Ayah 40:28(1) وقال رجل مومن من ال فرعون … موسیٰ ؑ نے ہر متکبر سے اللہ کی پناہ مانگی جو یوم حساب پر ایمان نہ رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرماتے ہوئے ان کی حمایت میں ایکس ایسے آدمی کو کھڑا کردیا جو فرعون کی آل میں سے تھا، جو موسیٰ ؑ پر ایمان لا چکا تھا مگر اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا۔ اس نے بہت اچھے طریقے سے موسیٰ ؑ کا دفاع کیا اور فرعون کو ان کے قتل سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ فرعون کے اپنے لوگوں میں سے ہونے کی وجہ سے اس نے بات کی جرأت کی اور اسی وجہ سے فرعون نے اس کی بات کے بعد اپنی قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کی، ورنہ اس کے دربار میں کسی اسرائیلی کی نہ یہ جرأت تھی اور نہ ہی اسکی برداشت تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عجیب تصرف ہے کہ جب موسیٰ ؑ نے اپنا معاملہ اس کے سپرد کیا تو اس نے وہاں سے حمایت کروا دی جہاں سے وہم و گمان تک نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ”رجل مومن“ فرمایا ہے، یعنی وہ مرادنگی اور ایمان دونوں سے متصف تھا۔ اس کے مرد کامل اور مومن کامل ہونے کی دل یل یہ ہے کہ اس نے افضل جہاد کیا۔ ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(افضل الجھاد کلمۃ عدل عند سلطان، جائر اوامیر جائر) (ابو داؤد، الملاحم، باب الامر والنھی : 3333)”افضل جہاد ظالم بادشاہ یا ظالم امیر کے سامنے عدل کی بات کہتا ہے۔“ بعض کہتے ہیں کہ یہ وہی شخص تھا جس نے اس سے پہلے فرعون کی مجلس میں موسیٰ ؑ کے قتل کے مشورہ کی خبر انہیں پہنچاتی تھی، جس پر وہ ہجرت کر کے مدین چلے گئے تھے، مگر اس بات کی تصدیق کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں، البتہ اس میں شک نہیں کہ وہ بھی مرد کامل تھا۔ دیکھیے سورة قصص (20)۔
مفسر رازی نے اپنا تجربہ لکھا ہے کہ میں نے اپنی ذات پر گزرنے والے حالات میں تجربہ کیا ہے کہ جب بھی کسی شیریر نے میرے متعلق شرکا ارادہ کیا اور میں نے اس سے تعرض نہیں کیا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے پر اکتفا کیا تو اللہ سبحانہ ایسے لوگوں کو م یرے دفاع کے لئے مقرر فرما دیاج نہیں میں بالکل نہیں جانتا تھا اور جنہوں نے حد سے بڑھ کر اس شر کو دور کرنے کی کوشش کی۔
(2) یکتم ایمانہ : اس جملے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرعون کی سختیوں کے باوجود موسیٰ ؑ کی دعوت ہر جگہ پہنچ گئی تھی، حتیٰ کہ فرعون کے خاندان کے کچھ لوگ بھی اس سے متاثر ہوچکے تھے، اگرچہ اظہار نہیں کرسکتے تھے۔ چناچہ یہ مرد ممون بھی اس سے پہلے ایمان چھپاتا تھا، مگر جب بات موسیٰ ؑ کے قتل تک پہنچ گئی تو اس کے ایمان نے اسے خاموش نہیں رہنے دیا۔ اس نے بات کا آغاز تو ایک غیر جانبدار آدمی کی طرح کیا، مگر آخر میں اس نے اپنے ایمان کا صاف اظہار کردیا اور اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سرپد کردیا، جیسا کہ آگے آرہا ہے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھا ہے۔ اب تک ایمان چھپائے رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اسے مومن فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ مجبوری میں ایمان چھپانے کے باوجود آدمی مومن رہتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة نحل (106)
(3) اتقتلون رجلاً ان یقول ربی اللہ …: اس جملے میں اس مرد مومن نے تین حقیقتیں بیانا کردیں، پہلی یہ کہ رب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ چناچہ اس نے ہا کہ کیا تم ایک آدمی کو اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب (میرا پالنے والا مالک) صرف وہ پاک ذات ہے جس کا نام اللہ تعالیٰ ہے۔ یعنی وہ فرعون کو اپنا رب نہیں مانتا، بلکہ اس کو مانتا ہے جس نے فرعون اور اس کے باپ دادا کو اور زمین و آسمان سمیت ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے، تو اس پر اسے دادا دینی اور اس کی تعظیم و تکریم کرنی چاہیے یا اسے قتل کردینا چاہیے ؟ دوسری حقیقت صوقد جآء کم بالبینت) یہ بیان فرمائی کہ وہ تمہارے پاس اپنے اللہ کی طرف سے بھیجے جانے کی واضح دلیلیں لے کر آیا ہے، جنہیں جھٹلانے کا تمہارے پاس کوئی جواز ہی نہیں، پورے ملک کے جادوگر اس کے مقابلے میں ناکام ہو کر اس کے حق پر ہونے کا اعتراف کرچکے ہیں اور اس پر ایمان لا چکے ہیں۔ تیسری حقیقت (من ربکم) یہ کہ اسے جس مالک کی طرف سے پیغام پہنچانے کے لئے بھیجا گیا ہے وہ تمہارا بھی رب ہے، یہ تمہاری جہالت ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کو اپنا رب بنائے بیٹھے ہو۔
(4) موسیٰ ؑ کو جس قسم کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا اور جو جو حالات پیش آئے ہمارے نبی کریم ﷺ کو بھی اسی قسم کے ہے، یہ تمہاری جہالت ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کو اپنا رب بنائے بیٹھے ہو۔
(4) موسیٰ ؑ کو جس قسم کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا اور جو جو حالات پیش آئے ہمارے نبی کریم ﷺ کو بھی اس قسم کے حالات پیش آئے۔ ان واقعات میں آپ ﷺ کے لئے تسلی کا سامان ہے کہ آپ ہی کو نہیں، پہلے پیغمبروں کو بھی ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
(5) مفسر ابن کثیر ؒ نے فرمایا :”فرعون کے سامنے یہ کہنا ”اتقتلون رجلاً ان یقول ربی اللہ“ (کیا تم ایک آدمی کو اس لئے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے، میرا رب اللہ ہے) بہت بڑی بات ہے (اس سے بڑی دلیری ہو ہی نہیں سکتی)۔ ہاں، بخاری رحمتہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں ابوبکر کا جو واقعہ بیان کیا ہے وہ اس سے بھی بڑی بات ہے۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے کہا کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ جو ایذا پہنچائی وہ مجھے بتائیں، تو انہوں نے فرمایا :(بینا رسول اللہ صلیا للہ لعیہ وسلم یصلی بفناء الکعبۃ اذ اقبل عقبۃ بن ابن معیط فاخذ بمنکب رسول اللہ ﷺ ولوی ثوبۃ فی عنقہ فخنقہ حنقاً شدیداً ماقبل ابوبکر فاخذ بمنکبہ و دفع عن رسول اللہ ﷺ و قال :(اتقتلون رجلاً ان یقول ربی اللہ وقد جآء کم بالبینت من ربکم) (بخاری، التفسیر، سورة المومن : 3815)”ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہغے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا، اس نے آپ ﷺ کا کندھا پکڑ لیا اور اپنا کپڑا آپ ﷺ کے گلے میں ڈال کر اسے بہت سختی کے ساتھ گھونٹ دیا، تو ابوبکر ؓ آئے اور اسے کندھے سے پکڑ کر رسول اللہ ﷺ سے دھکا دے کر پیچھے ہٹایا اور کہا :(اتقتلون رجلاً ان یقول ربی اللہ وقد جآء کم بالبینت من ربکم)”کیا تم ایک آدمی کو اس لئے قتلک رتے ہو کہ وہ کہتا ہے، میرا رب اللہ ہے، حالانکہ یقیناً وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے۔“
اہل علم فرماتے ہیں کہ ابوبکر ؓ اس مرد مومن سے بھی زیادہ شجاع تھے، کیونکہ وہ اپنا ایمان چھپاتا تھا، جبکہ ابوبکر ؓ کھلم کھلا مومن تھے، جو سب سے پہلے ایمان لائے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی حمایت اور دفاع میں ان کے لئے اس مرد مومن سے زیادہ خطرہ تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے یہ بات صرف زبان سے نہیں کہی بلکہ عملاً عقبہ کو دھکا دے کر پیچھے بھی ہٹا دیا۔
(6) وان یک کاذباً فعلیہ کذبہ : وہ مرد مومن موسیٰ ؑ کو کاذب نہیں سمجھتا تھا، یہ بات اس نے ایک غیرجانبدار شخص کی حیثیت سے ایک مفروضہ کے طور پر کہی کہ اگر یہ جھوٹا ہے تب بھی اس کے جھوٹل کا وبال اسی پر ہے، تمہارے لئے مناسب یہی ہے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ موسیٰ ؑ نے بھی ان سے کہا تھا :(وان لم تومنوا لی فاعتزلون) (الدخان : 21)”اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ سے الگ رہو۔“
(7) وان یک صادقاً یصبکم …:”اور اگر یہ سچا ہے تو تمہیں ان میں سے کوئی نہ کوئی چیز پہنچ جائے گی جن کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔“ اس مرد مومن نے یہاں ”یعدکم“ کا لفظ استعمال کیا جو وعدے کے لئے استعمال ہوتا ہے،”یوعدکم“ استعمال نہیں کیا جو وعید کے لئے ہے۔ کیونکہ وعدے میں دونوں چیزیں آجاتی ہیں، یعنی اگر وہ سچا ہوا اور تم نے اس کی اطاعت کی تو اس کا وعدہ ہے کہ تمہیں دنیا و آخرت دونوں کی بھلائیاں حاصل ہوں گی، اس کے مطابق تمہیں ان میں سے کچھ نہ کچھ ضرور حاصل ہوجائے گا، اگر وہ دنیا میں حاصل نہ ہوئیں تو آخرت میں یقینا حاصل ہوجائیں گی اور اگر تم سچا ہونے کے باوجود اس پر ایمان نہ لائے، یا تم نے اسے قتل کردیا تو اس نے تمہارے کفر کی صورت میں دنیا کے اندر جن جن عذابوں کا وعدہ کیا ہے ان میں سے کوئی نہ کوئی ضرور تم پر آجائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمد ﷺ کو پہلی امتوں کے مختلف قسم کے عذابوں سے ڈرایا، فرمایا : (فکلا اخذنا بذنبہ، فمنھم من ارسلنا علیہ حاصباً ومنھم من اخذتہ الضیحۃ ومنھم من خسفنا بہ الارض ، ومنھم من اغرقنا) (العنکبوت : 30)”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کردیا۔“ اور اگر دنیا میں کوئی عذاب نہ آیا تو آخرت کے عذاب سے بچنے کی تو کوئی صورت ہی نہیں۔
(8) ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب : اس جملے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور ہوسکتا ہے اس عظیم شخص نے دونوں مراد لئے ہوں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو راہ راست کی ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا سخت جھوٹا ہو، جب کہ موسیٰ ؑ میں حد سے بڑھنے کی کوئی بات نہیں ہے، پھر کذاب تو بہت دور کی بات ہے اس پر جھوٹ کا الزام ایک بار بھی نہیں لگا۔ اس کی واضح دلیلوں اور معجزوں سے اس کا سچا ہونا ثابت ہو رہا ہے ، کسی مسرف و کذاب پر اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل و کرم کیسے ہوسکتا ہے اور ایسے شخص کو قتل کرنا کیسے روا ہوسکتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ یہ دونوں اوصاف بیان کرتے ہوئے درحقیقت وہ فرعون پر طعن کر رہا تھا ، جو رب ہونے کا دعویٰ کر کے اپنی حد سے بےحساب تجاوز بھی کر رہا تھا اور زبردست جھوٹ بھی بول رہا تھا، اس کی طرف سے قتل کا ارادہ بھی اس کے مسرف و کذاب ہونے کا نتیجہ تھا کہ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ صحیح فیصلے کی توفیق نہیں دیتا۔
Ayah 40:29(1) یقوم لکم الملک الیوم …: اس مرد مومن نے ”اے میری قوم !“ کہہ کر ان کے ساتھ اپنے اس تعلق کا اظہار کیا جو وہ فرعون کے خاندان کا ایک قبطی فرد ہونے کی بنا پر ان سے رکھتا تھا اور ”الیوم“ (آج) کہہ کر اس نے انہیں زمانے کے انقلابات کی طرف توجہ دلائی کہ یہ غلبہ و اقتدار دائمی چیز نہیں، اگر یہ کل یوسف ؑ اور ان کے جانشین اسرائیلیوں کے پاس تھا اور آج اس سر زمین مصر میں تمہارے پاس ہے اور تم اسرائیلیوں پر غالب ہو تو اسرائیلیوں کی طرح تم سے بھی چھن سکتا ہے اور کفر و شرک اور ظلم وتعدی کی وجہ سے پہلی اقوام کی طرح تم بھی اللہ کے عذاب کا نشانہ بن سکتے ہو۔ تو اگر وہ آگیا تو ہمیں اس سے کون بچائے گا ؟”الارض“ میں ”الف لام“ عہد کا ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”اس سر زمین“ کیا گیا ہے، مراد مصر ہے۔
(2) قال فرعون ما اریکم الا ما اری : بعض مفسرین کا خیال ہے کہ فرعون کو پتا نہیں چل سکا کہ موسیٰ ؑ کے قتل کے فیصلے کے خلاف رائے دینے والا شخص حقیقت میں ان پر ایمان لا چکا ہے، اس لئے فرعون کو پتا نہیں چل سکا کہ موسیٰ ؑ کے قتل کے فیصلے کے خلاف رائے دینے والا شخص حقیقت میں ان پر ایمان لا چکا ہے، اس لئے فرعون نے اس کی اس جرأت پر کوئی گرفت نہیں کی۔ مگر زیادہ قرین قیاس بات یہ ہے کہ وہ پہلے ہی موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزوں اور ہیبت کی وجہ سے خوف زدہ تھا، جس کی دلیل اس کا یہ کہنا ہے :(ذرونی اقتل موسیٰ) (المومن : 26)”مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں“ اب اس نے دیکھا کہ اس کے خاص لوگوں میں بھی موسیٰ ؑ کی حمایت آگئی ہے تو اسے جرأت ہی نہیں ہوئی کہ اس مرد مومن کو کچھ کہے اور نہ ہی وہ اس کی کسی دلیل کا جواب دے سکا، بلکہ اس نے جواب سے گریز اختیار کیا اور اپنے سرداروں اور قوم کے لئے اپنے اخلاص کا اظہار کیا کہ میں تمہارے لئے وہی سوچتا ہوں جو اپنے لئے سوچتا ہوں اور تمہارے سامنے وہی رائے پیش کرتا ہوں جو میری بہترین سوچ کا نتیجہ ہے۔ مگر اس مسرف و کذاب کا یہ کہنا سراسر جھوٹ تھا کیوں کہ وہ دل سے موسیٰ ؑ کو سچا جان چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جھوٹ متعدد آیات میں بیان فرمایا ہے۔ (دیکھیے نمل : 12 تا 14) بنی اسرائیل : 102) اس کا مقصد اپنی قوم کو بیوقوف بنانا تھا اور واقعی اس نے انہیں بےقوف بنا لیا، جیسا کہ سورة زخرف میں ہے :(فاستخف قومہ فاطاعوہ انھم کانوا قوماً فسقین) (الزخرف : 53) ”غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بےوزن) کردیا تو انہوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔“
اس کے علاوہ اس کا یہ کہنا کہ ”میں تمہارے لئے وہی سوچتا ہوں جو اپنے لئے سوچتا ہوں“ اس لئے بھی صاف جھوٹ تھا کہ اپنے لئے تو وہ رب الاعلیٰ سے نیچے کسی مقام پر قناعت کے لئے تیار نہ تھا، مگر قوم کے لئے اس کے پاس انہیں اپنا غلام بنا کر رکھنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ آج کے حکمرانوں کے قول و عمل کا بھی یہی حال ہے۔
(3) وما اھدیکم الاسبیل الرشاد : اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات میں واضح فرمایا کہ اس کا یہ کہنا بھی غلط تھا کہ ”میں تمہیں بھلائی کا راستہ ہی بتارہا ہوں۔“ دیکھیے سورة ہود (9) اور سورة طہ (79)
Ayah 40:30وقال الذی امن یقوم …:”یوم“ سے مراد کوئی نادر واقعہ ہوتا ہے جو کسی قوم کو کسی ہولناک عذاب یا اعلیٰ درجے کی نعمت کی صورت میں پیش آیا ہو، مثلاً یوم بدر مسلمانوں کے لئے نعمت اور کفار کے لئے عذاب تھا۔ ”الاحزاب“ ”حرب“ کی جمع ہے، وہ جماعتیں جو کسی کی مخالفت میں اکٹھی ہوئی ہوں۔ مرد مومن نے جب فرعون کا موسیٰ کے قتل کی رائے پر اصرار اور تمام سرداروں کا خاموش رہ کر اس کی تائید کرنا دیکھا تو اس نے مصلحت کا لبادہ اتار کر صریح الفاظ میں ان سے کہا، اے میری قوم ! اگر تم نے اللہ کے رسول کو قتل کرنے یا کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ ترک نہ کیا تو میں ڈرتا ہوں کہ تم پر ان جماعتوں پر آنے والے عذابوں جیسا عذاب آجائے گا جو اپنے انبیاء کے خلاف اکٹھی ہوئیں اور انہیں جھٹلا دیا، پھر تمہاری یہ شان و شوکت اور لاؤ لشکر تمہارے کسی کام نہ آسکیں گے۔
Ayah 40:31(1) مثل داب قوم نوح …:”اب یداب دآباً“ (ف) کسی کام میں مسلسل لگے رہنا۔”داب“ اصل میں عادت کو کہتے ہیں، کیونکہ اس میں ہمیشگی ہوتی ہے، پھر کسی کے حال یا معاملے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ یعنی میں تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں کہ تمہارا حال قوم نوح، عاد وثمود اور ان لوگوں جیسا نہ ہو جو ان کے بعد تھے ، مثلاً قوم لوط اور قوم شعیب وغیرہ، جنہوں نے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور انہیں ایذا پہنچانے کی کوشش کی تو ان پر اللہ تعالیٰ کا ایسا عذاب آیا جس نے انہیں بری طرح تباہ برباد کردیا۔
(2) وما اللہ یرید ظلماً للعباد :”ظلماً“ کی تنوین تنکیر کے لئے ہے، اس لئے ترجمہ ”کسی طرح کا ظلم“ کیا گیا ہے۔ یعنی ان اقوام پر جو عذاب آیا وہ ان کے اپنے اعمال بد کا نتیجہ تھا، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کسی طرح کے ظلم کا ارادہ نہیں کرتا تو وہ ظلم کیوں کرے گا، پھر ظلم بھی اپنے بندوں پر ؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : (ان اللہ لایظلم الناس شیئاً کرتے ہیں۔“
Ayah 40:32(1) وی قوم انی اخاف علیکم یوم الثناد ”الثنا ”‘ ”ندائ“ سے باب تفاعل ہے، ایک دور سے کو آواز دینا۔ دنیوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اس نے آخرت کے عذاب سے ڈرایا۔”یوم الثنا ”‘ (ایک دوسرے کو پکارنے کے دن) سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو محبت سے آواز دیں گے اور مشرکین کو اپنے شرکاء پیش کرنے کے لئے آواز دیں گے۔ اس دن اس کے فرشتے نیک و بد کو ان کی حیثیت کے مطابق آواز دیں گے۔ جنتی ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے، اسی طرح جہنمی ایک دور سے کو آواز دیں گے۔ اہل جنت جہنمیوں کو اور وہ جنتیوں کو آواز دیں گے۔ حق لینے والے حق دینے والوں کو اور مظلوم ظالموں کو آوازیں دے رہے ہوں گے۔ جہنمی آگ کے خازن کو پکاریں گے، پھر رب تعالیٰ کو آواز دیں گے۔ جنت و جہنم بھی آواز دے رہی ہوں گی۔ موت کا ذبح کردیا جائے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کو آواز دی جائے گی کہ اب ہمیشگی ہے، موت نہیں۔ غرض ، اس دن ایک دوسرے کو پکارنے کا عجیب عالم ہوگا۔ یہاں قرآن مجید سے اس ”یوم الثنا ”‘ کے بارے میں چند مقامات درج کئے جاتے ہیں، احباب تھوڑی سی محنت فرما کر تفصیل ملاحظہ فرما لیں۔ دیکھیے سورة اعراف (43 تا 50) ، زخرف (77) ، حدید (14) ، قصص (62، 65، 74) ، کہف (52) ، مومن (10) ، حم سجدہ (44) ، ق (41) ، ، بنی اسرائیل (52، 71) ، یٰسین (52، 60) ، حاقہ (19 تا 32) عبس (34 تا 37) اور سورة معاج (17)
(2) بعض مفسرین نے فرمایا کہ ”مثل یوم الاحزاب“ سے جو مراد ہے وہی ”یوم الثنا ”‘ سے مراد ہے، یعنی ”یوم الثنا ”‘ سے بھی وہی دنیا میں آنے والا عذاب مراد ہے کہ جب وہ دن آئے گا تو تم ایک دوسرے کو مدد کے لئے آواز دو گے، مگر کوئی مددد کو نہیں آئے گا اور تم عذاب سے بچنے کے لئے بھاگو گے، مگر تمہیں اللہ تعالیٰ سے کوئی نہیں بچائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :”فلما احسوا باسنآ اذا ھم منھا یرکضون لا ترکضوا وارجعوآ الی ما اثر فتم فیہ وم کسی نکم لعلکم تسئلون) (الانبیائ : 12، 13)”تو جب انہوں نے ہمارا عذبا محسوس کیا اچانک وہ ان (بستیوں) سے بھاگ رہے تھے۔ بھاگو نہیں اور ان (جگہوں) کی طرف واپس آؤ جن میں تمہیں خوش حالی دی گئی تھی اور اپنے گھروں کی طرف، تاکہ تم سے پوچھا جائے۔“ اگرچہ اکثر مفسرین نے ”یوم الثنادذ سے مراد قیامت کا دن لیا ہے، مگر آیات کے سیاق کے لحاظ سے اس تفسیر کی بھی گنجائش ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”(یوم الثناد) ہانک پکار کا دن ان پر آیا جس دن فرق ہوئے قلزم میں، ایک دوسرے کو پکارنے لگے ڈوبتے میں۔“
Ayah 40:33(1) یوم تولون مدبرین : اس میں ”یوم الثنا ”‘ کی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ دن ہے جس میں تم اللہ کے عذاب سے پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگو گے۔
(2) مالکم من اللہ من عاصم : مگر تمہیں اللہ سے، یعنی اس کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، جیسا کہ فرمایا (یقول الانسان یومئذ این المفر کلا لاوزر الی ربک یومئذ المستقر) (القیامۃ : 10 تا 12)”انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ ہرگز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔“
(3) ومن یضلل اللہ فمالہ من ھاد : یعنی میں نے تمہیں نصیحت کردی، مگر تمہاری ضد اور عناد کی وجہ سے اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں گمراہی میں ہی پڑا رہنے کا ارادہ کرلیا ہے تو جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (26، 27)
Ayah 40:34(1) ولقد جآء کم یوسف من قبل :’ تمہارے پاس“ سے مراد تمہارے آبا و اجداد کے پاس ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے بنی اسرائیل کو فرمایا :(واذنجینکم من ال فرعون) (البقرہ : 39) ”اور جب ہم نے تمہیں فرعون کی قوم سے نجات دی۔“ ظاہر ہے اس سے مراد ان کے آباء و اجداد کو نجات دینا ہے۔ مرد مومن نے قبطیوں کو نصیحت کرتے ہوئے ان کے آبا و اجداد کے زمانے کا حال یاد دلایا کہ موسیٰ (علیہ سے پہلے تمہارے پاس یوسف ؑ آئے، اس وقت بھی تمہارا حال یہی تھا۔
(2) بالبینت : اپنی رسالت کی واضح دلیلوں کے ساتھ۔ ”واضح دلیلوں“ میں یوسف ؑ کا صدق و ایفائے عہد، ان کی امانت اور کمال درجے کی پاک دامنی، مصر کی عورتوں کی طرف سے ان کی عفت کی شہادت ، قید میں ان کا صبر، قید کے ساتھیوں اور بادشاہ کے خوب کی تعبیر، سات سالہ خوفناک قحط کی یقینی اطلاع، اس کے لئے پہلے سات سالوں میں غلے کو محفوظ رکھنے اور بعد کے سات سالوں میں ان کی نہایت درست طریقے سے عادلانہ تقسیم کی تدبیر، بےمثال عدل و انصاف، موقع ملنے پر قید کے ساتھیوں کو ناقابل تردید دلائل کے ساتھ توحید کی دعوت، یعنی :(ء ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القھار ما تعبدون من دونہ الا اسمآء سمیتموھآ انتم وابآؤکم ما انزل اللہ بھا من سلطن، ان الحکم الا للہ، امر الا تعبدوآن الا ایاہ ذلک الذین القیم ولکن اکثر الناس لایعلمون) (یوسف : 39، 30)”کیا الگ الگ رب بہتر ہیں یا اللہ، جو اکیلا ہے، نہایت زبردست ہے ؟ تم اس کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر چند ناموں کی، جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں، اللہ نے ان کے بارے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت مت کرو، یہی سدیھا دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ اور تہمت کی صفائی تک قید سے نہ نکلنا اور دیگر بہت سی چیزیں شامل ہیں جن سے ان کا اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ رسول ہونا ثابت ہوتا ہے۔
(3) فما زلتم فی شک مما جآء کم بہ : یعنی اس سے پہلے یوسف ؑ جب مصر میں آئے تو غلام تھے، جنہیں عزیز مصر نے بیٹا بنا لیا، پھر بہت سی آزمائشوں اور امتحانوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں حکومت کے ساتھ سے بھی سرفراز فرمایا، انہیں نبوت و رسالت کے ثبوت کیلئے کئی دلائل اور معجزے عطا فرمائے۔ تم ان پر ایمان لائے، مگر شک کے ساتھ تمہارا ان پر ایمان ایسا ہی تھا جیسا کسی فقیر کا دولت مند پر یا کمزور کا طاقتور پر ہوتا ہے۔ اس میں یقین کی قوت نہ تھی، بلکہ تمہیں ان کی رسالت میں شک ہی رہا۔
(4) حتی اذا ھلک قلتم لن یبعث اللہ من بعدہ رسولاً : ان کی زندگی میں تمہیں ان کی لائی ہوئی شریعت پر شک رہا، مگر جب وہ فوت ہوئے تو تم ان کی تعریف میں اس حد تک بڑھ گئے کہ تم نے کہا، اب ان کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی رسول نہیں بھیج کے گا، اب اس شان کا رسول کہاں آئے گا ؟ یہ کہہ کر بعد میں رسولوں کے آنے ہی کا انکار کردیا۔ یا ان کی بےقدری کی وہ انتہا کہ ان کی نبوت پر مسلسل شک کرتے رہے، یا ان کی تعریف کی یہ انتہا کہ ان کے بعد کسی کو رسول ماننے کے لئے تیار ہی نہیں۔ اس سے پہلے تم نے یوسف ؑ کے ساتھ یہ معاملہ کیا، دیکھنا ! اب موسیٰ ؑ کے ساتھ بھی یہ معاملہ نہ کرنا کہ جیتے جی ان پر ایمان نہ لاؤ اور مرنے کے بعد انہیں ان کی حد سے بڑھا دو۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”حضرت یوسف ؑ کی زندگی میں قائل نہ ہئے، بعد ان کی موت کے جب سلطنت کا بندوبست بگڑ گیا تو کہنے لگے، یوسف کا قدم اس شہر پر کیا مبارک تھا، ایسا نبی کوئی نہ ہوگا۔ یا وہ انکار یا یہ اقرار یہی یا وہ گوئی ہے۔“ مرد مومن کا مطلب یہ تھا کہ نعمت کی قدر زوال کے بعد ہوتی ہے فی الحال تمہیں موسیٰ ؑ کی قدر نہیں۔
(5) کذلک یضل اللہ من ھو مسرف مرتاب :”مرتاب“”ریب“ سے ”ارتاب یرتاب ارتیاباً“ (افتعال) کا اسم فاعل ہے، شک کرنے والا۔ یعنی اللہ تعالیٰ گمراہی میں انھی لوگوں کو مبتلا کرتا ہے جن میں تین صفات پائی جاتی ہیں، ایک ”مشرف“ یعنی جو اپنی بد اعمالی، اللہ کی نافرمانی اور کبر و غرور میں حد سے بڑھنے والے ہوں۔ دوسرے ”مرتاب“ یعنی اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کی کہی ہوئی باتوں میں شک کرنے والے ہوں۔
Ayah 40:35(1) الذین یجادلون فی ایت اللہ …: یہ ان لوگوں کی تیسری صفت ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا، بلکہ انہیں ضلالت میں مبتلا کردیتا ہے، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی واضح اور روشن آیات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے اور انہیں سعادت مندی کے ساتھ تسلیم کرنے کے بجائے انہیں ٹھکرانے کے لئے صحیح عقل یا نقل سے آنے والی کسی دلیل کے بغیر جھگڑتے اور کج بحثی کرتے ہیں۔ فرمایا، ان کا کل سرمایہ شور و غوغا، استہزاء اور ہٹ دھرمی ہوتا ہے۔ یہ تین عیوب جن لوگوں میں پیدا ہوجاتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ بھی گمراہی کے گڑھے میں پھینک یدتا ہے۔
(2) کبر مقتا عند اللہ و عند الذین امنوا :”کبر“ کا فاعل وہ جدال ہے جو ”یجادلون“ کے ضمن میں بطور مصدر موجود ہے،”مقتاً“ تمیز ہے۔ یعنی بلا دلیل جھگڑا اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اور ایمان والوں کے ہاں بھی سخت ناپسندیدگی ، نفرت اور ناراض ہونے کے لحاظ سے بہت بڑا ہے۔
(3) بلا دلیل جھگڑا اللہ تعالیٰ اور مومنوں کے نزدیک سخت ناپسندیدہ بتلانے میں اہل ایمان کو تلقین ہے کہ ایسے جھگڑے سے اجتناب کریں جیسا کہ فرمایا :(واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ) (القصص : 55)”اور جب وہ لغوبات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں۔“ اور فرمایا :(واذا خاطبھم الجھلون قالوا سلما) (الفرقان : 63)”اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔“ اور فرمایا :(واذا مروا بالغومروا کراماً) (الفرقان : 82) ”اور جب بےہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو باعزت گزر جاتے ہیں۔“ ناحق جھگڑے سے اپنی شدید نفرت کے ذدکر کے ساتھ ایمان والوں کی شدید نفرت کا تذکرہ بھی فرمایا، اس سے ایمان والوں کی شان کی عظمت کا اظہار مقصود ہے۔
(4) کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار : معلوم ہوتا ہے کہ ”کذلک یضل اللہ من ھو مسرف مرتاب“ سے یہاں تک چند فقرے آل فرعون کے کلام کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد فرمائے گئے ہیں اور ان میں اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے کے متکبر و جبار کفار کے کفر پر اصرار کا باعث بیان کیا گیا ہے۔ یعنی نبی کریم ﷺ جن لوگوں کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں ان میں سے بھی کوئی شخص جب تکبر اور سرکشطی میں حد سے گزر جاتا ہے اور کوئی صحیح بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا تو اس کے دل پر اسی طرح مہر لگا دی جاتی ہے جس طرح آل فرعون کے دل پر مہر لگا دی گئی، پھر اس کا کام اسراف (زیادتی) ، ارتیاب (شک) اور جدال بالباطل (ناحق جھگڑا) ہی رہ جاتا ہے، کوئی صحیح بات یا نصیحت اس پر اثر نہیں کرتی اور ہی اللہ تعالیٰ اسے ہدایت کی توفیق دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم) (الصف : 5) ”پھر جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیئے۔“ اور فرمایا :(ونقلب افدتھم وابصارھم کمالو یو منوا بہ اول مزۃ ونذرھم فی طغیانھم یعمھون) (الانعام : 110)”اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے، جیسے وہ اس پر پہلی بار ایمان نہیں لائے اور انہیں چھوڑ دیں گے، اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں گے۔“
Ayah 40:36وقال فرعون یھامن ابن لی صرحاً …”صرحاً“ بلند و بالا عمارت جو دور سے صاف نظر آئے۔”صراحت“ کسی بات کے خوب ظاہر اور واضح ہونے کو کہتے ہیں۔ ”الاسباب“ ”سبب“ کی جمع ہے، کسی چیز تک پہنچنھے کا ذریعہ، مراد راستے اور دروازے ہیں۔ فرعون نے جب دیکھا کہ اس کے پاس اس مرد مومن کی کسی بات کا جواب نہیں تو اس نے اس کی نصیحت کا اثر ختم کرنے اور مذاق اڑانے کے لئے اپنے وزیر ہامان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے ایک بلند و بالا عمارت بناؤ، تاکہ میں راستوں تک پہنچ جاؤں۔
Ayah 40:37(1) اسباب السموت فاظلع الی الہ موسیٰ : فرعون نے پہلے صرف یہ کہا : ”تاکہ میں اسباب تک پہنچ سکوں“ مقصد تجسس پیدا کرنا تھا کہ وہ کس چیز کے اسباب تک پہنچنا چاہتا ہے۔ چناچہ اس نے دوبارہ وضاحت کی، تاکہ میں آسمانوں کے راستوں اور دروازوں تک پہنچ جاؤں، جہاں سے آسمانوں تک رسائی ہوتی ہے، پھر موسیٰ کے معبود کی طرف جھانکوں ، جو اس کے کہنے کے مطابق آسمانوں کے اوپر ہے۔
(2) وانی لاظنہ کاذباً ”ان اور ”لام“ کے ساتھ تاکید کی وجہ سے یہاں ظن (گمان) یقین کے معنی میں ہے، یعنی موسیٰ جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے، یا یہ کہ اس کا رب آسمانوں کے اور عرش پر ہے، تو مجھے یقین ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔ اس آیت سے ثابت ہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے اوپر عرش پر ہے، اس پر تمام انبیاء و رسل، صحابہ و تابعین اور ائمہ دین کا اتفاق ہے۔ افسوس ! اس مقام پر کئی مفسرین نے، جو یونان کے مشرک فلسفیوں سے متاثر ہیں، اللہ تعالیٰ کے آسمان پر یا بلندی کی طرف یا عرش پر ہونے کا انکار کیا ہے، بلکہ بعض نے تو اتنی جرأت کی ہے کہ اسے فرعون کا عقیدہ قرار دیا ہے، حالانکہ وہ موسیٰ ؑ کا عقیدہ ہے جس کا فرعون انکار کر رہا ہے اور اس میں موسیٰ ؑ کو جھوٹا کہہ رہا ہے، اس کے علاوہ قرآن مجید کی ”ثم استوی علی العرش“ والی تمام آیات اس بات کی واضح دلیل ہیں۔ اسی طرح وہ آیات بھی جن میں اللہ تعالیٰ کے آسمانوں کے اوپر ہونے کا ذکر ہے۔ دیکھیے سورة ملک (16، 17) ، حاقہ (17) اور طہ (5) کی تفسیر۔
(3) وکذلک زین لفرعون سوء عملہ …یعنی اس طرح فرعون کے لئے اس کا برا عمل، یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار، اپنے رب الاعلیٰ ہونے پر اصرار، موسیٰ ؑ کی تکذیب اور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم خوش نما بنادیا گیا اور وہ ان کاموں کو اچھا سمجھ کر ان پر چلتا رہا۔ خوش نما بنانے والا کون تھا ؟ تو یہ اس کی خواہش نفس، شیطان، برے ساتھی (دیکھیے انعام : 122، 137، انفال : 48) اور خود اللہ تعالیٰ تھا، کیونکہ ہر چیز کا خالق وہی ہے۔ (دیکھیے انعام : 108۔ نمل : 4) اور جو مخالفت پر کمر باندھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مرضی پر چھوڑ دیتا ہے۔ دیکھیے سورة نسائ (115)۔
(4) وما کید فرعون الا فی تباب :”تباب“ ”تب یتب“ (ن) کا مصدر ہے، ہلاکت، تباہی اور خسارہ۔ یہ لازم و متعددی دونوں معنوں میں آتا ہے۔ یعنی اس نے جتنی چالیں چلیں سب اس کی تباہی کا سبب بنتی چلی گیئں، بالآخر وہ اپنے لشکروں سمیت سمندر میں غرق کردیا گیا۔ یہی حال ہر جھوٹے اور مکار آدمی کا ہوتا ہے۔
(5) فرعون نے وہ محل بنایا یا نہیں، اس کی وضاحت اور ان دونوں آیتوں کی مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة قصص (38 تا 40)۔
Ayah 40:38وقال الذین امن یقوم اثبعون … : مرد مومن نے فرعون کے استہزا سے صرف نظر کرتے ہوئے قوم کو نصیحت جاری رکھی اور کہا کہ اے میری قوم ! ”سبیل الرشا ”‘ (بھلائی کا راستہ) وہ نہیں جو فرعون بتلاتا ہے، بلکہ تم میری بات مانو، میں تمہیں بھلائیک ا راستہ بتاتا ہوں۔
Ayah 40:39یقوم انما ھذہ الحیوۃ الدنیا متاع…: مرد مومن نے اپنی بات کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہیں جو راستہ بتاتا ہوں حقیقت میں صحیح راستہ وہی ہے، کیونکہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا مطمح نظر اور ساری تگ و دو صرف دنیا کے لئے ہے، انہوں نے آخرت کی زندگی سے بالکل آنکھیں بند کر رکھی ہیں، حالانکہ دنیا کی زندگی معمولی سا فائدہ ہے، (متاع کی تنوین تحقیر کے لئے ہے) جو بہت تھوڑی مدت کے لئے ہے۔ عیش و آرام سے گزرے تو حاصل کچھ نہیں، کیونکہ ناپائیدار ہے اور تنگی ترشی سے گزرے تب بھی گزر ہی جائے گی۔ فکر تو آخرت کی زندگی کی کرنی چاہیے جو دائمی اور لازوال ہے، جہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ وہاں دنیا کا یہ حقیر سامان کسی کام نہیں آئے گا، بلکہ صالح اعمال کام آئیں گے۔
Ayah 40:40من عمل سیئۃ فلا یجزی الا مثلھا …: یہ دنیا دار الامتحان ہے، اس کے باوجود رحمان و رحیم رب تعالیٰ نے اتنی زبردست رعایت رکھی ہے کہ جو شخص کوئی برائی کرے، اسے صرف اس ایک برائی ہی کا بدلا دیا جائے گا، مگر جو شخص ایمان لا کر کوئی صالح عمل کرے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور اس میں انہیں بےحساب رزق دیا جائے گا، انہیں نیکیوں کی جزا بھی دس گنا سے سات سو گنا بلکہ حساب و شمار سے بھی زیادہ دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ برائی کی جزا اتنی ہی دی جائے گی جتنی کسی نے برائی کی ہے اور یہ کہ کافر کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا، کیونکہ اگر اس نے اپنے خیال میں کوئی نیکی کی بھی ہے تو اس کا اعتبار ایمان کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔ عمل صالح کی قبولیت کے لئے ایمان شرط ہے، اور عمل صالح وہ ہے جس میں نیت درست ہو، یعنی وہ خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو اور طریقہ درست ہو، یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے۔ دیکھیے سورة کہف کی آخری آیت کی تفسیر۔
Ayah 40:41(1) ویقوم : یہاں زمخشری نے ایک سوال اور اس کا جواب ذکر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس نے بار بار ”یقوم“ کیوں کہا اور کیا وجہ ہے کہ اس نے تیسری دفعہ ”واؤ“ کے اضافے کے ساتھ ”ویقوم“ کہا، جب کہ دوسری دفعہ ”واؤ“ کے بغیر ”’ یقوم“ کہا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بار بار ”یقوم“ کہنے کا مقصد ایک تو انہیں خبر دار اور خواب غفلت سے بیدار کرنا ہے، دوسرا اس بات کا اظہار ہے کہ تم میری قوم اور میرا خاندان ہو، اس لئے مجھ پر واجب ہے کہ میں تمہاری خیر خواہی کروں۔ چناچہ وہ ان سے نہایت نرمی اور محبت کے ساتھ بات کرتا ہے، ان کے بارے میں اپنے غم کا اظہار کرتا ہے۔ تاکہ وہ اس کی نیت پر شک نہ کریں، کیونکہ ان کی خوشی اس کی خوشی اور ان کا غم اس کا غم ہے، جیسا کہ ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کو نصیحت کرتے ہوئے ہر جملے کی ابتدا ”یابت“ (اے میرے باپ !) سے کی۔ (دیکھیے مریم : 41 تا 45) اور تیسری دفعہ ”واؤ“ لانے اور دوسری دفعہ ”واؤ“ نہ لانے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے دوسری دفعہ ”یقوم“ والے جملے کے ساتھ اس سے پہلے جملے ہی کی وضاحت کی ہے، جب کہ تیسری دفعہ اس نے ایک نئی بات کی ہے۔
(2) مالی ادعوکم الی النجوۃ …قوم سے یہ سوال اظہار تعجب کے لئے ہے، یعنی یہ تمہاری کس قسم کی قوم پر دی اور حق شناسی ہے کہ میں تو تمہیں اللہ کی توحید اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں، جس کا نتیجہ آگ سے نجات ہے اور تم مجھے اللہ کے ساتھ شرک اور رسول کی تکذیب پر قائم رہنے کے لئے اصرار کرتے ہوئے آگ کی دعوت دے رہے ہو۔
(3) قرآن مجید کے رسم الخط میں ”نجاہ“ کے الف کو واؤ کی شکل میں ”النجوۃ“ لکھا گیا ہے، اس کی وجہ اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ یہ الف واؤ سے بدلا ہوا ہے ، جیسا کہ ”صلاۃ“ اور ”زکاۃ“ کو ”صلوۃ“ اور ”زکوۃ“ لکھا جاتا ہے۔
Ayah 40:42(1) تدعوننی لاکفرباللہ …: یعنی میں تو اللہ پر ایمان لے آیا ہوں اور مجھے یقینی علم حاصل ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ ان ہستیوں کو شریک مانوں جن کا مجھے علم ہی نہیں۔ علم نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ کہیں ہیں ہی نہیں تو میں ایسوں کو آنکھیں بند کر کے کیسے مان لوں۔
(2) وانا ادعوکم الی العزیز الغفار : اور میں تمہیں اس ذات عالی کی طرف دعوت دیتا ہوں جو سب پر غالب ہے، کوئی اس کی گرفت سے نکل نہیں سکتا۔ اس کے باوجود وہ ظالم و جابر نہیں، بلکہ اپنے فرماں بردار بندوں کے گناہوں پر بہت پردہ ڈالنے والا اور انہیں بخش دینے والا ہے، اس لئے عبادت کا حق دار وہی ہے۔
Ayah 40:43(1) لاجرم انما تدغوننی الیہ : یہاں ”الما“ کلمہ حصر نہیں، جو اکٹھا لکھا جاتا ہے، بلکہ ”ان“ الگ ہے اور ”ما“ موصولہ الگ ہے، معنی ”وہ جو۔“ قرآن مجید کے اولین کا تبوں نے اسے یہاں اکٹھا لکھا، اس لئے اسے اکٹھا لکھا جاتا ہے۔
(2) لیس لہ دعوۃ“ (اس کے لئے کوئی دعوت نہیں) کے کئی معانی ہوسکتے ہیں اور سب درست ہیں۔ ایک یہ کہ نہ دنیا میں اس کا حق ہے کہ اسے پکارا جائے نہ آخرت میں۔ دو سرا یہ کہ نہ دنیا میں اسے پکارنے کا کوئی فائدہ ہے نہ آخرت میں۔ تیسرا یہ کہ نہ وہ دنیا میں کسی کی دعا قبول کرسکتا ہے نہ آخرت میں۔ گویا یہ وہی بات ہے جو سورة احقاف میں فرمائی ہے۔ (ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لایستجیب لہ الی یوم القیمۃ وھم عن دعآئھم غفلون) (الاحقاف : 5) ”اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہ جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بیخبر ہیں۔“ مزید دیکھیے سورة فاطر (14)۔
(3) وان مردنا الی اللہ : یعنی آخر کار ہم سب کو اللہ تعالیٰ کے پاس واپس جانا ہے جو ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا یا سزا دے گا۔
(4) وان المسرفین ھم اصحب النار : یہاں ”المسرفین“ (حد سے بڑھنے والوں) سے مراد کافرو مشرک ہیں، کیونکہ ہمیشہ آگ میں رہنے والے وہی ہیں، فرمایا :(ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآئ) (السمائ : 38، 116)”بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔“
Ayah 40:44(1) فستذکرون ما اقول لکم : معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرد مومن اس تقریر کے دوران فرعون کی گفتگو سن کر اور قوم کا رویہ دیکھ کر ان کے ایمان لانے اور موسیٰ ؑ کے متعلق قتل کا فیصلہ بدلنے سے مایوس ہوگیا تھا اور اپنے متعلق بھی اسے پورا یقین ہوگیا تھا کہ یہ لوگ مجھے بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس لئے اس نے آخری فقرہ اس شخص کے لہجے میں کہا جو اللہ کی راہ میں جان دینے کے لئے تیار کھڑا ہو اور جسے اللہ کی مدد پر پورا یقین ہو۔
(2) و افوض امری الی اللہ : یہی وہ بات ہے جو اللہ کے خاص بندے اس وقت بھی کہتے ہیں جب تمام ظاہری اسباب ختم ہوجائیں، اس وقت بھی ان کا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ پوری طرح قائم رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کے اعتماد کو بکھی نہیں توڑتا، بلکہ جس طرح چاہتا ہے انہیں بچا لیتا ہے۔ اللہ کے ان بندوں کے الفاظ مختلف ہوسکتے ہیں مگر مفہوم ایک ہی ہوتا ہے کہ ہم نے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کیا، وہی ہمارے لئے کافی ہے۔ چناچہ ابراہیم ؑ نے آگ میں گرائے جانے کے وقت ”حسبی اللہ و نعم الوکیل“ کہا۔ (بخاری التفسیر، باب قولہ تعالیٰ : (الذین استجابوا اللہ …): 6363 جنگ احاد کے بعد زخم خوردہ ہونے کے باوجود دشمنوں کی آمد کی خبر سن کر ایمان والوں نے یہ بات ان الفاظ میں کہی :(حسبنا اللہ ونعم الوکیل) (آل عمران : 183’ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے۔“ اور اصحاب الاخدود والے لڑکے نے یہی بات ان الفاظ میں کہی تھی (اللھم اکفینھم بما شئت) (مسلم الزھد، باب فصۃ اصحاب الاخدود …: 3005)”اے اللہ ! مجھے ان سے کافی ہوجا جس طرح تو چاہے۔“ اور آل فرعون کے ماومن نے کہا :(وافوض امری الی اللہ ، ان اللہ بصیر بالعباد) ”میں اپنا معاملہ اللہ کیس پرد کرتا ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔“
(3) ان اللہ بصیر بالعباد : یعنی وہ تمہارے کفر و شرک اور ظلم و ستم پر اصرار کو اور میری بےچارگی اور اس کی خاطر استقامت کو خوب دیکھ رہا ہے، وہ خود ہی فیصلہ فرما دے گا۔
Ayah 40:45(1) فوقہ اللہ سیات مامکروا : فرعون اس مرد مومن کی واشگاف الفاظ میں نصیحت پر جتنا بھی غضب ناک ہوا ہو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کی وجہ سے علی الاعلان اس کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرسکا، بلکہ اس نے اور اس کے دربار والوں نے اس کے خلاف کاروائی کے لئے کئی خفیہ منصوبے طے کئے، مگر اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے برے نتائج سے بھی بچالیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ نہیں بتایا کہ کس طرح بچایا۔ بعض مفسرین نے بیان کیا کہ وہ ان سے بچ کر پہاڑوں کی طرف نکل گیا۔ بعض نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد جلد ہی موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر نکلے تو وہ بھی ان کے ساتھ سمندر پار ہوگیا۔ ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی یقینی نذریعہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح بچایا۔ شاید اللہ تعالیٰ کے یہ بات نہ بتانے میں یہ حکمت ہو کہ تم اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دو ، پھر یہ اس کا کام ہے کہ وہ تمہیں کس طرح بچاتا ہے۔ اس کے بچانے کے طریقے تمہاری سوچ سے بہت بلند ہیں۔
(2) وخاق بال فرعون سوٓء العذاب : وہ مومن تو آل فرعون کی سازشوں کے برے نتائج سے بچ کر دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوگیا ، مگر آل فرعون کو دنیا اور آخرت کے دوہرے عذاب نے گھیر لیا۔ دنیا میں وہ سمندر میں غرق ہوئے۔
Ayah 40:46(1) النار یعرضون علیھا عدوآ و عیشیا، سمندر میں غرق کئے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں گھیرنے والے دو بدترین عذابوں کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک قیامت تک ہونے والا عذاب ، عذاب قبر یا عذاب برزخ ہے، جو موت اور آخرت کے درمیانے وقفے میں انھیں آگ کی صورت میں ہو رہا ہے، جس پر وہ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں۔ خواہ ان کے جسم سمندری جانوروں کی خوراک بنے ہوں یا کسی عجائب گھر میں محفوظ ہوں، یا خاک میں مل گئے ہوں ، ان کا ہر ذرہ جہاں بھی ہے وہی اس کی قبر ہے اور قیامت تک اسے یہ عذاب ہوگا۔ صبح و شام سے مراد ہر وقت ہے اور یہ محاورہ عربی ہی نہیں ہر زبان میں بولا جاتا ہے۔ دیکھیے سورة مریم (62)۔
(2) ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب : یہ دوسرا عذاب ہے جو قیامت کے دن شروع ہوگا۔ یہ آیت عذاب قبر کی واضح دلیل ہے۔ بعض لوگوں نے واضح آیات و احادیث کے باوجود عذاب قبر کا انکار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ لعیہ نے صحیح بخاری میں ”کتاب الجنائر“ کے تحت ”باب ما جآء فی عذاب القبر“ میں عذاب قبر ثابت کرنے کے لئے تین آیات اور متعدد احادیث ذکر فرمائی ہیں۔ پہلی آیت :(اذا الظلمون فی عمرت الموت والملئکۃ باسطوا ایدیھم اخرجوا انفسکم الیوم تجرون عذاب الھون) (الانعام : 93)”جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں، نکالو اپنی جانیں، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔“ دوسری آیت (سنعذبھم مرتبین ثم یرذون الی عذاب عظیم) (التوبۃ : 101) ”عنقریب ہم انہیں دو بار عذاب دیں گے، پھر وہ بہت بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔“ تیسری یہ آیت جو یہاں زیر تفسیر ہے۔
عذاب قبر سے متعلق صحیح بخاری میں مذکور احادیث میں سے چند یہاں درج کی جتای ہیں۔ انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان العبد اذا وضع فی قبرہ وتولی عنہ اضحابہ و انہ لیسمع فرع نعالھم اتاہ ملکان فیقعد انہ فیقولان ماکنت تقول فی ھذا الرجل لمحمد ﷺ ؟ فاما المومن فیقول اشھد انہ عبداللہ و رسولہ فیقال لہ انظر الی مقعدک من النار، قد ابدلک اللہ بہ مقعداً من الجنۃ ، فیر ا ھما جمیعاً ، قال قتادہ و ذکر لنا انہ یفسح لہ فی قبرہ ثم رجع الی حدیث انس قال و اما المنافق والکافر فیقال لہ ما کنت نقول فی ھذا الرجل ؟ فیقول لا اذری کنت اقول مایقول الناس فیقال لا ذریت ولا تلیث و یضرب بمطارق من خدید صربۃ فیصیح صیحۃ یسمعھا من یدرہ غیر التعلمین) (بخاری، الحنائر، باب و ما جاء فی عذاب القبر :1383)”آدمی جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے واپس لوٹتے ہیں اور وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے، تو اس کے پاس وہ فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا دیتے ہیں اور کہتے ہیں :”تو اس آدمی محمد ﷺ کے بارے میں کیا کہتا تھا ؟“ جو مومن ہے وہ کہتا ہے :”میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔“ تو اس سے کہا اجتا ہے :”آگ میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لے، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں تجھے جنت میں ٹھکانا دے دیا ہے۔“ تو اسے وہ دونوں ٹھکانے اکٹھے دکھائیج اتے ہیں۔ قتادہ نے کہا ”ہمیں بتایا گیا کہ پھر اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔“ پھر قتادہ نے انس ؓ سے مروی حدیث آگے بیان فرمائی :”اور جو منافق یا کافر ہے، اس سے کہا جاتا ہے :”تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا تھا ؟“ و کہتا ہے :”میں نہیں جانتا، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔“ تو اس سے کہا جاتا ہے :”نہ تو نے جانا اور نہ کسی کے پیچھے چلا۔“ پھر اسے لوو ہے کے ہتھوڑوں سے ایک ایسی ضرب ماری جاتی ہے، جس سے وہ ایسی چیخ مارتا ہے جسے انسانوں اور جنوں کے سوا اس کے آس پاس کے سب سنتے ہیں۔“
ابو ایوب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سورج غروب ہونے کے بعد باہر نکلے، آپ ﷺ نے ایک آواز سنی، تو فرمایا (یھود تعذب فی قبورھا) (بخاری، الجنائر، باب التعوذ من عذاب القبر :1385) ’ یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔“ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا :(انھما لیعذبان، وما یعذبان فی کبیر ، ثم قال بلی، اما اخدھما فکان یسعی بالنمعمۃ واما اخدھما فکان لایستبرمن بولہ) (بخاری، الجنائر، باب عذاب القبر من الغیۃ والیول :1368)”بلا شبہ یقیناً ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑی چیز کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا۔“ پھر آپ نے فرمایا :”کیوں نہیں ! (وہ واقعی بڑی ہیں) ان میں جو ایک ہے وہ چغلی کھایا کرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے (اللھم انی اعوذ بک من عذاب القبر، ومن عذاب النار، ومن فتنۃ المحیا والممات، ومن فتنہ المسیح الدجال) (بخاری، الجنائر، باب التعوذ من عذاب القبر :1388)”اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے۔“
Ayahs 40:47–48(1) واذ یتخآجون فی النار فیقول الصعفوآ…: فرعون اور آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے چلنے والوں کا انجام آگ اور قیامت کے دن ”اشد العذاب“ بیان فرمانے کے بعد بتایا کہ صرف فرعون ہی نہیں، ہر متکبر اور اس کے اندھا دھند پیرو کار جہنم میں جائیں (ایک دوسرے سے جھگڑیں گے) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ کمزور لوگوں کا بڑا بننے والوں سے کہنا :(انا کنا لکم تبعاً فھل انتم معنون عنا نصیباً من النار) (کہ ہم دنیا میں تمہارے تابع تھے، تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹاؤ گے ؟) ان سے آگ ہٹانے کی درخواست کے لئے نہیں ہوگا، بلکہ انہیں ذلیل کرنے کے لئے اور اپنے دل کا ابال نکالنے کے لئے ہوگا۔ ان بڑے بننے والوں کے پاس بھی یہ کہنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا کہ ہم خود آگ میں ہیں، تمہارے کس کام آسکتے ہیں ! ؟ اس پر وہ ایک دوسرے کو لعنت کریں گے، مگر کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جھگڑے کا کئی مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (166) ، 167) ، سورة ابراہیم (21، 22) ، سورة اعراف (38، 39) اور سورة سبا (31 تا 33)۔
(2) ان اللہ قد حکم بین العباد : یعنی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نازل ہوچکا، اب تم اپنی سزا بھگتو ہم اپنی بھگت رہے ہیں، اس عذاب میں کمی بیشی ہمارے بس میں نہیں ہے۔
Ayah 40:49وقال الذین فی النار لخزنۃ جھنم …: یعنی آپ س کے جھگڑے کو بےسود کچھ کر سردار اور پیروکار سب جہنم کے دربانوں سے کہیں گے کہ اپنے رب سے ہمارے لئے بھی دعا کرو کہ کسی ایک دن ہی ہمارے عذاب میں تخفیف کر دے۔
Ayah 40:50قالواولم تک تاتیکم رسلکم بالبینت…: جہنم کے دربان ان پر واضح کرنے کے لئے کہ تم اس قابل ہی نہیں کہ تمہاری بات سنی جائے یا تمہاری سفارش کی جائے ان سے کہیں گے، کیا تمہارے رسول تمہارے پاس واضح دلیلیں لے کر نہیں آیا کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں اس پر فرشتے ان سے کہیں گے، پھر جب تم نے ان کی پکار پر لبیک نہیں کہا تو تمہاری پکار بھی کوئی نہیں سنے گا، سو پکارتے رہو، کافروں کی پکار بالکل بےسود اور بےکار ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں ”’ دوزخ کے فرشتے کہیں گے۔ سفارش ہمارا کام نہیں، ہم تو عذاب پر مقرر ہیں۔ سفارش کام ہے، رسولوں کا رسولوں سے تو تم برخلاف ہی تھے۔“ (موضح) دوسری جگہ فرمایا کہ وہ مالک (یعنی جہنم کے بڑے دربان) کو پکار کر کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ ہمارا کام ہی تمام کر دے، مگر وہ کہے گا، تمہیں یہیں رہنا ہے۔ (دیکھیے زخرف : 77) رب تعالیٰ سے بھی جہنم سے نکالنے کی درخواست کریں گے، مگر وہاں سے بھی انہیں دھتکار کر کہا جائے گا کہ مجھ سے بات مت کرو۔ دیکھیے سورة مومنون (107108)