Ayah 39:50قَدْ قَالَهَا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : یعنی ان کفار قریش اور ان کے زمانے اور بعد میں آنے والے کفار سے پہلے بھی بہت سے لوگوں کا یہی عقیدہ اور یہی کہنا تھا، جیسا کہ قارون کو اس کی قوم نے نصیحت کی تو اس نے کہا : (اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ ۭ) [ القصص : 78 ] ”(یہ سب کچھ) مجھے تو ایک علم کی بنا پر دیا گیا ہے۔“ قارون کے واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قصص (76 تا 82)۔
فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ : یعنی یہ کہنے والوں پر کہ ”ہمیں سب کچھ ہمارے علم کی بنا پر دیا گیا ہے“ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا، جیسا کہ قارون کو اس کے مال و محلات سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا، تو انھوں نے جو مال، اولاد کمائے تھے اور جو دنیوی مہارت حاصل کی تھی وہ ان کے کسی کام نہ آئی۔
Ayah 39:51فَاَصَابَهُمْ سَـيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا ۭ : ”سَـيِّاٰتُ“ سے مراد ان کے اعمال کے برے نتائج اور وبال ہیں، یعنی ان کے اعمالِ بد کے نتائج ان پر مختلف عذابوں کی صورت میں آپڑے۔
وَالَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰٓؤُلَاۗءِ۔۔ : یہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے اور بعد کے تمام کفار کو تنبیہ ہے کہ اگر پہلے لوگوں کی طرح وہ بھی ناشکری اور ظلم (کفر و شرک) سے باز نہ آئے تو ان کے اعمال کے برے نتائج بہت جلد ان پر آپڑیں گے۔
وَمَا هُمْ بِمُعْجِزِيْنَ : ”بِمُعْجِزِيْنَ“ کی باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”وہ ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہیں۔“ یعنی جب ان کے اعمال کے برے نتائج اور وبال مختلف عذابوں کی صورت میں ان پر آئے تو یہ نہ انھیں روک سکیں گے اور نہ کسی صورت یہ ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بےبس کرکے اس کی گرفت سے نکل کر بھاگ جائیں، یا چھپ جائیں۔ چناچہ ان میں سے جو زندہ رہے ان پر دنیا ہی میں قحط، خوف، جنگ، قید اور قتل کی صورت میں اللہ کے عذاب آئے اور فوت ہونے والوں کے لیے عذاب شدید انتظار میں ہے۔
Ayah 39:52اَوَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ۔۔ : پچھلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ موجودہ اور پہلے کفار کا دھوکے میں مبتلا ہونے کا باعث انھیں عطا ہونے والا مال اور دوسری نعمتیں ہیں۔ انھوں نے اپنی جہالت سے یہ سمجھا کہ مال و دولت کی کثرت ان کی اپنی مہارت و قابلیت اور علم و عقل کا نتیجہ ہے اور یہ ان کے حق پر ہونے کی اور اللہ تعالیٰ کے ان پر خوش ہونے کی دلیل ہے۔ فرمایا، نہ رزق کی کشادگی کسی شخص کے علم و عقل یا مہارت پر موقوف ہے نہ اس کا تنگ ہونا کسی کے علم و عقل یا مہارت کی کمی کی وجہ سے ہے اور نہ اس کی زیادتی یا کمی اللہ تعالیٰ کے خوش یا ناخوش ہونے کی دلیل ہے، بلکہ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مشیّت پر موقوف ہے، وہ جس کا رزق جب چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بد اور جب چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، نیک ہو یا بد اور اس کی حکمت اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اگر رزق علم و عقل اور مہارت و قابلیت پر موقوف ہوتا تو کوئی عالم و عاقل رزق کی تنگی میں مبتلا نہ ہوتا اور نہ ہی کسی جاہل یا کم عقل کو رزق یا دوسری نعمتوں کی فراوانی حاصل ہوتی۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ : یعنی رزق کی فراخی اور تنگی میں ایمان والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، کیونکہ اس سے وہی فائدہ اٹھاتے اور عبرت حاصل کرتے ہیں، کیونکہ وہی ایمان رکھتے ہیں کہ رزق فراخ کرنے والا اور اسے تنگ کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اور وہ یہ فیصلہ کسی کے نیک یا بد ہونے کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی حکمت و رحمت کے تحت کرتا ہے، کیونکہ وہ اپنے بندوں کا حال بہتر جانتا ہے۔ کبھی وہ اپنے بندے کا رزق تنگ کردیتا ہے کہ اگر اس کا رزق فراخ کردیا تو یہ سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے گا، کبھی اس کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ آیا وہ اس فقر و فاقہ میں صبر کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرتا اور اسے کوسنا شروع کردیتا ہے۔ کبھی وہ دل جوئی اور انعام کے طور پر یا حجت تمام کرنے کے لیے رزق فراخ کردیتا ہے۔
Ayah 39:53قُلْ۔۔ : سورت کی ابتدا سے یہاں تک مختلف طریقوں سے شرک کی تردید اور مشرکین کو وعید کا ایک لمبا سلسلہ چلا آ رہا ہے، جس کی پروا بظاہر کافر و مشرک لوگ نہیں کرتے، مگر اللہ تعالیٰ کے اس قدر پرزور کلام سے ان کے دلوں میں خوف کا پیدا ہونا ایک فطری چیز ہے، جو حد سے بڑھ جائے تو نتیجہ یاس اور ناامیدی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہر جگہ ڈرانے کے ساتھ بشارت کا بیان بھی ضرور فرماتا ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ اس کے بندے ناامید ہو کر اس کی جناب میں آنے کی جرأت ہی نہ کریں، اور بشارت اور ترغیب کے ساتھ ترہیب اور ڈرانے کا بیان بھی فرماتا ہے، تاکہ وہ بےخوف نہ ہوجائیں، جیسا کہ جراح نشتر بھی لگاتا ہے اور مرہم بھی رکھتا ہے، پھر پرہیز کی تاکید کرتا ہے اور بد پرہیزی کے انجام سے ڈراتا ہے، فرمایا : (نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ وَاَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ) [ الحجر : 49، 50 ] ”میرے بندوں کو خبر دے دے کہ بیشک میں ہی بیحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہوں۔ اور یہ بھی کہ بیشک میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔“ اور فرمایا : (وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ) [ الرعد : 6 ] ”اور بیشک تیرا رب یقیناً لوگوں کے لیے ان کے ظلم کے باوجود بڑی بخشش والا ہے اور بلاشبہ تیرا رب یقیناً بہت سخت سزا والا ہے۔“ یہاں بھی وعید کے لمبے سلسلے کے بعد اپنے بندوں کو ”لَا تَقْنَطُوْا“ کے ساتھ اپنی رحمت کی امید دلائی اور بعد کی آیات میں انھیں جلد از جلد توبہ کی تلقین فرما کر وقت ہاتھ سے نکلنے سے ڈرایا ہے۔
يٰعِبَادِيَ : بندے مومن ہوں یا کافر، سب اللہ کے بندے ہیں، اس لیے قرآن مجید میں ”عِبَادِيْ“ کا لفظ دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ مومن و کافر دونوں فریقوں کو اپنے بندے قرار دیا : (اِنَّهٗ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْ عِبَادِيْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا) [ المؤمنون : 109 ] ”بیشک حقیقت یہ ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے۔“ اور کفار کو اپنے بندے کہا : (وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ) [ الفرقان : 17 ] ”اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے ؟“ اور دیکھیے سورة زمر (16) مگر اس کا اکثر استعمال اللہ کے مخلص اور مومن بندوں کے لیے ہوا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ) [ الحجر : 42 ] ”بیشک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں۔“
الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ : اس آیت میں ”يٰعِبَادِيَ“ سے مراد قرآن مجید کے اکثر استعمال کے خلاف کفار و مشرکین ہیں، اس کی دلیل اس کے بعد کی آیات ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَاَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ) [ الزمر : 54 ] ”اور اس کے مطیع ہوجاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے، پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔“ اور ان کا یہ کہنا : (وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ) [ الزمر : 56 ] ”اور بیشک میں تو مذاق کرنے والوں سے تھا۔“ اور یہ آیت : (بَلٰى قَدْ جَاۗءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ) [ الزمر : 59 ] ”کیوں نہیں، بیشک تیرے پاس میری آیات آئیں تو تو نے انھیں جھٹلایا اور تکبرّ کیا اور تو انکار کرنے والوں میں سے تھا۔“
صحیح بخاری میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیات کچھ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئیں، چناچہ انھوں نے فرمایا : (أَنَّ نَاسًا مِنْ أَہْلِ الشِّرْکِ کَانُوْا قَدْ قَتَلُوْا وَ أَکْثَرُوْا، وَ زَنَوْا وَ أَکْثَرُوْا، فَأَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَقَالُوْا إِنَّ الَّذِيْ تَقُوْلُ وَ تَدْعُوْ إِلَیْہِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا کَفَّارَۃً ، فَنَزَلَ : (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ) [ الفرقان : 68 ] وَ نَزَلَ : (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ) [ الزمر : 53 ]) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (یا عبادی الذین أسرفوا۔۔) : 4810 ] ”مشرکین میں سے کچھ لوگ جنھوں نے قتل کیے تھے اور بہت کیے تھے اور زنا کیا تھا اور بہت کیا تھا، پھر وہ محمد ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ”آپ جو بات کہتے ہیں اور جس کی دعوت دیتے ہیں یقیناً وہ بہت اچھی ہے، اگر آپ ہمیں بتائیں کہ ہم نے جو کچھ کیا اس کا کوئی کفارہ ہے ؟“ تو یہ آیت اتری : (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ) [ الفرقان : 68 ] ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور اس جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔“ [ یعنی اس کے بعد کی آیات میں ہے : (اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰۗىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَـيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) [ الفرقان : 70 ] ”مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا نیک عمل، تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ سے بیحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“] اور یہ آیت اتری : (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ) ”کہہ دے اے میرے بندو ! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ۔“
”اسراف“ کا معنی کسی بھی چیز میں حد سے گزرنا ہے، عموماً اس کا استعمال خرچ کرنے میں ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا) [ الفرقان : 67 ] ”اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں۔“ یہاں اس سے مراد کفر و شرک کرکے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی ہے۔ ”عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ“ کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری زیادتی کا نقصان تم ہی کو ہے، اللہ تعالیٰ کو یا کسی اور کو نہیں، اس لیے اس زیادتی کے مداوے کی فکر بھی تمھی کو ہونی چاہیے، جیسا کہ فرمایا : (يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ) [ یونس : 23 ] ”اے لوگو ! تمہاری سرکشی تمہاری جانوں ہی پر ہے۔“
لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ : ”قَنِطَ یَقْنَطُ قُنُوْطًا“ (ع، ض) ناامید ہونا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کئی طرح سے گناہوں کی بخشش کی امید دلائی ہے۔ تفسیر رازی نے وہ دس وجہیں بیان کی ہیں :
1 ”يٰعِبَادِيَ“ (اے میرے بندو !) بندہ غلام کو کہتے ہیں۔ غلام بےچارہ مسکین، عاجز اور محتاج ہوتا ہے، اس کی مسکنت اور بےچارگی اسے مالک کے رحم و کرم کا حق دار بناتی ہے۔
2 اللہ تعالیٰ نے ”يٰعِبَادِيَ ‘ (اے میرے بندو !) کہہ کر ان کی نسبت اپنی طرف فرمائی اور جسے اللہ تعالیٰ اپنا کہہ دے اس کے ناامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ“ کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے جو گناہ کیے ان کا نقصان انھی کو ہے، اللہ تعالیٰ کا اس سے کچھ نہیں بگڑا، اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ وہ ان کی توبہ قبول نہ کرے۔
لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ“ میں صریح الفاظ کے ساتھ ناامید ہونے سے منع فرمایا۔
5 ”يٰعِبَادِيَ“ (اے میرے بندو !) کے ساتھ خطاب کے بعد کلام کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا : ”لَا تَقْنَطُْوْا مِنْ رَّحْمَتِيْ“ (کہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ) مگر ”مِنْ رَّحْمَتِيْ“ کے بجائے فرمایا : ”مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ“ (اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ) کیونکہ لفظ ”اللہ“ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سب سے بڑا اور اس کی تمام صفات کا جامع نام ہے۔ تمام صفات کمال کی جامع ہستی سے ناامید ہونا کسی طرح بھی جائز نہیں۔
6 اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ : کہنا تو یہ تھا کہ ”إِنَّہُ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ“ (بیشک وہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) مگر دوبارہ اپنا نام لے کر فرمایا : ”اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ“ (کہ بیشک اللہ تعالیٰ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) دوبارہ اپنا گرامی قدر نام ذکر کرنے اور ”ان ‘ کے ساتھ اس کی تاکید سے مغفرت کے وعدے میں مبالغے کا اظہار ہو رہا ہے۔
7 جَمِيْعًا ‘ میں الف لام استغراق کے لیے ہے، اس لیے تمام گناہوں کی مغفرت کے وعدے کے لیے ”الذُّنُوْبَ“ ہی کافی تھا، مگر ”جَمِيْعًا“ کے ساتھ مزید تاکید فرما دی کہ اللہ تعالیٰ توبہ کے ساتھ تمام گناہ، حتیٰ کہ شرک جیسے اکبر الکبائر کو بھی بخش دیتا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں ”اَنِيْبُوْٓا“ اور ”اَسْلِمُوْا“ وغیرہ الفاظ کے ساتھ وضاحت آرہی ہے۔
8 اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ ‘ ”غَفَرَ یَغْفِرُ“ کا اصل معنی پردہ ڈالنا ہے اور ”الْغَفُوْرُ“ اس سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کے گناہوں پر بہت زیادہ پردہ ڈالنے والا ہے۔ یہ عذاب کا باعث بننے والی چیزوں کو دور کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
9 ”الرَّحِيْمُ“ ”رُحْمٌ“ سے مبالغے کا صیغہ ہے کہ وہ بیحد رحم کرنے والا ہے۔ یہ مغفرت کے بعد مزید رحمت کے نتیجے میں عطا ہونے والی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان دونوں کا فرق شعراوی نے ایک مقام پر ایک مثال کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی ہے، اگرچہ یہ مکمل نہیں ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی چور کو چوری کرتے ہوئے پکڑ لیتا ہے، اب وہ اسے سزا دے یا دلوا سکتا ہے، مگر وہ اس کی منتوں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کے وعدے کی وجہ سے اس کی چوری پر پردہ ڈال دیتا ہے اور کسی کو اس کی اطلاع نہیں دیتا، یہ مغفرت ہے۔ پھر وہ اس کی حالت زار پر رحم کرتے ہوئے اسے کچھ رقم دے کر کاروبار میں کھڑا کردیتا ہے، یہ اس پر رحم ہے۔
اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ ‘ میں ”ھو“ ضمیر فصل اور خبر ”الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ“ پر الف لام کی وجہ سے کلام میں تاکید اور حصر پیدا ہوگیا۔ یعنی اس کے سوا کوئی نہ غفور ہے نہ رحیم، اس سے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے کمال کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ تمام وجوہ اللہ تعالیٰ کی کمال مغفرت و رحمت پر اور بندوں کے اس سے کسی حال میں بھی ناامید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان میں سے وافر حصہ عطا فرمائے۔ (آمین)
اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا۔۔ : ”وَاَنِيْبُوْٓا اِلٰى رَبِّكُمْ“ اور بعد کی آیات سے ظاہر ہے کہ یہ وعدہ صرف ان لوگوں سے ہے جو توبہ کریں۔ ابن کثیر ؓ نے بھی یہی تفسیر اختیار فرمائی ہے، کیونکہ اگر وہ کافر و مشرک ہے تو کفر و شرک سے توبہ کرنے اور اسلام قبول کرنے کے بغیر اس کی بخشش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر وہ مسلمان ہے تو اس کے تمام گناہوں کی معافی کا وعدہ توبہ یا اس کے قائم مقام اعمال کے ساتھ ہے، ورنہ اس کی بخشش اللہ تعالیٰ کی مشیّت پر موقوف ہے، وہ جسے چاہے گا بخش دے گا، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ) [ النساء : 116 ] ”بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔“ اگر یہ کہا جائے کہ ہر مسلمان کے تمام گناہ توبہ کے بغیر معاف ہوجائیں گے تو شریعت کے احکام کی کوئی وقعت باقی نہیں رہتی۔ البتہ اس بات میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس مسلمان کے گناہ چاہے گا سزا دیے بغیر معاف کر دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا، مگر آخر کار ہر موحّد مسلمان کو جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ اس وقت کفار خواہش کریں گے کہ کاش ! وہ بھی مسلمان ہوتے، خواہ کسی درجے کے ہوتے، کیونکہ کفار پر اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتیں حرام کردی ہیں۔ دیکھیے سورة حجر کی آیت (2) کی تفسیر۔ اگر بخشش کا یہ معنی کیا جائے کہ آخر کار تمام مسلمان جنت میں جائیں گے تو ”اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا“ (بےشک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) سے صرف کافر مستثنیٰ ہوں گے کہ ان کے گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوں گے۔
3 اس آیت اور بعد کی آیات سے اللہ تعالیٰ کی بےانتہا رحمت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کو کس قدر معاف فرمانے والا ہے۔ سورة فرقان (69، 70) میں شرک، قتل ناحق اور زنا کرنے والوں کے ساتھ توبہ، ایمان اور عمل صالح کے بعد ان کی گزشتہ برائیوں کو نیکیوں میں بدل دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس لیے کسی بندے کو اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے، خواہ اس کے گناہوں سے زمین و آسمان بھرے ہوئے ہوں۔ صرف اللہ کی طرف پلٹنے اور اس کے سامنے اعتراف کے بعد توبہ کی ضرورت ہے، وہ سب گناہ معاف فرما دے گا، کیونکہ اسے اپنے بندوں کی توبہ بہت ہی محبوب ہے۔ چناچہ ارشاد ہے : (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ) [ التوبۃ : 104 ] ”کیا انھوں نے نہیں جانا کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ اور فرمایا : (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) [ النساء : 110 ] ”اور جو بھی کوئی برا کام کرے، یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے وہ اللہ کو بیحد بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔“ منافقین کے متعلق فرمایا : (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ نَصِيْرًا اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا) [ النساء : 145، 146 ] ”بیشک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور تو ہرگز ان کا کوئی مدد گار نہ پائے گا۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی۔“ اور فرمایا : (لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘوَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّآ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭوَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ) [ المائدۃ : 73 ] ”بلاشبہ یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بیشک اللہ تین میں سے تیسرا ہے، حالانکہ کوئی بھی معبود نہیں مگر ایک معبود، اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو یقیناً ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا انھیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا۔“ پھر انھی کے متعلق فرمایا : اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) [ المائدۃ : 74 ] ”تو کیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے، اور اللہ بیحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“
ابن کثیر ؓ نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے ”قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ“ کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی مغفرت کی دعوت دی جنھوں نے کہا مسیح خود اللہ ہے اور جنھوں نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے اور جنھوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور جنھوں نے کہا اللہ فقیر ہے اور جنھوں نے کہا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے اور جنھوں نے کہا اللہ تین میں تیسرا ہے، ان سب سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) [ المائدۃ : 74 ] ”تو کیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے، اور اللہ بیحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ پھر اسے بھی توبہ کی دعوت دی جس نے ان سے بھی بڑی بات کہی : (فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) [ النازعات : 24 ] ”میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں۔“ اور جس نے کہا : (مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ) [ القصص : 38 ] ”میں نے اپنے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں جانا۔“ چناچہ فرمایا : (وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى) [ طٰہٰ : 82 ] ”اور بیشک میں یقیناً اس کو بہت بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر چلے۔“ ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”جو شخص اس کے بعد بھی اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے اس نے اللہ کی کتاب کا انکار کیا، لیکن بندہ توبہ نہیں کرسکتا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس پر مہربانی فرمائے۔“ مسلمانوں کو آگ سے بھری ہوئی خندقوں میں ڈالنے والوں (اصحاب الاخدود) کے متعلق فرمایا : (اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ) [ البروج : 10 ] ”یقیناً وہ لوگ جنھوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آزمائش میں ڈالا، پھر انھوں نے توبہ نہیں کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔“ حسن بصری ؓ نے فرمایا : ”اس جود و کرم کو دیکھو ! ان لوگوں نے اس کے دوستوں کو قتل کیا اور وہ انھیں توبہ اور مغفرت کی دعوت دے رہا ہے۔“ (ابن کثیر)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کی بہت سی آیات ہیں۔ احادیث صحیحہ میں ننانوے آدمیوں کے بعد سوویں آدمی کے قاتل کی توبہ کا ذکر معروف ہے، جسے نیک لوگوں کی بستی کی طرف جاتے ہوئے راستے میں موت آگئی۔ [ دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل، إن کثر قتلہ : 2766 ] اسی طرح اللہ تعالیٰ کا بندے کی توبہ پر اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہونے کا ذکر ہے جو اپنی گم شدہ اونٹنی ملنے پر خوشی کی شدت میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے بےاختیار کہہ اٹھتا ہے : ”یا اللہ ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب“ اور خوشی کی شدت میں خطا کرجاتا ہے۔ [ دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب في الحض علی التوبۃ والفرح بھا : 2747 ] اسی طرح اس بندے کا ذکر ہے جس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ وہ اس کے فوت ہونے کے بعد اس کی لاش کو جلا کر اس کی راکھ کچھ پانی میں بہا دیں اور کچھ ہوا میں اڑا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کرکے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ تو اس نے کہا : ”یا اللہ ! تیرے ڈر سے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ [ دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ۔۔ : 2756 ] پھر اللہ تعالیٰ کا یہ بھی کرم ہے کہ بندہ جتنی بار بھی گناہ کرے، پھر اس کے بعد جتنی بار توبہ کرے وہ معاف فرما دیتا ہے، ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَال اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی أَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَہُ رَبًّا یَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ یَأْخُذُ بالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ ! اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی عَبْدِيْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَہُ رَبًّا یَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ یَأْخُذُ بالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ ! اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی أَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَہُ رَبًّا یَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ یَأْخُذُ بالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِءْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکَ) [ مسلم، التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب۔۔ : 2758 ] ”ایک بندے نے گناہ کیا، پھر اس نے کہا : ”اے میرے رب ! مجھے میرا گناہ بخش دے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا، پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔“ پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا اور کہا : ”اے میرے رب ! مجھے میرا گناہ بخش دے۔“ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔“ پھر ایک بار اور اس نے گناہ کیا اور کہا : ”اے میرے رب ! مجھے میرا گناہ بخش دے۔“ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ”میرے بندے نے گناہ کیا پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔ (میرے بندے !) تو جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا۔“
Ayah 39:54وَاَنِيْبُوْٓا اِلٰى رَبِّكُمْ۔ : ”أَنَابَ یُنِیْبُ إِنَابَۃً“ رجوع کرنا، پلٹ آنا۔ ”تَابَ یَتُوْبُ“ کا معنی بھی یہی ہے۔ چونکہ یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئیں جو حالت کفر میں اپنے کیے ہوئے گناہوں کی وجہ سے اسلام لانے سے ہچکچا رہے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں مخاطب کرکے فرمایا کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ مگر ساتھ ہی تاکید فرمائی کہ اس کے لیے تمہیں موت سے پہلے پہلے کفر سے توبہ کرنا ہوگی، کیونکہ اس کے بعد توبہ کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی پھر کوئی تمہاری مدد کرے گا۔ ہاں ! تم کفر سے توبہ کرلو تو تمہارے پہلے سب گناہ بخش دیے جائیں گے۔ عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں : (فَلَمَّا جَعَلَ اللّٰہُ الْإِسْلَامَ فِيْ قَلْبِيْ أَتَیْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَقُلْتُ ابْسُطْ یَمِیْنَکَ فَلِأُبَایِعْکَ فَبَسَطَ یَمِیْنَہُ قَالَ فَقَبَضْتُ یَدِيْ قَالَ مَا لَکَ یَا عَمْرُو ! ؟ قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ ، قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا ؟ قُلْتُ أَنْ یُغْفَرَ لِيْ ، قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَ أَنَّ الْہِجْرَۃَ تَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہَا وَ أَنَّ الْحَجَّ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ ؟) [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ۔۔ : 121 ] ”جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام ڈالا، تو میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا : ”اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیے، تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔“ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”عمرو ! تمہیں کیا ہوا ؟“ میں نے کہا : ”میں نے ارادہ کیا ہے کہ شرط کرلوں۔“ آپ نے فرمایا : ”تم کیا شرط کرو گے ؟“ میں نے کہا : ”یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”کیا تمہیں معلوم نہیں ہوا کہ اسلام ان چیزوں کو گرا دیتا ہے جو اس سے پہلے ہوئی ہوں اور ہجرت ان چیزوں کو گرا دیتی ہے جو اس سے پہلے ہوئی ہوں اور حج ان چیزوں کو گرا دیتا ہے جو اس سے پہلے ہوئی ہوں ؟“
Ayah 39:55وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ۔۔ : یہاں ”اَحْسَنَ“ کی اضافت ”مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ“ کی طرف اضافت بیانیہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی قرآن و حدیث کی پیروی کرو، جو ساری کی ساری ہی احسن اور دوسرے ہر کلام سے اچھی ہے، فرمایا : (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ) [ الزمر : 23 ] ”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے۔“ مزید تفصیل سورة زمر کی آیات (17، 18) کی تفسیر میں دیکھیے۔
مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً : اچانک عذاب سے اس لیے ڈرایا کہ اس میں نہ سنبھلنے کی مہلت ملے گی نہ توبہ کی، اس لیے جلد از جلد اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی اختیار کرلو، اس سے پہلے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت تم پر اچانک آجائے، جب کہ تم سوچتے بھی نہ ہو، کیونکہ عذاب آنے کے بعد کی جانے والی توبہ قبول نہ ہوگی۔ مزید دیکھیے سورة نساء (18) ، یونس (51 اور 90، 91) اور سورة مومن (84، 85)۔
Ayah 39:56اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى۔۔ : ”ان“ سے مراد ”لِءَلَّا“ ہے، جیسا کہ سورة نحل کی آیت (15) میں ہے : (وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ“ ”اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے، تاکہ وہ تمہیں ہلا نہ دے۔“ ”يّٰحَسْرَتٰى‘ اصل میں ”حَسْرَۃٌ“ یائے متکلم کی طرف مضاف ہے، جسے ”الف“ میں بدل دیا ہے۔ حسرت شدید پشیمانی اور افسوس کو کہتے ہیں، ہائے میرا افسوس ! ”فَرَّطْتُّ“ ”فَرَّطَ یُفَرِّطُ تَفْرِیْطًا“ کوتاہی کرنا اور ”أَفْرَطَ یُفْرِطُ إِفْرَاطًا“ زیادتی کرنا۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ اس وقت کوئی شخص یہ کہے کہ ہائے میرا افسوس ! میری اس کوتاہی اور نافرمانی پر جو میں ساری کائنات کے خالق ومالک اللہ تعالیٰ کی جناب میں اس کے سامنے کرتا رہا، جو کسی چیز سے بیخبر نہیں۔
وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ : ”ان“ اصل میں ”إِنِّيْ“ ہے۔ ”إِنَّ“ کے نون کو ساکن اور اس کے اسم ”یائے متکلم“ کو حذف کردیا۔ دلیل اس کی ”لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ ‘ پر آنے والا لام ہے، اور بیشک میں تو مذاق کرنے والوں سے تھا۔ یعنی افسوس ! میں نے صرف نافرمانی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دوسروں کے ساتھ مل کر مذاق اڑانے میں بھی شریک رہا۔ ظاہر ہے اجتماعی طور پر مذاق اڑانے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اور زیادہ مخالفت ہے۔ اس آیت سے بھی واضح ہے کہ ”قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا“ سے لے کر سلسلہ کلام کفار کے متعلق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور قیامت کا مذاق وہی اڑاتے ہیں۔ مومن کیسا بھی بدعمل ہو اس کا ایمان اسے مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دیتا۔
Ayah 39:57اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِي۔۔ : یعنی ایسا نہ ہو کہ جب کوئی اور عذر نہ ملے تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ دے کہ اس نے مجھے ہدایت نہیں دی، اگر وہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔ یہ وہی بات ہے جو زندگی میں کفار کہتے رہے : (لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكْنَا وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ ۭ) [ الأنعام : 148 ] ”اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے اور نہ ہم کوئی چیز حرام کرتے۔“ دیکھیے سورة انعام (148) اور سورة نحل (35) کی تفسیر۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اور قرآن بھیج کر اپنی حجت تمام کردی۔
Ayah 39:58اَوْ تَـقُوْلَ حِيْنَ تَرَى الْعَذَابَ۔۔ : پچھلی آیت کے ضمن میں کفار کے اللہ تعالیٰ پر اس جھوٹ کا ذکر تھا کہ اس نے انھیں ہدایت نہیں دی، اس آیت کے ضمن میں ان کے ایک اور جھوٹ کا ذکر ہے کہ اس نے انھیں نیک بننے کے لیے وقت نہیں دیا، اگر انھیں دوبارہ بھیجا جائے تو وہ نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہوجائیں گے۔ چناچہ وہ عذاب دیکھ کر دنیا میں ایک دفعہ واپس جانے کی ناکام تمنا کریں گے۔ (دیکھیے انعام : 27، 28) طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے وہ بات جو بندے کہنے والے ہیں، ان کے کہنے سے پہلے بتادی ہے اور (دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی صورت میں) وہ جو کچھ کرنے والے ہیں ان کے کرنے سے پہلے بتادیا ہے اور فرمایا : (وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ) [ فاطر : 14 ] ”اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔“ یعنی وہ کہیں گے ”يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ“ یا یہ کہیں گے ”لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِيْ لَكُنْتُ“ یا کہیں گے ”لَوْ اَنَّ لِيْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ“ ”الْمُحْسِنِيْنَ“ سے مراد ”اَلْمُھْتَدِیْنَ“ یعنی ہدایت یافتہ لوگ ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتادیا کہ اگر انھیں دوبارہ بھیجا گیا تو پھر بھی ہدایت نہیں پاسکیں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ) [ الأنعام : 28 ] ”اور اگر انھیں واپس بھیج دیا جائے تو ضرور پھر وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور بلاشبہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔“ اور فرمایا : (وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ) [ الأنعام : 110 ] ”اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے، جیسے وہ اس پر پہلی بار ایمان نہیں لائے۔“ یعنی جس طرح وہ پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے، اگر انھیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تب بھی ان کے اور ہدایت کے درمیان رکاوٹ حائل رہے گی، جیسا کہ پہلی مرتبہ حائل رہی جب وہ دنیا میں تھے۔“
Ayah 39:59بَلٰى قَدْ جَاۗءَتْكَ اٰيٰتِيْ۔۔ : لفظ ”اٰيٰتِيْ“ (کیوں نہیں) اس شخص کی تردید کے لیے کہا جاتا ہے جو کسی ثابت شدہ چیز کی تردید کر رہا ہو۔ کفار کے قول ”لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ“ (اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیزگاروں میں سے ہوتا) کے ضمن میں یہ بات موجود ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت نہیں دی اور ”لَوْ اَنَّ لِيْ كَرَّةً“ کے ضمن میں یہ بات موجود ہے کہ اس نے انھیں وقت نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کیوں نہیں، میری آیات تیرے پاس آئیں (یعنی میں نے اپنی آیات کے ذریعے سے تجھے ہدایت دی اور وقت بھی دیا) مگر تو نے انھیں جھٹلا دیا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں شامل رہا، جیسا کہ قوم ثمود کے متعلق فرمایا : (وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى) [ حٰآ السجدۃ : 17 ] ”اور جو ثمود تھے ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا، مگر انھوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنے کو پسند کیا۔“
Ayah 39:60وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا۔۔ : اللہ پر جھوٹ باندھنے میں اگرچہ اس کے ساتھ شرک کرنا، اس کے لیے بیوی یا اولاد قرار دینا، اپنے آپ کو اس کا محبوب قرار دینا اور ان کے علاوہ دوسرے سب جھوٹ شامل ہیں، مگر آیات کے سیاق کے لحاظ سے اس کے اولین مصداق وہ دو جھوٹ ہیں جو اس سے پہلی آیات کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں، یعنی ایک ان کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت نہیں دی اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت نہیں دی۔
وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ: قیامت کے دن کفار کے چہروں کے سیاہ ہونے کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (106، 107) ، یونس (27) اور عبس (40 تا 42)۔
اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِيْنَ : ”مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِيْنَ“ ثَوٰی یَثْوِيْ بالْمَکَانِ وَ أَثْوٰی فِیْہِ“ کسی جگہ میں رہنا، جیسا کہ سورة قصص میں ہے : (وَمَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِيْٓ اَهْلِ مَدْيَنَ) [ القصص : 45 ] ”اور تو اہل مدین میں رہنے والا نہیں تھا۔“ اس سے معلوم ہوا جہنم میں جانے کا باعث ان کا تکبر ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں تھے اور حق معلوم ہونے کے باوجود انھوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا اور ان کے چہرے سیاہ ہونے کا باعث بھی یہی تکبر ہوگا، کیونکہ متکبر کا چہرہ بگاڑنے ہی سے اس کا تکبر ٹوٹتا ہے۔ (ابن عاشور)
عبد اللہ بن مسعود ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہُ حَسَنًا وَ نَعْلُہُ حَسَنَۃً ، قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ ، الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ) [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : 91 ] ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہوگا۔“ ایک آدمی نے کہا : ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کا جوتا اچھا ہو (کیا یہ بھی تکبر ہے) ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ بہت جمال والا ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے، تکبر تو حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“ عبداللہ بن عمرو ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَال الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاہُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَہَنَّمَ یُسَمَّی بُوْلَسَ تَعْلُوْہُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَہْلِ النَّارِ طِیْنَۃِ الْخَبَالِ) [ ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب ما جاء في شدۃ الوعید المتکبرین : 2492، قال الترمذي حسن صحیح وقال الألباني حسن ]”متکبر لوگ قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح آدمیوں کی شکلوں میں اٹھائے جائیں گے، ہر جگہ سے ذلت انھیں ڈھانک رہی ہوگی، پھر وہ جہنم میں ایک قید خانے کی طرف ہانک کرلے جائے جائیں گے، جس کا نام ”بولس“ ہے۔ آگوں کی آگ (سب سے بڑی آگ) ان پر چڑھی ہوگی، انھیں آگ والوں کا نچوڑ ”طینۃ الخبال“ پلایا جائے گا۔“ [ أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ ]
Ayah 39:61وَيُنَجِّي اللّٰهُ الَّذِيْنَ اتَّــقَوْا۔۔ : متکبرین کا انجام بیان فرمانے کے بعد متقین کا انجام بیان فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ تکبر کے منافی ہے، کیونکہ تقویٰ اللہ کی نافرمانی سے بچنے اور اس کے سامنے عاجز ہوجانے کا نام ہے، جیسا کہ فرمایا : (تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۭ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ) [ القصص : 83 ]”یہ آخری گھر، ہم اسے ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو نہ زمین میں کسی طرح اونچا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ کسی فساد کا اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔“
: ”بِمَفَازَتِهِمْ مَفَازَۃٌ“ ”فَازَ یَفُوْزُ فَوْزًا“ سے مصدر میمی ہے ”کامیابی“ یا ظرف مکان ہے ”کامیابی کی جگہ“ یعنی اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو (دنیا کی امتحان گاہ میں) کامیاب ہونے کی وجہ سے جہنم سے نجات عطا فرمائے گا، یا اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو ان کے کامیاب ہونے کی جگہ (جنت میں داخلے) کے ساتھ نجات عطا فرمائے گا، جیسا کہ فرمایا : (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ) [ آل عمران : 185 ] ”پھر جو شخص آگ سے دور کردیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو یقیناً وہ کامیاب ہوگیا۔“
لَا يَمَسُّهُمُ السُّوْۗءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ : یعنی نہ آئندہ انھیں کوئی تکلیف یا برائی پہنچے گی۔ چناچہ نہ ان پر کوئی خوف آئے گا اور نہ ہی انھیں دنیا میں گزرے ہوئے صدموں یا پریشانیوں کا کوئی غم رہے گا، کیوں کہ جنت کا ایک ہی پھیرا انھیں دنیا کے تمام رنج و غم بھلا دے گا۔
Ayah 39:62اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ۔۔ : اہل توحید کے لیے وعدے اور مشرکین کے لیے وعید کے بعد دوبارہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور رد شرک کے دلائل کا ذکر شروع فرمایا۔ ابن عاشور نے فرمایا : ”وَّهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ“ اور اس کے بعد والے دو جملے ”قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ اَعْبُدُ اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ“ کی تمہید ہیں اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دلیل ہیں۔ پہلا جملہ ”اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۡ“ ہے، ظاہر ہے کہ جب ہر چیز پیدا اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے تو عبادت بھی اسی کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود برحق ہونے کی دلیل کے طور پر اپنے ہر چیز کے خالق ہونے کو جا بجا بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (102) ، رعد (16) ، فاطر (3) ، مومن (62) اور سورة حج (73)۔
وَّهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ : ”وَکَلَ یَکِلُ“ (ض) سپرد کرنا۔ ”وکیل“ جس کے سپرد کوئی چیز کی جائے کہ وہ اس کی حفاظت اور نگرانی کرے اور اس میں جو چاہے کرے۔ یہ اکیلے اللہ کی عبادت کی دوسری دلیل ہے، یعنی جس طرح ہر چیز کو پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح ہر چیز کی تدبیر و حفاظت کرنے والا بھی صرف اللہ تعالیٰ ہے، نہ کسی چیز کے پیدا کرنے میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ اس کی حفاظت و تدبیر میں۔ اس لیے اپنی ہر چیز اور ہر کام اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کا حکم قرآن میں بار بار آیا ہے، فرمایا : (وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ) [ آل عمران : 122 ] ”اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔“ اور فرمایا : (وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ) [ إبراہیم : 12 ] ”اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ بھروسا کرنے والے بھروسا کریں۔“
Ayah 39:63لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ:”مَقَالِيْدُ“ ”مِقْلَدٌ“ یا ”مِقْلَادٌ“ کی جمع ہے، جس طرح قلادہ (ہار یا پٹا) گردن کے ساتھ ہوتا ہے اسی طرح چابی تالے کے ساتھ ہوتی ہے۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ ”إِقْلِیْدٌ“ کی جمع ہے اور عام قاعدے کے خلاف ہے۔ ”إِقْلِیْدٌ“ دراصل فارسی لفظ ”کلید“ سے عربی بنایا گیا ہے۔ یعنی زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیاں بھی اسی کے پاس ہیں، کسی اور کے پاس کچھ ہے ہی نہیں، تو اسے پکارنے اور اس سے فریاد کرنے کا کیا فائدہ ؟ یہ اکیلے اللہ کے مستحق عبادت ہونے کی تیسری دلیل ہے۔
وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ۔۔ : یہاں ایک سوال ہے کہ ”واؤ“ کے ساتھ عطف کس جملے پر ڈالا گیا ہے ؟ زمخشری نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس کا عطف ”وَيُنَجِّي اللّٰهُ الَّذِيْنَ اتَّــقَوْا“ پر ہے اور درمیان کے جملے معترضہ ہیں۔ مگر اتنی دور عطف محل نظر ہے۔ بقاعی نے فرمایا، اس کا عطف ایک مقدر جملے پر ہے جو سیاق سے ظاہر ہو رہا ہے : ”أَيْ فَالَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ تَقَبَّلُوْا آیَاتِہِ أُوْلٰءِکَ ھُمُ الْفَاءِزُوْنَ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بآیَات اللّٰہِ ھُمُ الْخَاسِرُوْنَ“ ”تو جو لوگ ایمان لے آئے اور اس کی آیات کو قبول کرلیا یہی لوگ کامیاب ہیں اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔“ ”ھم“ ضمیر فصل کی وجہ سے اور ”الخاسرون“ خبر پر الف لام کی وجہ سے کلام میں تاکید اور حصر پیدا ہوگیا، یعنی خسارہ اٹھانے والے صرف وہ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کردیا۔ گویا اس کے علاوہ اگر کوئی خسارہ ہے بھی تو فی الحقیقت خسارہ نہیں ہے، کیونکہ وہ عارضی خسارہ ہے۔ اسی طرح حقیقی کامیابی صرف آخرت کی کامیابی ہے، کیونکہ وہی دائمی اور پائیدار کامیابی ہے، فرمایا : (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۭ) [ آل عمران : 185 ] ”پھر جو شخص آگ سے دور کردیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو یقیناً وہ کامیاب ہوگیا۔“ ”اللہ کی آیات“ سے مراد اس کے وجود اور وحدانیت کے دلائل ہیں جو گزشتہ آیات، خصوصاً اس سے پہلے تین جملوں میں بیان ہوئے ہیں۔
Ayah 39:64قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ اَعْبُدُ : ”قل“ کے بعد جملہ ”فاء“ سے شروع ہوتا ہے، مگر ہمزہ استفہام چونکہ کلام کی ابتدا میں ہوتا ہے، اس لیے ”فاء“ کو اس کے بعد کردیا ہے، اسی طرح جملہ فعلیہ کا آغاز فعل ”تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ“ سے ہونا تھا اور ”غَیْرَ اللّٰہِ“ کو ”اعبد“ کے بعد ہونا تھا، مگر ”غَیْرَ اللّٰہِ“ کی تحقیر کو نمایاں کرنے کے لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔ یعنی جب ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور وہی ہر چیز پر نگران ہے اور اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں تو پھر کیا اس کے ہوتے ہوئے تم مجھے اس کے غیر کی عبادت کا حکم دیتے ہو، جس کے اختیار میں خود اپنا وجود بھی نہیں ؟
اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ : جہل کا لفظ حلم کے مقابلے میں آتا ہے اور علم کے مقابلے میں بھی، یہاں علم کے مقابلے میں آیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ”وحدہ لا شریک لہ معبود“ ہونے کے اتنے واضح دلائل اپنے کانوں سے سننے اور آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود پتھروں، قبروں، جانوروں یا اپنے جیسی بےبس اور بےاختیار مخلوق کی عبادت کی پستی میں گرے ہوئے جاہلو ! جو نہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا کچھ علم رکھتے ہو کہ صرف اسی کی عبادت کرو، نہ رسول اللہ ﷺ کی شان سے واقف ہو کہ انھیں غیر اللہ کی عبادت کی دعوت کی جرأت کر رہے ہو اور نہ ہی اس شرف کا کچھ علم رکھتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں انسان بنا کر عطا کیا ہے کہ اتنی اونچی مخلوق ہو کر اپنے جیسی یا اپنے سے بھی ادنیٰ مخلوق کی عبادت کر رہے ہو۔ اقبال نے کہا ہے
آدم از بےبصری بندگئ آدم کرد
من نہ دیدم کہ سگے پیش سگے سر خم کرد
”آدمی بےسمجھی کی وجہ سے آدمی کی بندگی کرنے لگا۔ میں نے تو یہ بھی نہیں دیکھا کہ کسی کتے نے کسی کتے کے آگے سر جھکایا ہو۔“
Ayah 39:65وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ۔۔ : سلیمان الجمل نے فرمایا : ”ولقد“ اور ”لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ“ دونوں میں لام کے بعد قسم مقدر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ بات قسم کھا کر نہایت تاکید کے ساتھ فرمائی ہے۔“ ”لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ“ (اگر تو نے شرک کیا) کے مخاطب نبی ﷺ بھی ہیں اور پہلے پیغمبروں میں سے ہر ایک پیغمبر بھی۔ یعنی آپ کو اور آپ سے پہلے ایک ایک پیغمبر کو مخاطب کرکے وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا توُ تو نے جو بھی اچھا کام کیا ہوگا یقیناً سب ضائع ہوجائے گا اور یقیناً تو خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائے گا۔ مزید دیکھیے سورة انعام (88)۔
3 یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ کوئی نبی شرک نہیں کرے گا، پھر انھیں یہ وحی کرنے کا مطلب کیا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس سے شرک کی شامت اور برائی بیان کرنا مقصود ہے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کے اتنے مقرب بندے شرک کا ارتکاب کر بیٹھیں تو ان کا عمل ضائع ہوجائے گا، تو پھر دوسرے لوگوں کی کیا حیثیت ہے۔ گویا پیغمبروں کو سنا کر ان کی قوموں کو ڈرایا گیا ہے۔
3 شرک کے ساتھ تمام اعمال ضائع ہونے کی یہ وعید ان لوگوں کے لیے ہے جن کی موت کفر و شرک کی حالت میں واقع ہو، جیسا کہ فرمایا : (وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَھُوَ كَافِرٌ فَاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ) [ البقرۃ : 217 ]”اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے، پھر اس حال میں مرے کہ وہ کافر ہو تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔“ توبہ کرلینے والے اس سے مستثنیٰ ہیں۔ دیکھیے سورة فرقان (68 تا 70)۔
Ayah 39:66بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُد : لفظ ”اللہ“ کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ہے، یعنی (اللہ کے ساتھ شرک نہ کر) بلکہ (اگر تجھ میں عقل ہے، یا اگر تجھے عبادت کرنی ہے تو) صرف اللہ کی عبادت کر، اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کر۔
وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ : یعنی عقیدۂ توحید کی سمجھ عطا ہونے پر اور اکیلے اللہ کی عبادت کی توفیق ملنے پر اس کے شکر گزار بندوں میں شامل ہوجا، کیونکہ اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔
Ayah 39:67وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ : یعنی جن لوگوں نے غیر اللہ کی عبادت کی، یا آپ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ غیر اللہ کی عبادت کریں، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی کا اندازہ ہی نہیں کیا کہ اس کا مقام کس قدر بلند ہے اور اس کے سامنے وہ تمام ہستیاں جن کی وہ عبادت کر رہے ہیں، کس قدر حقیر اور بےبس ہیں، ورنہ وہ کبھی ایسا نہ کرتے۔
وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت کا حال تو یہ ہے کہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں کاغذ کی طرح لپیٹے ہوئے ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَـطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ) [ الأنبیاء : 104 ] ”جس دن ہم آسمان کو کاتب کے کتابوں کو لپیٹنے کی طرح لپیٹ دیں گے۔“
3 کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے قیامت کے دن زمین کو مٹھی میں لینے کو اور آسمانوں کو دائیں ہاتھ میں لپیٹنے کو اور قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں اللہ تعالیٰ کے متعلق آنے والے اس طرح کے الفاظ کو نہیں مانتے اور ان سب کی ایسی تاویل کرتے ہیں جو درحقیقت انکار ہے۔ ان کے کہنے کے مطابق اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا مطلب اس کی حکومت ہے (انھیں اس سے غرض نہیں کہ قیامت کو آٹھ فرشتوں کے اسے اٹھانے کی کیا تاویل کریں گے) مٹھی میں لینے اور دائیں ہاتھ میں لپیٹنے کا مطلب ان سب کا اس کے قبضۂ قدرت میں ہونا ہے (انھیں اس سے غرض نہیں کہ یہ سب کچھ اس کے قبضۂ قدرت میں تو ہر وقت ہی ہے) یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے چہرے، پنڈلی، ہاتھ، انگلیوں، کان اور آنکھوں کا اور اس کے اترنے اور چڑھنے کا صاف انکار کرتے ہیں، بلکہ وہ اس کے سننے اور دیکھنے کے بھی منکر ہیں اور ان کا مطلب یہ کرتے ہیں کہ وہ جاننے والا ہے۔ اسی طرح وہ اس کے کلام کے بھی منکر ہیں۔ ان کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ان تمام صفات کو اپنی صفات کی طرح سمجھا، ورنہ اگر وہ ان تمام صفات اور الفاظ کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے کہ وہ ہماری طرح یا کسی بھی مخلوق کی طرح نہیں، بلکہ اس طرح ہیں جس طرح اس کی شان کے لائق ہے تو کبھی انکار نہ کرتے۔ دیکھیے انسان سمیع وبصیر ہے، فرمایا : (فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا) [ الدھر : 2 ] ”سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنادیا۔“ تو کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سمیع وبصیر ہونے کا اس لیے انکار کردیں گے کہ اس سے وہ انسان کی طرح ہوجائے گا ؟ نہیں، ہرگز نہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ) [ الشورٰی : 11 ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ یعنی اس کا سمع و بصر کسی اور کی مثل نہیں، بلکہ اس طرح ہے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ اسی طرح یقیناً اس کے ہاتھ ہیں، جو دونوں ہی یمین (دائیں) ہیں، مٹھی بھی ہے، انگلیاں بھی، مگر انسان یا مخلوق کی طرح نہیں بلکہ جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ استعارہ کہہ کر ان کا انکار کرنا درست نہیں۔ قرآن مجید کی ان آیات کی تشریح جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی وہ اس قسم کی تاویلات کی تردید کرتی ہے۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے : (یَقْبِضُ اللّٰہُ الْأَرْضَ ، وَ یَطْوِي السَّمٰوَاتِ بِیَمِیْنِہِ ، ثُمَّ یَقُوْلُ أَنَا الْمَلِکُ ، أَیْنَ مُلُوْکُ الْأَرْضِ ؟) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (والأرض جمیعا قبضتہ۔۔) : 4812 ] ”اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا : ”میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ؟“ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ قَرَأَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ ذَاتَ یَوْمٍ عَلَی الْمِنْبَرِ : (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) [ الزمر : 67 ] وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ یَقُوْلُ ہٰکَذَا بِیَدِہِ ، وَ یُحَرِّکُہَا، یُقْبِلُ بِہَا وَ یُدْبِرُ ، یُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَہُ أَنَا الْجَبَّارُ ، أَنَا الْمُتَکَبِّرُ ، أَنَا الْمَلِکُ ، أَنَا الْعَزِیْزُ ، أَنَا الْکَرِیْمُ فَرَجَفَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ الْمِنْبَرُ ، قُلْنَا لَیَخِرَّنَّ بِہِ) [ مسند أحمد : 2؍72، ح : 5413 ] ”ایک دن رسول اللہ ﷺ نے منبر پر یہ آیت پڑھی : (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) ”اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ زمین ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بنا رہے ہیں۔“ اور آپ اپنے ہاتھ کو ہلاتے ہوئے اسے آگے اور پیچھے لے جاتے رہے۔ رب تعالیٰ نے خود اپنی تعریف بیان کی کہ میں جبار ہوں، میں متکبر ہوں، میں بادشاہ ہوں، میں عزیز ہوں، میں کریم ہوں، پھر آپ ﷺ پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ منبر لرزنے لگا اور ہمیں خطرہ پیدا ہوا کہ آپ ﷺ منبر سمیت گرپڑیں گے۔“ مسند احمد کے محقق نے فرمایا کہ اس کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس کے تمام راوی بخاری و مسلم کے راوی ہیں، ایک حماد بن سلمہ صرف مسلم کا راوی ہے۔ صحابہ کرام ؓ اور دوسرے سلف صالحین نے صفات کی آیات و احادیث کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا ہے، ان کی تاویل نہیں کی اور کہا ہے کہ یہ صفات اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔
سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ : یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے۔
Ayah 39:68وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ۔۔ : اس کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نمل کی آیت (87) کی تفسیر۔