Ayah 39:23اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ۔۔ :”نَزَّلَ“ کے مفہوم میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنا پایا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا) [ بني إسرائیل : 106 ] ”اور عظیم قرآن، ہم نے اس کو جدا جدا کرکے (نازل) کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے نازل کیا، (تھوڑا تھوڑا) نازل کرنا۔“ ”اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ“ سے مراد اللہ کا کلام ہے، کیونکہ مخلوق کا کلام کبھی بھی خالق کے کلام جیسے حسن والا نہیں ہوسکتا اور نہ مخلوق اس کی مثال پیش کرسکتی ہے۔ (دیکھیے سورة بقرہ : 23، 24) الحدیث۔ کا معنی ”نئی“ ہے، چونکہ بات بھی نئی ہوتی ہے، اس لیے اسے ”حدیث“ کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے کلام کرتا ہے اور اس کا کلام حدیث اور محدث (نیا) ہوتا ہے۔ (دیکھیے سورة انبیاء : 2۔ شعراء : 5) بعض لوگوں نے یونانی فلسفیوں کا یہ قاعدہ تسلیم کرلیا کہ ہر محل حوادث حادث ہوتا ہے، یعنی جس سے کوئی نئی چیز صادر ہو وہ ہمیشہ سے موجود ہستی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سننے، دیکھنے، اترنے چڑھنے، کلام کرنے، ہنسنے، غرض بیشمار صفات کا انکار کردیا، یا ان کی تاویل کی، حالانکہ یہ قاعدہ قرآن کریم کے صریح خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس کے باوجود وہ سمیع بھی ہے بصیر بھی، خالق بھی ہے رزاق بھی، خوش بھی ہوتا ہے ناراض بھی اور کلام بھی کرتا ہے اور ظاہر ہے کلام الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے، جن میں ترتیب اور حدوث پایا جاتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہر آن نئی سے نئی حالت اور نئی سے نئی شان میں ہے، فرمایا : (يَسْـَٔـلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ) [ الرحمٰن : 29 ] ”اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“
یونانی فلسفی چونکہ آسمانی ہدایت کی روشنی سے محروم تھے، اس لیے ان کا فلسفہ قرآن و حدیث سے متصادم ہے اور ان کے ماننے والے قرآن و حدیث پر ایمان کے دعوے کے باوجود ان میں مذکور صفات الٰہی کو ماننے سے دل میں شدید تنگی محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو صریح تحریف ہیں۔ مزید دیکھیے سورة اعراف (143) ، توبہ (6) ، کہف (109) ، انبیاء (2) اور سورة شعراء (5)۔
كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا : اس مقام پر پورے قرآن کو ”كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا“ کہا گیا ہے، یعنی قرآن مجید کی تمام آیات مضامین و معانی میں، تمام خبروں کے سچا ہونے اور تمام احکام کے حق ہونے میں ایک دوسری سے ملتی جلتی اور ایک دوسری کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ اگر ایک جگہ بات مختصر ہے تو دوسری جگہ مفصل ہے، کہیں بھی کوئی اختلاف یا تناقض نہیں ہے، فرمایا : (ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا) [ النساء : 82 ] ”اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔“ اسی طرح فصاحت و بلاغت اور حسن و خوبی میں بھی سب ایک جیسی ہیں۔ تیئیس (23) سالوں کے طویل عرصہ میں تھوڑی تھوڑی آیات نازل ہونے کے باوجود کسی بھی مقام پر نہ ان کی حسن و خوبی اور فصاحت و بلاغت میں کوئی تفاوت ہے اور نہ کہیں اس کے جلال اور دبدبے میں کوئی کمی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء (82) دوسرے مقام پر قرآن کی بعض آیات کو محکم اور بعض کو متشابہ کہا گیا ہے، اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (7)۔
مَّثَانِيَ“ ”ثَنٰی یَثْنِيْ“ (رَمٰی یَرْمِيْ) کے اسم مفعول ”مَثْنِیَّۃٌ“ بروزن ”مَرْمِیَّۃٌ“ کی جمع ہے، معنی دوہرا کرنا یا دہرانا ہے۔ یعنی اس کتاب کی آیات بار بار دہرائی جانے والی ہیں، جنھیں عقائد، احکام، قَصص اور ترغیب و ترہیب کو ذہن نشین کرانے کے لیے بار بار، کہیں ایک ہی طرح اور کہیں مختلف انداز میں دہرایا گیا ہے، تاکہ خوب ذہن نشین ہوجائیں اور اگر ایک جگہ بات پوری طرح سمجھ میں نہ آئے تو دوسری جگہ خوب واضح ہوجائے۔ لطف یہ کہ نہ اس کے مختلف مضامین بار بار دہرانے سے طبیعت اکتاتی ہے اور نہ ہی کوئی ایک سورت یا آیت بار بار پڑھنے سے دل سیر ہوتا ہے۔ ”مَّثَانِيَ“ کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ عموماً کسی بات کے ذکر کے ساتھ اس کے مقابل کا بھی ذکر ہے، مثلاً ایمان و کفر، جنت و جہنم، ابرار و فجار، ترغیب و ترہیب اور رحمت و عذاب وغیرہ۔
تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ۔۔ : یعنی جب ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے جلال و قہر کا، یا اس کے عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو خوف کی وجہ سے اپنے رب سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، پھر جب اس کی رحمت و مغفرت کا ذکر آتا ہے تو ان کے چمڑے اور دل امید کی بدولت نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف جھک جاتے ہیں۔ ”تَلِيْنُ“ کے ضمن میں ”تَمِیْلُ“ کا معنی ہونے کی وجہ سے اسے ”اِلیٰ“ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کیفیت کے لیے دیکھیے سورة انفال (2 تا 4) ، مومنون (5 تا 16) اور سورة مائدہ (83، 84)۔
Ayah 39:24اَفَمَنْ يَّتَّـقِيْ بِوَجْهِهٖ“ کی خبر محذوف ہے (جیسا کہ اس سے پہلے آیت : 19 میں گزر چکا ہے) : ”أَيْ کَمَنْ ھُوَ آمِنٌ مِنَ الْعَذَابِ ، أَوْ کَمَنْ ھُوَ مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ“ یعنی تو کیا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کے ساتھ بدترین عذاب سے بچے گا، وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو عذاب سے بےخوف ہوگا، یا جو اہل جنت سے ہوگا ؟ جیسا کہ فرمایا : (اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْٓ اٰمِنًا) [ حٰم السجدۃ : 40 ] ”تو کیا وہ شخص جو آگ میں پھینکا جائے بہتر ہے، یا جو امن کی حالت میں قیامت کے دن آئے ؟“ مزید دیکھیے سورة قمر (48) اور سورة ملک (22)۔
3 دنیا میں آدمی کو آگ یا کسی بھی تکلیف دہ چیز کا سامنا ہو تو وہ اپنے چہرے کو اس سے بچانے کے لیے ہاتھوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ قیامت کے دن چونکہ جہنمیوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں گے، اس لیے وہ عذاب سے بچنے کے لیے چار و ناچار چہروں ہی کو ڈھال بنائیں گے، یعنی بد ترین عذاب کے تھپیڑے سیدھے ان کے منہ پر پڑیں گے۔
وَقِيْلَ للظّٰلِمِيْنَ ذُوْقُوْا۔۔ : یعنی وہ اپنے چہرے کے ساتھ عذاب سے بچیں گے، مگر اس سے انھیں کچھ بچاؤ حاصل نہ ہوگا، بلکہ آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی۔ آگے یہ کہنے کے بجائے کہ ”ان سے کہا جائے گا“ فرمایا ”ان ظالموں سے کہا جائے گا“ مقصد یہ بات واضح کرنا ہے کہ ان کے عذاب کا باعث ان کا ظلم ہوگا اور ان سے کہا جائے گا کہ اپنی کمائی کا وبال چکھو۔
Ayah 39:25كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔ : رسول کریم ﷺ کو جھٹلانے والوں کو متنبہ کرنے کے لیے فرمایا کہ ان سے پہلے لوگوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا تو ان پر وہاں سے عذاب آیا کہ وہ سوچتے بھی نہ تھے۔ مثلاً زلزلے سے ان کے مکانوں کی چھتیں ان پر گرپڑیں۔ (دیکھیے نحل : 26) بعض پر پتھراؤ والی ہوا بھیجی گئی، بعض کو چیخ نے پکڑ لیا، بعض کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور بعض کو غرق کردیا گیا۔ (دیکھیے عنکبوت : 40)
Ayah 39:26فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِــزْيَ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ۔۔ : دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ان عذابوں کے ذریعے سے انھیں رسوائی چکھائی اور آخرت کا عذاب ان سے کہیں زیادہ بڑا ہے، کیونکہ آخرت کی آگ دنیا کی آگ سے ستر (70) گنا زیادہ حرارت والی ہے، پھر دنیا کا عذاب تو ختم ہونے والا ہے، مگر آخرت کا عذاب ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ آخرت کا عذاب رسوائی میں بھی کہیں زیادہ ہے۔ دیکھیے سورة حمٰ السجدہ (16)۔
ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْن : یعنی وہ یہ بات جانتے ہی نہ تھے کہ آخرت کا عذاب کہیں زیادہ بڑا ہے، ورنہ وہ اس سے بےخوف نہ ہوتے۔ معلوم ہوا کہ اگر انھوں نے علم کے باوجود نافرمانی کی تو حقیقت میں وہ علم نہ تھا بلکہ جہل تھا، کیونکہ علم وہ ہے جو عمل پر آمادہ کرے۔
Ayah 39:27وَلَــقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ۔۔ : مثال کے ساتھ بات کرنے سے وہ بات جلد سمجھ میں آجاتی ہے اور خوب ذہن نشین ہوجاتی ہے، خصوصاً ایسی مثالیں جن کا آدمی کی اپنی زندگی اور گردوپیش کی اشیاء سے تعلق ہو اور اسے روز مرہ ان سے واسطہ پڑتا ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر قسم کی مثالیں بیان فرمائی ہیں، جیسا کہ اپنی توحید سمجھانے کے لیے آدمیوں کو خود ان کی مثالیں دے کر سمجھایا۔ دیکھیے سورة روم (28) اور نحل (75، 76)۔
Ayah 39:28قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ۔ : ’ۚقُرْاٰنًا عَرَبِيًّا“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یوسف (2) ”3“ میں تنوین کی وجہ سے نفی عام ہوگئی ہے، یعنی اس میں کسی قسم کی کوئی کجی نہیں۔ یہ مفہوم ”غَیْرَ مُعَوَّجٍ“ (جو کجی والا نہیں) سے حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورة کہف کی آیت (1) یہ دونوں آیات اگلی آیت میں آنے والی مثال کے لیے تمہید کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔
Ayah 39:29ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلً۔ :”رَجُلٌ شَکِسٌ“ ضدی، بدخلق، جھگڑنے والا آدمی۔ ”مُتَشٰكِسُوْنَ“ باب تفاعل سے جمع مذکر اسم فاعل ہے، اس باب میں تشارک پایا جاتا ہے، ایک دوسرے سے ضد کرنے والے، جھگڑنے والے۔ یہ مشرک اور موحّد کی مثال ہے، مشرک جو کئی معبودوں کی عبادت کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی ہے جو کئی آقاؤں کا غلام ہے، جو اس کے مالک ہونے میں شریک ہیں اور سب بدخو، ضدی اور ایک دوسرے سے جھگڑنے والے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ غلام اسی کے کام میں لگا رہے اور ہر ایک اسے اپنے مطلب کا حکم دیتا ہے، اسے دوسروں کے کام سے کوئی سروکار نہیں، وہ حیران ہے کہ کس کا حکم بجا لائے۔ پھر ان میں سے کوئی بھی اس غلام کی ضروریات کا ذمہ دار بننے کے لیے تیار نہیں، بلکہ ہر ایک اسے دوسرے کے حوالے کرتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ وہ ان میں سے کسی کو خوش کرسکتا ہے نہ اس کی کوئی حاجت یا ضرورت پوری ہوتی ہے۔ اس کی زندگی جس قدر تنگ ہوگی، بخوبی ظاہر ہے۔ اس کے مقابلے میں موحّد کی مثال اس آدمی کی ہے جو صرف ایک آقا کا غلام ہے، اسی کی خدمت کرتا ہے اور اسی کے سامنے اپنی ہر حاجت اور ضرورت پیش کرتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ آدمی نہایت اطمینان اور سکون کی زندگی بسر کرے گا۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”ایک غلام جو کئی کا ہو، کوئی اس کو اپنا نہ سمجھے تو اس کی پوری خبر نہ لے اور ایک غلام جو سارا ایک کا ہو، وہ اس کو اپنا سمجھے اور پوری خبر لے، یہ مثال ہے ان کی جو ایک رب کے بندے ہیں اور جو کئی رب کے بندے ہیں۔“ (موضح)
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ : یہاں ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکوں میں سے کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں، بلکہ یا تو وہ تسلیم کریں گے کہ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے، یا پھر خاموشی اختیار کریں گے، دونوں صورتوں میں توحید کی خوبی اور شرک کی برائی ثابت ہوجائے گی۔ اس پر فرمایا، سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ایسی بہترین اور آسان مثال کے ساتھ توحید کا مسئلہ واضح فرمایا۔
بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ : یعنی ایک آقا کی غلامی اور بہت سے آقاؤں کی غلامی کا فرق ماننے کے باوجود اکثر لوگ ایک اللہ کی عبادت اور بہت سے معبودوں کی عبادت کا فرق نہیں جانتے، اس لیے شرک میں گرفتار رہتے ہیں۔
Ayah 39:30اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْن : یعنی اگر یہ نہیں مانتے تو نہ مانیں، ہمیشہ نہ تجھے رہنا ہے نہ ان کو، یقیناً تو مرنے والا ہے اور یقیناً وہ بھی مرنے والے ہیں۔ اس میں نبی ﷺ کے لیے وعدہ اور بشارت ہے کہ آپ کی دنیا کی محنت و مشقت اور تمام رنج ختم ہونے والے ہیں اور آپ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے اور ہمیشہ کی راحت و آرام والی جنت میں جانے والے ہیں، اور کافروں کے لیے وعید ہے کہ ان کی مہلت ختم ہونے والی ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے پیش ہو کر اپنے کفر و شرک کا حساب دینے والے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں نبی ﷺ اور تمام مسلمانوں کو ان کی موت یاد دلا کر اس کی تیاری کی یاد دہانی بھی ہے۔
3 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہوجائیں گے، تاکہ آپ کی موت کے متعلق لوگوں میں اختلاف واقع نہ ہو اور وہ آپ کی پرستش نہ کرنے لگیں، جیسا کہ پہلی امتوں میں اپنے انبیاء کی وفات کے متعلق اختلاف واقع ہوا۔ چناچہ نبی ﷺ کی وفات پر اکثر لوگوں نے تسلیم نہ کیا کہ آپ ﷺ فوت ہوچکے ہیں، جن میں عمر بن خطاب ؓ بھی شامل تھے۔ اس موقع پر ابوبکر ؓ نے یہ آیت اور سورة آل عمران کی آیت (144) : (وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ ۭ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰي عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَـيْـــًٔـا) پڑھ کر اعلان کیا کہ محمد ﷺ فوت ہوگئے۔ [ دیکھیے بخاري، فضائل أصحاب النبي ﷺ ، باب : 3667، 3668] سورة آل عمران کی آیت (144) کی تفسیر بھی دیکھ لیں۔ اس پر عمر ؓ اور دوسرے صحابہ نے اپنے موقف سے رجوع کرلیا اور تمام صحابہ کا اتفاق ہوگیا کہ آپ ﷺ فوت ہوگئے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے آپ ﷺ کو غسل اور کفن دے کر دفن کردیا، ورنہ وہ آپ ﷺ کو زندہ کبھی دفن نہ کرتے۔ افسوس ! قرآن کی واضح آیات اور صحابہ کرام ؓ کے اجماع کے باوجود کچھ لوگوں کو اصرار ہے کہ نبی ﷺ اب بھی دنیوی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں۔ چناچہ ایک صاحب لکھتے ہیں : ”انبیاء کی موت ایک آن کے لیے ہوتی ہے، پھر انھیں حیات عطا فرمائی جاتی ہے۔“ سوال یہ ہے کہ اگر اس حیات سے مراد برزخ کی زندگی ہے تو وہ تو نیک و بد سب کو عطا ہوتی ہے اور برزخ میں جزا و سزا کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے انبیاء کی شان سب سے اونچی ہے اور ان کو عطا ہونے والے انعامات بھی بےحساب ہیں، اس زندگی سے کسی کو بھی انکار نہیں، مگر اس کے لیے موت ضروری ہے، کیونکہ یہ موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک آن کے بعد انھیں دنیوی زندگی عطا کردی جاتی ہے، تو پھر انبیاء کے جاں نثار صحابہ انھیں دفن کیوں کردیتے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ سوموار کے دن فوت ہوئے اور بدھ کے دن آپ کو دفن کیا گیا، تو کیا اس وقت تک وہ آن پوری نہ ہوئی تھی اور صحابہ کو معلوم نہ ہوا تھا کہ آپ کو پھر حیات عطا ہوچکی ہے۔ کیا انھوں نے یہ جانتے ہوئے بھی آپ ﷺ کے دفن کرنے پر اتفاق کرلیا اور آپ ﷺ کو زندہ دفن کردیا اور رسول ﷺ بھی زندہ ہونے کے باوجود خاموشی کے ساتھ دفن ہوگئے ؟ (فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا) [ النساء : 78 ] ”تو ان لوگوں کو کیا ہے کہ قریب نہیں ہیں کہ کوئی بات سمجھیں۔“
Ayah 39:31ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۔ : اس سے پہلی اور بعد میں آنے والی آیات کے مطابق اس جھگڑے سے مراد مشرکین اور رسول اللہ ﷺ کا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جھگڑا ہے، جب رسول اللہ ﷺ اپنا مقدمہ پیش کریں گے کہ یا اللہ ! میں نے ان لوگوں کو تیرا پیغام پہنچایا مگر انھوں نے مجھے جھٹلا دیا۔ (دیکھیے فرقان : 30) اور مشرکین قسمیں کھا کر دنیا میں اپنے مشرک ہونے کا انکار کردیں گے، وہ کہیں گے : (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) [ الأنعام : 23 ] ”اللہ کی قسم ! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔“ پھر فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوگا جو ان پر نبی کی شہادت کے علاوہ ایمان والوں کی، فرشتوں کی، زمین و آسمان کی اور خود ان مشرکوں کے ہاتھ پاؤں، زبانوں اور دوسرے اعضا کی شہادتوں کے ساتھ ان کا جرم ثابت کر کے ان کے انجام کا فیصلہ فرمائے گا۔
3 آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے ہونے والے تمام جھگڑے بھی اس میں شامل ہیں، جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان ہوں گے، یا مشرکین اور ان کے معبودوں یا بڑے لوگوں اور ان کے فرماں برداروں کے درمیان ہوں گے، یا بادشاہوں اور ان کی رعایا کے درمیان ہوں گے، یا مظلوموں اور ظالموں کے درمیان ہوں گے، خواہ وہ دونوں مسلمان ہوں، حتیٰ کہ آدمی کا اپنے اعضا سے بھی جھگڑا ہوگا۔ (دیکھیے حٰم السجدہ : 21) اس لیے اکثر مفسرین نے اس آیت کو عام رکھا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے : ”یُخَاصِمُ الصَّادِقُ الْکَاذِبَ ، وَالْمَظْلُوْمُ الظَّالِمَ ، وَالْمُھْتَدِي الضَّالَّ وَالضَّعِیْفُ الْمُسْتَکْبِرَ“ [ طبري : 30383 ] ”یعنی سچا جھوٹے سے، مظلوم ظالم سے، ہدایت والا گمراہ سے اور کمزور متکبر سے جھگڑے گا۔“ زبیر ؓ فرماتے ہیں : (لَمَّا نَزَلَتْ : (ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ) قَال الزُّبَیْرُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَتُکَرَّرُ عَلَیْنَا الْخُصُوْمَۃُ بَعْدَ الَّذِيْ کَانَ بَیْنَنَا فِي الدُّنْیَا ؟ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ إِنَّ الْأَمْرَ إِذًا لَشَدِیْدٌ) [ ترمذي، التفسیر، باب و من سورة الزمر : 3236، قال الترمذي حسن صحیح وقال الألباني حسن الإسناد ] ”جب یہ آیت : (ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ) اتری تو زبیر ؓ نے کہا : ”یا رسول اللہ ! کیا دنیا میں جھگڑے ہونے کے بعد وہ جھگڑے دوبارہ ہمارے درمیان ہوں گے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”ہاں !“ تو زبیر ؓ نے کہا : ”اس وقت تو معاملہ بہت سخت ہوگا۔“
Ayah 39:32ظلم کا معنی اندھیرا ہے، کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں اور رکھنا بھی اور کسی کا حق دوسرے کو دے دینا بھی ظلم ہے، کیونکہ آدمی اندھیرے میں کسی چیز کو اس کی اصل جگہ نہیں رکھ سکتا۔
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَي اللّٰهِ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ سے مراد شرک یعنی اس کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرنا ہے، جس کی کئی صورتیں اس سورت کے شروع سے یہاں تک بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کچھ اولیاء کی عبادت کرنا، فرشتوں کو یا مسیح و عزیر ؑ کو یا کسی اور کو اللہ کی اولاد قرار دینا، مصیبت اور تکلیف کے وقت صرف اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور اس کی طرف سے کوئی نعمت عطا ہونے پر اسے بھول کر اس کے شریک بنا کر لوگوں کو گمراہ کرنا اور طاغوت کی عبادت کرنا وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے سب کا رد فرما کر اس آیت میں خلاصہ بیان فرمایا، اس لیے آیت کی ابتدا ”فاء“ کے ساتھ فرمائی کہ پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بولا اور اس کا حق دوسروں کو دے دیا ؟ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی کچھ تفصیل ان آیات کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں، سورة انعام (21) ، اعراف (37) ، ہود (18) اور عنکبوت (68)۔
وَكَذَّبَ بالصِّدْقِ اِذْ جَاۗءَهٗ ۭ : صدق کا معنی وہ بات ہے جو واقعہ کے مطابق ہو، سچی ہو، یہاں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی توحید، آخرت اور رسالت ہے۔ یعنی اگر کسی شخص کے پاس سچی بات نہ پہنچے تو اس کا عذر ہوسکتا ہے، مگر جس شخص کے پاس حق اور صدق آجائے اور وہ اس پر غور و فکر کی زحمت کیے بغیر اسے سنتے ہی جھٹلا دے، یا اسے سمجھنے کے باوجود عناد کی وجہ سے اس کے آنے کے ساتھ ہی اسے جھٹلا دے، یعنی جو شخص اللہ پر جھوٹ بولے اور سچی بات سنتے ہی اسے جھٹلا دے اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔
3 شاہ عبد القادر ؓ نے اس آیت کی تفسیر ایک اور طریقے سے کی ہے : ”یعنی اگر نبی نے جھوٹ خدا کا نام لیا تو اس سے برا کون ؟ اور اگر وہ سچا تھا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے برا کون ؟“ (موضح) اس تفسیر کے مطابق ”مِمَّنْ كَذَبَ عَلَي اللّٰهِ“ کا مصداق اور ہے اور ”وَكَذَّبَ بالصِّدْقِ“ کا مصداق اور، جب کہ پہلی تفسیر کے مطابق دونوں صفات ایک ہی شخص کی ہیں۔
اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ : ”مَثْوًى“ ”ثَوٰی یَثْوِيْ ثَوَاءً وَثُوِیًّا“ بروزن ”مَضٰی یَمْضِيْ مَضَاءً وَ مُضِیًّا“ سے اسم ظرف ہے، رہنا، ٹھہرنا۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورة عنکبوت (68) یہ کہنے کے بجائے کہ ”کیا ان کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ؟“ یہ فرمایا کہ ”کیا ان کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ؟“ مقصود اس بات کا اظہار ہے کہ ان کا ٹھکانا جہنم ہونے کی وجہ ان کا کفر یعنی حق بات کو چھپانا اور اس کا انکار کرنا ہے۔
”اَلْکَافِرِیْنَ“ جمع لانے سے ظاہر ہے کہ ”مِمَّنْ كَذَبَ عَلَي اللّٰهِ“ (جس نے اللہ پر جھوٹ بولا) میں ”مَنْْ“ عموم کے لیے ہے، یعنی اس سے مراد ایک شخص نہیں بلکہ ایسے تمام لوگ ہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتے اور سچی بات کو جھٹلاتے ہیں۔
Ayah 39:33وَالَّذِيْ جَاۗءَ بالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖٓ‘ وَالَّذِيْ سے مراد پہلے گروہ کے بالمقابل گروہ ہے اور پہلی آیت کے ”مَنْ“ کی طرح اس آیت میں ”وَالَّذِيْ“ عموم کے لیے ہے، اس سے مراد نبی ﷺ اور ہر وہ شخص ہے جو آپ ﷺ کی دعوت لے کر اٹھ کھڑا ہو، کیونکہ یہ لوگ سچی بات لانے والے بھی ہیں اور اسے سچ ماننے والے بھی۔ سچ لے کر آنے کے ساتھ اس کی تصدیق کی شرط اس لیے لگائی کہ بعض اوقات آدمی سچ بیان کردیتا ہے، مگر اپنے تکبرّ کی وجہ سے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اس لیے تعریف کے قابل وہی ہے جس میں صدق اور تصدیق دونوں پائی جائیں، کیونکہ اس کا صدق اس کے علم کی دلیل ہے اور تصدیق اس کی تواضع اور تکبرّ سے پاک ہونے کی دلیل ہے۔ (سعدی) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”جو سچی بات لے کر آیا وہ نبی اور جس نے سچ مانا وہ مومن ہے۔“ (موضح) اس تفسیر کے مطابق دونوں کا مصداق الگ الگ ہے، اس لیے بعض مفسرین نے سچی بات لانے والے سے مراد نبی کریم ﷺ لیے ہیں، کیونکہ آپ ﷺ اس امت میں سب سے پہلے سچی بات لے کر آئے اور اس کی تصدیق کرنے والے سے مراد ابوبکر صدیق ؓ لیے ہیں، کیونکہ وہ سب سے پہلے آپ ﷺ پر ایمان لائے۔ اگرچہ ابوبکر ؓ کے علاوہ تمام مومن بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے آپ ﷺ کی تصدیق کی اور وہ تمام داعی بھی سچی بات لانے والوں میں شامل ہیں جنھوں نے اسلام کی دعوت دی۔
اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُتَّـقُوْنَ : یعنی یہی لوگ شرک سے بچنے والے اور جہنم سے بچے رہنے والے ہیں۔
Ayah 39:34لَهُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ: چونکہ وہ دنیا میں وہ کام کرتے رہے جو ان کا رب چاہتا تھا، اس لیے اس کے بدلے میں رب تعالیٰ کے ہاں انھیں وہ کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے، فرمایا : (هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ) [ الرحمٰن : 60 ] ”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے۔“
ذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْمُحْسِنِيْنَ : یہاں کچھ عبارت محذوف ہے : ”لِأَنَّھُمْ کَانُوْا مُحْسِنِیْنَ“ کیونکہ وہ نیکی کرنے والے تھے اور نیکی کرنے والوں کی یہی جزا ہے۔ ”احسان“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (58) ، یوسف (36) اور قصص (14 اور 77)۔
Ayah 39:35لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ عَمِلُوْا ”لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ“ محذوف فعل ”أَعْطَاھُمْ ذٰلِکَ“ کے متعلق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ انھیں یہ جزا دے گا، تاکہ وہ ان سے وہ بدترین عمل دور کر دے جو انھوں نے کیے۔۔ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کے ساتھ عدل سے بڑھ کر فضل کا معاملہ فرمائے گا۔ عدل یہ ہے کہ نیکیوں اور برائیوں کو برابر شمار کرکے جزا دی جائے، جب کہ فضل یہ ہے کہ برائی صرف ایک لکھی جائے اور نیکی دس گنا سے سات سو گنا یا بےحساب لکھی جائے، فرمایا : (قُلْ يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۭ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ ۭ وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ۭ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَاب) [ الزمر : 10 ] ”صرف کامل صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“ اسی فضل کی بدولت اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کے سب سے برے اعمال دور کر دے گا۔ جب سب سے برے اعمال دور ہوگئے تو کم برے اعمال بھی دور کر دے گا۔ چناچہ اگر وہ پہلے کافر ہیں تو اسلام لانے کی بدولت پہلے گناہ معاف کر دے گا، اگر مسلمان تھے تو توبہ، ہجرت، حج اور ان کے تقویٰ کی وجہ سے ان کے تمام گناہ دور کر دے گا، جیسا کہ فرمایا : (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ) [ الأنفال : 29 ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے (حق و باطل میں) فرق کرنے کی بڑی قوت بنا دے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔“ مزید دیکھیے سورة مائدہ (65) ، سورة محمد (2) ، تغابن (9) ، عنکبوت (7) اور احقاف (16)۔
وَيَجْزِيَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : یعنی انھیں ان کے اعمال کا بدلا ان کے ان اعمال کے لحاظ سے دیا جائے گا جو ان کے نامہ اعمال میں بہترین ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے کم تر درجے کے اعمال بھی بہترین بنا دیے جائیں گے اور ایک نیکی کا بدلا دس گنا سے سات سو گنا تک بلکہ بغیر حساب کے دیا جائے گا۔ دیکھیے سورة نحل (96، 97) اور طور (21)۔
Ayah 39:36اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ : اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ وہ مومنوں کو جنت میں جو چاہیں گے عطا کرے گا اور ان کے بدترین اعمال دور کرے گا، ساتھ ہی بیان فرمایا کہ دنیا میں بھی وہ انھیں تمام کاموں کے لیے کافی ہوجائے گا اور تمام دشمنوں سے بھی کافی ہوجائے گا۔ اس بات کو نہایت قوت اور زور سے بیان کرنے کے لیے اسے سوالیہ انداز میں بیان فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ؟ یعنی یقیناً وہ اپنے بندے محمد ﷺ کے لیے اور اپنے ہر بندے کے لیے کافی ہے۔
وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ۔۔ : کافر رسول اللہ ﷺ کو اپنے معبودوں سے ڈراتے اور کہتے کہ ہمارے معبودوں کی برائی سے باز رہ، ورنہ وہ تجھے نقصان پہنچائیں گے اور تجھے دیوانہ بنادیں گے، جیسا کہ اس زمانے کے مشرک اور قبروں کے مجاور و گدی نشین، جو نام کے مسلمان ہیں اور بزرگوں اور ولیوں کو پکارتے ہیں، ان کی نذریں نیازیں دیتے ہیں، دور دور سے جا کر ان کی قبروں پر میلے لگاتے ہیں، ہاتھ باندھ کر بڑی عاجزی سے ان کے آگے کھڑے ہوتے ہیں، بعض قبروں کے گرد طواف کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں، غرض ہر طرح کی عبادت کرتے ہیں، تو جب کوئی انھیں منع کرے اور ان سے کہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو تو اپنے معبودوں سے ڈراتے ہیں کہ فلاں شخص نے ان کو نہ مانا تو وہ تباہ و برباد ہوگیا، اس کا یہ نقصان ہوگیا۔ ایسی باتوں سے احمق و نادان ڈر جاتے ہیں اور ان کی پوجا کرنے لگ جاتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ) یعنی یہ لوگ گمراہ ہیں اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔
Ayah 39:37وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ : اور جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے، پھر کوئی اسے گمراہ کرنے والا نہیں۔ شیطان یا اس کے پیروکار اپنے حاجت رواؤں یا مشکل کشاؤں سے اسے جس قدر بھی ڈرائیں وہ کبھی نہ ان سے ڈرتا ہے اور نہ وہ اللہ کے سوا کسی سے امید رکھتا ہے۔ کفار کا اپنے خداؤں سے ڈرانے کے ذکر کے لیے دیکھیے سورة ہود (54) ، انعام (80 تا 82) اور سورة قمر (9)۔
اَلَيْسَ اللّٰهُ بِعَزِيْزٍ ذِي انْتِقَامٍ : کیا اللہ تعالیٰ سب پر غالب نہیں کہ جو اس کی پناہ میں ہو کوئی اس کی ہوا کی طرف بھی نہیں دیکھ سکتا ؟ اور کیا وہ اپنی اور اپنے دوستوں کی خاطر بہت بڑے انتقام والا نہیں (انْتِقَامٍ کی تنوین تعظیم کے لیے ہے) کہ اس کے اور اس کے دوستوں کے دشمنوں کو اس کے زبردست انتقام سے کوئی نہیں بچا سکتا ؟ یقیناً وہ سب پر غالب بھی ہے اور بہت بڑے انتقام والا بھی
نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
Ayah 39:38وَلَىِٕنْ سَاَلْــتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : اس آیت میں مشرکین کی جہالت اور ان کے قول و عمل کے تضاد کو اجاگر کیا ہے۔ فرمایا، اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً کہیں گے، اللہ تعالیٰ نے۔ اس اقرار کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جب خالق وہ ہے تو مالک بھی وہی ہے، پھر کسی اور کے پاس کسی طرح کے نفع یا نقصان کا کیا اختیار ہوسکتا ہے۔ اس لیے اس اقرار کے بعد انھیں اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کے نفع یا نقصان کا اختیار نہ رکھنے کا اقرار کروانے کے لیے فرمایا، ان سے کہیے کہ پھر یہ بتاؤ کہ وہ ہستیاں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف یا نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا وہ اس کی تکلیف یا نقصان کو ہٹا سکتی ہیں، یا اگر وہ مجھ پر کوئی مہربانی فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتی ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے کفار کا جواب یہاں ذکر نہیں فرمایا۔ یا تو اس لیے کہ اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ جب خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے تو کوئی دوسرا اس کے ارادے کے خلاف کیا کرسکتا ہے، یا اس لیے کہ مشرک یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے معبود کچھ اختیار نہیں رکھتے، یہ نہیں کہیں گے کہ وہ نہ تکلیف دور کریں گے اور نہ اس کی رحمت کو روک سکیں گے، بلکہ لاجواب ہو کر خاموشی اختیار کریں گے۔
قُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ۔۔ : یعنی کافر اس سوال کے جواب میں خاموش رہیں تو آپ خود فرما دیں کہ مجھے تو اللہ کافی ہے، تمام بھروسا کرنے والے اسی پر بھروسا کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمام بھروسا کرنے والوں کو اسی پر بھروسا کرنا لازم ہے، کیونکہ جب کسی بات کا زیادہ زور سے حکم دینا ہو تو اسے خبر کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے، مثلاً کہنا ہو کہ آج سب لوگ فلاں جگہ عصر کی نماز پڑھیں، تو کہا جائے گا، آج سب لوگ عصر کی نماز فلاں جگہ پڑھ رہے ہیں یا پڑھیں گے۔
هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖٓ۔۔ : اللہ کے سوا ہستیوں کو مؤنث کے صیغے کے ساتھ ذکر کرنے سے ان کے بےاختیار ہونے کا اظہار اور ان کی تحقیر مراد ہے۔
”اللہ کے سوا نفع یا نقصان کا کوئی بھی مالک نہیں“ یہ مضمون اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے قرآن مجید میں جا بجا بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة رعد (14 تا 16) ، فرقان (3) ، انعام (17) اور سورة یونس (106، 107)۔
Ayahs 39:39–40قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ۔۔ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام (135) ”عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ“ (وہ عذاب جو اسے رسوا کر دے گا) سے مراد دنیا کا عذاب اور ”عَذَابٌ مُّقِيْمٌ“ (ہمیشہ رہنے والا عذاب) سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔
Ayah 39:41اِنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ۔۔ : کفار کے کفر پر اصرار سے رسول اللہ ﷺ کو سخت غم ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے۔ اب جو شخص صحیح راستے پر چلے گا اس کا فائدہ خود اسی کو ہے اور جو گمراہ ہوگا اس کا وبال اسی پر ہے، آپ پر اس کی ذمہ داری نہیں، آپ کا فرض صرف پیغام حق پہنچانا ہے، وہ آپ نے ادا کردیا، آگے معاملہ اللہ کے سپرد کریں، جس کے ہاتھ میں مارنا، زندہ کرنا، سلانا اور جگانا سب کچھ ہے۔
Ayah 39:42اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا۔۔ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ آدمی کی جان موت کے وقت بھی قبض کرتا ہے اور نیند کے وقت بھی۔ گویا نیند بھی ایک طرح کی موت ہے، مگر اس میں روح قبض ہونے کے باوجود جسم کے ساتھ اس کا ایسا تعلق باقی رہتا ہے جس سے نبض چلتی، کھانا ہضم ہوتا اور سانس جاری رہتا ہے۔ اس تعلق کی پوری حقیقت ہم نہیں جانتے، کیونکہ روح کے معاملات کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، فرمایا : (وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا) [ بني إسرائیل : 85 ] ”اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا نہیں دیا گیا۔“ مگر اس کی ایک ادنیٰ سی مثال، جو پوری مثال نہیں ہے، بجلی کا کرنٹ ہے کہ اس کا مرکز کسی جگہ ہوتا ہے مگر ہزاروں میل دور اس کا تعلق کسی اور چیز سے بھی ہوتا ہے، جیسے ریڈیو، ٹیلی وژن، ریموٹ وغیرہ۔ اس سے عذاب قبر پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ موت کے بعد روح قبض ہونے کے باوجود اس کا جسم کے ساتھ اللہ کے حکم سے کوئی ایسا تعلق رہتا ہے کہ اس پر قبر میں عذاب و ثواب کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے، انسان اپنے ناقص علم کی وجہ سے اسے سمجھ نہیں سکتا۔ اس لیے بعض لوگوں نے عذاب قبر کا انکار ہی کردیا، حالانکہ قرآن و حدیث میں اس کے صاف دلائل موجود ہیں اور مومن کا کام یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات ہر حال میں مانے، خواہ اس کی کیفیت اسے بتائی جائے یا نہ بتائی جائے۔
نیند کی حالت میں جان قبض ہونے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے اس پر موت کا لفظ استعمال فرمایا، اگرچہ یہ بڑی اور آخری موت سے پہلے موت کی ایک قسم ہے، جو زندگی میں آدمی پر بار بار آتی اور جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ۚ ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) [ الأنعام : 60 ] ”اور وہی ہے جو تمہیں رات کو قبض کرلیتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم نے دن میں کمایا۔“ حذیفہ ؓ فرماتے ہیں : (کَان النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ إِذَا أَوٰی إِلٰی فِرَاشِہِ قَال باسْمِکَ أَمُوْتُ وَ أَحْیَا وَ إِذَا قَامَ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَ إِلَیْہِ النُّشُوْرُ) [ بخاري، الدعوات، باب ما یقول إذا نام : 6312 ] ”نبی ﷺ جب بستر پر جاتے تو کہتے : ”تیرے ہی نام کے ساتھ مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں۔“ اور جب بیدار ہوتے تو کہتے : ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں زندگی بخشی، اس کے بعد کہ اس نے ہمیں موت دی اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“
بعض اہل علم نے یہاں روح کی دو قسمیں بنائی ہیں، ایک روح حیوانی اور ایک روح نفسانی اور بعض نے نفس کو الگ اور روح کو الگ قرار دیا ہے، مگر یہ بات قرآن یا حدیث سے ثابت نہیں، بلکہ جس طرح قرآن مجید میں نیند کے وقت نفسوں کو قبض کرنے کا ذکر ہے اسی طرح بخاری، ابوداؤد، نسائی اور مسند احمد وغیرہ میں نیند کے وقت ارواح کو قبض کرنے کا ذکر ہے۔ چناچہ ابوقتادہ ؓ نے ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ اور تمام صحابہ ؓ کے رات کے سفر کے دوران سو جانے کا اور سورج نکلنے کے بعد بیدار ہونے کا ذکر کیا ہے، اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ قَبَضَ أَرْوَاحَکُمْ حِیْنَ شَاءَ ، وَ رَدَّہَا عَلَیْکُمْ حِیْنَ شَاءَ) [ بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب الأذان بعد ذھاب الوقت : 595 ] ”اللہ تعالیٰ نے تمہاری ارواح کو قبض کرلیا جب چاہا اور انھیں تمہیں واپس کردیا جب چاہا۔“ اس بحث سے معلوم ہوا نیند کے وقت قبض ہونے والی چیز نفس بھی کہلاتی ہے اور روح بھی۔
وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ : مقرر وقت سے مراد بڑی اور آخری موت ہے۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ : غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں، جن میں سب سے پہلی تو اللہ کا وحدہ لا شریک لہ ہونا ہے کہ موت و حیات اور سلانے اور جگانے کا سلسلہ صرف اس کے ہاتھ میں ہے، اگر اس کا کوئی شریک ہوتا تو یہ اختیار یا اس کا کچھ حصہ اس کے پاس بھی ہوتا، اس لیے ہر طرح کی عبادت کا حق دار اللہ تعالیٰ ہے، یہی دلیل اللہ کے خلیل ؑ نے پیش فرمائی تھی : (رَبِّيَ الَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ) [ البقرۃ : 258 ] ”میرا رب وہ ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔“ دوسری نشانی یہ ہے کہ جو پروردگار ہر روز موت دیتا ہے اور مرنے کے بعد زندگی عطا کرتا ہے وہ قیامت کے دن بھی تمام مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے اور یقیناً انھیں زندہ کرے گا اور وہی اکیلا سب کا فیصلہ کرے گا، کوئی اس کی مرضی کے بغیر سفارش بھی نہیں کرسکے گا، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔
Ayah 39:43اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَاۗءَ ۭ : یعنی بجائے اس کے کہ یہ لوگ موت اور نیند کی کیفیت سے کوئی سبق حاصل کریں اور ہر معاملے کا مختار صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھیں، انھوں نے کچھ دوسرے معبود بنا لیے ہیں، جنھیں وہ اللہ کے حضور سفارشی سمجھتے ہیں۔
ۭ قُلْ اَوَلَوْ كَانُوْا لَا يَمْلِكُوْنَ شَـيْـــــًٔا وَّلَا يَعْقِلُوْنَ : ”كَانُوْا“ کی وجہ سے ”لَا يَمْلِكُوْنَ شَـيْـــــًٔا“ کی نفی میں استمرار پیدا ہوگیا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کیا اگرچہ وہ کبھی نہ کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں۔“ یعنی کیا پھر بھی یہ لوگ انھیں اپنا سفارشی سمجھ کر ان کی پوجا کرتے رہیں گے، ان کے نام کی نذر و نیاز مانتے رہیں گے اور اپنی دعاؤں میں ان کا وسیلہ ڈالتے رہیں گے ؟ ظاہر ہے جن ہستیوں کو بھی یہ پکارتے ہیں وہ نہ ان کی بات سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں، کیونکہ سمجھی تو وہی بات جاتی ہے جو سننے میں آئے، بلکہ وہ فوت شدہ ہیں زندہ نہیں ہیں، خود انھیں اپنے متعلق علم نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ دیکھیے سورة نحل (20، 21) ، فاطر (13، 14) اور احقاف (5، 6)۔
Ayah 39:44قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيْعًا ۭ۔۔ : لفظ ”للہ“ پہلے آنے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا۔ یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ سفارش کی تمام صورتوں کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر ہی نہیں سکتا، اس لیے اسی کو پکارنا چاہیے، کیونکہ وہ اجازت دے گا تو کوئی سفارش کرے گا۔ سفارش ہی نہیں آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، کسی اور کا دخل نہ سفارش میں ہے نہ بادشاہی میں، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی اللہ کے روبرو سفارش ہے، پر اللہ کے حکم سے، نہ کہ تمہارے کہے سے، جب موت آئے کسی کے کہے سے عزرائیل نہیں چھوڑتا۔“ (موضح) (یاد رہے ! ملک الموت کا نام عزرائیل کتاب و سنت سے ثابت نہیں) شفاعت کے متعلق دیکھیے آیت الکرسی (بقرہ : 255) کی تفسیر۔
Ayah 39:45وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ۔۔ : ”اِشْمَأَزَّ“ نفرت سے بھر گیا، تنگ پڑگیا۔ یہ بات دنیا بھر کے مشرکوں میں مشترک ہے، خواہ وہ نام کے مسلمان کیوں نہ ہوں کہ کوئی شخص اکیلے اللہ کا اور اس کی کبریائی اور توحید کا ذکر کرے تو ان کے دل نفرت سے بھر جاتے ہیں اور تنگ پڑجاتے ہیں اور ان کے چہروں پر ناگواری اور نفرت کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ شخص اولیاء اور بزرگوں کو نہیں مانتا، اسی لیے صرف اللہ ہی کی بات کرتا چلا جاتا ہے، نہ کسی ولی کی قوت و تصرف کا ذکر کرتا ہے جو (ان کے خیال میں) اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا تیر راستے سے واپس ہٹا لاتے ہیں اور نہ کسی دستگیر یا گنج بخش یا مشکل کشا کی دستگیری یا مشکل کشائی کا بیان کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا : (ۭ وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا) [ بني إسرائیل : 46 ] ”اور جب تو قرآن میں اپنے رب کا، اکیلے اسی کا ذکر کرتا ہے تو وہ بدکتے ہوئے اپنی پیٹھوں پر پھرجاتے ہیں۔“
الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ : یعنی اکیلے اللہ کے ذکر پر ان کے دلوں کے تنگ پڑنے کی وجہ آخرت پر یقین نہ ہونا ہے، اگر آخرت پر یقین ہوتا اور وہ ایمان رکھتے کہ ہمیں اس دن اس اکیلے کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے تو وہ ایسا کبھی نہ کرتے۔
وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ۔ : ”يَسْتَبْشِرُوْنَ“ باب استفعال میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یعنی بہت خوش ہوجاتے ہیں، جیسا کہ ”اِشْمَاَزَّتْ“ میں حروف کی زیادتی ان کی نفرت اور دل کی تنگی کے زیادہ ہونے کا اظہار کرتی ہے۔ ”اِشْمِءْزَازٌ“ اور ”اِسْتِبْشَارٌ“ کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اکیلے اللہ کے ذکر پر دل کی تنگی میں اور من دون اللہ کے ذکر پر اس کی خوشی میں وہ انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ ”اذا“ مفاجات کے لیے ہے ”اچانک“ یعنی جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے بغیر اس کے سوا اور ہستیوں کا ذکر کیا جائے اور ان کی جھوٹی سچی کرامات بیان ہونا شروع ہوں تو اچانک ان کے چہروں پر خوشی پھیل جاتی ہے۔ مفسر آلوسی نے روح المعانی میں اپنا تجربہ لکھا ہے کہ ایک دن میں نے ایک آدمی سے کہا جو اپنی کسی مشکل میں کسی فوت شدہ سے استغاثہ کر رہا تھا اور اسے پکار کر کہہ رہا تھا کہ اے فلاں ! میری مدد کر۔ میں نے اس سے کہا، تم ”یا اللہ“ کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۭ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ) [ البقرۃ : 186 ] ”اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بیشک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔“ تو وہ شخص سخت غصے میں آگیا۔ بعد میں لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ کہتا تھا، یہ شخص اولیاء کا منکر ہے۔ کچھ لوگوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اس نے کہا، اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت ولی جلدی سن لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گمراہی سے محفوظ رکھے۔
Ayah 39:46قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ : کفار کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے جو مشقتیں اٹھائیں اور ان کی ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ کو جو تکلیفیں پہنچیں اور توحید کے واضح دلائل کے سامنے لاجواب ہو کر بھی وہ جس طرح شرک پر ڈٹے رہے، اس پر آپ ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حکم دیا گیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور سارا معاملہ اس کے سپرد کریں، کیونکہ وہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے اور مخلوق کے تمام حاضر و غائب احوال کو جاننے والا ہے۔ اس لیے ان اسماء وصفات کے وسیلے سے اس سے دعا کریں کہ جب تیری توحید جیسی روشن اور واضح بات میں بھی جھگڑے ہونے لگے اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے اور حاضر و غائب کو جاننے والے کا وقار بھی دلوں میں نہ رہا تو اب تجھی سے فریاد ہے، تو ہی ان جھگڑوں کا فیصلہ فرمائے گا۔
3 ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ رات قیام کرتے تو اپنی نماز کا افتتاح کس چیز سے کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ رات اٹھتے تو اپنی نماز کا افتتاح اس دعا سے کرتے : (اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرَاءِیْلَ وَ مِیْکَاءِیْلَ وَ إِسْرَافِیْلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ اہْدِنِيْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِکَ إِنَّکَ تَہْدِيْ مَنْ تَشَاءُ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ) [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبي ﷺ و دعاۂ باللیل : 770 ] ”اے اللہ ! اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب ! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے ! اے حاضر و غائب کو جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے، مجھے حق کی ان تمام باتوں میں اپنے اذن سے سیدھی راہ پر لگا جن میں اختلاف کیا گیا ہے، کیونکہ تو ہی سیدھے راستے پر لگاتا ہے جسے چاہتا ہے۔“
ابوراشد حبرانی کہتے ہیں، میں نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنا ہے اس میں سے کچھ ہمیں بیان کریں تو انھوں نے میرے سامنے ایک کتاب نکال کر کہا، یہ ہے وہ کتاب جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے لکھوائی ہے۔ میں نے دیکھا تو اس میں لکھا تھا کہ ابوبکر ؓ نے کہا : ”یا رسول اللہ ! آپ مجھے سکھائیں کہ میں صبح اور شام کو کیا پڑھوں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اے ابوبکر ! یہ پڑھو : (اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَ الْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ رَبَّ کُلِّ شَيْءٍ وَ مَلِیْکَہُ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ وَ مِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَ شِرْکِہِ وَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِيْ سُوْءً ا أَوْ أَجُرَّہُ إِلٰی مُسْلِمٍ) [ ترمذي، الدعوات، باب دعاء علمہ ﷺ أبا بکر۔۔ : 3529، و قال الألباني صحیح ] ”اے اللہ ! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، غائب و حاضر کو جاننے والے ! تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اے ہر چیز کے رب اور اس کے بادشاہ ! میں تجھ سے اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے نفس پر کسی برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلم کا برا کروں۔“
Ayah 39:47وَلَوْ اَنَّ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۔۔ : ظلم کرنے والوں سے مراد مشرک ہیں، انھی کا ذکر مسلسل آ رہا ہے۔ مشرکین کے اقوال و احوال کا ذکر اور ان کا رد کرنے کے بعد ان کا انجام بیان فرمایا کہ آخرت کے دن اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہو تو قیامت کے دن کے برے عذاب سے بچنے کے لیے اسے ضرور ہی فدیے میں دے دیں گے اور ان کی خواہش ہوگی کہ یہ سب کچھ دے کر ان کی جان عذاب سے بچ جائے۔ (دیکھیے یونس : 54) مگر ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ دیکھیے سورة بقرہ (48 اور 123) ، آل عمران (91) ، مائدہ (36، 37) ، انعام (70) ، رعد (18) اور سورة حدید (15)۔
وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ۔۔ : یعنی جس طرح جنت والوں کو وہ نعمتیں ملیں گی جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی آدمی کے دل میں ان کا خیال آیا (دیکھیے سجدہ : 17) ایسے ہی کفار کے سامنے اللہ کی طرف سے ایسے ایسے عذاب آئیں گے جن کا وہ گمان بھی نہ کرتے تھے۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ وہ قیامت کے دن اپنے متعلق جو جھوٹی امیدیں رکھے ہوئے تھے اور اپنے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کی دستگیری کے متعلق ان کے جو گمان تھے اس دن ان کے سامنے اللہ کی طرف سے اس کے برعکس وہ کچھ پیش آئے گا جس کا وہ گمان بھی نہیں کرتے تھے اور جن اعمال کو وہ نیکیاں سمجھتے تھے وہ برائیوں کی صورت میں ان کے سامنے ظاہر ہوں گے۔ سفیان ثوری سے مروی ہے کہ انھوں نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا : ”وَیْلٌ لِأَھْلِ الرِّیَاءِ ، وَیْلٌ لِأَھْلِ الرِّیَاءِ“ ”دکھاوے والوں کے لیے ہلاکت ہے، دکھاوے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔“ (الوسیط) کیونکہ قیامت کے دن انھیں امید کے برعکس معاملہ پیش آئے گا، جیسا کہ ریا کار عالم، شہید اور سخی والی حدیث میں مذکور ہے۔
Ayah 39:48وَبَدَا لَهُمْ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا۔۔ : اور ان کے سامنے ان کے اعمال کی برائیاں یعنی ان کے برے نتائج ظاہر ہوجائیں گے اور وہی عذاب جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے انھیں چاروں طرف سے گھیر لے گا۔ [ أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ ]
Ayah 39:49فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ۔۔ : ”خَوَّلَ یُخَوِّلُ“ کسی معاوضے کے بغیر کوئی عطیہ دینا۔ اس آیت میں مشرک انسان کی ایک اور قبیح صفت بیان کی گئی ہے کہ جب اسے کوئی بڑی تکلیف پہنچتی ہے، مثلاً فقر یا بیماری یا سیلاب یا طوفان وغیرہ، تو اپنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کو پکارتا ہے، (”ثُمَّ“ تراخی کے لیے ہے، جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ نعمت کچھ مدت کے بعد ملتی ہے) پھر ایک مدت تک اس تکلیف میں رہنے اور بار بار لیٹے، بیٹھے اور کھڑے ہر حال میں اس سے فریاد کرنے اور اسے پکارنے کے بعد جب وہ اسے اس تکلیف سے نجات کی نعمت، یا کوئی بھی نعمت محض اپنے خاص فضل سے عطا کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو سرے سے بھول جاتا ہے اور کہتا ہے، یہ تو مجھے صرف ایک علم کی بنا پر دی گئی ہے، مثلاً فقر کے بعد مال ملتا ہے تو کہتا ہے، یہ میرے دولت کمانے کے ہنر کی وجہ سے ملا ہے، اگر بیماری کے بعد شفا مل جائے تو کہتا ہے، یہ میری یا فلاں صاحب کی طب میں مہارت کی وجہ سے ملی ہے۔
اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ :”مجھے یہ (نعمت) ایک علم کی بنیاد پر دی گئی ہے“ یعنی اپنے رب کے سارے احسان بھلا کر اس قدر بیگانہ ہوجاتا ہے کہ نعمت دینے والے کا نام تک لینا گوارا نہیں کرتا، بلکہ کہتا ہے ”مجھے یہ نعمت دی گئی ہے“ یہ احسان فراموشی اور نمک حرامی کی انتہا ہے، کوئی اس سے پوچھے، کیا تیرے باپ نے تجھے یہ نعمت دی ہے ؟
3 یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے اسی سورت کی آیت (8) میں یہی الفاظ ”واؤ“ کے ساتھ آئے ہیں : (فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ) یہاں ”فاء“ کے ساتھ ”فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ“ لانے میں کیا حکمت ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے (واللہ اعلم) کہ ”فاء“ کے ذریعے سے اس جملے کا تعلق ’ وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ“ کے ساتھ ہے، درمیان کے جملے معترضہ ہیں، یعنی ان جاہلوں کا تضاد دیکھو کہ کبھی ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ اللہ اکیلے کے ذکر پر ان کے دل نفرت سے بھر جاتے اور سخت تنگ پڑجاتے ہیں اور اس کے غیر کے ذکر پر ان کے دل کی کلی کھل اٹھتی ہے اور وہ بہت خوش ہوجاتے ہیں (اور دوسرے وقت ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ) پھر جب انھیں کوئی بڑی تکلیف پہنچتی ہے ”فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ۡ“ تو اسی اللہ کو پکارتے ہیں جس کے ذکر پر ان کے دل تنگ پڑجاتے تھے اور ان غیروں کا نام بھی نہیں لیتے جن کے ذکر پر وہ بہت خوش ہوجاتے تھے۔
بَلْ هِىَ فِتْنَةٌ: یعنی وہ نعمت اسے اس کے علم کی بنا پر نہیں بلکہ آزمائش کے لیے دی گئی ہے کہ وہ عطا کرنے والے کا شکر ادا کرتا ہے یا اس کی نعمت کی ناشکری اور کفر و شرک پر اصرار کرتا ہے۔
وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ : یعنی اکثر لوگ نہیں جانتے کہ مال و جاہ، صحت و قوت بلکہ ہر ایک نعمت محض اللہ کے فضل سے عطا ہوتی ہے، اس میں کسی کی عقل یا علم کا کوئی دخل نہیں، کیونکہ بہت سے علم و عقل والے کنگال، بیمار اور کمزور ہوتے ہیں، انھیں کہیں پناہ نہیں ملتی اور بہت سے علم و عقل سے عاری مال و دولت، صحت و قوت اور بیشمار نعمتوں سے مالا مال ہوتے ہیں۔ ”اکثر لوگ“ اس لیے فرمایا کہ تھوڑے لوگ اس حقیقت کو جانتے ہیں، پھر ان میں سے بعض تو ایمان لے آتے ہیں اور ہر حال میں اپنے رب پر صابر و شاکر رہتے ہیں اور بعض جاننے کے باوجود ضد اور عناد سے ناشکری اور کفر اختیار کرتے ہیں۔ یہ بھی ”لَا يَعْلَمُوْنَ“ ہی میں داخل ہیں، کیونکہ جو علم عمل سے آراستہ نہ ہو وہ لاعلمی ہی ہے۔ ”لَا يَعْلَمُوْنَ“ میں یہ بھی داخل ہے کہ اکثر لوگ نہیں جانتے کہ نعمتوں کی یہ فراوانی اگر شکر اور ایمان کا باعث نہ بنے تو اللہ کے راضی ہونے یا ان کے نعمتوں کے حق دار ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ استدراج ہے اور ان کے ذریعے سے ان پر حجت تمام ہو رہی ہے۔