Ayahs 40:79–81(1) اللہ الذی جعل لکم الانعام لترکبوا…:”جعل“ یہاں ”خلق“ کے معنی میں ہے : جیسا کہ فرمایا :(الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت والنور) (الانعام : 1)”سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیروں اور روشنی کو بنایا۔“”الانعام“”نعم“ (نون اور عین کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکریاں، نر و مادہ دونوں۔ (دیکھیے انعام : 142، 143) یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ عموماً یہ لفظ اونٹوں پر بولا جاتا ہے۔ اس آیت میں مذکور زیادہ تر فوائد اونٹوں کے بیان ہوئے ہیں۔ ان آیات کی مفصل تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نحل (5 تا 8، 66، 80) اور سورة مومنون (21، 22)
(2) لترکبوا منھا“ میں جانوروں پر سواری کا ذکر فرمایا، پھر اس سے اگلی آیت میں کشتیوں کیساتھ ساتھ دوبارہ ان پر سواری کا ذکر فرمایا۔ بعض مفسرین نے اس میں یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ ”الترکبوا منھا“ میں عام شہروں اور بستیوں کے درمیان معمول کی سواری مراد ہے اور ”تحملون“ سے مراد دور دراز کے سفر ہیں۔ (ابن عطیہ) (واللہ اعلم)
(3) مفسر عبدالرحمٰن گیلانی لکھتے ہیں :”کفار مکہ رسول اللہ ﷺ سے طرح سرح کے حسی معجزات کا مطالبہ کیا کرتے تھے، جس کا ایک جواب تو سابقہ آیت میں دیا گیا ہے کہ ایسا معجزہ پیش کرنا رسول کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ان آیات میں کفار کے اسی مطالبے کا دوسرا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں تمہیں اپنے دائیں بائیں، اندر باہر اور اوپر نیچے ہر طرف ہی مل سکتی ہیں۔ اگر تم سوچو تو تمہارے راہ راست کو قبول کرنے کے لئے راہنمائی ان میں بھی موجود ہے۔ مثلاً جو مویشی تم پالتے ہو ان پر بھی نظر ڈال کر دیکھ لو، ان کی ساخت اور ان کی فطرت ہی ہم نے ایسی بنادی ہے کہ وہ فوراً تمہارے تابع بن جاتے ہیں۔ پھر ان سے تم ہز اورں قسم کے فوائد حاصل کرتے ہو۔ ان کے دودھ سے بالائی، مکھن، پنیر، گھی اور لسی بناتے ہو اور یہ چیزیں تمہارے جسم کا انتہائی اہم جزو ہیں۔ پھر تم ان پر سواری کرتے ہو۔ تمہارے بوجھل سامان کو یہ اٹھاتے ہیں، تمہار کھیتی میں ہل یہ چلاتے ہیں، کنوئیں سے پانی یہ کیھنچتے ہیں، تم مشقت کے سب کام ان سے لیتے ہو۔ پھر ان کو ذبح کر کے ان کا گوشت بھی کھاتے ہو، ان کے بالوں سے پوشاک تیار کرتے ہو اور مرنے کے بعد ان کی ہڈیوں ، کھالوں اور دانتوں تک کو اپنے کام میں لاتے ہو۔ ان مویشیوں میں اسنان کے لئے یہ خوئے غلامی کس نے پیدا کی ؟ تمہاری پیدائش سے بھی پہلے تمہاری ضروریات کا اس قدر خیال رکھنے والا کون ہے ؟
اب دوسری طرف نظر ڈالو، زمین کے تین چوتھئای حصے پر پانی یا سمندر پھیلے ہوئے ہیں، خشکی صرف چوتھا حصہ ہے، جس پر تم اور تمہارے مویشی سب رہتے ہیں۔ اتنے سے خشکی کے حصے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا پانی کا ذخیرہ کیوں پیدا کردیا ؟ کیا کبھی تم نے اللہ کی اس نشانی پر غور کیا ڈ پھر پانی اور ہواؤں کو ایسے طبعی قوانین کا پابند کردیا کہ تم دریاؤں اور سمندروں میں کشتی بانی اور جہاز رانی کے قابل ہوگئے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کے لئے طبعی قوانین ہی بدل ڈالے اور وہ ہر چیز کا خلاق ہے اور اس میں جیسے چاہے تصرف کرسکتا ہے، تو کیا تم جہاز رانی کرسکتے تھے، یا اس زمین پر زندہ رہ سکتے تھیڈ پھر یہ بھی سوچہ کہ جس حکمتوں والے پروردگار نے اپنی اتنی بیشمار چیزیں تمہارے تصرف میں دے رکھی ہیں، کیا وہ انسان کو اتنے اختیارات دے کر اس کو یونہی چھوڑ دے گا اور اس سے اپنی نعمتوں کا کبھی حساب نہ لے گا ؟ اور یہ نہ پوچھے گا کہ جس رحیم پروردگار نے تمہاری جملہ ضروریات کا اس قدر خیال رکھا، پھر اس کے ساتھ اپنی رحمتیں بھی نازل فرماتا رہا تو کیا انسان نے اللہ کی ان نعمتوں کی قدر کی اور اس کا شکریہ ادا کیا، یا وہ نمک حرام اور ناشکرا ثابت ہوا اور اپنی نیاز مندیاں اللہ کے بجائے دوسروں کے سامنے نچھاور کرنے لگا۔“ (تیسیرا القرآن)
Ayah 40:82افلم یسیروا فی الارض …: اس کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة روم کی آیت (9) کی فسیر۔ دولت کی کثرت، فن تعمیر کے عظیم الشان نمونے اور دوسری فنی مہارتیں ان کے کسی کام نہ آسکیں ، پھر اے اہل مکہ ! تم جو ہر لحاظ سے ان سے کمزور اور کمتر ہو، اللہ کا عذاب آنے پر کس طرح بچ سکو گے ؟
Ayah 40:83(1) فلما جآء تھم رسلھم بالبینت …:”من العلم“ میں ”من“ تبعیض کیلئے ہے، یعنی علم کا وہ معمولی سا حصہ جو ان کے پاس تھا۔ اس علم سے مراد دو چیزیں ہوسکتی ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کے متعلق ان کے وہ عقائد و رسوم جو ان کے فلسفیوں نے یا ان کے مذہبی پیشواؤں نے گھڑ رکھے تھے، جن کی بنیاد ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک پر تھی، جیسا کہ یونانیوں اور ہندوؤں کا دیوی دیوتاؤں پر مبنی سلسلہ تھا اور جیسا کہ نوح، ہود، صالح، ابراہیم اور دوسرے ابنیائے کرام ﷺ کی بت پرست اقوام کا عقیدہ تھا، جسے وہ علم سمجھتے تھے، حالانکہ وہ سرا سر جہل تھا۔ چناچہ جب ان کے رسول ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے متعلق خود اس کے عطا کردہ توحید و آخرت کے واضح عقائد اور ان کے حق ہونے کے روشن دلائل لے کر آئے تو وہ انسانی دماغوں کے گھڑے ہوئے عقائد و روسم کو برتر علم سمجھ کر انھی پر پھولے اور اکڑے رہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے واضح عقائد اور ان کے روشن دلائل کو ٹھکرا دیا۔
دوسرا مطلب ”من العلم“ کا دنیوی علم و فن ہے، جس میں وہ مہارت رکھتے تھے، جو درحقیقت علم کا ایک معمولی اور حقیر سا حصہ ہے، کیونکہ اس کا تعلق صرف اس ناپائیدار دنیا کے چند دنوں یا لمحوں کے ساتھ ہے۔ حقیقی اور ابدی علم، یعنی آخرت کے علم سے وہ بالکل بےبہرہ تھے۔ (دیکھیے روم : 6، 7) چناچہ رسولوں کی تشریف آوری پر ایمان لانے اور اطاعت کے بجائے وہ دنیا کے اس حقیر علم پر ھولے اور اکڑے رہے جو انہیں حاصل تھا اور جسے وہ بہت بڑی بات سمجھتے تھے۔ یہ معنی الفاظ کے زیادہ قریب ہے۔
(2) وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزؤن : یعنی انہیں اسی عذاب نے چ اورں طرف سے گھیر لیا، جس سے رسول انہیں ڈراتے تھے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے اور اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ کرتے تھے۔
Ayahs 40:84–8585, 84 فلما راوا باسنا قالوا امنا باللہ وحدہ … ان دونوں آیات کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نساء (18) انعام (158) اور سورة یونس (51، 90، 91)۔