Ayah 40:51(1) انا لمنصر رسلنا والذین امنوا…سورت کی ابتدا سے یہاں تک آیات کا حاصل یہ تھا کہ نوح ؑ کی قوم نے اور ان کے بعد آنے والے رسلووں کی امتوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا، حق کو شکست دینے کیلئے باطل طریقے سے کج بحثی کی اور ہر ایک نے اپنے رسول کو گرفتار کرنے کا ارادہ کیا، مگر وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں ہلاک کیا اور آخرت میں ان کے لئے شدید ترین عذاب رکھا۔ موسیٰ ؑ اور ان کا دفاع کرنے والے مومن کی بھی ا سی طرح مدد فرمائی، مگر اللہ تعالیٰ کی اپنے لوگوں کے ساتھ امداد مخفی ہوتی ہے۔ پہلے کئی طرح سے ان کی آزمائش ہوتی ہے، پھر انجام ان کے حق میں ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کی نظر چونکہ ظاہری اسباب پر ہوتی ہے اور وہ ایمانی فرسات سے محروم ہوتے ہیں، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی مدد نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان واقعات کے ذکر کے بعد جن میں ”ان“ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا بیان ہے، اب ”ان“ اور لام تاکید کے ساتھ اور پانی عظمت کے اظہار کے لئے اپنا ذکر جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ کرتے ہوئے نہایت زور دار الفاظ میں فرمایا :(انا لمنصر رسلنا والذین امنوا) کہ بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں، خواہ وہ کسی کی سمجھ میں آرہی ہو یا نہ، ہمارا قاعدہ یہی ہے۔
(2) فی الحیوۃ الدنیا : یہاں ایک سوال ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کئی رسول دنیا میں اپنی قوم پر غالب نہ آسکے، کئی انبیاء قتل ہوئے، ایمان والوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ پھر اتنی تاکید کیساتھ یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں، دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے ؟ جو اب اس کا یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں رسولوں اور مومنوں کی مدد کی کئی صورتیں ہیں۔ سب سے بڑی مدد تو یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں حق پر ثابت قدم رہتے ہیں، بڑے سے بڑے لالچ یا بڑی سے بڑی آزمائش حتیٰ کہ شہادت کی صورت میں بھی ان کے قدم ایمان سے نہیں ڈگمگاتے۔ یہ استقامت اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت کے بغیر کبھی حاصل نہیں ہوسکتی، جیسا کہ فرمایا :(ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تنزل علیھم الملٓئکۃ الا تغافوا ولا تخزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون نحن اولیو کم فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ) (حم السجدہ :3130)”بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارے رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کے ساتھ خوش ہوجاؤ جس کا تم وعدہ دیئے جاتے تھے۔ ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی۔“ اس نصرت کی ایک مثال اصحاب الاخدود ہیں۔ ایک صورت مدد کی یہ ہے کہ دلیل وبرہان کے لحاظ سے وہ ہمیشہ اپنے دشمنوں پر غالب رہتے ہیں جیسا کہ فرعن نے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود دلیل کے میدان میں شکست کھائی، حتیٰ کہ وہ جادو گر جو مقابلے پر لائے گئے تھے، سجدے میں گرگئے اور ایمان لے آئے۔ ایک صورت مدد کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی ذہنی اور قلبی برتری عطا فرماتا ہے کہ ہر قسم کی قوت و شوکت اور ملک و سلطنت کے باوجود ان کی نظر میں کفار کی حیثیت گھاس کے ایک تنکے سے بھی کم ہوتی ہے۔ ایک صورت مدد کی یہ ہے کہ ان کے دشمنوں سے دنیا میں ان زیادتیوں کا بدلا لیا جاتا ہے جو وہ رسولوں اور ایمان والوں پر کرتے رہے۔ (دیکھیے روم : 47) پھر خواہ وہ بدلا رسول کی موجودگی میں لیا جائے، جیسا کہ قوم نوح اور عاد ثمود کے ساتھ وہا، خواہ رسول کے بعد لیا جائے، جیسا کہ بنی اسرائیل کے اپنے بعض رسولوں کو قتل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے سخت لڑائی والے بندے مسلط کر کے انہیں نہایت عبرت ناک سزا دی، جیسا کہ سوہ بنی اسرائیل کے شروع میں مذکور ہے اور جن یہودیوں نے عیسیٰ ؑ کو سولی دینے کا منصوبہ بنایا ان پر رومیوں کو مسلط کیا گیا، جنہوں نے انہیں ہر طریقے سے ذلیل و خوار کیا اور وہ دنیا میں ایسے منتشر ہوئے کہ آج تک کسی نہ کسی قوم کی پناہ کے بغیر کسی جگہ ان کا قیام مشکل ہے۔ (دیکھیے سورة بنی اسرائیل : 4 تا 7) اور مدد کی ایک صورت یہ ہے کہ انہیں دنیا میں مادی لحاظ سے فتح و نصرت اور حکومت و سلطنت عطا کردی جائے جیسا کہ داؤد اور سلیمان ؑ کی مدد ہوئی۔ ان صورتوں میں سے کسی نبی کو صرف ایک قسم کی مدد حاصل ہوئی، کسی کو دو قسم کی اور کسی کو زیادہ کی۔ ہمارے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ ہر قسم کی مدد سے فیض یاب ہوئے۔
(3) ویوم یقوم الاشھاد :”الاشھا ”‘ ”شاھ ”‘ کی جمع بھی ہوسکتی ہے، جیسے ”ضاحب“ کی جمع ”اضحاب“ ہے اور ”شھی ”‘ کی بھی، جیسے ”شریف“ کی جمع ”اشراف“ ہے۔ یعنی اس دن بھی ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی مدد کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ مراد قیامت کا دن ہے جب انبیائ، فرشتے، اہل ایمان، زمین اور انسان کے اعضا آدمی کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اس دن اللہ تعالیٰ مومنوں کو جنت عطا فرما کر اور ان کے دشمنوں کو جہنم میں پھینک کر اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی مدد فرمائے گا۔ دیکھیے سورة مطففین (29 تا 36)۔
Ayah 40:52(1) یوم لاینفع الظلمین معذرتھم : ”الظلمین“ سے مراد مشرک ہیں۔ (دیکھیے انعام : 82) انہیں ان کی معذرت اس لئے فائدہ نہیں دے گی کہ ان کے پاس کوئی صحیح عذر ہوگا ہی نہیں۔ رسولوں کے پیغام پہنچانے کی وجہ سے لاعلمی کا عذر ہو کر نہیں سکیں گے۔ اس دن ان کے پاس عذر یا تو صریح جھوٹ ہوگا کہ وہ کہیں گے (واللہ ربنا ما کنا مشرکین) (الانعام : 22)”اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے، ہم مشرک نہیں تھے۔“ یا تقدیر کا عذر کر کے اپنے آپ کو بےقصور ثابت کرنے کی کوشش کریں گے جیسا کہ سورة مومنوں میں ان کا قول ہے (ربنا غلبت علینا شقوتنا) (المومنون : 106)“ اے ہمارے رب ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی۔“ ظاہر ہے ان میں سے کوئی عذر اس قابل ہی نہیں کہ سنا جائے، فائدہ پہنچانا تو بہت دور کی بات ہے۔
(2) ولھم اللعنۃ ولھم سوء الدار : ”لھم“ کو پہلے لانے سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے : ”اور انھی کے لئے لعنت ہے اور انھی کے لئے بدترین گھر ہے۔“ یہ اللہ تعالیٰ کی نصفرت کا نتیجہ ہے کہ اللہ کے رسول اور ایمان والے اس دن لعنت اور بدترین گھر دونوں سے محفوظ رہیں گے۔
Ayah 40:53(1) ولقد اتینا موسیٰ الھدی : اس آیت میں اس نصرت کا بیان ہے جس کا ذکر پچھلی آیت ”انا لننصر رسلنا ‘ میں ہوا۔ واؤ کے ساتھ عطف اس بات پر ہے جس کا ذکر پیچھے گزرا اور جو یہاں مقدر ہے کہ ”ہم نے موسیٰ اور ایمان والوں کی مدد فرعون اور اس کے لشکروں کو غقر کر کے انہیں نجات دینے کے ساتھ کی“ اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو ہدایت عطا فرمائی۔ اس ہدایت میں نبوت، معجزات تورات اور ہر مشلک میں رہنمائی سب شامل ہیں۔
(2) واورثنا بنی اسرآئیل الکتب : نبوت تو موسیٰ ؑ کو ملی اور وہ صرف نبی ہی کو ملتی ہے، البتہ اس کی کتاب اور اس کے علوم کی وارث اس کی امت بنتی ہے، جیسا کہ ابو درداء ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے۔ (ان العلماء ورثۃ الانبیاء و ان الانبیاء لم یورثوا دیناراً ولا درھما ورثوا العلم، فمن اخذہ اخذ بحظ وافر) (ابو داؤد، العلیم، باب فی فضل العلم :3631)”علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار اور درہم کا وارث نہیں بنایا، انہوں نے صرف علم کا وارث بنایا۔ تو جس نے اسے حاصل کرلیا، اس نے بہت زیادہ حصہ حاصل کرلیا۔“ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو ملنے والی کتاب تورات کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا، وہ نسلاً بعد نسل اسے پڑھتے پڑھاتے اور اس پر عمل کرتے رہے۔
Ayah 40:54(1) ھدی وذکری :”ھدی“ اور ”ذکری“ دونوں مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہیں، یعنی ایسی ہدایت دینے والی اور نصیحت کرنے والی کہ اس کا وجود ہی سرا سر ہدایت اور نصیحت تھا۔ ”ذکری“ کا معنی نصیحت بھی ہے۔ یاد دہانی بھی، یعنی وہ کتاب انہیں پیش آنے والے معاملات میں رہنمائی بھی کرتی تھی اور بھولی ہوئی چیزیں مثلاً موت ، قبر، آخرت اور نجت و جہنم وغیرہ یاد دلا کر نصیحت بھی کرتی تھی۔ دوسری جگہ تورات کے متعلق فرمایا :(انا انزلنا الثورۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا والربینون و الاحبار بما استحفظوا من کتب اللہ و کالوا علیہ شھدآء) (المائدۃ : 33) ”بیشک ہم نے تورات اتاری جس میں ہدایت اور روشنی تھی، اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے انبیاء جو فرماں بردار تھے، ان لوگوں کے لئے جو یہودی بنے اور رب والے اور علماء اس لئے کہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائیگئے تھے اور وہ اس پر گواہ تھے۔“
(2) لاولی الالباب :”الالباب“ ”لب“ کی جمع ہے، عقل۔ یعنی اس کتاب سے ہدایت اور نصیحت صرف عقلوں والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ہر جگہ ”الالباب“ کا لفظ جمع ہی آیا ہے۔ یعنی اللہ کی کتاب میں ان لوگوں کے لئے ہدایت اور نصیحت نہیں جو عقل نہیں رکھتے، یا جو صرف دنیا کے ظاہری معاملات کی عقل رکھتے ہیں، جیسا کہ کفار کے متعلق فرمایا :(ولکن اکثر الناس لایعلمون یعلمون ظاھراً من الحیوۃ الدنیا ، وھم عن الاخرۃ ھم غفلون) (الروم : 86)”اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ وہ دنیا کی زندگی کے کچھ ظاہر کو جانتے ہیں اور وہ آخرت کی بھی۔ میں نے ہر جگہ قرآن کے الفاظ کے مطابق ”اولوا الالباب“ کا ترجمہ ”عقلوں والے“ کیا ہے، جب کہ عام طور پر اس کا ترجمہ ”عقلو الے“ کیا جاتا ہے۔ یقینا قرآن مجید کے الفاظ پر غور کرنے سے عجیب اسرار کھلتے ہیں۔
Ayah 40:55(1) فاصبر ان وعد اللہ حق : موسیٰ ؑ کو فرعون اور آل فرعون کی طرف سے جو ایذائیں پہنچیں، جن پر انہوں نے صبر کیا اور اس کے انعام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی تائید و نصرت سے نوازا، اس کے ذدکر کے بعد اب ہمارے نبی کریم ﷺ کو اور آپ ﷺ کے واسطے سے امت کے ہر آدمی کو تلقین کی جا رہی ہے کہ وہ دعوت حق میں پیش آنے والی مشکلات اور کفار کی طرف سے ملنے والیا یذاؤں پر صبر کریں، یقینا اللہ تعالیٰ کا مدد کا وعدہ حق ہے، اس لئے بےصبری یا جلد بازی مت کریں، جیسا کہ فرمایا :(فاصبر کما صبر اولوا العزم من الرسل ولا تستغجل لھم) (الاحقاف : 35) ”پس صبر کر جس طرح پختہ ارادے والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لئے جلدی کا مطالبہ نہ کر۔“
(2) واستغفر لذنبک : اس میں آپ ﷺ کو اور امت کے ہر فرد کو استغفار کا حکم ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے :(واللہ ! انی لاستغفر اللہ وتوب الیہ فی الیوم اکثر من سبعین مرۃ) (بخاری ، الدعوات، باب استغفار النبی ﷺ فی الیوم واللیلۃ : 6308)”اللہ کی قسم ! میں ہر روز ستر (70) سے زیادہ مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔“
یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو رسول اللہ ﷺ کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیئے تھے، جیسا کہ سورة فتح (2) میں ہے، پھر استغفار کا حکم کیوں دیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سورة مومن مکی سورت ہے، جو اس بشارت سے پہلے کی ہے، اس لئے اس پر یہ سوال وارد ہی نہیں ہوتا، جب کہ سورة فتح 6 ہجری میں اتری۔ البتہ سورة نصر میں مذکور آیت (3) :(فسبح بحمد ربک واستغفرہ) پر یہ سوال وارد ہوتا ہے، کیونکہ یہ سورت فتح مکہ کے بعد نبی ﷺ کی وفات کے قریب اتری۔ ام المومنین عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں (کان النبی ﷺ یکثر ان یقول فی رکوعہ وسجودہ سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفر لی یتاول القرآن) (بخاری، الاذان ، باب التسبیح والدعا، فی السجود :818)”رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجود میں کثرت سے کہا کرتے تھے :”سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفرلی“”اے اللہ ! ہمارے پروردگار ! تو (ہر عیب سے) پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ ! مجھے بخش دے“ آپ قرآن کے حکم پر عمل کرتے تھے۔“ جواب اس کا یہ ہے کہ ہر آدمی کا گناہ اس کے متر بےکو پیش نظر رکھ کر ہوتا ہے۔ سید الانبیاء ﷺ معمولی سی غفلت کیلئے بھی استغفار ضروری سمجھتے تھے۔ اغرمزنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(انہ لیعان علی قلبی وانی لاستغفر اللہ فی الیوم مائۃ مرۃ) (مسلم ، الذکر والدعا، باب استحباب الاستغفار والاستکتار منہ :2802)”میرے دل پر ہلکا سا پردہ آجاتا ہے اور میں دن میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں۔“ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”حضرت رسول خدا (ﷺ) دن میں سو سو بار گناہ سے استغفار کرتے تھے۔ ہر بندے سے تقصیر ہوتی ہے، اس کے موافق پہر کسی کو استغفار ضروری ہے۔“ (موضح)
(3) بعض حضرات کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں جہاں بھی رسول اللہ ﷺ کو اپنے گناہوں سے استغفار کا حکم ہے، اس سے مراد امت کے گناہوں کے لئے استغفار ہے، مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ سورة محمد (ﷺ) میں یہ تاویل ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فاعلم انہ لا الہ الا اللہ واستغفر لذنبک و للمومنین و المومنت واللہ یعلم متقلبکم و مثولکم) (محمد : 19) ”پس جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہ کی معافی مانگ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی اور اللہ تعالیٰ تمہارے چلنے پھرنے اور تمہارے ٹھہرنے کو جانتا ہے۔“
(4) وسبح بحمد ربک بالعشی والابکار : اللہ تعالیٰ کی مدد کے وعدے کا حق دار بننے کے لئے صبر اور استغفار کے ساتھ ساتھ صبح و شام رب تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرتے رہنے کا حکم دیا۔ اس میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا بھی شامل ہے اور نماز بھی، کیونکہ صبر اور نماز ہی اللہ تعالیٰ سے استعانت کا ذریعہ ہیں، جیسا کہ فرمایا :(واستعینوا بالصبر والصلوۃ) (البقرہ : 75) ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ تسبیح و تحمید سے مراد نماز ہونے کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة طہ (130) کی تفسیر۔
Ayah 40:56(1) ان الذین یجادلون فی ایت اللہ …: اس میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو ٹھکرانے کے لئے جھگڑتے اور کج بحثی کرتے ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ ان آیات کو سمجھنا کچھ مشکل ہے، یا ان کے مضامین (توحید، قیامت اور رسالت وغیرہ) کے لئے بیان کردہ دلائلکم یا کمزور ہیں، بلکہ اس کا باعث ان لوگوں کا اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور اپنے مقام سے بہت اونچا بننے کی خواہش و کوشش ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی رسول پر ایمان لا کر اس کے تابع فرمان ہونا انہیں گوارا ہے۔ چناچہ وہ اپنی جھوٹی بڑائی برقرار رکھنے کے لئے رسول کو جھٹلاتے ہیں، حق کا انکار کرتے ہیں، مسلمانوں کو حقارت سے دیکھتے ہیں اور انہیں نیچا دکھانے کے لئے ہر ذلیل سے ذلیل حربہ اختیار کرتے ہیں۔
(2) ماھم ببالغیہ :”بائ“ کے ساتھ ”ما“ نافیہ کی تاکید ہو رہی ہے، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے ”جس تک وہ ہرگز پہنچنے والے نہیں۔“ یعنی ان جھوٹے اور حقیر لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں اپنے لئے جو بڑائی سوچ رکھی ہے وہ انہیں ہرگز میسر نہیں ہو سکے گی اور نہ ہی وہ کسی صورت اس مقام تک پہنچنے والے ہیں۔
(3) فاستعذ باللہ : یعنی جس طرح موسیٰ ؑ نے فرعون کی طرف سے قتل کی دھمکی پر ہر متکبر سے رب تعالیٰ کی پناہ مانگی، جو یوم حساب پر ایمان نہ رکھتا ہو، اسی طرح آپ بھی ایسے تمام متکبروں اور ان کی ظاہری مخالفت اور پوشیدہ سازشوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں۔
(4) ان ھو السمیع البصیر : وہی ہے جو ہر بلند اور آہستہ آہستہ بات کو سنتا اور ہر ظاہر اور پوشیدہ کو دیکھتا ہے۔ وہی آپ کو ہرق سم کے نقصان سے بچا سکتا ہے اور بچائے گا۔
Ayah 40:57لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس … : یہاں سے ان بنیادی عقائد کو ایک بار پھر دلائل سے ثابت کیا جا رہا ہے جن کا کفار انکار کرتے اور اس مقصد کے لئے کج بحثی اور جھگڑا کرتے تھے۔ کفار قریش اور ان کے ہم خیال لوگ قیامت کا انکار کرتے ہئے کہتے تھے کہ جب ہم مرکز مٹی ہوگئے تو کیسے ہوسکتا ہے کہ دوبارہ زندہ ہوں۔ ان کے مطابق یہ ممکن ہی نہیں اور عقل کسی صورت اسے تسلیم نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یقینا آسمانوں اور زمین کو کسی نمونے اور پہلے سے موجود کسی مادے کے بغیر پیدا کرنا انسانوں کو پہلی دفعہ پیدا کرنے سے یا دوبارہ پیدا کرنے سے بہت ہی بڑا کام ہے۔ تو جس نے اتنے بلند اور وسیع و عریض آسمانوں کو ان میں موجود بیشمار مخلوقات، لامحدود کہکشاؤں اور سیاروں سمیت پیدا کردیا ہے اور اتنی بڑی زمین اور اس میں موجود بیشمار مخلوق پیدا کردی ہے، اس کے لئے انسانوں کو دوبارہ زنادہ کردینا کیا مشکل ہے۔ ظاہر ہے بڑی چیز بنانے والے کے لئے چھوٹی چیز بنانا بالکل آسان عے، مگر اکثر لوگ اتنی واضح اور آسان بات کو بھی نہیں جانتے اور یہی کہے جاتے ہیں کہ مٹی ہو کر ہم کیسے زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کو انسان کی دوبارہ پیدائش کی دلیل کے طور پر متعدد مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة یٰسین (81) ، صافات (11) ، بنی اسرائیل (99) احقاف (33) اور نازعات (27 تا 33)۔
Ayah 40:58(1) وما یستوی الاعی و البصیر…: یہ بھی قیامت کی دلیل ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اندھا اور بینا برابر نہیں، اسی طرح وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے صالح عمل کئے اور جنہوں نے کفر کیا اور برے عمل کئے، دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ تو اگر قیامت کا انکار کیا جائے اور اس دن پر ایمان نہ رکھا جائے جس میں سب لوگ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے اور ہر نیک و بد کو اس کی جزا یا سزا ملے گی، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بینا و نابینا ایک ہیں اور نیک و بد برابر ہیں۔ بلکہ ایک حساب سے برے اعمال کرنے والا زیادہ فائدہ میں ہے کہ وہ ساری عمر من مانی بھی کرتا رہا۔ دل میں آنے والی ہر بری خواشہ بھی پوری کرتا رہا، اس کے باوجود کسی نے نہ اسے پوچھا نہ پوچھے گا کہ تم نے یہ ظلم وتعدی کیوں اختیار کئے رکیھ۔ ظاہر ہے ایسا نہیں ہوسکتا عقل سلیم اس کا انکار کرتی ہے۔ اس لئے لازم ہے کہ قیامت قائم اور بینا و نابینا برابر نہ ہوں اور نہ ہی نیک و بد یکساں ہوں۔
(2) یہاں ایک سوال ہے کہ ”والذین امنوا وعملوا الصلحت“ جمع ہے، جب کہ اس کا مقابل ”ولا المسٰٓنی“ واحد ہے اس میں کیا حکمت ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کے بیان کا حسن ہے کہ ایک لمبی بات کو مختصر الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔ اس کے لئے ایک جانب کے الفاظ کر کئے گئے ہیں اور ان کے مقابل حذف کر کردیئے گئے ہیں۔ اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔ گویا پوری عبارت یہ تھی ”وما یستوی الذین امنوا و عملوا الصالحات والذین کفروا و عملوا الفتالح و لا المسی، والمحسن“ یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے صالح عمل کئے اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہو قبیع عمل کئے وہ برابر نہیں اور نہ ہی برائی کرنے والا اور نیکی کرن والا برابر ہے۔ (مہاتمی کچھ تصیل کے ساتھ)
(3) قلیلاً ماتذکرون : منکرین قیامت کو فرمایا تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو، حالانکہ قیامت کے دن بالکل واضح ہیں۔
Ayah 40:59(1) ان الساعۃ لاتیۃ لاریب فیھا، وہ بات جو اس سے پہلی وہ آیات میں دلیلوں کے ساتھ بیان فرمائی۔ اب نہایت صریح الفاظ میں ”ان“ اور ”لام“ کی تاکید کے ساتھ بیان فرمائی۔ ان دونوں لفظوں کا اکٹھا آنا اہل عرب کے ہاں تاکید کی قوت میں قسم کے برابر ہے۔ پھیل آیات میں قیامت کے حق ہونے کی دلیلیں ذکر فرمائیں، اب کائنات کے خلالق ومالک نے قسم کھا کر فرمایا آنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قسمک ھا کر یہ بات کہنا بجائے خود دلیل ہے اور سب سے بڑی دلیل ہے۔
(2) ولکن اکثر الناس لایومنون : اور لیکن اکثر لوگ اتنی واضح اور سچی بات ماننے کے لئے تیار نہیں کیونکہ اسے ماننے کے بعد انہیں اپنی سرکش خواہشوں اور لذتوں کو ترک کر نا پڑتا ہے، جس کے لئے وہ تیار نہیں ہیں۔ مزید دیکھیے سورة قیامہ (5)۔
Ayah 40:60(1) وقال ربکم ادعونی استجب لکم …: آخرت کی یاد دہانی کیساتھ ہی توحید کی تاکید فرمائی، جو رسول اللہ ﷺ اور کفار کے درمیان جھگڑے کی سب سیب ڑی وجہ تھی۔ آیت کے آخر میں جہنم کے ذکر ک صورت میں آخرت کا تذکرہ بھی فرما دیا۔
(2) ”’ عا“ کا واحد حق دار ہونے کی دلیل کے طور پر اپنا تعارف ”ربکم“ (تمہارا رب) کے لفظ کے ساتھ کروایا کہ ”اعونی“ (مجھے پکارو) کا حکم تمہیں وہ دے رہا ہے جو ہر لمحے کسی کی شرکت کیب غیر تمہاری پرورش کر رہا ہے اور تمہاری ہر ضرورت پوری کر رہا ہے۔
(3) تمہارے رب نے فرمایا : تم مجھے پکارو ، مجھ سے مانگو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، میں تمہیں دوں گا۔ نہ مجھ سے بدگمان ہو ، نہ کسی اور کو پکارتے یا اس سے مانگتے پھرو، یہ سمجھ کر کہ وہ تمہیں کچھ دے گا، یا تمہاری درخواستیں میرے دربار سے منظور کروا دے گا۔
(4) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مطلقاً دعا قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، مگر دوسری جگہ قبولیت کے وعدے کے ساتھ کچھ شرطیں بھی ذکر فرمائیں، فرمایا :(واذا سالک عبادی عنی فانی قریب، اجیب دعوۃ الداع اذا دعان فلین تجیب وا لی ولیومنوا بی لعلھم یرشدون) (البقرہ : 186) ”اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بیشک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ دعا تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں ضرور قبول ہوتی ہے، یا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا جلد قبول کرل یتا ہے، یا آخرت میں اس کا ذخیرہ کرلیتا ہے، یا اس سے اتنی برائی ٹال دیتا ہے۔ (دیکھیے مسند احمد : 318، ح : 1139، صحیح) دعا کی قبولیت کی شرطوں اور صورتوں کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورة بقرہ (186) کی تفسیر
5۔ ان الذین یستکبرون عن عبادتی : یہ جملہ دلیل ہے کہ دعا ہی عبادت اور پکارنا ہی بندگی ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور اس سے فریاد کرتا ہے وہ اس کی عبادت کرتا ہے اور جو مافوق الاسباب اشیاء کے لیے اس کے سوا کسی اور کو پکارتا ہے، یعنی ”یا علی مدد“ کہتا ہے، یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا للہ کہتا ہے، بہاؤالحق یا کسی خود ساختہ داتا، دستگیر گنج بخش یا غریب نواز کو پکارتا ہے اور ڈوبتی کشتی کو کنارے لگانے کی درخواست کرتا ہے، درحقیقت وہ اس کی عبادت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کرتا ہے، جو اس کے ہاں ناقابل معافی ہے۔ یہ کہنا کہ ہم ان بزرگ ہستیوں کو صرف پکارتے ہیں، ان کی عبادت نہیں کرتے، سراسر دھوکا ہے، جو مشرک اپنے آپ کو اور اللہ کے بندوں کو دے رہے ہیں، کیونکہ پکارنا ہی تو عبادت ہے۔ نعمان بن بشیر ؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان وقال ربکم ادعونی استجب لکم کے متعلق نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا : الدعاء مخ العبادۃ، پکارنا ہی بندگی ہے۔ اور آپ نے یہ آیت پڑھی وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ (ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة البقرۃ : 2969، وقال الالبانی صحیح)
6۔ ان الذین یستکبرون عن عبادتی : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کے منکروں کے جھگڑے اور کج بحثی کا سبب بیان فرمایا تھا کہ وہ محض ان کے دلوں کا کبر اور جھوٹی بڑائی ہے جو انہیں کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اب فرمایا کہ جو لوگ اس کبر میں مبتلا ہیں، میری آیات اور میرے رسولوں پر ایمان نہیں لاتے اور مجھ سے دعا نہیں کرتے وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ دنیا میں وہ جس قدر اونچے بنتے تھے قیامت کے دن اتنے ہی ذلیل و حقیر ہوں گے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگنا، نہ مانگننا غرور ہے۔ اگر دنیا نہ مانگے تو مغفرت ہی مانگے۔ (موضح)
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا یحشر المتکبرون یوم القیامۃ امثال الدر فی صور الرجال یغشاہم الذل من کل مکان فیساقون الی سجن فی جہنم یسمع بولس تعلوھم نار الانیار یسقون من عصارۃ اھل النار طینۃ الخبار۔ (ترمذی، صفۃ القیامۃ ولرقائق، باب ماجاء فی شدۃ الوعید للمتکبرین : 2492، وقال البانی حسن) تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح آدمیوں کی شکل میں اٹھایا جائے گا، ہر طرف سے ذلت انہیں ڈھانک رہی ہوگی، پھر انہیں جہنم میں ایک قید خانے کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا، جس کا نام ”بولس“ ہے۔ ان پر آگوں کی آگ چڑھ رہی ہوگی، انہیں جہنمیوں کے جسموں سے نکلنے والا لہو اور پیپ پلائی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے کہ اس سے مانگا جائے، ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انہ من لم یسال اللہ یغضب علیہ (ترمذی، الدعوات، باب منہ : 3373، وحسنہ الالبانی) جو اللہ تعالیٰ سے نہ مانگے اللہ تعالیٰ اس پر غصے ہوجاتا ہے، کیا خوب کہا ہے کہنے والے نے
اللہ یغضب ان ترکت سوالہ وتری ابن ادم حین یسال یغضب
اللہ تعالیٰ غصے ہوتا ہے اگر تو اس سے مانگنا چھوڑ دے اور تو ابن آدم کو دیکھے گا کہ جب اس سے مانگا جائے تو غصے ہوتا ہے۔
Ayah 40:611۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بیان کرتے ہوئے توحید اور آخرت دونوں مضامین ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
2۔ والنھار مبصرا۔ اس جملے میں احتباک ہے، یعنی دو جملوں کا ایک ایک حصہ دوسرے جملے کے قرینے کی وجہ سے حذف کردیا ہے، جو کلام کے کمال جامعیت اور بلاغت کا آئینہ دار ہے، مفصل عبارت یوں تھی۔ اللہ الذی جعل لکم اللیل مظلما لتسکنوا فیہ والنھار مبصرا لتعملوا فیہ،۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رات کو تاریک بنادیا، تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا، تاکہ تم اس میں کام کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ نعمت متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے یاد کروائی ہے۔ دیکھئے سورة یونس 67، فرقان 47 بنی اسرائیل 12 قصص 71 تا 73 اور لقمان 29۔
3۔ ان اللہ لذو فضل علی الناس : لذو فضل پر تنوین تعطیم کے لیے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو کچھ عطا فرمایا ہے (زمین و آسمان، رات دن، سورج، چاند اور خود ان کا وجود وغیرہ) وہ ان کا اللہ پر کوئی حق یا قرض نہیں بلکہ محض اس کا فضل ہے اور فضل بھی بہت بڑا کہ اس نے انہیں ضرورت کی ہر چیز بخشی، فرمایا : واتاکم من کل ما سالتموہ۔ وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (ابراہیم : 34) اور تمہیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ پاؤگے۔ پھر انہیں عقل وتمیز عطا فرما کر مہلت بخش اور نافرمانیوں کے باوجود فورا گرفت نہیں فرمائی۔ مومن و کافر سب کو نعمتوں سے نوازتا ہے۔ یہ سب اس اکیلے کی پیدا کردہ اور عطا کردہ نعمتیں۔
4۔ ولکن اکثر الناس لا یشکرون : جب اس اکیلے نے رات دن کا یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور یہ تمام نعمتیں عطا فرمائی ہیں، کسی اور کا ان میں ذرہ برابر دخل نہیں، تو حق تو یہ تھا کہ اس کا شکر ادا کرتے، صرف اسی کو اپنا رب مانتے، اسی سے دعا کرتے اور اس کی آیات اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے، مگر ایسے لوگ بہت کم نکلے۔ اکثر لوگ ان نعمتوں کی قد نہیں کرتے، بلکہ مالک کے ساتھ شریک بنا کر اس کی ناشکری اور غداری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر روز انہیں نیند اور بیداری کی صورت میں موت کے بعد زندگی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ حق یہ تھا کہ اس روزانہ کے موت و حیات کے مشاہدے کے بعد قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے تمام مخلوق کو زندہ کرنے کی قدرت پر ایمان رکھتے اور اس دن کے لئے تیاری کرتے، مگر انہوں نے اللہ کی نعمتوں کا شکر نہیں کیا، بلکہ ناشکری کی اور قیامت کے انکار پر جمے رہے۔
Ayah 40:62(1) ذلکم اللہ ”ذلکم“ اسم اشارہ بعید کیلئے استعمال ہوتا ہے، مگر یہاں قریب کیلئے استعمال ہوا ہے۔ قریب کے لئے اسم اشارہ بعید لا کر اس ذات کی عظمت و بلندی اور اس کے انسانی سوچ سے بےحساب بالاتر ہونے کا اظہار مقصود ہے اور ”ذلک“ کے بجائے ”ذلکم“ کے استعمال کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة یوسف کی آیت (32) (قالت فذالکن الذی لمنتنی فیہ) کی تفسیر۔
(2) خبر معرفہ ہو تو کلام میں حصر پیدا ہوتا ہے، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے ”یہی ہے اللہ تمہارا رب۔“ یاں ”ذلکم“ مبتدا ہے، جس کے بعد چار خبریں ہیں۔ یعنی وہ جس کے متعلق تم نے ابھی سنا کہ وہ آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، جو رات کو سکون کے لئے تاریک اور دن کو حرکت و عمل کیلئے روشن بنانے ولا ہے، اسی کا نام اللہ ہے (جس میں تمام صفات کمال جمع ہیں) کوئی اور اللہ ہونے کا دعوے دار ہے تو لاؤ۔ زمین و آسمان اور لیل و نہار کو پیدا کرنے اور چلانے والے کے سوا کوئی نہیں کہہ سکے گا کہ میں اللہ ہوں۔
(3) ربکم : یہی تمہارا رب ہے، تمہاری پرورش کرنے والا اور تمہیں ضرورت کی ہر چیز مہیا کرنے والا۔ اس کے علاوہ اور کوئی تمہارا رب نہیں۔
(4) خلق کل شیء : زمین و آسمان اور دن رات ہی کا نہیں بلکہ وہ ہر چیز کا خلاق ہے، اسی کے سوا کسی نے ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة حج (73، 74)۔
(5) لا الہ الا ھو : یہ چوتھی خبر ہے جو پہلے سارے کلام کا خلاصہ ہے کہ (یہ جو رات کو سکون والا اور دن کو روشن بنانے والا ہے) (1) یہی اللہ (تمام صفات کمال کا جامع) ہے۔ (2) یہی رب ہے۔ (3) یہی ہر چیز کا خلاق ہے۔ (4) اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
(6) فانی توفکون :”انی“ اصلمیں جگہ کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے، یعنی ”کہاں سے ؟ کس جگہ سے ؟“ مگر موقع محل کے مطابق کیفیت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، یعنی ”کس طرح ؟ کیسے ؟“ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اکیلا مستحق عبادت اور پکارنے کے لائق ہونا ان دلائل کی روشنی میں بالکل واضح ہے، پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں سے کسی نے تمہیں اس کی عبادت سے پھیر کر اس مخلوق کی عبادت اور اسے پکارنے کی طرف لگا دیا جس کا اپنا وجود اس کے اختیار میں نہیں ؟ اور تم کس طرح اس واضح اور روشن راستے سے بھٹک کر شرک و ضلالت کے اندھیروں میں گم ہو رہے ہو ؟
Ayah 40:63کذلک یوفک الذین کانوا …: اگرچہ ”افک“ کا معنی جھوٹ اور بہتان بھی ہے، مگر یہاں ”افک بافک افکا“ (ض) (ہمزہ کے فتح کے ساتھ) سے ہے، جس کا معنی ”پھیرنا“ ہے، جیسا کہ سورة احقاف میں ہے :(قالوا اجنتنا لتافکنا عن الھتنا فاتنا بما تعدناً ان کنت من الصدیقین) (الاحقاف : 22)”انہوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے ہٹا دے، سو ہم پر وہ (عذاب) لے آجس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے، اگر تو سچوں سے ہے۔“ (کانوا بایت اللہ یجحدون“ میں ”کان“ کی وجہ سے استمرار ہے، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے :”ال ہیک آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔“”جحد یجحد جحوداً“ (ف) جاننے کے باوجود انکار کردینا۔ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اتنے واضح دلائل کے باوجود آخر ان لوگوں کے حق سے انحراف کا اصل باعث کیا ہے اور یہ کہ ان سے پہلے بھی کسی نے یہ روش اختیار کی ہے یا یہ صرف انھی کا کام ہے ؟ فرمایا : یہ لوگ ہی نہیں بلکہ ان سے پہلے وہ سب لوگ بھی انھی کی طرح حق سے پھیر دیئے جاتے رہے ہیں جو علم کے باوجود اللہ کی آیات کا ضد اور عناد کی وجہ سے انکار کردیا کرتے تھے۔ تکبر و جحود ان کی بیماری ہے، یہی بیماری پہلوں کی بھی تھی۔ اب جو طے کرلے کہ اس نے ماننا ہی نہیں، اسے کون منوائے ؟ جس طرح سوئے ہوئے کہ تو جگا یا جاسکتا ہے ، لیکن جو جاگتا ہونے کے باوجود آنکھیں بند کرنے پر ڈٹ جائے اسے کون جگائے ؟
Ayah 40:64(1) اللہ الذی جعل لکم الارض قراراً …: اس سے پہلے لیل و نہار کے ذکر کے ساتھ زمانی نعمتوں کا ذکر فرمایا : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر پانی بیشمار نعمتوں میں سے مزید پانچ نعمتوں کا ذکر فرما اکر اپنے اکیلے رب ہونے کی یاد دہانی فرمائی۔ ان نعمتوں کا تعلق مکان سے ہے یا انسان کی ذات یہ۔ پہلی نعمت زمین کو رہنے کی جگہ بنانا ہے۔ اس میں کئی چیزیں شامل ہیں، ایک یہ کہ اس نے زمین کو پیدا کیا تو ہم چکولے کھاتی تھی، پھر اس میں ایسے توازن و تنساب سے پہاڑ گاڑ دیے کہ وہ انسانوں اور تمام جاندارں کے لئے جائے قرار بن گئی۔ اگر اس میں مسلسل زلزلے کی کیفیت رہتی تو کوئی متنفس اس پر نہ بس سکتا۔ (دیکھیے نحل : 15۔ انبیائ : 31 لقمان : 10) دوسری یہ کہ زمین انسان کو اور تمام جان داروں کو زندگی میں بسیرا مہیا کرتی ہیا ور مرنے کے بعد بھی انہیں سمیٹتی ہے، اگر اس میں یہ وصف نہ ہوتا تو تعفن کی وجہ سے کوئی جاندار زندہ و سلامت نہ رہتا۔ (دیکھیے مرسلات : 25، 26) اور تیسری یہ کہ انسان کی تمام ضروریات کھانا پینا اور لباس وغیرہ سب زمین سے وابستہ ہیں، اگر اللہ تعالیٰ اس میں یہ صفت نہ رکھتا تو کوئی جاندار یہاں زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یہ بات بیان ہوئی ہے۔ دوسری نعمت آسمان کو چھت بنانا ہے، چھت بھی ستونوں کے بغیر اور گرنے سے اور ہر قسم کی آفات سے محفوظ۔ تفصیل کیلئے دیکھیے سورة انبیاء (32) ، رعد (2) اور لقمان (10)۔
تیسیر نعمت انسان کی صورت بنانا ہے، وہ بھی نہایت اہتمام کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے۔ (دیکھیے سورة ص : 38) چوتھی نعمت انسان کی صورت اچھی بنانا ہے، دوسرے جانوروں کے برعکس وہ سیدھے قد کے ساتھ دو پاؤں پر چلتا ہے اور ہاتھ کے ساتھ کھانا پیتا ہے۔ مزید تفصیل کیلئے سورة بنی اسرائیل کی آیت (70) : (ولقد کرمنا بنی ادم وحملنھم فی البرو البحر) کی تفسیر دیکھیں۔ پانچویں نعمت ”طیبات“ (پاکیزہ چیزیں) بطور رزق عطا کرنا ہے۔”الطیبت“ کا لفظ حرام و حلال کے سلسلے میں آئے تو مراد حلال چیزیں ہوتی ہیں اور انعام کے طور پر ذکر کیا جائے تو اس سے مراد لذیذ چیزیں ہوتی ہیں۔ یہاں یہی مراد ہے، کیونکہ تمام جانوروں کے برعکس انسان کی خوراک ہر چیز میں سے اس کا لذیذ ترین حصہ ہے۔ خوراک کے علاوہ اس میں نکاح، لباس، زینت اور بود و باش کی بیشمار طیبات شامل ہیں۔
(2) ذلکم اللہ ربکم، اس کی تفسیر پچھلی آیات میں گزر چکی ہے۔
(3) فتبرک اللہ رب العلمین : ”تبارک“ کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة ملک کی پہلی آیت۔
Ayah 40:65(1) ھو الحی لا الہ الا ھو :”الحی“ خبر پر الف لام نے کلام میں حصر کا مفہوم پیدا کردیا ہے کہ وہی زندہ ہے، یعنی ہمیشہ سے زادہ اور ہمیشہ زندہ رہنے والا وہی ہے، تو عبادت کے لائق بھی وہی ہے۔ اس کے سوا سب موت کی وادی سے وجود میں آئے ہیں اور موت کی آغوش میں جانے والے ہیں۔ تو مرنے والے عبادت کے حق دار کیسے بن گئے ؟ مزید دیکھیے آیت الکرسی (بقرہ : 255) اور سورة نحل (21) کی تفسیر۔
(2) فادعوہ مخلصین لہ الذین : تفصیل کے لئے دیکھیے سورة اعراف (29) اور سورة مومن (14) کی تفسیر۔
(3) الحمد للہ رب العلمین : یعنی جب یہ سب نعمتیں اس اکیلے کی عطا کردہ ہیں اور یہ سب اوصاف اور خوبیاں اس اکیلے میں پائی جاتی ہیں جو رب العالمین ہے، تو کسی اور کا حق نہیں کہ اس کی تعریف کی جائے اور شکر ادا کرنے کے لئے اس کی عبادت کی جائے، بلکہ یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے جو رب العالمین ہے۔
Ayah 40:66(1) قل انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ : اکیلے اللہ کی عبادت کے حکم کے بعد صریح الفاظ میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو بھی تم پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت کرنے سے منع کردیا گیا ہے یعنی انہیں پکارنے سے منع کردیا گیا ہے۔ کفار کی خواہش اور مطالبہ تھا کہ کچھ عبادت اللہ کی کرلی جائے اور کچھ ان کے مشکل کشاؤں کی۔ فرمایا، ان سے کہہ دو کہ مجھے ان سب کی عبادت سے منع کردیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اللہ کی توحید کے خل اف نہ تمہاری کوئی بات مانی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی سمجھوتہ ہوسکتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة قلم (9) اور سورة کافرون۔
(2) لما جآء فی البینت من ربی : ان ”البینت“ میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی وہ نقلی دلیلیں بھی شامل ہیں جو رب تعالیٰ کی طرف سے قرآنی آیات اور احادیث کی صورت میں آپ ﷺ پر نازل ہوئیں اور وہ بیشمار عقلی دلائل اور نشانیاں بھی جو کائنات کی ہر چیزیں سلیم الفطرت انسان کے لئے موجود ہیں۔ یعنی اتنے واضح نقلی و عقلی دلائل کے ہوتے ہوئے تم مجھ سے یہ توقع کیوں رکھتے ہو کہ میں تمہارا کہنا مانوں گا اور تمہارے ان جھوٹے معبودوں کی بندگی کرنے لگوں گا ؟
(3) وامرت ان اسلم لرب العلمین : اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنا آپ مکمل طور پر رب العالمین کے سپرد کر دوں اور اسی کا تابع فرمان ہوجاؤں۔ دیکھیے سورة انعام (161 تا 164)
Ayah 40:67(1) ھو الذی خلقکم من تراب …: یہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور قیامت قائم ہونے کی دلیل ہے۔ اس کی تفسیر سورة حج (5) اور سورة مومنون (12 تا 14) میں تفصیل سے گزر چکی ہے۔ البتہ یہاں چند الفاظ کی مخت صر تشریح کی جاتی ہے۔
(2) ثم لتبلغوا اشدکم“ اور ”ثم لتکونوا شیوخاً“ دونوں میں ”لام کی“ فعل محذوف کے متعلق ہے جو خود بخود سمجھ میں آرہا ہے :”ثم یربیکم“ یعنی پھر وہ تمہاری پرورش کرتا رہتا ہے (تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، پھر تاکہ تم بوڑھے ہوجاؤ) یا ”ثم یبقیکم“ ہے، یعنی پھر وہ تمہیں باقی رکھتا ہے (تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، پھر تاکہ تم بوڑھے ہوجاؤ۔)
(3) ومنکم فن یتوفی من قبل : یعنی کوئی پیدا ہونے سے پہلے (اسقاط کی صورت میں) کوئی جوانی کو پہنچنے سے پہلے اور کوئی بوڑھا ہونے سے پہلے فوت کرلیا جاتا ہے۔
(4) ولیتلغوا اجلاً مسمیٰ : اس ”لتبلغوا“ کا تعلق پہلے ”لتبلغوا“ کے لئے مقدر فعل کے ساتھ نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لئے الگ فعل مقدر ماننا پڑے گا، مثلاً و فعل لکم ذلک لتبلغوا اجلاً مسمی“”اور اس نے تمہارے ساتھ یہ معاملہ اس لئے کیا ہے کہ تم متو کے اس وقت تک پہنچ جاؤ جو تم میں سے ہر ایک کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔“ یعنی کوئی علاقہ بننے تک کوئی مضغہ یا عظام بننے تک، کوئی ولادت تک ، کوئی لڑکپن تک، کوئی جوانی تک اور کوئی بڑھاپے تک پہنچ کر مرے۔ (ابن جزی)
(5) ولعلکم تعقلون : یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں زندگی کے ان مختلف مراحل سے اس لئے گزارتا ہے کہ جب تم اس حیرت انگیز نظام پر غور کرو تو سمجھ جاؤ کہ کوئی خلاق ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا فرمایا ہے اور وہ ایک ہی ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ورنہ کائنات کے اس سلسلے میں ہر چیز کی ایک دوسرے کے ساتھ نہ اتنی زبردست موافقت و مناسبت ہوتی اور نہ ہی یہ نظام ایک لمحے کے لئے چل سکتا یا باقی رہ سکتا۔ اور تاکہ یہ بھی سمجھ جاؤ کہ یہاں ہر مرحلے کے بعد اگلا مرحلہ ہے، مٹی اور نطفے سے پیدا کرنے والے اور اسے ایک وقت تک پہنچانے کے بعد قبض کرلینے والے کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرلے اور تمہارا حساب لے۔ یعنی اگر غور کرو تو پیدائش کے اس سلسلے سے اللہ تعالیٰ کا وجود، اس کی وحدانیت اور تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر اس کا قادر ہونا آسانی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”یعنی اتنے احوال تم پر گزرے ، شاید ایک حال اور بھ گزرے (اور) وہ (ہے) مر کر جینا۔“ (واضح)
Ayah 40:68(1) ھو الذی یحییٰ ویمیت : توحید اور آخرت کو ثابت کرنے کے لئے اپنی نعمتوں اور قدرتوں کے تذکرے سے بھرپور آیات کے اس سلسلے کو اس آیت پر ختم فرمایا کہ ”وہی ہے جو صج سے چاہتا ہے) زندگی عطا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) موت دیتا ہے۔“ موت و حیات مکمل طور پر اس کے ہاتھ میں ہے، کسی دوسرے کا اس میں کچھ دخل نہیں۔
(2) فاذا قضی امراً فانما یقول لہ کن فیکون : یعنی ا سے پہلی مرتبہ یا دوبارہ کوئی چھوٹی یا بڑی چیز بنانے میں، یا کسی کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے اور قیامت برپا کرنے میں کیا مشکل ہوسکتی ہے ؟ وہ تو جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو بس ”کن“ (ہو جا) کہتا ہے تو وہ کام ہوجاتا ہے۔ وہ اسباب کا محتاج نہیں، بلکہ اسباب اس کے حکم سے وجود میں آتے ہیں۔
Ayah 40:69الم ترالی الذین یجادلون … اس سورت میں شروع سے یہاں تک کفار کے ناحق جدال کا اور اس کی مذمت کا پانچ مرتبہ ذکر آیا ہے۔ دیکھیے آیت (4، 5، 35، 56، 69) یہاں نبی ﷺ کو اور ان آیات کے سننے یا پڑھنے والے ہر شخص کو فرمایا کہ صسورت کے شروع سے یہاں تک کی تقریر سے) کیا تمہیں معلوم نہیں ہوا کہ اللہ کی آیات میں ناحق جھگڑا اور کج بحثی کرنے والے لوگ ان کے صحیح ہونے کے دلائل جاننے کے باوجود کہاں سے ٹھوکر کھا کر گمراہی کے گڑھے میں گر رہے ہیں ؟
Ayah 40:70الذین کذبوا بالکتب …: یعنی ان کے اللہ کی کتاب اور اس کے رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات (توحید، رسالت اور آخرت وغیرہ) پر ایمان لانے کے بجائے ان کے بارے میں جھگڑنے کیا صل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے قبول کرنے کے ارادے سے ان پر سناجیدگی سے غور ہی نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ جھگڑاو پن سے ان کا مقابلہ کرنے اور انہیں جھٹلانے کا راستہ اختیار کئے رکھا۔ سو وہ اپنے اس عمل کا انجام بہت جلد جان لیں گے۔
Ayahs 40:71–72(1) اذ الاغلل فی اعناقھم …:”الاغلل“”غل“ (غین کے ضمہ کے ساتھ) کی جمع ہے، طوق۔ ’ السلسل“”سلسلۃ“ کی جمع ہے، زنجیریں۔ ان آیات کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة رعد (5)۔
(2) ”یسحبون“ ”سحب یسحب سحباً“ (ف) گھسیٹ کرلے جانا۔ ”یسجرون“”سجر یسجر سجراً“ (ن) ”التنور“ تنور میں ایندھن جھونکنا۔ یعنی اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور ان کے بارے میں کج بحثی کرنے والے ان کفار کو جب پیاس لگے گی تو فرشتے انہیں گھسیٹتے ہوئے اس جگہ لے جائیں گے جہاں شدید گرم پانی ابل رہا ہوگا۔ وہاں سے گرم پانی پلانے کے بعد انہیں پھر ان کی اصل جگہ جہنم میں ایندھن کی طرح جھونک دیا جائے گا۔ دیکھیے سورة صافات (66 تا 68) کی تفسیر۔
Ayahs 40:73–74(1) ثم قیل لھم این ماکنتم تشرکون من دون اللہ : پھر انہیں ذلیل کرنے کے لئے اور ان کے خود ساختہ مشکل کشاؤں اور حاجت رواؤں کی بےبسی واضح کرنے کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جنہیں تم اللہ کے سوا شریک بناتے تھیڈ اگر وہ واقعی شریک تھے اور تم اس لئے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ مشکل وقت میں تمہاری دستگیری کریں گے تو لاؤ وہ کہاں ہیں، تمہاری مدد کیوں نہیں کر رہے ؟
(2) قالوا صلوا عنا : یہ انسانی ضمیر کا اصل سچ ہے، اس کے مطابق پہلے وہ بےاختیار قرار کریں گے کہ وہ ہم سے گم ہوگئے ، نہ کہیں ملتے ہیں نہ دکھائی دیتے ہیں۔
(3) بل لم نکن ندعوا من قبل شیاً پھر یہ سوچیں گے کہ یہ کہنا کہ وہ ہم سے گم ہوگئے ہیں، یہ تو اعراف ہے کہ واقعی ہم اللہ کے سوا کسی کو پکارتے رہے ہیں اور ہمارا یہ اعتراف ہمارے خلاف شہادت بن رہا ہے۔ چناچہ طبیعت کی کمینگی اور جھوٹ کی عادت کی وجہ سے اسی قدم پر اس اعترضا سے پھر جایئں گے اور صاف جھوٹ بول دیں گے اور کہیں گے کہ یہ بات تو ویسے ہی ہمارے منہ سے نکل گئی، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اس سے پہلے ہم کسی بھی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر دنیا میں اپنے شرک کرنے سے انکار کردیں گے، فرمایا :(ویوم نحشرھم جمیعاً ثم نقول الذین اشرکوا این شرکآء کم الذین کنتم ترعمون ثم لم تکن فتنتھم الا ان قالوا واللہ ربنا ما کنا مشرکین انظر کیف کذبوا علی انفسھم وضل عنھم ماکانوا یفترون) (الانعام : 22 تا 37) ”اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے، پھر ہم ان لوگوں سے کہیں گے جنہوں نے شریک بنائے، کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جنہیں تم گمان کرتے تھے۔ پھر ان کا فریب اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ کہیں گے اللہ کی قسم ! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔ دیکھ انہوں نے کیسے اپنے آپ پر جھوٹ بولا اور ان سے گم ہوگیا جو وہ جھوٹ بنایا کرتے تھے۔
(4) کذلک یضل اللہ الکفرین : ایسے ہی اللہ کافروں کو گمراہ اور حواس باختہ کردیتا ہے، ان کے منہ سے کبھی کچھ نکلتا ہے کبھی کچھ۔ وہ ایک بات کہتے ہیں پھر خود ہی اس سے ٹکر جاتے ہیں۔ شاہ عبدالقادر ؒ نے ایک اور تفسیر کی ہے، وہ بھی بہت عمدہ ہے، فرماتے ہیں :”اول منکر ہوچکے تھے کہ ہم نے شریک نہیں پکڑا۔ اب گھبرا کر منہ سے نکل جاوے گا، پھر سنبھل کر انکار کریں گے تو وہ انکار ان کا اللہ نے بچلا دیا (پھسلا دیا، بھلا دیا) اپنی حکمت سے۔“ (موضح) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے انہیں ان کے انکار سے پھسلا کر ان کے منہ سے شرک کرنے کا اقرار کروا لیا۔
(5) ایک تفسیر اس آیت کی یہ ہے کہ وہ پہلے کہیں گے کہ ہم جنہیں پکارتے تھے وہ ہم سے گم ہوگئے، پھر کہیں گے، اصل بات یہ ہے کہ ہم جنہیں پکارتے رہے وہ کوئی شے ہی نہ تھے، نہ کہیں ان کا وجود تھا، بلکہ ہم محض ”لا شیء“ کو اور اپنے وہم و گمان کو پوجتے اور پکارتے رہے ہیں۔ اگر فی الواقع ان کا وجود ہوتا تو آج وہ کہیں مل جاتے یا ہمارے کام آتے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وما یتبغ الذین یدعون من دون اللہ شرکآء ان یتبعون الا الظن وان ھم الا یخرضون) (یونس : 66)”اور جو لوگ اللہ کے غیر کو پکارتے ہیں وہ کسی بھی قسم کے شریکوں کی پیروی نہیں کر رہے۔ وہ پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔“ اور فرمایا :(ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس) (النجم : 23)”یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں۔“”لا شیء حتی تقیموا الثوریۃ ولانجیل وما انزل الیکم من ربکم) (المائدۃ : 68)”کہہ دے اے اہل کتاب ! تم کسی چیز پر نہیں ہو، یہاں تک کہ تم رات اور انجیل کو قائم کرو اور اس کو جو تمہارے رب کی جانب سے تمہاری طرف نازل کیا گیا۔“
Ayah 40:75(1) ذلکم بما کنتم تفرحون فی الارض :”فرح“”خوشی سے پھول جانا“ یہ دل کی حلات کا نام ہے اور ”مرح“ ”اکڑنا“ یہ اسی خوش کے نتیجے میں اعضائے بدن سے ظاہر ہونے والے تکبر کا نام ہے ، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں ہے :(ولا تمس فی الارض مرحاً) (بنی اسرائیل : 38) ”اور زمین میں اکڑ کر نہ چل۔“ یعنی قیامت کے دن تمہاری اس ساری رسوائی اور عذاب کا باعث دنیا میں تمہارا اپنے پاس موجود نعمتوں اور پانے دنیوی علوم پر بھول جانا، اکڑنا اور تکبر کرنا ہے، جیسا کہ آگے فرمایا :(فلما جآء تھم رسلھم بالبینت فرحوا بما عندھم من العلم) (المومن : 83) ”پھر جب ان کے رسول ان کے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے تو وہ اس پر پھول گئے جو ان کے پاس کچھ علم تھا۔“
(2) بغیر الحق : یعنی تم ناحق زمین میں خوشی سے پھولتے تھے۔ ”فی الارض“ کے لفظ سے ظاہر ہے کہ دنیا خوشی کا مقام نہیں، خوشی کا مقام صرف جنت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الدنیا سجن المومن و جنۃ الکافر) (مسلم، الزمد والرفاق :2956)”’ نیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت۔“ کافر اس میں اس لئے خوش ہوتا ہے کہ اس کی جنت یہی ہے مگر اس کی یہ خوشی ناحق ہے، کیونکہ ناپائیدار چیز اس قابلن ہیں کہ آدمی اس پر خوش ہو اور تم ناحق اکڑتے اور بڑے بنتے تھے، حالانکہ بڑائی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، تمہارا یا کسی اور مخلوق کا حق نہیں۔ تمہارا حق اللہ کے سامنے عاجز ہونا اور اس کی آیت کے مقابلے میں جھگڑنے کے بجائے انہیں تسلیم کرنا تھا۔ پھر تم زمین پر رہ کر، جو پستی کی انتہا ہے، عرش والے کے سامنے اکڑتے تھے، جس کی بلندی کی کوئی انتہا نہیں۔
Ayah 40:76ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا …”ادخلوا“ کی مناسبت سے ”فئس مدخل المتکبرین“ (متکبروں کے داخل ہونے کی جگہ بری) ہونا چاہیے تھا، مگر ”خلدین فیھا“ کی مناسبت سے ”فبئس مثوی المتکبرین۔ فرمایا، یعنی وہ متکبرین کے رہنے کی بری جگہ ہے۔ ”مثوی المتکبرین“ کے لفظ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ جہنم میں ہمیشہ کے لئے داخل ہونے کا باعث تکبر ہے، جس نے انہیں اللہ کی آیات کو جھٹلانے پر اور ان کے بارے میں جدال پر ابھارا، جس جدال کی مذمت اس سورت کا ایک بنیادی موضوع ہے۔
Ayah 40:77(1) فاصبر ان وعد اللہ حق : یعنی یہ لوگ جو آپ کو نیچا دکھانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، آپ ان کی ایذا پر صبر کا دامن تھامے رکھیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے (کہ ہم دنیا اور آخرت میں اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد فرماتے ہیں۔) ہاں، اس میں کچھ تاخیر ہوسکتی ہے اور اس تاخیر میں بھی ہماری کئی حکمتیں ہیں۔ ہمارا یہ وعدہ دو طرح سے پورا ہوسکتا ہے۔
(2) فاما یرینکم بعض الذین نعدھم …: ایک یہ کہ ہم آپ کو اس عذاب کا کچھ حصہ دکھا ہی دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو پھر آپ دنیا ہی میں ہماری مدد کا نقشہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور ان کا عبرتناک انجام دیکھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی، جیسا کہ بدر اور فتح مکہ میں ہوا۔”فاما نرینکم“ کا یہ جواب یہاں مقدر ہے اور سیاق سے خود بخود سمجھ میں آرہا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم تجھے دنیا میں ان کا انجام دکھانے سے پہلے اٹھالیں، تب بھی یہ لوگ کہیں بھاگ کر نہیں جاسکتے، بلکہ انہیں ہمارے پاس ہی واپس لایا جائیگا اور وہاں ان پر عذاب کا وعدہ پورا ہوگا جو آپ کی اور اہل ایمان کی نصرت کا ایک اظہار ہوگا۔
Ayah 40:78(1) ولقد ارسلنا رسلاً من قبلک : کفار نے آپ ﷺ کو پریشان کرنے اور نیچا دکھانے کے لئے اور اللہ کی آیات کا مقابلہ کرنے اور ان کے بارے میں کج بحثی کیلئے جو ناجائز مطالبے کئے ان میں سے ایک مطالبہ ان کی طلب اور تقاضے کے مطابق عجیب وغ ریب نشانیاں اور معجزے دکھانا تھا، جیسا کہ سورة نبی اسرائیل (90 تا 93؛) میں گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے بطور اسوہ و نمونہ پہلے رسولوں کا ذکر فرمایا کہ آپ ان کے ایسے مطالبوں سے پریشان یا غم زدہ نہ ہوں، آپ سے پہلے بہت سے رسول گزرے، مگر معجزہ دکھانا ان میں سے بھی کسی کے اختیار میں نہ تھا۔ سو اگر آپ انہیں ان کی طلب کے مطابق معجزہ نہ دکھا سکیں تو اس سے آپ کی رسالت کے سچا ہونا میں کوئی خلل نہیں آتا، جیسا کہ پہلے رسولوں کی رسالت میں کوئی خلل نہیں آیا۔
(2) منھم من قصصنا علیک : ابن کثیر رحمتہ اللہ نے فرمایا کہ جن انبیاء کا بیان نہیں ہوا وہ تعداد میں ان پیغمبروں سے بہت ہی زیادہ ہیں جن کا قرآن میں ذکر ہوا۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة نساء (164) کی تفسیر۔
(3) ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمتہ اللہ لکھتے ہیں :”کسی قوم کے قدیم رہنما کے متعلق (جو ہمارے رسول ﷺ سے پہلے ہوگزرے ہیں) قطعی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں کہ وہ نبی نہ تھا، ممکن ہے کہ وہ نبی ہو اور اس نے توحید ہی کی دعوت پیش کی ہو مگر بعد کے لوگوں نے اس کی تعلیمات کو مسخ کردیا ہو۔“ (اشرف الحواشی) ایسی کسی شخصیت کو یقین سے نبی بھی نہیں کہا جاسکتا۔
(4) وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ : مطلب یہ ہے کہ معجزہ کوئی کھیلن ہیں کہ کافروں نے جب چاہا نبی سے اس کا مطالبہ کردیا اور نیب نے جب چاہا اسے دکھا دیا، کسی رسول کے پاس اللہ کے اذان کے بغیر کوئی معجزہ بھی لانے کا اختیار نہیں۔ اس میں ان لوگوں کا واضح رہو ہے جو انبیاء تو ایک طرف اولائی کے متعلق بھی یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ وہ کمان سے نکلے ہوئے تیر کو بھی واپس لانے کی قدرت رکھتے ہیں اور جو چاہیں کرسکتے ہیں۔
(5) فاذا جآء امر اللہ قضی بالحق : یعنی مطالبے پر جو معجزہ پیش کیا جاتا ہے اس کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے دو ٹوک فیصلے کی ہوتی ہے، اگر کوئی قوم اس کے بعد بھی ایمان نہ لائے تو اس کی ہلاکت یقینی ہوتی ہے۔
(6) وخسر ھنالک المبطلون :”ھنالک“ زمان و مکان دونوں کے لئے آتا ہے،”اس جگہ“ ، ”اس وقت“ اور ”اس موقع پر“ کے الفاظ میں دونوں معانی آجاتے ہیں۔ یعنی عذاب کی آمد کے موقع پر ایمان والے نجات پا جاتے ہیں اور باطل والے خسارے میں رہ جاتے ہیں اور ان کا نام و نشان مٹا دیاجاتا ہے۔