعل کا مصدر ہے، اصل میں ”تلافی“ ہے، ایک دوسرے سے ملنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ وحی اس لئے نازل فرماتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈرائے۔ مراد قیامت کا دن ہے، جس میں جانیں جسموں کیساتھ ملیں گی اور سب لوگ ایک دوسرے سے ملیں گے۔ ہر عمل کرنے والا اپنے عمل کی جزا سے ملے گا، ظالم و مظلوم ملیں گے، آسمان والے فرشتے زمین کے انسانوں سے ملیں گے اور مخلوق خالق سے ملے گی، جو ان کا حساب لے گا۔
Ayah 40:16

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن وہ صاف ظاہر ہوں گے، ان کی کوئی چیز اللہ پر چھپی نہ ہوگی۔ آج کس کی بادشاہی ہے ؟ اللہ ہی کی جو ایک ہے، بہت دبدبے والا ہے۔

(1) یوم ھم یرزون…یعنی ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہر وقت ظاہر ہے، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ اگرچہ دنیا میں کچھ لوگ اپنے خیال کے مطابق اپنے آپ کو کسی مکان یا غار وغیرہ میں یا کپڑوں میں چھپالیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ چھپ گئے ہیں جیسا کہ فرمایا :(الا انھم یشون صدورھم لیستخفوا منہ، الاحین یستغشون فیابھم یعلم مایسرون ومایعلنون، انہ علیم بذات الصدور) (مرد : 5)”سن لو ! بلاشبہ وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں، تاکہ اس سے اچھی طرح چھپے رہیں، سن لو ! جب وہ اپنے پکڑے اچھی طرح لپیٹ لیتے ہیں وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ بیشک وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے۔“ مگر قیامت کے دن زمین پر کوئی اوٹ نہیں رہے گی، جس میں وہ چھپ سکیں ، بلکہ سب کے سب صاف ظاہر ہوں گے، جیسا کہ فرمایا :(ویسئلونک عن الجبال فقد ینسفھا ربی نسفا فیذرھا قاعاً صفصفاً لاتری فیھا عوجاً ولا امنا) (طہ : 105 تا 108) ”اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو تو کہہ دے میرا رب انہیں اڑا کر بکھیر دے گا۔ پھر انہیں ایک چٹیل میدان بنا کر چھوڑے گا۔ جس میں تو نہ کوئی کجی دیکھے گا اور نہ کوئی ابھری جگہ۔“ اس دن تو کسی کے جسم پر کوئی کپڑا بھی نہیں ہوگا۔ ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(انکم ملاقو اللہ خفاۃ غراۃ مشاہ غرلاً) (بخاری، الرفاق، باب کیف الحشر :6563)”تم اللہ تعالیٰ سے ننگے پاؤں، ننگے بدن، پیدل چلنے والے، بغیر ختنہ کئے ہوئے ملو گے۔“ مزید دیکھیے سورة ابراہیم (21، 48) اور سورة حاقہ (13 تا 18) (2) لمن الملک الیوم : یعنی دنیا میں بہت سے لوگ اپنی بادشاہی اورب ڑائی کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے اور بہت سے لوگ ان کی بادشاہی اور کبریائی مانتے رہے، مگر اب بتاؤ کہ آج ساری بادشاہی کا مالک کون ہے ؟ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا :(یقبض الا الارض، ویطوی السموات بیمینہ، ثم یقول انا الملک، ابن ملوک الارض) (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(ولارض جمیعاً فیضتہ): 3812)”اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں ، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ؟“ (3) للہ الواحد القھار : جب کوئی جواب دینے والا نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ خود ہی یہ بات فرمائے گا، جیسا کہ پچھلے فائدے میں حدیث گزری۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ آیت میں اس وقت کا ذکر ہے جب سب لوگ میدان حشر میں صاف ظاہر ہوں گے، ان کی کوئی چیز اللہ پر چھپی نہ ہوگی، اس وقت اللہ تعالیٰ پوچھے گا :(لمن الملک الیوم)”آج کس کی بادشاہی ہے ؟“ ظاہر ہے اس وقت وہ سب لوگ جو وہاں جمع ہوں گے وہی یہ جواب دیں گے۔ نیک لوگ خوشی سے اور برے لوگ یہ بات بادل ناخواستہ کہیں گے، کیوں کہ کسی کے پاس اس کے سوا چارہ نہیں ہوگا۔ رہی حدیث، تو وہ اس موقع کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو لپیٹے گا اور یہ بات فرمائے گا۔ گویا اللہ تعالیٰ اکیلے کی بادشاہت کا اظہار و اقرار متعدد بار ہوگا۔
Ayah 40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا، آج کوئی ظلم نہیں۔ بیشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

(1) لاظلم الیوم : آج کسی قسم کا ظلم نہیں ہوگا کہ کسی کا ثواب کم کردیا جائے ، یا کسی کو اس سے زیادہ عذاب دیا جائے جس کا وہ مستحق ہے۔ (2) ان اللہ سریع الحساب : اللہ تعالیٰ کو تمام جن و انس کا حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگتی، اس کے لئے تمام انسانوں کا حساب ایسے ہی ہے جیسے ایک آدمی کا حساب لینا، کیونکہ اسے ہر چیز کا علم ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ مخلوق کی طرح عاجز نہیں کہ ایک وقت میں ایک ہی مقدمہ سن سکے، یا اصل حقیقت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے جلدی فیصلہ نہ کرسکے۔ انسان اپنے نہیں کہ ایک وقت میں ایک ہی مقدمہ سن سکے، یا اصل حقیقت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے جلدی فیصلہ نہ کرسکے۔ انسان اپنے عجز کی وجہ سے فیصلے میں دیر کرتا ہے، جب کہ فیصلے میں دیر بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ہر طرح کے عجز سے پاک عجز کی وجہ سے فیصلے میں دیر کرتا ہے، جب کہ فیصلے میں دیر بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ہر طرح کے عجز سے پاک عجز کی وجہ سے فیصلے میں دیر کرتا ہے، جب کہ فیصلے میں دیر بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ہر طرح کے عجز سے پاک ہے، اس لئے وہ ایک ہی وقت میں سب کا حساب کر کے جنت والوں کو جنت میں اور جہنم والوں کو جہنم میں بھیج دے گا، فرمایا ہے، اس لئے وہ ایک ہی وقت میں سب کا حساب کر کے جنت والوں کو جنت میں اور جہنم والوں کو جہنم میں بھیج دے گا، فرمایا ہے، اس لئے وہ ایک ہی وقت میں سب کا حساب کر کے جنت والوں کو جنت میں اور جہنم والوں کو جہنم میں بھیج دے گا، فرمایا :(ماخلقکم ولابعثکم الا کنفس واحدۃ) (لقمان : 28) ”نہیں ہے تمہارا پیدا کرنا اور نہ تمہارا اٹھانا مگر ایک جان کی طرح۔“ اور فرمایا :(وما امرنا الا واحدۃ کلمح بالبصر) (القمر : 50)”اور ہمارا حکم تو صرف ایک بار ہوتا ہے، جیسے آنکھ کی ایک جھپکے۔“
Ayah 40:18

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور انھیں قریب آنے والی گھڑی کے دن سے ڈرا جب دل گلوں کے پاس غم سے بھرے ہوں گے، ظالموں کے لیے نہ کوئی دلی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی، جس کی بات مانی جائے۔

(1) وانذرھم یوم الازفۃ :”الازفۃ“”ازف یارف“ (س) سے اسم فاعل ہے۔ مونث اس لئے ہے کہ یہ ”الشاعۃ“ کی صفت ہے۔ چناچہ قیامت کے متعلق اکثر الفاظ مونث اسعتمال ہئے ہیں، مثلاً ”الحآقۃ، القارعۃ، الضآختہ“ اور ”الطآمۃ“ وغیرہ۔ قیامت کو ”الازقۃ“ اس لئے فرمایا کہ اس کا آنا بہت قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر قیامت کے قریب آنے سے لوگوں کو خبردار فرمایا ہے، چناچہ فرمایا :(ازقت الازقۃ لیس لھامن دون اللہ کاشفۃ) (النجم : 58، 58)”قریب آگئی وہ قریب آنے والی ہے۔ جسے اللہ کے سوا کوئی ہٹانے والا نہیں۔“ قیامت کے قریب آنے کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (1):(اقترب للناس حسابھم) کی تفسیر۔ (2) اذا القلوب لدی الحناجر کظلمین :”الحناجر“”خنجرۃ“ کی جمع ہے، حلق ہے۔ ”کظلمین“ (”کظلم السقائ“ کا معنی مشکیزے کو پانی سے بھر کر اس کا من بند کردینا۔ یعنی شدید خوف اور غم کی وجہ سے مجرموں کے دل حلق کو پہنچے ہوئے ہوں گے، پھر وہ نہ تو اپنی جگہ واپس جائیں گے کہ انہیں کچھ آرام ملے اور نہ ہی ان کے بدن سے باہر نکلیں گے کہ موت آنے کے بعد ان کی جان چھوٹے۔ (3) ماللظلمین من حمیم :”حم یحم“ (ن) گرم کرنا۔ دلی دوست یا رشتہ دار کو ”حمیم“ اس لئے کہتے ہیں کہ اسے اپنے دوست یا رشتہ دار کی وجہ سے دل میں گرمی آتی ہے۔ قیامت کے دن ظالموں کا کوئی دلی دوست نہیں ہوگا، جیسا کہ فرمایا : (الاخلآء یومیذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین) (الزخرف : 68) ”سب ذی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔“ (4) ولا شفیع :”ظلامین“ سے مراد کفار و مشرکین۔ (دیکھیے انعام : 82۔ لقمان : 13) ان کے حق میں کوئی بھی سفارش نہیں کرے گا، کیونکہ اس دن جو سفارش کی اجازت دی جائے گی وہ انبیاء فرشتوں اور نیک بندوں کو دی جائے گی اور وہ بھی صرف ایمان والوں کے لئے کفار و مشرکین کا سفارشی اس دن کوئی نہیں ہوگا۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (48) (5) یطلع :”جس کی بات مانی جائے“ یعنی اول تو کفار کے حق میں کوئی شفاعت کی جرأت ہی نہیں کرے گا۔ (دیکھیے انبیائ : 38) اگر لاعلمی یا کسی شبہ کی وجہ سے سفارش کی اجازت سمجھ کر کوئی نبی یا ولی کسی کافر کے حق میں سفارش کر بھی دے گا تو اس کی سفارش نہیں مانی جائے گی۔ ہاں، سفارش قبول نہ ہونے کی وجہ بتادی جائے گی، جیسا کہ ابراہیم ؑ قیامت کے دچن اپنے والد کے حق میں سفارش کریں گے، مگر وہ قبول نہیں ہوگی، اسی طرح حوض کوثر پر آنے والے بعض لوگوں کے حق میں رسول اللہ ﷺ سفارش کریں گے مگر آپ کو بتایاجائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نیا کام کیا تھا، تو آپ ﷺ سفارش سے دست بردار ہوجائیں گے۔
Ayah 40:19

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔

یعلم خآئنۃ الاعین … ”خآئنۃ“ ”خان یخون“ (ن) سے ”فاعلۃ“ کے وزن پر مصدر ہے، جیسا کہ ”غافیہ“ ہے اور یہ اسم فاعل بھی ہوسکتا ہے۔ اسم فاعل ہونے کی صورت میں دراصل ”الاغبن الخائنۃ“ تھا، پھر صفت کو موصوف کی طرف مضاف کردیا۔ معنی ”خیانت کرنے والی آنکھیں“ ہوگا۔ مصدر ہون ی کی صورت میں معنی واضح ہے اور وہ ہے ”آنکھوں کی خیانت“ ، یعنی اللہ تعالیٰ کفار کے حق میں سفارش قبول نہیں کرے گا۔ اگر کسی نے کسی شبہ کی بنا پر غلطی سے کر بھی دی تو مانی نہیں جائے گی، کیونکہ سفارش کرنے والے کو اس کے کفر کا پورا اندازہ نہیں ہوگا، جب کہ اللہ تعالیٰ نہ ایسے لوگوں کے حق میں سفارش کی اجازت دے گا نہ سفارش قبول کرے گا، کیونکہ وہ تو آدمی کے ظاہر اعمال ہی نہیں پوشیدہ معاملات کو بھی جانتا ہے، جن میں سے آنکھوں کی خیانت اور دلوں کی چھپائی ہوئی باتیں سب سے زیادہ مخفی چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں بھی جانتا ہے، تو وہ کسی کے دل کے کفر و شرک کا علم رکھتے ہوئے اس کے حق میں سفاشر کیسے قبول کرسکتا ہے ؟ انسان کے ظاہری اعضا کے اعمال میں سب سے پوشیدہ عمل آنکھ کے مختلف اعمال ہیں۔ مثلاً لوگوں سے چوری کسی کو دیکھنا جسے دیکھنا حرام ہے اور آنکھ کے اشارے سے ناجائز تعلق قائم کرلینا وغیرہ اور باطنی اعضا میں سے دل کے وہ اعمال ہیں جن کا آدمی کبھی اظہار نہیں کرتا، بلکہ انہیں چھپا کر رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے آنکھوں کی خیانت اور دل کے چھپائے ہوئے سب اعمال معلوم ہیں۔ قیامت کے دن ایسی تمام خیانتیں اور دلوں میں چھپائے ہوئے اعمال سب ظاہر کردیئے جئایں گے، جیسا کہ فرمایا : (یوم تبلی السرآئر) (الطارق : 9)”جس دن چھپی ہوئی باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔“
Ayah 40:20

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور وہ لوگ جنھیں وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کسی بھی چیز کا فیصلہ نہیں کرتے۔ بیشک اللہ ہی تو سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

واللہ یقضی بالحق … یعنی اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے راز تک سے واقف ہے، اس لئے وہی حق کے ساتھ فیصلہ کرسکتا ہے اور کرے گا۔ اس کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ انہیں کسی کے حال کی کچھ خبر ہے، کیونکہ وہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔ دل کے معاملات تو بہت ہی پوشیدہ ہوتے ہیں، اس لئے حق کے ساتھ فیصلہ تو دور کی بات ہے، وہ کسی قسم کا فیصلہ بھی نہیں کرسکتے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ سمیع بھی ہے بصیر بھی ، مخفی سے مخفی معاملات کا علیم وخبیر بھی ہے اور تمام اختیارات کا مالک بھی، اس لئے اس اکیلے کو پکارو اور اس کی بندگی کرو۔
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ تو قوت میں ان سے بہت زیادہ سخت تھے اور زمین میں یادگاروں کے اعتبار سے بھی، پھر اللہ نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا اور انھیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔

(1) اولم یسیروا فی الارض … گزشتہ آیات میں کفار کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے، اب دنیا میں آنے والے عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے کہ کی ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر ان قوموں کا انجام نہیں دیکھا جو ان سے پہلے انبیاء کو جٹھلانے کے جرم میں ہلاک کی گئیں ؟ (2) کانوا ھم اشد منھم قوۃ و اثاراً فی الارض …اس کی مفصل تفسیر کے لئے دیکھیے سورة روم کی آیت (9) کی تفسیر۔ (3) وما کان لھم من اللہ من واق :”واق“ اصل میں ”واقی“ ہے، جو ”وقی یقی وقایۃ“ (ض) سے اسم فاعل ہے، بچانے والا۔ یعنی ان سے زیادہ قوت و آثار والی اقوام پر ان کے گناہوں کی وجہ سے جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی تو انہیں اللہ تعالیٰ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔ اسی طرح جب ان لوگوں پر اللہ کا عذاب آیا تو انہیں بھی کوئی نہیں بچا سکے گا۔
Ayah 40:22

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ بیشک وہ لوگ، ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آتے رہے تو انھوں نے انکار کیا تو اللہ نے انھیں پکڑ لیا۔ بیشک وہ بہت قوت والا، بہت سخت سزا دینے والا ہے۔

ذلک بانھم کانت ثاتیھم …”البینات“ کا لفظ عام ہے، اس سے مراد معجزے بھی ہیں، روشن دلیلیں بھی اور واضح احکام و ہدایت بھی۔
Ayah 40:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور بلا شبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا۔

(1) ولقد ارسلنا موسیٰ … پچھلی آیات میں پہلے انبیاء کو جھٹلانے والی اقوام کے انجام کے ذکر میں جہاں موجود جھٹلانے والوں کے لئے عبرت اور ڈرانے کا سامان ہے وہیں رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کے لئے تسلی اور بشارت بھی ہے۔ اب رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کی مزید تسلی کے لئے موسیٰ اور فرعون کا واقعہ ذکر فرمایا، جس میں فرعون کا موسیٰ ؑ اور ایمان والوں کو ڈرانا دھمکانا خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں موسیٰ ؑ اور الہ ایمان کی شجاعت، ثابت قدمی اور پیش آنے والی مصیبتوں پر صبر کی تفصیل بیان فرمائی ہے، ساتھ ہی فرعون اور اس کے ساتھیوں کے عبرتناک انجام کا ذکر فرمایا ہے۔ مقصد رسول اللہ ﷺ کو حوصلہ دلانا ہے کہ آپ ان کفار کے جھٹلانے سے فکر مند نہ ہوں، آخر کار موسیٰ ؑ کی طرح آپ ہی کامیاب ہوں گے، میری مدد آپ کے ساتھ ہے۔ (2) بایتنا :”آیات“ سے مراد موسیٰ ؑ کے نو (9) معجزے ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (101)۔ (3) وسلطن نبی ن :”سلطن“ سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ ہیبت و رعب ہے جس کی وج سے فرعون اپنی فوجوں اور تمام تر قوت کے باوجود موسیٰ ؑ پر ہاتھ نہ اٹھا سکا، جیسا کہ فرمایا :(ونجعل لکما سلطناً فلایصلون الیکما) (القصص : 35)”اور ہم تم دونوں کے لئے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے۔“
Ayah 40:24

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انھوں نے کہا جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہے۔

(1) الی فرعون وھامن وق اورن :”فرعون“ اس زمانے میں مصر کے بادشاہ کا لقب ہوا کرتا تھا، ہامان اس کا وزیر تھا اور ق اورن سرمایہ دار منافق تھا، جو موسیٰ ؑ کی قوم میں سے ہونے کے باوجود فرعون کا ساتھی بن گیا تھا۔ (دیکھیے قصص : 76 تا 82) موسیٰ ؑ مصر کے تمام قبطیوں کی طرف بھیجے گئے تھے، مگر ان تینوں کا ذکر اس لئے فرمایا کہ یہ اپنی قوم کے سردار اور موسیٰ ؑ کے خلاف سازشیں کرنے میں پی پیش تھے، بای لوگ ان کے پیروکار تھے۔ (2) فقالوا سحر کذاب : موسیٰ ؑ کے واضح معجزات عصا اور یدبیضا کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ موسیٰ ؑ اور ان کے معجزات کے حق ہونے کے یقین کے باوجود ضا اور عناد کی وجہ سے انہوں نے ان کا صاف انکار کردیا (دیکھیے بنی اسرائیل : 102۔ نمل : 13، 14) اور پانی قوم کو دھوکا دینے کے لئے معجزوں کو جادو اور موسیٰ علیہ کو جادوگر اور کذاب کہہ دیا۔ ورنہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ موسیٰ ؑ جادوگر ہیں نہ جھوٹے، کیونکہ فرعون کے ملک میں جادوگر تو بیشمار تھے مگر کسی جادو گر سے یہ تو نہ ہوسکا کہ وہ اپنے جادو کے زور سے ملک بھر میں قحط مسلط کر دے اور جب اس قحط کو دور کرنے کی درخواست کی جائے تو وہ اپنے جادو کے زور سے بارشیں برسا کر قحط ختم کر دے، بلکہ جادوگروں نے تو بھرے میدان میں موسیٰ ؑ پر ایمان لا کر فرعون کی مکارانہ سازشوں کی قلعی کھول دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سورة ذاریات میں جھٹلانے والی تمام اقوام کا یہی رویہ بیان فرمایا ہے :(کذلک ما انی الذین من قبلھم من رسول الا قالوا ساحراً او مجنون اتواصوابہ بل ھم قوم طاعون) (الذاریات : 52، 53)”اسی طرح ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے، کوئی رسول نہیں آیا مگر انہوں نے کہا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ کیا انہوں نے ایک دوسرے کو اس (بات) کی وصیت کی ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ (خود ہی) سرکش لوگ ہیں۔“
Ayah 40:25

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

پس جب وہ ہمارے ہاں سے حق لے کر ان کے پاس آیا تو انھوں نے کہا ان لوگوں کے بیٹوں کو، جو اس کے ہمراہ ایمان لائے ہیں، قتل کرو اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں کافروں کی چال مگر سراسر ناکام۔

(1) فلما جآء ھم بالحق من عندناً …فرعون موسیٰ ؑ کی آمد سے پہلے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ (دیکھیے قصص : 4) موسیٰ ؑ کی آمد پر ان کے واضح معجزات دیکھ کر اور جادوگروں کے ساتھ مقابلے میں ناکام ہو کر وہ ایسا مرعوب ہوا کہ اس نے لڑکوں کو قتل کرنے کا سلسلہ روک دیا، مگر دن بدن ایمان لانے والوں میں اضافے کو دیکھ کر اس کے سرداروں نے اسے موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کے خلاف کارروائی پر بھڑکایا۔ اس سے پہلے وہ تمام بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرتے تھے، اب انہوں نے کہا کہ موسیٰ ؑ پر ایمان لانے والوں کے بیٹوں کو قتل کرو اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو۔ یہ بات فرعون نے نہیں بلکہ اس کے درباریوں نے کہی، فرعون نے ان سے ایسا کرنے کا وعدہ کرلیا، جیسا کہ سورة اعراف میں ہے :(سنقتل ابنآء ھم ونستخی نسآئھم) (الاعراف : 128) ”ہم ضرور ان کے بیٹوں کو بری طرح قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے۔“ مگر وہ ایسا نہ کرسکا۔ (2) وما کید الکفرین الا فی ضلل : اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ظاہر ہے کہ وہ اپنا ارادہ پورا نہ کرسکا اور اپنے منصوبے میں بھی ناکام رہا۔ قحط سالیوں، پیداوار کی کمی اور طوفان، ٹڈیوں، جوؤں، مینڈکوں اور خون کے پے در پے عذابوں نے اسے دم ہی نہیں لینے دیا کہ وہ دوبارہ یہ کام کرسکتا، حتیٰ کہ اسے اس کی قوم سمیت سمندر میں غرق کردیا گیا۔ مزید دیکھیے سورة اعراف (130 تا 136)
Ayah 40:26

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے رب کو پکارلے، بیشک میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا، یا یہ کہ زمین میں فساد پھیلادے گا۔

(1) وقال فرعون ذرونی اقتل موسیٰ : یہ کہہ کرعون ظاہر یہ کرنا چاہتا تھا کہ ابھی تک اس نے جو موسیٰ ؑ کو قتل نہیں کیا تو اپنے درباریوں اور سرداروں کے روکنے کی وجہ سے نہیں کیا۔ یہ بات اس نے محض رعب کا گانٹھنے کے لئے یا اپنے آپ کو ہمت دلانے کے لئے کہی، کیونکہ اندر سے وہ شدید خوف زدہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے ”نجعل لکما سلطناً فلا یصلون الیکما“ (ہم تم دونوں کے لئے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے۔ قصص : 35) کے فرمان کے ساتھ موسیٰ اور ہ اورن ؑ کو جو غلبہ اور رعب عطا فرما رکھا تھا، اس کے ہوتے ہوئے اس کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ انہیں قتل کرے، یا کوئی اور نقصان پہنچائے۔ رہے درباری، تو وہ نہ تو فرعون کو موسیٰ ؑ کے قتل سے روکتے تھے اور نہ ہی فرعون ان کی رائے کو پرکاہ کی وقعت دیتا تھا۔ (دیکھیے مومن : 29) اس نے اپنی پوری قوم کو اتنا بےوقعت بنادیا تھا کہ وہ ہر بات میں اس کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے، خواہ وہ عقل سے کتنی ہی دور ہو جیسا کہ فرمایا :(فاستخف قومہ فاطعوہ، انھم کانوا قوما فسقین) (الزخرف : 53)”غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بےوزن) کردیا تو انہوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقیناً وہ فرمان لوگ تھے۔“ (2) ولیدع ربہ : یہ بھی اس کی گیدڑ بھبکی تھی، ورنہ اسے اور اس کی قوم کو موسیٰ ؑ کے معجزات دیکھ کر یقین ہوچکا تھا کہ وہ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں بےیارو مددگار نہیں چھوڑے گا۔ اگر اسے یہ یقین نہ ہوچکا ہوتا تو اتنی افواج قاہرہ کا مالک ہونے کے باوجود کس نے اس کا ہاتھ موسیٰ ؑ کے قتل سے روک رکھا تھا۔ (3) انی اخاف یبدل دینکم : دین سے مراد کا عقیدہ اور اس پر مبین نظام سلطنت ہے، جس میں فرعون کو رب الاعلیٰ اور اس کے حکم کو واجب الاطاعت مانا جاتا تھا۔ یعنی مجھے خطرہ ہے کہ یہ تمہیں تمہارے اس دین اور اعتقاد کا منکر کر دے جس کے تحت تم مجھے اپنا رب سمجھ کر میری محکومی اور فرماں برداری پر مطمئن ہو اور اس طرح ملک میں اقنلاب برپا کر دے، گویا میں اسے تمہاری خاطر ہی قتل کرنا چاہتا ہوں۔ (4) او ان یظھر فی الارض الفساد : یعنی اگر وہ تمام اہل مصر کو آبائی دین کا منکر نہ کرسکے تو کم از کم یہ خطرہ تو ضرور ہے کہ ان میں سے بعض لوگوں کو توحید کا قائل کرلے اور بعض میری ربوبیت اور حاکمیت کے قائل رہیں، اس سے آئے دن ملک میںساد برپا رہے۔ یہ وہی انداز ہے جسے ہر مطلق العنان حاکم اندرونی یا بیرونی خطرے کا ہوا کھڑا کر کے اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے اختیار کرتا ہے۔ اس ظالم کو تو دیکھیے کہ موسیٰ ؑ کی دعوت کو جس سے لوگ راہ راست پر آرہے ہیں، فساد قرار دے رہا ہے، حالانکہ اصل فسادی وہ خود ہے، جیسا کہ سورة بقرہ میں ہے :(الا انھم ھم المفسدون ولکن لایشعرون) (البقرۃ : 12)”سن لو ! یقیناً وہی تو فساد ڈالنے والے ہیں اور لیکن وہ نہیں سمجھتے۔“
Ayah 40:27

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا بیشک میں نے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لی ہے ہر اس متکبر سے جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔

(1) وقال موسیٰ انی عذت بربی …: موسیٰ ؑ کو جب اس بات کا علم ہوا کہ فرعون مجھے قتل کرنا چاہتا ہے تو انہوں نے اس کے شر سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی۔ اللہ تعالیٰ کے خصا بندوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ دشمنوں سے بچنے کے لئے اپنے رب کی پناہ طلب کرتے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو جب کسی قوم (کے حملے) کا ڈر ہوتا تو (اللہ تعالیٰ سے) یہ دعا کرتے : (اللھم انا نجعلک فی نحورھم ونعوذ بک من شرورھم) (ابو داؤد، الوتر، باب مایقول الرجل اذا خاف قوما :1938، وصحجہ الالبانی)”اے اللہ ہم تھے ان کے مقابلے میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔“ ابراہیم ؑ کا آگ میں ڈالے جانے کے وقت ”خسنی اللہ و بغم الوکیل“ کہنا اور اصحاب الاخدود والے لڑکے کا ”اللھم اکفیھم بما شئت“ کہنا بھی وقت ”حسبی اللہ ویعم الوکیل“ کہنا اور اصحاب الاخدود والے لڑکے کا ”اللھم اکفینھم بما شئت“ کہنا بھی دشمنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی بہت عمدہ مثالیں ہیں۔ (دیکھیے بخاری :3063، مسلم : 3005) (2) عذت بربی : مطلب یہ ہے کہ میں اس ذات عالی کی پناہ لے رہا ہوں جس نے میری پرورش کی، مجھے نبوت کے مقام پر فائز کیا، تمام آفات و مصائب سے بچایا اور اتنی نعمتیں عطا کیں جن کا شمار نہیں۔ اس لئے فرعون اور ہر متکبر و جبار ظالم سے بھی مجھے وہی بچائے گا، سو میں اسی کی پناہ لیتا ہوں۔ (3) وربکم : اس میں موسیٰ ؑ اپنی قوم کو سبق دے رہے ہیں کہ ان کی طرح وہ بھی اپنے رب ہی کی پناہ مانگیں۔ (4) من کلم متکبر : صرف فرعون کے شر سے پناہ مانگنے کے بجائے ہر متکبر کے شر سے پناہ مانگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا میں وسعت اور جامعیت ہونی چاہیے، جیسا کہ اس دعا میں ہر دشمن سے پناہ کی درخواست آگئی ہے، خواہ اس کی عداوت ظاہر ہو یا مخفی اور وہ دشمن اکیلا ہو یا جماعت۔ (5) لایومن بیوم الحساب : اس سے معلوم ہوا کہ ظلم اور قتل ناحق وہی کرتا ہے جو متکبر ہو (یعنی حق کا انکار کرتا ہو اور لوگوں کو حقیر جانتا ہو) اور حساب کے دن کا یقین نہ رکھتا ہو۔ ورنہ جو حق قبول کرنے والا ہو اور اسے باز پرس کا یقین ہو وہ کیسے ظلم کرسکتا ہے۔