Ayah 39:1تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْم“ الکتب میں الف لام عہد کا ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”اس کتاب“ کیا گیا ہے۔ کفار کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے، جیسا کہ سورة طور میں ہے : (اَمْ يَقُوْلُوْنَ تَـقَوَّلَهٗ ۚ بَلْ لَّا يُؤْمِنُوْنَ) [ الطور : 33 ] ”یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے یہ خود گھڑ لیا ہے ؟“ اللہ تعالیٰ نے سورت کی ابتدا اس بات سے فرمائی کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے، ساتھ ہی اپنی دو صفات ذکر فرمائیں، تاکہ وہ اس کلام کو معمولی خیال نہ کریں، بلکہ اس کی اہمیت سمجھیں۔ ایک یہ کہ یہ کلام نازل کرنے والا عزیز یعنی سب پر غالب ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ اس کا ذرہ بھر مقابلہ بھی کرسکے گا۔ دوسرا یہ کہ وہ حکیم یعنی حکمت والا ہے، اس لیے یہ کتاب سراسر دانائی اور حکمت پر مشتمل ہے، کوئی عقل سے عاری شخص ہی اس سے بےرخی اختیار کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی سورتوں کی ابتدا اس بات سے فرمائی ہے کہ یہ اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور ہر جگہ اس کی اہمیت واضح کرنے کے لیے اپنی چند صفات کا تذکرہ فرمایا ہے، مثلاً سورة مومن کے شروع میں فرمایا : تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ حم۔ اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے، جو سب پر غالب، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔“ سورة جاثیہ اور احقاف کے شروع میں فرمایا : (تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ ’ حم اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ سورة یٰس کے شروع میں فرمایا : (تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْم) ”یہ سب پر غالب، نہایت مہربان کا نازل کیا ہوا ہے۔“ سورة حٰم السجدہ کے شروع میں فرمایا : تَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ اس بیحد رحم والے، نہایت مہربان کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔“ ظاہر ہے اس میں قرآن مجید کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے کی تاکید ہے اور اس کی خوبی اور فضیلت کا بیان بھی، کیونکہ کلام کرنے والا جتنی اعلیٰ صفات والا ہوگا اس کا کلام بھی اتنا ہی اعلیٰ اور کامل ہوگا۔
Ayah 39:2اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : ”حق“ وہ ہے جو واقعہ کے عین مطابق ہو۔ اس آیت میں قرآن مجید کی مزید خوبیاں بیان فرمائیں، ایک یہ کہ پچھلی آیت میں اس کتاب کو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ بیان فرمایا، اب یہی بات اپنا ذکر جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ کر کے فرمائی، جس سے مقصود اپنی اور اپنے کلام کی عظمت کا اظہار ہے۔ دوسری یہ کہ ہم نے اس کتاب کو تیری طرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے، اس کی ہر بات درست ہے، کوئی بات واقعہ کے خلاف نہیں، اس لیے اس پر عمل لازم ہے۔
فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ : دین کا معنی عبادت اور اطاعت بھی ہے اور ایمان، اسلام اور احسان بھی، جیسا کہ حدیث جبریل میں ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے ہر قول و فعل میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا ارادہ اور نیت رکھے۔ شوکانی نے فرمایا، یہ آیت نیت کے ضروری ہونے کی دلیل ہے اور اس بات کی بھی کہ وہ ہر قسم کے شرک اور ریا کی ملاوٹ سے خالص ہونی چاہیے، کیونکہ اخلاص کا تعلق دل سے ہے اور صحیح حدیث میں ہے کہ تمام اقوال و افعال کا دارومدار نیت پر ہے، جیسا کہ فرمایا : (إِنَّمَا الْأَعْمَال بالنِّیَّاتِ) [ بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي۔۔ : 1 ] ”تمام اعمال نیتوں ہی کے ساتھ معتبر ہیں۔“ دین کو اللہ کے لیے خالص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اللہ کی عبادت (بندگی) کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی شامل نہ کرے، بلکہ صرف اسی کی پرستش کرے، اسی کی ہدایت کی پیروی کرے اور اسی کے احکام پر عمل کرے۔
Ayah 39:3اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ ۭ۔۔ : یعنی اصل حقیقت تو یہی ہے کہ خالص عبادت اور اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مگر اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کو اپنا حمایتی اور مدد گار سمجھنے والے مشرک لوگ عموماً یہی کہا کرتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت انھیں خالق ومالک سمجھ کر نہیں کرتے، خالق ومالک اور اصل معبود تو ہم اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھتے ہیں، لیکن اس کی ذات بہت بلند ہے، ہماری وہاں رسائی نہیں ہوسکتی، اس لیے ہم ان ہستیوں کو ذریعہ بناتے ہیں اور انھیں پکارتے اور ان سے فریاد کرتے ہیں، تاکہ یہ ہماری حاجتیں اور دعائیں اللہ تعالیٰ سے پوری کروا دیں۔ کئی لوگ اس کے لیے چھت پر پہنچنے کے لیے سیڑھی کے ضروری ہونے کی مثال بیان کیا کرتے ہیں۔
اِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ۔۔ : ایک اللہ کو پکارنے اور اس کی عبادت کرنے والے تو ایک ہی معبود پر متفق ہیں مگر اس کے سوا دوسری ہستیوں کو پکارنے والوں کا کسی ایک ہستی پر اتفاق نہیں، کوئی کسی کو پکارتا ہے اور کوئی کسی کو، کیونکہ کسی کے پاس اس بات کی دلیل نہیں، نہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ فلاں ہستی کو فلاں کام کا اختیار ہے، یا وہ اللہ تعالیٰ سے فلاں فلاں کام کروا سکتا ہے۔ مشرکین محض گمان کی بنا پر انھیں پوجتے جا رہے ہیں اور ہر ایک اپنے اپنے گمان کے مطابق کسی نہ کسی داتا، دستگیر، مشکل کشا یا حاجت روا کو پکار تا چلا جا رہا ہے۔ مشرکین کی یہ بات چونکہ بالکل ہی بودی اور بےکار ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرنے کے بجائے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن موحّدوں اور ان مشرکین کے درمیان اور مشرکوں کے مختلف گروہوں کے باہمی اختلاف میں حق بات کا فیصلہ فرمائے گا۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّار : اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے لیے دو لفظ استعمال فرمائے ہیں، ایک ”كٰذِبٌ“ اور دوسرا ”كَفَّارٌ“۔ ”كٰذِبٌ“ اس لیے کہ اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں کہ ایسی کوئی ہستی موجود ہے جس کی پرستش سے، یا اسے پکارنے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوجاتا ہے اور ”كَفَّارٌ“ (بہت ناشکرا) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی دعا خود سنتا اور قبول کرتا ہے، لیکن کس قدر نا شکرے ہیں وہ لوگ جو اس کی اس نعمت کی ناشکری کرتے ہوئے اس کے بجائے بےاختیار ہستیوں کو پکارتے اور ان کی پرستش کرتے ہیں اور اس کے لیے سیڑھی وغیرہ کی مثالیں بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتا ہے، میں قریب ہوں اور یہ کہتے ہیں کہ اس تک رسائی کے لیے واسطے ضروری ہیں۔
Ayah 39:4لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا۔۔ : اس آیت میں مشرکین کے ایک اور شرک یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کی نفی فرمائی ہے، کیونکہ ان میں سے بعض عزیر ؑ کو اور بعض عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے تھے اور بعض فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ظاہر ہے اولاد دو طرح کی ہوسکتی ہے، ایک حقیقی اولاد۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے عقلاً محال ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا) [ الأنعام : 101 ] ”اس کی اولاد کیسے ہوگی، جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔“ یعنی اللہ کی کوئی بیوی نہیں اور بیوی کے بغیر اولاد محال ہے، پھر ہر چیز اس کی مخلوق ہے اور اولاد والد کی مخلوق نہیں بلکہ اس کی ہم جنس ہوتی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی کو اپنی منہ بولی اولاد بنا لینا ہے۔ فرمایا، اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی اولاد بنانا چاہتا تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا اس کے لیے چن لیتا، نہ کہ یہ معاملہ ان مشرکوں اور گمراہ یہود و نصاریٰ پر چھوڑ دیتا، مگر نہ اس نے یہ چاہا اور نہ کسی کو اولاد بنایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے یہ ارادہ کرنا ممکن ہی نہیں۔ یہاں ”لَوْ“ کا لفظ تعلیق بالمحال کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ فرمایا : (لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ) [ الأنبیاء : 17 ] ”اگر ہم چاہتے کہ کوئی کھیل بنائیں تو یقیناً اسے اپنے پاس سے بنالیتے، اگر ہم کرنے والے ہوتے۔“
سُبْحٰنَهٗ : یہ اللہ تعالیٰ کے کسی کو اولاد نہ بنانے کی دلیل ہے۔ دوسری جگہ یہ دلیل تفصیل سے بیان فرمائی ہے : (وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭكُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ) [ البقرۃ : 116 ] ”اور انھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے، وہ پاک ہے، بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔“ اس آیت میں تین طرح سے اللہ تعالیٰ کے کسی کو اولاد بنانے کا رد ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (116)۔
ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّار : اللہ تعالیٰ نے کسی کو اولاد بنانے کی نفی کرتے ہوئے پہلے اپنا ذاتی نام ”اللہ“ ذکر فرمایا، پھر اپنی صفت ”الْوَاحِدُ“ بیان فرمائی کہ جس کی تم اولاد بتا رہے ہو وہ انسان یا کوئی مخلوق نہیں بلکہ اللہ ہے، جو اصل میں ”اَلْاِلٰہُ“ ہے، یعنی وہ معبود ہے، باقی سب عبد ہیں۔ تو جو عبد ہے وہ اس کی اولاد کیسے ہوسکتا ہے ؟ ”الواحد“ اور ”القہار“ پر الف لام کی وجہ سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی وہی واحد ہے، اس کے سوا کوئی واحد نہیں، اس کا ایک ہونا کسی کو اولاد بنانے کے منافی ہے، کیونکہ اولاد اولاد بنانے والے کی جنس ہوتی ہے، جیسا کہ انسان کسی انسان ہی کو اولاد بنا سکتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی کوئی جنس نہیں، کیونکہ وہ ہے ہی اکیلا، تو کوئی اس کی اولاد کیسے بن گیا ؟
الھہار : اور وہی قہار ہے، اس سے اولاد کی اور ہر قسم کے شریک کی نفی ہوگئی، کیونکہ ہر چیز اس کی مقہور ہے۔ وہ سب پر قاہر اور غالب ہی نہیں بلکہ قہار اور زبردست غالب ہے، جب کہ باپ اور بیٹے کا معاملہ ایسا نہیں ہوتا۔ اگلی آیات میں اپنی وحدانیت اور قدرت و عظمت پر دلالت کرنے والی کئی اور چیزیں بیان فرمائیں۔
Ayah 39:5خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بالْحَـقِّ : یعنی اس نے آسمانوں کو اور زمین کو بالکل درست اور صحیح طریقے پر بنایا ہے۔ کوئی شخص اس کی کسی چیز کو غلط نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی اس سے بہتر پیش کرسکتا ہے، اور اس نے انھیں خاص مقصد اور مصلحت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (73) ، یونس (5) ، حجر (85) اور نحل (3)۔
يُكَوِّرُ الَّيْلَ عَلَي النَّهَارِ۔۔ : ”کَوْرُ الْعِمَامَۃِ وَ تَکْوِیْرُھَا“ پگڑی لپیٹنا۔ اس آیت میں زمین کے گول ہونے کا بھی اشارہ ہے، یعنی جس طرح سر پر پگڑی لپیٹی جاتی ہے کہ اس کے ایک پیچ کے اوپر دوسرا پیچ آجاتا ہے، جو پہلے پیچ کو چھپا لیتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ زمین کے اوپر رات کو کسی وقفے کے بغیر دن پر لپیٹتا ہے، جیسے جیسے رات کا پیچ آگے بڑھتا ہے روشنی چھپتی جاتی ہے اور تاریکی پھیلتی جاتی ہے، اس کے پیچھے دن کا پیچ سورج کی صورت میں پھیلتا چلا آتا ہے، جس سے رات کی تاریکی چھپ کر روشنی پھیلتی جاتی ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (54)۔
وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة رعد (2)۔
اَلَا هُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفَّارُ : لفظ ”الا“ اس مقصد کے لیے ہے کہ اس آیت کے مضمون پر خوب غور کرو اور اس پر خاص توجہ دو۔ ”انزل“ یعنی وہ جس نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا، جو رات کو دن پر لپیٹتا اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے، وہی سب پر غالب ہے، کسی میں طاقت نہیں کہ وہ جو کرنا چاہے اسے روک دے اور جسے روکنا چاہے وہ کر گزرے۔ ”الغفار“ یعنی اتنے غلبے اور قوت کے باوجود اس نے اپنے نافرمانوں کو جو مہلت دے رکھی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بےپناہ غلبے کے ساتھ ساتھ بندوں کے گناہوں پر نہایت پردہ ڈالنے والا اور بیحد بخشنے والا بھی ہے۔
Ayah 39:6خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نساء کی پہلی آیت۔
وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۭ : یہ بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت و عظمت کی دلیل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (143، 144) جانوروں کی آٹھ قسمیں پیدا کرنے کے لیے ”انزل“ (اتارا) کا لفظ یہ توجہ دلانے کے لیے ہے کہ تمہیں ملنے والی نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ) [ الذاریات : 22 ] ”اور آسمان ہی میں تمہارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ بیشمار جانوروں میں سے خاص طور پر ان جانوروں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ زیادہ تر یہی جانور لوگوں کے کھانے پینے، پہننے اور دوسری ضروریات میں استعمال ہوتے ہیں۔ لوہا بھی چونکہ انسانی ضروریات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس کے لیے بھی یہی الفاظ استعمال فرمائے : (ۚ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ) [ الحدید : 25 ] ”اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت لڑائی (کا سامان) ہے اور لوگوں کے لیے بہت سے فائدے ہیں۔“
يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ : ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش سے مراد نطفے سے لے کر مکمل انسان تک کے سارے مراحل ہیں۔ دیکھیے سورة مومنون (12 تا 14)۔
فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ : اس سے مراد پیٹ کی تاریکی، رحم کی تاریکی اور اس جھلی کی تاریکی ہے جو بچے کے اوپر لپٹی ہوتی ہے۔ ماؤں کے پیٹوں میں اتنی تاریکیوں کے اندر تمہاری مختلف مرحلوں میں پیدائش، وہیں تمہارے لیے ہر ضرورت مہیا کرنا اور ہر صدمے اور چوٹ سے محفوظ رکھنا، پھر خیریت سے اس دنیا میں لے آنا اس ذات واحد ہی کی کاری گری ہے۔ مزید دیکھیے سورة مرسلات (20 تا 23) اور سورة عبس (17 تا 20)۔
ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ۔۔ : یعنی جب تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہے اور سب بادشاہی اسی کی ہے تو لازماً تمہارا الٰہ (معبود) بھی وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور کس طرح الٰہ ہوسکتا ہے، جو نہ تمہارا خالق، نہ مالک، نہ پروردگار، نہ بادشاہ اور نہ ہی اس کا ان کاموں میں کوئی حصہ، پھر تم ایسے معبود بنا کر کس طرح اور کدھر پھیرے جاتے ہو ؟ معلوم ہوا انسان کی اصل فطرت توحید کا عقیدہ ہے۔ اس سے ہٹانے والا شیطان ہوتا ہے یا دوسرے لوگ جو اسے غلط راستے کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ اس میں آدمی کی غیرت کو ابھارا ہے کہ اپنی عقل اور اپنی مرضی استعمال کرنے کے بجائے اندھا دھند دوسروں کے کہنے پر غلط راستے پر جا رہے ہو، کچھ تو سوچو کہ تمہیں سیدھے راستے سے کس طرح ہٹایا اور کدھر کو لے جایا جا رہا ہے ؟
Ayah 39:7اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ : کفر کا معنی ناشکری بھی ہے اور انکار بھی، یعنی اگر تم اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرو، جن کا اوپر ذکر ہوا ہے، یا ایمان کے بجائے کفر اختیار کرو تو یقیناً اللہ تم سے بہت بےپروا ہے، وہ تمہارا کسی طرح بھی محتاج نہیں، نہ اسے تمہارے شکر یا ایمان کا کوئی فائدہ ہے اور نہ تمہاری نا شکری یا کفر کا کوئی نقصان، تم ہی ہر طرح سے اس کے محتاج ہو۔ مزید دیکھیے سورة ابراہیم (8)۔
وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۚ : ہاں، وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور ناشکری کو پسند نہیں کرتا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ کہنے کے بجائے کہ ”وَلَا یَرْضٰی لَکُمُ الْکُفْرَ“ (وہ تمہارے لیے ناشکری کو پسند نہیں کرتا) یہ فرمایا کہ وہ اپنے عباد (بندوں) کے لیے ناشکری کو پسند نہیں کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی مالک اپنے غلاموں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتا، تم اپنے متعلق سوچ لو، کیا تم اپنے کسی غلام کی ناشکری اور بغاوت کو پسند کرو گے، حالانکہ غلام تمہارے جیسے انسان ہیں، تو اللہ اپنے غلاموں کی ناشکری اور کفر کو کیسے پسند فرمائے گا، جب کہ وہ اس کے پیدا کیے ہوئے اور ہر طرح سے اس کے محتاج ہیں ؟
3 یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور ارادہ اور چیز ہے اور اس کی رضا اور پسند دوسری چیز ہے۔ دنیا میں کوئی بھی کام اس کی مشیّت اور ارادے کے بغیر نہیں ہوسکتا، مگر اس نے انسانوں کو اور جنوں کو ایک حد تک اختیار دیا ہے، وہ چاہیں تو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اس پر ایمان لائیں اور اس کے احکام پر عمل کریں، یا چاہیں تو ناشکری کرتے ہوئے اس کے ساتھ کفر کریں اور اس کے احکام کی نافرمانی کریں۔ یہ اختیار دینے میں اس کی بیشمار حکمتیں ہیں، جن میں سے ایک بندوں کی آزمائش ہے، مگر وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے بندے ہو کر وہ اس کی ناشکری اور نافرمانی کریں۔ مثلاً ابلیس اور تمام کفار کا کفر اس کی مشیّت اور ارادے کے ساتھ ہی ہے، وہ اللہ سے زبردست ہو کر نہیں بلکہ اس کے دیے ہوئے اختیار ہی کی وجہ سے کفر کر رہے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کو ان کا کفر کرنا پسند نہیں ہے۔
وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ ۭ“ اصل میں ”یَرْضَاہُ“ ہے، ”ان تَشْكُرُوْ“ شرط کی جزا ہونے کی وجہ سے اس پر جزم آئی، جس سے ”الف“ گرگیا۔ ”ہٗ“ ضمیر ”تَشْكُرُوْ“ کے ضمن میں پائے جانے والے شکر کی طرف جا رہی ہے، یعنی اگر تم شکر کرو تو اللہ تعالیٰ اس شکر کو تمہارے لیے پسند فرمائے گا۔
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى : یعنی تم میں سے ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، کسی دوسرے شخص کے کہنے پر یا اسے راضی رکھنے کے لیے اگر کفر اختیار کرے گا تو کوئی اس کے کفر کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ”وَازِرَةٌ‘ کے مؤنث ہونے کی وجہ جاننے اور مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة فاطر کی آیت (18) کی تفسیر۔
ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ۔۔ : یعنی دنیا میں تمہیں شکر یا کفر کا اختیار ہے، مگر آخر کار تم سب کو واپس اللہ کے پاس جانا ہے، جس نے تمہیں شروع میں پیدا فرمایا۔ وہ تمہیں تمہارے انھی اعمال کی خبر اور جزا دے گا جو تم کرتے رہے، یہ نہیں ہوگا کہ کسی اور کے عمل تمہارے ذمے ڈال دیے جائیں، یا تمہارے نیک یا بد اعمال غائب کردیے جائیں۔
اِنَّهٗ عَلِـيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ : یہ اس سے پہلے جملے کی علت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کو تم میں سے ہر شخص کے اعمال اس کے سامنے پیش کرنا کچھ مشکل نہیں، کیونکہ وہ تو سینوں کی باتوں تک کو پوری طرح جاننے والا ہے، پھر کوئی قول یا عمل اس سے کس طرح مخفی رہ سکتا ہے ؟
Ayah 39:8وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ : اپنی وحدانیت اور کمال قدرت کے بہت سے دلائل اور انھیں دیکھنے کے بعد شکر یا کفر کرنے والوں کا انجام بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوش حالی اور بدحالی میں انسان کی طبیعت کا ذکر فرمایا، ساتھ ہی بتادیا کہ دونوں حالتوں میں مومن و کافر اور عالم و جاہل برابر نہیں ہیں۔ آیت میں ’ الانسان“ سے مراد کافر و مشرک ہے، کیونکہ اس کے متعلق آگے آ رہا ہے : (وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا) کہ نعمت ملنے پر وہ اللہ کے لیے کئی شریک بنا لیتا ہے۔ جن مشرک انسانوں کا یہاں ذکر ہے وہ کم از کم مصیبت میں تو ایک اللہ کو پکارتے تھے، مگر ہمارے زمانے کے کئی اسلام کے دعوے دار مصیبت میں اور سمندر میں طوفان کے وقت بھی غیر اللہ کو پکارتے رہتے ہیں۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ]
دَعَا رَبَّهٗ مُنِيْبًا اِلَيْهِ : یعنی تکلیف اور مصیبت کے وقت وہ پورے خلوص کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس وقت اسے کوئی دوسرا معبود یاد نہیں رہتا، وہ سب سے مایوس ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ دلیل ہے کہ اس کے دل کی گہرائیوں میں یہ بات موجود ہے کہ وہ تکلیف اس کا کوئی حاجت روا یا مشکل کشا یا داتا یا دستگیر دور نہیں کرسکتا، اسے دور کرنے والا صرف ایک اللہ ہے۔ ”منیبا“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے غیروں کو پکارتا تھا، مصیبت کے وقت سب کو چھوڑ کر واپس اللہ کی طرف آجاتا ہے۔
اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ : نعمت عطا فرمانے سے مراد اس تکلیف کا دور کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی نعمت مراد ہوسکتی ہے۔
نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُوْٓا اِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ ، الیہ“ میں ضمیر ”ہٗ“ سے مراد ”ضر“ ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے : (وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاۗىِٕمًا ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ) [ یونس : 12 ] ”اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر یا بیٹھا ہوا یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کی طرف، جو اسے پہنچی ہو، پکارا ہی نہیں۔“
وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ : یعنی اللہ کی راہ (اسلام و توحید) سے وہ نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور لوگوں سے کہتا پھرتا ہے کہ ہمیں تو فلاں آستانے سے شفا نصیب ہوئی تھی، فلاں بزرگ کی نظر کرم سے ہم مصیبت سے نکل آئے اور فلاں حضرت جی کی توجہ سے ہماری کشتی کنارے آ لگی۔ اس طرح یہ جاہل جھوٹی کہانیاں گھڑ کر بےبس اور بےاختیار مخلوق کو اللہ کا شریک بتا کر لوگوں کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔
قُلْ تَمَــتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيْلًا۔۔ : فرمایا، اس مشرک انسان کو کہہ دے کہ اپنے کفر و شرک کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہ کر کے حاصل ہونے والی لذتوں سے معمولی فائدہ اٹھا لے، مگر یہ بالکل تھوڑی مدت کے لیے ہے، بہت جلد یہ سب کچھ ختم ہوجائے گا اور تو آگ والوں میں شامل ہو کر ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنے والا ہے۔ آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یونس (12)۔
Ayah 39:9اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ۔۔ : ”قَانِتٌ“ کا معنی عبادت کرنے والا بھی ہے، فرماں بردار بھی اور خشوع و عاجزی کرنے والا بھی۔ ”امن“ (یا وہ شخص) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے کچھ الفاظ محذوف ہیں، یعنی ”أَ ھٰذَا خَیْرٌ“ (کیا یہ مصیبت میں اپنے رب کو پکارنے والا اور نعمت عطا ہونے پر اسے بھول جانے والا بہتر ہے) ”اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ“ یا وہ شخص جو صرف دن کے وقت ہی نہیں بلکہ رات کی گھڑیوں میں بھی سجدے اور قیام کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والا اور ہر حال میں اسی کا فرماں بردار ہے ؟ جواب ظاہر ہے کہ یہ مومن (قانت) ہر لحاظ سے اس سے بہتر ہے۔
يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ : ایمان اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس سے امید کے درمیان ہے۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک نوجوان کے پاس گئے جو موت (کے چل چلاؤ) میں تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : (کَیْفَ تَجِدُکَ ؟ قَالَ وَاللّٰہِ ! یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! إِنِّيْ أَرْجُو اللّٰہَ وَ إِنِّيْ أَخَافُ ذُنُوْبِيْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ لَا یَجْتَمِعَانِ فِيْ قَلْبِ عَبْدٍ فِيْ مِثْلِ ہٰذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاہ اللّٰہُ مَا یَرْجُوْ وَ آمَنَہُ مِمَّا یَخَافُ) [ ترمذي، الجنائز، باب الرجاء باللّٰہ والخوف بالذنب عند الموت : 983 ] ”تو اپنے آپ کو کس حال میں پاتا ہے ؟“ اس نے کہا : ”اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا بھی ہوں۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”اس جیسے مقام پر کسی بندے کے دل میں یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہوتیں مگر اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عطا کردیتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اس چیز سے اسے امن عطا کردیتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔“
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ۔۔ : یہاں ”الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ“ (جاننے والے) ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو دن رات، خوش حالی و بدحالی میں ہر وقت ایک اللہ ہی کی عبادت کرنے والے اور اسی کے فرماں بردار ہیں اور ”والَّذِيْنَ لا يَعْلَمُوْنَ“ (نہ جاننے والے) ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو تکلیف اور مصیبت میں تمام معبودوں سے واپس پلٹ کر ایک اللہ ہی کو پکارتے ہیں، مگر خوش حالی میں اسے بھول کر اللہ تعالیٰ کے لیے کئی شریک بنا لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جاننے کے باوجود کہ تمام اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، نعمت عطا ہونے پر اسے بھلا دیتے ہیں اور اس کے شریک بنا لیتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں نہ جاننے والے قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنے علم پر عمل نہیں کرتا وہ جاہل (لَا یَعْلَمُ) ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا) [ فاطر : 28 ] ”اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف علماء (جاننے والے) ہی ڈرتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والے اللہ کے نزدیک علماء نہیں، خواہ ان کے پاس کتنی ڈگریاں اور کتنے عہدے ہوں اور خواہ انھوں نے کتنی کتابیں یا کتب خانے چاٹ رکھے ہوں۔
3 اس آیت سے علم اور اس پر عمل کرنے والے اہل علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَیْنِ رَجُلٌ آتَاہ اللّٰہُ الْقُرْآنَ فَہُوَ یَتْلُوْہُ آنَاء اللَّیْلِ وَ آنَاء النَّہَارِ ، وَ رَجُلٌ آتَاہ اللّٰہُ مَالًا فَہُوَ یُنْفِقُہُ آنَاء اللَّیْلِ وَآنَاء النَّہَارِ) [ بخاري، التوحید، باب قول النبي ﷺ رجل آتاہ اللّٰہ القرآن۔۔ : 7529 ] ”دو چیزوں کے سوا رشک کرنا درست نہیں، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن دیا تو وہ رات کی گھڑیوں میں اور دن کی گھڑیوں میں اس کی تلاوت کرتا ہے، اور ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے کھلا مال عطا کیا ہے تو وہ رات کی گھڑیوں اور دن کی گھڑیوں میں اسے خرچ کرتا ہے۔“ امام بخاری ؓ نے ”بَابُ فَضْلِ الْعِلْمِ“ میں علم کی فضیلت میں دو آیات نقل فرمائی ہیں، ایک سورة مجادلہ کی : (يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ۙ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ) [ المجادلۃ : 11 ] ”اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا۔“ اور دوسری سورة طٰہٰ کی : (وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا) [ طٰہٰ : 114 ] ”اور کہہ اے میرے رب ! مجھے علم میں زیادہ کر۔“ موسیٰ اور خضر ؑ کا واقعہ بھی علم کی فضیلت کی دلیل ہے۔ (دیکھیے بخاری : 74)
اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ“ الْاَلْبَابِ ”لُبٌّ“ کی جمع ہے، مغز، عقل۔ جمع ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”عقلوں والے“ کیا گیا ہے۔ ان عقلوں والوں سے مراد اہل ایمان ہیں نہ کہ کفار، گو وہ اپنے آپ کو کس قدر عقل و دانش والے سمجھتے ہوں، کیونکہ جب وہ اپنی عقلوں کو استعمال کر کے نصیحت حاصل ہی نہیں کرتے تو عقلوں والے کیسے ہوئے ! ؟ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی طرح بلکہ ان سے بھی ”اضل“ قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (179) اور انبیاء (46) کی تفسیر۔
Ayah 39:10قُلْ يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ : سورت کے شروع سے توحید کا بیان آرہا ہے، اب بڑی محبت کے ساتھ ایمان والوں کو ”میرے بندو“ کہہ کر انھیں یہ پیغام دینے کا حکم دیا کہ صرف زبان سے توحید کا اقرار کافی نہیں، بلکہ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔ ”تَقْوٰی“ ”وَقٰی یَقِيْ وِقَایَۃً“ کا مصدر ہے، اس کا لفظی معنی ”بچنا“ ہے، مراد ایسے تمام کام چھوڑ دینا ہے جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر ہے اور ایسے تمام کام کرنا جن کے چھوڑنے سے اس کے عذاب کا ڈر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرو اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرو۔
لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے۔”فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا ‘ کا تعلق ”حَسَـنَةٌ‘ کے ساتھ ہے، یعنی جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک اعمال کیے ان کے لیے عظیم بھلائی ہے۔ اس بھلائی سے مراد دنیا کی بھلائی بھی ہے اور آخرت کی بھلائی بھی، کیونکہ رسول ﷺ کی اکثر دعا یہ تھی : (اَللّٰھُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِي الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ) [ بخاري، الدعوات، باب قول النبي ﷺ ربنا۔۔ : 6389 ] ”اے اللہ ! ہمیں اس دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچانا۔“ مزید دیکھیے سورة بقرہ (201) کی تفسیر۔ دنیا اور آخرت دونوں میں اس بھلائی کی تفصیل کے لیے سورة نحل (97) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ: یہ ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اگر کسی جگہ تم اللہ کے تقویٰ پر کار بند نہیں رہ سکتے اور اللہ کے دین پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ ہے تو اللہ کی زمین وسیع ہے، کسی دوسری جگہ چلے جاؤ، جہاں آزادی سے اللہ کے احکام پر عمل کرسکو۔ اس جملے کی مفصل تفسیر کے لیے سورة نساء کی آیات (97 تا 100) اور ان کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ : صبر کا لفظی معنی باندھنا ہے۔ اہل علم نے صبر کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر صبر، اس کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب پر صبر اور پیش آنے والی تکلیفوں اور مصیبتوں پر صبر۔ صابر وہ ہے جس کی خصلت ہی صبر ہو۔ فرمایا، جن لوگوں کی خصلت صبر ہے، صرف یہی لوگ ہیں جنھیں ان کا اجر کسی حساب کے بغیر دیا جائے گا۔ اس میں ہجرت کے دوران پیش آنے والی تکالیف پر صبر کی تلقین ہے اور اس پر بےحساب اجر کی بشارت ہے۔ بغیر حساب اجر سے مراد جنت ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ دنیا کی ہر نعمت خواہ کتنی ہو ختم ہونے والی ہے اور ختم ہونے والی ہر چیز کا حساب ہوسکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا ۚ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ) [ المؤمن : 40 ] ”اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بےحساب رزق دیے جائیں گے۔“
Ayah 39:11قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ۔۔ : سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ) [ الزمر : 2 ] اب نبی ﷺ کو حکم دیا کہ کہہ دے مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اس حال میں کہ اپنی بندگی، اطاعت اور نیت کو اسی کے لیے خالص کرنے والا ہوں۔ تفصیل اسی سورت کی آیت (2) میں دیکھیے۔
Ayah 39:12وَاُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِيْنَ : ”لِاَنْ اَكُوْنَ اول“ میں لام ”باء“ کے معنی میں ہے : ”أَيْ أُمِرْتُ بِأَنْ أَکُوْنَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ“ یعنی اللہ کا پیغام پہنچانے والے کی حیثیت سے میرا کام صرف یہ نہیں کہ اس کا پیغام پہنچا دوں، بلکہ مجھے حکم ہے کہ اس کی فرماں برداری کرنے والوں میں سب سے پہلا فرماں بردار میں بنوں۔ میں ان جابر بادشاہوں کی طرح نہ بنوں جو لوگوں کو کئی کاموں کا حکم دیتے ہیں، مگر خود وہ کام نہیں کرتے، بلکہ میں تمہیں اللہ کے جو احکام پہنچاؤں، سب سے پہلے خود ان پر عمل کروں۔
لِاَنْ اَكُوْنَ“ میں ”لام“ علت بیان کرنے کے لیے بھی ہوسکتا ہے، اس صورت میں دونوں آیات کا ترجمہ اس طرح ہوگا، کہہ دے مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اس حال میں کہ دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والا ہوں اور مجھے یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ میں تمام مسلمانوں میں سب سے پہلا بنوں (کیونکہ دین میں پیش قدمی اخلاص ہی سے حاصل ہوتی ہے)۔ مفسر ابو السعود نے کہا : ”وَ أُمِرْتُ بِذٰلِکَ لِأَجَلِ أَنْ أَکُوْنَ مُقَدِّمَھُمْ فِي الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ لِأَنَّ إِحْرَازَ قَصَبِ السَّبْقِ فِي الدِّیْنِ بالْإِخْلَاصِ فِیْہِ“
Ayah 39:13قُلْ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ۔ : یعنی اے پیغمبر ! کہہ دے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں اور اپنی عبادت اور اطاعت اس کے لیے خالص کرنے کے بجائے تمہاری طرح اس کا کوئی شریک بنا لوں تو میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ مطلب یہ کہ میرے جیسا شخص بھی (جسے اللہ تعالیٰ نے سید ولد آدم بنایا، جس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیے) اگر اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے شرک کا ارتکاب کر بیٹھے، تو اس عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہے، تو اپنے متعلق تم خود سوچ لو۔ تفصیل سورة زمر (64، 65) اور سورة انعام (14، 15 اور 81 تا 88) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 39:14قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ۔۔ : لفظ ”اللہ“ کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی کہہ دے میں تو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، کسی اور کی عبادت نہ اسے اصل سمجھ کر کرتا ہوں نہ سفارشی یا واسطہ سمجھ کر۔ پچھلی آیت : (قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَاللہ۔۔) میں ایک اللہ کی عبادت کے امر کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اس آیت میں اس پر اپنے عمل کے اعلان کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تکرار نہیں ہے۔
Ayah 39:15فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ ۭ : اس میں ایک تو شرک اور مشرکین سے علیحدگی اور براءت کا اعلان ہے کہ تم اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو، مجھ سے یہ توقع ہرگز نہ رکھو۔ سورة کافرون میں یہی مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ دوسرے اس میں مشرکین کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر میرے سمجھانے کے باوجود تم ان جھوٹے معبودوں کی بندگی پر ڈٹے ہوئے ہو تو ڈٹے رہو، مگر سزا بھگتنے پر بھی تیار رہو۔ تمہارے انجام کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔
قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الْخٰسِرِيْنَ۔۔ : میں الف لام کمال کے معنی کے لیے ہے، یعنی کامل اور اصل خسارے والے وہ ہیں۔ آدمی کو اپنی جان اور گھر والے سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ فرمایا، کہہ دے اصل خسارے والے لوگ وہ ہیں جنھوں نے شرک کرکے اور شرک کی تعلیم دے کر قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کا ایندھن بنایا، کیونکہ دنیا کے خسارے کا تو مداوا ہوسکتا ہے مگر قیامت کے دن کے خسارے کا کوئی مداوا نہیں۔
اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ : مشرکین کی غباوت اور کند ذہنی کو مد نظر رکھ کر ایک دفعہ پھر صاف لفظوں میں ان کے واضح خسارے کا اظہار فرمایا، تاکہ کسی جملے ہی سے وہ توحید کی طرف پلٹ آئیں۔
Ayah 39:16لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ۔۔ :”ظُلَــلٌ“ ”ظُلَّۃٌ“ کی جمع ہے، سائبان، چھَتر، ڈھانپنے یا سایہ کرنے والی کوئی چیز، جس کی دیواریں نہ ہوں، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ) [ لقمان : 32 ]”اور جب انھیں سائبانوں جیسی کوئی موج ڈھانپ لیتی ہے۔“ یعنی ان کے اوپر اور نیچے ہر طرف آگ کے سائبان ہوں گے۔ نیچے والی آگ کی لپٹوں کو سائبان اس لیے کہا گیا کہ وہ کچھ اور لوگوں کے اوپر ہوں گی، کیونکہ جہنم میں کئی طبقے ہیں، جنھیں درکات کہا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ) [ النساء : 145 ] ”بیشک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آگ کی لپٹوں کو نیچے سے اوپر اٹھنے کی وجہ سے سائبان کہا گیا ہو۔ دوسری آیت میں نیچے والی آگ کو ان کے بچھونے اور اوپر والی آگ کو ان کے لحاف بتایا ہے، فرمایا : (لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ [ الأعراف : 41 ] ”ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور ان کے اوپر کے لحاف ہوں گے۔“ اور ایک آیت میں فرمایا : (يَوْمَ يَغْشٰـىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ) [ العنکبوت : 55 ] ”جس دن عذاب انھیں ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ڈھانپ لے گا۔“ اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔
ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ۔۔ : یعنی یہ قیامت کا خسارہ اور آگ کے سائبان ہیں جن کے ساتھ اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، تو اے میرے بندو ! مجھ سے ڈر جاؤ اور ہمیشہ ڈرتے رہو۔
Ayah 39:17وَالَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ۔ :”الطَّاغُوْتَ“ کی لغوی تشریح کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (256)۔ استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں، اصل میں لفظ ”الطَّاغُوْتَ“ (بروزن فَعْلُوْتٌ لَا فَاعُوْلٌ أَصْلُہُ طَغْیُوْتٌ أَوْ طَغْوُوْتٌ) ”طُغْیَانٌ“ سے مشتق ہے، لہٰذا اس سے مراد شیطان بھی ہے اور بت بھی اور ہر وہ انسان بھی جو بندگی کی حد سے نکل کر اپنے آپ کو خدائی کے مقام پر رکھتا ہو۔ اس کی عبادت سے مراد محض اسے سجدہ کرنا نہیں بلکہ اسے مستقل بالذات آمر ومطاع سمجھتے ہوئے اس کے احکام کی بجاآوری بھی ہے۔ جوہری لکھتے ہیں : ”اَلطَّاغُوْتُ الْکَاھِنُ وَالشَّیْطَانُ وَ کُلُّ رَأْسٍ فِي الضَّلَالِ“ کہ اس سے مراد شیطان، کاہن اور ہر وہ چیز ہے جو گمراہی کا منبع بنے۔ امام راغب کہتے ہیں : ”ھُوَ عِبَارَۃٌ عَنْ کُلِّ مَعْبُوْدٍ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ“ کہ وہ ہر اس چیز سے عبارت ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے۔ (روح) (اشرف الحواشی)
3 معلوم ہوا توحید کے لیے صرف اللہ کی عبادت کافی نہیں، بلکہ طاغوت سے کنارا کشی بھی لازم ہے، اس لیے کلمہ توحید ”لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ“ میں پہلے تمام الٰہوں کی نفی ہے، پھر ایک اللہ کی عبادت کا اثبات ہے۔
لَهُمُ الْبُشْرٰى : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یونس کی آیت (64)۔
لَهُمُ الْبُشْرٰى: ”عباد“ اصل میں ”عِبَادِيْ“ ہے، آیات کے فواصل کی مناسبت کے لیے یاء کو حذف کر کے دال پر کسرہ باقی رکھا گیا ہے اور ترجمہ ”میرے بندوں کو“ کیا گیا ہے۔
Ayah 39:18الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ : اس جملے کی تین تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ میرے ان بندوں کو بشارت دے جو ہر بات سنتے ہیں، مگر پیروی صرف قرآن و سنت کی کرتے ہیں، کیونکہ سب باتوں سے اچھی بات اللہ کی نازل کردہ بات ہے، جیسا کہ آگے آیت (23) میں آ رہا ہے : (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْث) ”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَحْسَنُ الْکَلاَمِ کَلاَمُ اللّٰہِ وَ أَحْسَنُ الْہَدْيِ ہَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) [ نساءي، السھو، باب نوع من الذکر بعد التشھد : 1312، عن جابر ؓ ] ”ہر کلام سے اچھا اللہ کا کلام ہے اور ہر طریقے سے اچھا محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔“ دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ قرآن سنتے ہیں جس میں کچھ احکام حسن (اچھے) ہیں اور کچھ احسن (زیادہ اچھے) ہیں، پھر وہ احسن کی پیروی کرتے ہیں۔ مثلاً قصاص لینا یا معاف کردینا، زیادتی پر انتقام لینا یا صبر کرنا، قرض وصول کرنے میں مہلت دینا یا چھوڑ دینا، اگرچہ تینوں معاملات میں مذکور دونوں کام اچھے ہیں، مگر دوسرا کام پہلے سے زیادہ اچھا ہے۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ وہ اچھی بری سبھی باتیں سنتے ہیں، مگر کرتے وہی بات یا وہی کام ہیں جو سب سے اچھا ہو۔ ابن عطیہ نے ”المحرر الوجیز“ میں فرمایا : ”ھُوَ عَامٌّ فِيْ جَمِیْعِ الْأَقْوَالِ وَالْقَصْدُ الثَّنَاءُ عَلٰی ھٰؤُلَاءِ بِبَصَاءِرَ وَ نَظْرٍ سَدِیْدٍ یُفَرِّقُوْنَ بِہِ بَیْنَ الْحَقِّ وَ الْبَاطِلِ وَ بَیْنَ الصَّوَابِ وَالْخَطَإِ فَیَتَّبِعُوْنَ الْأَحْسَنَ مِنْ ذٰلِکَ“ ”یہ تمام اقوال کے لیے عام ہے، مقصد ان لوگوں کی بصیرتوں اور درست غور و فکر کی تعریف ہے جس کے ساتھ وہ حق و باطل اور درست اور خطا کے درمیان فیصلہ کرتے ہیں، پھر اس میں سے احسن کی پیروی کرتے ہیں۔“ الفاظ عام ہونے کی وجہ سے تیسری تفسیر زیادہ ظاہر ہے۔
اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ۔۔ : ہر قسم کے اقوال سن کر سب سے اچھی بات کی جستجو کر کے اس پر عمل کرنے والوں ہی کو اللہ تعالیٰ نے وہ لوگ قرار دیا جنھیں اس نے ہدایت دی اور صرف انھی کو عقلوں والے قرار دیا۔
3 اس آیت سے تقلید کی واضح تردید ہو رہی ہے، کیونکہ تقلید کا معنی ہے : ”أَخْذُ قَوْلِ الْغَیْرِ بِلَا دَلِیْلٍ“ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے غیر کی بات بلا دلیل لے لینا۔ مقلد اپنے بنائے ہوئے پیشوا کے علاوہ اوّل تو کسی کی بات سننے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا، اگر سن بھی لے تو اپنے پیشوا کی بات پر جما رہتا ہے۔ دوسری بات خواہ قرآن مجید کی آیت ہو یا رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہو اور خواہ وہ کتنی ہی اچھی ہو، نہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے نہ مانتا ہے۔ جب کہ مومن ہر بات غور سے سن کر اس کے حسن و قبح کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور احسن پر عمل کرتا ہے۔ جہنم میں جانے والے تمنا کریں گے کہ کاش ! وہ دنیا میں سنتے یا سمجھتے ہوتے، مگر اس وقت جب ان کی تمنا پوری ہونے کی کوئی صورت نہ ہوگی، فرمایا : (وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ) [ الملک : 10 ] ”اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔“ ایسے لوگ نہ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور نہ ان کا شمار ”اولوا الالباب“ میں ہوسکتا ہے۔
Ayah 39:19اَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ ۭ۔۔ : تو کیا وہ شخص جس (کے شیطان کی پیروی اور کفر پر اصرار اور ضد اور عناد کی وجہ سے اس) پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی اور جسے اللہ تعالیٰ آگ میں ڈالنے کا فیصلہ فرما چکا (دیکھیے سورة ص : 85) تو اے نبی ! کیا تو اسے بچالے گا جو آگ میں ہے ؟ نہیں ! تو ہرگز نہیں بچا سکے گا۔ پھر جسے تو نہ بچا سکا تو اور کون ہے جو اسے آگ سے بچا سکے گا ؟ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ بیشک آپ کی شدید خواہش ہے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں مگر ایمان لانے کی توفیق دینا یا نہ دینا آپ کے اختیار میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ) [ القصص : 56 ] ”بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے۔“
Ayah 39:20لٰكِنِ الَّذِيْنَ اتَّــقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ۔۔ : جہنمیوں کے ذکر کے ساتھ ہی متقیوں کا حسن انجام بیان فرمایا، تاکہ ترہیب کے ساتھ ترغیب بھی جاری رہے۔ علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ فِي الْجَنَّۃِ لَغُرَفًا یُرٰی ظُہُوْرُہَا مِنْ بُطُوْنِہَا وَ بُطُوْنُہَا مِنْ ظُہُوْرِہَا فَقَامَ إِلَیْہِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ لِمَنْ ہِيَ یَا نَبِيَّ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ ہِيَ لِمَنْ أَطَابَ الْکَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَ أَدَام الصِّیَامَ وَ صَلّٰی لِلّٰہِ باللَّیْلِ وَ النَّاسُ نِیَامٌ) [ ترمذي، صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ غرف الجنۃ : 2527، و قال الألباني حسن ] ”جنت میں ایسے اونچے محل ہیں جن کے باہر کے حصے ان کے اندر کے حصوں سے اور اندر کے حصے باہر کے حصوں سے دکھائی دیتے ہیں۔“ ایک اعرابی نے اٹھ کر پوچھا : ”اے اللہ کے نبی ! وہ کن کے لیے ہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”ان کے لیے جو پاکیزہ گفتگو کریں اور کھانا کھلائیں اور روزوں پر ہمیشگی کریں اور اللہ کے لیے نماز پڑھیں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں۔“
مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ۔۔ : یعنی متقی لوگوں کے لیے اونچے محل ہیں، جن سے مزید بلندی پر اور اونچے محل ہیں، ان کی بلندی کا ذکر سورة فرقان کی آیت (75) کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
مَّبْنِيَّةٌ“ ”بَنٰی یَبْنِيْ بِنَاءً“ سے اسم مفعول ہے۔ ”بنائے ہوئے“ سے مراد نہایت خوبی سے بنائے ہوئے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا : (یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّۃِ ، مَا بِنَاؤُہَا ؟ قَالَ لَبِنَۃُ ذَہَبٍ وَ لَبِنَۃُ فِضَّۃٍ ، وَمِلاَطُہَا الْمِسْکُ الْأَذْفَرُ ، وَ حَصْبَاؤُہَا اللُّؤْلُؤُ وَالْیَاقُوْتُ ، وَ تُرَابُہَا الزَّعْفَرَانُ ، مَنْ یَّدْخُلُہَا یَنْعَمُ وَ لَا یَبْأَسُ ، وَ یَخْلُدُ وَ لَا یَمُوْتُ ، لَا تَبْلٰی ثِیَابُہُ وَ لَا یَفْنٰی شَبَابُہُ) [ مسند أحمد : 2؍305، ح : 8063، قال المحقق صحیح بطرقہ و شواہدہ ] ”یا رسول اللہ ! ہمیں جنت کے متعلق بتائیں کہ وہ کس چیز کی بنی ہوئی ہے ؟“ فرمایا : ”ایک اینٹ سونے کی، ایک اینٹ چاندی کی، اس کا گارا مہکنے والی کستوری ہے، اس کی کنکریاں لؤلؤ اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران ہے۔ جو اس میں داخل ہوگا خوش حال رہے گا، کبھی بدحال نہیں ہوگا، ہمیشہ زندہ رہے گا، کبھی فوت نہیں ہوگا، نہ اس کے کپڑے کبھی بوسیدہ ہوں گے اور نہ ہی اس کی جوانی ختم ہوگی۔“
مَّبْنِيَّةٌ“ (بنائے ہوئے) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ جنت کے وہ محل بنائے جا چکے ہیں اور جنت متقی بندوں کے لیے تیار کی جاچکی ہے، فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰٓي اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَي الْعٰلَمِي) [ آل عمران : 133 ] ”(جنت) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔“
Ayah 39:21اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً۔ : ’ يَنَابِيْعَ“ ”یَنْبُوْعٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی چشمہ بھی ہے اور بہت پانی والا نالہ بھی۔ (قاموس) ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ زمین میں موجود پانی کا اصل آسمان ہی سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً طَهُوْرًا) [ الفرقان : 48 ] ”اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔“ آسمان سے اترنے کے بعد یہ پانی زمین کی تہوں میں چلا جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ضرورت کے مطابق جس طرح چاہتا ہے چلاتا ہے اور چھوٹے یا بڑے چشموں کی صورت میں باہر نکالتا ہے، جس سے ندی نالے اور دریا بنتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَسَلَكَهٗ يَنَابِيْعَ فِي الْاَرْضِ) ”پھر اسے چشموں کی صورت میں زمین میں چلایا۔“
3 آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ آگ کے عذاب اور ہمیشہ ہمیشہ کی جنت کے ذکر کے ساتھ ہی دنیا کی زندگی کی زیب و زینت اور خوش حالی کے عارضی اور نا پائیدار ہونے کا ذکر فرمایا۔ آسمان سے اترنے والے پانی کے ساتھ پیدا ہونے والی کھیتی کا جو حال اس آیت میں بیان ہوا ہے یہی حال انسان کا ہے، وہ پہلے بچہ ہوتا ہے، پھر جوان ہوتا ہے، پھر پختہ ہو کر بوڑھا ہوجاتا ہے، آخر کار دنیا سے سدھار جاتا ہے۔ دنیا کی ہر چیز کا یہی حال ہے، اس کی سب زینتیں عارضی اور چند روزہ ہیں، اس کے ہر کمال کو زوال ہے اور اس کی ہر چیز کو آخر کار فنا ہونا ہے۔ اس آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یونس (24) ، کہف (45) اور حدید (20)۔
ثُمَّ يُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ : مختلف رنگوں سے مراد مختلف رنگ بھی ہیں، مثلاً سبز، سرخ، زرد وغیرہ اور مختلف قسمیں بھی، مثلاً گندم، جَو اور چنے وغیرہ۔ یہ دلیل ہے کہ ایک ہی پانی اور ایک ہی زمین سے مختلف رنگوں اور ذائقوں کی کھیتیاں پیدا کرنا اندھے بہرے مادے کا کام نہیں، بلکہ ایک قادر و مختار ہستی کا کام ہے۔ دیکھیے سورة رعد (4)۔
ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا : ”ھَاجَ یَھِیْجُ ھَیْجًا وَ ھِیَاجًا وَ ھَیْجَانًا الشَّيْءُ“ کسی چیز کا ابھرنا، حرکت کرنا۔ ”ھَاج النَّبْتُ“ کھیتی کا خشک ہونا۔
ثُمَّ يَجْعَلُهٗ حُطَامًا :”حَطِمَ (س) الشَّيْءُ حَطَمًا“ کسی چیز کا ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجانا۔ ”حُطَامًا“ ”فُتَاتًا“ کا ہم وزن اور ہم معنی ہے، ریزہ ریزہ شدہ، چورا۔ اس آیت میں ”ثُمَّ يَجْعَلُهٗ حُطَامًا“ (پھر وہ اسے چورا بنا دیتا ہے) فرمایا، جب کہ سورة حدید میں فرمایا : (ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا) [ الحدید : 20 ] ”پھر وہ چورا بن جاتی ہے۔“ یہ فرق اس لیے ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت و صنعت کی بات ہو رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اسے چشموں کی صورت میں زمین میں چلایا، پھر یہاں مختلف رنگوں کی کھیتی اگانے اور اس کے پکنے کا ذکر ہے، اس لیے فرمایا، پھر وہ اسے چورا بنا دیتا ہے اور سورة حدید میں ’ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى“ (دنیا کی زندگی) سے بات کا آغاز ہوا ہے، اس لیے آخر میں فرمایا، پھر وہ چورا بن جاتی ہے۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى۔۔ : ”لَذِكْرٰى“ میں تنکیر تعظیم کے لیے ہے، یعنی اس میں عقلوں والوں کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ ان کی زندگی بھی اس کھیتی کی طرح نا پائیدار اور فنا ہونے والی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا انھیں دوبارہ اسی طرح زندہ کرے گا جس طرح وہ مردہ زمین کو پانی کے ذریعے سے زندہ کردیتا ہے۔
Ayah 39:22اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ۔۔ : شرح صدر کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام کی آیت (125) اس آیت میں بیان فرمایا کہ مومن و کافر اور فرماں بردار و نافرمان کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ ”مَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہُ لِلْإِسْلَامِ“ مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے، جو بعد کے جملے سے خود بخود سمجھ میں آرہی ہے : ”أَيْ کَمَنْ ھُوَ قَاسِي الْقَلْبِ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ“ یعنی وہ شخص جس کا دل اللہ تعالیٰ نے قبول اسلام کے لیے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے ہدایت کی روشنی پر گامزن ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کا دل اللہ کی یاد کی طرف سے پتھر کی طرح سخت ہوچکا ہے اور اسے اپنا پروردگار یاد ہی نہیں ؟ قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایسے مبتدا کی خبر مذکور بھی ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى) [ الرعد : 19 ] ”پھر کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف اتارا گیا وہی حق ہے، اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟“ اور فرمایا : (اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْۗءُ عَمَلِهٖ وَاتَّبَعُوْٓا اَهْوَاۗءَهُمْ) [ محمد : 14 ] ”تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہے اس شخص کی طرح ہے جس کے لیے اس کے برے اعمال مزیّن کردیے گئے اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ؟“
فَوَيْلٌ لِّــلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ۔۔ : ”اَلْقَاسِیَۃُ“ ”قَسَا یَقْسُوْ قَسْوَۃً“ سے اسم فاعل مؤنث ہے۔ ”قَسْوَۃٌ“ کے مفہوم کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (74) : (ثم قست قلوبکم۔ کی تفسیر۔
اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : اس سے بڑی گمراہی کیا ہوگی کہ کوئی شخص اپنے مالک ہی سے منہ موڑلے۔