39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 39:69

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہوجائے گی اور لکھا ہوا (سامنے) رکھا جائے گا اور نبی اور گواہ لائے جائیں گے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ۔۔ : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور فرشتے زمین پر تشریف لائیں گے (دیکھیے سورة فجر : 22) اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہوجائے گی۔ بعض لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے زمین پر آنے کے منکر ہیں اور اس کے آسمان دنیا پر اترنے کا بھی صاف انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے، نہ وہ آسمان دنیا پر اترتا ہے اور نہ قیامت کے دن زمین پر آئے گا، بلکہ یہ سب مجاز ہیں، عرش سے مراد سلطنت ہے، آسمان دنیا پر اترنے کا مطلب اس کی رحمت کا نزول ہے اور قیامت کے دن آنے کا مطلب اس کا حکم آنا ہے وغیرہ۔ حالانکہ یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ مجازی معنی اس وقت مراد لیا جاتا ہے جب حقیقی معنی مراد لینا محال ہو، جب کہ یہاں حقیقی معنی لینے میں کوئی مشکل نہیں۔ ان لوگوں نے یونان کے مشرک فلسفیوں کی یہ بات مان لی کہ ہر محل حوادث حادث ہوتا ہے، اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ پر آنے والی ہر نئی حالت اور نئی شان کا انکار کردیا۔ چناچہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ نہ سنتا ہے، نہ دیکھتا ہے، نہ بات کرتا ہے، نہ عرش پر ہے، نہ اترتا ہے، نہ چڑھتا ہے، نہ ناراض ہوتا ہے اور نہ راضی ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب حوادث (نئے احوال) ہیں جو ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ پر نہیں آسکتے۔ یہ لوگ قرآن و حدیث میں آنے والے ایسے تمام الفاظ کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو درحقیقت تحریف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب استعارے ہیں جو عرب کے بدوؤں کے ذہن کے مطابق اللہ تعالیٰ کو ایک بادشاہ کی صورت میں پیش کرتے ہوئے استعمال کیے گئے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ اور اس کی ذات وصفات کو نہ رسول اللہ ﷺ نے جانا نہ صحابہ کرام ؓ نے۔ اصل حقیقت یونانی فلسفیوں پر منکشف ہوئی اور ان کی بدولت ان حضرات تک پہنچی۔ قرآن مجید جا بجا ان کے اس قاعدے کی نفی کرتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (يَسْـَٔـلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ) [ الرحمٰن : 29 ] ”اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“ اور فرمایا : (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا) [ المجادلۃ : 1 ] ”یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی۔“ اور فرمایا : (ۭ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ) [ البقرۃ : 186 ] ”میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔“ اور فرمایا : (وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا) [ النساء : 164 ] ”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔“ اور فرمایا : (وَمَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِيْنَ) [ الشعرآء : 5 ] ”اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی جو نئی ہو، مگر وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔“ مزید دیکھیے سورة فجر (22) اور سورة حاقہ (17) کی تفسیر۔ وَوُضِعَ الْكِتٰبُ : یعنی تمام لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دیے جائیں گے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (13) اور سورة کہف (49)۔ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ : شہداء (گواہوں) سے مراد نبیوں کے علاوہ ہماری امت اور پہلی تمام امتوں کے وہ نیک لوگ ہیں جنھوں نے اپنی اپنی امت کے لوگوں تک حق کا پیغام پہنچایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) [ بني إسرائیل : 15 ] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“ ان شہداء میں امت محمد ﷺ کے وہ افراد بھی شامل ہیں جو نوح ؑ اور دوسرے انبیاء کے حق میں شہادت دیں گے کہ انھوں نے اپنی اپنی امت کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (143) اور سورة نساء (41) کی تفسیر۔ ان گواہوں میں کراماً کاتبین بھی شامل ہیں اور انسان کے اعضا بھی جو اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اسی طرح زمین بھی، جس پر کسی شخص نے کوئی نیک یا برا عمل کیا ہوگا، فرمایا : (يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا) [ الزلزال : 4، 5 ] ”اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔ اس لیے کہ تیرے رب نے اسے وحی کی ہوگی۔“ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ۔۔ : یعنی تمام نیکیاں اور بدیاں سامنے لا کر گواہوں کے ذریعے سے حجت پوری کرنے کے بعد سب لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور لوگوں پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا۔ دیکھیے سورة انبیاء (47) اور سورة نساء (40)۔
Ayah 39:70

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر شخص کو پورا پورا دیا جائے گا جو اس نے کیا اور وہ زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔

وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ : ہر جان کو اس کے نیک یا بد عمل کا پورا بدلا دیا جائے گا، ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب عز و جل سے جو کچھ روایت کیا اس میں یہ بھی فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَ السَّیِّءَاتِ ، ثُمَّ بَیَّنَ ذٰلِکَ فَمَنْ ہَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہُ عِنْدَہُ حَسَنَۃً کَامِلَۃً ، فَإِنْ ہُوَ ہَمَّ بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہُ عِنْدَہُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلٰی سَبْعِمِاءَۃِ ضِعْفٍ إِلٰی أَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ ، وَ مَنْ ہَمَّ بِسَیِّءَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہُ عِنْدَہُ حَسَنَۃً کَامِلَۃً ، فَإِنْ ہُوَ ہَمَّ بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَا اللّٰہُ لَہُ سَیِّءَۃً وَاحِدَۃً) [ بخاري، الرقاق، باب من ھم بحسنۃ أو بسیءۃ : 6491 ] ”اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دیں، پھر ان کی وضاحت فرما دی، تو جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا اور عمل نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کا ارادہ کرے اور اسے کر بھی لے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس دس سے سات سو گنا بلکہ بہت گنا تک نیکیاں لکھ لیتا ہے اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا، پھر (اللہ کے خوف سے) اس پر عمل نہ کیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اپنے پاس ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر اس نے اس کا ارادہ کیا اور اس پر عمل بھی کرلیا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے لیے ایک برائی لکھ لیتا ہے۔“ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ : یعنی دنیا میں لوگ جو عمل کر رہے ہیں انھیں اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے، اسے کسی لکھنے والے یا حساب رکھنے والے یا گواہی پیش کرنے والے کی ضرورت نہیں، لیکن اعمال نامہ اس لیے رکھا جائے گا اور پیغمبروں اور گواہوں کو اس لیے لایا جائے گا کہ لوگوں پر حجت تمام ہو۔
Ayah 39:71

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تم میں سے کچھ رسول نہیں آئے جو تم پر تمہارے رب کی آیات پڑھتے ہوں اور تمہیں تمہارے اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ہوں ؟ کہیں گے کیوں نہیں، اور لیکن عذاب کی بات کافروں پر ثابت ہوگئی۔

وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ۭ : ”سَاقَ یَسُوْقُ سَوْقًا“ (ن) کسی کو اپنے آگے رکھ کر پیچھے سے ہانکنا، اس میں ہانکے جانے والے کی ذلت کا اظہار ہوتا ہے۔ آگے رہ کر کسی کو اپنے پیچھے چلانے کے لیے ”قَادَ یَقُوْدُ“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ”زُمَرًا“ ”زُمْرَۃٌ“ کی جمع ہے، وہ گروہ جس کے پیچھے اور گروہ ہو۔ ”زُمْرَۃٌ مِنَ النَّاسِ“ اس جماعت کو کہا جاتا ہے جس کے پیچھے اور جماعت آرہی ہو۔ 3 پچھلی آیات میں قیامت کے دن حق کے ساتھ فیصلے کا ذکر ہے، ان آیات میں اس فیصلے پر عمل کا ذکر ہے۔ چناچہ پہلے عذاب کے مستحق لوگوں کا ذکر فرمایا ہے، کیونکہ مقام ان لوگوں کو نصیحت اور ڈرانے کا ہے جو اتنی نصیحت اور اس قدر دلائل سن کر بھی کفر پر جمے رہے۔ 3 یعنی جب کافروں کا جرم ثابت ہونے کے بعد فیصلہ کردیا جائے گا تو ٹولیاں بنا کر انھیں زبردستی ہانکتے ہوئے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، جیسا کہ فرمایا : (يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا) [ الطور : 13 ] ”جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، بری طرح دھکیلا جانا۔“ مختلف گروہوں میں تقسیم یا تو کفر کی درجہ بندی کے لحاظ سے ہوگی کہ منافق درک اسفل میں ہوں گے اور کچھ وہ بھی ہوں گے جنھیں صرف آگ کا جوتا پہنایا جائے گا، یا زمانے کے لحاظ سے کہ پہلے لوگ پہلے اور بعد کے لوگ بعد میں داخل ہوں گے۔ (دیکھیے اعراف : 38) ایک تقسیم مجرموں کی مختلف اقسام کے لحاظ سے بھی ہوگی، مثلاً چوروں کا گروہ، بدکاروں کا گروہ وغیرہ۔ دیکھیے سورة صافات (22) اور سورة حٰمٓ السجدہ (19)۔ حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا : یعنی ان کے آنے پر جہنم کے دروازے، جو پہلے بند تھے، کھولے جائیں گے، جس طرح قید خانے کے دروازے صرف مجرموں کی آمد پر کھولے جاتے ہیں اور پھر ان پر بند کردیے جاتے ہیں، تاکہ وہ وہیں قید رہیں۔ وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ : ”خَزَنَۃٌ“ ”خَازِنٌ“ کی جمع ہے، جیسا کہ ”طَلَبَۃٌ“ ”طَالِبٌ“ کی جمع ہے۔ دربان کو خازن کہا جاتا ہے، کیونکہ عموماً دربان وہیں ہوتے ہیں جہاں قیمتی چیزوں کا خزانہ ہو۔ جہنم کے دربانوں کی صفت کے لیے دیکھیے سورة تحریم (6)۔ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ۔۔ : جہنم کے سخت دل، سخت لہجے اور قوت والے فرشتے ان سے یہ بات پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ انھیں ملامت کرنے اور ڈانٹنے کے لیے کہیں گے، جسمانی عذاب کے ساتھ یہ عذاب مزید ہوگا۔ دیکھیے سورة انعام (120) اور سورة ملک (8 تا 11)۔ قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ۔۔ : یعنی ہاں آئے تھے اور انھوں نے ڈرایا بھی تھا، مگر ہم ہی ایسے اعمال کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ بات جو اس نے جہنم کو کافر جنوں اور انسانوں سے بھرنے کے متعلق فرمائی تھی (دیکھیے السجدہ : 13) وہ ہمارے حق میں سچی ثابت ہوئی۔
Ayah 39:72

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

کہا جائے گا جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، اس میں ہمیشہ رہنے والے، پس وہ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔

فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ : اس جملے سے معلوم ہوا کہ جہنم میں جانے کی سب سے بڑی وجہ تکبر (یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر حق کا انکار) ہے۔ ابلیس کا بھی اصل جرم تکبر ہی تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے الگ الگ جرم گنانے کے بجائے تمام جرائم کا اصل ذکر فرما دیا، جو تمام مجرموں میں مشترک ہے۔
Ayah 39:73

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ رہنے والے۔

وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۭ۔۔ : کفار کے انجام سے ڈرانے کے بعد متقین کے حسن انجام کی بشارت دی، کیونکہ قرآن مجید میں یہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِيْنَ وَتُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا) [ مریم : 97 ] ”تاکہ تو اس کے ساتھ متقی لوگوں کو خوش خبری دے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائے جو سخت جھگڑا لو ہیں۔“ 3 یہاں ایک سوال ہے کہ ”سَاقَ یَسُوْقُ“ میں سختی کے ساتھ ہانکنے کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں کفار کو سختی سے ہانک کر جہنم کی طرف لے جانے کا ذکر ہے، تو یہاں متقین کو جنت کی طرف لے جانے کے لیے یہ لفظ کیوں استعمال کیا گیا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں یہ لفظ پہلے ”سیق“ کے ساتھ مشاکلت کے طور پر استعمال ہوا ہے، ورنہ یہاں اس لفظ سے مراد سختی سے لے جانا یا ہانکنا نہیں۔ اسے تجرید کہتے ہیں، یہاں اس سے مراد صرف لے جانا ہے۔ مقصد دونوں کو لے جانے کا باہمی فرق واضح کرنا ہے کہ اگرچہ دونوں کو لے جایا جائے گا، مگر کفار کو لے جانے میں سختی، دھکے اور اہانت و تذلیل ہوگی، جب کہ مومنوں کو اکرام کے ساتھ لے جایا جائے گا، جس کی دلیل بعد میں آنے والے الفاظ ’ وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا ‘ اور ”وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا ہیں۔ زُمَرًا : یہ جماعتیں درجات کے لحاظ سے ہوں گی، چناچہ سب سے بلند درجات والے پہلے داخل ہوں گے۔ (دیکھیے سورة واقعہ : 10) مثلاً انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین، اسی طرح درجہ بدرجہ جماعتیں جنت میں داخل ہوں گی۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَلِجُ الْجَنَّۃَ صُوْرَتُہُمْ عَلٰی صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ ، لَا یَبْصُقُوْنَ فِیْہَا وَ لاَ یَمْتَخِطُوْنَ وَ لَا یَتَغَوَّطُوْنَ ، آنِیَتُہُمْ فِیْہَا الذَّہَبُ ، أَمْشَاطُہُمْ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ، وَ مَجَامِرُہُمُ الْأُلُوَّۃُ ، وَرَشْحُہُمُ الْمِسْکُ ، وَ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ زَوْجَتَانِ ، یُرٰی مُخُّ سُوْقِہِمَا مِنْ وَرَاء اللَّحْمِ ، مِنَ الْحُسْنِ ، لَا اخْتِلاَفَ بَیْنَہُمْ وَ لَا تَبَاغُضَ ، قُلُوْبُہُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ، یُسَبِّحُوْنَ اللّٰہَ بُکْرَۃً وَ عَشِیًّا) [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ و أنھا مخلوقۃ : 3245 ] ”پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے، وہ نہ اس میں تھوکیں گے، نہ رینٹ پھینکیں گے اور نہ پاخانہ کریں گے۔ اس میں ان کے برتن سونے کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیاں ”اُلُوَّہ“ (جل کر خوشبو دینے والی ایک لکڑی) کی ہوں گی، ان کا پسینہ کستوری ہوگا، ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں وہ ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا مغز حسن کی وجہ سے گوشت کے پیچھے سے دکھائی دے گا، ان میں نہ کوئی اختلاف ہوگا، نہ ایک دوسرے سے کوئی بغض ہوگا، ان کے دل ایک دل ہوں گے، صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کریں گے۔“ صحیح مسلم میں اسی حدیث میں ہے : (أَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِيْ عَلٰی صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ عَلٰی أَشَدِّ نَجْمٍ فِی السَّمَاءِ إِضَاءَ ۃً ثُمَّ ہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ مَنَازِلُ) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمہا و أھلھا، باب أول زمرۃ تدخل الجنۃ۔۔ : 16؍2834 ] ”میری امت کی پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہوگی ان کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح ہوں گے، پھر جو ان کے بعد جائیں گے وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے، پھر اس کے بعد ان کے مختلف مراتب ہوں گے۔“ 3 جنتیوں کے گروہوں کی ایک تقسیم مختلف صالح اعمال میں خصوصیت کی بنا پر ہوگی، جن کی بنا پر انھیں مختلف دروازوں سے بلایا جائے گا۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : (مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَیْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْیَاءِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ یَعْنِي الْجَنَّۃَ یَا عَبْدَ اللّٰہِ ! ہٰذَا خَیْرٌ، فَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الصَّلاَۃِ دُعِيَ مِنْ بَاب الصَّلَاۃِ ، وَ مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْجِہَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِہَادِ ، وَ مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الصَّدَقَۃِ دُعِيَ مِنْ بَاب الصَّدَقَۃِ ، وَ مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الصِّیَامِ دُعِيَ مِنْ بَاب الصِّیَامِ ، وَ بَاب الرَّیَّانِ ، فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ مَا عَلٰی ہٰذَا الَّذِیْ یُدْعٰی مِنْ تِلْکَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُوْرَۃٍ ، وَ قَالَ ہَلْ یُدْعٰی مِنْہَا کُلِّہَا أَحَدٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ نَعَمْ ، وَ أَرْجُوْ أَنْ تَکُوْنَ مِنْہُمْ یَا أَبَا بَکْرٍ !) [ بخاري، باب فضائل أصحاب النبي ﷺ ، باب : 3666 ] ”جو شخص کسی چیز کا ایک جوڑا اللہ کے راستے میں خرچ کرے گا اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا، اے اللہ کے بندے ! یہ خیر ہے۔ تو جو شخص نماز والوں سے ہوگا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو جہاد والوں سے ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو صدقہ والوں سے ہوگا اسے صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزے والوں سے ہوگا اسے روزے کے دروازے اور باب الریان (سیرابی کے دروازے) سے بلایا جائے گا۔“ تو ابوبکر ؓ نے کہا : ”جس شخص کو ان دروازوں سے بلایا جائے اسے کوئی ضرورت تو نہیں، مگر یا رسول اللہ ! کیا کسی کو ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”ہاں ! اور میں امید کرتا ہوں کہ اے ابوبکر ! تم بھی ان میں سے ہو گے۔“ ۭ حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا : یہاں ”وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا“ سے پہلے ”واؤ“ لانے کا مطلب یہ ہے کہ متقین کی آمد پر جنت کے دروازے پہلے ہی کھول دیے گئے ہوں گے، جیسے کسی معظم و مکرم مہمان کے انتظار میں پہلے ہی دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں۔ اسی کو دوسری آیت میں صراحت کے ساتھ فرمایا : (جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ) [ ص : 50 ] ”ہمیشہ رہنے کے باغات، اس حال میں کہ ان کے لیے دروازے پورے کھولے ہوئے ہوں گے۔“ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فِي الْجَنَّۃِ ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابٍ ، فِیْہَا بَابٌ یُسَمَّی الرَّیَّانَ لاَ یَدْخُلُہُ إِلاَّ الصَّاءِمُوْنَ) [ بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ أبواب الجنۃ : 3257 ] ”جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ایک دروازے کا نام ریّان ہے، اس میں سے صرف خاص روزے دار داخل ہوں گے۔“ وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ۔۔ : کفار کے برعکس متقین کی جنت کے پاس آمد پر اس کے دربان فرشتے نہایت محبت کے ساتھ ان کا اکرام اور عزت افزائی کرتے ہوئے انھیں تین باتیں کہیں گے، پہلی یہ کہ تم پر سلام ہے، یعنی اب تم ہر تکلیف، غم اور خوف سے سلامت رہو گے۔ دوسری بات ”طِبْتُمْ“ ہے، اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ تم اس سے پہلے دنیا میں کفر و شرک سے پاک رہے، سو اس میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ رہنے والے، دوسرا یہ کہ اب تم ہر گناہ اور بری بات سے پاک ہوگئے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَخْلُصُ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ ، فَیُحْبَسُوْنَ عَلٰی قَنْطَرَۃٍ بَیْنَ الْجَنَّۃِ وَ النَّارِ ، فَیُقْتَصُّ لِبَعْضِہِمْ مِنْ بَعْضٍ ، مَظَالِمُ کَانَتْ بَیْنَہُمْ فِي الدُّنْیَا، حَتّٰی إِذَا ہُذِّبُوْا وَ نُقُّوْا أُذِنَ لَہُمْ فِيْ دُخُوْلِ الْجَنَّۃِ) [ بخاري، الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ : 6535 ] ”مومن آگ سے بچ کر نکلیں گے تو انھیں جنت اور آگ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، پھر انھیں ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کا بدلا دلایا جائے گا جو دنیا میں آپس میں ہوئیں، پھر جب خوب پاک صاف ہوجائیں گے تو انھیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔“ تیسری بات یہ کہیں گے کہ چونکہ تم پاک ہوچکے، سو اب تم جنت میں ہمیشہ رہنے والے بن کر داخل ہوجاؤ۔ جنت میں داخلہ ہی بہت بڑی بشارت ہے، اس کے ساتھ ہمیشگی کی بشارت کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ [ آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ ] 3 کفار کے متعلق جو فرمایا : ”اِذَا جَاۗءُوْهَا“ (جب وہ اس کے پاس آئیں گے) اس شرط کی جزا ”‘ وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا“ (تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے) ہے، مگر متقین کے متعلق تینوں جملے شرط کا حصہ ہیں ”‘، ”’ اِذَا جَاۗءُوْهَا“ اور ”وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا“ ان کی جزا حذف کردی گئی ہے، کیونکہ اس دنیا میں انسانی فکر اس کی بلندی تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ گویا عبارت یوں ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں داخل ہوجاؤ، پاکیزہ رہنے والے، تو مت پوچھو کہ وہ کس قدر خوش ہوں گے، کیونکہ تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ کتنی بڑی نعمت حاصل کریں گے۔
Ayah 39:74

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنادیا کہ ہم جنت میں سے جہاں چاہیں جگہ بنالیں۔ سو عمل کرنے والوں کا یہ اچھا اجر ہے۔

وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا : اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو اپنے رب کی حمد اور اس کا شکر ادا کریں گے اور اس بات کا اقرار و اعلان کریں گے کہ اس نے جو وعدہ کیا تھا : (اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ) [ الذاریات : 15 ] کہ بیشک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے (اور دوسری آیات مثلاً مریم : 63) وہ وعدہ اس نے پورا فرما دیا۔ مزید دیکھیے سورة اعراف (43، 44) اور سورة فاطر (33 تا 35)۔ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ : آدمی جس چیز کا وارث بنتا ہے اس کا پوری طرح مالک بن جاتا ہے، کوئی دوسرا اس پر دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ انھیں ان جگہوں کا بھی مالک بنایا جائے گا جو جہنم میں جانے والوں کی تھیں، اگر وہ نیک عمل کرتے اور یہ مالکانہ حقوق ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ : یہاں ایک سوال ہے کہ جنتی اگر چاہے تو کیا دوسرے اہل جنت کے گھروں میں اپنی جگہ بنا سکے گا ؟ اس کے جواب میں شاہ عبد القادر ؓ نے فرمایا : ”ان کو حکم ہے کہ جہاں چاہیں رہیں، لیکن ہر کوئی وہی جگہ چاہے گا جو اس کے واسطے پہلے سے رکھی ہے۔“ (موضح) اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر جنتی کے پاس اتنی جگہ ہوگی کہ اسے کسی اور کی جگہ لینے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ ابو سعید خدری ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کہ جہنم سے نکل کر جنت میں جانے والے شخص کو اللہ تعالیٰ زمین کے برابر اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا زیادہ جگہ عطا فرمائے گا۔ [ دیکھیے بخاري، الأذان، باب فضل السجود : 806 ] ظاہر ہے اتنی جگہ ہوتے ہوئے کسی دوسرے کی جگہ کی خواہش کوئی کمینہ شخص ہی کرے گا، جب کہ جنت میں کسی کمینگی یا کمینے شخص کی گنجائش ہی نہیں۔rnۚفَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ : یہ بات متقی کہیں گے یا فرشتے، یا یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
Ayah 39:75

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور تو فرشتوں کو دیکھے گا عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

وَتَرَى الْمَلٰۗىِٕكَةَ حَاۗفِّيْنَ۔۔ : یعنی جس وقت اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نزول فرمائے گا اس وقت فرشتے عرش کو اردگرد سے گھیرے ہوئے ہوں گے۔ اس منظر کو دوسرے مقام پر کچھ تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے : (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ) [ الحآقۃ : 13 تا 18 ] ”پس جب صور میں پھونکا جائے گا، ایک بار پھونکنا۔ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، پس دونوں ٹکرا دیے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔ تو اس دن ہونے والی ہوجائے گی۔ اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن کمزور ہوگا۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تمہاری کوئی چھپی ہوئی بات چھپی نہیں رہے گی۔“ سورة حاقہ میں ان آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ : یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنا ہی کافی تھا ”حَافِّیْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ“ کہ وہ عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہوں گے، پھر لفظ ”من“ لانے کی کیا ضرورت تھی ؟ اس کا جواب بعض مفسرین نے دیا ہے کہ یہ ”من“ زائد ہے۔ بقاعی نے فرمایا کہ یہ ”من“ تبعیض کے لیے ہے، یعنی فرشتے کتنی بھی تعداد میں ہوں عرش اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی مخلوق ہے کہ سب فرشتے مل کر بھی اس کے اردگرد کے کچھ حصے ہی پر گھیرا ڈال سکیں گے۔ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَقِّ : یعنی ایسے پر جلال اور پر ہیبت ماحول میں اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔ وَقِيْلَ الْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : یعنی لوگوں کے فیصلے کا اختتام اللہ رب العالمین کی حمد پر ہوگا۔ حمد کرنے والوں کے عام ہونے کی وجہ سے ”َقِيْلَ“ (کہا جائے گا) میں کہنے والے کا ذکر نہیں فرمایا۔ مطلب یہ کہ جب فیصلہ ہوچکے گا تو کائنات کا ذرہ ذرہ ان سراسر عدل اور رحم والے فیصلوں پر اللہ رب العالمین کی حمد کرے گا اور ہر طرف سے آواز آئے گی : (الْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“ طبری نے صحیح سند کے ساتھ قتادہ کا قول ذکر کیا ہے، انھوں نے فرمایا : ”مخلوق کی پیدائش کی ابتدا بھی حمد کے ساتھ ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ) [ الأنعام : 1 ] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیروں اور روشنی کو بنایا۔“ اور مخلوق کی انتہا بھی حمد ہے، فرمایا : (وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَقِّ وَقِيْلَ الْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [ الزمر : 75 ] ”اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“ (طبری) ہمارے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ ہر کام کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہونی چاہیے، جیسا کہ اہل جنت کے متعلق فرمایا : (دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [ یونس : 10 ] ”ان کی دعا ان میں یہ ہوگی ”پاک ہے تو اے اللہ !“ اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“ حمد کے متعلق مزید دیکھیے سورة فاتحہ کی تفسیر۔