Ayah 38:1صۗ وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ : ”صۗ“ حروف مقطعات میں سے ہے، اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔
وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ :”الْقُرْاٰنِ“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”اس قرآن“ کیا ہے۔ ”الذِّكْرِ“ کا معنی عزّ و شرف بھی ہوسکتا ہے، نصیحت بھی اور اللہ تعالیٰ کا اور ان تمام چیزوں کا ذکر بھی جن کی انسان کو نجات کے لیے ضرورت ہے۔ یہاں تینوں معانی بیک وقت مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ یہ قرآن کمال عزّو شرف والا بھی ہے، نصیحت والا بھی ہے اور اس میں ان تمام چیزوں کا ذکر بھی ہے جن کی ضرورت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (10) : (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ) کی تفسیر۔
”اس نصیحت والے قرآن کی قسم“ اس کا جواب قسم یہاں ذکر نہیں ہوا۔ اگلے جملے ”بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا“ سے نئی بات شروع ہوگئی ہے، جس سے قسم کا جواب سمجھ میں آ رہا ہے۔
Ayah 38:2بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ :”عِزَّةٍ“ سے مراد خود ساختہ عزت، یعنی تکبّر ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَا قِيْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بالْاِثْمِ) [ البقرۃ : 206 ] ”اور جب اس سے کہا جاتا ہے اللہ سے ڈر تو اس کی عزت اسے گناہ میں پکڑے رکھتی ہے۔“ ”وَّشِقَاقٍ“ ”شَقٌّ“ سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، کسی کا دوسرے کے مقابلے میں اس طرح آنا کہ یہ ایک شق (طرف) میں ہو اور وہ دوسری شق میں، یعنی شدید مخالفت اور عداوت۔ اس جملے سے ”وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ“ کا جواب قسم ظاہر ہو رہا ہے : ”أَيْ إِنَّ کُفْرَھُمْ لَیْسَ بِبُرْھَانٍ بَلْ ھُوَ بِسَبَبِ عِزَّۃٍ وَّ شِقَاقٍ“ کہ اس عزّو شرف والے، نصیحت سے بھرپور اور نجات کے لیے ضروری ہر بات پر مشتمل قرآن کی قسم ہے کہ کفار کا کفر کسی دلیل یا معقول وجہ سے نہیں، بلکہ محض تکبرّ اور شدید مخالفت کی وجہ سے ہے۔ قسم عموماً جواب قسم کی دلیل ہوتی ہے، مطلب یہ کہ ان اوصاف والا (ذِي الذِّكْرِ) قرآن شاہد اور دلیل ہے کہ اسے نہ ماننے والوں کے کفر کا باعث کوئی دلیل یا معقول وجہ نہیں بلکہ اس کی وجہ محض عزت و شقاق ہے۔ ”عِزَّةٍ“ اور ”وَّشِقَاقٍ“ پر تنوین تکبرّ اور مخالفت کی شدت کے اظہار کے لیے ہے۔
Ayah 38:3كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ : اس آیت میں قریش اور اس امت کے تمام کفار کو پہلی امتوں کے تکبرّ اور انکار کے انجام بد سے ڈرایا ہے۔ ”اَهْلَكْنَا“ جمع متکلم کا لفظ اپنی عظمت کے اظہار کے لیے لائے ہیں۔ ”قَرْنٍ“ زمانے کی اتنی مدت جس میں ایک دوسرے سے ملنے والی ایک نسل ختم ہوجائے۔ راجح قول کے مطابق یہ مدت سو سال ہے، مراد ایک زمانے کے لوگ ہیں۔ ”كَمْ“ خبریہ ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی نسلوں اور قوموں کو ہلاک کردیا۔
فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ : ”وَّلَاتَ“ ”لَا“ نافیہ ہی ہے، جس پر مبالغہ کے لیے ”تاء“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ہمیشہ لفظ ”حِيْنَ“ یا وقت کا معنی دینے والے الفاظ پر آتا ہے۔ اس کا اسم محذوف ہے اور ”حِيْنَ مَنَاصٍ“ اس کی خبر ہے۔ گویا عبارت یہ ہے : ”وَلَاتَ الْحِیْنَُ حِیْنَ مَنَاصٍ۔“ ”مَنَاصٍ“ ”نَاصَ یَنُوْصُ نَوْصًا“ سے مصدر میمی ہے۔ اس کا معنی (فَرَّ مِنْ فُلَانٍ) کسی سے بھاگ جانا بھی ہے اور ”نَجَا وَ فَاتَ“ (بچ کر نکل جانا بھی) مطلب یہ ہے کہ جب ان قوموں نے ہماری طرف سے آنے والی ہلاکت اور عذاب کی نشانیوں کو دیکھا تو انھوں نے پکارا، یعنی مدد کے لیے اور ہلاکت سے بچانے کے لیے پکارا اور ایمان لانے کا اقرار کیا مگر وہ وقت ہمارے عذاب سے بھاگنے یا بچ نکلنے کا نہیں تھا، کیونکہ ہمارا قاعدہ ہے کہ جب ہمارا عذاب آجائے تو پھر ایمان لانے یا توبہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس آیت کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورة مؤمنون (64، 65) ، مؤمن (84، 85) اور انبیاء (11 تا 13)۔
Ayah 38:4وَعَجِبُوْٓا اَنْ جَاۗءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ : یعنی انھیں اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ ان کے پاس ڈرانے اور خبردار کرنے کے لیے اسے بھیجا گیا جو ان کی جنس انسان سے ہے، ان کی قوم عرب سے ہے اور ان کے قبیلے قریش سے ہے، حالانکہ عجیب بات تو اس وقت ہوتی جب کوئی فرشتہ یا عجمی ان کی طرف بھیجا جاتا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (164) ، توبہ (128) اور سورة یونس (2) کی تفسیر۔
وَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌ : ”کَفَرَ یَکْفُرُ“ کا معنی انکار بھی ہے اور چھپانا بھی۔ یہاں ”وَقَالُوْا“ (اور انھوں نے کہا) کے بجائے ”وقال الکفرون“ (اور کافروں نے کہا) کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا رسول اللہ ﷺ کو ساحر اور کذّاب کہنا محض ان کے حق کو چھپانے اور جانتے بوجھتے ہوئے اس کے انکار کی وجہ سے ہے، ورنہ یہ تو آپ کو صادق اور امین کہتے تھے۔ دیکھیے سورة یونس کی آیت (16) : (فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ) اور سورة انعام (33) کی تفسیر۔
Ayah 38:5اَجَعَلَ الْاٰلِـهَةَ اِلٰــهًا وَّاحِدًا : یعنی کیا ایک ”اللہ“ ہی ساری کائنات کا نظام چلا رہا ہے اور وہ ایک ہی عبادت کا مستحق ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس نے تو وہ سارے دیوتا اور داتا و دستگیر ہی ختم کردیے جنھیں دنیا مانتی چلی آئی ہے۔
اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ :”عُجَابٌ“ عجیب کے معنی میں ہے، مگر اس میں مبالغہ زیادہ ہے، جیسا کہ لمبے آدمی کو ”طویل“ کہتے ہیں اور زیادہ ہی لمبا ہو تو اسے ”طُوال“ کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دینا ان کی نظر میں حد سے زیادہ عجیب بات تھی، کیونکہ ان کے نزدیک اپنے آباء سے سنی ہوئی بات کے خلاف کوئی بات انتہائی عجیب بات تھی، جیسا کہ ان کی زبانی آگے آ رہا ہے۔ ان لوگوں کو عقیدۂ توحید عجیب معلوم ہو رہا تھا، حالانکہ تعجب کی چیز عقیدۂ شرک ہے، جس پر نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے نہ نقلی۔
Ayah 38:6وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ : ”الْمَلَاُ“ کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (246) یعنی کفار کے سرکردہ اور بڑے لوگ توحید کی دعوت سن کر آپ کی مجلس سے یہ کہہ کر چل کھڑے ہوئے کہ اپنے دین اور طریقے پر چلتے رہو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، جیسا کہ قوم نوح نے کہا تھا : (لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ڏ وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا) [ نوح : 23 ] ”تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی وَدّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔“
بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو باطل اور شرک پر ڈٹے رہنے کی اتنی تاکید کر رہے ہیں، اہل حق کو تو اس سے زیادہ حق پر قائم رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کو قائم رہنے کی تاکید کرنی چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَالْعَصْرِ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۔ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بالْحَقِّ ڏ وَتَوَاصَوْا بالصَّبْرِ) [ العصر : 1 تا 3 ] ”زمانے کی قسم ! کہ بیشک ہر انساناً گھاٹے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔“
اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ : یعنی اس نے ہمارے سامنے جو کلمہ توحید پیش کیا ہے یہ ایسی چیز ہے جس کے اعلان کا اور اسے ہر حال میں نافذ کرنے کا ارادہ کیا جا چکا ہے، اب اسے اس سے باز رکھنے کی کوئی صورت نہیں، اس لیے اسے اس کے حال پر چھوڑو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔
Ayah 38:7مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ : آخری ملت سے مراد ان کے قریب کے آبا و اجداد ہیں، کیونکہ اصل دین ابراہیم ؑ تو توحید پر قائم تھا۔ یہ عمرو بن لحی خزاعی تھا جس نے عرب میں بت پرستی کو رواج دیا، حتیٰ کہ عین کعبہ میں ابراہیم اور اسماعیل ؑ کی مورتیوں کے ہاتھ میں فال کے تیر رکھ دیے گئے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”پچھلا دین (آخری ملت) کہتے تھے اپنے باپ دادوں کو، یعنی آگے تو سنے ہیں کہ اگلے لوگ ایسی باتیں کہتے، پر ہمارے بزرگ تو یوں نہیں کہہ گئے۔“ (موضح) بعض مفسرین نے فرمایا کہ آخری ملت سے مراد عیسائی ہیں، کیونکہ آپ ﷺ سے پہلے سب سے آخر میں آنے والے نبی عیسیٰ ؑ ہی تھے، یعنی ہم نے نصاریٰ میں بھی توحید کی بات نہیں سنی، بلکہ وہ بھی تین خداؤں کے قائل ہیں۔
اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ : ”اخْتِلَاقٌ“ مصدر بمعنی اسم مفعول برائے مبالغہ ہے، یعنی یہ محض گھڑی ہوئی بات ہے۔
Ayah 38:8ءَاُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَيْنِنَا : یہ ہے وہ اصل بات جس سے ان کے نبی ﷺ کی نبوت تسلیم نہ کرنے کی وجہ ظاہر ہو رہی ہے اور وہ ہے آپ ﷺ پر حسد اور حسد کی وجہ سے عداوت کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سرداروں اور چودھریوں کو چھوڑ کر آپ ﷺ کو اس بلند منصب کے لیے کیوں چنا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس حسد اور عداوت کا کئی جگہ ذکر فرمایا اور اس کا رد فرمایا، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَا جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ ۂاَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ) [ الأنعام : 124 ] ”اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا، اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“ اور فرمایا : (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ۔ اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ) [ الزخرف : 31، 32 ] ”اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟ کیا وہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں ؟“ اسی حسد کا اظہار قوم ثمود نے صالح ؑ پر کیا تھا : (ءَاُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْۢ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ۔ سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ) [ القمر : 25، 26 ] ”کیا یہ نصیحت ہمارے درمیان میں سے اسی پر نازل کی گئی ہے ؟ بلکہ وہ بہت جھوٹا ہے، متکبر ہے۔ عنقریب وہ کل جان لیں گے کہ بہت جھوٹا، متکبّر کون ہے ؟“
بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِيْ : ”شَكٍّ“ سے مراد ذہن کی وہ کیفیت ہے جس میں آدمی دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترجیح نہ دے سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جملے میں ان کے دل کی حالت بیان فرمائی ہے کہ ان کے پاس میرے ذکر کو جھٹلانے کی کوئی معقول وجہ نہیں مگر وہ حسد کی وجہ سے اس پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے وہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ اگر حسد چھوڑ کر تھوڑا سا غور کریں تو انھیں یقین کی نعمت حاصل ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے صالح ؑ کی قوم کا حال خود ان کی زبانی یہی بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة ہود (62)۔
بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا عَذَابِ : ”لَمْ یَذُوْقُوْا“ انھوں نے نہیں چکھا اور ”لَّمَّا يَذُوْقُوْا“ انھوں نے ابھی تک نہیں چکھا۔ ”عَذَابِ“ اصل میں ”عَذَابِيْ“ (میرا عذاب) ہے۔ آیات کے فواصل کی موافقت کے لیے یاء حذف کرکے کسرہ باقی رہنے دیا ہے۔ یعنی ان کے ایسی باتیں کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ ان میں کوئی حقیقت ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ابھی تک میری مار نہیں چکھی۔ جب میری مار پڑی تو ان کے سب کَس بَل نکل جائیں گے اور انھیں ایسی باتیں کرنے کا ہوش نہیں رہے گا۔
Ayah 38:9اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ : یہ ان کی اس بات کا جواب ہے کہ ہم میں سے اسی پر یہ ذکر کیوں نازل کیا گیا۔ فرمایا، کیا تیرے عزیز و وّہاب رب کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں کہ جس کو جو نعمت چاہیں دیں، جسے چاہیں نہ دیں اور جسے یہ چاہیں اسے نبوت کا بلند منصب عطا کریں ؟ نہیں، ہرگز نہیں ! بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے خزانوں کا اکیلا خود مالک ہے، اپنی رسالت کے لیے جسے چاہتا ہے چُن لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے۔ اب اگر اس نے اپنی نعمت رسالت کے لیے آپ کو چنا ہے تو یہ حسد کیوں کرتے ہیں ؟ اس اعتراض کا یہی جواب سورة انعام (124) اور زخرف (31، 32) میں دیا گیا ہے، جیسا کہ اس سے پہلی آیت کے پہلے فائدے میں گزر چکا ہے۔
Ayah 38:10اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : ”لَهُمْ“ پہلے آنے سے حصر پیدا ہوگیا ہے۔ یعنی یا پھر اللہ تعالیٰ کے بجائے زمین و آسمان کی سلطنت کے مالک یہی ہیں کہ جسے جو چاہیں دیں، جو چاہیں نہ دیں ؟ تو پھر زمین پر کیوں پھرتے ہیں، آسمان کی سیڑھیوں پر چڑھیں، زمین و آسمان کی ساری سلطنت سنبھالیں اور اللہ تعالیٰ کے بجائے خود جسے چاہیں نبوت دیں جسے چاہیں نہ دیں ؟ ظاہر ہے ایسا نہیں، تو پھر ایسی بےہودہ باتیں کیوں کرتے ہیں ؟
Ayah 38:11جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ : ”جُنْدٌ“ پر تنوین تقلیل و تحقیر کے لیے ہے اور ”مَّا“ اس کی مزید تاکید کے لیے ہے، جیسے کہا جاتا ہے : ”أَکَلْتُ شَیْءًا مَا، أَيْ شَیْءًا قَلِیْلًا“ ”میں نے تھوڑی سی چیز کھائی۔“ ”جُنْدٌ مَّا“ ایک حقیر سا لشکر۔ ”هُنَالِكَ“ وہاں، اس جگہ، یعنی اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقابلے میں۔ ”الْاَحْزَابِ“ ”حِزْبٌ“ کی جمع ہے، یعنی مختلف لشکر، جماعتیں۔ یعنی خدائی اختیارات کی ڈینگیں مارنے والے اور مختلف جماعتوں اور لشکروں سے جمع ہونے والے اس حقیر سے لشکر کی بساط ہی کیا ہے۔ یہ تو جب بھی میدان میں آیا شکست کھانے والا ہے، جیسا کہ سورة قمر میں فرمایا : (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ) [ القمر : 45 ] ”عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے۔“ بدر کے دن آپ ﷺ ”سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ“ کہتے ہوئے میدان کی طرف بڑھے، پھر احد، خندق، فتح مکہ ہر موقع پر ایسا ہی ہوا کہ لشکر کفار نے منہ کی کھائی۔
Ayahs 38:12–13كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ : یعنی ان بےچارے قریش اور ان کی ہمنوا جماعتوں کی کیا حیثیت ہے، ان سے پہلے تعداد اور قوت و شوکت میں ان سے کہیں زیادہ اقوام، یعنی قوم نوح، میخوں والا فرعون، عاد، ثمود، قوم لوط اور اصحاب الایکہ وہ بڑے بڑے لشکر تھے جن میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب واقع ہوگیا۔
وَّفِرْعَوْنُ ذُوالْاَوْتَادِ : ”الْاَوْتَادِ“ ”وَتَدٌ“ کی جمع ہے، میخ۔ فرعون کو میخوں والا کہنے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اس کے ہاتھ پاؤں میں میخیں ٹھکوا کر سزا دیا کرتا تھا، یا یہ کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا زمین میں میخیں ٹھکی ہوئی ہیں، یا اس کا لشکر اتنا زیادہ تھا کہ جہاں ٹھہرتا ہر طرف خیموں کی میخیں ہی میخیں نظر آتیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی بنائی ہوئی عمارتیں زمین میں میخوں کی طرح ٹھکی ہوئی ہوں، جیسا کہ اہرام مصر ہزاروں سال سے زمین کے اندر گڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 38:14اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ :”عِقَابِ“ اصل میں ”عِقَابِيْ“ ہے، میرا عذاب، میری سزا۔ سورة عنکبوت میں ان تمام اقوام کے جھٹلانے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ) [ العنکبوت : 40 ] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کردیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔“
Ayah 38:15وَمَا يَنْظُرُ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً :”يَنْظُرُ“ یہاں ”یَنْتَظِرُ“ کے معنی میں ہے۔ ”صَيْحَةً وَّاحِدَةً“ (ایک سخت چیخ) سے مراد دوسری دفعہ صور کے نفخہ سے پیدا ہونے والی آواز ہے، کیونکہ پہلے نفخہ کے وقت تک زندہ و موجود رہنے کا انتظار تو کوئی بھی نہیں کرتا۔ ”فَوَاقٍ“ مَا بَیْنَ الْحَلْبَتَیْنِ مِنَ الْوَقْتِ أَوْ مَا بَیْنَ فَتْحِ یَدِکَ وَ قَبْضِھَا عَلَی الضَّرْعِ“ (قاموس) ”دو دفعہ دودھ دوہنے کے درمیان کا وقفہ یا دودھ دوہتے وقت تھن کو پکڑنے اور چھوڑنے کا درمیانی وقفہ۔“ مراد تھوڑا سا وقفہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے والے یہ لوگ ایک سخت چیخ کے انتظار میں ہیں، جو شروع ہوگی تو اس میں اس وقت تک کوئی وقفہ نہیں ہوگا جب تک تمام لوگ زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش نہیں ہوجائیں گے، فرمایا : (اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ) [ یٰسٓ : 53 ] ”نہیں ہوگی وہ مگر ایک ہی چیخ، تو اچانک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے ہوئے ہوں گے۔“ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے۔
Ayah 38:16وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا :”قَطَّ یَقُطُّ قَطًّا“ (ن) قلم وغیرہ کا سرا کاٹنا۔ ”قِطٌّ“ حصے کو کہتے ہیں، کیونکہ ہر ایک کو اس کا حصہ کاٹ کردیا جاتا ہے۔ انعام کے لیے کاغذ کا جو ٹکڑا لکھ کردیا جاتا ہے اسے بھی ”قِطٌّ“ کہتے ہیں۔ مراد عذاب میں سے ان کا حصہ ہے، بعض نے اعمال نامہ مراد لیا ہے۔ یعنی کفار قیامت کو ناممکن سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہوئے اور اس کا مذاق اڑاتے ہوئے جرأت کی اس حد تک پہنچ گئے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کی ربوبیت کے واسطے سے دعا کرتے ہوئے کہنے لگے، اے ہمارے رب ! عذاب میں سے ہمارا جو حصہ ہے وہ ہمیں یوم حساب سے پہلے ابھی جلدی دے دے، جیسا کہ ابوجہل وغیرہ نے نہایت دیدہ دلیری سے کہا تھا : (اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) [ الأنفال : 32 ] ”اے اللہ ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔“
Ayah 38:17اِصْبِرْ عَلٰي مَا يَقُوْلُوْنَ : اس سورت میں یہاں تک کفار کی جو باتیں ذکر ہوئی ہیں، مثلاً آپ کو ساحر و کذّاب کہنا اور ان کا یہ اعتراض کہ کیا ہم سب میں سے رسول بنانے کے لیے یہی ایک شخص رہ گیا تھا ؟ اور یہ کہ اس دعوت کے پیچھے کوئی سوچی سمجھی سازش ہے اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے انھوں نے جو کچھ کہا، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان سب باتوں پر صبر کا حکم دیا اور تسلی کے لیے داؤد ؑ اور چند دوسرے پیغمبروں کو یاد کرنے کا حکم دیا۔
وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَيْدِ : ”الْاَيْدِ“ کا معنی قوت ہے۔ ”آد الرَّجُلُ یَءِیْدُ أَیْدًا“ (ض) جب کوئی آدمی قوی ہوجائے تو کہتے ہیں : ”فَھُوَ أَیِّدٌ“ جیسے فرمایا : (وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ) [ البقرۃ : 87 ] ”اور ہم نے اسے روح القدس کے ساتھ قوت بخشی۔“ داؤد ؑ بڑی قوت والے تھے، اللہ تعالیٰ نے انھیں کئی قوتوں سے نوازا تھا، مثلاً جسمانی قوت جس کے ساتھ انھوں نے جالوت کو قتل کیا، قلبی شجاعت و قوت جس کی وجہ سے وہ کبھی دشمن کے مقابلے میں پیٹھ نہیں دکھاتے تھے، عبادت کی قوت جس کا اظہار روزانہ تہائی رات کی نماز اور ہمیشہ ایک دن کے ناغے کے ساتھ روزے سے ہوتا ہے، فرماں روائی کی قوت جس کے ساتھ انھوں نے گرد و پیش کی تمام مشرک قوتوں کو زیر کرکے ایک مضبوط سلطنت قائم کی۔ صحیح فیصلے کی قوت (حکم) ، فیصلہ کن خطاب کی قوت، حُسن صوت کی نعمت جس کی وجہ سے پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ساتھ تسبیح و تلاوت میں شریک ہوجاتے تھے، لوہے کو موم کرنے اور زرہیں بنانے کی قوت جس کے ذریعے سے وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔ مزید تفصیل سورة بقرہ (251) ، انبیاء (78، 79) ، نمل (15، 16) اور سورة سبا (10 تا 13) میں ملاحظہ فرمائیں۔
اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ : یعنی وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے، کوئی قدم اپنی مرضی سے نہیں اٹھاتے تھے۔ ہر وقت نماز، دعا، امید و خوف، ذکر و تلاوت اور جہاد کے ساتھ اسی کی طرف توجہ رکھتے، کبھی کوئی کمی ہوجاتی تو فوراً توبہ و استغفار کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتے تھے۔
Ayahs 38:18–19اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ : اللہ تعالیٰ نے داؤد ؑ کو نہایت خوب صورت آواز عطا کر رکھی تھی اور پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے ساتھ پابند کردیا تھا کہ جب وہ ترنم کے ساتھ تسبیح کرتے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح کرتے اور اڑتے ہوئے پرندے سن کر آگے جانے کے بجائے ان کے گرد جمع ہو کر ان کے ساتھ تسبیح میں مشغول ہوجاتے۔ مزید دیکھیے سورة انبیاء (79) اور سورة سبا (10)۔
Ayah 38:20وَشَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَاٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ : ”الْحِكْمَةَ“ کے مفہوم میں نبوت، کتاب اللہ کا علم اور معاملات کی فہم و فراست، سب چیزیں شامل ہیں اور ”وَفَصْلَ الْخِطَابِ“ سے مراد ہے مقدمہ سن کر صحیح، واضح اور دو ٹوک فیصلہ کرنا۔ ”وَفَصْلَ الْخِطَابِ“ میں یہ بھی شامل ہے کہ لمبی بات کو مختصر الفاظ میں ایسے طریقے سے بیان کیا جائے کہ ہر شخص کو پوری طرح سمجھ میں آجائے۔ ان دونوں چیزوں کے لیے اعلیٰ درجے کی عقل اور فہم و فراست کے ساتھ قادر الکلام ہونا بھی ضروری ہے۔
Ayah 38:21وَهَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ : ”نَبَؤُا“ کسی اہم خبر کو کہتے ہیں۔ ”الْخَصْمِ“ واحد، تثنیہ اور جمع سب پر بولا جاتا ہے۔ ”تَسَوَّرُوا“ ”سُوْرٌ“ دیوار کو کہتے ہیں اور ”تَسَوَّرُوا“ کے ضمن میں ”دَخَلُوْا“ کا معنی شامل ہونے کی وجہ سے ”الْمِحْرَابَ“ کو اس کا مفعول بنایا گیا ہے، یعنی دیوار پھاند کر ”محراب“ میں داخل ہوئے۔ ”الْمِحْرَابَ“ عبادت کے لیے مخصوص کمرہ۔ ”وَلَا تُشْطِــطْ“ بےانصافی نہ کر۔ ”شَطَطٌ“ زیادتی، ظلم۔ ”أَشَطَّ الْحَاکِمُ إِذَا جَارَ“ (افعال) حاکم نے بےانصافی کی۔ ”نَعْجَةً“ ”أُنْثٰی مِنَ الضَّانِ“ بھیڑ یا دنبی۔ ”عَزَّ یَعِزُّ“ (ض) غالب آنا۔ ”الْخُلَطَاۗءِ“ ”خَلِیْطٌ“ کی جمع ہے، شریک۔ مگر ”خَلِیْطٌ“ عام ہے، اس میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جنھوں نے اپنا مال ملایا ہوا ہو، مگر ہر ایک اپنے اپنے مال کا الگ الگ مالک ہو۔ ”وَقَلِيْلٌ“ بہت کم۔ ”مَّا“ کے ساتھ تاکید کی وجہ سے ”بہت ہی کم۔“
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے داؤد ؑ کو یاد کرنے کا حکم دیا اور یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے بات کا آغاز اس طرح کیا کہ کیا تیرے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے ؟ مقصد اسے سننے کا شوق دلانا ہے۔
اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ : جب وہ جھگڑنے والے دیوار پھاند کر داؤد ؑ کے پاس ان کے عبادت کے لیے مخصوص کمرے میں آگئے۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ پہرے وغیرہ کی وجہ سے دروازے کی طرف سے داخل نہیں ہو سکے، ورنہ انھیں دیوار پھاندنے کی ضرورت نہیں تھی۔
Ayah 38:22اِذْ دَخَلُوْا عَلٰي دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ : داؤد ؑ ان کے اس طرح دیوار پھاند کر اچانک آ دھمکنے سے گھبرا گئے کہ یہ دشمن نہ ہوں، جو قتل کرنے یا نقصان پہنچانے کے لیے آئے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ بنی اسرائیل کا اپنے انبیاء کو قتل کرنا معروف تھا۔
قَالُوْا لَا تَخَفْ : انھوں نے آتے ہی سب سے پہلے تسلی دی کہ ڈرو نہیں، ہم کسی بری نیت سے نہیں آئے، بلکہ دونوں آپس کا ایک جھگڑا لے کر آپ کے پاس آئے ہیں، اس لیے آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور بےانصافی نہ کریں اور ہماری راہ نمائی سیدھے راستے کی طرف کریں۔
Ayah 38:23اِنَّ ھٰذَآ اَخِيْ ۣ لَهٗ تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ نَعْجَةً : یہ میرا حقیقی یا دینی بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے۔ تو اس نے مجھے کہا ہے کہ وہ ایک بھی میں اس کے سپرد کر دوں اور بات کرنے میں اس نے مجھ پر بہت سختی کی اور مجھے دبا لیا ہے۔
Ayahs 38:24–25قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ : داؤد ؑ نے فرمایا کہ اس نے تمہاری دنبی اپنی دنبیوں کے ساتھ ملا لینے کا مطالبہ کرکے یقیناً تم پر ظلم کیا ہے۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ دیوار پھاند کر آئے، پھر انھوں نے مقدمہ پیش کرتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں رکھا کہ وہ اس شخص سے ہم کلام ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ حکومت کا شرف بھی عطا فرمایا ہے اور جس سے حق کے خلاف یا بےانصافی پر مبنی فیصلہ کرنے کی توقع نہیں۔ اس کے باوجود وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور بےانصافی نہ کریں۔ یہ دونوں جملے ہی کسی شخص کا غصہ بھڑکانے کے لیے کافی ہیں، کجا یہ کہ ایسا کہنے والے پہلے دیوار پھاند کر آنے کی گستاخی بھی کرچکے ہوں۔ اگر کوئی دنیا دار بادشاہ ہوتا تو یہ لوگ قتل کردیے جاتے، یا کوئی اور عبرت ناک سزا پاتے، تاکہ آئندہ کسی کو ایسی جرأت نہ ہو، مگر داؤد ؑ کا صبر اور حلم دیکھیے کہ پہلے کچھ خوف زدہ ہونے کے باوجود نہ غصے میں آئے اور نہ انھیں ملامت کا ایک لفظ بھی کہا، بلکہ ان کے اس طرح آنے اور نامناسب الفاظ کہنے کو صبر سے برداشت کیا اور وہ جس مقصد کے لیے آئے تھے اسے پورا کرتے ہوئے ان کے مقدمے کا فیصلہ فرما دیا۔ یہ نبیوں ہی کا حوصلہ ہوسکتا ہے، جس کے لیے رسول اللہ ﷺ کو تلقین کی گئی کہ کفار کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد ؑ کو یاد کریں۔
وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْخُلَطَاۗءِ : مظلوم کو تسلی دیتے ہوئے داؤد ؑ نے بہت سے لوگوں کے اس کی طرح مظلوم ہونے کا ذکر فرمایا کہ تم اکیلے مظلوم اور یہ اکیلا ظالم نہیں ہے، بلکہ بہت سے شریک ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں، کیونکہ جب آدمی دیکھتا ہے کہ اس کے ساتھ اور لوگ بھی مظلوم ہیں تو اسے کچھ حوصلہ ہوجاتا ہے، ”لِأَنَّ الْمُصِیْبَۃَ إِذَا عَمَّتْ طَابَتْ“ ”کیونکہ جب مصیبت عام ہوتی ہے تو برداشت ہوجاتی ہے۔“ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ایمان اور عمل صالح والے لوگ ایسا نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنے شریک پر ظلم سے اجتناب کرتے ہیں۔ اس میں ننانوے دنبیوں والے کے لیے نصیحت بھی ہے کہ وہ ظلم سے باز آجائے اور انبیاء ؑ کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔
وَقَلِيْلٌ مَّا هُمْ : یعنی ایمان اور عمل صالح والے لوگ، جو اپنے شریک پر ظلم نہ کریں، وہ بہت ہی کم ہیں، اکثریت کا حال اس کے خلاف ہے۔ جمہوریت کے علم برداروں کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ اس مفہوم کی مزید آیات کے لیے دیکھیے سورة سبا (13) ، بقرہ (243) ، انعام (117) ، ہود (17) ، یوسف (103، 106) ، زخرف (78) ، اور سورة مائدہ (100)۔
وَظَنَّ دَاوٗدُ :”وَظَنَّ“ راجح گمان کو کہتے ہیں، قرائن سے حاصل ہونے والے یقین پر بھی ”ظن“ کا لفظ بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّآ اِلَيْهِ) [ التوبۃ : 118 ] ”اور انھوں نے یقین کرلیا کہ اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب کے سوا نہیں۔“ اور فرمایا : ([ يَظُنُّوْنَ : ظن، بدظن، بدظنی (گمان)۔][ مُّلٰقُوْا : ملاقات، ملاقات حضرات۔][ رٰجِعُوْنَ : رجع، راجع، مرجوع، رجعت پسندی۔]) [ البقرۃ : 46 ] ”جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔“ یہاں ”وَظَنَّ“ کا معنی ”شَعُرَ“ (سمجھ گیا) ہے، یا ”أَیْقَنَ“ (یقین کرلیا) ہے، کیونکہ اس کے بعد ”أَنَّ“ حرف تاکید آ رہا ہے۔
اَنَّمَا فَتَنّٰهُ : یعنی داؤد ؑ کو یقین ہوگیا کہ ان لوگوں کا اس طرح دیوار پھلانگ کر آنا میری آزمائش ہے کہ میں اپنی کوتاہی پر متنبّہ ہو کر اسے ترک کرتا اور اس کی معافی مانگتا ہوں یا نہیں۔
فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ : تو انھوں نے اپنے رب سے معافی مانگی اور بخشش کی دعا کی۔
وَخَرَّ رَاكِعًا وَّاَنَابَ : رکوع کا معنی جھکنا یا سر جھکانا ہے۔ ”وَخَرَّ“ زمین پر گرپڑا۔ یعنی وہ رکوع کرتے ہوئے نیچے گرگئے، مراد یہ ہے کہ وہ جھکتے ہوئے سجدے میں گرگئے۔ اس لیے بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں رکوع سے مراد سجدہ ہے۔ ”وَّاَنَابَ“ (اور انھوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا) بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ”داؤد ؑ چالیس دن سجدے میں پڑے روتے رہے، حتیٰ کہ ان کے آنسوؤں سے زمین پر سبزہ اگ آیا۔“ ایسی باتیں تردید کے بغیر لکھنے والوں پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ ایسی باتیں لکھ رہے ہیں جو نہ صرف یہ کہ قرآن یا حدیث میں نہیں آئیں بلکہ صاف عقل کے خلاف ہیں۔ چالیس دن ان کے کھانے پینے اور دوسری ضروریات زندگی، نماز اور امور مملکت کی نگرانی وغیرہ کا کیا بنا ؟ یہ نتیجہ ہے سنی سنائی بات اندھا دھند نقل کرنے کا، خواہ وہ اسرائیلی روایت ہو یا کسی اور کی بنائی ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَفٰی بالْمَرْءِ کَذِبًا أَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ) [ مسلم، المقدمۃ : 5، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”آدمی کو جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات آگے بیان کر دے۔“
ان آیات کو سمجھنے میں اکثر لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے، جس کی وجہ مسلمانوں کا قرآن کی تفسیر میں اسرائیلی روایات پر اعتماد ہے، حالانکہ یہود کی اللہ کے پیغمبروں خصوصاً داؤد و سلیمان ؑ سے دشمنی سب کو معلوم ہے۔ اگر کوئی شخص ان روایات سے ذہن کو صاف کرلے تو آیات کا مطلب سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔ اس لیے پہلے آیات کا مطلب بیان کیا جاتا ہے، اس کے بعد ان روایات کے متعلق مختصر سی بات ہوگی۔ ان آیات کو سمجھنے کے لیے ان سے پہلی آیات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے : (1) یہ بات بالکل واضح ہے کہ آیات کے اس سلسلہ میں قرآن مجید داؤد ؑ کی تعریف بیان فرما رہا ہے۔ (ب) قرآن کے الفاظ یا مفہوم میں کوئی اشارہ بھی نہیں کہ یہ کوئی رمز یا کنایہ کی بات ہے، جو اللہ تعالیٰ نے داؤد ؑ کے کسی ایسے فعل پر ناراضی کے اظہار کے لیے فرمائی ہے جو شریعت کے خلاف یا فضیلت کے خلاف تھا۔ (ج) اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر نبی ﷺ کو اپنی قوم کی باتوں پر صبر کا حکم دیتے ہوئے داؤد ؑ کو نمونے کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو فرما رہے ہیں کہ اگر آپ کا سینہ اپنی قوم کے کفر سے تنگ ہوتا ہے تو صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کریں۔ ساتھ ہی داؤد ؑ کا ذکر نہایت عزت و تکریم کے ساتھ کیا ہے اور ان کی تعریف بہت بلند اوصاف کے ساتھ فرمائی ہے : 1 انھیں ”عبدنا“ (ہمارا بندہ) کہا ہے، یہ اکیلا لفظ ہی سب اوصاف پر بھاری ہے، جیسا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے متعلق فرمایا : (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ) [ بني إسرائیل : 1 ] ”پاک ہے وہ جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو حرمت والی مسجد سے بہت دور کی اس مسجد تک لے گیا جس کے ارد گرد کو ہم نے برکت دی۔“ پھر بتایا کہ وہ ”ذَا الْاَيْدِ“ (حق کی قوت والے تھے) ”اَوَّابٌ“ (اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے) تھے۔ ”اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ“ (ہماری طرف سے پہاڑ ان کے ہمراہ مسخر تھے، صبح و شام تسبیح کرتے تھے) ”ۙوَالطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً“ (جمع کیے پرندے بھی ان کے ہمراہ تسبیح کے لیے مسخر تھے) ”وَشَدَدْنَا مُلْكَهٗ“ (اور ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کردی) ”وَاٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ“ (اور انھیں حکمت عطا فرمائی) ”وَفَصْلَ الْخِطَابِ“ (اور فیصلہ کن گفتگو عطا فرمائی) اس کے بعد یہ واقعہ ذکر فرمایا، جس کے بعد پہلے دنیا میں انھیں عطا ہونے والا مقام ذکر فرمایا : ”يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ“ (اے داؤد ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا) پھر اپنے ہاں ان کا مرتبہ اور آخرت میں ان کا مقام بیان فرمایا : ”وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَـزُلْفٰى“ (اور بلاشبہ اس کے لیے ہمارے پاس یقیناً بڑا قرب ہے) ! ”وَحُسْنَ مَاٰبٍ“ (اور اچھا ٹھکانا ہے)۔ ان اوصاف سے ظاہر ہے کہ داؤد ؑ اللہ تعالیٰ کے نہایت مقرّب اور محبوب پیغمبر تھے اور ایسی تمام روایات ان پر صریح بہتان اور ظلم ہیں جن سے وہ ایک عام شریف آدمی سے بھی فرو تر نظر آتے ہیں، تو پھر ان آیات کا مطلب کیا ہے اور ان دو جھگڑنے والوں کا مقصد کیا ہے ؟
حقیقت یہ ہے کہ داؤد ؑ نبی تھے اور بادشاہ بھی اور یہ دونوں بہت بھاری ذمہ داریاں ہیں۔ ان کے علاوہ انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت یعنی تسبیح، ذکر الٰہی، تلاوت، قیام اللیل اور روزوں کا بہت شوق تھا، اس لیے اس کے بغیر چارہ ہی نہ تھا کہ وہ تسبیح و ذکر، نبوت کے فرائض اور بادشاہت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے اپنے اوقات تقسیم کریں۔ اس کے ساتھ یہ بھی شامل کرلیں کہ وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے، جس کے لیے انھیں لوہے کی زرہیں بنانے کا مشکل اور باریک کام کرنا پڑتا تھا، سورة سبا کی آیت (11) : (اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِي السَّرْدِ) (کہ کشادہ زرہیں بنا اور کڑیاں جوڑنے میں اندازہ رکھ) سے ان کے کام کی مشقت اور باریکی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اب نبوت، سلطنت، عبادت اور کمائی کے لیے وقت کیسے تقسیم کریں ؟ اس کے لیے انھوں نے کچھ اوقات نبوت و سلطنت اور کمائی کے امور کے لیے رکھے اور کچھ وقت عبادت کے لیے خاص کرلیا، جس میں وہ اپنے محراب (عبادت خانے) سے نہیں نکلتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ داؤد ؑ کو اس بات کا پتا چل جائے کہ جب وہ عبادت کے لیے خلوت اختیار کرتے ہیں اس وقت بھی لوگوں کے ایک دوسرے پر ایسے ظلم واقع ہوتے ہیں جن کے لیے داؤد ؑ کے عدل کی ضرورت ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان دو جھگڑنے والوں کے لیے یہ آسانی پیدا فرمائی کہ دروازے بند ہونے اور پہرے داروں کی موجودگی کے باوجود وہ دیوار پھاند کر ان کے عبادت خانے میں داخل ہوگئے اور ان میں سے ایک نے اپنا قصہ سنایا اور وہ ظلم بیان کیا جو اس کے بھائی نے اس پر کیا تھا کہ کس طرح وہ بہت دولت مند اور ننانوے دنبیوں کا مالک ہونے کے باوجود اپنے فقیر بھائی سے، جو صرف ایک دنبی کا مالک ہے، اس کی واحد ملکیت بھی بہت سختی کے ساتھ اپنے سپرد کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ داؤد ؑ ان کے اس طرح آنے پر پہلے گھبرائے، مگر جب حقیقت حال معلوم ہوئی تو نہ ان سے ناراض ہوئے اور نہ انھیں پھر آنے کی تاریخ دی، بلکہ ان کا مقدمہ سن کر فوراً فیصلہ فرما دیا۔ ساتھ ہی سمجھ گئے کہ عبادت والے دن بھی لوگوں کے درمیان جھگڑے اور ایک دوسرے پر ظلم ہوتے ہیں، مگر ان کے عبادت میں مصروف ہونے کی وجہ سے مظلوم ان کے پاس فریاد لے کر نہیں پہنچ سکتے، حالانکہ لوگوں کے درمیان صلح اور مظلوم کی مدد عبادت خانے کی خلوت سے افضل ہے اور انھیں یقین ہوگیا کہ ان لوگوں کے اس طرح آنے سے اللہ تعالیٰ نے میری آزمائش کی ہے کہ میں یہ بات سمجھتا ہوں یا نہیں کہ عبادت میں ایسی مصروفیت نہیں ہونی چاہیے کہ مظلوم کو عدالت تک رسائی نہ ہو سکے۔ اس لیے انھوں نے اپنی اس کوتاہی پر اپنے رب سے معافی مانگی اور اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے سجدے میں گرگئے، تو ہم نے انھیں معاف کردیا۔
اکثر مفسرین نے داؤد ؑ کی کوئی ایسی غلطی تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو ننانوے دنبیوں اور ایک دنبی کے واقعہ سے ملتی جلتی ہو۔ حالانکہ یہ واقعہ انتہائی ظلم اور مظلومیت کی ایک تصویر ہے کہ ایک بہت دولت مند شخص اپنے فقیر بھائی سے اس کی ایک دنبی بھی چھین لینا چاہتا ہے اور حاکم وقت دروازے بند کرکے عبادت میں مصروف ہے، اب مظلوم کیا کرے ؟ بعض لوگوں نے کہا، وہ دوسرے دن پیش ہوسکتے تھے، مگر سب جانتے ہیں کہ انصاف میں تاخیر بھی ظلم کے مترادف ہوتی ہے۔ دیوار پھاند کر جانے سے اور قصہ سنانے سے داؤد ؑ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے، جس کا کام لوگوں کے فیصلے کرنا ہے۔ عبادت کریں، مگر اس طرح نہیں کہ فریادی آپ کی عدالت میں بار نہ پاسکیں، فرمایا : (يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاس بالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ) [ ص : 26 ] ”اے داؤد ! بیشک ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، سو تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر اور خواہش کی پیروی نہ کر، ورنہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ یقیناً وہ لوگ جو اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس لیے کہ وہ حساب کے دن کو بھول گئے۔“ ”خلیفہ“ سے مراد حاکم ہے، جو پہلے لوگوں کی جگہ حکمران بنتا ہے، ”اللہ کا خلیفہ“ کہنا درست نہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (30)۔
بعض لوگوں نے ان دو جھگڑنے والوں کو فرشتے بتایا ہے اور لکھا ہے کہ داؤد ؑ نے فیصلہ کیا تو وہ ہنس پڑے اور غائب ہوگئے۔ یہ ساری بات ہی بےاصل ہے، جس کا قرآن و حدیث میں کوئی وجود نہیں۔
داؤد ؑ کی غلطی نکالتے ہوئے اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ ایک عورت کو نہاتے ہوئے دیکھ کر اس پر عاشق ہوگئے اور اس کے خاوند ”اور یاہ“ کو جہاد میں ایسی جگہ مقرر کرنے کا حکم دیا جہاں وہ قتل ہوگیا تو اس کی بیوی سے نکاح کرلیا، حالانکہ ان کی ننانوے بیویاں موجود تھیں۔ بعض نے کہا، اس سے طلاق دینے کا تقاضا کیا، جسے وہ ٹھکرا نہ سکا، تو اس سے نکاح کرلیا۔ یہودی ملعون یہاں تک پہنچ گئے کہ انھوں نے داؤد ؑ پر بہتان باندھتے ہوئے تورات میں بھی تحریف کردی اور کہا کہ انھوں نے اور یاہ کی بیوی کو نہاتے ہوئے دیکھ کر اٹھوا لیا اور (نعوذ باللہ) اس سے ہم بستر ہوئے، جس سے وہ حاملہ ہوگئی، پھر اس کے خاوند کو جنگ میں بھیج کر مروا دیا اور اس کی عدت ختم ہونے کے بعد اسے اپنی بیوی بنا لیا، جس سے لڑکا پیدا ہوا، جس سے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوا۔ (خلاصہ سموئیل دوم، باب 11، فقرہ 2 سے 27 تک)
بعض حضرات نے داؤد ؑ کی یہ غلطی نکالی ہے کہ انھوں نے صرف مدّعی کی بات سن کر فیصلہ کردیا، جب کہ انھیں دوسرے فریق کی بات سننا بھی ضروری تھا۔ حالانکہ وہاں اختصار کے لیے دوسرے فریق کی بات کا ذکر نہیں ہوا۔ کسی بات کے ذکر نہ ہونے سے اس کی نفی نہیں ہوتی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے خاموش رہ کر مظلوم کے دعویٰ کو قبول کرلیا ہو۔ یہ اور اس جیسی کئی فضول باتیں بعض مفسرین نے داؤد ؑ پر بہتان باندھتے ہوئے لکھی ہیں، جب کہ اسرائیلی روایات پر اعتماد جائز ہی نہیں، خصوصاً جب ان سے کسی پیغمبر کی عزت و عصمت پر حرف آتا ہو۔ اس معاملے میں مفسر ابن کثیر ؓ کا کلام بہت عمدہ ہے، وہ لکھتے ہیں : ”قَدْ ذَکَرَ الْمُفَسِّرُوْنَ ھَاھُنَا قِصَّۃً أَکْثَرُھَا مَأْخُوْذٌ مِّنَ الإِْسْرَاءِیْلِیَّاتِ وَلَمْ یَثْبُتْ فِیْھَا عَنِ الْمَعْصُوْمِ حَدِیْثٌ یَجِبُ اتِّبَاعُہُ وَلٰکِنْ رَوَی ابْنُ أَبِيْ حَاتِمٍ ھُنَا حَدِیْثًا لَا یَصِحُّ سَنَدُہُ ، لِأَنَّہُ مِنْ رِوَایَۃِ یَزِیْدَ الرُّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ ، وَ یَزِیْدُ وَ إِنْ کَانَ مِنَ الصَّالِحِیْنَ ، لٰکِنَّہُ ضَعِیْفُ الْحَدِیْثِ عِنْدَ الْأَءِمَّۃِ ، فَالْأَوْلٰی أَنْ یُّقْتَصَرَ عَلٰی مُجَرَّدِ تِلَاوَۃِ ھٰذِہِ الْقِصَّۃِ وَ أَنْ یُّرَدَّ عِلْمُھَا إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ الْقُرْآنَ حَقٌّ وَمَا تُضَمِّنُ فَھُوَ حَقٌّ أَیْضًا“ ”مفسرین نے یہاں ایک قصہ ذکر کیا ہے، جس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے لیا گیا ہے اور اس کے متعلق معصوم (نبی کریم ﷺ سے کوئی حدیث ثابت نہیں، جس کی پیروی واجب ہو۔ لیکن ابن ابی حاتم نے یہاں ایک حدیث بیان کی ہے جس کی سند صحیح نہیں، کیونکہ وہ یزید رقاشی کی روایت سے ہے، جو وہ انس ؓ سے بیان کرتے ہیں۔ یزید اگرچہ نیک لوگوں سے ہے، لیکن وہ ائمہ حدیث کے نزدیک ضعیف الحدیث ہے۔ سو بہتر یہ ہے کہ اس قصے کی صرف تلاوت پر اکتفا کیا جائے اور اس کا علم اللہ عز و جل کی طرف لوٹا دیا جائے، کیونکہ قرآن حق ہے اور جو کچھ اس میں ہے، وہ بھی حق ہے۔“
Ayah 38:26يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ : یہاں لفظ ”قُلْنَا“ (ہم نے کہا) محذوف ہے، یعنی ہم نے کہا اے داؤد ! تمہارا مقام دوسرے لوگوں سے بہت بلند ہے، تم خلیفہ ہو اور وہ رعایا ہیں، تم حاکم ہو اور وہ محکوم ہیں۔ اس لیے لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور اس میں اپنی یا کسی دوسرے کی خواہش کا دخل نہ آنے دو ، کیونکہ یہی چیز اللہ کی راہ سے بہکانے والی ہوتی ہے۔rnۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ : یعنی انسان بہکتا اسی وقت ہے جب اپنی یا کسی کی خواہش نفس کے پیچھے لگتا ہے اور یہ کام وہ تبھی کرتا ہے جب اسے حساب کا دن یاد نہ رہے۔ اگر اللہ کے سامنے جواب دہی کا تصور آنکھوں کے سامنے رہے تو انسان اپنی یا کسی کی خواہش کی پروا نہیں کرتا اور جو شخص یوم حساب کو بھول جائے وہ اپنی ہر جائز و ناجائز خواہش کے پیچھے چلے گا اور شتر بےمہار کی طرح زندگی گزارے گا۔ جس کا نتیجہ اسے شدید عذاب کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔
بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے داؤد ؑ سے خطاب ”وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى“ (خواہش کی پیروی نہ کر) سے نکالا ہے کہ داؤد ؑ کسی خواہش کی پیروی کر بیٹھے تھے، اس پر یہ حکم ہوا۔ حالانکہ خواہش کی پیروی سے تو ہمارے نبی ﷺ کو بھی منع کیا گیا ہے، تو کیا آپ ﷺ بھی کسی خواہش کی پیروی کر بیٹھے تھے۔ کسی کام سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ مخاطب وہ کام کرچکا ہے یا کر رہا ہے، بلکہ آئندہ محتاط رہنے کی تاکید کے لیے بھی حکم ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : (وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ) [ المائدۃ : 49 ] ”اور یہ کہ ان کے درمیان اس کے ساتھ فیصلہ کر جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ) [ البقرۃ : 147 ] ”یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے، پس تو ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔“ اور فرمایا : (فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ) [ الأنعام : 35 ] ”پس تو جاہلوں میں سے ہرگز نہ ہو۔“ سورة قصص میں ہے : (فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِيْرًا لِّـلْكٰفِرِيْنَ) [ القصص : 86 ] ”سو تو ہرگز کافروں کا مددگار نہ بن۔“ اور اس سے اگلی آیت میں ہے : (وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) [ القصص : 87 ] ”اور ہرگز مشرکوں سے نہ ہو۔“ تو کیا ان آیات سے یہ سمجھا جائے کہ (نعوذ باللہ) رسول اللہ ﷺ کو ان کاموں سے اس لیے روکا گیا کہ آپ یہ سب کچھ کر رہے تھے۔
Ayah 38:27وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاۗءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا : پچھلی آیت میں خواہش پرستی کا اصل سبب یوم حساب کو بھولنا بتایا ہے، اب یوم حساب کے حق ہونے کی چند دلیلیں ذکر فرمائیں۔ سب سے پہلی دلیل یہ ہے کہ کوئی شخص اپنا معمولی سا کھیت بھی کسی نوکر کے حوالے کرے تو ممکن نہیں کہ اس سے باز پرس نہ کرے، تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنے عظیم الشّان آسمان و زمین اور ان کے مابین کی چیزیں پیدا کیں، پھر زمین پر انسان کو بسایا اور اس کی ہر چیز اس کے لیے پیدا فرمائی، جیسا کہ فرمایا : (ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا) [ البقرۃ : 29 ] ”وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمہارے لیے پیدا کیا۔“ آسمان کو اس کے لیے چھت بنایا، اس کی ہر ضرورت کا بندوبست فرمایا، پھر وہ اس سے اس کی کارکردگی کے متعلق سوال نہ کرے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ سب کچھ اس نے باطل اور بےمقصد ہی پیدا کیا ہے اور یہ سب کچھ محض کھیل ہے جو اللہ تعالیٰ کھیل رہا ہے۔ نہیں ! تم سب کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی طریقوں سے بیان فرمائی ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ) [ المؤمنون : 115 ] ”تو کیا تم نے گمان کرلیا کہ ہم نے تمہیں بےمقصد ہی پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے ؟“ اور فرمایا : (وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لٰعِبِيْنَ۔ مَا خَلَقْنٰهُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيْقَاتُهُمْ اَجْمَعِيْنَ) [ الدخان : 38 تا 40 ] ”اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیلتے ہوئے نہیں بنایا۔ ہم نے ان دونوں کو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔ یقیناً فیصلے کا دن ان سب کا مقرر وقت ہے۔“
ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : یعنی اس آسمان و زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے اس کے باطل اور بےمقصد ہونے کا خیال ان لوگوں کا ہے جو توحید و آخرت کے منکر ہیں۔
فَوَيْلٌ لِّــلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِ : یہاں ”فَوَیْلٌ لَّھُمْ“ (تو ان کے لیے بڑی ہلاکت ہے) کہنے کے بجائے ”فَوَيْلٌ لِّــلَّذِيْنَ كَفَرُوْا“ (سو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا آگ کی صورت میں بڑی ہلاکت ہے) کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس ویل (بڑی ہلاکت) کا باعث ان لوگوں کا کفر ہے۔
Ayah 38:28اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ : یہ یوم حساب حق ہونے کی دوسری دلیل ہے کہ اگر یوم حساب نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان اور عمل صالح والے اور زمین میں فساد کرنے والے ہمارے ہاں ایک جیسے ہیں، اس طرح ہم سے ڈرنے والے اور ڈھیٹ بن کر نافرمانی کرنے والے دونوں یکساں ہیں۔ خود ہی سوچو، کیا عدل و حکمت کا تقاضا یہ ہے اور کیا ہم ایسا ہونے دیں گے ؟ دنیا میں تو امتحان کی وجہ سے اور مختصر مدت ہونے کی وجہ سے نیک و بد کی جزا و سزا پوری طرح ممکن نہیں، یہ سب کچھ یوم حساب میں ہوگا۔ اس کی ہم معنی سورة جاثیہ کی آیت (21) بھی ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 38:29كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ : یعنی جب نیک و بد ایک جیسے نہیں ہوسکتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکی اور بدی کی راہ نمائی ضروری ہے۔ اس کے لیے یہ کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے، یہ بہت برکت والی ہے، یعنی اس میں بہت زیادہ خیر کی باتیں جمع ہیں۔
لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ : ”لِّيَدَّبَّرُوْٓا“ اصل میں ”لِیَتَدَبَّرُوْا“ (تفعّل) ہے۔ یعنی یہ کتاب نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقلوں والے لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، کیونکہ نصیحت وہی حاصل کیا کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ) [ الرعد : 19 ] ”نصیحت تو صرف عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔“ آیات میں تدبّر کا فائدہ تب ہے جب آدمی ان پر عمل کرے۔ ابن کثیر ؓ نے حسن بصری کا قول نقل فرمایا ہے : ”اللہ کی قسم ! قرآن کا تدبّر صرف یہ نہیں کہ اس کے الفاظ حفظ کرلیے جائیں اور اس کی حدود و احکام کو ضائع کردیا جائے، یہاں تک کہ کچھ لوگ کہتے ہیں، میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے، حالانکہ قرآن کا کوئی اثر نہ ان کے اخلاق و عادات میں نظر آتا ہے نہ ان کے اعمال اور کاموں میں۔“ اسے ابن ابی حاتم نے روایت کیا۔ (ابن کثیر)
Ayah 38:30وَوَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَيْمٰنَ : داؤد ؑ پر انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے انھیں سلیمان جیسا بلند مرتبے والا بیٹا عطا کیا۔ جو ان کی طرح نبی تھا اور ایسا بادشاہ تھا کہ اس کے بعد ایسا بادشاہ نہیں ہوا۔ سلیمان ؑ کے واقعات کے لیے دیکھیے سورة انبیاء (78 تا 81) ، نمل (15 تا 44) اور سبا (12)۔
نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ : ”اَوَّابٌ“ آبَ یَؤُوْبُ أَوْبًا (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت رجوع کرنے والا۔ یعنی وہ اللہ کے بہت اچھے بندے تھے اور اپنے ہر معاملے میں اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے اور کوئی قدم اپنی خواہش کی بنا پر نہیں اٹھاتے تھے۔ آگے ان کے اللہ تعالیٰ کا اچھا بندہ اور اس کی طرف بہت رجوع کرنے والا ہونے کی مثال کے طور پر ان کے دو واقعات بیان فرمائے ہیں۔
Ayah 38:31اِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بالْعَشِيِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُ : ”اَلْعَشِيُّ“ ظہر سے لے کر شام تک کا وقت، بعض ساری رات بھی اس میں شامل کرتے ہیں۔ ”الصّٰفِنٰتُ“ ”صَافِنٌ“ کی جمع ہے، وہ گھوڑا جو کھڑا ہو تو تین پاؤں کو پوری طرح زمین پر رکھے اور چوتھے سم کا سرا زمین کے ساتھ لگا رہے۔ یہ صفت عموماً اعلیٰ نسل کے گھوڑوں میں پائی جاتی ہے۔ ”الْجِيَادُ“ ”جَوَادٌ“ کی جمع ہے، تیز رفتار۔ یہ دونوں الفاظ مذکر و مؤنث دونوں گھوڑوں پر بولے جاتے ہیں۔ دو صفتیں اس لیے بیان فرمائیں کہ کھڑے ہونے کی حالت میں وہ گھوڑے ”صافنات“ تھے اور چلنے میں ”جواد“ (تیز رفتار) تھے۔ یعنی پچھلے پہر اعلیٰ نسل کے تیز رفتار گھوڑے ان کے سامنے معائنے کے لیے پیش کیے گئے۔
Ayah 38:32فَقَالَ اِنِّىْٓ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّيْ : ”الْخَيْرِ“ کا معنی تو بھلائی ہے، مگر عموماً اس سے مراد مال ہوتا ہے، جیسا کہ انسان کے متعلق فرمایا : (وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ) [ العادیات : 8 ] ”اور بیشک وہ مال کی محبت میں یقیناً بہت سخت ہے۔“ یہ لفظ عموماً زیادہ مال پر بولا جاتا ہے۔ یہاں ”الْخَيْرِ“ سے مراد وہ اصیل اور تیز رفتار گھوڑے ہیں جو پچھلے پہر ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ ”لِحُبِّ الْخَيْرِ“ پر الف لام عہد کا ہے، اس لیے ”لِحُبِّ الْخَيْرِ“ کا ترجمہ ”اس مال کی محبت“ کیا گیا ہے۔ ”عن“ یہاں سببیہ ہے، جس کا معنی ”کی وجہ سے“ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ) [ التوبۃ : 114 ] ”اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدے کی وجہ سے جو اس نے اس سے کیا تھا۔“
اس آیت میں سلیمان ؑ کی جہاد سے محبت اور اس کے لیے گھوڑے پالنے اور ان کی تربیت کا ذکر فرمایا ہے، اس مقصد کے لیے انھوں نے بڑی تعداد میں اعلیٰ نسل کے تیز رفتار گھوڑے پال رکھے تھے۔ ایک دن پچھلے پہر ان کے سامنے اعلیٰ نسل کے وہ اصیل گھوڑے پیش کیے گئے جو کھڑے ہونے کی حالت میں اپنی طبیعت کی نفاست اور نزاکت کی وجہ سے تین ٹانگوں پر کھڑے ہوتے تھے، جبکہ چوتھی ٹانگ کے صرف کھر کا کنارہ زمین پر لگتا تھا، مگر دوڑنے میں بہت تیز رفتار تھے، تو سلیمان ؑ نے اتنے قیمتی گھوڑے رکھنے اور اپنے اوقات عزیزہ ان کے معائنے اور دوڑانے میں صرف کرنے کی وجہ بیان کرنا ضروری سمجھا، تاکہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ یہ محض شاہانہ شان و شوکت کے اظہار کے لیے ہے۔ چناچہ فرمایا کہ میں نے اس مال یعنی گھوڑوں کی محبت کو دوست رکھا ہے اور اختیار کیا ہے تو اپنے رب کے ذکر کی وجہ سے کہ ان کے ساتھ جہاد کرکے اپنے رب کا ذکر دنیا بھر میں پھیلاؤں اور اس کا بول سب پر بالا کروں۔
حَتّٰى تَوَارَتْ بالْحِجَابِ : ”تَوَارَتْ“ اصل میں ”تَوَارَیَتْ“ ہے، ”تَوَارٰی یَتَوَارٰی تَوَارِیًا“ (تفاعل) (چھپ جانا) سے واحد مؤنث غائب ماضی معلوم کا صیغہ ہے، جو گھوڑوں کی جماعت پر بولا گیا ہے۔ یعنی گھوڑوں کی وہ جماعت نگاہ سے پردے میں چھپ گئی۔ ”حَتّٰى“ (یہاں تک کہ) کا لفظ بتارہا ہے کہ اس سے پہلے کچھ عبارت محذوف ہے، جو یہ ہے کہ سلیمان ؑ کے حکم پر ان کی دوڑ لگوائی گئی، یہاں تک کہ وہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے۔